Categories
فکشن

پیالہ پاؤں

وہ دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا یا اس طرح کہا جائے کہ آدھی دھوپ اور آدھے سائے میں، سایہ بھی ٹین کے ایک پترے کا تھا، تپش ایسی تھی کہ لوگوں کی آنکھیں ابلی پڑرہی تھیں۔ آسمان پر دیکھنے کا دل ہی نہیں چاہتا تھا۔ جس لکڑی کی بینچ پر وہ بیٹھا تھا، اس میں لوہے کا ایک بڑا سکریو آدھا پیوست تھا، اس طرح کہ دو انگلیوں کی مدد سے گھماؤ تو گھوم جاتا، مگر باہر نہیں نکالا جاسکتا تھا، غالبا بھوسے نے اس کی کمر کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔ کانچ کی چھوٹی سی پیالی اس کے سوکھے ہونٹوں پر گرم اور خاکی بوسہ دینے کو تیار تھی، گلے کی بنجر سرنگ میں یہ خاکی تیر تیزی سے اترتا اور سینے کو سینکتا ہوا، پیٹ میں پھیلے لمبی آنتوں کے جال میں پتہ نہیں کس طرف کو نکل جاتا۔ جب وہ کرسی پر بیٹھا تووہ خاصی گرم تھی، اتنی زیادہ کہ سائے والا حصہ بھی ہانپتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ کولہے کو ایک گہری تپن سے داغدار کرنے کے بعد کچھ دیر میں اس کے بدن کی گرمی نے بینچ کے ساتھ مصالحت کرلی تھی۔ وہ کھسک کربیٹھ جاتا مگر ذرا سی دور پر ایک شخص بیٹھا تھا، جس نے غالبا تین چار روز سے کپڑے نہیں بدلے تھے، اس کے مٹیالے پنجے اور پنڈلیاں بتارہی تھیں کہ وہ بہت دور تک پیدل چلتا رہا ہے۔ سر پر ایک انگوچھا بندھا تھا اور ہاف شرٹ کی بغلیں کسی بیمار گٹر کی طرح ہوا کے بلبلے چھوڑ رہی تھیں، جن کو برداشت کرنا بڑا مشکل کام تھا،اس کے دماغ نے بڑے حساب سے فاصلے کا ایک نقشہ تیار کیا اور اس کی ہتھیلیاں ، ہلتی ہوئی رانیں اور زمین بجاتے ہوئے بوٹ سب ایسی جگہ براجمان ہوگئے، جہاں سے اس شخص کی بدبو ہوا کے کسی اور رخ کے ساتھ بہتی ہوئی نکل جارہی تھی، بالکل ہوائی جہازوں کی طرح بدبوؤں اور خوشبوؤں کے بھی اپنے راستے ہوتے ہیں، وہ انہی مصور نقشوں کے مطابق بہتی ہوئی چلی جاتی ہیں اور راستوں میں آنے والے مختلف نتھنوں میں اپنی سڑاند، بساند یا پھر مہک کے گھونسلے بنالیتی ہیں۔

وہ ایک عورت کا پیچھا کررہا تھا۔ ورنہ اس بری دھوپ میں اپنے سات سالہ بچے اور جوان بیوی کو چھوڑ کر کون باہر نکلتا ہے۔شادی کے نو سال ہوچکے تھے، پہلا بچہ پیدا ہوا اور دوسری بار چیچک کے حملے کی تاب نہ لاکر دنیا سے چل بسا۔دوسرے ہی سال اس نے پھر کوشش کی ،کامیابی ملی اور اس کی بیوی کی زندہ اولاد کا سکھ بھوگنے کی خواہش مکمل ہوئی۔دراصل وہ اپنی بیوی کو کہیں سے بھگا کر لایا تھا، شادی سے پہلے کوئی ٹٹ پنجیہ سے قسم کے کیس میں جہاں اس کی بڑی تضحیک ہوئی تھی، ذلت اٹھانی پڑی تھی اور پورے پیسے بھی نہیں ملے تھے، صرف یہی ایک عورت تھی، جو اس کے ہاتھ لگی۔کسی انسپکٹر کی رکھیل تھی ، حالات سے پریشان اور تنگ دست۔منہ سے کچھ بولتی ہی نہ تھی، انسپکٹر نے حالانکہ اس کیس میں تھوڑی بہت مدد بھی کی تھی، مگر عشق نے مروت کو بالائے طاق رکھ کر ان دونوں کو ساتھ بھاگنے پر مجبور کردیا تھا۔شادی کے بعد یہ پہلا کیس تھا، جس میں اسے دس ہزار دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ وہ ایک بڑے شہر کا چھوٹا پرائیوٹ جاسوس تھا۔ابتدا میں اس کام میں اچھی خاصی کمائی ہوجاتی تھی، اس نے ایک پرائیوٹ ڈیکٹٹو ایجنسی میں کچھ مہینوں نوکری بھی کی، مگر کیسز بہت کم ملتے تھے، تنخواہ بھی زیادہ نہیں تھی اور بہت سے کام کمیشن پر ہی کرنے پڑتے تھے۔کمیشن بھی کیا طے ہوتا، تین ہزار یا چار ہزار۔اس نے سوچا اس سے بہتر ہے کہ اپنا ہی کام شروع کیا جائے، تھوڑا بہت دھکا دینے سے گاڑی چل نکلے گی۔ویسے بھی جاسوس کا دفتر بھی کیا ہوتا ہے، ایک موبائل فون، کچھ تفصیلات اور پھر گلیوں، چوراہوں کی خاک کے ساتھ جیب میں پڑی ہوئی طویل تعاقبوں کی ایک فہرست۔پچھلے کئی برسوں سے وہ ایسے ہی تعاقب پر گزارہ کررہا تھا، جن میں قدموں کی چھاپ سے سکوں کی چھن چھن تک کا بہت معمولی سا سفر اس نے طے کیا تھا۔بریڈ بٹر کے پیسے جٹانے مشکل ہوجاتے، اتفاق سے شادی ہوگئی تو دوجانوں کا بوجھ اور سر پر آن پڑا۔بیوی نے بچے کی ضد کی تھی، ورنہ وہ بچہ نہیں چاہتا تھا۔بیوی بھی کیا کرتی، وہ ہمیشہ سےعدم تحفظ کا شکار رہی تھی، اسے لگا کہ کہیں یہ بھی ایک وقت کے بعد بغیر نکاح نامے کی اس بیوی کو رکھیل نہ سمجھنے لگے اور جاسوس سے انسپکٹر میں تبدیل ہوجائے، چمڑے کے پٹے سے مارے، شراب سے بھری ہوئی تھوتھنی کو اوک بنا کر اودے ہونٹوں میں انڈیلنا نہ شروع کردے۔چنانچہ وہ درمیان میں اولاد کا لگھڑ ڈال کر دیکھنا چاہتی تھی، جس کی مدد سے وہ جب چاہے اپنے نام نہاد شوہر کو اپنی جانب گھسیٹ سکتی تھی۔

وہ سوچتا تھا کہ ہماری فلموں میں بھی تو جاسوس دکھائے جاتے ہیں، کتنے شاندار ہوتے ہیں وہ، ہمیشہ ان کے عقب میں ایک مہیب موسیقانہ لہر رواں رہتی ہے، خوبصورت لڑکیوں سے چالاکی کےساتھ بنائے جانے والے جنسی تعلقات۔دل میں اترجانے والا چہرہ، دو پل میں ہپنٹائز کردینے والی صلاحیت اور کیسے بھی مشکل حالات میں خود کو بچا لینے والا انداز۔اف! کیا جاسوس ہوتے ہیں، مگر وہ آج تک کسی بھی ایسے جاسوس سے نہیں ملا تھا۔اب تو اس کا پیٹ بھی نکل آیا تھا۔پتلی بانہیں، گہرا سانولا چہرا، آنکھوں میں ایسی کوئی خاص بات نہ تھی کہ دیکھنے والا ہپنائز کیا جاسکے۔زیادہ بھاگنے سے ہانپنے لگتا اور ٹانگیں جواب دے جاتیں، کسی کا تعاقب کرتے وقت اکثر اسے بیچ میں ہی رک جانا ہوتا کیونکہ کوئی ضروری فون آجاتایا بیوی پڑوس کا کوئی نیا دکھڑا سنانے کے لیے فون کردیتی۔پھر اس نئے شہر میں اس کے زیادہ تعلقات بھی نہ تھے، نیا کاروبار اور وہ بھی اس قدر انفرادی اور پراسرار۔اب تو وہ بال اور داڑھی مونچھ کٹوانے بھی زیادہ نہیں جاتا تھا۔شادی سے پہلے بھی بغل اور ناف کے بالوں سے اسے اتنی الجھن کبھی نہیں ہوتی تھی، مگر وہ مونچھیں اور داڑھی ترشوا لیا کرتا تھا۔مگر اب یہ سب مشکل تھا، وہ ٹائٹ جینز اور دھاری دار شرٹ پہنے، کالا چشمہ لگائے کسی دوسری دنیا کے سادھو جیسا لگتا تھا۔اسے اپنی بھگل پر اتنا افسوس نہیں تھا، وہ جانتا تھا کہ جاسوسی کا کام اس کا پسندیدہ کام ہے۔ورنہ ماں باپ نے بہت ضد کی تھی کہ پرچون کی دکان پر بیٹھ جائے اور آج بھی گاؤں میں اس کا بوڑھا باپ بمشکل وہ دکان چلاتا تھا۔کئی دفعہ اس کے جی میں آئی کہ لوٹ جائے،مگر سوچتا تھا کہ اس صورت میں واپس لوٹنا ممکن نہیں ہے، اسے لگتا تھا کہ بھاگ بدلیں گے، بس کسی کیس میں اس کا نام اخبار میں آجائے اور ذرا سی شہرت مل جائے تو لوگ خود اس کی خدمات لینے آجایا کریں گے۔

رات کو تھک ہار کر جب بیوی کے پاس بیٹھتا تو اس کے کھردرے اور سوراخ دار چہرے کو اپنی سخت انگلیوں سے چھوتے ہوئے بڑے پیار سے باتیں کیا کرتا۔اس کا بیٹا اب پہلی جماعت میں داخل ہوگیا تھا۔وہ رات کو اکثر لنگی پہنا کرتا تھا۔بیوی دنیا بھر کے خرچے بتانے لگتی اور وہ اس فراق میں رہتا کہ بیوی کے بدن کے کون سے پنے سے اسے پڑھنے کی ابتدا کرے۔ایک جاسوس ہونے کی وجہ سے دن بھر وہ اتنے سارے رازوں اور گتھیوں کے ساتھ گزارا کرتا تھا کہ بیوی کو کسی مبہم عبارت کی طرح نہیں پڑھنا چاہتا تھا، اسے بغل میں لیٹی ہوئی اپنی بیوی جس کا جمپر اٹھا کر وہ پیٹ پر گہرے لمبےرنگ بکھیرتا تھا،جب سسکیاں بھرتے کسی معمے میں تبدیل ہوتی نظر آتی تو وہ اس کی گول اور چکنے نقش بنانے والی پسینے دار بغلوں میں اپنا منہ دفن کردیتا۔بیوی کے پسینے سے اٹھتی ہوئی مخلوط گرم و سرد لہریں اس کے منہ میں بھاپ بن کر داخل ہوتیں اور تالو پر چمگادڑوں کی طرح لٹک کر رقص کرنے لگتیں۔وہ اس ہلکی بھیگی دنیا میں دبے پاؤں داخل ہوجاتا اور بیوی کے گدگدے اور فربہ بدن کی سفید چربی اور سرخ گوشت میں اپنی ہانپ کے بیج بونے لگتا،درمیان میں جب نظر اٹھتی تو اس کی بیوی آنکھیں بندکیے ہوئے ایک ایسی ہی بالکل الگ دنیا میں تیررہی ہوتی، جہاں کسی بچے کے ہوم ورک کا سردرد نہیں تھا، پڑوسن کے اوندھے سیدھے نخرے نہیں تھے، دودھ اور راشن والے کی چڑچڑاہٹیں نہیں تھیں، برتنوں کی کھنکھناہٹ اور سندور یا دوپٹے کا تکلف بھی نہیں تھا، بس خلا میں بجتے ہوئے دو گھنگھرو تھے، جن کی صدائیں اس کے جسم میں غوطے لگاتی تھیں،اور انگوٹھی اور انگلی کی شکل میں تبدیل ہوکر اس کے شکن آلود بدن کی چادر کو چٹکیوں میں سمیٹ لیتی تھیں۔۔۔اسے اپنی بیوی کو یوں دیکھنا بہت پسند تھا،ہلکے گہرے اندھیرے میں جب اس کے پسینہ اگاتے ہوئے چہرے پر بیوی کے چپچپے بال دلدل میں پھنسے ہوئے سانپوں کی طرح جم جاتے تھے۔اور پھر وہ دونوں اس پندرہ بیس منٹ کی سخت محنت کے بعد ایک دوسرے کی ٹانگوں پر ٹانگیں پسارے سو جاتے یا کبھی کبھار جاسوس اٹھتا اور گھر کی بالکنی میں جاکر سگریٹ سلگایا کرتا اور دن کے کسی الجھے ہوئے کیس کے بارے میں از سر نو غور کرتا۔سوچنے کا اسے آج تک اس سے بہتر راستہ اور کوئی نہیں لگا تھا، بہت سے معاملات انہی لمحوں میں روشن ہوتے تھے، وہ سوچتا تھا کہ وہ کون سے بدنصیب جاسوس ہونگے، جن کے پاس عورت کے بدن سے دماغ کو تیزتر کردینے والا یہ منتر نہیں ہوگا۔

وہ ان لمحوں کو سوچ کر مسکرایا، چائے آدھی ہی ختم ہوئی تھی ، مگر ہنوز گرم تھی۔لو کے ایک تھپیڑے نے اس کے گال کو تھپتھپایا، اب وہ عورت سامنے موجود بس سٹاپ پر کھڑی تھی۔اتنے میں کوئی بس آئی، عورت جب بھیڑ کے ساتھ بس میں سوار ہوئی تو اس نے آگے بڑھ کر بس کا نمبر دیکھا۔چائے کی دکان کے برابر کھڑی ہوئی ایک پولیس موبائل وین میں بیٹھے ہوئے ڈرائیور نے اسے گھور کر دیکھا، وہ واپس اپنی جگہ پر آکر بیٹھ گیا۔اس نے چائے والے سے معلوم کیا کہ یہ بس کہاں جاتی ہے۔کیونکہ اب اس میں زیادہ پیچھا کرنے کی قوت نہیں تھی، اس نے چائے کے پیسے ادا کیے اور اپنے گھر کی جانب واپس آنے کے لیے فٹ پاتھ پر چلنے لگا۔قریب ہی سڑک پر دھول اڑاتی ہوئی گاڑیاں گزر رہی تھیں، وہ سوچ رہا تھا کہ ان شیشوں کے پیچھے ٹھنڈی ہوا کھانے والے لوگ کیا کام کرتے ہوں گے، کیا گاڑیوں سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔مثلا سوئفٹ ڈزائر کے پرانے اور ٹاپ موڈل میں بیٹھے ہوئے لوگوں میں کیا فرق ہوتا ہے، یہ تو ایک کمرشیل گاڑی ہے، مگر اب شہروں میں ذاتی ملکیت کے طور پر بھی زیادہ مقبول ہورہی ہے۔جگہ کم گھیرتی ہے اور بہ آسانی ڈرائیورسمیت پانچ لوگ اس میں بیٹھ سکتے ہیں۔یہ تو عام لوگوں کی گاڑی ہے، مثلا اس بڑے شہر میں یہ چائے بیچنے والا بھی اگر ارادہ کرے تو ایک سکینڈ ہینڈ سوئفٹ ڈزائر خرید سکتا ہے۔ نینو گاڑی کم نظر آتی ہے، لوگ اسے دیکھ کر مذاق اڑایا کرتے ہیں، وہ لگتی بھی کسی حاملہ عورت کے پیٹ کی طرح ہے، اس سے بہتر تو وہ سولر گاڑیاں ہیں، جو ہوتی تو ٹو سیٹر ہیں، مگر ان کی شکل و صورت کتنی کیوٹ ہوتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے، جیسے کسی بہت بڑی اور رئیس گاڑی کی معصوم اولادیں ہوں۔بہت سی گاڑیا ں ہیں، ورنا، آئی ٹین ، آئی ٹوئنٹی۔ ان گاڑیوں میں کون لوگ ہوں گے۔ سرکاری نوکر، پروفیسر، کلرک، پرائیوٹ کمپنیوں کے ملازمین یا پھر کچھ چھوٹے نجی کاروباری۔اسی سڑک پربی ایم ڈبلیو اور پجیرو جیسی بڑے سائز اور بڑی قیمتوں کی گاڑیاں بھی دوڑتی ہیں۔آٹومیٹک گیئر والی۔بالکل پیروں کی طرح، جن کو کہاں رکنا ہے،کتنی رفتار بڑھانی ہے،کتنا چلنا ہے اچھی طرح پتا ہے۔فٹ پاتھ پر کھل اٹھنے والے ایک ادھ موئے سریے پر سے اس نے چھلانگ لگائی اور ان بڑی گاڑیوں میں بیٹھنے والوں کی حیثیت کا اندازہ کرنے لگا۔ابھی اس کے اندازے کی مٹھیاں ان مخصوص اور بڑے لوگوں کے دروازے پر دستک دینے کی ہمت ہی جٹارہی تھیں کہ اوپر والی جیب میں موجود فون پر ہمنگ کی دائرہ بناتی لہریں پیدا ہونے لگیں۔اس کے فیچر فون میں کانٹے جیسے نمبروں کے اوپر چکنی سکرین کا ایک گنجا اور ہلکا سبز سر تھا، جس پر نئے کلائنٹ کا نام ابھر رہا تھا۔اس وقت وہ کسی کا بھی فون ریسیو کرنے کے موڈ میں نہیں تھا، اس نے فون کو جینز کی جیب میں ٹھونسا مگر اس کا وائبریشن بند نہیں کیا۔اسے وائبریشن کی آواز اورننھی سی گرج بہت پسند تھی۔

گھر پہنچا تو بیوی کھانا کھارہی تھی، اس نے ہاتھ منہ دھویا، لنگی پہنی اور بیوی کی بغل میں بیٹھ گیا۔بچہ پڑوس کے ایک گھر میں ٹی وی دیکھ رہا تھا، دوپہر تھی اور دور دور تک شانتی اور چین کاراج تھا۔اس نے بیوی کے ہاتھ سے نوالہ کھایا اور بیوی کو نئے کیس کے بارے میں بتانے لگا۔یہ کیس ایک دیوالیہ ہو جانے والے رئیس کی طلاق شدہ بیوی کا تھا، رئیس کو اپنی مطلقہ بیوی میں بھی پتہ نہیں کیا دلچسپی تھی کہ وہ اس کے سارے ٹھور ٹھکانوں کے بارے میں جاننا چاہتا تھا، مگر مشکل یہ تھی کہ اسے سب کچھ سمجھانا آسان نہ تھا، وہ اونچا سنتا تھا، اس لیے سامنے بیٹھ کر تو کسی نہ کسی طرح ہانپتے کانپتے اسے تفصیلات بتائی جاسکتی تھیں، شور اور دھول بھری سڑک پر ، فون پر چلا چلا کر سب بتانا مشکل تھا۔مگر عجیب قسم کا شکی تھا کہ خود سے الگ ہوجانے والی عورت کا بھی حساب رکھنا چاہتا تھا، بقول اس رئیس کے ، اس کے پاس اب چند لاکھ روپے کی ملکیت باقی رہ گئی تھی، سارا کاروبار تباہ ہوچکا تھا، عمر کے اس پڑاؤ پر تھا، جہاں پتہ نہیں کب دل کا دورہ طعمہ ہوس بن کر اس کی روح کو نگل لے ، مگر وہ باز آنا نہیں چاہتا تھا، پچھلی بار جب جاسوس نے اسے اس کی بیوی یا مطلقہ بیوی کے بارے میں بتایا کہ وہ اکیلی رہ رہی ہے اور کسی ایڈورٹزمنٹ ایجنسی میں کام کررہی ہے تو رئیس کے چہرے پر ایک چمک پیدا ہوگئی۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسے شاید بمجبوری اپنی بیوی سے الگ ہونا پڑا ہوگا، یا پھر اسی عورت نے دیوالہ نکل جانے کے بعد طلاق لی ہوگی، ورنہ وہ آج بھی اپنی بیوی کے ذکر کی بوچھار میں بھیگ کر ہرا ہوجاتا تھا۔اس کے بوڑھے اور اکڑے ہوئے سخت گیر چہرے پر اپنی بیوی کا ذکر سنتے ہوئے بہت سی ملائم پرتیں جاگا کرتی تھیں، جن میں مختلف رنگ ہوتے تھے، کبھی غصہ، کبھی جھنجھلاہٹ، کبھی بے حد پیار اور ترحم کا جذبہ۔وہ چاہتا تھا کہ اس عورت کی کچھ مدد کی جائے، کسی طرح وہ اس کی زندگی میں واپس آجائے یا پھر اگر یہ ممکن نہ ہو تو وہ اپنی بیوی کو کچھ رقم پہنچا سکے۔جاسوس نے ایک دفعہ کوشش کی تھی کہ رئیس کی دی ہوئی کچھ رقم اس کی بیوی تک ایک بچے کے ذریعے پہنچائی جائے مگر اس نے رئیس کا نام لفافے پر دیکھتے ہی وہ رقم بچے کو واپس لوٹادی تھی اور بہت ڈانٹا پھٹکارا بھی تھا۔رئیس یہ بالکل نہیں چاہتا تھا کہ رقم کسی ایسے طریقے سے عورت تک پہنچے جس سے اسے پہنچانے والے کا نام نہ معلوم ہوسکے، وہ عشق میں بھی ایک کاروباری کے ذہن سے کام لے رہا تھا اور یہ توقع رکھتا تھا کہ عورت کبھی نہ کبھی پیسے کی چمکتی ہوئی ہتھیلی پر اپنا سونے جیسا گال رکھ دے گی۔اب تک اس کیس میں اسے تین ہزار روپے مل چکے تھے، باقی رقم کام ہوجانے کے بعد ملنی تھی۔بیوی نے پوچھا:

‘اب کیا کام باقی رہ گیا ہے، سب تو صاف ہوچکا ہے، بیوی اس بڈھے سے ملنا نہیں چاہتی۔اسے تو اس کے پیسوں میں بھی اب دلچسپی نہیں رہی۔’
‘ہاں بات تو سچ ہے، مگر بوڑھے رئیس کی پرابلم کچھ اور ہے؟’
‘کیا؟’
‘وہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ چھٹی کے روز اس کی بیوی کیا کرتی ہے؟’
‘عجیب بے وقوف آدمی ہے، ایک عورت نے جب اسے چھوڑ دیا ہے تو اس سے فرق ہی کیا پڑے گا کہ وہ چھٹی یا کام کے دنوں میں کیا کرتی پھر رہی ہے؟’

جاسوس خود اس قصے کو پوری طرح سمجھ نہیں پارہا تھا، مگر اس نے بیوی کو یہ کہہ کر خاموش کردیا کہ ہمیں تو اس کام کو کرکے بقیہ سات ہزار روپے لینے ہیں، ہمارا اس بوڑھے کی رنگین دلچسپیوں سے کیا لینا دینا۔بیوی مطمئن ہوگئی ، مگر جاسوس اپنے اندر، بہت اندر غیر مطمئن تھا۔رات کے کسی پہر وہ اٹھا اور نہادھوکر باہر نکل گیا۔ آج اس نے اپنی آنکھوں پر لگانے کے لیے کالا چشمہ بھی نہیں لیا تھا۔وہ اس عورت کے گھر کے باہر جاکر ایک کھمبے سے ٹک کر کھڑا ہوگیا، رات کا وقت تھا، لوہے کی گریل اور ہلکے سانولے ، غیر شفاف کانچ میں سے چھلکتی ہوئی ڈم لائٹ کی روشنی دکھائی پڑرہی تھی۔وہ آہستہ آہستہ ڈگ بھرتا ہوا عورت کے فلیٹ کی طرف چل پڑا، دوسری منزل پر پہنچنے کے بعد دروازہ کھٹکھٹانے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ اندر سے کچھ تیز چاپوں کی آواز آئی، چابی کا ایک گچھا جیسے ہوا میں لہرایا اور اس کی آواز نے جاسوس کے کانوں کے ٹنل سے ہوتے ہوئے چھٹی حس کے خانے میں دھم سے ایک ضرب لگائی، وہ اگلی منزل کی سیڑھیوں پر چڑھا اور دبک کر بیٹھ گیا۔ایک نسوانی وجود کا احساس اس اندھیرے میں موجود تھا۔دروازہ لاک کرنے کی آواز آئی اور عورت نیچے کی طرف اتر گئی، وہ اگلے چند منٹوں تک یونہی دبکا رہا۔انہی چند منٹو ںمیں اس نے ایک خیالاتی دنیا آباد کرلی۔اس دنیا میں اس نے دیکھا کہ عورت کے جاتے ہی وہ لاک کھول کر اندر داخل ہوگیا ہے، اچانک اس کا پھیلا ہوا بدہنگم پیٹ اندر کی طرف چلا گیا، سینہ ابھر آیا، رانوں کے پٹھوں میں نہ جانے کون سی مردانہ طاقت اتر آئی ہے، گال نکل آئے ہیں اور مضبوط مچھلیوں والے بازوؤں سے وہ گھر کی ایک ایک طاق اور دراز کو کھنگال رہا ہے، کاغذوں کے پلندے اتھل پتھل ہوچکے ہیں، باہر سے چھلک چھلک کر آنے والی روشنی میں اس کا پراسرار وجود کسی سرد ملک کے انگریز جاسوس کی طرح سائے جیسا دکھائی دے رہا ہے، دیکھنے والے ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں ہیں اس لیے جاسوس کی ہر حرکت احتیاط اور توجہ سے زیادہ ریاکاری کا تقاضا کررہی ہے۔ہوائی شیشے کھل گئے ہیں، روشنیاں بکھر گئی ہیں اور لیزر بیم کے جال سے بچتے بچاتے جب وہ ایک ایسے لاکر تک پہنچ گیا ہے، جہاں اس کہانی کا سب سے مخفی راز جاسوس کےتیز دماغ اور گرم ہاتھوں کی زیرکی سے بے خبر خاموشی کے دامن میں پڑا سورہا ہے، تو اچانک اس کے گردن پر ریوالرر کی سرد نوک سرسراہٹ پیدا کردیتی ہے۔مگر وہ سرد سرسراہٹ ایک گرم بوسے میں تبدیل ہوجاتی ہے، اس کی گردن پر زبان سے ایک جوان عورت گلابی رنگ کی گیلی لکیریں پیدا کرنے لگتی ہے، جاسوس آہستگی سے پلٹتا ہے ،یہ دیکھ کر اس کی آنکھیں مزید روشن ہوجاتی ہیں کہ پچھلے روز ساڑی میں بس کا انتظار کرنے والی بوڑھے رئیس کی بیوی ، سٹریٹ بالوں اور مہنگے پرفیوم کی مہک کے ساتھ اپنےفیشیئل کرائے ہوئے چہرے کے ساتھ اس کے سینے پر ہاتھ رکھے کھڑی ہے،اس نے سانسوں کی گرم دھاریوں میں جاسوس کی احتیاط زدہ آہوں کو لپیٹ لیا ہے اوراس کے حیرت سے کھل جانے والے ہونٹوں پر اپنے دائمی سرخ اورطلسمی ہونٹ رکھ دیے ہیں۔وہ ہر پرت کے ساتھ جاسوس کے اودے ہونٹوں پر اپنی لال لپ سٹک کی تھاپ جگاتی جارہی ہے اور وہ پھر لمحہ آتا ہے جب وہ جاسوس کی پینٹ کا بٹن کھول کر، اس کا لیدر جیکٹ اتار کر پلنگ پر اسےبستر کے ملائم دریا میں ڈوبنے کے لیے دھکا دے دیتی ہے۔

اس خیالاتی دنیا سے دھکیل دیے جانے کے بعد اتر کر اس نے پہلے دروازہ ٹٹولا، پھر اپنے موبائل فون میں موجود ٹارچ کی ننھی اور تیز روشنی میں دروازے کو دیکھا، اسے کھولنا ممکن نہیں تھا، اس نے آس پاس کوئی اوزار ٹٹولا، ایک چھوٹی سی پن اسے زمین پر پڑی دکھائی دی، اٹھاکر لاک کے پیٹ میں اس نے پن کا پتلا وجود اتار دیا، مگر کافی کوششوں کے بعد بھی لاک نہیں کھل سکابلکہ مصیبت یہ ہوئی کہ پن اس میں اتنی بری طرح اٹک گئی کہ اس کا باہر نکلنا دشوار ہوگیا۔زیادہ دیر تک ٹارچ جلانے کا مطلب تھا کہ آس پڑوس میں کسی کو بھی اس پر شک ہوسکتا تھا، اس نے ٹارچ بند کی اور پن کو جھنجھوڑنے لگا، مگر اس احتیاط سے کہ آواز نہ پیدا ہو اور اچانک جھٹ سے پن کا ایک ٹوٹا ہوا سرا اس کے ہاتھ میں آگیا۔اوپر کہیں کھڑکھڑاہٹ سی سنائی دی تو بوکھلاہٹ میں اس نے لمبے لمبے قدم بھرتے ہوئے بلڈنگ سے نیچے اترنا شروع کردیا، پسینہ اس کے ہاتھوں اور کنپٹی پر بہہ رہا تھا،نیچے اترا تو دو کتے بھونکتے ہوئے اس کی طرف بڑھے، وہ نہ چاہتے ہوئے ایک گلی میں بھاگنے لگا، مگر کچھ دور جانے کے بعد معلوم ہوا کہ گلی بند ہے، اس نے آس پاس موجود پتھروں کو اٹھانا چاہا مگر کتوں کی رفتار بہت تیز تھی، ابھی وہ جینز پر لگی بیلٹ کو کھولنے کی کوشش ہی کررہا تھا کہ کتوں نے اس کے پیروں پر حملہ بول دیا ، ایک کتے نے پنڈلی میں دانت گاڑے تو ہول سے اس کی چیخ نکل پڑی۔اس نے بوکھلاہٹ میں گلی کی دوسری طرف بھاگنا شروع کیا، پنڈلی سے خون بہہ رہا تھا اور درد بھی ہورہا تھا، مگر اس وقت ان کٹ کھنے کتوں سے خود کو بچانا بہت ضروری تھا، اسے لگا جیسے آج اس کے پیچھے بھی ایک مہیب موسیقانہ لہر دوڑ رہی ہے، کتوں کی آوازوں نے اپنی پوشاک تبدیل کی تو آس پاس کی اندھیرے میں اونگھ لگاتی بلڈنگیں بھی شطرنج کے مہروں میں بدل گئیں اور اسے لگا جیسے وہ ایک طویل ، لمبی بساط پر دوڑنے والا بے بس بادشاہ ہے، جسے وزیرکی گھات سے بچنے کے لیے جہاں تک ممکن ہو، خانے بدلتے جانا ہے۔

‘پھر ہر طرف اجالا ہوگیا، اتنا گھنا اجالا کہ کچھ بھی دیکھنا ممکن نہ رہا، بس ایک دھاپ کی آواز سنائی دی، جس میں گونجتے ہوئے دو لبلبلے ڈرم جیسے ہوش کی ڈانڈیوں سے بے نیاز ہوجائیں۔بہت دیر بعد اس کی آنکھ کھلی تو ایک عورت اس کی پنڈلی پر پٹی باندھ رہی تھی۔

اور وہ عورت جاسوس کی بیوی تھی۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – پندرہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(29)

 

مولوی کرامت سکول کے بڑے دروازے میں داخل ہوتے ہی اُس کی بلندو بالا سُرخ عمارت کی ہیبت میں دب کر کھڑا ہو گیا۔ سامنے پہاڑ جیسی سرخ عمارت بڑی بڑی حویلیوں کا سر نیچا کر رہی تھی۔ جس کے کئی کئی دالان اور بیسیوں کمرے اِدھر اُدھر پھیلتے چلے گئے تھے۔ دائیں بائیں کے کمروں کے اندر راہداریاں اور راہ داریوں میں بلند و بالا تیس درجے کی ڈاٹ والے در۔ اِن دروں کے ستون گول اور اونٹوں کی قامت سے دگنے تھے۔ واقعی انگریز سرکار نے بڑے پیسے خرچ کر کے یہ عمارت بنائی تھی۔ جس کے ایک کونے میں چھوٹا سا گرجا بھی تھا۔ بڑے بڑے گھاس کے میدان اور اُن کے کناروں پر لگے ہوئے ٹاہلیو ں،نیم،پیپل اور شریہنہ کے درخت چھاؤں کیے ہوئے تھے۔ کچھ بچے قطار بنا کر ایک کمرے سے دوسرے کمرے کی طرف جا رہے تھے۔ اُن سب نے ملیشیے کی سیاہ رنگ کی قمیضیں اور شلواریں پہن رکھی تھیں۔ بچوں کے سروں پر پگڑیاں تھیں۔ کچھ ٹوپیاں پہنے ہوئے۔ ایک دو بچے ننگے سر بھی نظر آئے۔ مولوی کرامت کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اب کس سے ملے اور کیا کرے ؟ وہ دیر تک گیٹ کے اندر داخل ہو کر سکول کے اُس چوکیدار کے پاس کھڑا رہا،جو گیٹ پر ڈیوٹی کے لیے بیٹھا تھا۔ چوکیدار اپنی ہی ذات میں مگن،سر نیچا کیے،کچھ منہ کے اندر ہی اندر گنگنا تا رہا اور نظر اُٹھا کر مولوی کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ یہ چوکیدارایک سکھ نوجوان لڑکا تھا،جس کے سر پر اتنی بڑی پگڑی تھی کہ پورے جسم کو دبا رہی تھی۔ جب اُس نے مولوی پر کچھ توجہ نہ دی تو مولوی کرامت نے ڈرتے ڈرتے پوچھا،سردار صاحب،ہیڈ منشی صاحب سے ملنا ہے اور جیب سے نکال کر وہ رقعہ دکھایا،جو تُلسی داس نے مولوی کرامت کو دیا تھا اور کہا تھا کہ جا کر منشی بھیم داس کو دکھا دینا۔ باقی وہ سب کچھ تمھیں سمجھا دے گا۔ چوکیدار نے مولوی کی آواز پر پہلی دفعہ سر اُٹھا کر غور سے دیکھااور اُس کے لباس،داڑھی،پگڑی اور چہرے کی سادگی اور نفاست سے متاثر ہو کر بولا، شاہ جی کیہ کہنا ہیڈ منشی نوں؟

 

مَیِں یہاں منشی بن کے آیا ہوں،اُسے رپورٹ کرنی ہے۔

 

یہ سُن کر وہ جلدی سے اُٹھا اور بِنا کچھ بولے مولوی کے آگے چل دیا۔ مولوی کرامت اُس نوجوان کے پیچھے پیچھے چلتا رہا،یہاں تک کہ ایک کمرے کے سامنے جا کر،جس کی چھت پر دو جھنڈے لگے تھے۔ ایک برطانیہ سرکار کا اور دوسرا پنجاب ایجوکیشن منسٹری کے مونو گرام کا،وہاں پہنچ کر نوجوان نے مولوی کرامت سے کہا،مولوی صاحب ہیڈ ماشٹر صاحب اندر بیٹھے آ۔
یہ کہ کر وہ وہیں سے اُلٹے قدموں واپس ہو گیا۔ جبکہ مولوی کرامت آگے بڑھ کر کمرے میں داخل ہو گیا اور جھٹ اسلام و علیکم کہ دیا۔ اندردوتین منشی اور بھی بیٹھے تھے لیکن مولوی کرامت نے اندازہ لگا لیا تھا کہ ہیڈ منشی وہی ہے جو میز کی دوسری طرف بیٹھا ہے۔ کمرہ اندر سے کافی کھلا اور صاف ستھرا تھا۔ جس میں آٹھ دس لکڑی کی کرسیاں تھیں۔ ایسی کرسیاں وہ پہلے بھی ولیم کے دفتر میں دیکھ چکا تھا۔ سامنے ایک چوکور لکڑی کی ہی میز تھی،جس پر نیلے رنگ کا میز پوش بچھا تھا۔ اُسی میز کی دوسری طرف ہیڈ منشی صاحب بیٹھے تھے۔ آنکھیں چھوٹی چھوٹی،جن پر بڑے اور موٹے شیشوں کی عینک چڑھی تھی۔ رنگ سیاہی مائل مٹیا لااور سر پر سفید رنگ کی دوپًلی ٹوپی اِس طرح دبا کے جمائی تھی کہ پورا سر اُس میں چھپ گیا تھا۔ منشی صاحب خود بھی کرسی پر بیٹھے میز کے پیچھے گویا چھپے ہوئے تھے۔ صرف اُن کی گردن سے اُوپر کا حصہ ہی نظر آ رہا تھا۔ اُس کے اس طرح بیٹھے ہونے سے قامت کااندازہ بھی ہو رہا تھا کہ ساڑھے چار فٹ سے زیادہ نہیں ہو گا۔ لیکن آنکھوں سے اطمنان اور سکون صاف جھلکتا تھا۔ اِس بات سے ثابت ہو رہا تھا کہ ہیڈ منشی کو ہرطرف سے مکمل سکون ہے اوراُن کے خانگی اور روزی روٹی کے معاملات صحیح چل رہے تھے۔ مولوی کرامت نے سوچا کہ اب اُس کے حالات بھی جلد ہی اللہ نے چاہا تو اِسی منشی جیسے ہو جائیں گے۔

 

رقعہ ابھی تک مولوی کرامت کے ہاتھ ہی میں تھا۔ اِس سے پہلے کہ ہیڈ منشی صاحب سلام کا جواب دیتا،مولوی کرامت نے وہ رقعہ اُن کے سامنے میز پر رکھ دیا۔ منشی نے رقعہ اُٹھا کر کھولااور جیسے ہی اُس کی تحریر پڑھی،اُٹھ کر مولوی کرامت سے ہاتھ ملایا اور کہا،بیٹھیں مولوی صاحب،آپ کے بارے میں مجھے دو دن پہلے اطلاع مل چکی تھی اور میں آپ کا انتظار ہی کر رہا تھا۔ پھر ایک کُرسی کی طرف اشارہ کر کے،مولوی صاحب تشریف رکھیں۔

 

مولوی کرامت ہیڈمنشی کا اشارہ پا کر ایک کُرسی پر بیٹھ گیا لیکن اضطراری طور پر اِس طرح بیٹھا جیسے جمعے کا خطبہ دینے کے لیے منبر پر بیٹھا ہو۔ ہیڈ منشی صاحب بڑے کائیاں تھے فوراً بھانپ گئے اور بولے،مولانا آپ کہیں پیش امام تھے؟

 

جی حضور،تین پشتوں سے ہم یہی کرتے ہیں،ضلع قصور کے ایک گاؤں راڑے میں پیش امامت کرتا ہوں۔

 

تعلیم کی سرکار میں کوئی واقف تھا،جس نے آپ کی سفارش کی ؟

 

بس سرکار خدا واقف تھا،یا ہماری سرکار انگریز بہادر کمشنر صاحب کی مہربانی تھی۔ ورنہ اس عاجز کو کون جانتا تھا۔

 

ہیڈ منشی سمجھا مولوی کرامت کی انکساری اصل میں اپنی سفارش کو چھپانے کے لیے ہے۔ ورنہ اسسٹنٹ کمشنر سے تو ملنا ہی ناممکن ہے۔ کجا وہ خود سردردی لے کر اُسے سرکار میں منشی رکھیں۔ اس کے پیچھے لازماًکسی نواب کا ہاتھ ہو گا یا کوئی چال ہے۔ بہر حال جو بھی ہے تلسی داس نے بھی خبردار کر دیا تھا کہ مولوی کرامت کا خیال رکھنا صاحب کا خاص آدمی ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اس کے ساتھ تعاون ہی کیا جائے اور اسی کی مرضی کے مطابق کام بھی دیا جائے۔ کہیں شکایت کر کے ہماری نوکری کو ہی نہ لے ڈوبے۔

 

آپ کون سے درجے کو پڑھانا چاہیں گے ؟

 

حضور،میں تو نوکر ہوں۔ جہاں سے کہیں گے،بچوں کو پڑھا دوں گا۔ درجوں کا تو مجھے حساب نہیں۔ اِس معاملے میں صاف کورا ہوں۔

 

ٹھیک مولانا،آپ آٹھویں کے درجے کو فی الحال فارسی اور عربی گرائمر کی مبادیات کا درس دے دیا کریں۔

 

بہتر سرکار،مولوی کرامت نے بے چینی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلو بدلا۔

 

ٹھیک ہے مولوی صاحب،آپ اب آرام سے گھر جائیں۔ کل اتوار کی چھٹی ہے۔ پرسوں تشریف لے آئیں،ذکاء اللہ صاحب ہمارے ایک عربی اور فارسی کے منشی ہیں،وہ آج چھٹی پر ہیں،پرسوں وہ بھی آ جائیں گے۔ وہ آپ کا تعارف بچوں سے کرا دیں گے اور پڑھانے کے طور طریقے بھی بتا دیں گے۔ آج سے آپ کی حاضری اور تنخواہ شروع ہوگئی ہے (ایک رجسٹر مولوی صاحب کے سامنے کرتے ہوئے ) اپنا نام مولوی صاحب اِس رجسٹر پر درج کر کے انگوٹھا بھی لگا دیں۔
مولوی کرامت نے ہیڈ منشی کے کہنے پر تمام کام نپٹا دیا،پھر کہا،حضور اب جاؤں ؟
جی مولوی صاحب لیکن پرسوں ضرور تشریف لے آئیں۔

 

جی سرکار،اور اُٹھ کھڑا ہوا لیکن گھبراہٹ میں گرتے گرتے بچا۔

 

مولوی کرامت سکول کے بڑے دروازے سے باہر نکلا تو اُسے محسوس ہوا کہ وہ گویا ایک جیل سے باہر نکلا ہے۔ ہیڈ منشی کے کمرے میں اُس کا دم گھُٹنے لگا تھا۔ پہلی بار سرکاری رجسٹر پر دستخط کرتے ہوئے اُسے لگ رہا تھا کہ شاید اپنی قید کے پروانے پر دستخط کر رہا ہے۔ اِسی وجہ سے گھبراہٹ شروع ہو گئی تھی۔ اب دروازے سے باہر نکلا تو گھبراہٹ کا تاثر فوراً ہی زائل ہو گیا۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

مولوی کرامت نے سکول جانے کے لیے کھدر کا سفید کُرتہ،سفید ہی کھدر کی چادر پہن لی۔ کبھی شادی بیاہ یا ختم درود کے لیے مولوی کرامت کی بیوی نے اُس کے لیے بنا کر لکڑی کے صندوق میں رکھے ہوئے تھے لیکن سال ہا سال سے اُن کے استعمال کا وقت نہیں آیا تھا۔ یا یہ کہیں کہ استعمال کرنے کو جی نہیں چاہا تھا کہ پھر کون روز روز اس طرح کے کپڑے بنائے گا۔ ویسے بھی کسی نہ کسی کے ہاں سے سال میں ایک لُنگی اور کُرتا فوتگی یا شادی پر مل ہی جاتا تھا۔ اِتنے سال پڑے رہنے کے بعد کپڑوں کی تہیں اِتنی جم گئیں اور سلوٹیں اتنی سخت ہو گئیں تھیں،جو کسی استری سے بھی جلد نہیں نکل سکتی تھیں۔ جس کا وجود ویسے بھی وہاں نہیں تھا۔ بلکہ مولوی کرامت نے تو ابھی تک استری کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ اِن بے شمارسلوٹوں کے باوجود مولوی کے کُپڑوں میں صفائی اور نفاست موجود تھی۔ صافہ بھی بالکل نیا تھا،جو کل ہی جلال آباد کے بازار سے خریدا تھا۔ جوتے البتہ پُرانے ہی تھے۔ ویسے بھی جوتوں کو جب تک وہ نہ ٹوٹیں،کون پُرانا کہتا ہے۔ یہ جوتے انتہائی موٹے چمڑے کے تھے،جنہیں موچی نے سخت قسم کے دھاگے سے سیا تھا۔ تین سال گزرنے کے باوجود یہ نہ تو پھٹے تھے اور نہ ہی سلائی اُدھڑی تھی۔ پگڑی میں بھی کئی کئی پیچ دیے اور طرہ بھی چھوڑا۔ داڑھی ویسے بھی سفید ہوگئی تھی،جس کی وجہ سے سفید لباس اور بھی جچ رہا تھا۔ القصہ مولوی پہلے دن بن ٹھن کے سکول میں گیا کہ سب دیکھنے والے اُس کے لباس اور چال ڈھال سے بہت متاثر ہوئے۔

 

مولوی یوں تو فارسی،عربی اور اردو کے ابتدائی اور بنیادی گرائمر اور زبان کے بارے میں کافی سُدھ بدھ رکھتا تھا لیکن اُسے سکول میں بچے پڑھانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ ہر چند وہ اپنی معلمی کے تمام کمالات فضل دین پر آزما کر اِس کام میں ماہر ہو چکا تھا لیکن دوسروں کے بچوں کو پڑھانے کا موقع پہلی ہی دفعہ ہی ملا تھا۔ اس لیے بہت زیادہ ڈرا ہوا تھا کہ خدا جانے کیا غضب ہو جائے۔ خاص کر اُسے سکول کے ہیڈ منشی سے انگریز افسر کی نسبت زیادہ خوف تھا۔ لیکن جب مولوی نے بچوں کو پڑھانا شروع کیا تو کام بہت آسان لگا۔ کیونکہ جو کتابیں مولوی کرامت کو بچوں کو پڑھانے کے لیے دی گئیں تھیں،وہ اِتنی آسان اور سادہ تھیں کہ اُنہیں فضل دین بھی پلک جھپکنے میں فر فر پڑھ جاتا۔ بلکہ پڑھانے پر بھی قادر تھا۔ یہ کتابیں عربی کے ابتدائی افعال اور گردانوں کے صیغوں پر مشتمل تھیں،جس میں چھوٹے چھوٹے جملوں کا استعمال تھا اور اُن کے اردو میں استعمال کے طریقے بتائے گئے تھے۔ مولوی کرامت کے سامنے فضل دین کی مثال موجود تھی۔ یہاں بھی وہی طریقہ لگاتے ہوئے سبق شروع کیا اور بچوں کو وہ وہ نقطے بتائے کہ وہیں بیٹھے بیٹھے اُنہیں پورا پورا سبق یاد ہو گیا۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ اُس کے منہ سے ایسی گالی نکل جاتی جس میں پنجابی کا ایک گُوڑا رچاہو ہوتا کہ بچے پڑھنے کے ساتھ محظوظ بھی ہوتے رہے۔ آہستہ آہستہ اِسی وقت کے دوران مولوی کرامت کی ایک تو جھجھک بھی دور ہو گئی،دوم آگے کے لیے رستہ صاف آسان ہو گیا۔ مولوی کرامت نے سوچا اگر یہی پڑھانا کہتے ہیں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ چھٹی ہوئی تو مولوی اتنا خوش تھا کہ بغلیں بجاتا ہوا گھر تک گیا۔

 

(30)

 

ولیم کے کمرے میں تمام تحصیل کابینہ جمع تھی۔ پولیس آفیسر لوئیس،ایجوکیشن آفیسر تُلسی داس،محکمہ مال کے آفیسر،محکمہ نہر کے آفیسراور دوسرے آٹھ دس آفیسر مزید کرسیوں پر لکڑی کی لمبی میز کے دو طرفہ اپنی اپنی فائلوں کوسامنے رکھے مکمل تیاری کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ یوں تو یہ سب دیسی اور انگریزی افسر اپنے کام کو احسن طریقے سے سمجھتے تھے اور اُسے پورا کرنے کا تجربہ بھی کسی بڑے افسر سے کہیں زیادہ تھاکہ اگر اُن کو آزادی سے کام انجام دینے کی اجازت مل جائے تو منٹوں میں نپٹا دیں لیکن بیوروکریسی اِس با ت کو نہیں مانتی۔ عموماً تحصیل جلال آباد میں ایسے افسر آتے رہے جو خود تو خیر کام کو سمجھتے نہیں تھے،اگر ماتحت کام کرنے کی صلاحیت رکھتا بھی تھا تو اُسے ایسی پیچیدہ اور نافہم قسم کی ہدایات میں اُلجھا دیتے کہ ایک آسان سا کام بھی اقلیدسی قاعدوں اور کلیوں کا اچھا خاصا تماشا بن جاتا۔ پھر یا وہ کام فائلوں ہی میں دب کر مر جاتا ورنہ نہایت بے کار حالت میں انجام پاتا اور بالآخر اُس کمشنر کا تبادلہ کہیں اور ہو جاتا۔ اِس طرح تحصیل کی ترقی ہو تو رہی تھی لیکن کچھوے کی چال سے۔ مگر ولیم کا معاملہ اور تھا اور یہ بات پچھلے عرصے کے دوران تمام افسر بھی جان گئے تھے کہ اُن کو ہرن کی قلانچوں کے حساب سے دوڑنا پڑے گا ورنہ ولیم آگے نکل جائے گا،وہ پیچھے رہ جائیں گے اور ولیم سے پیچھے رہ جانے کا مطلب نوکری سے فارغ ہونا تھا،جو کسی طرح بھی گوارا نہ تھا۔ ابھی ولیم صاحب کمرے میں داخل نہیں ہوئے تھے لیکن افسروں پر اس طرح خاموشی چھائی تھی جیسے جنازے کی دعا میں بیٹھے ہوں۔ ہر ایک اپنی فائل پر نظریں جمائے ولیم کے انتظار میں متوقع سوالات کا جواب سوچنے میں مگن تھا۔ سب افسران کو بیٹھے ہوئے پندرہ منٹ ہوچکے تھے اور اب کچھ ہی دیر میں ولیم صاحب کمرے میں داخل ہونے والے تھے۔ پھرچند ثانیوں بعد وہ وقت آگیا جب نجیب شاہ نے باہر سے ولیم کے لیے دروازہ کھولا۔ اُس نے بڑے احترام سے دروازے کے ایک طرف کھڑے ہو کردائیں ہاتھ اُس کا ایک پٹ کھول دیا اور اُسی لمحے ولیم سُرمئی رنگ کے تھری پیس سوٹ میں اندر داخل ہو گیا۔ تمام افسر اُٹھ کر تعظیماً کھڑے ہو گئے۔ نجیب شاہ نے دروازہ آہستہ سے بند کر دیا۔ ولیم نے افسروں کو ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا اور دیر سے آنے پر سوری کرتے ہوئے لیڈنگ کُرسی پر بیٹھ گیا۔ یوں تو ولیم نے مسکراتے ہوئے اپنی دیر آید پر معذرت کی تھی لیکن سب جانتے تھے کہ یہ اُن وی آئی پی تکلفات میں سے ایک تکلف ہے جو ہر افسر کا اپنے جونیئر سے فرق واضح کرتا ہے۔ جس کا وہ خود بھی عملی طور پر اکثر مظاہرہ کرتے ہیں۔

 

ولیم کے کُرسی پر بیٹھنے سے پہلے ہی تمام لوگ اٹین شن ہوچکے تھے کیونکہ یہ ایک اہم میٹنگ تھی،جو فائلوں سے آگے عملی طور پر کام کرنے کے لیے بُلائی گئی تھی۔ اِس میٹنگ میں اصلاً وہی کام ڈسکس ہونے تھے،جن کے بارے میں ولیم ڈی سی صاحب سے بات کر چکا تھا۔ اُس نے لیڈنگ چیئر پر بیٹھ کر ایک دفعہ تمام آفیسر زپر ایک طائرانہ نظر ماری پھر سب سے پہلے ڈی ایس پی لوئیس سے مخاطب ہوا،لوئیس صاحب پہلے آپ بتایے،کیابنا سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر کے حوالے سے؟

 

سوال کے دوران ولیم کا لہجہ اتنا سپاٹ اور دو ٹوک تھا جس سے محسوس ہو رہا تھا کہ آج صاحب بہادر کا معذرت قبول کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور یہ لوئیس صاحب کی خو ش بختی تھی کہ اُس نے پچھلے تین دن میں اِس معاملے میں کافی کچھ کام کر لیا تھا۔ جس پر ولیم داد کے سوا کچھ کرنے پر قادر نہیں ہو سکتا تھا۔

 

لوئیس نے فائل سے سر اُوپر اُٹھاکر ایک بار ولیم کو دیکھا اور بولا،سر مَیں نے سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر کے لیے باقاعدہ پولیس کارروائی کو عملی جامہ پہنا کر کچھ لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ جو گرفتار نہیں ہو سکے اُن کا مال بحق سرکار ضبط کر لیا گیا ہے۔ اِن گرفتار ہونے والوں میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو شاہ پور اور جودھا پور کے واقعات میں ملوث تھے۔ اُن کے ملوث ہونے کا ثبوت مخبروں اور دیگر ذرائع کی ہم آہنگی سے مہیا کیا گیا ہے۔ جس کے لیے سی آئی ڈی آفیسر متھرا اور تھانیدار بلرام کے علاوہ تین سب انسپیکٹر بھی شامل تھے۔ اِس سے بڑھ کر یہ کہ ملزموں نے اقرار جرم بھی کر لیا۔ جھنڈووالا میں مَیں خود پولیس کے ساتھ تھا جبکہ عبدل گجر کی طرف انسپیکٹر ڈیوس کو بھیجا گیا۔ اُس نے نہایت کامیابی سے آپریشن کیا ہے۔ فی الحال واقعات کے مرکزی ملزم سردار سودھا سنگھ،عبدل گجر اور شریف بودلہ گرفتار نہیں ہوسکے۔ اُمید ہے اُنہیں بھی جلد ہی قانون کے چاک پر بٹھا دیا جائے گا (پھر فائل ولیم کی طرف بڑھاتے ہوئے )سر اِس فائل میں کیس کی تمام تفصیلات،گرفتار ملزمان اورمال کی ضبطی کے متعلق اہم معلومات موجود ہیں۔

 

لیکن لوئیس صاحب،ولیم نے فائل کو دیکھتے ہوئے کہا،اِس بات کا کیا ثبوت ہے کہ وہی مرکزی ملزم جنہیں آپ ابھی تک گرفتار نہیں کر سکے،وہ جلد ہی کوئی دوسری کارروائی نہ کریں گے ؟اگر اِسی طرح کی ایک اور کارروائی ہوگئی تو اِس کا مطلب ہے ہم اپنی جڑیں خود ہی کاٹ رہے ہیں۔

 

سر اب ایک اور کارروائی نہیں ہوگی،لوئیس نے انتہائی پُر اعتماد لہجے سے جواب دیتے ہوئے کہا،مزید کارروائی کے لیے نہ تو اُن کے پاس آدمی ہیں اور نہ ہی ہمت۔ تیسری ضر ب مَیں نے اُن پر اخلاقی بے توقیری کی لگائی ہے۔ میں نے اُن کو اِس طرح ذلیل کیا ہے کہ اب اُنہیں اپنے وقار کو سمیٹنے میں زمانے لگیں گے۔ (ولیم کے ہاتھ کے نیچے پڑی فائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) سر اِس فائل میں کارروائی کی تمام تفصیلات درج ہیں۔ آپ اِس کا آرام سے مطالعہ کر کے میرے لیے مزید جو حکم چھوڑیں گے،مَیں اُس پر عمل کرنے کا پابند ہوں گا۔
ولیم نے لوئیس کی کارروائی پر اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے کہا،گُڈ،مرکزی ملزم کب تک گرفتار ہوں گے؟

 

لوئیس نے اپنا دایاں کان کھجا کر ولیم کی طرف دوبارہ دیکھا اورکہا،سر اُس کے لیے میں نے مہاراجہ پٹیالا کو سردار سودھا سنگھ کے وارنٹ گرفتاری کے ساتھ خط بھیج دیا ہے۔ اب صورتِحال یہ ہے کہ مہاراجہ نے سودھا سنگھ کی گرفتاری نہ بھی دی،جس کی ہمیں عین توقع ہے،تو ہم اُس کا عدالت میں انتظار کریں گے۔ وہ لامحالہ عدالت سے اپنی عبوری ضمانت کروائے گا،جب ہم اُسے گرفتار تو نہ کر سکیں گے۔ لیکن اُس کے فرار کی راہیں بھی مسدود ہو جائیں گی۔ اِس طرح وہ عدالت میں حاضر ہونے کا پابند ہوگا۔ اگر وہ عدالت میں حاضر نہ ہوا تو مجرم قرار پا کر اشتہاری ہو جائے گا۔ اشتہاری ہونے کی وجہ سے مہاراجہ اُس کی کوئی مدد نہیں کر پائے گا لیکن بات یہاں تک نہیں پہنچے گی۔ عبوری ضمانت پر حاضری کے وقت اُس کی ضمانت منسوخ ہو جائے گی اور ہم اُسے گرفتار کر لیں گے۔ یہی کچھ عبدل گجر اور شریف بودلہ کا معاملہ ہے۔ ہم نے کچھ اُن کے بندے پکڑے ہیں۔ وہ خود اُن کے خلاف ثبوت ہیں۔ یہ لوگ بھی عبوری ضمانت کے بعد عدالت میں حاضر ہونے کے پابند ہیں۔ کیونکہ انہیں بھی مقدمے کا سامنا تو بہر حال کرنا ہے،جو چند ہی روز میں شروع ہو جائے گا۔ بھاگ یہ اِس لیے نہیں سکتے کہ یہاں ان کی زمین،گھر بار،اولاد اور رشتے داریاں ہیں۔ یہ سب کچھ اتنی جلدی گنوانے کی حماقت نہیں کریں گے اور یہیں رہیں گے۔ (مسکرا کر ) زیادہ سے زیادہ حج پر چلے جائیں گے لیکن واپس یہیں آئیں گے۔

 

ویل ڈن مسٹر لوئیس،ولیم نے سنجیدہ لہجے میں لوئیس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ پھر کچھ لمحے سوچنے کے بعد سوالیہ انداز میں پوچھا،غلام حیدر کی کیا خبر ہے آپ کے پاس ؟ میرا خیال ہے اُس پر ہمیں نظر رکھنی چا ہیے۔ یہ اُس پر دوسرا حملہ ہے اور ایسے میں کوئی شخص کچھ بھی غلط کارروائی کر سکتا ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں اِس بارے میں ؟

 

سر آپ کی بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے،لوئیس تائید میں بولا،احتیاط کا تقاضا تو یہی ہے،اُسے بھی عینک میں رکھا جائے۔ آپ جو بھی اُس کے بارے میں فرمائیں گے،اُس پر بھی غور ہو سکتا ہے۔

 

لوئیس،ولیم نے فائل کو بند کرتے ہوئے دو ٹوک کہا،غلام حیدر کے پاس سُنا ہے ایک ریفل ہے۔ آپ اُس سے وہ ریفل فوراً تین ماہ کے لیے قبضے میں لے لیں اور اُسے پیغام بھیج دیں،وہ اپنے آدمیوں کا اسلحہ بھی کچھ دنوں کے لیے گورنمنٹ کو جمع کروا دے۔

 

جی بہت بہتر،لوئیس پوری فرمانبرداری سے بولا،یہ ہو جائے گا سر۔

 

کوئی اور بات ؟ ولیم نے لوئیس سے بات قریباً ختم کرتے ہوئے پوچھا۔

 

نو سر،لوئیس نے جواب دیا

 

اوکے،لیکن اس کیس کے بارے میں جو بھی اہم پیشرفت ہو،آپ مجھے اُس سے مطلع کرنے کے پابند ہو ں گے،ولیم یہ کہ کر اب تحصیل ایجوکیشن تُ افسرتلسی داس کی طرف متوجہ ہوا،جو گول شیشوں کی عینک لگائے اپنی فائل کے اُوپر قریب قریب گرا ہوا تھا۔

 

تُلسی داس آپ بتائیں،آپ کی طرف سے کیا پرفارمنس ہوئی ؟ابھی تک،مجھے سب سے زیادہ تشویش آپ کے محکمے کی طرف سے ہے۔ جس کی کارکردگی خوردبین سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
تُلسی داس نے فائل ولیم کی طرف سرکا کر اپنی عینک کو اُتارا اور بات شروع کی،سر میں نے آپ کے حکم کے مطابق ایک تعلیمی پالیسی اس طرح ترتیب دی ہے کہ جلال آباد کے جتنے گاؤں ہیں،اُن کو دس پر تقسیم کیا گیا ہے اور ہر دس گاؤں کا ایک مرکزی گاؤں بنا دیا ہے۔ جس میں ایک آٹھویں درجے کا اسکول ہو گا۔ اُس میں پورے دس گاؤں کے بچے آ کر پڑھا کریں گے۔ اِسی طرح ہر پانچ گاؤں کے لیے ایک پانچویں درجے کا اسکول بنایا جائے گا۔ یوں تحصیل میں آٹھویں درجے کے مزید تیس سکول بنیں گے اور پانچویں درجے کے ساٹھ اسکول ہوں گے۔ جن پر کل لاگت اوراسکولوں کے مقام کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے،جو اس فائل میں درج ہے۔ اِسی طر ح دسویں درجے کے اسکول کے بارے میں بھی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے جن کی تعداد مزید چار تک بڑھا دی گئی ہے۔ یہ تمام کام دو سال کے عرصے میں مکمل ہو سکتا ہے۔
گُڈ تُلسی داس،ولیم نے خوش ہو کر تُلسی داس کو شاباش دی،۔ ہم یقیناً اِس کے لیے اپنے پورے وسائل استعمال کریں گے اور جلد ہی گورنمنٹ سے اِس کے لیے فنڈ منظور کرا لیں گے۔ تم کام کرنے کے لیے تیار رہو۔ یہ بتاؤ مسلمان بچوں کی اسکول میں حاضری پوری کرنے کے لیے کیا حل نکالا ہے آپ نے ؟

 

سر یہ ایک ٹیڑھی کھیر ہے،تُلسی داس نے معذرت دارانہ لہجے میں اپنی وضاحت پیش کی،جب تک مسلمان مولوی راستے میں حائل ہے،یہ کام مشکل نظر آتا ہے۔ لوگ کسی بھی طرح اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے پر تیار نہیں ہوتے۔ ہم نے لاکھ طرح سے کوشش کر کے دیکھ لی ہے۔ آپ ہی کچھ اِس بارے میں حکم دیں یا پھر پولیس کے ذریعے جبر سے اُنہیں لایا جائے اور جرمانے یا سزا کا عمل دخل کیا جائے۔

 

اوں ! ولیم تھوڑی دیر کے لیے خموشی سے تُلسی داس کی بات پر غور کرنے لگا پھر سر اوپر اُٹھا کر بولا،تُلسی داس! مَیں نے آپ کے حوالے ایک مولوی صاحب کو کیا تھا،وہ کہاں ہے ؟
اُسے سر آپ کے حکم پر جلال آباد کے مرکزی ہائی اسکول میں فارسی اور عربی کا مُنشی رکھ لیا ہے تیس روپے ماہانہ پر۔

 

تُلسی داس،ولیم بولا،مولوی،کیا نام ہے اُ س کا؟
کرامت سر،تُلسی داس نے یاد دلایا

 

ہاں کرامت،مولوی کرامت۔ تُلسی داس اُسے آپ ٹارگٹ دو کہ سرکار کے اسکولوں میں مسلمان بچوں کو داخلے کے لیے لے کر آنا اُس کی ذمہ داری ہے۔ اُسے بتاؤ،وہ جس قدر مسلمان بچوں کی تعداد میں اضافہ کرے گا،سرکار اتنا ہی اُس کی تنخواہ میں اضافہ کرے گی۔ اِس لیے فی الحال اُس کا کام لوگوں کو اس بات پر تیار کرنا ہے۔ یقینایہ کام وہی کر سکتے ہیں۔ آپ اِس فارمولے کو آزماؤ۔ اِس کے علاوہ اِس طرح کے مزید پانچ مولوی جلال آباد تحصیل کے ہی رہنے والے ملازم رکھ لو اور اِس مولوی کو اُن کا ہیڈ بنا دو۔ میرا خیال ہے،اِس طرح سے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔

 

ولیم کی اِس انوکھی ترکیب پر تُلسی داس سمیت سب ہلکا سا مسکرا دیے۔ یہ ایک ایسا نکتہ تھا،جو ابھی تک کسی کو بھی نہ سوجھا تھا اور ولیم ہی کا خلاق ذہن تھا،جو ایسا بے ضرر اور زود اثر حل نکال سکتا تھا۔ مولویوں کو سرکاری اسکول کی ملازمت دے کر اور اُنہیں مسلمان بچوں کے داخلے پر نامزد کر کے حقیقت میں ایک تیر سے دو کام لیے جا سکتے تھے کہ جو روکنے والے تھے،وہ اب دعوت دینے والے ہوجاتے اور لوہے سے لوہا کا ٹنا نہایت ہی آسان ہو جاتا۔

 

تُلسی داس سے فارغ ہو کر ولیم نے تحصیل دار مالیکم کی طرف رخ کیا اور بولا،جی مالیکم صاحب آپ اور ڈیوڈ صاحب کا کام قریب قریب مشترک ہے۔ آپ کے کام میں کیا پیچیدگیاں ہیں؟ آخر جلال آباد میں ہر طرف اُڑتی ہوئی خاک اور گردو غبار کا کیا علاج ہے ؟ مجھے حیرت ہے آپ پچھلے دو سال سے یہاں موجود ہیں لیکن یہاں کی مٹی جم نہیں پائی اور خاکی میدانوں نے سبزی کا لباس نہیں پہنا۔ آج یہ طے ہو جائے کہ اس تحصیل کے چہرے پر کب رونق آئے گی۔

 

مالیکم صاحب،جو بے چینی سے میٹنگ کا دورانیہ لمبا ہوتے دیکھ رہے تھے،نے آگے کی طرف ہوتے ہوئے وضاحت کی،سر اصل میں ہندوستانیوں کی جہالت کا علاج مشکل ہے۔ ورنہ تو چھ ماہ میں ہی خربوزوں کے کھیت اور آموں کے باغ لہلہااُٹھیں۔

 

وہ کون سی جہالت ہے جس کا علاج نہیں ؟ولیم حیرانی سے بولا،اگر گورنمنٹ جہالت دور کرنے پر قادر نہیں تو ہمیں کوئی حق نہیں ملازمت کرنے کا۔ ہم آرام سے بستر سمیٹیں او ر برطانیہ کی سردی میں آگ تاپیں اور دُھند سے لطف اُٹھا ئیں۔

 

مالیکم ولیم کے اِس تُرش جواب سے گھبرا گیا اور شرمندگی سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ اُسے مشکل سے نکالنے کے لیے ڈیوڈ نے اپنی عینک اُتاری اور بات آگے بڑھائی،سر مالیکم کی بات کا مقصد ہے کہ عوام ساتھ نہیں دیتی۔ مثلاً بیلداروں اور نہری سُپر وائزروں نے ہمیں بتایا کہ لوگ نہر سے نکالے گئے کھالوں کے نگال میں مٹی اور کوڑا کرکٹ بھر دیتے ہیں اور نہر کا پانی فصلوں کو لگنے نہیں دیتے۔ اُن کے خیال میں گورنمنٹ نے نہر کے پانی میں ایسی دوائی ملا رکھی ہے،جس سے فصلوں میں بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔ جب اُس فصل کا غلہ لوگ استعمال کرتے ہیں تو وہ بیماری لوگوں میں پھیل جاتی ہے۔ یعنی انسان نامرد ہو جاتا ہے اور نسل آگے نہیں بڑھتی۔ اِس لیے یہ لوگ نہر کا پانی ہی فصلوں کو لگنے نہیں دیتے اور مکمل طور پر بارشوں کے سہارے رہتے ہیں۔

 

ڈیوڈ کی بات سے حوصلہ پا کر مالکم نے مزید وضاحت کی،سر ایک بات اور ہے۔ زمیندار سمجھتے ہیں گورنمنٹ اُن سے اِس پانی کا معاوضہ لے گی،جو اُن کی فصلوں کی قیمت سے بھی زیادہ ہو گا۔ اِسی ڈر سے ایک زمیندر نے اپنی بیسیوں ایکڑ کھڑی چاول کی فصل کاٹ کر اپنے مویشیوں کو کھلا دی تاکہ نہ ہو بانس نہ بجے بانسری۔ اب ایسے میں بتائیے کیا کیا جائے ؟
ولیم ان کی باتوں پر حیرانی کے ساتھ ہنس دیا،پھر تحمل سے بولا،مالیکم صاحب آپ مجھے بتایے اگر یہ قوم اتنی جاہل اور سادہ نہ ہوتی تو کیا ہم پندرہ بیس ہزار لوگ اِن کروڑوں گدھوں پر حکومت کر سکتے تھے ؟اِن کی یہی جہالت تو آپ کے لیے نعمت ثابت ہوئی۔ لیکن اب ہمی نے اِن کو تعلیم دینی ہے،اِنہیں سکھانا ہے۔ اِن کی معاشی اور ذہنی ترقی کی ذمہ داری ہم پر ہے۔ میں نے نہری منصوبے کی فائل لاہور تک پہنچا دی ہے۔ جلد واپس آ جائے گی۔ چھ مہینے تک میں یہاں ایک مزید نہر دیکھنا چاہتا ہوں۔ اُس سے پہلے آپ پر ایک بھاری ذمہ داری یہ ہے کہ جن کا پانی منظور ہو چکا ہے،اُن کی ٖفصلوں تک پانی لے جانے کے ذمہ دار آپ دونوں ہیں۔ نہری پانی کے علاقوں کا دورہ کرو اور تمام زمینداروں کی حلقہ وار میٹنگ بلاؤ۔ انہیں بتاؤ،آیندہ کسی نے اپنا الاٹ شدہ پانی ضایع کیا تو اُس کو بھاری جرمانہ کیا جائے گا اور سزا بھی دی جائے گی۔ اپنے مالی اور نہری پٹواریوں کو اِس کا بنیادی طور پر پابند بناؤ۔ وہ اپنے اپنے علاقے کے گوشوارے ہر مہینے آپ کو جمع کرائیں۔ جو کچھ مالیے یا خراج کا حساب ہو اُسے تحصیل میں آ کر کانو گووں سے پاس کروائیں۔ میں دو مہینے کے اندر یہ تمام کام درست دیکھنا چاہتا ہوں۔ مجھے یہاں آئے چھٹا مہینہ ہے اور کارکردگی صفر ہے،جومجھے منظور نہیں( پھر لوئیس صاحب کی طرف منہ کر کے )لوئیس صاحب آپ اس معاملے میں جو کچھ مدد اِن کو در کار ہو،بلا چون و چرا دیجیے گا۔

 

لوئیس نے فقط،ہاں،میں سر ہلانے پر اکتفا کی۔ کچھ دیر توقف کے بعد ولیم دوبارہ بولا،مَیں چار روز کے لیے چھٹی پر جا رہا ہوں۔ آج سے پانچویں روز واپس آؤں گا۔ آپ اِس عرصے میں اپنی تمام بریفنگ تیار کر لیں۔ مَیں نہیں جانتا،مجھے کتنے دن تحصیل جلال آباد میں کام کرنے کا موقع ملے گا لیکن میں چاہتا ہوں،جب یہاں سے جاؤں،لوگ خوشحال ہو چکے ہوں اور گورنمنٹ کا خراج بیس گنا زیادہ ہو چکا ہو۔ اِس گفتگو کے بعد ولیم نے میٹنگ کو ختم کرنے کا اعلان کیا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔
Categories
فکشن

نعمت خانہ – چھٹی قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

اپنی یادداشت پر اتنا غرور ہونے کے باوجود افسوس، میں یہ بتانا توبھول ہی گیا کہ ہمارے گھر میں ایک اور مسئلہ بھی تھا۔

 

اس گھر میں، باورچی خانہ کبھی کبھی کھسک کر چاروں طرف رینگنے لگتا تھا۔ ٹین میں داسے پر لٹکا ہوا چھینکا جس میں زیادہ تر دودھ کا برتن ہوتا۔ (برابر میں سنبل کا پنجرہ جھولتا رہتا تھا) کبھی کبھی چھینکے میں سالن بھی ہوتا۔

 

داسے کے دوسرے سرے پر مدّھم اور اُداس روشنی والی لالٹین۔ اس روشنی میں چھینکے کا سایہ ہوا میں آہستہ آہستہ ڈولتا تھا۔ اُس وقت آنگن میں پُراسرار طریقے سے غیر مرئی اشیا اکٹھا ہوتی جاتی تھیں۔ کہیں کسی چھینکے میں اُبلا ہوا گوشت لٹکا تھا، کہیں درختوں کی کیاری کے پاس رکھے ایک چھوٹے سے لکڑی کے اسٹول پر بچی ہوئی روٹیاں ڈلیا میں رکھی تھیں۔ باورچی خانے کے جھوٹے برتن نل کی حوضیہ میں پڑے تھے۔ گھر میں کتّا کوئی نہ تھا ا ور بلّیوں کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ وہ توپاک صاف جانور تھے۔

 

آنگن میں کھانوں کی بے ہنگم ڈولتی اور کانپتی ہوئی پرچھائیاں جو چاندنی راتوں میں اپنی سیاہ لکیروں کی حدود سے، پُراسرار اندازمیں ماورا ہوجانے کے درپے تھیں۔ اور ایک نعمت خانہ بھی تو تھا۔باہر والے دالان میں، اندر کی طرف، مغربی دیوار سے لگا ہوا نعمت خانے میں ایک سیاہ جالی تھی۔ سیاہ تو وہ دُھول دھکّڑ سے ہو گئی تھی۔ جالی کے چھید، دھول خاک اور میل سے بند ہوچکے تھے۔ نعمت خانے کا لکڑی کا ڈھانچہ جگہ جگہ سے گل رہا تھا۔ کبھی لکڑی پر سفید رنگ پوتا گیا تھا، مگر اب یہ سفیدی بھی کلجماہٹ میں تبدیل ہوگئی تھی۔

 

نعمت خانے میں انڈے، ڈبل روٹی، بڑے بڑے گول بسکٹ، کچھ پھل مثلاً زیادہ تر تو امرود یا خربوزے وغیرہ رکھے رہتے تھے۔ سیب اور انار کبھی کبھی ہی آتے اور وہ بھی شاید بیمار لوگوں کے لیے پتہ نہیں اُس کو نعمت خانہ کیوں کہتے تھے۔ مجھے تو وہ نعمت خانہ صرف اسی روز محسوس ہوتا تھا جب اُس میں شاہی ٹکڑے یا فیرینی کے پیالے رکھے ہوتے تھے۔ یا پھر کوئی مٹھائی۔ مگر یہ اشیا نعمت خانے کو روز روز کہاں نصیب تھیں۔

 

تو بس کھانا، کھانا اور کھانا۔ پورا گھر گویا مٹّی، گارے اور اینٹوںسے نہ بن کر پیاز، لہسن، ہلدی، دھنیہ، گرم مصالحوں اور گوشت اور ہڈیوں سے تعمیر ہواتھا۔ سارا سفر باورچی خانے سے شروع ہوتا تھا اور باورچی خانے پر ہی ختم ہوتا تھا۔

 

ساری محبت، ساری نفرت، ہر قسم کی لگاوٹ اور ہر قسم کا تشدّد باورچی خانے کے چولہے کی راکھ اور دھوئیں سے ہی نکل نکل کر گھر کے باقی حصوں یعنی برآمدے، دالان اور کوٹھریوں اور دروازوں تک پہنچتے تھے۔ باورچی خانہ ہی انسانوں کا گڑھا ہوا وہ متن تھا جس میں ہزار ہا معنی پوشیدہ تھے بلکہ معنی لگاتار پیدا ہوتے رہتے تھے۔

 

شادی، موت، ہر ہنگامے پر باورچی خانہ کا ایک انفرادی کردار ہوا کرتا تھا۔ نیاز، نذر اور تیوہار بس اِسی مقام پر اپنی معنویت کا مرکز رکھتے تھے۔ رَت جگوں کے گلگلے، کونڈوں کی پوریاں، کھیر، سویّاں اور موت کا حلوہ، سب اپنے ذائقے اور خوشبو کے لیے اسی کے مرہونِ منت تھے۔
سچ تو یہ ہے کہ بقیہ تمام گھر، اُس کے آگے کمزور اور بے بس نظر آتا تھا۔ وہ قوت کا مرکز تھا۔ نئے زمانے کے جدید کچن کا باورچی خانوں کی عظیم مگر بھیانک روایت سے بظاہر کوئی تعلق نہیں نظر آتا۔

 

چندرگُپت موریہ کے زمانے سے لے کر مغلیہ دورِ حکومت کے اختتام تک تاریخ اِس امر کی شاہد ہے کہ رسوئی اور باورچی خانے کا رول حکومتوں کو بنانے اور بگاڑنے میں بہت اہم مگر خفیہ نوعیت کا رہاہے۔ مہاتما بُدھ کی موت بھی بھکشا میں ملے ہوئے سڑے ہوئے گوشت کے کھانے سے ہی ہوئی تھی۔

 

باورچی خانے کا تعلق کھانا پکنے سے ہے اور کھانے کا تعلق انسان کی آنتوں سے اور بھوک سے اور بدنیتی سے بھی۔ کیا کبھی سوچا ہے کہ انسان کے اعضائے تکلم ایک دوسرا کام بھی تو کرتے ہیں جس طرح جنسی اعضاء دو کام انجام دیتے ہیں۔

 

منھ، زبان، تالو، جبڑے اور دانت کھانا بھی تو چباتے ہیں۔ کھانے کا ذائقہ، لمس، مہک اور اُس کا چبانا، ریزے ریزے کر دینا اور پھر نگل کر آنتوں میں پھینک دیا جانا سب انھیں اعضا کے رحم و کرم پر مبنی ہیں۔

 

مگر آدمی بولتا بھی تو انھیں کے سہارے ہے۔ انھیں اعضا نے تو انسان کو قوتِ گویائی بخشی ہے۔ آخر کیوں؟

 

آخر کیوں؟ یہی اعضا کیوں؟؟ آنکھیںاور کان اور ناک کیوں نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ کھانا بھی ایک قسم کی وحشی اور گونگی بھاشا ہو اور بھوک اُس کے معنی!

 

ساری دنیا کی ایک عالمگیر زبان بھوک نہیں تو اور کیا ہے۔یہ اعضا زبان بولنے اور کھانا چبانے میں کوئی فرق نہیں محسوس کرتے۔ ان دونوں کاموں سے اُنہیں ایک ہی قسم کی طمانیت اور سرشاری کا احساس ہوتا ہے۔ ایک حیاتیاتی سطح پر اور دوسرا تہذیبی سطح پر۔

 

مگر نہیں! کہاں کی حیات اور کہاں کی تہذیب، سب افواہیں ہیں اور دشمنوں کی اُڑائی ہوئی ہیں۔ معاملہ کچھ اور ہی ہوگا اور جوبھی ہوگا وہ بہت بھیانک ہوگا۔

 

بچپن سے ہی مجھے باورچی خانے سے ایک اجنبی اور نامانوس بُو کے آتے رہنے کا احساس تھا۔ یہ بُو ہلدی، مرچ، پیاز اور لہسن اور سرسوںکے تیل کے بگھار سے ملتی جلتی ہونے کے باوجود اُن سے الگ تھی۔ یہ زیادہ بھاری تھی اور اِسی لیے اس بُو کے سالمے بقیہ سے الگ اپنی ایک تہہ بناتے تھے۔ وہ ان سب اشیا کی بو میں گھل مل نہیں سکتے تھے۔

 

وہ نامانوس بو کس چیز کی تھی؟

 

تب تو نہیں مگر اب اِس عمر میں، تقریباً بوڑھا ہوجانے کے بعد مجھ پر یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ درندوں اور جنگلی جانوروںکے جسم سے آنے والی بو تھی۔

 

باورچی خانہ، آخر سرکس کا ایک تنبو بھی تو تھا۔

 

سرکس کے اس تنبو میں، ایک مسخرہ بن کر جیتے جیتے اور جانوروں کی بدبوئوں کے ساتھ رہ کر میری روح کی تمام خوشبو گھل گھل کر ختم ہوگئی۔

 

شایداب بھی میں کچھ جانوروں کے ساتھ رہتاہوں۔ اُن کا رِنگ ماسٹر اگرچہ مجھے قابو نہیں کرتا مگر میں اپنے آپ ہی اُس کی تعمیل کرتا ہوں۔ میں اُس کے چہرے اور اُس کے کوڑے دونوں ہی کے مزاج پہچانتا ہوں۔

 

میں جانوروں کے ساتھ ہی اُٹھ بیٹھ رہا ہوں۔ اُن کے ساتھ ہی میرا آب و دانہ ہے اوراُن کے ساتھ ہی میرا پیشاب پاخانہ۔

 

میں اِن سب سے اور باورچی خانے سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتا۔ کوئی بھی نہیں جاسکتا۔
انسان کہیں نہیں جاتا۔ سب چیزیں اُس کے پاس آتی ہیں، بالکل آنے والے کل کی طرح۔
آنے والا کل، شاید صرف اُس جسم کے لیے نہ ہو جو آنتوں اور معدے سے خالی ہو۔

 

مجھے ہندو دھرم کا یہ خیال باربار چونکاتا رہتا ہے کہ جس طرح ہون کنڈ میں اناج اور غلّہ وغیرہ ڈالاجاتا ہے، اُسی طرح معدہ بھی ایک قسم کا ہون کنڈ ہے۔ اور بھوک ایک آگ۔ پیٹ کی آگ کے لیے کھانا چاہئیے۔ کھانا کھانا ایک یگیہ سے مماثل ہے۔

 

ویسے بات کچھ خاص نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ میں استعارے سے کتراتا ہوں، مجھے تشبیہ پسند ہے۔

Categories
فکشن

پھر وہی کہانی

یہ روشن چہرے اور ہنستی آنکھوں والا نوجوان مرنے والوں میں سب سے عجیب تھا۔ یہ بس سکرین کے سامنے آیا تین دفعہ مسکرا کے پلکیں جھکائیں اور کنپٹی پہ پستول رکھ کہ گولی چلا دی۔ اب تک سینکڑوں لوگوں نے میری آنکھوں کہ سامنے جان دی تھی مگر اتنا خاموش تو کوئی بھی نہیں تھا۔ جب سے میں نے انٹرنیٹ پر لائیو خودکشی کے لئے ویب سائٹ بنائی تھی روز درجنوں لوگ براہ ۔ راست خودکشی کیا کرتے تھے۔ اب تو روزانہ پانچ کروڑ سے زیادہ لوگ میری ویب سائیٹ پر آتے اور خودکشی کے براہ ِ راست مناظر سے لطف اندوز ہوتے۔ مرنے والوں میں ہر طرح کے لوگ تھے۔ کچھ تو بہت چیختے چلاتے اور اپنی تمام ناکامیوں کا ذمہ دار معاشرے کو سمجھتے اور مر کے اپنے تئیں معاشرے سے انتقام لینا چاہتے تھے۔ کچھ کا انتقام تو محض اپنے چاہنے والوں تک محدود ہوتا تھا۔ کچھ بہادر لوگ تھے وہ نہایت کُھلے دل سے اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرتے اور مر جاتے۔ ایک طبقہ ان دانشوروں کا تھا جو سکرین پہ آ کر زندگی کی بے ثباتی کا رونا روتے اور موت کی عظمت کے قصیدے پڑھتے۔ مجھے یہ واعظ طبع لوگ انتہائی مکروہ لگتے تھے۔ یہ خود کو کسی دیوتا سے کم نہیں سمجھتے تھے حالانکہ موت کے خوف سے ان کے چہرے کی سفیدی بڑھ جاتی ان کا گلا بار بار خشک ہو جاتا اور پستول اُٹھاتے وقت ان کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ واضح طور پر دیکھی جا سکتی تھی۔ وہ بوڑھے بھی انتہائی خبیث ہوتے تھے جو اب زندگی کا بوجھ مزید اٹھانے کی سکت نہ رکھتے تھے اس لئے مر جاتے مگر مرنے سے پہلے وہ اپنے بچوں کی زندگیوں کو تلخ کرنے کی کوشش کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔ ان سے اپنے ہی بچوں کی جوانی اور خوشی برداشت نہ ہوتی تھی یہ ٹھہر ٹھہر کر مرتے تھے جیسے یہ ٹھہر ٹھہر کر جیے تھے۔

 

مرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہوتی تھی اور خودکشی کچھ انہی کو زیب دیتی تھی۔ ہر موت کے بعد چند لمحوں کے لئے ایسا سناٹا چھا جاتا جیسے موت نے سبھی دیکھنے والوں کو سونگھ لیا ہے۔ موت کی یہ سنسناہٹ ہی دراصل میری کامیابی کی وجہ تھی۔ میری یہ ویب سائیٹ اس وقت ہر محفل کا موضوع بنی ہوئی تھی۔ چرچ اسے مذہب کے لئے انتہائی خطرناک قرار دیتا تھا۔ وکلا اسے قانونی طور پر غلط سمجھتے تھے۔ سماجی کارکنوں کے حلقے میں میری ویب سائٹ اور میں دونوں ہی معتوب تھے۔ یہاں تک کہ میرا اپنا بیٹا یہ سمجھتا تھا کہ میں معاشرے میں مایوسی پھیلانے کے سوا کچھ نہیں کر رہا۔ وہ آرٹ سکول کھولنا چاہتا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ آج کے انسان کا مسائل کا حل آرٹ میں ہے۔ آج کے انسان کو روحانی سکون کی ضرورت ہے جب کہ میں سمجھتا تھا کہ آج کے انسان کو مکمل آزادی کی ضرورت ہے۔ میں ایک مسیحا ہوں جو حقیقی معنوں میں روح کو آزاد کروا رہا ہوں۔ آپ لوگوں کی طرح میرے بیٹے کو بھی لگتا تھا کہ اس کہانی کا منطقی انجام یہی ہونا ہے کہ ایک دن مُردہ دل کے ساتھ میں اسی ویب سائٹ پر بیٹھ کر اپنی موت کی خبر سناوں گا۔ پر یقین جانئے کہ اس کہانی میں ایسا کچھ نہیں ہونے والا میں ایک سیدھا سادھا کاروباری آدمی ہوں۔ ہاں یہ سچ ہے کہ کبھی کبھی میں خبط ۔عظمت میں مبتلا ہو جاتا ہوں ۔

 

بالاخر تنگ نظروں سے انسانوں کی یہ آزادی برداشت نہ ہوئی انہوں نے میری ویب سائٹ کو عدالت میں چیلنج کر دیا اور اعداد و شمار کے گورکھ دھندوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگے کہ میں خودکشی کے رجحانات میں خطرناک اضافے کا سبب بن رہا ہوں اور میری ویب سائٹ معاشرے کے لئے ناسور بنتی جا رہی ہے۔ میں عدالت میں ہونے والی تما م جرح پر بس مسکراتا رہتا ہوں۔ عدالت میرے خلاف فیصلہ سنانے والی تھی کہ میں نے (معزز) عدالت کے سامنے تجویز رکھ دی کہ اگر عدالت چاہے تو میں اپنی ویب سائٹ میٰں ایسی تبدیلی کر لیتا ہوں کہ دیکھنے والوں میں سے اگر کوئی خودکشی کرنے والے سے بات کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ یہ سوشل ورکر اور مذہبی ٹھیکدار اگر چاہئیں تو اُسے جینے کے لئے قائل کر سکتے ہیں۔ میں اپنی عیاری کے سبب عدالت کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گیا کہ ایسا کرنے سے خودکشی کے اعداد و شمار میں بے پناہ کمی لائی جا سکتی ہے۔ میں نے دیکھا کہ میری اس تجویز پر پادری کی ہنسی چھپائے نہیں چھپتی تھی اس کا موٹا پیٹ ہلکورے کھا رہا تھا۔ اُسے یقین تھا کہ موت کے اس کھیل کو مذہب کے چھتری کے ذریعے وہ اپنے کنٹرول میں کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

 

میری یہ تجویز میرے حق میں ہی رہی اب بہت سارے خدائی خدمت گار بھی میری ویب سائٹ پر آنے لگے اور چکنی چُپڑی باتوں سے دوبارہ زندگی کے سبز خواب دکھانے لگے۔ لیکن اب یہ بھی ہوا کہ بہت سے شوقیہ فنکار بھی خودکشی کا ڈرامہ کرتے ،مرنا کبھی بھی ان کے منصوبے کا حصہ نہیں تھا۔ لیکن یہ کھیل زیادہ عرصہ چل نہیں سکا۔ موت کے حقیقی شائق آہستہ آہستہ کم ہونے لگے اور میری ویب سائٹ صرف بھانڈوں کی اماج گاہ بن کر رہ گئی۔ مجھے یقینا اس بارے میں کچھ کرنا ہو گا۔ میں نے راہ ڈھونڈ لی ہے اب خودکشی کرنے والوں کو صرف ان لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملتا جو پہلے سے ہی میرے تیار کردہ تھے اور یہ ہر گز موت سے نا روکتے بلکہ موت کی ترویج کرتے تھے۔ میرا یہ طریقہ کامیاب رہا اور پہلے کی طرح مجھے کامیابیاں نصیب ہونے لگیں۔ موت لمحہ بہ لمحہ زیادہ تیزی سے زندگی پہ جھپٹنے لگی یہاں تک کہ ایک ایسا نوجوان آیا جو ایک آرٹ سکول کھولنا چاہتا تھا۔ وہ بتا رہا تھا کہ کہ وہ اپنے باپ سے کتنی محبت کرتا ہے اور وہ یہ سکول اپنے باپ کے لئے ہی تو کھولنا چاہتا تھا جس کی روح نہ جانے کہاں قید ہو گئی تھی۔ میں نے بہت کوشش کی کہ میں اس سے رابطہ کر سکوں لیکن میرے تیار کردہ افراد اُسے مسلسل موت پر اُکسا رہے تھے۔ میرا دل بیٹھا جا رہا تھا۔ گولی کی آواز کسی بھی لمحے مجھ تک پہنچ سکتی تھی۔

 

رات کسی بھی لمحہ ختم ہونے والی تھی میرے سامنے میری ویب سائٹ کُھلی ہوئی تھی۔ آج کے دن ایک کم ہزار لوگوں نے خود کُشی کی تھی۔ میں اندر سے بالکل خالی ہوں میرے پاس کہنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہیں۔ ہاں میں اپنے بیٹے سے بہت پیار کرتا ہوں وہ میرا اکلوتا بیٹا تھا۔ پر میں اس کے نام کا آرٹ سکول نہیں بنا سکتا۔ میں نے ٹیبل کا دراز کھول لیا ہے ۔ میں سچ میں اپنے بیٹے سے بہت پیار کرتا ہوں۔ مجھے اپنا وہ دوست بھی بہت یاد آ رہا ہے جو ہمیشہ ایک ہی کہانی سناتا تھا۔

Image: Alvaro Tapia Hidalgo

Categories
فکشن

بھگوڑا

با لآخر یونس بھاگنے پر تیار ہوگیا۔ اس بارے سوچتے،ارادہ بناتےتو اسے ہفتوں ہو چلے تھے مگر آخری گرہیں جوڑتے رسیاں دھاگوں سی صورت بنا لیتیں اورکئی سوال اس کے آگے اندھےغار کی طرح منہ کھول کر کھڑے ہوجاتے اور وہ پیٹھ پھیرلیتا۔ سوال تو اب بھی منہ پھاڑے ہوئے تھے۔ کسی ایک کو بھی بند نہیں کر پایا تھااور کرے بھی کیسے؟ افلاس میں گھرا گھر، بوڑھے ماں باپ،ضروریات کے اسیر بیوی بچے، ہمیشہ خالی رہنے والی جیب۔ اگر چند ٹیوشنیں حاصل نہ ہوتیں تو پرائیویٹ اسکول کی معمولی تنخواہ سے پیٹ بھی بھر نہ پاتے۔ کچھ مدد حکمت بھی کردیتی جو اس کے والد ساری عمر کرتے رہے۔ مگر اب ماہ میں دو چار مریض ہی حکیم محمد صالح کے ہاتھ لگتے جس سے چند سو ہاتھ آجاتے۔ صورت یہ تھی کہ کسی عید پر بچوں کے کپڑے بن جاتے، کسی پر دھلے ہوتے۔ اچھا یہ تھا کہ اسکول مالک کی مہربانی سے تینوں بچے پڑھ رہے تھے۔ نہیں تو پیلااسکول تو تھا ہی۔ اور چوتھا بچہ ابھی چھوٹا ہی تھا۔ پر سوالوں میں اس کا بھی شمار ہوتا تھا۔ مگر شگفتہ کا ان سوالوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ صرف ایم یونس کو جانتی تھی۔ یہ شگفتہ کون ہے؟ وہی جویونس کو بھگا کر لے جارہی ہے۔ اس بھاگنے کے پیچھے سب کچھ اسی کا تھا۔ اس کا ہاتھ، اسی کا پیسہ، اسی کا منصوبہ۔ حتیٰ کہ ہمت بھی اس کی تھی۔ یونس کے پاس تو صرف سوال ہی تھے۔ ایک اور بات بھی ہے۔ یونس سے رابطہ کی مضبوطی اور تعلق جسے آپ محبت کہیں، وہ بھی شگفتہ کے سر تھی۔ ذریعہ بنا فیس بک۔ سوالوں کے ساتھ یونس کے پاس صورت بھی تھی۔ فیس بک پر اس کی تعارفی تصویرمتوجہ کیے بنا نہیں چھوڑتی تھی۔ شگفتہ بھی متوجہ ہوئی۔ اورہوکے ہی رہ گئی۔ کنڈا اٹک جائے تو رہائی کہاں ملتی ہے اور رہائی چاہتا کون ہے؟ فیس بک پر وقت گذاری کرتے ایک گروپ میں شگفتہ شامل ہوئی تو یونس اس گروپ کے دلچسپ ہونے کا ایک سبب تھا۔ جس پوسٹ پر وہ نظر آتا وہاں مستی مزاح اپنا اثر ظاہر کرتی۔ وہ سنجیدہ بات کوبھی مزاحیہ رنگ دیتااور پھر دوسروں کے کمنٹس کو جس طرح ذو معنی بنا کر اپنا مطلب بیان کرتا، وہاں پھلجھڑیاں اڑنے لگتیں اور بس کمنٹس کے دھیڑ لگے رہتے۔ شگفتہ اس پوسٹ سے چپک کر رہ جاتی۔ وہ ایم یونس کے نام سے بنی آئی ڈی کی ہر پوسٹ،ہر کمنٹ لائک کرتی رہتی۔ کالج سے گھر پہنچتے ہی اپنے لیپ ٹاپ کی طرف دوڑ لگاتی اور فیس بک سے جڑ کر بیٹھ جاتی۔ کیونکہ یونس دو پہر کو ایک سے ڈیڑہ گھنٹاہی گروپ میں نظر آتاتھا۔ وہ توبعدمیں شگفتہ کو پتہ چلا یونس اپنے اسکول کے کمپیوٹر پر چھٹی کے بعد چار بجے تک آفیس میں فیس بک چلا لیتا ہے۔یہ وہی چار بجے تھے جس دوران شگفتہ اپنے بیڈ پر یونس کے کمنٹ پڑھتی اور ہنس ہنس کر دُہری ہوتی رہتی۔ گھر میں ماموں مشتاق ہوتے تو وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ دبائے بغیر آواز ہنسی سے ہلتی رہتی۔ کیونکہ اگر وہ اس کی ہنسی کی آواز سن لیتے تو پھر اپنے درس سمیت آجائے۔ نصیحت چلنا شروع کردیتی۔ ہنسنے کی قباحتیں،نیک لوگوں کے طور اطوار، شریف گھرانوں کا چلن، انٹرنیٹ کی بیہودگی۔یہ سب کچھ سننا پڑجاتا۔ اثر تو وہ خاک لیتی پرسر جھکائےمجرم بنے سننا آسان تو نہیں نا۔ کبھی کبھی اماں کو رحم آتا تو آکر آزادی دلادیتیں اورکبھی ماموں کے ساتھ مل کر ناصح بن جاتیں۔بھلا وہ بھی کریں کیا؟ شوہر عرب ریاست میں کام کرتے تھے۔ سال میں ڈیڑھ دو ماہ کے لیے آتے۔ ساری ذمہ داری وہی محسوس کرتیں۔ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا،جو آخر میں تھا۔ ان کی تعلیم تربیت، گھر کو سنبھالنا۔ اگر ماموں مشتاق ساتھ نہ رہتے تو وہ کہاں نبھا پاتیں۔ یہ ماموں مشتاق تھے تو اماں کے بھائی پر بچوں نے اماں کی عادت بھی ماموں کہنے پر بنا دی تھی۔عرصہ آٹھ سال سے انہی کے ہاں رہتے تھے۔ قریب کی مارکیٹ میں فوٹو اسٹیٹ مشینیں ڈالی ہوئی تھیں۔ کمپوزنگ کا کام بھی کیا کرتے تھے۔ ان کا اچھا گذارہ ہوجاتا۔ ابھی چھڑے بھی تو تھے۔ اوپر سے ابا بھی بلا ناغہ ان کے لیے اماں کو تاکیدی پیسے بھجواتے۔ ویسے تاکید کی ضرورت تھی تو نہیں پر ابا کی طبیعت۔اور تاکید وہ بچوں کے لیے کرتے”انہیں کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو”کمی وہ کیوں محسوس کرتے؟۔ گھر میں ہر چیزکی زیادتی تھی لیکن ایک کمی تھی اور وہ تھے ابا۔ مگر وہ ابا کے بھی بس میں نہ تھی۔ سال بعد ابا گھر آتے تو گھر میں سیلاب آجاتا۔ کپڑوں لتوں کا، جیولری کا، پرفیومز کا، سینڈلز کا، عادل کے لیے کھلونوں کا اور سب سے زیادہ خوشیوں کا۔ کبھی تاش چل رہی ہے، کبھی کیرم بورڈ سجا ہوا ہے،کبھی لڈو کھیلا جا رہا ہے، ٹی وی ہے کہ سارادن چلائی جا رہی ہے، موسیقی کے آواز سے گھر کے در و دیوار بجے جا رہے ہیں،ہنسی مذاق قہقہے تھمنے کو نہیں۔ بس ماموں مشتاق بیٹھے پیچ وتاب کھارہے ہیں۔

 

“سلیم بھائی خود انہیں بگاڑ رہے ہیں۔ ہر وقت ہنسی، ٹھٹھا، ٹی وی پر ہندوستانی ڈرامے چل رہے ہیں، فلمیں دیکھی جارہی ہیں، کیا سیکھیں گے؟ بھجن پوجا پاٹ؟ ہندوانہ طور اطوار گھر میں گھسے آرہے ہیں اور۔بھائی صاحب کوئی فکر ہی نہیں۔”

 

“چھوڑو ماموں۔ اب کچھ دن کے لیے تو آئے ہیں سلیم۔بچوں کو خوش ہولینے دو۔”اماں کی بات ماموں کو کہاں چپ کروا سکتیں۔کبھی تو وہ ابا سے بول بیٹھتے
“سلیم بھائی ہر وقت بچوں کا ڈرامے فلمیں دیکھنا اور ہنسی مذاق ان کے اوپر اچھا اثر نہیں ڈالے گا” ابا جوابامسکرا دیتے۔اب بھلا مسکراہٹ کے جواب میں کیا بولا جائے؟ ابا جوں ہی ابو ظہبی روانہ ہوتے وہ سب پژمردہ ہوجاتے۔ جیسے کسی نے کھلونوں میں سے بیٹری نکال دی ہو۔ شگفتہ اور اس کی بڑی بہن مریم کے لیے لمحے اکتاہٹ سے بھر جاتے۔ چھوٹا عادل بھی بھلنے تک چند دن لے لیتا۔ اور اماں تو بولائی بولائی پھرتی۔باقی ماموں مشتاق بااختیار ہوجاتے۔ تاش بند، کیرم بورڈ اسٹورروم میں پہنچ جاتا اور ٹی وی ماموں کے زیر انتظام دیکھی جانے لگتی۔ بلند آواز میں میوزک کا نام و نشان تک نہ ملتا۔ جس نے سننا ہے وہ کانوں پر ہیڈفون لگا کر سنتا رہے۔ اسی طرح زندگی بے رنگ کٹ رہی تھی کہ شگفتہ نے فیس بک تک رسائی حاصل کرلی۔ کالج سے فیس بک کا سن اور سیکھ آئی۔ اکاؤنٹ بنے۔ گھر میں ایک ہی لیپ ٹاپ تھا جو اکثر عادل کے گیموں کا ذریعہ تھا۔ اب وقت مقرر ہوئے۔ عادل کا، مریم کا، شگفتہ کا، دو دو گھنٹے۔ اور پھر شگفتہ ایم یونس کی ہر پوسٹ اور ہر کمنٹ کو لائک کرتی جاتی۔اس نے کمنٹ کرنا شروع کیا۔ جس پوسٹ پر وہ نظر آتا، ضرور گھستی۔ کچھ دنوں میں گروپ ممبرز نے اسے قبول کیا۔ اس کی کمنٹس کو داد اور جواب ملنے لگے۔ وہ جانی پہچانی جانے لگی مگر یونس نے اسے گھاس ہی نہیں ڈالی۔ نہ وہ اس کی پوسٹ پر آتا اور نہ ہی اس کے کسی کمنٹ کا جواب دیتا۔ کچھ مرتبہ تو شگفتہ نے سے ٹیگ تک کیا مگر جواب ندارد۔ شگفتہ نے خود کو غیر اہم ہوتے محسوس کیا۔ جیسے اس کا ہونا نہ ہونا ہو۔

 

“آئندہ میں کبھی فیس بک پر ہی نہ جاؤں گی”اس نے اپنا اکاؤنٹ ڈی ایکٹویٹ کیا اورلیپ ٹاپ عادل کو دے کر بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ گئی۔ آدھا گھنٹہ گذرنے سے پہلے وہ دوبارہ اکاؤنٹ ایکٹیویٹ کر چکی تھی۔”میں اس لعنتی کی وجہ سے فیس بک کیوں چھوڑوں؟ میں اس گروپ میں نہیں جاؤں گی بس۔”اس نے خود سے وعدہ کیا۔اسی شام وہ دوسرے ممبرز کی پوسٹس پڑھتے ہوئے یونس کے کمنٹ نظر انداز کیے جارہی تھی۔ اگلے دن کالج سے جلد واپسی کی اور ” لعنتی “کا ہر کمنٹ پڑھ کر لائک کیے دو بجے کا انتظار کر رہی تھی۔دو بجنے سے تھوڑی دیر بعد شگفتہ نے یونس کو گروپ میں کمنٹ کرے ہوئے دیکھتے ان باکس کیا۔

 

“سلام”
“وسلام بہن” وقفے کے بعد جواب نظر آیا۔
“مجھے بہن کہنے والے اور والیاں دونوں ہیں۔یہ لفظ آپ اپنے پاس سنبھال رکھیں۔”
“سوری میں معذرت چاہتا ہوں۔”
“چاہیں”
“جی میں سمجھا نہیں”
“یہ بھی ایک مسئلہ ہے”
“کیا؟”
“چلیں چھوڑیں، ایک بات پوچھ سکتی ہوں؟”
“جی پوچھیں؟”
“آپ بزی تو نہیں؟”
“نہیں نہیں”
“ایزی ہیں؟”
“جی ہاں”
“مائنڈ تو نہیں کریں گے؟”
“نہیں۔”
“آپ لاٹ صاحب کو جانتے ہیں؟”
“نہیں تو”
“لاٹ صاحب سے کوئی رشتہ داری ؟”
“بالکل نہیں”
“پھر یہ بتائیں میں نے آپ کی پوسٹس پر جاکر کمنٹ کیے۔ آپ کو ٹیگ کرکے متوجہ کیا، اپنی پوسٹ لگا کر دوسروں کے ساتھ آپ کو بھی کمنٹ کرنے کو کہا۔ مگر آپ کا کوئی رسپانس ہی نہیں۔میں نے سوچا لاٹ صاحب نہیں تو اس کے رشتہ دار تو ضرور ہوں گے۔”
“میں معافی چاہتا ہوں۔” اس سے آگے کچھ سجھائی ہی نہیں دیا ہوگا۔

 

“میرا نام شگفتہ سلیم ہے،سلیم میرے والد کا نام ہے، بی اے فائنل میں پڑھتی ہوں۔ شہر کا نام فی الحال نہیں بتا رہی۔اوکے؟”

 

“جی بہتر”

 

” تصویر بھی بھیج دوں؟”

 

“نہیں پلیز۔”

 

“ابھی وہ اتنا لکھ پایا تھا کہ ان باکس میں تصویر آ پہنچی۔

 

“اس پکچر کو کسی اور تک نہیں پہنچنا چاہیے۔”

 

“نہیں پہنچے گی، اعتماد کا شکریہ۔” ایم یونس نے جواب لکھا۔بھلا بیچارا اور کیا لکھتا۔ بس اسی طرح ابتدا ہوئی اور پھر چل سو چل۔ آٹھ ماہ کے بعد کی کہانی اولین سطریں بیان کر چکی ہیں۔ان آٹھ ماہ کی کچھ اور باتیں بھی سن لیں۔ آپ کو اندازہ تو ہوگا نا کہ محبت کس طرح بندے کو اس کے ماحول اور مسائل سے الگ کردیتی ہے۔ بس وہی ہوا۔ فون پر ایک دوسرے سے گھنٹوں باتیں اور ساری کی ساری اچھی اچھی۔ دماغ تک کچھ غلط سوچ نہیں سکتا۔ ویسے اگر آپسی تعلق چھے ماہ کے اوپر کا عرصہ نکال لیتا ہے تو یقین کرلیں کہ کچھ نہ کچھ اس میں ہوتا ہے۔ تو آٹھ ماہ میں باتوں کے ڈھیڑ، لاتعداد وعدے اور تین عدد ملاقاتیں بمع تحائف۔ تینوں کے تینوں شگفتہ کی طرف سے دیے گئے۔ خیر دیا تو کرایہ بھی گیا تھا۔ تینوں مرتبہ بس بمع رکشہ۔ اورتحائف کیا تھے؟ ٹچ اسکرین موبائل، لیپ ٹاپ اور پرفیوم۔ تینوں کی خریداری دونوں نے کٹھی کی تھی۔ یونس اپنے چھوٹے سے شہر سے چل کر بڑے شہر پہنچتا۔ شگفتہ کالج چھوڑ آتی۔ دونوں پہلے پارک میں بیٹھتے اور پھر میٹرو اسٹور کا رخ کرتے۔ وہیں سے یہ تینوں چیزیں خریدی گئیں تھیں۔ تو بس آٹھ ماہ کا حاصل یہی تھا اور یہ بھی کہ یونس بھاگنے کے لیے تیار تھا۔ اب بھاگا کیسے جائے؟ یہ سوال دونوں کے لیے نیا تھا۔پوچھتے تو کس سے؟بس دونوں نے اندازہ کیا۔ یونس نے کچھ معلومات لیں۔ اپنے کسی کلاس فیلو کے وکیل بھائی تک رسائی کی۔ ہدیہ مبلغ دس ہزار عوضانے سے وکیل صاحب نے کورٹ میں ان کے نکاح کی کارروائی مکمل کروادی۔ ویسے تو گاؤں چھوٹے شہروں کے لوگ اپنے تعلق ناتوں سے بغیر کسی پیسے کے ایک دوجے کے کام کردیتے ہیں لیکن وکیل تو وکیل ہوتا ہے۔باقی بچے دو لاکھ اڑتیس ہزار روپے۔ انہی پیسوں میں سے جو شگفتہ اپنے ساتھ لائی تھی۔ ساتھ میں کوئی دس بارہ تولے سونا بھی تھا۔ شادی تو ہوگئی اب کہاں جائیں؟ یہ بات طے کرنے سے رہ گئی تھی۔ شگفتہ کو تو کوئی پریشانی ہی نہیں تھی۔ وہ تو کہے جارہی تھی کہیں بھی رہ لیں گے۔ اب “کہیں “یونس کہاں سے لائے۔اب تک تو جو بھی مراحل تھے وہ شگفتہ نے طے کروائے تھے مگر اب اسے بھی کچھ کرنا تھا۔ اس نے اپنے شہر کے رخ کرنے کا ارادہ کیا۔ دوران سفر وہ اسے تسلیاں دینے آئی۔ وہی پہلے والی۔

 

“کچھ بھی نہیں ہوگا۔پریشانی کی کیا بات ہے؟”

 

“ابا مجھے ایک لفظ بھی نہیں کہتے چاہے میں کچھ بھی کرلوں”۔

 

“اصل میں امی نہیں مانتی اور میں نے تمہارے بارے میں جب سے انہیں بتایا ہے انہوں نے رشتہ بھی کردیا ہے۔ بس ابو کےآنے کاانتظار ہے”شہر پہنچے یونس کے دوست کے تعلق دار کے خالی فلیٹ میں ٹھہر گئے۔ ایک دن، دودن، تین دن۔ فلیٹ سے نکلے ہی نہیں۔فون آتے رہے۔ یونس نے گھر بتادیا کہ دوستوں ساتھ گھومنے نکلا ہوں۔ دو تین دن میں آؤں گا۔ شگفتہ کیا بتاتی اور وہاں گھر میں تو سب کو پتہ چل گیا تھا۔ تیسرے دن ابو کا میسیج آیا۔

 

“یہ بھاگنے کی کیا تک ہے بھائی۔بے وقوف ہو تم۔گھر واپس آ جاؤ”شگفتہ کو میسیج پڑھتے رونا آگیا۔

 

“ابو ہم آرہے ہیں”

 

“اچھا ہے۔ “اور پیسے زیور کی بات تک نہ کی۔حالانکہ وہ سب کا سب واپس جارہا تھا۔ بس وکیل کی فیس کے علاوہ چند ہزار اور کم ہوئے تھے۔ شگفتہ گھر اکیلے جانا چاہتی تھی مگر یونس ماننے پر آمادہ ہی نہیں۔

 

” میں تمہیں گھر پہنچا کر واپس چلا جاؤں گا۔ “عصر سے تھوڑا پہلے وہ گھر جا پہنچے۔ گھر میں کیا داخل ہوئے ہنگامہ اورغل برپا ہو گیا۔ شور، گالیاں، دھمکیاں، رونا، دوہتڑ، بدعائیں،تھپڑیں، بالوں سے پکڑنا، کھینچا تانی، پھٹی ہوئی شرٹ سب شامل تھا۔ ایک کمرے میں شگفتہ نشانہ بن رہی تھی ایک میں یونس۔ شگفتہ کے لیے ماں کی طرف سے دوہتڑ اور ادھر یونس کو دھکیل کر دیوار سے ٹکرایا گیا تھا۔ ساتھ میں کچھ تھپڑ، پھٹا گریبان، ننگی گالیاں۔ یہ کاروائی ماموں، شگفتہ کے ابو کے بڑے بھائی، شگفتہ کے خالو اور ان کے فرزند، جو شگفتہ کے متوقع منگیتر تھے،کی طرف سے عمل میں لائی گئی۔ اس دوران شگفتہ کے ابو چپ چاپ کرسی پر بیٹھے تھے۔جب کارروائی ٹھنڈی پڑتی محسوس کی تو اٹھ کھڑے ہوئے۔

 

ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔ہوگیا بس ہوگیا۔اب آپ لوگ جائیں باقی میں دیکھ لوں گا۔ انھوں نے بلند آواز اور بلند ہاتھ کر کے دو تین بار بولا۔یہ سن کر مزید چلم چلی ہوئی۔کچھ اور تھپڑ گالیوں کے ساتھ پڑے۔

 

“میں آپ لوگوں کو بعد میں بلاؤں گا۔ فی الوقت آپ چلے جائیں۔”قہر برساتی آنکھیں، خطرناک دھمکیاں دیتی زبانوں اور پٹختے پاؤں کے ساتھ وہ لوگ جانے لگے اسی اثنا میں ابو نے متوقع منگیتر کا ہاتھ بھی پکڑا تھا۔

 

“بیٹا تمہارے ابو نے مارلیا ہے نا۔ فی الحال وہ کافی ہے۔ باقی بعد میں۔ شاباش۔”ابو نے سب کو چلتا کرکے گھر کا گیٹ بند کیااورواپس اپنے کمرے میں آئے۔کمرے کے فرش پر یونس اپنی بدحالی کے ساتھ موجودتھا۔

 

“ارے میاں یوں زمین پر تو نا بیٹھو۔”ابو نے یونس کا بازو پکڑ کر کرسی پر بٹھاتے کہا۔

 

“اور ماموں تم ایسے ہی کھڑے ہو۔جاؤ میاں جا کر پانی لے آؤ۔”یہ کہہ کر ذرا رکے اور پھر ماموں کو اور حکم کیا

 

“نہیں پانی لانے سے پہلے اپنی بہن کو لے آؤ۔”ماموں کیا اپنی بہن کو بلا لائے بس کمرے میں بگولا گھس آیا۔

 

“کمینے، بےشرم،بے غیرت۔تجھے اور کوئی نہیں ملا ؟ لعنت ہو تمہارے ماں باپ پر جنہوں نے ایسابے غیرت پیدا کیا ہے۔ ہماری عزت مٹی میں ملاکر ہمارے گھر آکر یوں صوفے پربن ٹھن آ بیٹھا ہے۔ بے حیا۔ وےمشتاق ان سے تو کچھ ہونے سے رہا۔پر تو یوں کھڑا ٹکر ٹکر دیکھ رہا ہے۔ اس حرامی کو ایک ہاتھ بھی نہیں مارا جاتا تجھ سے؟” ماموں غصے سے میں یونس کی طرف بڑھے۔ابا جب تک بڑھ کر روکیں تب یونس نے منہ میں نمکین ذائقہ محسوس کیا۔

 

“کیڑے پڑیں تجھے، قبر بھی نصیب نہ ہو، تم نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔”

 

“بیگم ایسا نہ کہو اور یہ اپنے ماموں نہیں کہتےکہ زور زور سے بولنا شریفوں کو زیب نہیں دیتا۔ جاؤماموں اپنی بہن کو لے جاؤ۔ بلڈپریشر والی دوائی کھلا اور پانی وانی پلا۔ پھر یہاں پانی لے آنا۔”

 

“پانی کیوں ؟اسے روح افزا پلا روح افزا۔”اماں چلانے لگیں تو ابا خود سے پانی لے آئے۔

 

“یہ پانی پی لو بیٹا۔کہیں چوٹ ووٹ تو نہیں لگ گئی؟ لگی ہے۔ اچھا۔سر میں۔ ہاں وہ دیوار سے ٹکر ہوگئی نا۔ اس میں لگ گئی ہوگی۔۔اٹھواٹھو۔ شاباس بیڈ پر لیٹ جاؤ۔سفر کی بھی تھکن ہوگی۔ ارے بھائی جوان بنو۔اٹھو۔بیڈ پر لیٹ جاؤ۔ایک تکیہ کافی ہے؟ اچھا۔ دوسرے کی ضرورت ہو تو وہ بھی لے آؤں؟ نہیں؟ ٹھیک ہے۔ بیٹا دل میں نہ کرنا۔ زینت دل کی بری نہیں۔ زینت یہ شگفتہ کی ماں۔ بس اسے بھی تکلیف ہوئی ہوگی۔ تو اس لیے میں نے روکنا ٹھیک نہیں سمجھا۔ اور باقی میرے بڑے بھائی اور دوسرے تھے شگفتہ کے خالو۔ان لوگوں کا شگفتہ سے رشتے کا خیال تھا۔ بس سمجھو کہ ہم بھی راضی تھے۔ تواس بات سے انہیں دکھ ہوا ہوگا۔ اس لیے انہوں نے تمہارے ساتھ یہ تھوڑا غلط کردیا۔ اصل میں غلطی میری ہے میں شگفتہ کو کہہ دیتا کہ وہ فی الحال تمہیں ساتھ نہ لائے۔ معاف کردینا بیٹا۔ لیکن یہ بھی ہےاچھا ہوا جو تم آگئے۔ سب کا غصہ بھی ہلکا ہوگیا نا۔ تم ٹھیک تو ہونا۔بول ہی نہیں رہے؟”

 

“سر میں درد ہورہا ہے۔” یونس کے الفاظ اور آنسو ساتھ نکلے۔

 

“ارے ارے۔ رو مت بیٹا۔ شاباس شاباس۔ میں ابھی گولی لے آتا ہوں۔ گولی کھالو۔ شاباش۔ اب میری گود میں سر رکھ کر لیٹ جاؤ۔ لیٹ جاؤ ہاں ٹھیک ہے۔ تم بڑے اچھے لڑکے ہو۔ بڑے پیارے۔ تمہارے ساتھ واقعی زیادتی ہوگئی۔ لیکن کبھی کبھی ایسے ہوجاتا ہے بیٹے۔ ہر ایک اپنے دکھ کے آگے مجبور ہوتا ہے اس لیے انہوں نے تمہارےاوپر ہاتھ اٹھا ڈالا۔ رؤو مت۔ اب کچھ بھی نہیں ہوگا۔سر زیادہ درد کر رہا ہے؟ اچھا یہ گولی تھوڑی دیر میں اثر کر لے گی۔ تم ٹھیک ہوجاؤگے۔آیوڈیکس کے مالش بھی بڑا فائدہ دیتی ہے۔میں آیو ڈیکس لے آتا ہوں۔ دیکھو بیٹا اگر مجھے شگفتہ بتا دیتی تو اس تکلیف کی نوبت ہی نہیں آتی۔ میں خود دھوم دھام سے تمہاری شادی کرواتا لیکن کوئی بات نہیں۔ تم کل پرسوں ہی اپنے والدین کو لے آؤ۔رسم دنیا ہے۔تو تمہاری رخصتی کردیتے ہیں۔بڑی دھوم دھام سے۔ہم بھی خوش ہو جائیں گے لوگ بھی خوش۔یہ ضروری تو نہیں۔ لیکن وہ کیا ہے کہ ایسے کرنا پڑتا ہے اور پھر ایک بار تم لوگوں نے اپنی مرضی سے ایک بار ہمارے مرضی سے۔ہاں؟ کیسے؟ ٹھیک ہے نا؟ تمہاری پہلے شادی ہے؟ نہیں نہیں۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ واقعی پانچ بچے؟ سچ میں؟ تم نے مشکل بنا دیا۔ مسئلہ تو مشکل ہو گیا۔ ایسے تو شگفتہ کی ماں اور رشتے دار بالکل بھی نہیں مانیں گی۔ تمہاری غلطی نہیں ہے بیٹا۔ تم معافی نہ مانگو۔ اٹھو نہیں۔ اٹھو نہیں۔ لیٹے رہو۔ تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں۔ اب درد کچھ کم ہوا ہے؟ ہوجائے گا۔ ہوجائے گا۔ مالش ہو رہی ہے نا۔تو جلد ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن بات مشکل ہوگئی۔ ہمارے ہاں ایسا ہوتا نہیں ہے۔ رواج ہی نہیں ہے۔ کیا کریں؟ تم نے شگفتہ کو بتایا ہوا ہے؟ اچھا پھر اس نے کوئی اعتراض نہیں کیا؟ بس بھئی پھر تو بات ہی ختم۔ اصل فیصلہ تم دونوں کا ہے۔ تم دونوں راضی ہو تو دنیا کو بھی راضی ہونا چاہیے لیکن ہمیں ابھی عادت نہیں ہے۔ خیر ہوجائے گی۔ مگر اس بات کا کیا کریں۔ مجھے حل سمجھ نہیں آرہا۔ دیکھو بیٹا۔ اب توایک بات ہی ہوسکتی ہے۔تم دونوں ایک بار پھر بھاگ جاؤ اور کوئی راستہ نہیں۔ آج رات تم دونوں نکل جاؤ۔ میں یہیں ہوں۔ سب سنبھال لوں گا۔ فکر نہ کرو۔ میں بالکل خوشی سے کہہ رہا ہوں۔تم دونوں کی خوشی کی بات ہے۔ ارے ارے اس میں رونے کی کیا بات ہے؟ یوں نہ کرو بیٹا۔ اچھا نہیں لگتا۔ میرے پاؤں چھوڑدو شاباس۔ تم نے کچھ غلط نہیں کیا۔ کوئی فکر نہ رکھو۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ یہیں لیٹے رہو۔ ابھی تمہاری طبیعت بھی ٹھیک نہیں۔ میں سر دباتا ہوں۔ سوجاؤ شاباس سوجاؤ۔ تم نے آدھی رات کو نکلنا بھی ہے۔ ” پھر دھیرے دھیرے یونس سو گیا۔ پھر اٹھا۔پتا نہیں کس وقت؟ ابا رات گئے کمرے میں اسے اٹھانے گئے تو وہ پھر بھاگ نکلا تھا۔اکیلا۔

Image:JOEY GUIDONE

Categories
فکشن

نعمت خانہ – چوتھی قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

میری یادداشت ایک معجزہ ہے۔ مجھے سب یاد ہے بس شرط یہ ہے کہ جو بھی میں نے دیکھا ہو، شاید بصری یادداشت اسی کو کہتے ہیں۔ حالانکہ کچھ ایسا بھی ہے جو مجھے یاد نہیں آتا یا اُسے میں لفظوں کاجامہ نہیں پہنا سکتا، مثلاً مجھے ایک تاریک دُنیا کا بھی احساس ہے جسے آپ عدم کہہ سکتے ہیں، اگرچہ میرا خیال ہے کہ عدم محض ایک واہمہ ہے۔

 

تو مجھے اِس واہمے کا بھی احساس ہے، تاریک دنیا کی پرچھائیاں، وہاں کی اشیا جو چاقو کی نوک پر لرزتی ہوئی اُن شکلوں کی طرح ہیں جو کبھی نظر نہیں آتیں۔ شاید اِس لیے کہ چاقو سے صرف سفید کاغذ پر لکیریں ڈالی گئی ہوں؟

 

اور وہاں کے کھانے، اُن کا کھٹا میٹھا اور تیکھا ذائقہ۔ اور اُن کھانوں کی خوشبو، میرے پیٹ کی آنتوں کو اُلجھن میں مبتلا کرتے ہیں جس کی وجہ سے میرے دماغ کے بائیں حصّے میں کچھ کشمکش کی سی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے۔

 

میں کبھی کبھی تنگ آکر اس وبال سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں مگر میرا حافظہ، وہ میرا وفادار کتّا دبے پاﺅں میرے پیچھے پیچھے چلاآتا ہے۔
بچپن میں اکثر سڑکوں پر چلتے وقت مجھے لگتا تھا جیسے کوئی کتا میرے تعاقب میں ہے، اب جاکر میری سمجھ میں آیا کہ وہ میرا حافظہ تھا۔

 

خیر! اب تو بہت سی باتیں صاف ہو چکی ہیں مثلاً زندگی میں موت کی یاد اور موت میں زندگی کی یاد اس طرح گھلی ملی ہوئی ہیں جیسے بھونے جاتے ہوئے مرغ میں مسالہ۔

 

ویسے بھی زندگی اور موت میں کوئی فرق تو ہوتا نہیں ۔ موت کا چھینا ہوا زندگی میں حاصل ہوجاتا ہے اور موت کے اندھیرے میں کھوئی ہوئی تمام اشیا مل جاتی ہیں۔

 

اسی لیے اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ زندہ انسانوں کا خون مُردوں پر چھڑکتے ہیں یا مُردوں کا خون زندہ انسانوں پر۔ دونوں صورتوں میں نتیجہ ایک ہی برآمد ہوتا ہے، یعنی کچھ کھوکر پالینا یا کچھ پاکر کھو دینا۔

 

ریاضی کا ایک معمولی طالب علم بھی اس سے ایک مساوات بنا سکتا ہے۔ مگر اِس مساوات کو حل کرنا یا ثابت کرنا بڑا مشکل ہے۔ یہ ایک ایساعمل ہے جس سے میں لگاتار دوچار ہوں اور شیطان کی آنت کی طرح یہ مساوات پھیلتی اور لمبی ہوتی جا رہی ہے۔ اِس کی وجہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں شاید یہ ہے کہ اس سفر میں انسان اپنی روح کے جغرافیے سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ کم از کم میرے ساتھ تو یہی ہوا۔ میں نے بچپن کی اپنی خاکی پتلون میں اپنی روح کے جغرافیے والا بوسیدہ کاغد سنبھال کر رکھ لیا تھا، مگر عمر کے نہ جانے کس پڑاﺅ پر اور پتہ نہیں کون سی بارش میں وہ گل سڑ گیا۔ میں نے اُسے گنوا دیا۔

 

اپنے اس بے رحم حافظے، زچ کرکے رکھ دینے کی حد تک اُس وفادار کتّے سے پیچھا چھڑانے کے لیے میں نے یہ ترکیب بھی سوچی کہ میں مڑ کر جلدی سے اِس کتّے کا پٹّہ پکڑ کر اُسے ناول کے کنویں میں دھکّہ دے دوں یعنی اپنی یادداشتوں کو میں ناول کے قالب میں ڈھال دوں اوراپنی جان چھڑاﺅں۔

 

میں اور ناول؟ یہ خیال کرکے مجھے ہنسی آتی ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ایک ناول لکھوں۔ مگر میں ناول تو ناول ایک چھوٹی سی کہانی بھی نہیں گڑھ سکتا بلکہ میں ایک پیراگراف تک نہیں لکھ سکتا۔ اس کی ایک، بالکل سامنے کی وجہ تو یہ ہے کہ میرے اندر قابل رحم حد تک تخلیقیت کا فقدان ہے اور دوسری، شاید زیادہ اہم وجہ یہ ہے کہ بچپن سے ہی میری قواعد پوری طرح ٹھپ ہے۔ میں زمانوں میں فر ق نہیں کرسکتا۔ ماضی بعید اور ماضی قریب میرے لیے ایک ہی ہیں بلکہ زمانہ حال اور زمانہ ماضی تو مجھے احساس کی سطح پر ایک دوسرے کے جڑواں نظر آتے ہیں۔ یہی حال مستقبل کا ہے، زمانہ مستقبل مجھے گزرا ہوا زمانہ ہی نظر آتا ہے۔ بچپن میں امتحان میں قواعد کے پرچے میں بس رٹ رٹاکر کام چلا لیا کرتا تھا۔ اس لیے افسوس کہ میں تو صرف مقدموں کی اپیلیں اور عرض داشتیں وغیرہ ہی لکھ سکتا ہوں، اور وہاں بھی اکثر مجھ سے گڑبڑ ہوجاتی ہے، جسے میرا محرّر ٹھیک کر دیا کرتا ہے۔ اس سلسلے میں، میں اگر اتنا ناکارہ اور نااہل نہ ہوتا تو میں تو واقعی ناول لکھتا۔

 

میرا ناول ہی میرا گھر ہوتا۔
میرا گھر، میرا گھر۔
کیا آپ کو معلوم ہے کہ گھر کا سب سے خطرناک حصّہ کون سا ہوتا ہے؟

 

لہٰذا میرا المیہ یہ ہے کہ میں اپنے حافظے کے قدموں کی چاپ سے بھڑک بھڑک کر بھاگ رہا ہوں اور اُن لفظوں کے ساتھ جی رہا ہوں جو ابھی لکھے نہیں گئے۔ ان لفظوں کے شور میں اِس طرح لاپروائی سے ہاتھ پیر پھینک کر چل رہا ہوں جیسے بہرا ہوں۔ میں تو بس اپنی گزری، بھولی بسری یادوں کے اندھیروںمیں لڑکھڑا رہا ہوں۔

 

جائے سب کچھ جہنم میں جائے۔

 

میں لفظوں کی غلامی تو کرنے سے رہا، جس دنیا میں ہر انسان ایک خوفناک راز کی طرح دوسرے انسان کی زندگی پر چھایا ہوا ہو، اُس دنیا کے بارے میں، اور انسانوں کے بارے میں لکھنا ویسے بھی ایک کارِ عبث ہی ہوتا۔

 

ہاں مگر، انسان کی ماہیت کے بارے میں ایک بات کا مجھے بخوبی علم ہے یا احساس ہے، بلکہ میں اسے احساس کی سطح پر ہی رکھنا چاہتا ہوں کیونکہ احساس جیسے ہی علم بنتا ہے۔ لوگ علم کو اپنے دماغ پر اِس طرح باندھ لیتے ہیں جیسے سُوّر کو باڑے میں۔

 

اور وہ احساس یہ ہے کہ انسان اپنی آنتوں کے اندر رہتا ہے۔ انسان کے اعضائے پوشیدہ تو محض انسانوں کے ہونے کے امکان، اُن کی پرچھائیوں کے ٹھکانے ہیں۔
ذہنی اور روحانی طورپر آدمی اپنی آنتوں کے اندر ہی چھپا رہتا ہے۔ اپنی بدنیتی، اپنے چٹورپن اور اپنی بھوک کو، دوسرے کے منھ پر مارتا ہوا، ایک دوسرے کی بھوک کے ذلیل لال رنگ سے دوسرے کا منھ سنا ہوا، یہ خون کی ہولی ہے۔

 

خون؟

 

خون، جس کی بُو میرے بچپن کی جیومٹری کی کتاب میں بنے ایک ایک دائرے، ایک ایک مثلث میں اور ہراُس قضیے میں ایک خفیہ گناہ اور فاش غلطی کی مانند شامل ہے جسے میں کبھی حل نہ کر سکا۔

 

اور یہ بھی ایک خفیہ امر ہے کہ انسان کی آنتیں ہی اُس کا گھر ہےں۔

 

گھر؟؟

 

کیا آپ جانتے ہیں کہ گھر کا سب سے خطرناک مقام کون سا ہے؟

 

یاد رکھیے، ’باورچی خانہ‘ ایک خطرناک اور مخدوش جگہ کا نام ہے۔
Categories
فکشن

سزائے تماشائے شہرِ طلسم

جب فاروق کے والد کا تبادلہ چھوٹے شہر سے بڑے شہر ہونے لگا،توجہاں اس کا دل بڑے شہر میں میسر آنے والی نت نئی رنگا رنگ تفریحات کے خیال سے سرشار تھا،وہیں اس کا دل بڑے شہر پر طاری ہو نے والی ایک عجیب و غریب کیفیت یا حالت دیکھنے کے لیے بھی مچل رہا تھا، جس کے بارے میں اس نے طرح طرح کی باتیں سن رکھی تھیں کہ جب وہ عجیب و غریب کیفیت یا حالت بڑے شہر کی گلیوں، محلوں، بازاروں اور سڑکوں پر طاری ہوتی، تو یکایک چہار جانب سناٹا چھا جاتا،جیسے بڑے شہر پر کسی دیو کا سایہ پھرگیا ہو۔چاروں طرف ہُو کے عالم میں صرف اُڑن طشتری جیسی برق رفتارگاڑیاں شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں بے آواز فراٹے بھرا کرتیں اور طویل فاصلے چند ساعتوں میں طے کرتیں۔بڑے شہر پر طاری ہونے والی اُس عجیب و غریب کیفیت یا حالت کے دوران،خلائی مخلوق جیسا لباس پہنے اجنبی لوگ تمام علاقوں کے چوراہوں اور گلی کوچوں بازاروں میں گھومتے پھرتے دکھائی دیتے۔ مقامی لوگ جن کی زبان بالکل نہ سمجھتے اور انہیں اپنا مدعا سمجھانے کے لیے وہ اشاروں کی زبان کا استعمال کرتے۔فاروق نے چھوٹے شہر میں گزرنے والی اپنی زندگی میں ایسی چیزوں کا تصور تک نہیں کیا تھا، اسی لیے اپنے والد کے تبادلے کی خبر سنتے ہی اس کی نیند اچاٹ ہو گئی اور وہ رات دن بڑے شہر کی طلسماتی اور سحر انگیزفضاکے متعلق سوچنے اور اسے اپنے طریقے سے محسوس کرنے لگا۔

 

فاروق کو پرائمری اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہی جادوئی دنیا سے تعلق رکھنے والی کہانیاں پڑھنے کا چسکا لگ گیا تھا۔اس کی ذہنی دنیا میں علی بابا، عمرو عیار، سند باد جہازی اور حاتم طائی جیسے کردار،جیتے جاگتے سانس لیتے انسانوں کی طرح تھے۔ وہ اکثر انہیں اپنے تخئیل میں چلتے پھرتے دیکھا کرتااور راتوں کو سوتے ہوئے خوابوں میں اُن کے ساتھ مختلف مہمات سر کرتا پھرتا۔پھر نہ جانے کب کسی دوست نے اسے ایک جاسوسی ناول پڑھنے کو دیا اوراس کی ذہنی دنیا کہانیوں کی ایک نئی جہت سے آشنا ہوئی۔یہاں اس کی ملاقات ایک نئے کردار عمران سے ہوئی اور وہ اس کردار کا ایسا اسیر ہوا کہ طلسماتی دنیا سے نکل کر، اُس کی انگلی تھام کر، اس کے ساتھ ہولیا۔اب وہ خود کو عمران کی سیکرٹ سروس کا باقاعدہ رکن خیال کرنے لگا۔اب وہ جاسوسی کی نت نئی مہمات میں عمران کا ہم رکاب رہنے لگا۔اب اکثر جب وہ گھر سے نکلتا، تو اسے گلی سے گزرتے ہوئے راہ گیر،دشمن ملک کی سیکرٹ سروس کے ایجنٹ محسوس ہوتے اوروہ خود کو عمران سمجھتے ہوئے ان کا تعاقب کرتا۔ کچھ دور جاکر اسے اپنا یہ تعاقب لاحاصل محسوس ہوتا اوراسے وہ کام یاد آجاتا جس سے اس کی والدہ نے اسے بازار بھیجا ہوتا۔ یہ شاید اس کے تخئیل میں آباد، سنسنی خیز ی سے معمور دنیا کے اثرات ہی تھے، جن کی بدولت اس نے بڑے شہر پر اچانک طاری ہونے والی اُس کیفیت یا حالت کے بارے میں سنا تواسے وہ بہت حد تک اپنے ذہن میں آباد دنیا کے مماثل محسوس کر لیا۔وہ جلد از جلد بڑے شہر پہنچ کر اس صورتِ حال کامشاہدہ اپنی آنکھوں سے کرنے کے لیے بے تاب ہو رہا تھا۔اس خواہش کے ساتھ اس کے دل کے کسی گوشے میں اُس تنہائی کا خوف بھی دُبکا ہوا تھا،وہاں پہنچ کر اس کا جس سے سابقہ پڑنے والا تھا۔ اسے جتنے دوست اور ہم جولی یہاں پر میسر تھے معلوم نہیں بڑے شہر میں بھی میسر آئیں گے کہ نہیں۔

 

چھوٹے شہر سے بڑے شہر تک کا سفرفاروق کی زندگی کا ایک کبھی نہ بھلانے والا سفر تھا۔وہ اپنے والد، والدہ او ر دو چھوٹے بھائیوں کی معیت میں،ایک کار میں سوار، جسے اس کے والد چلا رہے تھے،بڑے شہر کی جانب رواں تھا۔گردوپیش کے دل چسپ مناظر کے ساتھ ساتھ آسمان پر اڑتے ہوئے بادل بھی پیچھے کی طرف دوڑتے ہوئے گزر رہے تھے۔ اونچی نیچی ڈھلانوں سے گزرتی،گھومتی اور بل کھاتی سڑک کسی سیاہ اژدہے جیسی معلوم ہوتی تھی۔ راستے میں آس پاس چھوٹی بڑی پہاڑیاں دیکھ کر فاروق کے ذہن میں غار کا خیال آیا۔اُس غار کا خیال،جس کے باہر کھڑا ہو کر علی باباکہا کرتا تھا۔ “ کُھل جا سِم سِم “۔اور وہ غار اپنا دہانہ کھول دیا کرتا تھا۔ فاروق نے سوچا کہ وہ غار بھی کسی ایسے ہی علاقے میں واقع ہوگا۔یہ سوچتے سوچتے فاروق کی نظر دائیں جانب پڑی۔ کار ایک ڈھلان کی بلندی سے گزر رہی تھی اور اس بلندی سے دائیں طرف، بہت دور اسے نیلے پانی سے بھری ہوئی ایک پیالہ نما گول جگہ دکھائی دی۔کافی فاصلے پر ہونے کی وجہ سے وہ اسے نظر بھر کر نہیں دیکھ سکا۔ اسے گمان گزرا کہ نیلے پانی سے بھری اس پیالہ نما جگہ کا منظر اس کی نظروں کا دھوکہ بھی ہو سکتا ہے۔بالکل اسی طرح جیسے الف لیلی کے کرداروں کوصحراؤں میں سفر کے دوران نخلستان یا پانی کے ذخیرے دکھائی دیتے تھے۔مگر کچھ دیر بعد جب کار اگلی ڈھلان کی چڑھائی چڑھ کر اس کی بلندی تک پہنچی تو اس نے فوراً دائیں جانب نگاہ کی۔نیلے پانی سے بھری پیالہ نما جگہ کو دوبارہ دیکھتے ہی اس نے شور مچادیا۔اس کے شور مچانے پراس کے والد نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا تو اس نے ان سے کچھ دیر کے لیے گاڑی روکنے کی درخواست کر دی۔اس کے والد نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے سڑک پر بائیں جانب آہستگی سے گاڑی روک دی۔

 

فاروق نے کار کا دروازہ کھولتے ہی سڑک پر دائیں طرف دوڑ لگا دی۔ اسے جاتا دیکھ کر اس کے دونوں چھوٹے بھائی بھی مچلنے لگے۔ اس کی والدہ نے انہیں ڈانٹ کر کار سے نیچے اترنے سے روکا۔ ابھی فاروق بہ مشکل سڑک کے درمیان پہنچا ہوگا کہ اس کے والد کی غضب ناک آواز نے اسے بھی آگے بڑھنے سے روک لیا۔اس نے پلٹ کر دیکھا تو ااس کے والد اسے واپس آنے کا اشارہ کر رہے تھے۔ سڑک بالکل خالی تھی۔ اس لیے وہ سر جھکائے فوراً ہی والد کے قریب پہنچ گیا۔
اس کے والد نے خفگی سے پوچھا۔ “ تم نے کار کیوں رکوائی؟ اوریہ تم بھاگ کر کہاں جارہے تھے؟ “۔

 

فاروق نے پریشانی سے پلٹتے اور نیلے پانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ “ ابو، وہ نیلا پانی۔۔ “۔ وہ جواب میں صرف اتنا ہی کہہ سکااور ہکلا کر چپ ہوگیا۔
اس کے والد نے اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر دائیں طرف بہت دور دکھائی دینے والی پیالہ نما جگہ کی جانب دیکھا تو مسکرانے لگے۔ “ تم کار میں بیٹھو، پھر تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ کیا ہے؟ “۔

 

فاروق منہ بسورتے ہوئے کار میں اگلی سیٹ پر جا کر بیٹھ گیا اور بار بار بے تابی سے گردن موڑ موڑ کر پیالے میں بند نیلے پانی کی جانب دیکھنے لگا۔اس کی والدہ اس کی سرزنش کرنے لگیں، تواس نے فرماں برداری سے والدہ کی ڈانٹ سن کر اپنا سرجھکا لیا۔اس کے والد نے گاڑی اسٹارٹ کی اور چند ہی لمحوں میں گاڑی اُس ڈھلان سے نیچے اتر گئی۔ فاروق بے تابی سے اپنے والد کے گویا ہونے کامنتظر تھا۔

 

اس کے والد کھنکار کر اپنا گلہ صاف کرتے ہوئے اس سے گویا ہوئے۔ “تم جس منظر کو دیکھ کر بے چین ہورہے تھے، وہ دراصل ایک مصنوعی جھیل تھی “۔
“مصنوعی جھیل “۔

 

اس کے والد نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔ “ ہاں، پانی کی مصنوعی جھیل۔کئی برس پہلے جب بڑے شہر میں پانی کے سب کنویں خشک ہوگئے، تو بڑے شہر کے اس وقت کے پارسی میئر نے سوچا کہ بڑے شہر میں بسنے والے لوگوں کے لیے پانی کا مستقل بند و بست ہونا چاہیے۔سو اس نے بیرونِ ملک سے انجینئر بلائے۔ انہوں نے یہ مصنوعی جھیل بنوائی، جسے دریا سے نکالی جانے والی نہر کے ذریعے سیراب کیا گیا۔ “

 

فاروق اپنے والد کی معلومات سے مرعوب تو ہوا مگر اسے ان باتوں سے زیادہ دل چسپی اُس جھیل کو قریب سے دیکھنے سے تھی۔جب اس نے اپنی اس خواہش کا اظہار اپنے والد سے کیاتو انہوں نے اسے بتایا کہ وہ جھیل کی طرف جانے والے سبھی رستوں کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔انہوں نے فاروق سے وعدہ کیا کہ کچھ عرصے بعد وہ ان سب کو جھیل کی سیر کروانے لے جائیں گے۔

 

اِس کے بعد فاروق سارے رستے نیلے پانی کی اُس پیالہ نما جھیل کا تصور ہی باندھتا رہا۔تصور باندھتے باندھتے اچانک اس کی آنکھ لگ گئی اور اس نے خواب میں خود کو نیلے پانی کے کنارے کنارے چلتے دیکھا۔نیلا پانی جو بے آواز چھپاکوں کے ساتھ کناروں سے ٹکرا رہا تھا۔پانی میں چند کشتیاں تیر رہی تھیں، جن کے ملاح اپنے بدن کی پوری قوت سے چپو چلانے میں مصروف تھے۔جھیل کے کنارے وہ جس مقام پر کھڑا تھا، ایک کشتی دھیرے دھیرے وہاں آکر ٹھہر گئی۔ملاح نے اجنبی زبان میں اس سے کچھ کہا اور اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔وہ ملاح کا بڑھتا ہاتھ دیکھ کر ٹھٹھک کے رہ گیا۔ وہ پیچھے ہٹنے لگا مگر ملاح نے آگے بڑھ کر اس کی مرضی کے خلاف اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اس کے ہاتھ کی گرفت مضبوط تھی۔ فاروق پیچھے ہٹنا چاہتا تھا لیکن ملاح نے اسے زور سے کشتی کی طرف کھینچا۔ اس نے نہ چاہتے ہوئے کشتی کی طرف اپنا پاؤں بڑھایا۔ جیسے ہی اس کا پاؤں کشتی پر پڑنے لگا، کشتی وہاں سے غائب ہو گئی اور فاروق پانی میں گرنے لگا۔

 

پانی میں گرنے کے خوف سے اس نے خفیف سی چینخ مار ی اور جُھرجُھری لیتے ہوئے آنکھیں کھول دیں۔بیداری پر اس نے دیکھا کہ ایک اجنبی گلی کے دونوں طرف بنے ہوئے مکانوں کے اوپر آسمان گہرا سُرمئی ہو رہاتھا۔شام ڈھل چکی تھی۔ کار میں اس کے سوا کوئی موجود نہیں تھااور کار ایک مکان کے سامنے کھڑی تھی، جس کا آہنی پھاٹک پورے کا پورا کا کھلا ہوا تھا۔فاروق آنکھیں مسلتا ہواکار سے نیچے اترنے ہی والا تھا کہ اس کا چھوٹا بھائی دوڑتا ہواآہنی پھاٹک سے برآمد ہوا اور اسے کار سے اترتے دیکھ کر خوشی سے چلایا۔ “ بھیا،ہم بڑے شہر میں اپنے نئے گھر پہنچ گئے “۔چھوٹے بھائی کی بات سن کر وہ بادلِ نخواستہ مسکرایا اور اس کے ساتھ نئے گھر کے پھاٹک کی طرف چل دیا۔

 

اگلے دو تین روز وہ اپنے بھائیوں اور والدہ کے ساتھ نئے گھر میں سامان، ترتیب اور سلیقے سے رکھنے میں مصروف رہا۔ اِس کام نے اس کے جسم پر ایسی تھکن طاری کی کہ وہ خواہش کے باوجود گھر سے باہر قدم بھی نہ نکال سکا۔ اس کے والد نے بھی اسے تاکید کی تھی کہ نئے شہر میں گھر سے باہر زیادہ نہ نکلے،اگر مجبوراً نکلنا ہی پڑے توزیادہ دور تک نہ جائے۔اسی لیے دوسرے روز اس کی والدہ نے اس سے اشیائے صرف کی فہرست بنوانے کے بعدجب اسے روپے دے کر سامان لانے کے لیے باہر بھیجا تو انہوں نے بھی اس کے والد کی تاکید کو دوہرایا، جسے سنتے ہوئے اس نے فرماں برداری سے اپنا سر اثبات میں ہلادیا۔

 

اس نے اندازہ لگایاتھا کہ گھر سے باہر نکلتے ہی بڑے شہر پر طاری ہونے والی اس عجیب و غریب کیفیت یا حالت کے کچھ آثار اس پر ہویدا ہونے لگیں گے۔ مگر گلی میں چلتے ہوئے جب ایک راہ گیر اس کے قریب سے گزرا تو فاروق نے اپنی نظروں سے اس کا چہرہ ٹٹولنے کی کوشش کی۔اسے راہ گیر کے چہرے پر کسی قسم کی گھبراہٹ یا پریشانی کے آثار دکھا ئی نہیں دیے۔و ہ کچھ اور آگے بڑھاتوسب گلیوں کو ملانے والی درمیانی گلی میں اسے ایک دکان دکھائی دے گئی۔وہ اس دوکان سے گزر کر آگے جانا چاہتا تھا مگر والدین کی جانب سے کی جانے والی تاکید نے اس کے قدم روک لیے۔وہ اس دوکان پر گیا اور اس نے جیب سے فہرست نکال کر دوکان دار کے ہاتھوں میں تھمادی۔دوکان دار فہرست دیکھ دیکھ کر اطمینان سے سامان نکالنے لگا۔اس کا اطمینان دیکھ کر فاروق بے چینی سی محسوس کرنے لگا۔دوکان دار نے سامان تھیلیوں میں بھر کر اس کی طرف بڑھایا تواس کی جلدی سے جیب سے روپے نکال کر اس کے حوالے کردیے اور سامان سے بھری تھیلیاں اٹھائے گھر کی طرف چل دیا۔چلتے ہوئے وہ اس دبدھا میں تھا کہ کہیں بڑے شہر کے بارے میں اس نے چھوٹے شہر میں رہتے ہوئے جو کچھ سنا تھا، کہیں وہ سب کچھ کسی دورغ پر مبنی تو نہیں تھا۔کیوں کہ قلیل سے وقت میں اس کے محدود مشاہدے نے اس کی ذہنی دنیا میں قائم ہونے والے تصور کوکسی حد مجروح کردیا تھا۔

 

اگلے روز جب اس نے اپنی والدہ سے سودا سلف منگوانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے دوٹوک جواب دے دیا کہ آج کچھ بھی نہیں منگوانا۔ان کا جواب سن کر وہ بہت دیر تک پیچ و تاب کھاتا رہا اور باہر جانے کا کوئی بہانہ سوچتا رہا۔سہ پہر کے وقت اس کے دونوں چھوٹے بھائی آپس میں لڑ لڑ کر سو گئے۔ اس کی والدہ نے اسے بھی سونے کا حکم دیا۔وہ اپنے پلنگ پر لیٹ توگیا مگر دیر تک کروٹیں بدلنے کے باوجودوہ اپنے آپ کو سونے پر مائل نہ کرسکا۔ قرب و جوار کی کسی مسجد سے عصر کی اذان بلند ہوئی تو وہ پلنگ سے اتر کر والدہ کے کمرے کی چلا گیا۔ کمرے میں داخل ہونے سے پہلے اس نے دروازے پر دستک دی، جسے سنتے ہی اسے والدہ کی آواز سنائی دی۔ “کون ہے؟ “۔ فاروق قجھجھکتے ہوئے اندر داخل ہوا۔ اس کی والدہ بدن پر چادراوڑھے ہوئے بیڈ پر دراز تھیں اور ان کے چہرے پر پھیلی سوگواری سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ غنودگی کے عالم سے ابھی ابھی نکلی ہیں۔ انہوں نے جماہی لیتے ہوئے اس سے پوچھا۔ “ کیا ہوا فاروق؟ “۔

 

اس نے بے ساختگی سے کہہ دیا۔ “ امی، مجھے ایک کتاب خریدنی ہے، اس کے لیے پیسے چاہئیں “۔

 

یہ سنتے ہی والدہ کی پیشانی پر لکیریں سکڑنے لگیں۔ “ ابھی تمہارا اسکول میں داخلہ ہی نہیں ہوا۔ پھر تمہیں کیسی کتاب خریدنی ہے؟ “۔

 

“کہانیوں کی کتاب؟ “۔

 

“تمہارے پاس وہ تو پہلے ہی بہت سی ہیں۔ کیا کرو گے، اور لے کر؟ “۔

 

“ امی، وہ سب میں بہت پہلے ہی پڑھ چکا ہوں۔مجھے نئی کہانیاں پڑھنی ہیں۔ “

 

“ تمہیں کیا پتہ یہاں کتابوں کی دوکان کہاں پر ہے۔ تم کہاں سے جاکر کتاب خریدو گے؟ “۔

 

“میں نے معلوم کرلیا ہے۔بازار ہمارے گھر سے زیادہ دور نہیں ہے۔آپ مجھے بس پیسے دے دیں۔ “ اس نے اتنے اعتماد کے ساتھ پہلے کبھی جھوٹ نہیں بولا تھا۔وہ خود بھی جی ہی جی میں اپنی اس ہمت پر حیران رہ گیا۔

 

“مگر تمہارے ابو نے منع کیا تھا کہ تم با ہر نہیں جاؤ گے۔ “ والدہ نے اسے یاد دلایا۔

 

“ امی، میں دیر نہیں کروں گا۔ کتاب لے کر جلدی آجاؤں گا۔بتائیں، پیسے کہاں رکھے ہیں؟ “۔اس نے اصرار کرتے ہوئے ایک ایک بار پھر مطالبہ کیا۔

 

“ اچھا، اچھا۔ باورچی خانے میں برتنوں والے دراز میں جو کیتلی رکھی ہے، اس میں ہیں پیسے۔ تم جا کر نکال لو۔ اور سنو جلدی واپس آنا۔ تمہارے ابو کے آنے کا وقت بھی ہونے والا ہے۔ “اس کی والدہ کو اس کے آگے ہتھیار ڈالتے ہی بنی۔

 

“جی اچھا۔ میں جلدی آجاؤں گا “۔سر ہلاتے اور اپنی کامیابی پر زیرِ لب مسکراتے ہوئے وہ کمرے سے نکل کر باورچی خانے کی طرف چلا گیا۔

 

جب وہ گھر سے نکلا تو باورچی خانے میں برتنوں والے دراز میں رکھی کیتلی سے نکالے ہوئے پچاس روپے اس کی جیب میں تھے۔ اسے بڑے شہرآئے ہوئے چند روز گزر گئے تھے، مگر اسے محسوس ہورہا تھا کہ وہ آج ہی یہاں پہنچا ہے۔ اس احساس کی وجہ گھر کی چار دیواری سے باہر وہ آزادی تھی، جو اسے آج پہلی بار میسر آئی تھی۔۔ وہ اکیلا بڑے شہر کے ائرپورٹ کے قریب واقع اس آبادی کے بازار کی جانب گامزن تھا، اکیلائی کا یہ تجربہ اس کے لیے بالکل نیا تھا۔۔وہ سب گلیوں کو ملانے والی درمیانی گلی میں واقع دوکان تک پہنچا تو وہ دوکان اسے حسب معمول کھلی ہوئی دکھائی دی۔اس کے قریب سے گزرتے ہوئے فاروق کی رفتار بہت کم تھی۔ وہاں دو خواتین کھڑی سودا سلف خرید رہی تھیں۔ان میں سے ایک برقعہ اوڑھے ہوئے تھی اور اپنی آنکھوں کی جنبشوں اور اپنے بدن کی حرکات و سکنات سے درمیانی عمر کی لگ رہی تھی۔ اور دوسری، جو چہرے سے بزرگ دکھائی دیتی تھی،مگر اب بھی چاق و چوبند نظر آرہی تھی۔ اس نے میلا کچلا سا اور دُھل دُھل کر اپنا اصل پیلا رنگ کھو کر،سفیدی مائل ہوتا ہوا لباس پہن رکھا تھا۔مختصر سا مٹیالے رنگ کا دوپٹہ اُس کے سر پر پھیلے سُر مئی اور سفید سے،کھچڑی گھنگھر یالے بالوں کو چھپا نے میں بری طرح ناکام تھا۔وہ بوڑھی خاتون سانولی اور گہری رنگت کی حامل تھی اور اس کا چہرہ جھریوں اور گہری لکیروں سے پُر تھا۔ وہ کمر پر ہاتھ رکھے اجنبی سے لہجے میں دوکان دار سے کہہ رہی تھی۔ “ مجھے لسٹ میں لکھا سارا سامان دینا۔ ایک ایک چیز۔اور ہاں، کوئی چیز چھوڑ مت دینا۔ سمجھے۔شہر کے حالات پہلے کبھی اتنے غیر یقینی نہیں تھے، جتنے اب ہو گئے ہیں۔ہیلمٹ والی مخلوق کو گلیوں میں دیکھ کر میرا تو دل دہل کے رہ جاتا ہے۔ان کی سیٹیاں سن کر میری سٹی گم ہوجاتی ہے۔اور۔۔ اور لاوڈ اسپیکر پر ان کا اعلان سن کر یقین مانو، میرا کلیجہ حلق کو آجاتا ہے۔ “۔

 

فاروق نے دوکان کے قریب سے گزرتے ہوئے اس خاتون کی یہ باتیں سنیں تواس کے دل میں معدوم ہوتی امید پھر سے بیدار ہونے لگی۔اس کے دل میں اس بزرگ خاتون سے، بڑے شہر پر طاری ہونے والی اس کیفیت یا حالت کے بارے میں استفسار کرنے کی خواہش پیدا ہوئی مگر اُ س کے اور اس خاتون کے درمیان حائل اجنیبت اس کے پیروں کی زنجیر بن گئی۔وہ بار بار دوکان پر کھڑی اس بزرگ خاتون کی طرف دیکھتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ آگے بڑھتے ہی اس کے قدموں میں جیسے کوئی رَو دوڑ گئی اور وہ تیز رفتاری سے چلنے لگا۔جیسے آگے

 

اور آگے کوئی ان دیکھا منظر اس کا انتظار کر رہا ہو، لمحہِ موجود میں جس کی کشش اسے اپنی جانب کھینچے جا رہی ہو۔وہ بائیں مڑنے والی ایک گلی میں مڑ گیا۔ یہ گلی کچھ تنگ سی اور کچھ مختصر سی تھی۔اس نے دیکھا کہ یہ آگے جا کر دائیں طرف مڑ رہی تھی۔وہ اپنے تجسس کی جوت میں خوشی خوشی جلتا ہوا، اپنا سر جھکائے ہوئے اس گلی سے گزرا۔

 

دائیں طرف مُڑنے کے بعدوہ ایک کشادہ سی گلی میں داخل ہوا، جو سیدھی بازار کی طرف جارہی تھی۔اس گلی کے آخری سرے پرے پر اسے رونق سی دکھائی دی۔ دوکانوں اورٹھیلوں کے آس پاس مرد و زن خریداری میں مصروف دکھائی دے رہے تھے۔اس گلی کے دونوں طرف دوبڑی بڑی ورک شاپس بنی ہوئی تھیں، ان کے گیٹ کھلے ہونے کی وجہ سے فاروق یہ دیکھ سکا کہ ایک ورک شاپ میں گاڑیوں کی مرمت کی جارہی تھی جب کہ دوسری میں نیا فرنیچر بنانے کے ساتھ ساتھ پرانے فرنیچر کی مرمت کا کام بھی جاری تھا۔فاروق ورک شاپس سے آگے بڑھا تو اسے دونوں جانب زمین کے بڑے بڑے چوکور خالی قطعے دکھائی دیے، جن میں جھاڑیاں اور کیکر اگے ہوئے تھے۔کچھ آگے جا کر دائیں طرف کسی حکیم صاحب کا مطب واقع تھا۔، جب کہ بائیں طرف دوکانوں کا ایک سلسلہ ساتھا۔ ان دوکانوں میں ویڈیو فلمیں اور وی سی آر کرائے پر دستیاب ہوتے تھے۔سب دوکانوں کے سامنے کے حصوں پرسیاہ اور دیگر گہرے رنگوں کے شیشے لگے تھے۔ ان کے دروازے بھی شیشوں کے بنے ہوئے تھے۔ ان شیشوں پر ہندی اور امریکی فلموں کے بڑے بڑے پوسٹر لگے ہوئے تھے۔اس وقت ایک ویڈیو سینٹر سے ہندی گانا سنائی دے رہا تھا۔وہ فلموں کے پوسٹر دیکھتااور گانا سنتا ہوا آگے بڑھا۔

 

کچھ دیر پیشتر بوڑھی عورت کی باتیں سن کر اس کے دل میں جس امید نے سر اٹھایا تھا، بازار میں گہما گہمی دیکھ کر وہ نا امیدی میں تبدیل ہونے لگی۔بازار ہر طرح کے لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ شام کے اسکولوں سے چھٹی پانے والے بچوں سے، کالج اور یونیورسٹی سے شام کی کلاسیں لے کر لوٹنے والے لڑکوں اور لڑکیوں سے،دفاتر، فیکٹریوں، اور کام کی دیگر جگہوں سے چھوٹنے والے مرد و زن سے،، بھکارنوں سے، مزردوروں سے۔غرض کہ بھانت بھانت کے لوگوں سے، جو وہاں اپنی اپنی ضروریات کا سامان خریدتے، گھومتے پھر رہے تھے۔ان کے درمیان ٹہلتے ہوئے فاروق کو کتابوں کی دوکان تلاش کرنے میں زیادہ دقت کا سامنا نہیں کر نا پڑا۔

 

وہ کتابوں کی دوکان میں داخل ہوا۔ یہاں ہر طرح کی نصابی، غیر نصابی کتب اور رسائل دستیاب تھے۔فاروق نے دو پرانے ڈائجسٹ خریدنے کے لیے منتخب کیے، جن کے دام بہت ارزاں تھے۔اسے اطمینان سا ہوا کہ اگلے چند روز کے لیے بوریت سے اس کی جان چھوٹ جائے گی۔وہ ان کی قیمت ادا کرکے دکان سے باہر نکلا اور بازار میں چلنے لگا۔

 

بازار کی مرکزی سڑک،جس کے دائیں اور بائیں طرف بہت سی چھوٹی سڑکیں اور گلیاں نکلتی تھیں۔ کسی چھوٹی گلی یا سڑک سے کچھ اوباش قسم کے لڑکوں کی ٹولی ڈنڈے اور لاٹھیاں اٹھائے ہوئے نکلی اور بازار کی دوکانوں پر پِل پڑی۔وہ بازار جہاں لوگ اپنی موج میں سست خرامی سے گھوم رہے تھے،اچانک وہاں بھگدڑ سی مچ گئی۔ایسی ہا ہا کار مچی کہ لوگ اپنی خریداری بھول کر، یہاں وہاں بھاگ کر، خود کو ڈنڈوں اور لاٹھیوں کی زد میں آنے سے بچانے لگے۔دوکانیں بند ہونے لگیں۔اسی دوران نہ جانے کہاں سے دو موٹر سائکلیں نمودار ہوئیں۔ ہر موٹر سائیکل پردو لڑکے سوار تھے۔ وہ بلند لہجوں میں چینخ چینخ کردوکان داروں کو دوکانیں بند کرنے کا حکم دے رہے تھے۔

 

فاروق اس صورتِ حال کو فوری طور پر نہیں سمجھ سکا کیوں کہ یہ اس کے لیے بالکل انوکھی صورتِ حال تھی۔اس نے کھلبلی مچ جانے کے ایسے واقعات کا مطالعہ تو ضرور کیا تھا اور کسی حد تک انہیں اپنی چشمِ تصور میں بھی دیکھا تھا، مگر ایسی صورتِ حال کا کہانیوں میں مطالعہ کرنا اور اسے اپنے تصور میں دیکھنا، بالکل الگ بات تھی، جب کہ اس کا سامنا کرتے ہوئے اسے اپنی آنکھوں کے روبرو دیکھنا بالکل الگ بات تھی۔ آٹھ دس لڑکوں کی ٹولی کے غراتے، چینختے چلاتے ہوئے لہجوں، دکانوں، ٹھیلوں، اور کچھ لوگوں پر پڑتے ہوئے ڈنڈوں کے شور،تیزی سے گزرتی موٹر سائیکلوں کا غُل غپاڑہ اور فائرنگ کی آوازوں نے مل جل کر فاروق کے ذہن پر جو پہلا تاثر قائم کیا، وہ ڈر اور خوف کا تاثر تھا۔اس کی اپنی زندگی چھِن جانے کا خوف۔موت سے ہمکنار ہونے کا خوف۔ اسی خوف کے زیرِ اثر وہ بد حواس ہوکر بازار سے بائیں طرف نکلنے والی ایک گلی میں بھاگا۔یہ وہ گلی ہرگز نہیں تھی، جس میں ٹہلتا ہوا وہ اس جانب آیا تھا۔

 

دل و دماغ پر اچانک چھا جا نے والے خوف کے زیرِاثر وہ جس گلی میں بھاگا، وہ ا س کے لیے نامہربان اور اجنبی ثابت ہوئی اور اسے نا آشناگلیوں کے ایک ایسے سلسلے کی طرف لے گئی،جو اس کے لیے گم راہ کن ثابت ہوا۔ اگر یہ گلیاں اپنے راہ گیروں، خوانچہ فروشوں اور دیگر گزرنے والوں کے وجود سے بھری پری ہوتیں، تو شاید اسے یہ خوف اتنا پریشان نہ کرتا۔ مگر یہاں تو جس طرف دیکھو گہرا اور دبیز سناٹا تھا۔اس نے محسوس کیا یہاں واقعی کسی دیو کا سایہ پھر گیا ہے، جس نے ان گلیوں سے زندگی کی ہر رمق نوچ ڈالی ہے۔وہ خود کو ایسا شہزادہ خیال کرنے لگا، جو اپنے آپ کو اس دیو سے بچانے کی خاطر اس بھول بھلیاں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے۔ وہ جو گلی بھی عبور کرتا، وہ اسے مزید بھٹکانے کا سبب بنتی۔اس طرح وہ بھٹکتے بھٹکتے بہت دور پہنچ گیا۔اتنی دور پہنچ کر اسے اپنی جان کو لاحق ہو نے والا خوف تو کچھ کم ہو گیا، مگر اب اس کی جگہ نئے خوف نے لے لی تھی۔

 

سورج مقامِِ غروب کی طرف رواں تھا اورشام تیزی سے ڈھلتی جارہی تھی۔وہ جانتا تھا کہ کچھ دیر بعد پھیلنے والا اندھیرا ان نامہربان اور اجنبی گلیوں کو ایک نئے اور مختلف روپ میں ڈھال دے گا۔گہری تاریکی میں یہ گلیاں کچھ دہشت ناک اور کچھ بھیانک سی محسوس ہونے لگیں گی۔اسے اپنی والدہ کا اسے بازار جانے سے روکنا شدت سے یاد آیا۔ اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ یہ احساس درد بن کر اس کے بدن کے رگ و ریشے میں سرایت کرگیا۔اس کا گلا رندھنے لگا۔وہ خود پر ضبط کرتا ہوا ٹھہر گیا اور گردوپیش دیکھنے لگا۔کچھ دیر وہاں کھڑ ا لمبی سانسیں لیتا رہا۔ اسی دم اس نے ایک فیصلہ کیا اور آگے بڑھنے کے بجائے فوراً اسی مقام کی جانب چلنا شروع کردیا، جس مقام سے اس کا بھٹکنا شروع ہوا تھا۔

 

واپسی کے سفر میں زمین کی نشانیوں نے مطلوبہ مقام تک پہنچنے میں اس کی بہت مدد کی۔گرچہ خوف کے عالم میں بھاگتے ہوئے اس نے زمین کی کوئی نشانی اپنے ذہن میں محفوظ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی، مگر وہ شاید اس کے لاشعور میں کہیں خود بہ خود محفوظ ہوگئیں تھیں۔اسی لیے کوئی نقشِ پا،کوئی گڑھا، کوئی کھمبا،یا دیواروں پر بنی ہوئی کوئی علامت یا کوئی اشتہار ازبر نہ ہونے کے باوجود واپسی کے سفر میں اس کی راہنمائی کرتے رہے۔وہ کم و بیش انہی گلیوں سے گزرا، جن سے وہ ہانپتا کانپتا، دوڑتا ہوا گیا تھا۔

 

گردوپیش کی مساجد سے مغرب کی اذان بلند ہو نے لگی تھی، جب وہ نڈھال قدموں سے چلتا ہوا اس گلی میں داخل ہوا، جس میں اس کا گھر واقع تھا۔اس نے بہ دِقت اپنا ہاتھ اٹھا کر گھنٹی کا بٹن دبایااور سر جھکا کرلوہے کے پھاٹک کے پاس کھڑا ہوگیا۔ اس نے محسوس کیا اب تک اس کے دل کی دھڑکن معمول پر نہیں آئی تھی اور وہ اپنے گھر کے پھاٹک کے قریب ہونے کے باوجود غیر ارادی طور پر پلٹ پلٹ کر بھی دیکھ رہا تھا، جیسے ہنگامہ آرائی کرنے والے اس کے پیچھے لگے ہوئے ہوں۔چند لمحوں بعد پھاٹک کھلا اور اسے اپنے چھوٹے بھائی کا چہرہ دکھائی دیا،جو اسے دیکھتے ہی اس سے دیر سے آنے کے بارے میں سوال پر سوال پوچھنے لگا تھا۔ فاروق میں اس کے کسی سوال کا جواب دینے کی ہمت نہیں تھی۔وہ ڈائجسٹ ہاتھ میں لیے اندر داخل ہوا۔پھاٹک بند کرتے ہوئے چھوٹے بھائی نے اسے اطلاع دی کہ ابو دفتر سے گھر آچکے ہیں، تو وہ یہ اطلاع سن کر چونکا اورٹھٹھک کر بولا۔ “ اچھا “۔وہ اس وقت اپنے والدین کا سامنا کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھا۔اس لیے وہ چھوٹے بھائی کی بات کو نظر انداز کرتا اپنے کمرے کی طرف جانے لگاکہ اسے والدہ کی آواز سنائی دی۔ “ کون آیا ہے؟ “۔
اس کے چھوٹے بھائی نے فوراً بلند لہجے میں جواب دیا۔ “فاروق بھائی آئے ہیں “۔

 

“اسے ہمارے پاس بھیج دو “۔یہ سنتے ہی اس کے قدم رک گئے۔وہ کچھ سوچتا ہوا والدین کے کمرے کی طرف چل دیا۔

 

وہ ڈائجسٹ ہاتھ میں لیے، اپنا سر اور نگاہیں نیچی کیے،کمرے میں داخل ہوا تو اسے محسوس ہوا کہ اس کے والدین نے اس کی اچانک آمد کی وجہ سے چپ سادھ لی ہے۔ جھکی نظروں سے وہ صرف اپنے والد کو بیڈ پر نیم دراز بیٹھے اور چائے پیتے ہوئے دیکھ سکا۔اس کی والدہ بیڈ کے دائیں طرف رکھی ہوئی ایک کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے ہوئے بیٹھی تھیں۔ اس نے ان دونوں کے چہروں کی طرف اپنی جھکی جھکی نظروں سے دیکھا تو اسے اپنے والد کے چہرے پر معمول کے سنجیدہ تاثر کے ساتھ فکرمندی کی ہلکی سی پرچھائیں دکھائی دی، جب کہ اس کی والدہ سخت گیری اور خفگی سے اس کی طرف دیکھ رہی تھیں۔

 

“تم دروازے کے پاس کیوں کھڑے ہو۔ آگے آؤ اور سر اٹھا کر ہماری طرف دیکھو “۔اس کی والدہ نے اسے حکم دیتے ہوئے کہا۔

 

وہ کچھ آگے بڑھا اور بیڈ کے قریب جاکر کھڑا ہوگیااور اپنی واپسی میں ہونے والی تاخیر کے متعلق اپنی سی وضاحت دینے لگا۔ “ ابو، میں بازار کتابیں لینے گیا تھا کہ وہاں۔۔۔۔۔ “۔

 

اس کے والد نے اس کی بات درمیان سے کاٹتے ہوئے پہلے کھنکار کر اپنا گلہ صاف کیا، پھر اس مخاطب ہوئے۔ “ فاروق، میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا اور ایک بار پھر کہہ رہا ہوں کہ یہ بڑا شہر چھوٹے شہرسے بہت مختلف ہے۔یہاں تمہیں بہت سوچ سمجھ کر اور محتاط ہوکر گھر سے نکلنا پڑے گا۔تمہیں اپنی امی اور میری کہی ہوئی ہر بات پر عمل کرنا ہوگا۔سمجھے “۔

 

فاروق نے اپنا سر ہلاتے ہوئے کہا۔ “جی سمجھ گیا۔ “

 

“ تم ہر دفعہ یہی کہتے ہو۔ مگر سمجھتے پھر بھی نہیں۔میں نے تمہیں سمجھایا اور روکا تھا، مگر تم رکے پھر بھی نہیں۔ “

 

“ آئندہ ایسا نہیں ہوگا، امی “۔اس نے وعدہ کرتے ہوئے کہا۔

 

“دیکھو فاروق، آج شہر کے بہت سے علاقوں میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔فائرنگ ہوئی۔ چھری، چاقو اور ڈنڈوں سے لوگوں کو زخمی کیا گیا۔کچھ لوگ ہلاک بھی ہوئے۔اسی لیے حکومتِ وقت نے شہر کے بہت سے علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے “۔

 

کرفیو کا لفظ فاروق کے لیے نیا نہیں تھا۔ وہ چند مرتبہ پہلے بھی یہ لفظ اپنے والد سے سن چکا تھا۔مگر وہ اس لفظ کے معنی و مفہوم سے مکمل طور پر نا آشنا تھا۔اس نے اپنے ذہن میں اس کے الگ ہی معنی طے کر رکھے تھے۔

 

“ ابو۔۔۔یہ کرفیو کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ “ اسنے جھجھکتے جھجھکتے یہ سوال پوچھ لیا۔

 

“ کرفیو کا مطلب۔۔ کرفیوجہاں بھی لگایا جاتا ہے۔ وہ علاقے فوج کے حوالے کردیے جاتے ہیں۔ فوج گلی، محلوں اور بازاروں میں گشت کرنے لگتی ہے۔عام لوگوں کے گھروں سے نکلنے پر پابندی عائدکر دی جاتی ہے۔جو شخص بھی اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گھر سے نکلتا ہے، اسے سزا دی جاتی ہے۔ ملک کے عام شہری کے تمام حقوق عارضی طور پر معطل کردیے جاتے ہیں “۔

 

“ مگر فوج کا کام تو سرحدوں کی حفاظت کرنا ہوتا ہے، ابو۔ ہمارے گلی، محلوں اور بازروں میں اس کا کیا کام؟ “

 

“ دوسرے ملکوں کی فوجیں اپنی سرحدوں کی حفاظت کرتی ہیں۔ ہماری فوج نے سرحدوں کے ساتھ ساتھ گلی، محلوں اور بازاروں کی حفاطت کی ذمہ داری بھی اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھی ہے۔بہر حال تم ابھی بہت چھوٹے ہو، یہ باتیں نہیں سمجھوگے۔تمہیں جو کہا جارہا ہے تم صرف اسی پر عمل درآمد کرو۔سمجھے۔ “

 

فاروق اپنے والد کی کچھ باتیں سمجھا اور کچھ نہیں سمجھا، مگر پھر بھی اس نے تائید میں اپنا سر اس طرح ہلایا، جیسے وہ سب کچھ سمجھ گیا ہو۔

 

“اچھی طرح سن لو اور سمجھ لو فاروق۔ اب جب تک کرفیو لگا ہواہے، تمہارے گھر سے باہر جانے پر مکمل پابندی ہے۔اب تم جاؤ اور جا کر اچھی طرح اپنے ہاتھ پاؤں اور منہ دھوؤ۔ کچھ دیر میں کھانا تیار ہوجائے گا۔ جاؤ۔ “ فاروق کے کمرے سے باہر جانے کا انتظار کیے بغیر اس کی والدہ اپنے شوہر سے مخاطب ہوئیں۔ “کرفیو ختم ہوتے ہی سب بچوں کے اسکول میں داخلے کروائیں۔گھر میں رہ رہ کر یہ سارا پڑھا لکھا بھول گئے ہیں۔ چھوٹے دونوں تو دن بھر لڑتے رہتے ہیں۔ ان کی شکایتیں اور آپس کی لڑائیاں ختم ہی نہیں ہوتیں “۔

 

فاروق کمرے سے باہے جانے ہی والا تھا کہ اس کے والد اس سے مخاطب ہوئے۔ “ فاروق “۔

 

“جی ابو “۔ اس نے رکتے ہوئے جواب دیا۔

 

“ بیٹا تم اپنے چھوٹے بھائیوں کو چند گھنٹے بیٹھ کر پڑھایا کرو۔ تم بڑے ہو اور ان سے زیادہ سمجھ دار بھی ہو “۔

 

“ یہ خود تو پڑھتا نہیں، انہیں کیا پڑھائے گا “۔

 

“ پڑھاؤں گا، امی۔ ضرور پڑھاؤں گا “۔ زیرِ لب مسکراتے ہوئے وہ کمرے سے چلا گیا۔

 

کمرے سے نکلنے کے بعد اس نے سکھ کا سانس لیا مگر اس کے والد کی کہی ہوئی باتیں اس کے ذہن میں گھوم رہی تھیں۔وہ انہیں مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر تھا۔ اس نے جو کچھ بازار میں دیکھا تھااور وہاں اس پر جو کچھ بیتاتھا، وہ اب تک اسے بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔وہ کون لوگ تھے،جو ڈنڈے ہاتھوں میں اٹھائے زبردستی دوکانیں بند کروا رہے تھے؟ اور فوج، کیوں گلی محلوں تک چلی آئی تھی؟ جب کہ ان کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا تھا۔اس کے ذہن میں یہ سب سوال بگولوں کی طرح کی چکر کاٹ رہے تھے۔ اسے واضح طور پر یہ محسوس ہو رہا تھا کہ اس صورتِ حال کو اس نے اپنے تئیں جس طرح قیاس کر رکھا تھا، یہ اس سے کہیں زیادہ گھمبیر تھی، اور اس صورتِ حال کا بہت بڑا حصہ اس کے لیے مکمل طور پر ناقابلِ فہم تھا۔وہ اسی الجھن میں مبتلا جب اپنے کمرے میں داخل ہوا، تو اس کے چہرے پر طاری سنجیدگی کو دیکھ کر اس کے چھوٹے بھائی یہ سمجھے کہ اسے زور کی ڈانٹ پڑی تھی اور اسی لیے اس کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ انہوں نے بڑے بھائی سے گفتگو سے احتراز کیا۔وہ بھی ان سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا اور ناگاہ دوکان سے خرید کر لانے والے رسالوں کی ورق گردانی کرنے لگا۔
فاروق نے رات کھانا سب کے ساتھ مل کر کھایا۔ اس دوران اس کے والد نے انہیں یقین دلایا کہ حالات معمول پر آتے ہی وہ ان تینوں کو فوراً کسی اچھے اسکول میں داخل کروادیں گے۔ان کی حالات معمول پر آنے کی بات فاروق نہیں سمجھ سکا۔اسے یہ جاننے کی کرید ہوئی کہ آخر ایسا کیا ہوگیاکہ حالات اپنے معمول سے ہٹ گئے۔اس نے اپنے والد سے اس بارے میں چند سوالات کیے، جن کے اسے تسلی بخش جوابات نہیں مل سکے۔اس کے ذہن میں پہلے سے موجود خلجان میں کچھ اور اضافہ ہوگیا۔

 

کھانے کے کچھ دیر بعد والدہ کی جانب سے سونے کا حکم صادر ہوا۔اس کے دونوں بھائی ایک پلنگ پر لیٹ گئے، جب کہ فاروق الگ پلنگ پر جا لیٹا۔اس کی والدہ انہیں تاکید کرنے کے بعد کمرے کی بتی بجھا کر چلی گئیں۔فاروق بستر پر لیٹا کروٹیں ہی بدلتا رہا۔اس کے ذہن میں شام کو بازار میں پیش آنے والا واقعہ، اپنی تمام جزئیات کے ساتھ گھومنے لگا۔اس نے اُس خوف کی ہلکی سی آنچ کو بھی محسوس کیا،جو اس وقت اچانک اس کے سارے وجود پر محیط ہوگئی تھی اور جس نے اسے جان بچانے کی خاطر بازار سے بھاگنے پر اکسایا تھا۔ وہ حیران تھا کہ اس کے قدم کس طرح اس کے وجود کا بوجھ اٹھائے اسے موت کے خطرے سے بچانے کی خاطر خود بہ خود حرکت میں آگئے تھے۔ایک خیال، جسے وہ لاشعوری طور پر شام سے دبائے جارہا تھا، اس وقت خود ہی اپنا سر اٹھانے لگاتھا، وہ یہ کہ اسے وہاں سے بھاگنا نہیں چاہیے تھا۔ اسے وہیں کہیں چھپ کر سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہیے تھا۔شاید اس طرح وہ اُن ڈنڈہ بردار لوگوں اور فائرنگ کرنے والوں کے بارے میں زیاد ہ جان لیتا،جن کے بارے میں جاننے کا وہ شدت سے متمنی تھا۔

 

کمرے میں تاریکی تھی مگر اس کی آنکھیں اس تاریکی سے اتنی مانوس ہوچکی تھیں کہ اب کمرے کی ہر چیز دکھائی دے رہی تھی۔اس کے چھوٹے بھائی کچھ دیر پہلے گہری نیند سوچکے تھے، مگر اس کے ذہن میں جاری کشمکش اسے نیند سے دور لیے جارہی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ عمران سیریز کی کہانیوں میں پوری سیکریٹ سروس دشمن ممالک کے اخفیہ ا یجنٹوں کے عزائم خاک میں ملانے کے لیے اپنی جان بھی داؤ پر لگا دیتی ہے۔مگر ہماری فوج ہمارے ہی خلاف سڑکوں پر نکل آئی تھی اور اس نے لوگوں کے گھروں سے نکلنے پر بھی پابندی لگادی تھی۔ ایسا کیوں ہو رہا تھا؟ وہ اس عقدے کا حل ڈھونڈتے ڈھونڈتے نیند کے خمار میں کھونے لگا۔ پہلے کچھ دیر وہ جماہیاں لیتا رہا، پھر اس کی آنکھیں خود بہ خود مندتی چلی گئیں۔

 

اگلے روز وہ اپنے والدین اورچھوٹے بھائیوں سے چھپ چھپ کر چھت کا چکر لگاتا رہا۔ ہر باروہ دبے پاؤں چھت پر جاکر اپنی گلی کے سامنے واقع ساری گلیوں کو ملانے والی گلی کی طرف کچھ دیر دیکھتا اور مایوس ہو کر واپس چلا جاتا۔وہ ساری گلیوں کو ملانے والی گلی میں جو منظر دیکھنا چاہتا تھا، وہ اسے آدھا دن گزرنے کے باوجود دکھائی نہیں دیا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد جب اس کے والدین اور چھوٹے بھائی قیلولے کے لیے اپنے بستروں پر دراز ہوئے، تو اسے چھت پر جانے کا ایک اور موقع مل گیا۔ تیز دھوپ میں وہ چھت پر کھڑا گلی کی طرف دیکھتا رہا۔

 

اچانک اسے ساری گلیوں کو ملانے والی گلی کی طرف سے مائیکرو فون پر سنائی دیتی مبہم سی ایک آواز اور اس کے ساتھ ساتھ ایک گھڑ گھڑاہٹ بھی سنائی دینے لگی۔جسے سن کر فاروق سمجھ گیا، کہ اس کی خواہش پوری ہونے والی تھی۔ مائیکرو فون پر سنائی دیتی آواز دھیرے دھیرے ایک اعلان یا تنبیہ کی صورت اختیار کر نے لگی، جس میں شہریوں کو اپنے گھروں میں بند رہنے کا حکم دیا جارہا تھا اور اس حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں انہیں سخت سزا کی دھمکی دی جارہی تھی۔یہ آواز جوں جوں قریب آتی گئی، اس کا سخت اور دوٹوک قسم کالب و لہجہ واضح ہوتا چلا گیا۔اس کے ساتھ ہی سنائی دینے والی گھڑ گھڑاہٹ بھی نزدیک سے نزدیک تر آتی گئی۔

 

قریب آتی درشت لہجے کی آواز اور گھڑگھڑاہٹ سن کر فاروق کے بدن میں ایک سنسنی سی دوڑنے لگی۔وہ صبح سے جو منظر دیکھنے کا بے چینی سے منتظر تھا، اب وہ اس کے سامنے رونما ہونے والا تھا۔اس نے دل ہی دل میں اپنی جگہ سے نہ ہٹنے کا پختہ عزم کر لیا۔

 

اگلے ہی لمحے ساری گلیوں کو ملانے والی گلی میں ہلکے سبز رنگ کا ٹرک نمودار ہوا، جس کی اگلی سیٹ پر بیٹھا ہوا ڈرائیور اسے آہستگی سے چلا رہا تھا۔جب کہ اس کے پچھلے حصے میں دو فوجی کھڑے تھے۔ ان میں سے ایک مائکرو فون ہاتھ میں لیے بار بار ایک ہی اعلان دوہرا تھا، جب کہ دوسرا اپنے ہاتھوں میں رائفل پکڑے چوکس کھڑا گردوپیش کا جائزہ لے رہا تھا۔ آس پاس کی تمام چھتیں ویران پڑی تھیں۔ تمام گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں بند تھے۔وہاں فاروق اور ان کے سوا کوئی موجود نہیں تھا۔

 

اچانک الرٹ کھڑے رائفل بردار کی تیز نظر فاروق پر پڑی۔اس نے گھور کر اسے دیکھا اور اسے چھت سے جانے کا اشارہ کیا۔فاروق اس کے اشارے پر ٹس سے مس نہ ہوا تو مائیکرو فون بردار درشت لہجے میں اس سے مخاطب ہوا۔ “چھت سے نیچے چلے جائیں، ورنہ گولی ماردی جائے گی “۔مائیکرو فون والے نے جیسے ہی یہ جملے ادا کیے، رائفل بردار نے اپنی رائفل کا رخ فاروق کی طرف کردیااو ررائفل کے ٹریگر پر اپنی انگلی مضبوطی سے جما دی۔

 

ان کا جارحانہ رویہ دیکھ کر فاروق فوراً سراسیمگی سے چھت کی دیوار کے نیچے بیٹھ گیا اور بیٹھے بیٹھے اپنے پیروں پر حرکت کرتا ہوا دیوار سے پرے ہٹنے لگا اور دھیرے دھیرے آگے بڑھتا جا کرزینے کی سیڑھیوں پر بیٹھ گیااور کان لگا کر مائیکرو فون سے سنائی دینے والی آواز اور ٹرک کی گھڑ گھڑاہٹ سنتا رہا، جو اب دھیرے دھیرے دور جاتی ہوئی لگ رہی تھی۔ٹرک کی گھڑگھڑاہٹ تو کچھ ہی دیر میں معدوم ہوگئی جب کہ مائیکرو فون سے سنائی دینے والی درشت آواز کچھ وقت تک سنائی دیتی رہی۔جب وہ بھی سنائی دینا بند ہوگئی تو فاروق سیڑھیوں سے اٹھا اور دھیرے دھیرے چلتا ہوا دیوار کے پاس گیا اور جھانک کر گلی میں دیکھنے لگا۔ٹرک وہاں سے جا چکا تھا مگر اس کا دکھائی نہ دینے والا ہیولا وہیں گلی میں کھڑا تھر تھرا رہا تھااورمائیکرو فون سے نکلتی سخت اور کٹھور آواز اب مکانوں کے درودیوار سے اپنا سر ٹکرا رہی تھی۔اگلے چند لمحوں میں بعض گھروں کی کچھ کھڑکیاں کھلیں اور ان میں سے متجسس اور سراسیمہ آنکھیں جھانک جھانک کر باہر کی ٹوہ لینے لگیں۔کچھ دیر پہلے ان بند کھڑکیوں کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا، جیسے یہ برسوں سے کھلی ہی نہ ہوں۔یہ سارا منظر دیکھ کر فاروق دل برداشتہ سا ہو کر دیوار سے پیچھے ہٹ گیا اور آہستہ آہستہ چلتا زینے کی طرف بڑھنے لگا۔سیڑھیاں اترتے ہوئے اس کے کم سن دماغ پر عجب طرح کے اور بھانت بھانت کے خیالات نے یورش کردی۔وہ ان کے بارے میں غوروفکر کرنے کے لیے تو تیا رتھا مگر خیالوں کی اس گتھی کو سلجھانا قطعی طور پر اس کے بس سے باہر تھا۔

 

وہ کمرے میں پہنچ کر اپنے پلنگ پر لیٹ گیا اور کروٹ لے کر اپنے چہرے کو تکیے میں دبا دیا۔قریب ہی ایک اور پلنگ پر اس کے دونوں چھوٹے بھائی آڑے ترچھے گہری نیند سو رہے تھے۔ان کے والدین نے انہیں دوپہر کے کھانے کے بعد قیلولے کی عادت ڈال دی تھی۔ آج فاروق کے لیے دن کے اس پہرقیلولہ کرنا ناممکن ہو گیا تھا۔وہ تکیے میں اپنا چہرہ دبائے دھیمے دھیمے سانس لیتا سوچ رہا تھاکہ وہ چھوٹے شہر میں رہتے ہوئے بڑے شہر کی جو عجیب و غریب کیفیت یا حالت دیکھنے کے لیے مچلا کرتا تھا، اب وہ کسی حد تک اس کے روبرو آچکی تھی، اوراتنی روبرو کہ کچھ دیر پہلے وہ چھت پر اس سے آنکھیں بھی ملا چکا تھا۔اسے اندازہ ہونے لگا تھا کہ بڑے شہر پر اچانک جس دیو کا سایہ پھر جاتا تھا، وہ دیو، ہمالہ یا ہندوکش کے دامن میں نہیں بلکہ اسی بڑے شہر کے بیچوں بیچ رہتا تھا۔ اڑن طشتری جیسی گاڑیوں پر مشتری کی مخلوق نہیں بلکہ ہمارے دیس کے محافظ سفر کرتے تھے۔خلائی مخلوق جیسے لباس میں اجنبی زبان بولنے والوں کا تعلق، کسی دوسرے سیارے سے نہیں بلکہ اسی ملک کے بالائی علاقوں سے تھا۔فاروق کو یہ احساس شدت سے مایوس کر رہا تھا کہ اس نے اپنی دیوارِ خیال پر جو تصویریں بنائی ہوئی تھیں، بڑے شہر کی حقیقت کے سامنے وہ سراسر بودی اور مضحکہ خیز نکلیں، اور صرف یہی نہیں بلکہ اس حقیقت نے اس کے دل و دماغ پر خوف اور دہشت کا دبیز غلاف چڑھانے بھی کوشش کی تھی۔ وہ خوف اور دہشت کے اس غلاف کو نوچ کر پھینکنا چاہتا تھا، کیوں کہ اسے دل پر دھاک بٹھانے والے یہ دونوں جذبے پسند نہیں تھے۔چند روز بیشتر بازار میں اور آج دوپہر چھت پر پیش آنے والے واقعے نے اس کے ذہن میں بسی ہوئی فینتاسی کو چکنا چور کردیا تھا۔اس کی فینتاسی کی کرچیاں اس کے خیال و احساس کی دنیا کو لہو لہان کر رہی تھیں کیوں کہ حقیقت بہت ثقیل اور سنگ لاخ تھی۔اسے اس حقیقت کے آگے اپنا سر نگوں کردینا چاہیے تھا، اسے تسلیم کرلینا چاہیے تھا، مگر یہ کیا؟۔ فاروق نے لمبی سانس لیتے ہوئے کروٹ بدلی اور سوچنے لگا۔ مگر یہ کیا؟ اس کے مزاج کی خود سری اسے اس حقیقت کے سامنے سر جھکانے سے روک رہی تھی۔اسے کسی آشفتہ سری پر اکسا رہی تھی۔مگر وہ آشفتہ سری آخر تھی کیا؟ اور اس کے لیے اسے کیا کرنا تھا۔ وہ سوچتا ہی رہ گیا اور اسے اپنے ذہن پر چھائی دھند اور گردوغبار میں سے کوئی راستہ سجھائی نہیں دے سکا۔

 

فاروق کے گھر والوں نے اگلے دوروز شدید بیزاری اور کوفت کے ساتھ گزارے،کیوں کہ گھر سے باہر نکلنے پر پابندی عائد تھی۔ان سب کے لیے ایسی پابندی سے گزرنے کا یہ پہلا تجربہ تھااور یہ ان پر زبردستی مسلط کیا گیاتھا۔اس لیے اس چھوٹے سے کنبے نے بے زاری اور کوفت سے بھرے ہوئے یہ گزارنے کے لیے راشن بھی جمع نہیں کیا تھا۔

 

عام دنوں میں اس کے والد سارا دن اپنے دفتر میں گزارنے کے عادی تھے، مگر اب سارا دن گھر پر گزارتے ہوئے انہیں وقت رکا رکا سا محسوس ہونے لگا تھا۔وہ اکثر کھانے کے دوران بڑبڑاتے ہوئے کسی کانے دجال کو برا بھلا کہتے رہتے، جو ملک کے کسی وزیرِ اعظم کو پھانسی پر لٹکا کر خود اس ملک کا حاکم بن بیٹھا تھا۔ان کی یہ باتیں اکثر فاروق کی سمجھ میں نہ آتیں، مگر وہ ان باتوں میں عجیب سی دلچسپی ضرور محسوس کیا کرتا۔فاروق کی والدہ کی تشویش بڑھنے لگی کیوں کہ گھر میں چائے بنانے کے لیے اور پینے کے لیے دودھ ختم ہوچکا تھا۔ سبزی ترکاری تو دودن پہلے ہی کھپ چکی تھی۔وہ دو روز سے دالیں اورفرج میں رکھے ہوئے گوشت کی مدد سے کھانا بنا رہی تھیں، لیکن اب وہ چیزیں بھی اپنے خاتمے کے قریب پہنچ چکی تھیں۔ اسی لیے انہیں فکر لاحق ہو نے لگی تھی کہ اگر یہ کرفیو کچھ اور دن تک کسی وقفے کے بغیریوں ہی چلتا رہا تو گھر میں فاقوں کی نوبت بھی آسکتی تھی۔فاروق نے مشاہدہ کیا کہ اس کی والدہ اس کے والد سے کچھ خائف رہنے لگی تھیں۔ والدہ کے خیال میں ان کے والد کواپنا تبادلہ بڑے شہر ہونے سے رکوانے کے لیے اپنی تمام کوششیں بروئے کار لانی چاہئیں تھیں۔

 

گزرنے والے یہ دودن فاروق پر بھی بہت بھاری گزرے تھے۔اسے گھر میں بند ہو کر رہنا سخت دشوار لگ رہا تھا۔اس نے کتابوں کی دوکان سے خریدے ہوئے دونوں ڈائجسٹ چاٹ ڈالے تھے۔اسے نِک ویلیٹ کی چوریوں اور چارلس سوبھراج کی شعبدہ بازیوں پر مشتمل کہانیاں پسند آئیں تھیں۔ان دو دنوں میں کہانیاں پڑھنے کے علاوہ گلی سے سنائی دینے والی آوازوں کو کان لگا کر سننابھی اس کا محبوب مشغلہ رہا تھا۔اس دوران اسے جب بھی ٹرک کی گھڑ گھڑاہٹ اور مائیکرو فون والی درشت آواز سنائی دی، وہ خود کو چھت پر جانے سے نہیں روک سکا، مگر ہر بار چھت پر جاکر اسے مایوسی ہوئی، کیوں کہ ہر بار اسے ٹرک کی گھڑ گھڑاہٹ اور مائیکروفون کی آواز گردوپیش کی گلیوں سے آتی سنائی تو دی مگر وہ ٹرک اسے پھر نظر نہیں آیا۔دوسری دوپہر جب اس کے گھر کے سب لوگ قیلولہ کرنے کے لیے بستروں پر دراز ہوئے تو فاروق کو گھر سے باہر جانے کا خیال آیا۔ وہ اپنے چھوٹے بھائیوں کو بستر پر سویا چھوڑ کر دبے پاؤں کمرے سے نکلا۔وہ جانتا تھا کہ اس کے گھر میں داخل ہونے اور نکلنے کے دو راستے تھے۔ایک تو مرکزی پھاٹک تھا جو سیدھا سامنے والی گلی میں کھلتا تھا، دوسراعقبی دروازہ تھا جو پیچھے کی گندی گلی میں کھلتا تھا۔ اسے اندیشہ تھا کہ سامنے والی گلی سے نکلتے ہوئے اسے کوئی محلے دار دیکھ سکتا تھا، اسی لیے اس نے عقبی گلی والے راستے کو ترجیح دی۔ وہ دھیرے دھیرے چلتا عقبی دروازے تک پہنچا اور احتیاط کے ساتھ اس کی کنڈی کھولنے لگا۔کنڈی کھول کر اس نے گلی میں جھانکاتووہاں کوئی ذی روح موجود نہیں تھا۔فاروق کو اندازہ ہوا کہ یہ گندی گلی آگے جاکر ساری گلیوں کو ملانے والی گلی سے مل جاتی تھی۔

 

ابھی فاروق وہاں کھڑا جھانک ہی رہا تھا کہ اچانک کسی گاڑی کے گزرنے کا شور سا سنائی دیا۔ اس نے دیکھا ایک جیپ فراٹے بھرتی ساری گلیوں کو ملانے والی سے گزری۔اس جیپ کا رنگ بھی ہلکا سبز تھا، اور اس کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہوئے شخص نے بھی اسی رنگ کا چست لباس پہن رکھا تھا اور سر پر ٹوپی لگا رہی تھی۔ اس کی ذرا سی جھلک میں فاروق کو بس اتنا ہی دکھائی دے سکا۔جیپ کے گزر جانے کے وہ کچھ دیر تک عقبی دروازے سے لگا ہوا سوچتا رہا کہ وہ باہر جائے کہ نہ جائے۔اس نے باہر جانے کا فیصلہ موخر کرتے ہوئے دروازہ بند کردیا اور آہستگی سے قدم اٹھاتا ہوا اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔

 

اس روز رات کے کھانے کے دوران اس کی والدہ نے اس کے والد کو آگاہ کیا کہ گھر میں موجود سامان کی مدد سے صرف ایک دن اورگزارا جاسکتا تھا۔ یہ سنتے ہی والد کی پیشانی کی لکیر گہری ہوگئی مگر انہوں نے کچھ سوچتے ہوئے اس کی والدہ کو تسلی دی کہ کل یا پرسوں تک کرفیو میں کچھ نرمی ہونے کی امید تھی۔ ہوسکتا تھا کہ ایک یا دوگھنٹوں کے لیے کرفیو میں نرمی کردی جائے۔ یہ جواب سن کر اس کی والدہ مطمئن نہ ہوئیں بلکہ کہنے لگیں، کہ اگر ایسا نہ ہوا۔۔ تو؟ ان کی اس “تو “ کا والد صاحب کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔وہ سر جھکا ئے چپ چاپ کھانے میں مصروف رہے۔ ان کے چہرے پر فاروق نے ایک ایسی کیفیت دیکھی، جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔وہ اس کیفیت کو کوئی نام نہیں دے سکتا تھا بلکہ صرف اسے محسوس کرسکتا تھا۔ اسی لیے اسے محسوس کرتے ہوئے اس کا دل کٹ کر رہ گیا۔اس کی بھوک اچانک غائب ہوگئی۔وہ بے دلی سے نوالے چبانے لگا۔اسے رہ رہ کر یہ خیال تنگ کرنے لگا کہ گھر میں صرف ایک دن کے کھانے کا سامان باقی بچا تھا، جو کل تک ختم ہوجائے گا۔ پرسوں وہ لوگ کیا کریں گے؟ انہیں بڑے شہر منتقل ہوئے چند ہی روز ہوئے تھے۔ابھی اہلِ محلہ انہیں جانتے پہچانتے نہیں تھے۔اس لیے کسی سے مدد مانگنا بھی ناممکن تھا۔اگر کسی سے مدد مانگ بھی لی جاتی تو یہ ضروری نہیں تھا کہ امداد مل بھی جاتی۔

 

کچھ دیر بعد جب اس کے والد ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے دستر خوان سے اٹھے تو اسے ان کے چہرے پر گہری پرچھائیں دکھائی دی۔ وہ سر جھکائے چلتے ہوئے لاؤنج میں گئے اور ٹی وی آن کرکے اس کے سامنے بیٹھ گئے۔ نو بجے کا خبر نامہ شروع ہونے میں کچھ ہی دیر تھی۔فاروق بھی دستر خوان سے اٹھ کر ان کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔کچھ ہی دیر میں خبر نامہ شروع ہوگیا۔دونوں باپ بیٹے تجسس سے خبریں سننے لگے۔

 

فاروق یہ آس لگائے بیٹھا تھا کہ اس خبر نامے میں، بڑے شہر کے جن علاقوں میں کرفیو لگایا تھا، وہاں سے کرفیو اٹھانے یا ختم کرنے کی خبر بھی نشر کی جائے گی۔وہ یہی آس لے کر شروع سے آخر تک سارا خبرنامہ سنتا اور دیکھ تا رہا،مگراسے ایسی کوئی خبر سنائی اور دکھائی نہیں دی۔خبریں ختم ہونے پر وہ اپنے والد سے مخاطب ہوا۔ “ ابو، ان خبروں میں تو کرفیو ہٹانے کی کوئی خبر تھی ہی نہیں “۔اس نے یہ بات کہتے ہوئے اپنے والد کی طرف دیکھا تو وہ اسے پریشانی کے عالم میں اپنی شہادت کی انگلی کا ناخن چباتے ہوئے دکھائی دیے۔اس نے اپنے والد کو اس سے پہلے کبھی انگلی کا ناخن چباتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔یہ دیکھ کر وہ اپنی کہی ہوئی بات بھول گیا۔ایک بار پھر اسے اپنے دل کے کٹنے کا احساس ہوا۔اس نے چاہا کہ وہ اسی لمحے اپنے والد کے سینے سے لگ جائے اوردھاڑیں مار مار کر رونا شروع کردے۔ مگر وہ ایسا نہیں کرسکا۔ کچھ دیر بعد اس کے والد نے اٹھ کر ٹی وی بند کردیا اور اسے اپنے کمرے میں جاکر سونے کا حکم دیتے وہ اپنے کمرے کی جانب چلے گئے۔اسے بھی نہ چاہنے کے باوجود وہاں سے اٹھ کر جانا ہی پڑا۔

 

اس کے چھوٹے بھائی اپنے بستر پر اودھم مچا کر کچھ دیر پہلے سوچکے تھے۔وہ دھیرے سے چلتا اپنے تاریک کمرے میں آیا اور اپنے پلنگ کو ٹٹولتا اس پر بیٹھ گیا۔اس کی نظروں میں اپنے والد کا اداس چہرہ بسا ہوا تھا۔وہ ان کے چہرے پر معمول کا خوش باش اور آسودہ تاثر دیکھنے کا تمنائی تھا۔وہ انہیں ہمیشہ کی طرح بے فکر اور مطمئن دیکھنا چاہتا تھا۔اسے رہ رہ کر یہ احساس ستانے لگا کہ یہ سب محض تمنا کرنے یا چاہنے سے ممکن نہیں ہوسکتا تھا۔یہ سب ممکن بنانے کے لیے اسے کچھ کرنے کی ضرورت تھی۔اسے کیا کرنے کی ضرورت تھی؟اس بارے میں اس کا ذہن اسے کوئی راستہ نہیں سجھا پا رہا تھا۔بیٹھے بیٹھے اس نے اپنا سر ہاتھوں میں تھام لیااور لمبی سانسیں لینے لگا۔کچھ دیر بعد اسے اپنے والدین کے کمرے سے ان کی باتوں کی دھیمی دھیمی لیکن مبہم سی آوازیں سنائی دینے لگیں۔کبھی اس کی والدہ کی شکایت بھری آواز نمایاں ہوتی اور کچھ دیر بعد معدوم ہو جاتی۔پھر اس جواب دیتی اس کے والد کی آواز ابھرتی۔ فاروق اپنے بچپن سے یہ آوازیں سننے کا عادی تھا۔وہ اکثر سوچا کرتا تھا کہ اس کے والدین گہری نیند سونے کے بجائے رات گئے تک آپس میں یہ کیا کھسر پھسر کرتے رہتے تھے۔آج اسے ان کی اس کھسر پھسر کا حقیقی مفہوم کسی حد تک سمجھ آرہا تھا۔وہ سوچنے لگا کہ وہ یقیناً اپنے کنبے کو درپیش پریشان کن صورتِ حال کے بارے میں تبادلہ خیال کر رہے ہوں گے۔وہ بھی اس کی طرح اس صورتِ حال سے نکلنے کا راستہ تلاش کررہے ہوں گے۔۔۔ راستہ؟۔۔سوچتے سوچتے فاروق پلنگ پر دراز ہوگیا۔اس کے سر میں درد ہونے لگا تھا اور اس کے پپوٹے بھاری ہونے لگے تھے۔دفعتاً اسے گلی کی جانب سے گھڑگھڑاہٹ سنائی دینے لگی۔یہ گھڑ گھڑاہٹ اب اس کے لیے اجنبی نہیں رہی تھی۔ وہ گزشتہ پانچ چھ دنوں میں اس سے بہت مانوس ہوچکا تھا، مگر آج اسے سنتے ہی نجانے کیوں اس کے وجود کے ہر حصے میں ایک سنسنی سی دوڑنے لگی۔اسے اپنے خون کی گردش تیز ہوتی محسوس ہوئی اور اس کے ساتھ ہی اس کی سانسوں کی رفتار بھی تیز تر ہونے لگی۔چند لمحے قبل اس کے سر میں ہونے والا درد بھی غائب ہوگیااور اس کے پپوٹوں سے بوجھل پن بھی ختم ہوگیا۔اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ اسی لمحے ایک پتھر ہاتھ میں اٹھائے دوڑتا ہوا اپنی چھت پر جائے اور جس سمت سے گھڑگھڑاہٹ کی یہ آواز سنائی دے رہی تھی، وہ پوری قوت سے پتھر اسی جانب پھینک دے۔

 

لیکن وہ اپنے پلنگ پر بے حس وحرکت لیٹا رہا۔حتی کہ سنائی دینے والی گھڑ گھڑاہٹ دھیرے دھیرے معدوم ہوگئی اور پلنگ پر لیٹے لیٹے فاروق کے وجود میں پیدا ہونے والی سنسنی بھی ختم ہونے لگی۔ اسکے دل کی دھڑکن اپنے معمول پر آنے لگی اور اس کے پپوٹے ایک بار پھر نیند سے بوجھل ہونے لگے۔

 

اس کنبے کے لیے یہ صبح گزشتہ تمام صبحوں سے مختلف تھی۔اگر چہ اس صبح بھی آس پاس کے مکانوں اور گلیوں پر پچھلے چند دنوں جیسا سکوت چھایا تھا اور پچھلے چند دنوں کی طرح آج کی صبح کا آغاز بھی چڑیوں اور لالڑیوں کی اداس چہچہاہٹ سے ہوا تھا۔فاروق کی والدہ حسبِ معمول سب سے پہلے نیند سے جاگیں اور غسل خانے سے وضو کرکے باہر نکلیں۔ انہوں نے گھر کے صحن میں مُصلی بچھا کر فجر کی نماز کی ادا کی۔ نماز کے بعد انہوں نے مصلے پر بیٹھے بیٹھے اپنے رب سے دعائیں مانگیں۔امن و آشتی کی دعائیں اور کشادہ رزق عطا کرنے کی دعائیں۔ مصلی سمیٹنے کے بعد یہ دیکھ کر کہ گھر کے سب لوگ ابھی تک گہری نیند سو رہے تھے، وہ دوبارہ کچھ دیر کے لیے اپنے بستر پر دراز ہو گئیں۔ کچھ دیر بعد جب فاروق کے والد جاگے، تو وہ بھی اٹھ کر باورچی خانے چلی گئیں۔
فاروق اور اس کے بھائیوں کو بیدار ہونے پر ان کی والدہ نے انہیں جو چائے پینے کے لیے دی وہ دودھ کے بغیر تھی۔فاروق گزشتہ چند دنوں سے اس چائے کا عادی ہوتا جا رہا تھا،اس لیے اس نے بے چون و چرا سلیمانی چائے کا کپ اٹھا لیا اور سڑپے لینے لگا۔ جب کہ اس کے چھوٹے بھائیوں کو گزشتہ دنوں کی طرح آج بھی یہ چائے پینے میں تامل تھا۔ وہ دونوں اپنی ناک بھوں چڑھاتے ہوئے سلیمانی چائے پینے لگے۔منجھلے نے تو صرف دو گھونٹ لے کر ہی اپنی پیالی چھوڑدیاوراس کی پیروی کرتے ہوئے چھوٹے نے بھی یہی کیا۔ان کی اس حرکت پر ان کی والدہ کو غصہ تو بہت آیا مگر وہ چپ رہیں۔ انہوں نے باورچی خانے جاکر خشک دودھ کا ڈبا اٹھایا اور اس کی تہہ میں چپکے ہوئے خشک دودھ کو چھری سے کھرونچنے لگیں۔اس کے بعد وہ دودھ لاکر انہوں نے منجھلے اور چھوٹے بیٹے کی پیالیوں میں ڈال کر اسے چمچ سے چائے میں حل کردیا۔ چائے کا بدلتا ہوا رنگ دیکھ کر وہ دونوں خوش ہوگئے۔ان کی خوشی دیکھ کر فاروق اور اس کی والدہ مسکرانے لگیں۔ماں بیٹا جانتے تھے کہ ان کے ہونٹوں پر آئی یہ مسکراہٹ عارضی تھی۔

 

حسبِ معمول سب لوگ دوپہر کے کھانے کے بعد قیلولے کے لیے اپنے کمروں میں بستروں پر دراز ہو گئے۔ فاروق اپنے چھوٹے بھائیوں کو بار بار سونے کی تنبیہ کرنے لگا، مگر وہ دونوں اس کی تنبیہ کو خاطر میں لائے بغیر ایک دوسرے سے باتوں میں مگن تھے۔منجھلا باتیں کرتے ہوئے چھوٹے کے سر پر ایک چپت لگاتا، جب کہ چھوٹا تلملاکراس کے چٹکی لے لیتا۔اتنے میں انہیں قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ وہ سمجھ گئے کہ ان کی والدہ آرہی تھیں۔فاروق سمیت تینوں آہٹ سنتے ہی اپنے بستروں پر سیدھے لیٹ گئے اور اپنی آنکھیں بھینچ کر سوتے بن گئے۔ان کی والدہ انہیں خوب سمجھتیں تھیں، اسی لیے اندر آتے ہی انہوں نے ان کے ناٹک کو سنجیدگی سے نہ لیا۔ وہ کمرے میں کھڑی ہو کر انہیں آخری وارننگ دینے لگیں اور اس کے چند لمحوں بعد وہ کمرے سے چلی گئیں۔ہمیشہ کی طرح ان کی وارننگ کا دونوں چھوٹوں پر فوری اثر ہوا۔ چند منٹ گزرتے ہی وہ سوگئے، مگر فاروق نہیں سویا۔کچھ دیر بعد اس نے آنکھیں کھول دیں اوروالدین کے کمرے سے سنائی دینے والی باتوں کے تھمنے کا انتظار کرنے لگا۔

 

فاروق گذشتہ روز سے ایک عجیب سی غلام گردشِ خیال میں بھٹک رہا تھا۔اس غلام گردش میں کمرے ہی کمرے ہی تھے، راہ داریاں ہی راہ داریاں تھیں۔ وہ بار بار ان کے درودیوار سے اپنا پٹخ رہا تھا۔ایک کمرے سے دوسرے اور ایک راہ داری سے دوسری میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا تھا۔وہ اپنے گھر والوں سمیت جس صورتِ حال کے زندان میں قید تھا، اس سے نکلنے کے راستے کا کوئی نقشہ اس کے پاس نہیں تھا۔ کیوں کہ یہ صورتِ حال باہر سے ان پر مسلط کی گئی تھی۔جن بازاروں میں انسانوں کی ضروریہ کا سامان بکتا تھا، وہ بند پڑے تھے۔ہسپتال، اسکول، دفاتر سب بند تھے۔گلیوں میں چلنے اور گھر سے نکلنے پر پابندی عائد تھی۔اور اس پابندی کو مسلط ہوئے آج تقریباً چھ دن ہو گئے تھے۔اس کی وجہ سے اس کا خاندان ایک المیے سے دوچار تھا۔اس کے والدین کے چہروں سے بے فکری اوراطمینان کا فور ہوچکا تھا۔وہ گھبرائے اور بولائے بولائے سے رہنے لگے تھے۔ان کی آنکھوں میں اداسیوں کے سائے گہرے ہوتے جا رہے تھے۔فاروق ان کی اداسی ختم کرنا چاہتا تھا۔ اس کے لیے اس صورتِ احوال پر چپ سادھے رہنا ناممکن ہو چکا تھا۔

 

فاروق دیوار کی طرف کروٹ لیے کچھ دیر تک سوچتا رہا۔اس کے والدین کے کمرے سے آوازیں آنی بھی بند ہوگئی تھیں۔یہ بھانپتے ہوئے وہ بستر سے اٹھا اور اپنے سلیپر پہن کر دبے پاؤں چلتا کمرے سے باہر چلا گیا۔اس نے اپنے سلیپر برآمدے میں رکھے ہوئے جوتوں کے اسٹینڈ پر رکھ دیے اور وہاں جوگرز شوز اٹھا لیے۔زینے کی سب سے نچلی سیڑھی پر بیٹھ کر اس نے موزے پہننے کے بعد جوتے پہنے۔یہ جوتے پہن کر چلتے ہوئے بے آواز رہتے تھے۔اور انہیں پہن کر چلتے ہوئے وہ خود کو سبک رو محسوس کرتا تھا۔وہ بیآواز قدموں سے چلتا ہوا باورچی خانے گیا اور وہاں درازوں میں رکھے ہوئے برتن ٹٹولنے لگا۔کیتلی میں اسے دوسو روپے کے دو نوٹ مل گئے۔ اس نے مسکراتے ہوئے وہ نوٹ اپنی جیب میں رکھ لیے اور باورچی خانے سے نکل گیا۔عقبی گلی کی طرف کھلنے والے دروازے کی دہلیز پر کھڑا وہ کچھ تک باہر جھانکتا رہا، پھردروازہ باہر سے بند کرکے وہ گلی کے خالی پن میں اتر گیا۔

 

تین بجے کا عمل تھا۔عام حالات میں بھی اس وقت ان گلیوں پر سناٹا طاری ہوتا تھا مگر اب سناٹے کے ساتھ خوف کی ایک پرچھائیں بھی موجود تھی، جو فاروق کے دل و دماغ پر تھرتھرا رہی تھی۔ وہ اُس پرچھائیں کی تھرتھراہٹ کو نظرانداز کرتا عقبی گلی میں قدم آگے بڑھانے لگا۔ جس مقام پر یہ عقبی راستہ ساری گلیوں کو ملادینے والی گلی سے جا ملتا تھا، وہاں پہنچ کر وہ ٹھہر گیااور دیوار کی اوٹ سے آگے کا منظر دیکھنے لگا۔یہ وہی جگہ تھی، جہاں سے گھڑ گھڑاتا ہوا ٹرک گزرتا تھا، مگر اس وقت یہ گلی مکمل طور پر خالی تھی۔ صرف ایک خارش زدہ کتا اپنا پاؤں اٹھائے ایک مکان کی دیوار سے لگا پیشاب کر رہا تھا۔وہ اس کتے کو نظر انداز کرتا آگے بڑھا۔

 

آگے بڑھ کر جب وہ اس مقام تک پہنچا، جہاں سے بازار کی طرف راستہ جاتا تھااوراُس روز جہاں اسے،دور سے ہی بازار کی رونق دکھائی دے گئی تھی،اُسے لگاآج وہاں واقعی کسی دیو کا سایہ پھر گیا تھا۔وہ اس راستے کے بیچوں بیچ کھڑا ہو کر کسی مخبوط شخص کی طرح بازار کی جانب دیکھنے لگا۔ نہ تو گاڑیوں کی ورک شاپ کھلی تھی اور نہ ہی فرنیچر کی ورک شاپ۔ان سے تھوڑی دور واقع ویڈیو سینٹرز بھی بند پڑے تھے۔اس سے آگے کا منظر بھی پوری طرح ویران تھا۔ایسی ویرانی اور ایسے سکوت کا مشاہدہ اس نے زندگی میں کبھی نہیں کیا تھا۔اس نے معاً دائیں جانب گلی میں ایک دوسرے سے لگ کر کھڑے ہوئے مکانات کی طرف ایک حیرانی سے دیکھااورسوچنے لگا۔ “ ہر مکان میں جیتے جاگتے لوگ رہتے ہیں مگر اِس پہر ان پر چھائی خاموشی محسوس کر کے کون کہہ سکتا ہے کہ ان میں زندہ لوگ بستے ہیں۔ “ اسے لگا کہ یہ سارے مکان کسی آسیب کے زیرِ اثر ہیں اور ان کے باسی کب کے انہیں چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

 

وہ اپنے خیالوں میں گم تھا کہ اسے بازار کی سمت سے “ زنن “کی عجیب سی آواز سنائی دی۔اس نے فوراً سامنے دیکھا تو بازار کی سڑک سے کوئی چیز زناٹے سے گزری۔اس کے تخئیل نے اسے سجھایا کہ وہ اڑن طشتری جیسی کوئی چیز تھی، مگر اسی لمحے اس کے تجربے نے اسے بتایا کہ وہ کوئی جیپ یا گاڑی تھی۔اس نے اپنے تخئیل کی شرارت کو رد کرکے اپنے تجربے کی بات مان لی۔اس دوران فاروق یہ اہم ترین چیز فراموش کیے رہا کہ وہ ایک نسبتاً کشادہ راستے کے بیچوں بیچ کھڑا تھا۔یہ اسے تب یاد آیا جب دوسری مرتبہ “زنن “ کی آواز سنائی دینے کے اگلے ہی ثانیے ہلکے ہرے رنگ کی جیپ بازار والی سڑک پر نمودار ہوئی اور بالکل اچانک اس نے اپنا رخ فاروق کی جانب کرلیا۔اب جس راستے پر وہ کھڑا تھا،اس کے ایک سرے پر جیپ تھی اور دوسرے سرے پر وہ موجود تھا۔تُرنت اس کے تن بدن میں ایک بجلی سی بھر گئی مگر اس بجلی نے اس کے ہوش و حواس یکسر غائب کردیے۔وہ دائیں گلی میں بھاگنے کے بجائے پیچھے کی طرف بھاگا۔ جیپ کے قریب آنے کے ساتھ اس کے پہیوں اور انجن کی آواز بھی اس کے نزدیک تر آنے لگی۔وہ راستہ اسے ایک نئی گلی میں لے گیا۔ اُ س گلی میں بھی اس نے سمت کے انتخاب میں سنگین غلطی کردی۔اب وہ ایک ایسی سمت دوڑ نے لگا،جس کے دوسرے سِرے کے بارے میں اسے کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔

 

کچھ آگے جا کر اس نے دوڑتے ہوئے گردن موڑ کر ذرا ساپلٹ کر دیکھاتو اسے وہ جیپ اپنی سمت آتی دکھائی دی۔وہ حواس باختہ ہوکر بھاگنے لگا۔ وہ بُری طرح ہانپ رہا تھا۔ اسے اپنے دل کی دھڑکن کانوں میں گونجتی، شور مچاتی محسوس ہورہی تھی۔ اس کا جسم سر تا پا پسینے سے بھیگ گیا تھااور اس کی قمیض اس کے بدن سے چپک گئی تھی، جس کی وجہ اسے گھٹن محسوس ہونے لگی تھی۔اِس سمت کے جس سِرے کی جانب وہ دوڑ رہا تھا وہ سرا اسے تھوڑے فاصلے پر واقع ایک سڑک تک لے گیا۔یہ سڑک اس وقت سنسان تھی۔وہ سڑک کے جس کنارے پر موجود تھا،وہاں ایک بڑی سی مسجد بنی ہوئی تھی۔دن کے اس پہر مسجد کے گیٹ پر بڑا سا تالا لگا ہوا تھا۔سڑک کے اُس پار اسے محکمہ ریل کے ملازمین کے لیے بنایا گیا پیلے رنگ کا ایک پرانا سا کواٹر دکھائی دیا۔اُس کواٹر کے ساتھ ایک چھوٹی سی پھلواری تھی اور اس پھلواری کے ساتھ اسے چھوٹے چھوٹے زردو سفید پتھروں سے اٹا اورمعمولی سی اونچائی کی طرف جاتا ایک راستہ دکھائی دیا۔وہ سوچے سمجھے بغیر سڑک عبور کرکے اس راستے کی طرف بھاگا۔ایک دو پتھروں سے اس کے پاؤں کو ٹھوکر لگی مگر وہ اس ٹھوکر کو خاطر میں نہیں لایااور دوڑتا چلا گیا۔
معمولی سی چڑھائی چڑھنے کے بعداسے اپنے عقب میں جیپ کے رکنے کی آواز سنائی دی۔ جیپ میں سے کوئی شخص اس پر چلایا۔ “ اوئے رک جا، نہیں تو۔۔ “۔ یہ آواز سن کر اس کا دل دہل گیا، مگر اس نے اپنے آپ کو پلٹ کر دیکھنے سے روکا اور اپنا قدم پوری قوت سے آگے بڑھایا۔نجانے کیوں اسے لگ رہا تھا کہ اگر اس نے اس لمحے مڑ کر دیکھا تو وہ اسی دم پتھر کا بت جائے گا۔

 

اس کی توقع کے یکسر بر خلاف اب اس کے سامنے ایک کشادہ منظر تھا۔اس کشاد ہ منظر میں ریلوے کی تین لائنیں، پلیٹ فارم، ریلوے لائن کا کانٹا تبدیل کرنے والاساؤتھ کیبن تو شامل تھا ہی، اس کے علاوہ ایک دو رویہ کشادہ شاہراہ بھی تھی، جو اس چھوٹے سے ریلوے اسٹیشن کے عقب سے گزر رہی تھی۔ اسے شاہرا ہ پر گاڑیاں رواں دواں دیکھ کر سخت حیرانی ہوئی۔وہ برق رفتاری سے چھلانگیں لگا تا، پٹڑیاں عبور کرتاسامنے والے پلیٹ فارم تک پہنچااور اسی رفتار سے دوڑتا ہوا ساؤتھ کیبن کے عقب سے نکل کر شاہراہ پر آگیا۔

 

اس نے شاہراہ کے کنارے ریلوے اسٹیشن کی مختصر دیوار کے ساتھ نیم اور سفیدے کے بلند قامت درختوں کا گھنا سایہ دیکھا تو اس کا دل کچھ دیر سستانے کو چاہا، مگرسستانے کے خیال کے ساتھ ایک سنگین خدشہ بھی جڑا ہوا تھا، جسے نظرانداز کرنا اس کے بس میں نہیں تھا۔وہ سوچ رہا تھا کہ کہیں وہ جیپ اڑن طشتری کی طرح چشمِ زدن میں درختوں کے گھنے سائے میں اس کے سامنے آکر کھڑی نہ ہوجائے، اور کہیں اس میں سوار شخص غیر انسانی لہجے میں چینخ کر اس سے مخاطب نہ ہوجائے۔ “اوئے رک جا، نہیں تو۔۔ “۔ اس خدشے کے پیشِ نظر اسے اپنا سستانے کا خیال ملتوی کرنا پڑااوروہ درختوں کے سائے کو نظر انداز کرتا ہواآگے بڑھنے لگا۔

 

وہ جوں جوں قدم بڑھاتا گیا، شاہراہ کے اُ س پار کھلی ہوئی دوکانیں دیکھ کر اس کی حیرت دوچند ہوتی چلی گئی۔یہ بات اس کے لیے مکمل طور پر ناقابلِ فہم تھی کہ ریلوے لائن کے اُس طرف والے علاقے کے لیے الگ قانون کیوں تھا اور ریلوے لائن کے اِس طرف واقع شاہراہ کے لیے الگ قانون کیوں تھا؟ اُس طرف بازاربندکیوں تھے؟ اور سڑکوں اور گلیوں میں سناٹا کیوں تھا؟ اور اِس طرف نہ صرف ٹریفک چل رہا تھا بلکہ دوکانیں بھی کھلی ہوئی تھیں۔یہی کچھ سوچتے ہوئے اس نے شاہراہ عبور کی اور کھلی ہوئی دوکانوں کی طرف چلا گیا۔

 

یہ دوکانیں شاہراہ کو نوے درجے پر کاٹ کر سامنے نکلتی ہوئی ایک سڑک کے کنارے واقع تھیں۔ان کے قریب ہی چائے اور کھانے کے دوہوٹل بھی تھے۔ چلتے چلتے اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کرروپوں کی موجودگی محسوس کرتے ہوئے اپنی تسلی کی۔باورچی خانے کے درازوں میں پڑے برتنوں سے چرائے ہوئے اپنی والدہ کے دوسوروپے اس کے پاس تھے۔وہ اپنی سمجھ داری کو بروئے کار لاتے ہوئے ان روپوں کی مدد سے بہت سی چیزیں خرید نا چاہتاتھا۔اس نے اپنے ذہن ہی ذہن میں روز مرہ استعمال کی اشیا کی ایک فہرست بنائی اور ایک دوکان پر جا کر کھڑا ہوگیا۔

 

اِس سہ پہریہ دوکان گاہکوں سے یکسر خالی تھی، اسی لیے دوکان دار اسٹول پر بیٹھاجماہیاں لے رہا تھا۔فاروق کو دیکھ کر وہ ڈھیلے سے انداز میں اٹھ کر کاؤنٹر تک آیا۔ فاروق اسے باری باری اشیاکے نام اور مقدار بتانے لگا اور وہ اپنے سست انداز سے وہ چیزیں نکال کر انہیں تول تول کر ایک طرف رکھنے لگا۔ان اشیا میں چاول، چینی، دالیں، گھی اور چائے کی پتی وغیرہ شامل تھیں۔جب فاروق اپنے ذہن میں مرتب کردہ فہرست کے مطابق کے اشیا خرید چکا تو اس نے دوکاندار کو بل بنانے اور اشیا کو کسی تھیلے میں بند کرنے کے لیے کہا۔

 

فاروق کے ذہن میں یہ بات دور دور تک نہ تھی کہ جب اس کے والدین اور بھائی اسے اس کے بستر پر نہ پائیں گے، تو ان پر کیا گزرے گی؟ ان کے لیے موجودہ صورتِ حال میں اسے تلاش کرنے کے لیے گھر سے نکلنا بھی ناممکن ہوگا۔ اس نے یہ بھی نہیں سوچا تھا کہ جب اس کی والدہ کو باورچی خانے کے درازوں میں پڑے برتنوں سے دو سو روپے غائب ملیں گے تو ان کی کیاحالت ہوگی؟ انہیں اس کی چوری پر لازماً غصہ آئے گا۔ان سب باتوں کے برخلاف اس وقت وہ صرف یہ سوچ رہا تھاکہ جب وہ اشیائے صرف کا تھیلا اٹھائے ہوئے گھر پہنچے گا تو وہ لوگ اس کے ہاتھوں میں روزمرہ ضروریات کا سامان دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سمائیں گے۔ اس کے بھائی فوراً گلے لگ جائیں گے جب کہ اس کے والدین اس کے اس کارنامے پر اس کی پیٹھ تھپکیں گے۔

 

وہ مطمئن تھا کہ دو سو روپے میں اس کا مطلوبہ سامان آگیا تھا۔ اس نے روپے دوکان دار کے حوالے کرکے سامان کا تھیلا اٹھایا۔ابھی وہ تھیلا اٹھا کر پلٹا ہی تھا کہ ایک ہلکے ہرے رنگ کی جیپ سڑک پراس سے ذرا فاصلے پر آ کر رک گئی۔ جیپ دیکھتے ہی اس کی سٹی گم ہو گئی۔ جیپ کا اگلا دروازہ کھلا اور ڈرائیونگ سیٹ سے ایک فوجی اتر کر اس کی جانب بڑھا۔ فاروق تھیلا اٹھائے حیرت سے بت بنا اس فوجی کی طرف دیکھتا رہا۔فوجی کے چہرے سے انسانی جذبہ یکسر غائب تھا۔ فاروق کو محسوس ہوا کہ وہ اسی آن اسے بازو سے پکڑ کر جیپ کی طرف کھینچتا ہوا لے جائے گا۔مگر۔۔ مگریہ کیا ہوا؟ وہ اس کے پاس سے لاتعلقی سے گزرتا آگے بڑھ گیا۔فاروق نے طویل سانس لی اور اس کی جان میں جان آئی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو اسے وہ فوجی دوکان سے کوئی چیز خریدتا ہوا دکھائی دیا۔اس کے ہونٹوں پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ آکر غائب ہوگئی۔وہ شاہ راہ کی جانب چل دیا۔

 

وہ شاہ راہ عبور کرکے ریلوے اسٹیشن کی مختصر دیوار کے پاس لگے نیم اور سفیدے کے درختوں کے پاس پہنچا تواسے وہ بات یادآ ئی، جسے وہ بہت دیر سے بھولا ہوا تھااور وہ یہ کہ اسے گھر پہنچنے کے لیے کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ یعنی کیا وہ راستہ جس پر دوڑتے ہوئے وہ خود بخود اس طرف آنکلا تھا، یا پھر کوئی اور نیا راستہ۔وہ کچھ دیر تک درختوں کے نیچے کھڑا اسی مخمصے میں گرفتار رہا۔اس دوران وہ اپنے گردوپیش کے ماحول سے چند لمحوں کے لیے یکسر غافل ہوگیا۔اسے یاد آیا کہ جس راستے سے وہ اتفاقاً اس طرف آنکلا تھا، اس کے سوااور کسی راستے کے بارے میں اسے علم ہی نہیں تھا۔اس لیے اگر اس نے کسی دوسرے راستے سے گھر جانے کی کوشش کی تو بھٹکنے کا شدید احتمال تھا۔ اس لیے اس نے اپنے آپ کو نیا راستہ استعمال کر کے نیاخطرہ مول لینے سے روک دیااور اسی راہ کی طرف چل دیا، جدھر سے وہ اس جانب آیا تھا۔

 

دوپہر کی جھلساتی ہوئی تیز دھوپ میں وہ تھیلا اٹھائے کچھ دیر تک پلیٹ فارم پر ٹہل کر ریلوے لائن کے اس طرف گزرنے والی سڑک کا جائز لینے کی کوشش کرتا رہا۔پسینہ جو بہت دیرسے اس کے بدن کے تمام مساموں سے جاری تھا،تھمنے میں ہی نہ آتا تھا۔اس لیے اس کے کپڑوں کے ساتھ ساتھ اس کے جوگر شوز بھی پسینے سے بھیگ گئے تھے مگر وہ اس کے باوجود پلیٹ فارم کے ایک کونے سے دوسرے تک ٹہلتا چلا گیا مگر پرلی طرف بنے ہوئے کواٹروں اور ان کی پھلواریوں کے گرد اُگے ہوئے درختوں کے سبب کسی بھی مقام سے وہ سڑک اسے دکھائی نہیں دے سکی۔اس کوشش میں ناکامی کے بعد اس نے مجبوراً آگے بڑھنے کا فیصلہ کیااور وہ ساؤتھ کیبن کے قریب، پلیٹ فارم سے نیچے اتر گیا اورریلوے لائن عبور کرنے لگا۔ آگے بڑھ کر وہ ریلوے کواٹر کی پھلواری کے نزدیک پہنچ کر ٹھہر گیا۔ یہاں سے اسے وہ سڑک اور اس کے پار کا کچھ منظر بھی دکھائی دینے لگا۔ گرچہ وہ یہاں سے پوری سڑک دیکھنے سے قاصر تھا، مگر اسے یہاں سے جتنی سڑک دکھائی دے رہی تھی،وہ خالی تھی اور اس کے پار کا منظر بھی ویران تھا۔اسے سڑک کے خالی پن اور ویرانی سے کچھ ڈر سا لگا، مگر وہ اپنے ڈر کو نظر انداز کرتا دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا پھلواری کے قریب سے گزرکر سڑک پر آگیا۔دن بھر تیز دھوپ کی تپش سہنے والی یہ سڑک اس وقت تیز حدت کی لہریں اچھال رہی تھی۔سرسری انداز سے دائیں اور بائیں دیکھنے کے بعد اس نے سڑک پار کرنے کے لیے اپنا پاؤں اس پر دھرا ہی تھا کہ اچانک ایک سیٹی کی آواز اس کی سماعت میں داخل ہوئی۔ اس نے گھبرا کر پہلے بائیں طرف دیکھا اور پھر دائیں طرف۔کچھ غور کرنے پر اسے دائیں جانب ایک پیڑ کے نیچے ہلکے ہرے رنگ کے یونیفارم میں ملبوس ایک فوجی کھڑادکھائی دیا۔ اسے دیکھتے ہی فاروق ساکت ہوگیا، جیسے کسی نے اسے پتھر کا بنادیا ہو، کیوں کہ وہ اس سے زیادہ دور نہیں تھا۔

 

اس فوجی نے اسے ہاتھ کے اشارے سے اپنی طرف بلایا۔فاروق فوری طور پر اس کے حاکمانہ اشارے کی تعمیل نہیں کرسکا۔ وہ تھیلا ہاتھ میں تھامے لاچاری سے اس کی طرف دیکھتا رہا،کیوں کہ اس کے لیے اب فرار ہونا بالکل ناممکن تھا۔ایسی کوئی بھی کوشش یقینی طور پر اس کے لیے خطرناک ہوسکتی تھی۔اس کے ٹس سے مس نہ ہونے پرفوجی کی تیوری چڑھ گئی اور وہ رعب دار لہجے میں اس سے مخاطب ہوا۔ “کھڑے منہ کیا دیکھ رہے ہو؟ ادھر آؤ۔ “

 

فاروق سر جھکائے دھیرے دھیرے چلتا اس کے قریب جانے لگامگر کچھ فاصلے پر ہی فوجی نے اسے رکنے کا اشارہ کیا۔ “وہیں رک جاؤ “۔ اس بار فاروق نے فوراً اس کے حکم کی تعمیل کردی اور وہ اس سے چند قدم دور ہی ٹھہر گیا۔ “کہاں سے آرہے ہو؟ “فوجی کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھیلا اٹھا کر اسے دکھادیا۔اس کا یہ انداز فوجی کو ناگوار گزرا۔ “ میں نے جو پوچھا ہے، اس کا جواب زبان سے دو “۔

 

فاروق اپنا حوصلہ مجمتمع کرکے بہ دقت گویا ہوا۔ “ میں۔۔وہ۔۔ گھر کا سامان۔۔ لینے گیا تھا “۔ اتنی سی بات کہتے ہوئے اس کی سانسیں پھول گئیں۔وہ اندر سے بری طرح سہما ہوا تھا۔کوئی خوف اس کے دل پر زوردار چابک رسید کررہا تھا اور اس کی دھڑکن کسی منہ زور گھوڑے کی طرح بگٹٹ دوڑی جارہی تھی۔اس کے ذہن میں آندھیاں بگولے اڑاتی پھررہی تھیں۔ایسے میں یکسو ہو کر کسی بات کا جواب دینا اس کے لیے مشکل ہورہا تھا۔

 

“گھر کا سامان؟۔۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اس علاقے میں سخت کرفیو لگا ہوا ہے۔ “

 

فوجی کی بات کا جواب دینے کے بجائے اس نے اثبات میں اپنا سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا۔

 

“ یہ جانتے ہوئے بھی تم اپنے گھر سے باہر کیوں نکلے؟ بتاؤ؟ “ فوجی کے لہجے میں تندی کا عنصر بڑھتا جارہا تھا۔فاروق کے پاس اس کے سوال کا خاموشی کے سوا کوئی جواب نہیں تھا۔اس کی خاموشی کو فوجی نے اس کی ہٹ دھرمی پر محمول کیا۔اس نے اسے غصیلی نظر وں سے سر تاپادیکھااور اس کے لبوں سے ہلکی سی ہونہہ نکلی۔وہ کچھ کہنا چاہتا تھا کہ اسی اثنا میں آگے کہیں سے ایک زور دار سیٹی کی آواز سنائی دی۔فوجی نے سرعت سے گردن موڑ کر اس جانب دیکھا، جہاں سے سیٹی کی آواز گونجی تھی۔فاروق نے بھی جب اس سمت دیکھا تو اس کی پریشانی دوچند ہوگئی۔

 

اسی سڑک پر آگے جاکر پڑنے والے ایک چوک پراسے تین فوجی کھڑے دکھائی دیے۔ان میں سے ایک نے اپنا ہاتھ ہلا کر کوئی اشارہ کیا۔ فاروق وہ اشارہ نہیں سمجھ سکا مگر اس کے قریب کھڑا فوجی فوراً اس اشارے کا مطلب سمجھ گیا۔ وہ اس سے مخاطب ہوا۔ “ فٹافٹ دوڑ کر ان کے پاس چلے جاؤ۔ تمہارا فیصلہ ہمارے صوبیدار جی کریں گے۔ “

 

فاروق اس کی بات سننے کے باوجود نہ سمجھاتوفوجی دوبارہ بولا۔ “ فورا دوڑ لگا کر ان کے پاس جاؤ۔ “یہ کہتے ہوئے اس نے اسے ہلکا سا دھکا بھی دیا۔
اس مقام سے چوک تک کا فاصلہ طے کرنے کے لیے فاروق کو دوڑ لگانی پڑی۔گرچہ ہاتھ میں تھامے سامان سے بھرے ہوئے تھیلے کی وجہ سے اسے تیز دوڑنے میں مشکل پیش آرہی تھی۔اس کا گرمی کی تمازت سے سرخ ہوتا چہرہ پسینے میں شرابور تھا،پھر بھی وہ جیسے تیسے بھاگتاہوا چوک میں کھڑے فوجیوں تک پہنچ ہی گیا۔

 

یہ چوک کشادہ سی جگہ پر بنا ہوا تھا۔جس سڑک سے فاروق آیا تھا، وہ چوک سے گزر کر ریلوے لائن کے ساتھ سیدھی آگے کی طرف چلی گئی تھی۔ریلوے لائن کی طرف پٹڑیوں سے پیدل گزرنے والوں کے لیے پختہ راستے کے ساتھ لوہے کا ایک دیو قامت پل بنا ہوا تھا۔اس پل کے عین مخالف یعنی چوک کے بیچوں بیچ، جہاں وہ اس وقت تین فوجیوں اور دو عام شہریوں کے ساتھ موجود تھا، د ومتوازی لیکن مختلف راستے الگ الگ سمتوں کی طرف جا رہے تھے۔

 

اس کا سامنا جس فوجی سے ہوا وہ اپنے ڈیل ڈول اور قامت کی وجہ سے اور اپنے سرخ ٹماٹر جیسے چہرے پر واقع بڑے بڑے گُل مچھوں کی وجہ سے، اسے صوبیدار محسوس ہوا، کیوں کہ اس نے اپنی عقابی آنکھ سے فاروق کا سرتاپا جائزہ لیا تھا۔فاروق اس کے سامنے کھڑا ہوکر کچھ دیر تک ہانپتا رہا۔

 

“ سیدھے کھڑے ہوجاؤ۔اٹین شن۔ “فاروق کو محسوس ہوا کہ اس شخص کی آوازاسے سنائی نہیں دی بلکہ برقِ سیاہ فلک بن کر اس پر ٹوٹی ہے۔ اس کا پورا بدن حتی کہ وہ بازو بھی، جس کے ہاتھ سے اس نے کئی کلو سامان کا تھیلا اٹھا رکھا تھا، لاشعوری طور پر خودبخود اٹین شن ہوگئے۔

 

صوبیدار نے اس سے کچھ فاصلے پر رہ کر ایک تیز نظر اس کے تھیلے پر ڈالی۔ “ اس میں کیا ہے؟ “۔اس بار اس کی آواز کسی زمینی تازیانے کی طرح فاروق کی سماعت میں داخل ہوئی۔

 

اس نے منمنائی سی آواز میں جواب دیا۔ “گھر۔۔ کاسامان۔ “

 

“سامان؟۔گھر کا؟۔۔ کرفیو میں سامان لینے گیا؟ “

 

اس بار فاروق نے جواب دینے کے بجائے اثبات میں سر ہلانے پر اکتفا کیا۔اس سے قبل کہ صوبیداراپنی آواز کا ایک اورسنگین پتھراسے دے مارتا،کہ سامنے والے ایک رستے سے ہلکے ہرے رنگ کی ایک جیپ سبک رفتاری سے چلتی، چوک میں ان کے قریب ہی آکر رک گئی۔جیپ کے رکتے ہی تمام فوجیوں نے فوراًشہریوں سے اپنی توجہ ہٹا کر،اسی دم الرٹ کھڑے ہوکرجیپ کی اگلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے افسر کو سیلوٹ مارا۔ افسر نے جیپ میں بیٹھے بیٹھے اپنی زیرک نظروں سے شہریوں کو غور سے دیکھا، پھر اس کی نگاہ فاروق پر دوتین ثانیے ٹھہر کر، صوبیدار کی طرف مڑ گئی۔اس کی گردن کے ہلکے سے خم ہونے کا اشارہ پاتے ہی صوبیدار الرٹ حالت میں چلتا ہواجیپ تک پہنچ گیا۔ صوبیدار اور افسرکو آپس میں خفیف لہجے میں باتیں کرتے دیکھ کر فاروق کو کچھ تشویش سی ہوئی۔اسے لگا کہ یہ وہی لوگ نہ ہوں، جوآتے ہوئے اس کے تعاقب میں لگے تھے۔ان کی حفیف سازباز تین چار لمحے جاری رہی۔اس کے بعد صوبیدار تُرنت اپنی جگہ پر واپس آگیا اور جیپ بھی سبک روی سے اس سمت آگے بڑھ گئی، جس سمت سے فاروق کو پکڑا گیاتھا۔

 

یہ کاروائی آناً فاناً ہوئی اور اس کے فوراً بعد صوبیداراور دوسرے دو فوجی شہریوں کے ساتھ اپنے معاملات میں مشغول ہوگئے۔ صوبیدار ایک بارپھر فاروق پر اپنا صدائی کوڑا برسانے کے لیے تیار کھڑا تھا۔بارہ برس کا فاروق اب اپنے حواس پر کچھ کچھ قابو پا چکا تھامگرآسمان سے برستی ہوئی دھوپ اورکولتار کی سڑک پر اس دھوپ سے پیدا ہونے والی حدت نے اسے تھوڑا تھوڑا سا بولادیا تھا۔ وہ سامان سے بھرا چند کلو وزنی تھیلا کبھی دائیں ہاتھ میں پکڑتا کبھی بائیں ہاتھ میں۔اب یہ وزن اس کے لیے سوہانِ وجود بن چکا تھا، وہ نہ تو اس سے چھُٹکارہ پا سکتا تھا اور اب نہ ہی اسے پھینک سکتا تھا۔

 

“ بالکے! اپنا تھیلا ایک طرف رکھ کر مرغے بن جاؤ۔ تم نے قانون کی سنگین خلاف ورزی کی ہے “۔صوبیدار نے دو ٹوک انداز میں اپنا صدائی کوڑا اس پر برسایا۔فاروق اس کا یہ حکم فوراً سمجھ گیا، کیوں کہ اپنے پرائمری اسکول کے ابتدائی برسوں میں وہ اپنے استادوں کی جانب سے کئی بار ایسے ہی احکامات کی بے چون وچرا تعمیل کرچکا تھا۔اس نے چوک میں کھڑے کھڑے دیکھ لیا تھا کہ دوسرے فوجیوں نے دیگر دو شہریوں، جن میں سے ایک اپنے سفید بالوں کی وجہ سے عمر رسیدہ لگ رہا تھا جب کہ دوسرا اپنے چھریرے بدن کی وجہ سے درمیانی عمرکا معلوم ہوتا تھا،ان کے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھا گیا تھااور وہ دونوں اس سے ذرا فاصلے پر ٹانگوں کے بل جھکے ہوئے اور اپنے کانوں کو ہاتھوں سے پکڑے ہوئے، مرغے بنے ہوئے تھے۔ان کی یہ درگت دیکھ کر فاروق زیرِ لب مسکرائے بنا نہیں رہ سکا کیوں کہ دونوں کی کمر یں زیادہ اوپر کو اٹھی ہوئی تھیں۔

 

“تم نے سنا نہیں۔ مر غے بن جاؤ مرغے۔ “ اس بار صدائی کوڑے کی آواز کی غضب ناکی کچھ سوا ہی تھی۔اس لیے فاروق نے فوراً اپنا تھیلا ایک طرف رکھ کر،پھر اپنی ٹانگیں کھول کر مرغے کا آسن جمانے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔اسے اپنی پوزیشن ایڈجسٹ کرنے میں دو تین لمحے لگے مگر اس کے بعد اسے یقین ہو گیا کہ وہ ان دونوں سے بہتر انداز میں کرفیو میں گھر سے باہر نکلنے کی سزا کاٹ رہا تھا۔

 

مرغے کے آسن میں فاروق کا دائرہِ چشم بہت محدود ہوگیا تھا۔کھڑے ہوکر اسے اپنے گردوپیش کا سارا منظر اپنی جزئیات سمیت دکھائی دے رہا تھامگر اب اس دشوار گزار آسن میں منظر کی جزئیات تو کجا، منظر کا ہی بہت تھوڑا سا حصہ اسے اپنی چھوٹی سی آنکھوں سے دکھائی دے رہا تھا۔اس کی آنکھیں اب صرف کولتار کی سیاہی مائل سڑک اور اس پر چلتے ہوئے فوجیوں کے بھاری بھر کم بوٹ ہی دیکھ پا رہی تھیں۔

 

جوں جوں وقت گزرتا گیا، فاروق کے پاؤں شَل ہوتے گئے۔اس کی کمر میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگیں اور اس کا حلق سوکھ کر کانٹا ہونے لگاکیوں کہ اس نے گھر سے نکلنے کے بعد سے اب تک پانی نہیں پیا تھا۔دھیرے دھیرے اس کے حواس گم ہونے لگے اور اس دوران فوجیوں کے بوٹ اس کے آس پاس ٹہلتے رہے۔کولتار سے اٹھتی حدت اس کے جسم کے ساتھ اس کی روح تک کو پگھلانے لگی۔اس کے بدن کے تمام مساموں سے پسینہ اتنے زوروں سے جاری تھا کہ اسے لگنے لگا کہ اس کا وجوداسی دم پانی میں تحلیل ہو کر کولتارمیں چھپے پتھروں کی حدت سے آبی بخارات بن کر فضا میں شامل ہوجائیگا۔

 

دفعتاً فاروق کو کسی گاڑی کے آنے کی آواز سنائی دی، جس کی رفتار چوک میں پہنچ کر کچھ کم ہوگئی اور اس کے بعد وہ کسی دوسری سمت کو نکل گئی۔یہ وہی جیپ تھی، جو علاقے میں مسلسل پیٹرولنگ کر رہی تھی۔جیپ کے جانے کے بعداسے حکم دیتی ایک مختلف قسم کی آواز سنائی دی، جو دوسرے دو فوجیوں میں سے کسی کی تھی۔

 

“تم دو کھڑے ہو جاؤ۔تمہارے لیے اتنی سزا ہی کافی ہے۔اب تم جس طرف آئے تھے، اسی طرف واپس چلے جاؤ۔جب کرفیو ختم ہوجائے تب آنا۔سمجھے! “

 

ان کی آوازکے بجائے فاروق کوان کے تیزی سے دور جاتے ہوئے قدموں کی آواز سنائی دی۔وہ اب اِس چوک میں ان تین فوجیوں کے ساتھ اکیلا رہ گیا تھا۔اس کا حلق پیاس کے مارے چٹخی ہوئی زمین کی طرح تڑخ گیا تھا۔ مرغے کے آسن میں کھڑے کھڑے اسے نجانے کتنے لمحوں کی صدیاں بیت گئی تھیں۔اس کے بدن کا ریشہ ریشہ اس آزار کی گراں باری سے تڑپ رہا تھابلکہ سلگ رہا تھا۔اس کا وجوداس اذیت اور ہزیمت کی وجہ سے عدم کا نشان بن چکا تھا۔

 

“ اب اسے بھی چھوڑ دیتے ہیں صوبیدار جی۔ “

 

“ ہاں چھوڑ دو، مگر اسے بھیجو گے کس طرف؟ “پہلی بار صوبے دار کی آواز اسے انسانی خصوصیات کی حامل محسوس ہوئی۔

 

“ مجھے یہ یہیں کا لگتا ہے۔ اپنے گھر چلا جائے گا۔ “

 

“ اچھا چھوڑ دے۔ “ یہ کہہ کر صوبے دار اس کے قریب سے گزر کر ایک جانب چلا گیا۔

 

“ چل اٹھ بالکے، اور یہاں سے تیز دوڑ لگا کر غائب ہوجا۔چلا اٹھ “۔ فوجی نے تحکمانہ انداز میں کہا۔

 

فاروق کیسے دوڑ سکتا تھا، اور وہ بھی اتنا تیز کہ ان عقابی نگاہیں رکھنے والوں کے سامنے سے چشم ِ زدن میں غائب ہو جاتا۔وہ تو کئی صدیوں سے بھاری، لاتعداد لمحوں سے، ایک غیر انسانی آسن میں جکڑا ہوا تھا۔اس نے اپنے ہاتھوں سے پکڑے اپنے کان فوراً چھوڑدیے، لیکن جب وہ سیدھا کھڑا ہونے لگا تو اس کی کمر نے فوری طور پر ایسا کرنے سے انکار کردیا۔درد کی بے شمار لہریں تھیں، جو اس کی ریڑھ کی ہڈی میں اذیت کا طلاطم بپا کیے ہوئے تھیں۔

 

“سنا نہیں کیا! دوڑ لگا اور غائب ہوجا “۔فوجی کی آواز میں غصہ تھا۔

 

فاروق نے جھک کر بہ دِقت سڑک پر پڑا ہوا اپنا تھیلا اٹھایا اورسامنے یعنی بند بازار کی طرف جانے والے راستے کی طرف تیزی سے چلنے کی کوشش کرنے لگا۔اس وقت اس کے لیے ایک ایک قدم اٹھانا باعثِ صد آزار ہورہا تھا،مگر جیسے تیسے وہ آگے بڑھنے لگا۔

 

“ دوڑ لگا، دوڑ! “ پیچھے سے فوجی چینخا۔

 

فاروق نے دوڑنے کی کوشش کی، مگر اس کی کمر اور اس کی ٹانگیں اس کا ساتھ دینے سے قاصر تھیں۔وہ بس اپنے دونوں پیروں کو تیز تیز حرکت دینے کی اپنی سی کوشش کر رہا تھا، اور اس کے دونوں پیرچل بھی رہے تھے، لیکن بہت کم رفتار سے۔اسے اِس آزار سے، جو اس نے کچھ دیر پہلے کاٹا، ملنے والی رہائی عزیز تھی۔وہ غیر انسانی آسن والی سزا دوبارہ بھگتنے کے لیے تیار نہیں تھا۔سو اس سے جتنا تیز بن پارہا تھا، وہ چل رہا تھا۔ایسے میں اسے گرمی کی حدت اورراستے کی سمت کا بھی کچھ خیال نہیں رہا تھا۔اس کے ماؤف ذہن اور شدید نفرت اور غصے سے بھرے ہوئے اس کے دل کی حالت، نقطہِ جوشِ پر کھولتے پانی جیسی ہورہی تھی۔مگر وہ جولائی کی اس سہ پہر، اس سڑک پر اپنے ٹھوس وجود کے ساتھ موجود تھا۔کاش وہ کوئی ٹھوس وجود نہ ہوتا، بلکہ مایع ہوتا۔کم از کم اس طرح وہ فوری طور پر ان خبیثوں کی نگاہ سے اوجھل تو ہوجاتا۔

 

“دوڑ۔۔ نہیں تو۔۔ “یہ تازیانہ ایک بار پھر ہوا کے دوش پر لہراتا اس کی سماعت سے ٹکرایا۔اب فاروق میں اسے سہنے کی تاب ہرگز نہ رہی تھی۔بازار کی سڑک پراسے دائیں طرف جو پہلی گلی دکھائی دی، وہ اسی میں مڑگیااور مڑنے کے بعدتکلیف سے لنگڑاتا ہوا وہ اسی گلی میں آگے ہی آگے چلتا چلا گیا۔اس نے محسوس کیا کہ اس کے بدن کا جھکاؤ بائیں طرف بڑھتا جارہا تھا، کیوں کہ اس نے سامان والا تھیلابائیں ہاتھ میں ہی پکڑا ہوا تھا۔اس نے چلتے چلتے سامان کا تھیلا دوسرے ہاتھ میں منتقل کرنا چاہا، تو اس کا بایا ہاتھ اٹھنے کے بجائے مزید جھک گیا۔ فاروق کی ٹانگیں توازن برقرار نہ رکھ سکیں اور وہ پختہ گلی کے بیچوں بیچ بائیں جانب ڈھیتا چلا گیا اور اگلے ہی لمحے اس کا وجود، دن بھر دھوپ سے جھلستی ہوئی اِس کنکریٹ گلی کی سطح پر گرا پڑا تھااور اس کے سامان کا تھیلا بھی اس کے ہاتھوں سے چھوٹ کر یوں نیچے گرا،کہ گرتے ہی پھٹ گیااوراس کے پھٹنے سے اس میں موجود تھیلیوں میں رکھی ہوئی چیزیں یعنی آٹا، دالیں، چاول اور چینی وغیرہ، گلی میں پڑے ہوئے فاروق کے جسم کے گرد پھیلی ہوئی تھیں۔اس کے بعد کچھ دیر کے لیے، نجانے کتنی دیر کے لیے اس کے حواس کا تعلق اپنے گردوپیش کی آزاروں بھری دنیا سے کٹ گیااور اس کا وجود کچھ وقت کے لیے ہی سہی اسے پہنچنے والی اذیت اور ہزیمت فراموش کرنے میں کامیاب ہوا، جس کی وجہ سے اس کا آئندہ کا عالم ِخیال و احساس پوری طرح تہہ و بالا ہونے والا تھا۔
Categories
فکشن

پستان-آخری قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-12
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

این اور صدر کی جس بات پر علیحدگی ہوئی تھی، وہ ایک ایسی بات تھی، جس پر کم از کم الگ ہوجانے کا تو خیال کسی کو نہیں آنا چاہیے۔لیکن ان دونوں کی ہی فطرت میں شاید محبت کا ویسا خمیر موجود نہ تھا، جس میں کسی ایک شخص کے ساتھ زندگی بھر کے تعلق کی خواہش ہو۔محبتیں بعض اوقات بڑی بے پروا بھی ہوا کرتی ہیں، ضروری نہیں ہے کہ انسان جس سے محبت کرے، اس سے کرتا ہی چلا جائے، محبت تو عین وصل کے درمیان بھی پھوٹتی ہے اور ہجر کے بیچ بھی اگتی ہے۔کسی کا حاصل ہوتا ہوا بدن اور دماغ پر تیرتی ہوئی اس کے جسم کی بھینی یادیں، یہ سب مل کر ایک عجیب و غریب کیفیت پیدا کرتی ہیں۔محبت کا دوامی تصور عام ذہنوں کا پیدا کیا ہوا ہے، ورنہ محبت تو وہ شے ہے، جو ایک وقت کے بعد اگر اپنا اثر نہ کھوئے تو بوجھ بن جائے۔کسی چیونگم میں موجود مٹھاس کی طرح یا پھر پھول میں موجود خوشبو کی طرح محبت کو ایک روز مرنا ہوتا ہے۔ختم ہونا دراصل ہر شے کا انتہائی حسن ہے، اختتام سے زیادہ بہتر بات اور کوئی ہوہی نہیں سکتی۔صدر نے انہی دنوں ایک تصویر بنائی تھی، جب وہ این کے بہت قریب تھا، جس میں ایک مرد اپنے ہاتھوں میں کسی لڑکی کے دو پستان لیے کھڑا تھا، اور دونوں پستان آہستہ آہستہ پگھلتے ہوئے معلوم ہورہے تھے۔این جاننا چاہتی تھی کہ پستانوں کے پگھلنے کا کیا مطلب ہے۔صدر کا موقف تھا کہ پگھلتے ہوئے پستان دراصل لڑکی کے پستانوں کے پنرجنم کی داستان بیان کررہے ہیں۔ہر بار جب ایک نیا تعلق لڑکی کسی سے بناتی ہے تو اس کے پستانوں کا ایک نیا جنم ہوتا ہے، ان کی سختی کا، وہ ایسی مٹھیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں، جن کے اندر بے انتہا شکنیں ایک دوسرے سے لپٹی ہوئی، ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی موجود ہوں۔جیسے جیسے یہ مٹھیاں صنف مخالف پر کھلتی ہیں ، پگھلتی جاتی ہیں۔ان کی تیزی، چستی اور ایک آسیبی و تیزابی کیفیت میں فرق آتا جاتا ہے۔تو این سوچنے لگی کہ کیا اس مختصر سے عرصے میں اس کے پستان بھی گھل رہے ہیں، پگھل رہے ہیں، کیا اسے اس عمل سے خود کو بچانا چاہیے۔اس نے اضطراری طور پر صدر سے پوچھا، پھر انسان کسی کے فراق میں پاگل کیوں ہوجاتا ہے۔کیا تمہارے نزدیک کسی کی دوری سے پڑنے والے شدیدنفسیاتی اثر کا کوئی وجود ہی نہیں ہے، کیا وہ متھ ہے، یہ گتھی تم کس طرح سلجھائو گے۔صدر کہتا تھا کہ گتھیاں سلجھانے والی چیز نہیں ہیں، وہ تجربے سے خود بخود سلجھنے لگتی ہیں،دنیا کی کوئی ایسی محبت نہیں، جس میں ایک وقت کے بعد بیزاری نہ پیدا ہوجائے۔این کا اصرار اس بات پر تھا کہ یہ ایک سخت گیر قسم کا بیان ہے، جس کا اطلاق تمام زندگیوں اور ذہنوں پر نہیں کیا جاسکتا۔مگر صدر کہتا تھا کہ فطرت ایک ہی چیز کا اطلاق کرتی ہے، اور جب کسی شے پر ایک ہی بات کا اطلاق نہیں ہوپاتا تو پھر اس سے دوسری چیز پیدا ہوجاتی ہے۔عورت، دراصل مرد کی ہی ایک بگڑی ہوئی شکل ہے۔جس کے بگاڑ نے ہی اسے مرد سے علیحدہ کیا ہے، اسی طرح جس طرح دوسرے چرند پرندانسان سے الگ ہیں۔این کو اس لفظ’بگڑنے’ پر شدید اعتراض تھا۔وہ سمجھتی تھی کہ صدر عورت کے معاملے میں کسی ناقد کا سا رویہ اختیار کررہا ہے۔اس نے اس بات پر شور مچانا شروع کردیا۔’عورت ہی کیوں بگڑی ہوئی شکل ہوگی، مرد بھی تو ہوسکتا ہے، مرد کے پاس ویسے بھی عورت سے زیادہ جنسی کشش کا سامان نہیں ہے، اس حساب سے تو عورت مرد کی ایک ارتقائی شکل ہے، عورت کا پورا بدن ایک جنسی آبجیکٹ کے طور پر ہمارے معاشروں میں قبول کیا جاچکا ہے۔کوئی اوپر سے کتنی بھی شرافت کا اظہار کرے، کھوکھلے بیانات یا اخلاقیات کی فہرست کو سینے پر ٹائی کی طرح ٹانگ کر گھومتا رہے، مگر عورت کے معاملے میں ہر مرد ایک ہی قسم کا ہوتا ہے، اسے بستر پر عورت کے مسکراتے یا چیختے ہوئے پستانوں کا انتظار رہتا ہے۔یہ اس لیے ہے کیونکہ مرد کو اس معاملے میں پوری طرح عورت پر منحصر ہونا پڑتا ہے اور جب وہ عورت پر سے اپنا انحصار ختم کردیتا ہے تو دنیاکے مہذب معاشرے اسے بری نگاہوں سے دیکھتے ہیں، ان تمام باتوں سے یہ ثابت ہی نہیں ہوتا کہ عورت مرد کی ہی کوئی بگڑی ہوئی شکل ہے۔صدر کہتا تھا کہ بگاڑ کا لفظ منفی نہیں ہے۔اسے منفی اس ذہنیت نے بنایا ہے، جس نے تمہیں عورت اور مجھے مرد کا خطاب دیا ہے۔ہم نے لفظوں کو چیزیں کی شناخت کے لیے ایجاد کیا تھا، لیکن پھر ہم ان شناختوں سے گھبرانے لگے۔این نے کہا کہ ظاہر ہے اگر تم مرد کو عورت کی بگڑی ہوئی شکل نہیں کہتے یا اس کی ارتقائی شکل نہیں مانتے ہو تو تم بھی تو اس شناخت سے گھبراہی رہے ہو۔صدر کو اب اپنا مقدمہ دوسری طرح بیان کرنا پڑا۔اس نے بتایا کہ وہ سمجھتا ہے کہ لفظ بگاڑ کی جگہ ہم اسے عورت کا ارتقائی عمل بھی کہہ سکتے ہیں اور پھر مرد بھی تو کسی نہ کسی جانور کی بگڑی ہوئی شکل ہی ہے۔بگڑنا دراصل بننے کا ابتدائی مرحلہ ہے، ایک شے جب دوسرے سے بگڑتی ہے تو وہ بغاوت کرکے اپنا ایک نیا راستہ پیدا کرتی ہے، یہ فطرت کا اصول ہے، میرا نہیں۔ایک ہی وقت میں کئی چیزیں ہمارے آس پاس بگڑ رہی ہوتی ہیں، مگر ہم ان پر دھیان نہیں دیتے۔جیسے کہ ہمارا جنسی عمل ، باقی لوگوں کے جنسی عمل سے جتنا کچھ بھی مختلف ہوا ہے، اس کی بڑی وجہ وہی بگاڑ یا بغاوت ہے جو ہمیں ایک ہی جیسا ہونا یا دوسروں جیسا ہونے سے روکتی ہے۔سو عورت نے بھی کسی ایک وقت میں فطرت کے اسی رویے سے بغاوت کرکے اپنے سینے پر ان دو گنبدوں کو ابھارا ہوگا، سوچو ابتدا میں جب آدمی نے عورت کا سینہ بدلتا ہوا دیکھا ہوگا، جب اسے محسوس ہوا ہوگا کہ کوئی تبدیلی آرہی ہے، یہ تبدیلی کیا ہے اور کیسی ہے، ان سوالوں نے چاہے اسے ڈرایا ہو یا چونکایا ہو، لیکن بعد میں رفتہ رفتہ عورتوں نے اور مردوں نے اس تبدیلی کو نہ صرف قبول کیا بلکہ اسے بطور حسن بھی تسلیم کیا، اندرونی بغاوتیں ہوں یا بیرونی، ظاہری ہوں یا باطنی ، ایک وقت کے بعد اپنے شباب پر آتی ہیں، خود کو منواتی ہیں اور ان کی جدو جہد کا راستہ جتنا کٹھن اور کانٹوں بھرا ہوتا ہے، ان کی خوبصورتی بھی اسی حد تک تسلیم کی جاتی ہے۔مشرقی سماجوں نے پستانوں کو بہت زیادہ اہمیت دی، ان کے ساتھ جنسی عمل کے جتنے طریقے دریافت کیے گئے، اتنے تو عورت کی گلابی یا سیاہ جھلیوں کے ساتھ بھی وجود میں نہ آسکے۔اور پھر جدید اور مہذب قسم کی روایتیں، ان پستانوں سے خوف کھانے لگیں، یعنی وہی پستان جو ایک طویل اور خوفناک قسم کی بغاوت کا نتیجہ تھے اور جن کو حسن کی دو عظیم آماجگاہوں کے طور پر ہمارے ذہنوں نے قبول کیا تھا۔جدید معاشرے نے انہیں بھٹکانے والا، پریشان کردینے والا اور مرد کے لیے خطرناک حد تک مضر ثابت کیا۔یہاں تک کہ عورتوں کو بھی یہ باور کرادیا گیا کہ ان کے سینے ، ان کے ابھار سمیت ، معاشرے کے لیے ایک ایسی لعنت ہیں، جن کا ظاہر ہوجانا خود ان کے لیے بھی سفاک ترین حد تک مصیبت میں ڈالنے والا عمل ہے۔

 

اس بحث نے این پر یہ بات روشن کردی تھی کہ صدر پستانوں کے بارے میں ایک اساطیری قسم کی منطق کا شکار ہوگیا ہے۔وہ اس دنیا میں نہیں رہ رہا ہے، جہاں پستانوں کا جنون دھیرے دھیرے ختم ہورہا ہے، عورت کو عورت تسلیم کیا جارہا ہے۔جنس کو وہ بھی اہمیت دیتی تھی ،لیکن لطف لینے کی حد تک، اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس دور میں، اتنے روشن خیال عہد میں جہاں صنفی امتیاز ختم ہوتا جارہا ہے۔عورت اب ایک جنسی آبجیکٹ نہیں رہ گئی ہے،و ہاں صدر کو ایسی پینٹنگز بنانے سے کیسے روکا جائے۔وہ کبھی کبھی سوچتی تھی کہ کیا وہ مکمل طور پر صدر کو غلط قرار دے سکتی ہے، پھر اسے خیال آتا کہ غلط یا صحیح کا پتہ نہیں لیکن اب اسے صدر سے ڈر لگنے لگا تھا، رفتہ رفتہ اس کے اندر سے وہ جنسی ہیجان بھی غائب ہورہا تھا جو پہلے اس سے مختلف قسم کے تجربے کرواتا تھا، انہوں نے اب تک بہت سے مختلف مقامات پر عجیب عجیب طرح سے جنسی عمل کو انجام دیا تھا، کبھی برسات میں بھیگتے ہوئے، کبھی جان بوجھ کر فلیٹ کی سلائڈنگ کھول کر ، وہ پڑوس کے ایک بالکل نوجوان لڑکے کو یہ خوبصورت عمل دکھایا کرتے تھے، وہ کنکھیوں سے اس پورے عمل کو دیکھا کرتا، اس کے اوپری ہونٹ پر جگمگاتے ہوئے بھورے روئیں تن جایا کرتے تھے، انہوں نے اپنے وصال میں بہت سی دوسری قدرتی اور غیرقدرتی چیزوں کو شامل کرلیا تھا، جیسے وہ اکیلے نہ ہوں، جیسے اب وہ دنیا کو ، دیکھنے اور سونگھنے والی صلاحیتوں کو اپنی سسکیاں سنانا چاہتے ہوں۔مگر این سمجھتی تھی کہ صدر کا پستانوں کے ساتھ خاص قسم کا لگائو اسے جنونی بنارہا تھا، وہ این کے داہنے پستان کو منہ میں بھر کر اس پر دانتوں کی تیز ضربیں لگایا کرتا، اپنی مٹھیوں سے انہیں ایسے بھینچتا ، جیسے کوئی طاقت ور دیو ، کسی کلی کو مسل رہا ہو۔تنے ہوئے پستانوں کے ساتھ ساتھ بعض اوقات وہ اس کے جھولتے ہوئے ، نرم اور گدگدے ابھاروں کو بھی نہیں بخشتا تھا، وہ اپنے عضو تناسل کو این کے پستانوں کے درمیان رکھ کر دو ابرقوں میں پیدا کی جانے والی رگڑ کی طرح اسے گھسنے کی کوشش کرتا۔این ہانپنے ہی نہیں، کانپنے بھی لگتی، اس کی بانچھوں سے اففف کی لمبی لکیروں کے جھاگ نکلا کرتے اور فضائیں اس کی چیخوں اور گھٹی ہوئی سسکیوں سے محبوس ہوجاتیں۔مگر وہ نہ مانتا تھا۔آدھے بدن کے اس عجیب بڑھتے ہوئے شور میں اس کی ننھی سی جان دہک دہک کر ہلکان ہوئے جارہی تھی،جب بستر آگ روشن کرتے، سانسیں، پھنکاروں میں بدل جاتیں، لفظ غائب ہوجاتے اور پیروں پر پیروں کے آہنی گرز اپنا بوجھ اتار دیتے تو بمبجوری این کو اپنی جھلیوں میں اپنی ہی انگلی کو اتارنا پڑتا، وہ وہاں سے نکلتی ہوئی دھار میں اپنے چیختے ہوئے وجود کی پتلی سی لکیر کو تر کرتی، کئی بار اس نے کوشش کی کہ صدر کا وجود اس کی شرمگاہ کے غاروں میں بھی اترے، لیکن اول تو وہ ادھر کا رخ بھولتا جارہا تھا، وہ غاروں سے نکل کر چٹانوں کی سیر کرنے میں زیادہ خوشی اور کرب محسوس کرتا، بہت دفعہ ایسا بھی ہوا کہ وہ پستانوں کو کستے کستے رونے لگا، انہیں بھینچتے بھینچتے اس کی سانسیں پھولنے لگیں اور اس کی آنکھوں میں ڈھیروں لعل دھڑ دھڑ کرنے لگے۔مگر ان آتشیں نگاہوں، ان برق رفتار آنسوئوں کی وجہ سے بھی اس کا وجود تھمتا نہیں تھا، وہ جب نڈھال ہوتا تو اکثر اوقات این کی بھوک اپنے شباب پر ہوا کرتی تھی، وہ اس ادھورے عمل سے اکتاتی جارہی تھی اور اسے خوف آنے لگا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ صدر کا جنون اس کی بھوک بڑھادے اور اس کے پستانوں کو ایک روز کھینچ کر اس کے سینے سے علیحدہ کردے۔

 

حالانکہ یہ ڈر بھی اتنا ہی غیر معقول سا تھا جتنی کہ صدر کی پستانوں کے متعلق منطق۔وہ واقعی ایک ایسی متھ تھی، جو اس نے خود گڑھی تھی، وہ اس کتاب میں لکھے ہوئے غیر معروضی قصوں سے بہت آگے بڑھنے لگا تھا، جن کو وہ کچھ عرصے تک خود ہی بے ڈھب اور بے مصرف خیال کرتا تھا۔مگر پستان ، اب اس کے وجود کا حصہ بنتے جارہے تھے ، این نے ایک روز دیکھا کہ بھیانک رات ہے، وہ پلنگ پر اوندھی لیٹی ہے، سامنے سے ایک بھورے بالوں والی ریچھنی پر سوار ہوکر صدر اس کی طرف بڑھ رہا ہے، صدر کے سینے پر دو بہت بڑے بڑے پستان اگ آئے ہیں، وہ ریچھنی کے پستانوں میں اپنے سینے کو انڈیلنے کی کوشش کررہا ہے، یہ سارا منظر اس کی نگاہوں کے سامنے دھندھکتا ہوا موجود تھا، وہ خود بھی تھوڑی دور پر اوندھی لیٹی تھی، مگر وہ وہیں موجود تھی، بالکل عین اس ریچھنی اور صدر کے سامنے۔صدر کے اس پاگل پن کو دیکھتے ہوئے، وہ اچانک اسے روکنے کے لیے اٹھی ، مگر یہ دیکھ کر اس کی گگھی بندھ گئی کہ اس کا سینہ سپاٹ ہے، بالکل سپاٹ۔اس نے ررھیاتے ہوئے صدر کی طرف دیکھا، وہ این کے پستانوں کو ریچھنی کے کولہوں پر باندھ رہا تھا، عجیب سی رنگ برنگی دھجیوں کی مدد سے۔اپنے سپاٹ سینے کو دیکھ کر این بہت دیر تک چیخنے کی کوشش کرتی رہی، مگر ایسا لگتا تھا، جیسے کسی نے اپنے انگوٹھے کے نیچے اس کی حلق کے عین درمیان آواز کو دبایا ہوا ہے، اور جب وہ چیخی تو دیکھا کہ آس پاس کوئی نہیں تھا، نہ صدر، نہ ریچھنی ،دو چمکتے ہوئے پھسلواں گلابی رنگ کے گول گول کٹوروں کے نیچے اس کے پستان محفوظ تھے۔صدر کمرے میں نہیں تھا اور یہ سناٹا بھائیں بھائیں کرکے، اس کی وحشت کو اور بڑھا رہا تھا۔رات کا پتہ نہیں کون سا پہر تھا، وہ اٹھی، اس نے کرتا پہنا اور سلائڈنگ میں جاکر کھڑی ہوگئی، اب وہ شعوری طور پر اپنے ذہن کی آنکھ کھلی رکھ کر اپنے پستانوں کا مستقبل طے کرنے جارہی تھی۔

 

پستان جو اس ہلکے خنک ماحول میں دھڑکنوں کے ہنڈولے میں پڑے خراٹے لے رہے تھے۔

 

نیچے اندھیرا تھا۔شفاف اندھیرا، جس میں سے جھانکتے ہوئے چھدرے کمپائونڈ کی آنکھیں اسے گھور رہی تھیں۔نہ جانے کب تک وہ یونہی کھڑی رہی۔اس کا جی چاہا کہ وہ سگریٹ پیے، مگر اسے ڈھونڈنا پڑتا اور اس وقت وہ ہلنے ڈلنے کے موڈ میں نہیں تھی۔وقت بیتتا رہا، جیسے اس کا تمام بدن اپنے پستانوں کی موجودگی پر خوش ہے اور ہوائیں، اس کی زلفوں، گردن کے روئوں اور پستانوں کو لوریاں سناتی رہیں۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

صدر کی آنکھ کھلی تو این جاچکی تھی۔ایک چھوٹا سا نوٹ فرج کے اوپر لگا ہوا تھا، جس میں لکھا تھا۔

 

‘میں جارہی ہوں، کیونکہ میں ابھی تک اپنے پستانوں کی موجودگی پر مطمئن ہوں۔بس تم سے اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ تم جس کتاب کو پڑھ کر بہک رہے ہو، اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، وہ سائنس سے زیادہ ایک فکشن کی کتاب ہے۔اور وہ کتاب تمہارے ساتھ ساتھ تمہارے آرٹ کو بھی خود میں ضم کرتی جارہی ہے۔ہوسکے تو اس وہم سے خود کو باہر نکالو۔میں صرف تمہاری اتنی ہی مدد کرسکتی تھی کہ وہ کتاب تمہاری نگاہوں سے دور لے جائوں۔شاید یہی تمہارا علاج ہو۔اب ہم کبھی نہیں ملیں گے۔’

 

صدر نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔اسے یاد نہیں آرہا تھا کہ اس نے این کے پستانوں کے ساتھ کوئی وہمی قسم کا سلوک کیا ہو۔
Categories
فکشن

کرلاہٹ

اُس نے میرے سامنے اپنی کلائی کاٹ کر خودکشی کر لی تھی کیونکہ اُس کے بارہ دروازوں میں سے کوئی بھی کھلا نہیں تھا جس سے وہ فرار ہو سکتا۔ لیکن ٹھہرئیے کہانی یہاں سے شروع نہیں ہوتی۔ میں پندرہ سال کی تھی جب ایک رات میرے بالوں کو سنوارتے ہوئے میری ماں مجھے اپنے وجود کے اُس تہ خانے میں لے گئی تھی جہاں سوائے گھٹا ٹوپ اندھیرے کے کچھ نہیں تھا میں آنکھیں کھول کھول کر اُس میں راہ ڈھونڈنے کے بارے میں سوچنے لگی۔ میری ماں اپنا شوہر ڈھونڈنے نکلی تو ساس کی نفرت میں مبتلا ہو گئی اور انجام کار ساس سے ایسا انتقام لیا جو ایک عورت ہی لے سکتی ہے۔ یہ میری پیدائش سے پہلے کا واقعہ ہے جب وہ اپنے شوہر کی تصویر پرس میں ڈالے اپنے سسسر کے ساتھ گھر سے فرار ہوئی۔ اور اُس کا سسر بھی ایک ہاتھ سے تہبند سنبھالے دوسرے ہاتھ میں میری ماں کی کلائی تھامے نکلا۔ اُس نے میری ماں کی طرح بیٹے کی تصویر نہ اُٹھائی لیکن یہ تصویر تو میری ماں کے وجود پہ چسپاں تھی۔ میری ماں مجھے بتاتی ہے کہ وصل کہ انتہائی لمحوں میں وہ اُٹھ بیٹھتا اور لائٹ بند کرنے کو دوڑتا اور اُس کے ہاتھ کپکپانے لگتے۔۔ ٹھیک دو سال بعد اُس نے کھڑکی سے کود کے خودکشی کر لی۔ میں کس کی بیٹی ہوں؟ اس کا جواب میری ماں کے پاس نہیں تھا یا وہ مجھے دینا نہیں چاہتی تھی۔ یہ پہلا دن تھا جب میرے وجود پر نا معلوم کی چھاپ لگی۔

 

صبح میں اُٹھی تو میں نے دیکھا کہ بستر پر میری ماں پہلے سے کہیں زیادہ عریاں لگ رہی ہے۔ بالوں کی ایک لٹ اُس کے چہرے کو چھوتے ہوئے اس کی گردن کر گرد لپٹی ہوئی تھی۔ کاش وہ ایک پھندہ ہوتا مٰیں نے سوچا۔ مجھے بعد میں پتا چلا کہ وہ ایک پھندہ ہی تھا۔ میرا سر تپ رہا تھا اور پیٹ میں عجیب سا درد اُٹھ رہا تھا۔ میں ٹکٹکی باندھے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی رات کسی فلم کی طرح میری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی۔ بالاخر میں تیزی سے بیڈ کے پاس آئی جھٹکے سے بیڈ کے اوپر سے ہوتی ہوئی ماں کے پیٹ پر چڑھ گئی۔ میرا سانس پھولا ہوا تھا اور حلق خشک ہو رہا تھا۔ وہ ہربڑا کر اُٹھنے لگی میں نے اُسے بازوں سے پکڑا اور لٹا دیا اور اسے جھنجھوڑنے لگی۔ میں ٹھہر ٹھہر کر چیخ رہی تھی۔ پہلے وہ گبھرا گئی پھر وہ مسکرائی۔ اُس نے مجھے زور سے بھینچ لیا اور میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئیے۔ کمرے میں پسینے، گیلی مٹی اور کچے پیاز کی ملی جلی خوشبو پھیلنے لگی۔

 

مجھے ہر طرف بالوں کی لٹ نظر آنے لگی۔ کھانا بناتے ہوئے وہ ہنڈیا کے بیچ میں تیر رہی تھی۔، کتابوں کے اندر، کمرے کی دیواروں سے گھورتی ہوئے، میری چھاتیوں اور رانوں سے لپٹی ہوئی وہ ایک لٹ۔ رات میں نے اُسے درخت سے لٹکتے ہوئے دیکھا وہ بڑھتے بڑھتے آسمان تک پہنچ گئی اور زمین پر گھاس کی طرح اگنے لگی وہ تیزی سے میری طرف بڑھ رہی تھی میرے پاوں اُس گھاس میں الجھنے لگے اور میری چیخ حلق میں پھنس کے رہ گئی۔میں آئینے کے سامنے کھڑی اپنے عکس کو شکست دینے کی کوشش کر رہی تھی کہ میری اُس سے پہلی ملاقات ہوئی۔ وہ سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔ اُس کی ہنسی بہت وحشت ناک تھی میں گبھرا کر پیچھے ہٹ گئی۔ پھر وہ ہر جگہ ہی نطر آنے لگا۔ایک دن میں ٹیبل پہ بیٹھی کھانا کھا رہی تھی کہ وہ ایک لال بیگ کی پشت پر سوار ہو کر نیچے سے گزرا اس نے کسی سورما کی طرح جنگی سامان سینے پہ سجا رکھا تھا۔ مجھے ہنسی آ گئی۔ میری ماں نے جُھک کر نیچے دیکھا اور لال بیگ کو پیر کے نیچے کچل دیا اس کا سب خون کھانے میں پھیل گیا۔ مجھے کراہت محسوس ہونے لگی اور میں کھانا چھوڑ کر واش روم بھاگ گئی۔ وہ ٹونٹی کے اندر سے نکلا۔ میں نے دیکھا اُس کی پسلیاں زخمی تھیں اور اس کی انتڑیاں باہر نکلی ہوئی تھیں۔ میں نے اُس کی مرہم پٹی کی۔ ایک دفعہ میں کمرے میں آئی تو میں نے دیکھا کہ سارا فرش شیشے کا ہو گیا ہے جس پر اس نے تیل گرا دیا ہے اور خود کنارے پہ کھڑا مجھے آوازیں دے رہا ہے۔ میں اُس کو پکڑنے بھاگی لیکن پھسل کر گر پڑی۔ وہ کمرے کے ایک کونے سے دوسرے کونے پر پھسلتا جا رہا تھا اور مجھے پیچھے بلا رہا تھا۔ میں بھاگ بھاگ اور پھسل پھسل کر تھک سی گئی تھی پر وہ مجھے رُکنے نہیں دیتا تھا۔ میرا پورا وجود چپ چپا اور لیس دار ہو رہا تھا۔ میری ماں کمرے میں داخل ہوئی اور کمرے کی حالت دیکھ کر غصے سے مجھے کوسنے لگی وہ جلدی سے ایک بل میں چھپ گیا تھا۔ میری ماں مجھے پکڑ کر شاور کے نیچے لے گئی۔ وہ مجھے نہلا رہی تھیں پر میری ہنسی ہی بند نہیں ہو رہی تھی۔

 

وہ جرمن زبان بولتا تھا پھر بھی مجھے اُس کی ہر بات سمجھ آتی تھی۔ وہ مجھے جرمن زبان کے شعر سناتا تھا۔ کچھ کچھ شعر مجھے اب بھی یاد ہیں

 

“ہاں اب میں ایک چکنا پتھر ہوں لیکن میرے اندر وہ لمحہ فوسلز کی طرح قید ہے جب میں نے خود میں روح پھونکی
تھی۔ تم کسی نوک دھار آلے (تمہاری آنکھو ں سے زیادہ نوک دار کیا ہو سکتا ہے) سےمجھے عین دل کے پاس سے چیروں تو اولین بوسے کو پڑھ سکتی ہو “

 

” میں عدم میں سو رہا تھا کہ میرے اندرچیخ بھر دی گئی۔ پھر میں شیشے کی طرح ٹوٹا اور میری آگ اور چیخ کرچیوں کی طرح ہر سو پھیل گئی”

 

“جس نے بھی سورج سے آگے نکلنے کی کوشش کی اُس کے سائے نے خود کشی کر لی، اب وہ آسمان کے متوازی غروب ہو رہا ہے”
” اگر تم کرب سے نکلنا چاہتے ہو اور تمہیں ہمیشگی کی تلاش ہے (جیسے تمہارے پہلوں کو تھی) تو تمہیں نہ ختم ہونے والے خواب کا حصہ بننا پڑے گا”

 

وہ مجھے شعر سناتا رہتا اور میں گھنٹوں اُن کی دھنیں ترتیب دیا کرتی تھی ایسے میں میری ماں مجھے حیرت سے دیکھتی رہتی۔ ایک رات میں چھت پہ کھڑی اُس کی شاعری کو سوچ رہی تھی اور وہ نیچے ٹیبل میں بیٹھا تصویر بنا رہا تھا۔ میں نے گنگنانا شروع کر دیا۔ میری آواز لبالب اندھیرے میں بہتی چلی جا رہی تھی پھر وہ سیلاب کی طرح منہ زور ہو گئی پھر وہ پھن اٹھا کر کھڑی ہو گئی پھر ایک چیخ بن گئی جو آسمانوں تک جا رہی تھی پھر وہ ناخنوں سے آسمانوں کُھرچتی ہوئی واپس آنے لگی پھر اُس کے سانس بے ترتیب ہونے لگے یہاں تک کہ پوری فضا ایک نامعلوم اداسی میں ڈوب گئی۔ اب صرف ایک دھیمی سی نا سمجھ میں آنے والی دھُن گونج رہی تھی جو کائنات کے سبھی کناروں سے باہر نکل رہی تھی۔ میں نے نڈھال ہو کر ریلنگ پر سر رکھ کر اُس کی طرف دیکھا۔ وہ اس دوران وہی تصویر بنا رہا تھا جس میں ایک کلی کو درمیان سے کاٹا گیا تھا جس کی ڈنڈی سلگ رہی تھی اور اُس کا دھواں پوری تصویر میں پھیل رہا تھا کٹی ہوئی کلی سے پتیاں بے جان ہو کر تصویر کے پیندے میں گر رہی تھیں ایک انگارہ کلی کے اندر سے طلوع ہو رہا تھا جس کی پیشانی سے پسینے کے قطرے ڈنڈی کے اندر گر رہے تھے اور وہ مزید سلگتی جا رہی تھی۔ اُس کی پوری تصویر کو آگ لگ چکی تھی۔ میں نے اپنے اندر بھڑکتی ہوئی آگ محسوس کی اور بھاگ کر بستر میں گھس گئی۔ میرے اندر کا سب پانی لاوہ بن کر بہہ رہا تھا۔

 

میری امی کو لگتا تھا کہ میرے اوپر کوئی سایہ ہو گیا ہے وہ سورتیں پڑھتی اور مجھ پر پھونکتی رہتی۔ اس دوران وہ پاس کھڑا مسکراتا رہتا اور مجھے شعر سناتا اور میں بے خود ہو کر ان کی دھنیں بنانے میں کھو جاتی۔ ایسے میں میں بہت استغفار کرتی پر دھنیں کہیں میرے اندر سے پھوٹ رہی ہوتی تھیں اور میں بے قابو ہو کر ناچنے لگتی اور ماں کی باہوں سے نکل نکل جاتی تھی۔ایک دن میری ماں نے مجھ سے پوچھا”تمہاری اُس سے پہلی ملاقات کہاں ہوئی”۔ “ آئینے میں” میں نے جواب دیا۔ “ بیٹا وہ تیرے عکس کے قید خانے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ نکل آ اُس سے باہر میری جان” وہ کچھ کھوجتے ہوئے بولی۔ مجھ سے رہا نہ گیا میں پنجوں کے بل کھڑی ہو گئی “آئینے میں تو ہم سب ہیں امی جان، ایک وہی تو آئینے کے باہر ہے۔ ہم سب اپنے اپنے دائروں میں آئینے کے اندر آزادی ڈھونڈتے ہیں۔ ہم ایک پرچھائی ہیں جو خود سے بڑھ جانے کی جستجو میں مبتلا ہیں۔ ہم آئینے کے کسی خانے میں پوشیدہ ہونا چاہتے ہیں پر وہ ہمیں ڈھونڈ لیتا ہے۔ وہ جب آئینے کے سامنے آتا ہے ہمیں باہر آنا ہی پڑتا ہے۔ تم خود سوچو تم نے جو کچھ بھی کیا وہ آئینے سے باہر نکلنے کی سعی کے سوا کیا تھا۔ تم مجھے اُس سے بچانا چاہتی ہو؟ تم تو مجھے خود سے بھی نہ بچا پائی۔ ہمارے بارہ دروازوں میں کوئی بھی تو کھلا نہیں ہے۔ ”۔ میں روتے ہوئے ہچکیوں کے درمیان بولتی چلی جا رہی تھی۔ میری ماں کا چہرہ دھواں دھواں ہو رہا تھا۔

 

آج پھر جب وہ مجھے ملا تو اس کے ہاتھ میں ایک خالی کاغذ تھا۔وہ مجھے آزار پہنچانے پر شرمسار تھا۔ مجھے تو اُس سے کوئی شکایت نہیں۔ وہ مجھے اپنے شیش محل میں لے گیا۔ وہ کسی کہانی کے دیو کی طرح آئینوں میں اپنا عکس دیکھ کر غُرا رہا تھا۔ اُس نے ایک ایک کر کے سارے آئینے توڑنا شروع کر دئیے۔ فضا میں ہر طرف کرچیاں اُڑ رہی تھیں۔ سبھی عکس زروں میں تقسیم ہوتے چلے جا رہے تھے۔ میں نے اونچی آواز میں opera گانا شروع کر دیا۔ جب میں شہزادی کے بین پر پہنچی میری آواز اتنی بلند تھی کہ میں اندر سے چیری جا رہی تھی۔ وہ کانچ کا ایک بڑا ٹکڑا اُٹھائے کھڑا تھا۔ ہمارا لہو ہمارے عکس کو دُھندلا رہا تھا۔ میری ماں نے بال کھول لئے تھے اور سر پیٹنا شروع کر دیا تھا

Image: Morteza Loghmani

Categories
فکشن

نوح، فاختہ اورکبوتر باز

خدانے بادلوں کو دھکیل کر آسمان اور زمین کے درمیان کے راستے کو صاف کر دیااور خدا کی آواز سورج کی کرنوں کے ساتھ مسافت طے کرتی ہوئی حضرت نوح علیہ السلام کے کانوں سے جا ٹکرائی۔ وہ آواز حکم نہیں تھا۔ بلکہ مشورہ تھا۔ خدا کے عذاب سے اْن بے گناہوں کو بچانے کا۔ اس زمین کو دھودیا جائے۔ گناہوں کی میل کو نکال نچوڑ پھینک دیا جائے۔خدا کا ایک فیصلہ تھا۔حضرت نوح علیہ السلام سجدے میں گر گئے اور خدا کے فرمان کے ایک ایک لفظ کو جمع کرنے لگ گئے جیسے کسی ملک کا وزیرخزانہ غلے کی ذخیرہ اندوزی کرلیتاہے۔ کسی بہت بڑے طوفان کی آمد سے پہلے ایک محفوظ جگہ پر اکٹھا کر لیتا ہے۔

 

خدا نے مشورہ دیا سفینہ حیات عمل میں لاؤ۔ ایک بڑی کشتی کو وجود دو۔ حضرت نوح علیہ السلام شش و پنج میں کھو گئے۔ اتنی بڑی کشتی کیسے بناوں گا؟ خدا نے حضرت نوح کی پشیمانی کو سمجھتے ہوئے کہا۔ ہم نے تجھے جس کام کے لیے چناہے ہم وسیلہ بھی مہیا کردیں گے۔ یہ کشتی ساگوان کے درخت سے تشکیل دینا۔ ساگوان اور زمین کے کان کھڑے ہوئے۔ اور اسی وقت زمین نے حضرت نوح علیہ السلام کے ارد گرد اپنے جسم پر گھاس کپاس کی جگہ ساگوان کو پلک جھپکتے اُگا کر بہت بڑا جنگل کھڑا کر دیا۔

 

خدا نے کہا ساگوان کی لکڑی سے پرندے کا پیٹ بنا لینا۔ یہ اس لیے پیٹ کو سب سے محفوظ جگہ بنادیا گیا ہے کہ ماں اپنے بچے کو اپنی زندگی سے زیادہ محفوظ کر لیتی ہے بالکل ویسے ہی جیسے ہم نے حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔انسانوں کے گناہ کی سزا معصوم جانوروں کو کیوں ملے۔ انسان نے لالچ کیا طمع کیا اور اپنی بھوک مٹانے کے لیے اپنے ہی جنے ہوئے بچوں کو چبانے لگی۔

 

تو پھر سب کچھ مٹادیا جاتا ہے۔ تباہی ایسی تباہی جو جنم دے۔ اتحاد کی ماں کو اور وہ ما ں پھر جنم دے محبت کو، امن کو، سکون کو، خوشحالی کو، صلح کو، پناہ کو۔

 

حضرت نوح نے کالی پہاڑی کوے کو زیتون کی ٹہنی دی اور کہاکہ امن کا یہ پیغام تم لے جاؤ اور دنیا کو بتادو۔ اس دنیا میں گناہ اور گناہ گار کو مٹا دیا جائے گا۔ پھر نئے سرے سے یہ دنیا گناہوں سے پاک ہو کر اُٹھے گی۔
اورحضرت نوحؑ خدا کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے کام میں جت گئے۔ ایک بہت بڑی کشتی بنانے لگے۔ اتنی بڑی کہ جس میں تمام چرند پرند انسان حیوان سماسکیں۔ اور اپنے آپ کو قہر خدا سے بچاسکیں۔

 

پرندے کے شکم نما وجو بنانے میں مصروف ہوگئے۔ تاریخ کے سب سے بڑے طوفان جو قہر غضب ہے اس سے لڑ سکے۔ پرندے کے شکم نما بیڑے کو تین بڑے بڑے حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس کی تین مشترکہ عمارتیں نما کشتی کی ایک منزل میں جنگلی اور خونخوار کے لیے وقف کیا۔ دوسرے حصے میں پالتو جانوروں کا قیام کابندوبست کیاگیا۔ دوسری منزل انسانوں کے لیے وقف کردی گئی۔ اور تیسری منزل پر پرندوں کابسیرا طے پایا گیا۔ سب سے اوپر والے حصے پر حضرت نوح کے اگلے حصے میں انکے بیٹے اوج کو جگہ دے دی گئی۔ اوج واحد جن تھے جن کو سفینہ نوح میں پناہ ملی۔ تینوں حصوں کو تین پیغمبروں کے نام سے منسوب کردیاگیا۔ حضرت آدم نے انسانوں کے لیے کشتی کے درمیانی حصے کو چنا۔ جو تقسیم کردیا دو حصوں میں۔ عورتوں اور مردوں کے درمیان ایک راستہ نکال دیا۔

 

اللہ کے نام سے ہی سفینہ نوح اپنی زندگی کے سفر کاآغاز کرے گااور اسی کے نام سے اختتام۔
حضرت نوح ؑ نے پانچ سے چھ مہینے اس سفینہ حیات میں گزارے۔

 

زندگی کے اس سفر کے اختتام پر جب حضرت نوح ؑ نے کوے کوواپس سفینہ نوح پر آتے دیکھا تو جس کی چونچ میں زیتون کی ٹہنی کی بجائے مردار گیدڑ کے گوشت کے ریشے تھے۔ غصے سے آگ بگولا ہوئے۔ ’’لعنت ہو تم پر، تم لالچی ہو، حرصی ہو۔ تم میرا امن کاپیغام دنیا تک پہنچانے میں ناکام ہوئے۔ تم نےراستے میں مردہ گیدڑ دیکھا اور امن کانشان زیتون کی ٹہنی کو چھوڑ کر اپنی پیٹ کی بھوک مٹانے لگ گئے۔ “

 

حضرت نوح علیہ السلام نے فاختہ کوبلایا اور کہاکہ تم انسانوں سے محبت کرنے والا پرندہ ہو۔ ا ور یہ لو۔ زیتون کی اک ٹہنی جو پتوں سمیت تھی کو توڑ کر فاختہ کو دیتے ہوئے کہا۔

 

جاؤ تم امن کا پیغام دنیا کو پہنچانا خدا تمہارا حامی و ناصر ہو گا۔

 

فاختہ کے لیے اصل سفینہ نوح تو اب شروع ہواتھا۔ اس کے ذمے ایک پیغام تھا جو اس نے دنیاکو پہنچاناتھا۔ یہ پیغام اس کی زندگی سے زیادہ اہم تھا۔ اسے فخر محسوس ہو رہاتھا۔ مجھےچنا گیاہے کہ میں انسانیت کی بقا کے لیے ایک امن کا پیغام لے کر انسانوں سے دوستی کا حق ادا کرسکوں۔ مجھے سب پرندوں میں سے افضل اور چنا گیاہے کہ میں اس عظیم عمل کو پورا کروں۔

 

فاختہ کو یوں لگ رہاتھاکہ دنیا میں سب صوفیاؤں نے اپنے درباروں کے دروازے اس کے لیے کھول دیے ہیں۔ اپنے گنبدوں کو اجازت دے دی ہےمیرے فاختالی رنگوں کو اپنے سبز رنگ میں نمایاں کرنے کی۔

 

ننھی سی فاختہ امن کے زہتونی پرچم کو چونچ میں دبائے پھڑپھڑاتی اڑتی چلی گئی۔ سمندری طوفانوں کے منہ زور تھپیڑے اس کی ہمت کے آگے کچھ بھی نہ تھے۔ وہ اڑتی رہی اڑتی رہی۔ طوفان اور ہوا کی کچھ ایسی قاری ضرب لگی کہ نہ جانے یورپ کے اس حصے میں جا پہنچی جہاں فوجی وردی میں ایک چھوٹے قد کاانسان۔ قدآور خدا سے مقابلہ کرنے پر تُلا ہوا تھا۔ ٹینک اور فوجی مشقیں اس کے حکم کے انتظار میں انسانوں کو کچلنے کے لیے تیار کھڑی تھیں۔ اس نے اپنی ناپسندیدہ قوم کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور وہ خود اپنی موت خودہی مرگیا۔

 

فاختہ اڑتی ہوئی جاپان جا پہنچی جہاں دنیا کی ایک بڑی طاقت نے دوسری طاقت کو سبق سکھانے کہلیےایٹم بم پھینکے۔ فاختہ دیکھ رہی تھی۔ ایک طوفان ا ٹھا تھا برقی شعاعوں کا جو مقناطیسی موجوں کی مدد سے مادے کو ذروں میں منقسم کر تا ہو انسان چرند پرند نباتات کو بے جان ذروں میں منتقل کر رہی تھیں اور چند لمحوں میں ایک نفرین کی بوچھاڑ اور ایک بڑے جکھڑ نے فلک بوس عمارتوں کو ایک چٹیل میدان بنا دیا۔لیکن پھر بھی وہ طوفان نوح جیسا طافان نہ تھا۔ پھر بھی لوگ بچ گیے تھے۔

 

پھر فاختہ زیتون کی ٹہنی دبائے اُڑتی اُڑتی نہ جانے ایشیا کے ایسے خطے میں آن پہنچی جہاں سینکڑوں، ہزاروں دس ہزاروں لوگ اپنے اپنے گھروں کو چھوڑ کر دوسرے کے چھوڑے ہوے گھروں میں بسنے کے لیے ہجرت کررہے تھے۔ ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں۔ سرحد کی کھینچی ہوئی خار دار تار پر بیٹھ کر فا ختہ کا رونے کو اس کا دل چاہا۔ لیکن اسے اپنا مقصد یاد تھا۔ اوپر آسمان کی طرف اڑنا شروع کردیا۔ اپنے سفید رنگ کے امن کا پرچم پھڑپڑھاتا نظر آیا۔ وہ جھنڈے کی چوٹی پر بیٹھ کر گوں، گوں، گوں کرکے حضرت نوح کا دیا ہوا پیغام پہچانا چاہتی تھی۔ ابھی جھنڈے کی جانب اڑ ہی رہی تھی کہ گولیوں کی بوچھاڑ سے جھنڈ ا زمین پر آن گرا۔ چھریوں، برچھیوں نے جھنڈے کا ریزہ ریزہ کر دیا گیا۔ اپنے منہ میں دبائے ہوئے زیتون کی ٹہنی جو امن کی ٹہنی تھی۔ منہ میں دباتی کبھی اپنے پنجے سے امن کا ایک ہر ابھرا پتہ سکون پناہ صلح کا سندیسہ ساتھ لیے آسمان پر تیرتے ہوئے بادلوں کے ساتھ تیرتی کہاں سے کہاں جا پہنچی۔ ہوائیں ہمیشہ اسے وہاں دھکیل دیتی جہاں اس کو امن کا پیغام پہنچانا ہوتاتھا۔ وہ اس مقام پر پہنچی جہاں انسانیت ظلم کے تیز دھار تلوار کی نوک پر دم توڑ رہی تھی۔ جہاں حاملہ ماؤں کو ٹینکوں کے آہنی تیشے کچل رہے تھے۔ فلسطین کے گھروں کو روندتے ہوئے اسرائیلی ٹینک کی چڑھائی کا تماشہ دنیا تو دیکھ رہی تھی لیکن اس فاختہ سے یہ منظر نہ دیکھا گیا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ ان ٹینکوں سے گولے برساتی نالیوں کے منہ پر اپنا پنجہ رکھ دے۔ فاختہ ایک ٹینک کی نالی پر جا بیٹھی۔ ٹینک نے جب گولہ برسایا تو ٹینک کی نالی بارو کی تپش سے دیکھتے ہوئے کوئلے کی طرح سرخ ہوگئی۔ بیچاری فاختہ کے دونوں پنجے جل گئے اور چیخ سے اس کے منہ سے امن کی ٹہنی گر گئی۔ اس کے لیے جان دینا تو آسان تھا لیکن جان بچا کر پیغام پہنچانا زیادہ ضروری تھا۔ وہاں سے اڑتی اڑتی مشرق وسطی کی کسی عرب امارات کی ریاست میں ایک بہت بڑی مسجد کے تالاب سیے اپنے جلے ہوئے پنجوں کو ٹھنڈے پانی میں بھگونے کے لیے تالاب کے پانی میں اتر کر تیرنے لگی۔

 

کھلو اس زخمی فاختہ کو دیکھ کر سمجھ گیا کہ اس بیچاری کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔ کھلو کا اصل نام خالد تھا۔ وہ پاکستان کے ایک چھوٹے سے قصبے میں رہتاتھا۔ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے یہاں محنت مزدوری کرنے آیا ہواتھا۔ کام سے فارغ ہو کر مسجد کے تالاب پر آکرکبوتروں کو دانہ ڈالتا، ان کی دیکھ بھال کرتا۔ کھلو اپنے شہر کامشہور کبوتر باز تھا۔ کبوتربازی کے شوق میں وہ بالکل نہ پڑھ سکا۔ اکیلے سارا سارا دن کوٹھے کی چھت پر اپنے پالتو کبوتروں کی ٹولی کو آسمانوں سے اڑاتا۔ اس کی کبوتروں کی ٹولی دوسرے کبوتروں میں گھل مل کر کئی کبوتروں کو اپنی ٹولی میں ساتھ لے آتے۔ جبھٹ کر کھلو اجنبی کبوتروں کو پکڑ کر ان کے پر دھاگے سے باندھ دیتا۔ ہمیشہ فخر سے کبوتربازوں کو نسخہ بتاتااگر کبوتر کو گردان کرنا ہو تو اسے ہر روز موتی چور کے لڈوکے دانے کھلا دو۔ تمہارا گھر نہیں چھوڑیں گے۔ وہ اپنے بیمار کبوتروں کا علاج بھی کرلیتا۔ اسی وجہ سے جو کبوتر اس کی ٹولی میں شامل ہوتا کبھی وہاں سے نہ جاتا۔ اس کے گھر کی مٹی سے بنے ہوئے کبوتروں کے کُھڈے میں جنگلی کبوتروں سے لے کر جھونسے۔چنیے۔لکے۔کل سرےٹیڈی قصوری کبوتر تھے۔ اسے کبوتروں سے عشق تھا۔ وہ کبوتروں کے کبوتروں کے پاوں میں سونے اور چاندی کے گھنگرو باندھتا۔ایک دفعہ تو کبوتر خریدنے کے لیے اپنی بیوی کے زیور تک بیچ دئیئے۔ اس عشق میں میٹرک کے امتحان میں فیل ہوگیا۔ لیکن کبوتربازی سے اسے اتنی آمدنی تھی وہ آرام سے گزر بسر کر لیتا تھا۔ کیونکہ وہ جو بھی کبوتر بیچتا وہ کچھ دنوں بعد اُڑکر اس کے گھر آجاتا۔ جب اس نے زخمی فاختہ کو دیکھا تو فوراً اس نے فاختہ کے پیچھے سے جاکے جھپٹ کر پکڑ لیا۔ اپنے منہ کے لعاب سے زخمی فاختہ کے پنجوں پر لگادیا اسے اپنے ساتھ گھر لے آیا کمرے میں دروازہ بند کرکے ہلدی اورشہد کے ملاپ سے مرہم بنا کر فاختہ کے پنجوں پر لگا کر اپنی پرانی قمیض کی چھوٹی سی پٹی پنجوں پر باندھ کر اس کاعلاج کرنا شروع کردیا۔

 

وہ ہمیشہ اپنی بیوی کو کہا کرتا تمہاری آنکھیں فاختہ کی طرح ہیں۔جب تم چلتی ہو تو جیسے فاختہ گنگنا رہی ہو۔جو غصے اور شدت سے عاری ہےجو محبت اور خوبصورتی سے بھرپور ہیں۔ جو مجھے چاہت اور معصومیت سے دیکھتی ہیں۔سرِ تسنیم خم خم کرتی رکھتی ہے۔

 

وہ اپنی بیوی کو کہتا تم فاختہ کی طرح شرمیلی ہو۔ جب تم بولتی ہو تو لگتاہے فاختہ جنگل کے سائے میں ہوں ہوں کر رہی ہے۔ تمہاری آواز ٹھنڈ ک بخشتی ہے۔ وہ ننھی فاختہ کو دیکھتا رہتا اور فاختہ بھی اسے حیرانی سے پیاربھری نگاہوں سے سر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پر جنبش دے کر تکتی رہتی۔ فاختہ بالکل کھلو سے نہیں ڈرتی تھی۔اسے محسن کے ہاتھوں گرمائش میں اسےایک سکون ملتاتھا۔

 

وہ اس کے منہ کو تکتی رہتی اس کی مسکراہٹ کھلو محسوس کرلیتا تھا۔ وہ اسے بتانا چاہتی تھی۔ مجھے ایک بہت اہم فرض سونپاگیاہے۔ مجھے ہر حالت میں بھی اپنا فرض پوراکرناہے۔ اس کی آنکھوں میں تیرتے ہوئے آنسو سب کچھ تو نہیں لیکن کھلو کو ا تنا سمجھا سکے کہ فاختہ یہاں نہیں رہنا چاہتی۔ کھلو اسے کہتا تمہارے پنجے ٹھیک ہوجائیں میں تمہیں تالاب میں چھوڑ دوں گا۔ لیکن اس کی آنکھوں کے تر آنسوؤں نے کھلو کو مجبور کردیا کہ میں اسے اسی حالت میں تالاب پر لے جآئے ۔ کھلو نے ویسا ہی کیا اور فاختہ کو پنجوں پر پٹیاں بندھے ہوئے تالاب پر لے گیا۔ اور اسے وہاں چھوڑ دیا۔ اپنی نوکری کو بھی خیر باد کہہ کر سارا دن فاختہ کی دیکھ بھال کرتا۔ تالا ب کے سب کبوترکھلو کے اردگرد جمع رہتے۔ جیسے وہ ان کا بہت اچھا دوست ہو۔ مالک شیخ نے کھلو کا والہانہ عشق دیکھ کر اسے مسجد میں کبوتروں کی دیکھ بھال کے لیے نوکر رکھ لیا۔

 

ایک بہت ہی خوبصورت کبوتر فاختہ کو دیکھتا رہتا کہ یہ بیچاری چل نہیں سکتی ایک جگہ بیٹھی رہتی ہے ہر روز اس کے پاس جا کر بیٹھ جاتاہے۔ ایک دن اس نے اسے کہہ ہی دیا کہ کچھ حسین حادثات ستاروں سے لٹک کر نیچے اُتر آتے ہیں۔ لیکن کسی میں اتنی طاقت نہیں ہے اس زمین کو اس کی تپش برداشت کرنے کی سکت نہیں ہے۔ کیا زمین نےتیرے حسن کی گرمائش سے تیرے ہی پنجوں کو جلا دیا۔ فاختہ شرماکے مسکرانے لگی۔ ہنستے ہوئے بولی میں تو خود برفیلی فاختہ کو وں کے غول میں پھنس گئی ہوں۔ جلتی زمین میرے پیار سے ٹھنڈی پڑ جاتی ہے۔ مشعل کی جلتی روشن آگ جلے بھی تو چمک دیتی ہے۔ اس میں نفرت کے لیے اتنا کچھ دیا جاتاہے کبھی کسی نے محبت اور امن کے لیے بھی کچھ کیا؟۔ کبوتر نے کہا میرے پنجوں کو ہونٹ سمجھ اور اس نے اپنے پنجے فاختہ کے پٹی سے لپٹے پنجوں پر رکھ دیے۔ دونوں بہت دیر تک ایک دوسرے کو دیکھتے سروں کو ہلکے سے جھٹکوں سے مختلف زاویوں پر رکھ کر دیکھتے رہے اور فاختہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی میرے ہونٹ میرے دل کی طرح زخمی ہیں۔ یہ دنیا ہر روز اپنے ظلم وستم سے میرے دل کو زخمی کرتی رہتی ہے۔ کبوتر نے اپنی چونچ کو فاختہ کی چونچ کے ساتھ یوں ملایا جیسے دونوں ایک دوسرے کے رخساروں کو چھو رہے ہوں۔ آج سے مجھے اپنے غموں میں شریک سمجھنا۔ دونوں نے مل کر عہد کیا کہ ہم دونوں امن کاپیغام جو حضرت نوح علیہ السلام نے میرے ذمے سونپا تھا پوری دنیا تک پہنچائیں گے۔ لیکن فاختہ کی آنکھیں پھر تر ہوگئیں۔ مجھ سے امن کا جھنڈ ا زیتون کی ٹہنی کھو گئی ہے۔ کبوتر نے اسے تسلی دی تم فکر نہ کرو میں ڈھونڈ نکالوں گا۔ فاختہ کو محسوس ہواکہ یہ کبوتر اس کی روح کاساتھی ہے۔ کبوتر اور کھلو اس کابہت خیال کرتے۔ کھلو باقاعدگی سے اس کی پٹی بدلتا اور اپنے ہاتھ سے بنائی ہوئی مرہم اس کے جلے ہوئے تلوؤں پر لگاتا۔

 

کھلو جیسے ہی مسجد میں داخل ہوتا سب کبوتر اس کے اردگرد جمع ہوجاتے کوئی اس کے کندھے پر بیٹھ جاتےکوئی اس کے سر پر۔ کھلو بھی اپنا منہ پھلا کر اوں اوں کی آوازیں نکال کبوتروں سے باتیں کرتا۔ نومولود کبوتروں کے بچوں کو اپنے منہ میں گندم کے دانے بھر کر انہیں ماں کی طرح چوگا چوگاتا۔ فاختہ سے اسے والہانہ محبت تھی۔ اسے ایسے دیکھتا جیسے اپنی بیگم کو دیکھتا ایک دن اس نے دیکھا کہ فاختہ اپنی چونچ سے پنجوں پر بندھی ہوئی پٹی کو کھولنے کی کوشش کررہی تھی۔ کھلو نے بھاگ کر پٹی کھول دی تو خوشی کی انتہانہ رہی۔ فاختہ کے پنجے بالکل ٹھیک ہوگئے تھے۔ وہ چوکڑیاں بھرتی چھم چھم کرتی مورتی کی طرح ناچ رہی تھی، گا رہی تھی، بہت سارے کبوترفرداً اپنااپنا منہ پھلا ے سینہ تانے فاختہ کے گرد ٹہلتے اور محبت کا پیغام سرکو جھکا کر دیتے۔ لیکن فاختہ سب کے پیغاموں کو رد کردیتی جب کوئی بدمعاش کبوتر فاختہ کو بہت تنگ کرتا تو کھلو بدمعاش کبوتر کو بھگا دیتا۔
“بدمعاش کہیں کے جب وہ تمہیں پسند نہیں کرتی کیوں اسے تنگ کرتے ہو۔ ویسے بھی وہ فاختہ ہے کبوتری تھوڑی ہے۔ مجھے پتہ ہے تمہاری چچا زاد ہے۔ تمہارا تعلق جائز ہے لیکن اس میں فاختہ کی رضا مندی بہت ضروری ہے۔ لیکن فاختہ کو اس دوست چینا کبوتر بہت پسند تھا۔ کھلو سمجھ گیا۔ فاختہ اس چینے کبوتر کو پسند کرتی ہے۔ کھلو نے دونوں کو اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیا۔ دونوں کواپنے ہاتھوں سے پیار کرنے لگا۔ جیسے وہ اپنے بچوں کو گود میں اٹھایا کرتا تھا۔ بہت دیراوں اوں کرتا رہا۔ جیسے دونوں کواشیرواد دے رہاہو یا دونوں کا نکاح پڑھا رہا ہو۔

 

کھلو نے دونوں کو ہوا میں اڑا دیا۔ دونوں اڑتے اڑتے ایک دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے۔ کبوتر نے دوسرے کبوتروں کی سینہ پھلاکر سرکو جھکا یا فاختہ سے رضامندی پوچھی تو فاختہ نے اپنی خوبصورت مخمور آنکھیں بند کرکے سرجھکا لیا۔ فاختہ نے رضا مندی ظاہر کردی ہے۔ دونوں بہت خوش تھے۔ دونوں میاں بیوی کی طرح ایک دوسرے کا خیال رکھتے۔ کھلو نے جب دونوں کو اکٹھے دیکھا تو بہت خوش ہوا اور سمجھ گیاکہ فاختہ کو اس کا ساتھی مل گیا ہے۔ کھلو کو اپنے بیوی بچے بہت یاد آتے۔ یا تو خدا نے اس کے بچوں اور بیوی کی دعاسن لی تھی کیونکہ اگلے ہی دن مسجد کے شیخ نے اسے کہاتمہارا نوکری کامعاہدہ ختم ہوگیا ہے تمہیں واپس جانا ہوگا۔ لیکن کھلو نے شیخ سے التجا کی کہ مجھے فاختہ اور کبوتر کو ساتھ لے جانے کی اجازت دے دو۔ جسے شیخ نے باخوشی قبول کر لیا۔

 

کبوتر کو اپنا فاختہ سے کیا ہوا وعدہ اچھی طرح یاد تھا۔ وہ روز زیتون کے درخت ڈھونڈتا۔ لیکن اس ریگستان میں پتھروں کی عمارتوں کا جنگل تو تھا لیکن زیتون کے درخت کا دور دور کہیں نشان نہ ملتا۔ لیکن ایک پرچون کے بہت بڑے گودام میں اسے ایک زیتون کےبیجوں کی بوری کی خوشبو نے کبوتر کو اپنی طرف کھینچا۔ وہ اڑتاپھڑپھڑاتا گودام میں جاپہنچا اور اپنی چونچ سے بوری کو پھاڑنے لگا۔ چھوٹی سی چونچ پٹ سن کے موٹے دھاگوں سے بنی ہوئی بوری پر لگی ہوئی ضربیں اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکتی تھیں۔ لیکن فاختہ سے عشق نے اس میں بہت سی طاقت انڈیل دی تھی۔ اور وہ لگاتا چونچ کے پے درپے واروں سے بوری کو پھاڑنے میں جتا رہا۔ تھک ہارکر ہانپنے لگا۔ سانس لے کر پھر بوری کے اسی خاص مقام چونچ کو ہتھوڑا بنائے ضربوں کی بوچھا ڑ کردی۔ اور وہ بوری کو پھاڑنے میں کامیاب ہوگیا۔ کچھ دیر بیٹھ کر آرام کرنے کے بعد اس نے زیتون کے بیجوں کو چگنا شروع کردیا۔ کھا کھا کر اپنے گردن کے نیچے پوٹے کو پھلا لیا۔ جیسے اس کی سانس بندہونے لگی ہو۔

 

وہاں سے اڑکر فاختہ کے پاس آیا۔ فاختہ اس کاپھولا ہوا پیٹ دیکھ کر حیران ہوئی تم کہاں تھے۔ کہیں نہیں بس زیتون کے درخت ڈھونڈ رہا تھا۔

 

فاختہ ہنسنے لگی یہاں ریگستان میں تمہیں درخت کہاں ملیں گے۔ اسی لمحے کھلو دونوں کے پاس آیا دونوں کو پیار کرنے لگا۔ پیار کے بہانے دونوں کو پکڑ کر ایک تاروں کے پنجرے میں بند کردیا۔ دونوں کو بہت غصہ آیا۔ تم بھی دوسرے انسانوں کی طرح ہو۔ جو آزادی کو سلب کرکے خوش ہوتے ہو۔ تمہاری فطرت میں ہی ہے۔ فاختہ بہت چلائی مجھے تو پیغام پہنچانا ہے دنیا کو مجھے پنجرے میں قید نہ کرو۔

 

لیکن کھلوبے زبانوں کو کیا سمجھاتا کہ میں تو تم سے محبت کرتاہوں، تمہیں اپنے پاس رکھوں گا۔ کھلودونوں کو ہوائی جہاز میں اپنے ساتھ لے آیا۔

 

لیکن سفر میں کبوتر کی حالت ٹھیک نہ تھی وہ بالکل بیمار ہوگیا۔ پیٹ میں زیتون کے بہت زیادہ بیج اس کی قوت برداشت سے زیادہ تھے۔ جس نے اسے بیمار کرنا شروع کردیا۔ کھلو جیسے ہی گھر پہنچا تو وہ اپنے بیوی بچوں سے مل کر بہت خوش تھا۔ غیر دیار سے اپنی محنت مزدوری سے کمائے ہوئے کافی سارے پیسے اس کے لیے خاصی تھے۔ اس نے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلانے کے لیے اپنے شہر کے سب سے اعلیٰ سکول میں اپنی بیٹی اور بیٹے کو داخل کروا دیا بیٹی کو فاختہ کی کہانیاں سناتا۔ فاختہ اور مکھی کی کہانی سن کے بیٹی پوچھتی کیا کہانیاں سچی ہوتی ہیں۔ کھلو کہتا۔کہانی جو بھی ہو سبق اچھا ہونا چاہیے۔اس نے فاختہ اور کبوتر دونوں کو پنجرے سے نکال کر آزاد کر دیا۔ اسے یقین تھا کہ دونوں میرے اسی گھر میں رہیں گے۔ کیونکہ پرندے تو انسانوں کے وفادار ہوتے ہیں۔ فاختہ اور کبوتر نے اردگرد کی دیوار پر بیٹھے کھلو کے خاندان کو پیار سے تکتے رہے۔ کھلو جب بچوں کو سکول چھوڑنے جا رہا تھا دونوں کھلو کا پیچھا کرتے سکول کی دیوار کے ساتھ لگے درخت پر بیٹھ کر بچوں کو دیکھتے دونوں نے فیصلہ کیا۔ کیوں نہ ہم اپنا گھونسلہ اسی درخت پر بنالیں دونوں نے تنکے جمع کرکے اسی درخت پر گھونسلہ بنا لیا۔ لیکن کبوتر کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ اس کے پیٹ میں پڑے ہوئے زیتون کے بیج اس کے معدے کو موافق نہ آئے۔ اس نے ایک قے کی اور سارے بیج نکال دیے اور کبوتر نے اپنی بے بس آنکھوں سے اپنی محبوب فاختہ کو دیکھتے دیکھتے اس نے اپیی آنکھوں کو موند لیا۔ فاختہ بہت روئی۔ اس کا جیون ساتھی رخصت ہوگیا تھا۔ اس نے محسوس کیاکہ اس کے پیٹ میں اس کے جیون ساتھی کی نشانی سانسیں لے رہی ہے۔ وہ بہت خوش ہوئی۔ وہ دن رات اپنی محبت کی نشانی کی پرورش کرنے لگی۔ آخر ایک فاختہ نے اپنے رنگ جیسا ایک ننھا سا انڈا اپنے جسم سے باہر دھکیل دیا۔ وہ بہت خوش تھی۔ وہ ہر طوفان اور برے اور بڑے پرندے سے اس کی حفاظت کرتی اپنے جسم کی حرارت سے زمانے کی حرارت سے اسے محفوظ رکھتی۔اسی گھونسلے کے اوپر ہی شہد کی مکھیوں کا چھتہ تھا ان میں سے ایک مکھی سے فاختہ کی دوستی ہوگیئ۔ ہر روز پھولوں سے شہد اکٹھا کر کےاپنے چھتے کو بھر کے فاختہ سے ملنے چلی آتی۔اسی درخت کے سامنے کھلو کی بیٹی کا سکول تھا۔ کچھ مذہبی جنونیوں نے کھلو کو پیغام بھیچا کہ وہ اپنی بیٹی کو سکول نہیں بھیج سکتا۔ اکھلو نے ان کے پیغام کو کوئی اہمیت نہ دی۔ کوسنے لگا۔ تعلیم یافتہ ماں ہی تو قوم کو بناتی ہے۔ مذسی جنونیوں نے تمام لوگوں کو سبق سکھانے کے لیے فیصلہ کیاکہ وہ سکول سے نکلتی ہوئی کھلوکی بیٹی کو گولی کانشانہ بنادیں گے تاکہ کوئی بھی آئندہ جرأت نہ کرسکے۔ سکول سے کچھ فاصلے پر ایک دہشت گرد نے اپنی بندوق کی نالی پر چپکی ہوئی دور بین کو فوکس کیا۔ سکول کے دروازے پر شست باندھی۔ فاختہ ہمیشہ بچوں کاانتظار کرتی۔ اس نے جب دیکھاکہ دہشت گرد نشانہ باندھے کھڑا ہے تو فاختہ پریشان ہوئی۔ پھڑُپھڑانے لگی۔ شہدکی مکھی کو سارا ماجرا سمجھ آگیا۔ باہراڑ کر دہشت گرد کے ہاتھ ہی پر بیٹھ گئی۔ جیسے ہی کھلوکی بیٹی سکول سے باہر نکل رہی تھی دہشت گرد نے بندوق سیدھی کرکے نشانہ باندھا۔ انگلی کو لبلبی پر رکھ کر گولی چلانے ہی والاتھا کہ مکھی نے اس کے ہاتھ پر ایسے زور سے کاٹا کہ اس کی چیخ نکل گئی۔ نشانہ تو چوک گیا لیکن گولیوں کی بوچھاڑ سے سکول کے گیٹ پر لگے بورڈ پر کئی چھید ہوگئے۔ ایک بھگڈر مچ گئی کھلو کی بیٹی کے بستے سے ایک کتاب زمیں پر گری جس میں شہد کی مکھی اور فاختہ کی کہانی جیسے فاختہ کے پروں کی طرح پھڑپھڑا رہی تھی اور سکول کو بند کردیاگیا۔

 

کھلونے سر کو اوپر اٹھا کر خدا سے دعا مانگی۔ آئے خدا جب ظلم حد سے بڑھ جائے انسان کو اپنے پیدا کیے ہوئے بچوں کو ہی نگلنے لگےان پر تعلیم کے دروازے بند کر دیے جایئں اور ظالم مذہب استعمال کرکے ظلم کی انتہاکردے تو پھر تمہیں اس دھرتی کو گناہوں سے پاک کرناہوگا۔ جب کوئی بھی تدبیر پر نہ آئے تو طوفان لاناہوگا۔ظلم سے پاک دنیا پھر سے بسانی ہوگی۔ جیسے خدا نے اس کی سن لی ہو۔ بارش کا ایک قطرہ جب کھلو کے منہ پر گرا تو وہ سمجھ گیا۔ ایک بہت بڑا طوفان آنے والاہے۔ اس نے فوراً قدرت کے فیصلے پر عمل کیا۔ ایک بہت بڑے درخت کے تنے کو صاف کرکے ایک کشتی بنائی۔ کشتی میں اپنی بیوی بچوں کو بٹھایا۔ فاختہ اور اس کے ننھے بچے کو ساتھ لیا۔ بارش تیز ہونی شروع ہوگئی۔ شدید گرمی کی وجہ سے پہاڑوں پر جمی ہوئی برف بھی پانی بن کر دریاؤں میں بندھ توڑتی ہوا تھوڑی ہی دیر میں اسی طرح طوفان کا حصہ بن گیا۔ طوفان اتنے زور کاتھا بڑی بڑی مضبوط عمارتیں گرنے لگیں۔ کھلو کی کشتی تیزی سے طوفان کامقابلہ کرتی بہتی جارہی تھی۔ فاختہ نے کیا دیکھاکہ کشتی کے کنارے اس کی دوست شہد کی مکھی بارش سے بھیگی ہوئی محفوظ جگہ پر چڑھنے کی کوشش کررہی ہے۔ فاختہ بہت خوش ہوئی۔ لیکن اسی لمحے پانی کے زور دار تھپیڑے نے مکھی کو اپنے ساتھ بہا کے لے جانے لگی۔ فاختہ بہت پریشان ہوئی۔ اس کو تدبیر سوجھی اور اس نے درخت کے چھوٹے پودے سے ٹہنی کو اپنی چونچ سے توڑنے کی کوشش کرنے لگی۔ کھلو نے دیکھاتو کچھ سمجھنے کی کوشش میں چلتی ہوی کشتی سے ٹہنی کو توڑ کر فاختہ کو دے دیا۔

 

فاختہ ٹہنی لے کر مکھی کے قریب پہنچی اور اس کے آگے پھینک دی۔ شہد کی مکھی بڑی مشکل سے ٹہنی پر چڑھنے میں کامیاب ہوگئی۔ فاختہ نے ٹہنی اٹھائی اور کشتی میں واپس آگئی۔ شہد کی مکھی کو بحفاظت چھوڑ کر کھلو کے منہ کی طر ف دیکھا۔ کھلونے ٹہنی کو فاختہ کو دیتے ہوئے کہا جاؤ امن کاپیغام دنیا کو پہنچا دو۔فاختہ نے ٹہنی کو قبول نہیں کیا کیونکہ وہزیتون کے درخت کی نہیں تھی۔

 

کشتی میں پڑے ہوے فاختہ کےننھے بچے اور سکولوں پر پڑے تالوں کے ساتھ انسانوں کے لٹکتے سروں کو کو دیکھ کر کھلو کہہ رہا گا۔شاید صدیوں کا نوح مر گیا ہےاتنا ظلم دنیا کی تایخ کبھی نہیں ہوا جتنا اب ہو رہا ہے۔اب کبھی طوفان نوح نہیں آئے گا۔

 

پورا خاندان واپس گھر پہنچا۔ ساری زمین پر نئی مٹی چڑہئ ہوی تھی۔ سکول کے سامنے والے درخت پر لگا ہو سیلاب
اپنے قد کا نشان چھوڑ گیا تھا۔ساتھی کبوتر یاد آنے لگا۔ اس نے اسی درخت پر اپنا گھونسلہ بنانا شروع کر دیا فاختہ کو اپنے بیتے دنوں کی یاد ستانے لگی۔

 

دل کے درد نے دو موٹے موٹے آنسو آنکھوں سے دھکیل دیے۔آنسو زمین پر گرنے کی بجآئے ایک پتے پر گرے۔ جس کی چھن سی آواز نے فاختہ کہ نیچے دیکھنے پر مجبور کر دیا۔ گردن کو ایک طرف جھکا کے دیکھا تو درخت کے نیچے جہان اس کے محبوب کبوتر نے قے کی تھی۔ ایک ننھا سا پودا اپنا سر نکالے کھڑا تھا۔ فاختہ درخت سے نیچے اتر آئی۔ پودے کے پتوں کو دیکھ کر اس کی آنکھوں سے خوشی کے دو اورآنسو نکل آئے۔ کیونکہ وہ پودازیتون کا تھا۔
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی-چوتھی قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہو ا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوا اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(8)

 

مولوی کرامت مسجد میں داخل ہوا تو سورج دکن کی طرف سے عین پہاڑ کومنہ کرتا تھاگویا ابھی بارہ ہی بجے تھے اوراذان دینے میں کافی وقت تھا۔ مولوی کرامت نے کھجی کی ایک صف اندر سے نکال کر باہر صحن میں موجوددھوپ میں بچھا دی،جو رات کو اوس پڑنے سے گیلا ہونے کے ڈر سے اندر رکھ دی گئی تھی۔ مسجد کا صحن کچا تھا لیکن صاف ستھرا اس لیے تھا کہ مولوی کرامت روزانہ اُس پر صفیں بچھانے سے پہلے جھاڑو ضرور دیتا کہ صفیں صحن کی گرد سے گندی نہ ہوں۔ سردیوں کی دھوپ میں صفیں بچھا کر اُس پر نماز پڑھنے کا بھی اپنا ہی ایک لطف ہے۔بوڑھوں اور کام کرنے والے افراد کے لیے اس طرح کی دھوپ میں نماز پڑھنا عبادت کے ساتھ ایک طرح کی تفریح بھی ہے۔ مسجد یوں تو پکی اینٹوں سے بنی تھی مگر تمام صحن ابھی کچا تھا،جو سردی کے دنوں میں زیادہ ہی سیم زدہ ہو جاتا۔پنجاب کے چھوٹے دیہاتوں میں جو مسجدوں کی حالت ہوتی ہے،یہ مسجد بھی اُن سے مختلف نہ تھی۔ گاؤں کے درمیان چوک کے عین بیچ اِس کا وجود خشک روٹی پر رکھے اُس پیاز کی طرح تھا جو بہت عرصہ پڑا رہنے سے سُکڑ گیا ہو۔ اِس چھوٹی سی مسجد کے صحن کو تین طرف سے دیوار نے گھیر رکھا تھا۔چوتھی سمت یعنی مغرب کی جانب خود مسجد کی مسقف عمارت تھی۔ آپ اِسے تیس فٹ لمبا اور بیس فٹ چھوٹا کمرہ کہہ لیں،جس کے اُوپر سامنے کے بنیرے پر چھوٹے چھوٹے کئی منارچے رکھ دیے گئے تھے۔اُن کا رنگ مدتوں ہوا،اڑ گیا تھا۔ اس کمرے کے سامنے تیس پینتیس فٹ چوڑا اور اتنا ہی لمبا کچا صحن اور صحن کے بالکل سامنے مشرق کی طرف آٹھ فٹ چوڑا اور تیس فٹ لمبا برآمدہ، جس کی چھت بارہ فٹ تک اونچی تھی۔البتہ مسجد کی چھت بیس فٹ ضرور اونچی تھی۔ مسجد کی چھت اور برآمدے کی چھت کے آنکڑے اور شہتیر یکساں ہیئت کے تھے۔ فرق تھا تو یہ کہ برآمدے کی چھت کے آنکڑے اور ٹائیلیں مٹی اور گرد سے خاکستری ہوگئئے تھے۔ جبکہ مسجد کی چھت کے شہتیر، آنکڑے اور ٹائیلیں گھی اور تیل کے چراغوں سے اُٹھنے والے دھویں سے سیاہ ہو ئے تھے۔ برآمدے کے عین درمیان مسجد کے صحن میں داخل ہونے کے لیے لکڑی کے تختوں کا دروازہ تھا، جس پر لوہے کا زنجیر لٹکا رہتا۔ اس دروازے کا واحد اور مفید مصرف یہ تھا کہ کوئی جانور، کُتا یا گدھا داخل نہ ہو سکے۔ دروازے کے دائیں پہلو پانی کا کنواں تھا۔ وضو کرنے کی جگہ برآمدے کے نیچے ایک لمبی نالی کی صورت میں بنا دی گئی تھی جس کے ایک کونے پر پانی کی ایک ٹینکی پکی اینٹوں سے بنی ہوئی تھی تاکہ کنویں سے پانی کھینچ کرٹینکی میں آسانی سے ڈالا جا سکے۔

 

برآمدوں کی اینٹوں پر پلستر نہیں ہوا تھا،اس لیے ان کی درزوں سے مٹی سیم اور شور بن بن کر گر رہی تھی۔ مسجد کے صحن کی شمالی دیوار بھی کچی اینٹوں کے ہونے کی وجہ سے دائیں طرف کو جھکی ہوئی تھی لیکن وہ صرف پانچ فٹ اونچی تھی جس کی وجہ سے کچھ زیادہ خطرے میں نہیں تھی۔ یوں بھی مسجد گاؤں کے عین چوک میں تھی۔ جس کے آس پاس چاروں طرف تیس فٹ کی دوری سے گھر تھے اس لیے کسی جانی نقصان کا اندیشہ نہیں تھا۔لیکن مصیبت یہ تھی کہ مسجد کی حالت روز بروز خستہ ہو رہی تھی۔ مولوی کرامت نے بار بار گاؤں والوں کی اس طرف توجہ دلائی مگر وہ سنتے ہی نہ تھے۔ ویسے بھی گاؤں کے لیے مولوی اور مسجد غیر ضروری سے تھے۔ ان دو چیزوں کا اصل کام گاؤں میں کسی فرد کے مرنے کے بعد ہی شروع ہوتا۔ جو میت کے دفنانے کے بعد ختم ہو جاتا۔البتہ پانچ دس بوڑھے ضرور پانچ وقت آتے اور یہ تعداد پچھلے کئی عشروں سے ایسے ہی چلی آتی تھی۔نہ بڑھتی اور نہ گھٹتی۔ایک بوڑھا مرتا تو کوئی دوسرا شخص بوڑھا ہو جاتا۔اس طرح دس بارہ بوڑھے ہر وقت مسجد کی زینت بنے رہتے اور مولوی کی ضرورت کا احساس رہتا۔

 

فضل دین کی پہلی ڈیوٹی صبح کے وقت ٹینکی میں پانی بھرنے سے شروع ہوتی۔ روزانہ بیس مشکیں کنویں سے نکال کر اسے ٹینکی میں ڈالنا ہوتیں۔ یہ پانی عصر تک کے لیے کافی ہوتا تھا۔عصر کے وقت فضل دین اُس میں مزید سات آٹھ مشکیں ڈال دیتا۔یوں ایک دن نکل جاتا۔ بعض اوقات کام چوری کر جاتا۔وہ صبح کے وقت دس بارہ مشکیں ڈال کر ہی جلدی جلدی نماز پڑھ کر روٹیاں لینے نکل جاتا۔جس کا نقصان یہ ہوتا کہ پانی جلد ختم ہو جاتا۔پھر وہ مشکیں مولوی کرامت کو خود کنویں سے کھنچ کر ٹینکی میں ڈالنا پڑتیں۔ اس عمل میں مولوی کرامت کا پارہ ایک سو بیس ڈگری پر چڑھ جاتا۔ اول تو اُسے اِن بڈھوں پر غصہ آتا جومٹی کے لوٹے ٹینکی سے بھر بھرکے وہیں بیٹھے کُلیاں کر کر کے کھنگارتے رہتے اور پانی ضائع کرتے۔لیکن غصہ اُترتا بالآخر فضل دین پر ہی تھا جو ادھورا کام کرکے مولوی کرامت کو مشقت میں ڈال دیتا۔ آج پھر جب وہ صحن میں ہلکا سا جھاڑو دے کر وضو کرنے کے لیے بیٹھا تو پانی موجود نہ تھا۔ مولوی کرامت نے ایڑیوں کے بل کھڑے ہو کر ٹینکی میں نظر ماری تو وہ بالکل صاف تھی،پانی کا ایک قطرہ تک نہ تھا۔ یہ دیکھ کر مولوی کی حالت مُردوں کی سی ہو گئی۔ اُسے فضل دین پر اس قدر غصہ آیا کہ دانت کچکچا کر رہ گیا۔ وہ پاس ہوتا تو کاٹ ہی کھاتا۔ آخر کیا کرتا، پانی تو بہرطور ٹینکی میں بھرنا تھا۔کیونکہ فضل دین ابھی تک گھروں سے روٹیاں اکٹھی کر کے نہیں لوٹا تھا۔ مولوی کرامت نے مشکیزہ اٹھا کر کنویں میں ڈال دیا،جو چالیس فٹ گہرا تھا۔ کنواں زیادہ گہرا ہونے کی وجہ سے مشکیزے کی رسی بھی چالیس فٹ لمبی تھی۔ جسے کھینچتے کھینچتے ہاتھ شل ہو جاتے۔ مولوی کرامت نے ابھی پہلی ہی مشک بھر کر نکالی تھی کہ اس کے کانوں میں چیخوں کی آواز سنائی دی۔اُس نے مشک رکھ کر چیخوں کی طرف دھیان دیا تو اُسے ایسے لگا کہ آواز مسجد کے پچھواڑے سے آ رہی ہے۔

 

خدا خیر کرے، کیا مصیبت آ گئی، مولوی کا کلیجہ حلق میں آ گیا۔ خدا نخواستہ فضل دین کو کچھ ہو گیا مگر وہ تو ابھی نہیں لوٹا تھا۔اُسے گھر سے آئے ابھی چند لمحے تو ہوئے تھے۔ تب تو سب کچھ خیر تھی۔مولوی کرامت نے بھاری قدموں اور لرزتی ٹانگوں سے گھر کی طرف دوڑ لگا دی مگر ٹانگیں کانپنے لگیں۔ اُسے ڈر ہوا کہیں گر نہ پڑ ے۔وہ دوڑنے کی بجائے چلنے لگا۔ جیسے ہی دروازے پر پہنچاتو عجب تماشا جاری تھا۔ شریفاں نے اپنے بال کھولے ہوئے تھے اور باہیں پھیلا کر اُونچے اُونچے بین کر رہی تھی۔ ارد گرد کچھ عورتیں بھی جمع تھیں۔ شریفاں نے مولوی کو آتے دیکھ کر بین کی آواز مزید بلند کر دی۔

 

ہائے کرامت ہم لُٹ گئے، خانہ خراب ہو گیا۔ میرا ایک ہی ست جنموں کا بھائی مارا گیا۔ میں برباد ہو گئی۔

 

“مولوی نے ہانپتے ہوئے کہا”نیک بختے خیر ہووے کیا ہوا؟ کوئی پتہ تو چلے۔

 

وے کرامتا چراغ مارا گیا۔ میرا اکیلا بھائی مار دیا دشمنوں نے۔

 

شریفاں نے دونوں ہاتھوں کو زانوں پر زور زور سے مار کر پیٹناشروع کر دیا۔ عورتیں اُسے ادھر اُدھر سے پکڑنے کی کوشش کر رہی تھیں اور وہ سنبھلنے میں نہیں آ رہی تھی۔

 

اِنَّ لِلّٰہ وَ اِنَّ اِلیہ راجعون کہہ کر مولوی کرامت آگے بڑھا تو راج محمد سامنے کھڑا نظر آیا۔ اُسے دیکھ کر مولوی کرامت سارا معاملہ سمجھ گیا۔تو گویا راج محمد چَک جودھا پور سے چراغ دین کی موت کی خبر لایا تھا۔مگر مولوی کرامت کے لیے یہ بات اچنبھے کی تھی کیونکہ چراغ دین نہ تو بیمار تھا اور نہ ہی اس کی کسی سے دشمنی تھی۔ پھر یہ کیا ہوا؟

 

سلام دعا کے بعد مولوی کرامت نے راج محمد کو بان کی چار پائی پر بیٹھنے کو کہا۔اتنے میں فضل دین بھی روٹیوں کا تو بڑا لے کر آ گیا۔ مولوی کرامت نے اُسے حقہ تازہ کرنے کا کہہ کر خود راج کے لیے پانی لسی تیار کرنے لگا۔ شریفاں بین کر کر کے اپنا ہلکان کر رہی تھی۔ مولوی کرامت کو پتا تھا، فی الحال اسے روکنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ عورتیں خود اس کے گرد حلقہ کیے ہوئے تھیں۔ کوئی ہاتھ مل رہی تھی اور کوئی پانی پلانے کی کوشش کر رہی تھی مگر وہ زمین پر لیٹی ہاتھ پھیلا پھیلا کر روتی گئی۔حقہ تازہ کرنے کے دوران فضل دین بھی ماں کی تقلید میں رو رہا تھا۔اگرچہ اُسے اس معاملے سے ایسی ہی لا تعلقی تھی جیسے ڈیڑھ سو میل دور کسی بھی اجنبی سے ہو سکتی ہے۔وہ ایسے کسی رشتے دار کو نہیں جانتا تھا جو کبھی اُس کے لیے مٹھائی کی ڈلی ہی لایا ہو۔

 

خاطر مدارت کرنے کے بعد مولوی کرامت جب آرام سے راج محمد کے سامنے بیٹھ گیا تو اُس نے چراغ دین کے قتل کا پورا قصہ مولوی کرامت کو سنا دیا۔پھر آہستہ سے آگے بڑھ کر ایک اور خبر مولوی کرامت کو دی” لیکن بھائی کرامت تو چراغ دین اور بی بی رحمتے کی فکر نہ کرنا، غلام حیدر نے چراغ دین کے قتل کا سنتے ہی دس ایکڑ زمین دینے کا اعلان کر دیا ہے اور اُس کے ساتھ پورے ایک ہزار روپے تو پہلے ہی دے دیے ہیں۔اتنے پیسے تو چراغ دین پوری زندگی نہیں کما سکتا تھااور پرسوں جلال آباد کچہری میں زمین باقاعدہ رحمت بی بی کے نام ہو جائے گی۔ غلام حیدر تو فرشتہ ہے فرشتہ۔ اُس نے مالکوں والا حق ادا کر دیا۔

 

یہ سن کر مولوی کرامت کے چہرے پر ہلکی سی سرخی دوڑ گئی لیکن مولوی نے اس تاثر کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی گویا چراغ دین کی زندگی کے آگے اس دس ایکڑ کی کیا حیثیت ہے۔ پھر حیرانی سے پوچھا، بھائی راج مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ تم شیر حیدر کی بجائے غلام حیدر کا ذکر بار بار کر رہے ہو۔ خدا نہ خواستہ شیر حیدر کا کیا ہوا؟

 

“راج محمد نے کہا”مولوی جی تو کیا تمھیں شیر حیدر کے مرنے کی خبر بھی نہیں ملی؟ بھائی کرامت اسی کے سوم والی رات تو چراغ دین کا قتل ہوا ہے۔

 

مولوی کرامت نے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے دوبارہ اِنَّ للہ پڑھی پھر پورے حالات پر راج محمد سے گفتگو کرنے لگا۔ جب آدھ گھنٹے کی گفتگو کے بعد ہر چیز مولوی کرامت پر کھل گئی تو اس نے ایک ٹھنڈی آہ کھینچی پھر چراغ کے حوالے سے بات دوبارہ چھیڑ دی۔

 

بھائی راج محمد مجھے تو ایک ہی فکر اب کھار ہی ہے کہ رحمتے اور اس کی بیٹی تاجاں کا کیا بنے گا۔ بچاری یتیم بیٹی کو کیسے پالے گی۔ ادھر مَیں جلال آباد سے ڈیڑھ سو میل دور قصور میں بیٹھا اُن کی دیکھ بھال کیسے کروں گا۔ بچی نادان ہے اور یہ مسجد کا کام میرے بغیر چل نہیں سکتا۔

 

ادھر مولوی کرامت یہ باتیں کر رہا تھا اُدھر شریفاں رو رو کے تھک چکی تھی۔اب اس کی آواز بھی حلق سے بمشکل نکل رہی تھی۔

 

دیکھ بھائی کرامت، فی الحال تو جاکر چراغ دین کے ساتویں کا بندوبست تجھے کرنا ہے۔ تیرے سوا اب اس کا وہاں رشتے دار کوئی اور تو ہے نہیں۔ ابھی سے چلنے کی تیاری کر،شام چھ بجے قصور سے ریل پکڑنی ہے۔ قُل کا ختم تو آج ہو گیا ہو گا۔ تین دن بعد ساتا ہے۔ اُس کے بعد دوسرا بندوبست دیکھ لینا۔ جو مناسب ہو وہی کرنا۔

 

مولوی کرامت تاسف سے بولا” لیکن بھائی راج، مجھے تو دکھ ہے کہ شریفاں بھاگاں والی اپنے بھائی کا منہ بھی نہ دیکھ سکی۔ یہ تو بچاری مر جائے گی۔

 

مولوی صاحب آپ تو جانتے ہیں اللہ کے کاموں میں کون دخل دے سکتا ہے۔ پہلے دن تو کسی کو ہوش ہی نہ رہا۔ ادھر غلام حیدر کی پگ بندی کی رسم تھی۔ ہر کوئی وہاں مگن تھا۔ میں بھی وہیں چلا گیا تھا۔ صبح سورج چڑھا تو اس واقعے کاپتہ چلا لیکن رسم کو اُدھورا چھوڑ کر آنا اچھا نہ لگا۔جیسے ہی رسم ختم ہوئی، مَیں سیدھا یہاں دوڑا آیا مگر ریل نکل چکی تھی۔دوسری گاڑی رات کے دو بجے جلال آباد سے چلی اور صبح آٹھ بجے قصور پہنچی وہاں ایک گھنٹہ رُکی رہی۔ پھر کہیں خدا خدا کر کے گیارہ بجے اڈا جبومیل آیا۔مَیں اُترتے ہی بھاگ کھڑا ہوا اور ڈیڑھ گھنٹے میں یہاں آن پہنچا۔ اب دیکھیے کیا ہوتا ہے۔ مجھے یقین ہے غلام حیدر چراغ دین کا بدلہ لیے بغیر نہیں ٹلے گا۔ اُس کے تیور تو ایسے ہی لگتے تھے۔ خیر یہ سب باتیں تو ہوتی رہیں گی تُو چلنے کی تیاری کر۔

 

مولوی کرامت نے فضل دین کو آواز دی جو اپنی والدہ کو اتنی شدت سے روتے ہوئے دیکھ کر سہما کھڑا تھا، بیٹے ذرا بھاگ کر چودھری حکم داد کے پاس جا اور اُس سے کہنا کہ آج دو گھنٹے کے لیے بیل گاڑی چاہیے ’جیسے فضل دین پاس آیا مولوی کرامت نے اسے ہدایت کی “اور ہمیں ریلوے سٹیشن تک چھوڑ آ پھر شریفاں کو پکار کر بولا، اب صبر کر بس اللہ کے کام ہیں جن پر نہ تیرا بس چلے گا نہ میرا۔ خدا اُسے شہیدوں کی صف میں لائے گا۔ چراغ دین ہماری بخشش کا وسیلہ بھی بنے گا۔ شام چھ بجے کی گاڑی سے فیروز پور نکلنا ہے۔اُس لیے کپڑا لتّا اُٹھا لے۔ فضل دین ہمیں سٹیشن پرچھوڑ آئے گا۔

 

تو کیا فضل دین نہیں جائے گا ساتھ؟ شریفاں نے مُردنی سی آواز میں احتجاج کرنے کی کوشش کی۔ اُسے اپنے مامے کے ختم میں شریک نہیں ہونے دے گا؟

 

اُف بھاگ بھریے سمجھا کر، “مولوی کرامت نے آہستہ سے شریفاں کو کندھے سے سہارا دیتے ہوئے کہا‘ فضل دین بھی اگر ساتھ چلا جائے گا تو یہ بھرا پُرا گھر کس کے سپرد کروں؟ پھر گدھی اور یہ بکریاں یہیں بندھی بندھی بھوکی مر جائیں گی۔ ہمیں کچھ دن لگ جانے ہیں۔ اتنے دنوں تک کون ہمارے اس سارے بکھیڑے کو سنبھالے گا؟ فضل دین کو یہیں رہنے دیتے ہیں۔ مسجد کی صفائی اور اذان کون دے گا؟ اتنا کہہ کر مولوی کرامت نے حقے کے دو تین کش لیے پھر اس کی نَے راج محمد کے سامنے کر دی۔

 

مولوی کرامت کو پتا تھا کم از کم وہ چھ سات دن تک واپس نہیں آ سکتا۔ اس عرصے میں تہرے نقصان ایک دم برداشت نہیں کر سکتا تھا۔جودھاپور آنے جانے کا خرچہ،اس کے علاوہ ساتویں کے ختم میں رحمت بی بی اور اس کی بیٹی کو بھی پانچ دس دینا پڑتے۔ کم از کم پچاس کا نسخہ اس کے پیٹے پڑ چکا تھا اور اگر وہ فضل دین کو بھی ساتھ لے جائے تو اور تو سب گزارا ہو سکتا تھا لیکن روٹیاں نہ ملنے کا نقصان ایک اضافی تھا۔ جس سے بچنے کے لیے فضل دین کا یہاں رکنا ضروری تھا۔

 

اس پوری سوچ کے دوران مولوی کرامت راج سے باتیں بھی کرتا گیا اور سر پر پگڑی سے لے کر جوتے پہننے کا کام بھی نمٹاتا گیا۔ لٹھے کی چادر جسے ٹین کے صندوق میں پچھلے کئی مہینوں سے دھو کر رکھا ہوا تھا، وہ بھی شریفاں نے اُسے وہیں بیٹھے لا کر تھما دی اور کرامت نے وہیں کھڑے ہو کر کمر کے گرد لپیٹ کر نیچے سے پہلی دھوتی کھینچ لی۔پھر جانگیے کے اوپر لٹھے کا سفید کرتا بھی پہن لیا۔ مولوی کرامت نے چند لمحوں میں کھڑے کھڑے یہ سارا کام مکمل کر لیا۔اس عرصے میں راج محمد حقہ پیتا رہا۔ شریفاں کبھی جانے کی تیاری میں ادھر اُدھر تیزی سے چلتی اور کبھی چلنے کے ساتھ زور زور سے رونا شروع کر دیتی۔جس کی مولوی کرامت کو بہت کوفت ہونے لگی مگر وہ جانتا تھا کہ اب یہ سلسلہ کئی دن تک جاری رہے گا۔اس لیے اسے بہرحال برداشت کرنا تھا۔

 

اِسی اثنا میں عورتوں کے علاوہ گاؤں کے مرد بھی آنا شروع ہو گئے۔ گاؤں میں پردے کا کوئی رواج نہیں تھا اس لیے مولوی کا گھر بھی گاؤں والوں کی طرح ہر لحاظ سے کھلا تھا۔نہ کسی کو تانک جھانک کی عادت تھی اور نہ ہی اس طرح کا ابھی خیال پیدا ہوا تھا۔ جو جب چاہتا ہر گھر میں اپنے ہی گھر کی طرح داخل ہو سکتا تھا۔ ہر کوئی دوسرے کی ماں بہن کو اپنی ماں بہن سمجھنے کے سوا اُس وقت دوسرا تصور بھی نہیں لاتا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں دس بارہ مرد بھی پرسہ داری کو جمع ہو گئے، جنھیں فی الحال مولوی کرامت جلدی سے فارغ کر کے چلنے کی فکر میں تھا۔ نور تیلی کو مولوی کرامت نے ہدایت کر دی جواُس کا شاگرد بھی تھا کہ جب تک وہ واپس نہیں آ جاتے، رات اس کے گھر فضل دین کے پاس رہ لیا کرے۔ اتنے عرصے میں فضل دین بیل گاڑی لے کر آ گیا۔

 

مولوی کے پاس اپنی گدھی بھی تھی، جو فالتو روٹیاں کھا کھا کر بہت موٹی تازی اور تیز طرار ہو چکی تھی۔مولوی کرامت اُسی پر روٹیاں لاد کر شہر لے جایا کرتا اور واپسی میں اُسی گدھی پرسوار ہو کر گاؤں آ جاتا۔ اس لیے اس کا سٹیشن تک پہنچنے میں تھکاوٹ کو دخل نہیں تھا۔ ویسے بھی ہر ہفتے ایک دو من روٹیاں قصور لے جانے میں گدھی کی کافی مشق ہو چکی تھی لیکن آج بندے زیادہ تھے گدھی کام نہیں دے سکتی تھی۔یہی وجہ تھی جو مولوی کو بیل گاڑی کا احسان لینا پڑا۔

 

شریفاں نے فضل دین کو ضروری ہدایات دے کر اور گھر کی صفائی ستھرائی کا سمجھا کر ہر کام ازبر کرا دیا اور کہا کہ وہ شام سے پہلے ہر حالت میں گھر آ جایا کرے۔

 

عصر کے وقت مولوی کرامت، شریفاں اور راج محمد بیل گاڑی پر بیٹھ چکے تو فضل دین نے بیلوں کو ہشکارا دے کر پہلا ڈنڈا رسید کر دیا۔بیل گا ڑی گرد بھری کچی سڑک پر دوڑ پڑی۔ نورا تیلی بھی پاس ہی بیٹھا فضل دین کو بیل گاڑی چلانے کے متعلق ہدایات دینے لگا۔ اسٹیشن پندرہ کلو میٹر دور تھا۔ مولوی کرامت نے فضل دین کو ہدایت کر دی کہ وہ بیلوں کو دوڑائے چلا جائے، کہیں گاڑی نہ چھوٹ جائے۔ گرد سے مولوی کرامت اور شریفاں کے کپڑے مٹیالے ہو ئے جاتے تھے لیکن اب اس کی کس کو پرواہ تھی۔

 

(9)

 

رات کا گھنٹا بجنے میں ابھی کچھ وقت تھا لیکن دھند نے اندھیرا بڑھا دیا تھا۔ جس کی وجہ سے تاریکی کے اندر ہیبت کا تاثر بڑھ گیا۔ سودھا سنگھ کی حویلی میں دس پندرہ سرداروں کی محفل جم چکی تھی۔ دیسی شراب کے مٹکے اور تانبے کے بھاری گلاس جن پر قلعی پُرانی ہو چلی تھی، چار پائیوں کے ساتھ پڑے لکڑی کے تختوں پر سجا دیے گئے۔سوڈا باقاعدہ فیروز پور سے منگوایا تھا۔ شراب کے بہت سے برتن ایک ہی دفعہ استعمال ہو رہے تھے۔اس لیے انھیں یکے بعد دیگرے تبدیل کرنا اکیلے چھدو کے بس میں نہیں تھاچنانچہ مزید ایک آدمی اس کام پر متعین ہو گیا۔ حویلی کا دروازہ بڑی بڑی اُوپر نیچے چاربَلّیوں سے بند کر دیاگیا۔ ان سرداروں میں دو مسلمان زمین داربھی موجود تھے۔ جن میں عبدل گجر اپنے وقار اور سرداری میں سودھا سنگھ کے علاوہ سکھوں سمیت سب سے زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔ اُس کا مُوڈھا مرکزی حیثیت کا حامل تھا۔اُس کے ساتھ شریف بودلہ بھی بیٹھا تھا۔سردار سودھا سنگھ کو پتا تھا،غلام حیدر اگرچہ نا تجربہ کار ہے مگر اس کے باپ کے تعلقات ضرور غلام حیدر کی پشت پر موجود ہیں۔ عبدل گجر کا تنازعہ چونکہ شیر حیدر کے ساتھ پچھلے بیس سال سے تھا۔اس لیے وہ کبھی بھی اپنے پرانے دشمن سے بدلہ چکانے میں کوتاہی نہیں کرے گا اور بیلوں کی لڑائی میں جو سُبکی اُسے اٹھانی پڑی تھی، جس میں پورے پچاس ایکڑ زمین شیر حیدر سے ہار گیا تھا، اُس پر قبضہ کرنے کا اس سے بہتر موقع نہیں تھا۔یہی وجہ تھی کہ اُس نے اپنے کام کو انجام تک پہنچانے کے لیے اپنے صحیح حلیف کا انتخاب کیا۔اس کے علاوہ عبدل گجر کو ساتھ ملا نے سے ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ اس لڑائی میں سکھوں کی ہمدردیاں تو سودھا سنگھ کے ساتھ رہتیں،لیکن مسلمان دو حصوں میں بٹ جاتے۔ وہ پورے طور پر غلام حیدر کے ساتھ نہ مل سکتے تھے۔ لہٰذا یہ لڑائی سکھ مسلم سے زیادہ ذاتی تصور کی جاتی، جس کا فائدہ ہر صور ت میں سودھا سنگھ کو پہنچتا۔ ویسے بھی شیر حیدر کے مرنے کے بعد عبدل گجر کی طاقت اور رعب کا علاقے میں خود بخود اضافہ ہو گیا تھا۔

 

آٹھ دس جوان کرپانیں اور برچھیاں لیے ڈیرے کی چار دیواری کے گرد پہرے پر موجود تھے۔ کچھ جاسوسی کے لیے ادھر اُدھر گاؤں کے رستوں پر بٹھا دیے گئے تاکہ حالات اچانک پلٹا نہ کھا جائیں۔ محفل میں جب ہر طرف سے سکون ہو گیا تو سودھا سنگھ نے عبدل گجر کو مخاطب کیا،

 

چوہدری صاحب اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب اپنی کمانوں کی تندیاں کَس کر اُن پر تیر چڑھا دیں اور (اپنی کرپان کی دھار پر ہاتھ پھیرتے ہوئے) لوہے کو پان دے لیں۔ اپنے لوہاروں کو کہہ دو وہ درانتیاں بنانی چھوڑیں اور کرپانوں کی چوڑیاں کَس دیں۔

 

سردار جی! “عبدل نے پہلو بدل کر کہا” لوہا کُھنڈا ہو یا پان چڑھا، ضرب لگاؤ تو اپنی لاج رکھتا ہے۔ویسے میں نے لوہاروں کوکہہ دیا ہے کہ دیگی لوہے کو سان پر رکھ دیں۔ تیرے کہنے سے پہلے ہی چَھویوں کی دھاروں پر پان چڑھ گئی ہے۔ میرا سو بندہ برچھیوں کی بولی بولتا ہے۔سودھا سنگھ، ڈر تو بس سرکار کا مارتا ہے۔ کتا بھی مار دوتو کچہری کی سیڑھیاں قدموں سے لگ جاتی ہیں۔ ڈرتا ہوں وار اوچھا نہ پڑ جائے اور میں مقدمے بازی میں نہ پھنس جاؤں۔

 

سُودھا سنگھ آگے جھک کر بولا، چوہدری صاحب سمجھا کر، سیدھا حملہ نقصان دے گا۔ میری طرف دیکھ،میں نے غلام حیدر کی ساری مونگی اُجاڑ دی اور ایک نوکر بھی مار دیا۔اب کُتے کی طرح زخم پر دُم مارتا پھرتا ہے۔ دیکھنا تھوڑے دنوں میں کیڑے پڑجائیں گے پھر اس قابل بھی نہیں رَہے گا۔ زیادہ سے زیادہ تین سو دو کا کیس ہو گا، جس میں میری ضمانت پہلی پیشی پر لازمی ہے۔کیونکہ نہ ثبوت نہ گواہ۔ سیدھی لڑائی انگریز ی دور میں سراسر نقصان ہے۔ واہگرو دی سونہہ، غلام حیدر چوطرفہ نہیں لڑ سکتا۔ بس ایک طرف ہو کر وَکھّی میں وار کرو۔

 

شریف بودلہ،جو ابھی تک خاموش بیٹھا صرف حقہ پیے جا رہاتھا، بولا: سُودھا سنگھ بات سیدھی کر، بجھارتوں کا وقت نہیں۔

 

شریف بودلے کے اس سوال پر سودھا سنگھ کی بجائے دھیر سنگھ بولا: “چوہدری جی،سردار سودھا سنگھ کے کہنے کا مطبل ہے، غلام حیدر سے سیدھا پھڈا لینے کی بجائے اُس کی رعایا کے مال پر ہاتھ صاف کرو۔سٹ پہ سٹ مارتے جاؤ۔ اس کی رعایا کو جتنا زیادہ نقصان دوگے، غلام حیدر کے اوسان اتنے ہی بے وَسے ہوں گے۔ آخر بوندلا جائے گا۔ رعایا کے پاس تو مقدمے باز ی کے لیے پیسہ ہوتا نہیں۔وہ غلام حیدر سے ہی جا جا کر فریادیں کریں گے۔ اب آپ ہی بتا ؤ، بچارا کہاں تک ان کے مقدمے بھگتے گا۔ آخر تھک کر لاہور بھاگ جائے گا۔ رہا رفیق پاولی، تو وہ بے چارا، پاولی کا پاولی، منشی کی کیا حیثیت ہوتی ہے۔چوہدری صاحب اس کارا دھاری میں غلام حیدر کی رعایا اُس سے بددل ہو جائے گی۔ آخر بے چارے لاوارث آپ کی جھولی میں آ گریں گے۔ بس رعایا آپ سے مل گئی تو آرام سے زمینوں پر بغیر رجسٹری کے قبضہ ہو جائے گا۔ پھر زمین تو ہوگی غلام حیدر کی اور اُس میں واہی بیجی کریں گے آپ اور ہم۔ آئی بات سمجھ میں چوہدری صاحب؟

 

“ہوں” عبدل گجر نے سوچتے ہوئے ہنکارا بھرا۔ عبدل کو جال کی طرف آتے دیکھ کر سودھا سنگھ نے دھیر سنگھ کی بات مزید آگے بڑھائی اور بولا:

 

تمہارے گاؤں کے نزدیک شاہ پور جو غلام حیدر کا گاؤں ہے، وہاں بندے بھیج کر رات کو ساری بھینسیں گھیر لاؤ اور ہدایت کر دو کہ اس کام میں ہو سکے تو ایک آدھ بندہ بھی پھڑکا دیں۔ جب چاروں طرف سے یلغار ہو گی تو غلام حیدر کس کس کا مقابلہ کرے گا۔ ساری برادری اُس کی پاکپتن بیٹھی ہے۔وہ تو فیروز پور اور جلال آباد آ کر ہم سے مقابلہ کرنے سے رہی۔

 

“ہوں”ٹھیک ہے۔عبدل گجر اور شریف بودلے نے یہ سن کر مونچھوں پر ہاتھ پھیرا۔

 

عبدل دل میں سوچنے لگا کہ آج کسی سکھ نے بھی کوئی کام کی بات کی ہے۔ورنہ تو ہر وقت دماغ کے بارہ ہی بجے ہوتے ہیں۔

 

“انھیں متاثر ہوتا دیکھ کر سودھا سنگھ نے گرم لوہے پر ایک اور ضرب لگائی” چوہدری عبدل سوچنے کا وقت نہیں پربھا کا نام لے کر آج ہی کام شروع کردو۔ میں اپنے بھی کچھ بندے بھیج دوں گا، اگر تمہیں اکیلے میں کچھ شُبہ ہے کہ کام ادھورا نہ رہ جائے تو مَیں متھا سنگھ اور رنگا کو بھی حملہ کی رات تیری پارٹی میں بھیج دوں گا۔ مَیں تو مِتروں کا مِتر ہوں عبدل بیبا۔

 

ٹھیک ہے سودھا سنگھ، “عبدل گُجر سودھا سنگھ کی اس آخری امداد سے متفق ہوتے ہوئے بولا” میں سارا منصوبہ کر کے تمہیں اپنی دلیل بتا دوں گا۔ پچاس ایکڑ تو اب میں لے کے رہوں گا۔

 

القصہ رات پچھلے پہر تک اس مسئلے پر بحث اور گفتگو رہی جس میں بہت سے پہلوؤں پر غور کیا گیا اور ہر معاملے کو بڑی سنجیدگی سے دیکھ کر ایک طے شدہ پروگرام مرتب کیا۔جس کے تحت ہر حالت میں عمل درآمد کرناتھا۔ عبدل گجر اور شریف بودلے نے رات وہیں سودھا سنگھ کے ڈیرے پر بسر کی۔ اپنی اپنی پگڑیاں بدلیں۔ قرآن اور گرنتھ پر قسمیں کھائیں۔ جس کے تحت ایک دوسرے کی مدد کے وعدے کیے اور بالآخر سب لوگ اطمینان سے سو گئے جبکہ باقی لوگ جن کے گھر وہیں تھے، وہ اپنے گھروں کو چلے گئے۔

 

دوسرے دن صبح مرغ کی اذان کے ساتھ ہی عبدل گجر اور شریف بودلہ جاگ اُٹھے۔ سودھا سنگھ جو غالباً باقی رات بھی نہیں سویا تھا بلکہ گرو جی کی جَے میں پوجا پاٹ کو بیٹھا رہا، ان کے جاگتے ہی آ گیا۔ کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ اتنے میں نور دین ماچھی ناشتے کا ٹوکرا سر پہ رکھے آ گیا۔ سردار جی نے خاص اہتمام ناشتے کا کیا تھا۔جس کا سارا انتظام نور دین ماچھی کے گھر میں کیا گیا۔ ناشتے میں دیسی مرغ کا گوشت، مکھن، شکر، لسی اور دیسی گھی میں تر پراٹھے تھے۔

 

نوردین نے چوہدریوں کے سامنے ناشتہ بڑے سلیقے سے رکھ دیا۔ سچ پوچھیں تو سودھا سنگھ نے رات سے لے کر اب تک اُن کی اتنی آؤ بھگت کی کہ اب وہ دل و جان سے سردار جی کے ساتھ مل کر غلام حیدر کا تِیّا پانچا کرنے کو تیار ہو گئے۔ ناشتے کے بعد حقے کے کش لیتے لیتے سورج کافی چڑھ آیا تو انھوں نے سودھا سنگھ سے کہا، بگھی تیار کروا دے تاکہ جلد اپنے گاوں پہنچ کر منصوبے پر عمل شروع کریں۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

میرواہ کی راتیں – نویں قسط

رفاقت حیات کے ناول ‘میر واہ کی راتیں‘ کی دیگر اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

بلی کے پنجوں کی رگڑ، اس کے جسم کے وزن اور اس کی لجلجاہٹ نے اسے لذت بھرے طلسمی دریا سے نکال کر باہر اچھال دیا۔ وہ چند لمحے نسوانی جسم پر بے سُدھ لیٹا رہا۔ اس بدن کے بوجھ سے شمیم کی سانسیں گھٹنے لگیں۔ وہ ا س کے نیچے تڑپ رہی تھی اور آہیں بھر رہی تھی۔ دفعتاً نذیر نے اپنا سر اٹھایا اور صحن سے ملحقہ برآمدے کی طرف دیکھا اور گھر کی دیگر اشیا پر بھی نگاہ ڈالی۔ اسے محسوس ہونے لگا کہ نیند اور سکوت میں ڈوبا ہوا گھر اور اس کی تمام چیزیں یک بہ یک بیدار ہو گئی ہیں اور اس بلی کی طرح غراتی ہوئی اس کی جانب لپک رہی ہیں۔ خوف اور دہشت کے سبب اس کے جسم کے ایک ایک عضو میں تشنج کی لہر سی دوڑ گئی۔
شمیم کا ہاتھ اٹھا اور اس کے سر کے بالوں سے اٹکھیلیاں کرنے لگا۔ وہ اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے دھیرے سے گویا ہوئی، “کیا ہوا؟ تم ایک بلی سے ڈرگئے؟”

 

نذیر نے سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھا۔ “اس نے تو میری جان ہی نکال دی،” اس نے تیز اور طویل سانس کھینچتے ہوئے کہا۔ “مجھے لگا کہ وہ کوئی بلی نہیں، بلکہ کوئی غیر مخلوق ہے۔” اس کی یہ بات سن کر شمیم افسوس سے سر ہلانے لگی۔

 

اسے سر ہلاتے دیکھ کر نذیر کو اپنی شکست کا احساس ہونے لگا۔ وہ اپنی خفت مٹانے کے لیے اس پر دوبارہ دراز ہو گیا اور اس کے کانوں کی لووں کے آس پاس کے نرم و گداز علاقے پر اپنے بوسوں کی بارش کرنے لگا۔ مگر اس مرتبہ اس کے بوسوں میں نہ پہلے والی حدت رہی تھی اور نہ ہی وہ شدت۔ پہلے بوسوں کے دوران اس کے انگ انگ پر عجیب سی مستی چھا گئی تھی۔ وہ ایک طائرِ آزاد کے مانند فضاے جسم کے تمام گوشے دریافت کرتا رہا تھا اور نت نئی دریافتوں کے لیے کوشاں تھا، لیکن اب اس کے ہر بوسے سے بیزاری کا احساس نمایاں ہو رہا تھا۔ اس کے لیے وہ کارِ لذت سے زیادہ عذابِ جاں بن کر رہ گیا تھا۔ وہ اس کی گردن کی مہین و نازک جلد کو اپنے لبوں سے چومتا اور نوکِ زبان سے چاٹتا رہا مگر اس کے اندر کی تحریک مردہ ہو چکی تھی اور اس کے لہو میں سنسناتے، کلبلاتے، تڑپتے، تلملاتے سارے جذبے سرد پڑ چکے تھے۔ اچانک وہ شمیم کے اوپر سے ہٹا اور اس کے برابر میں لیٹ گیا۔

 

شمیم کروٹ لیتی ہوئی اٹھی اور کھاٹ سے اتر کر جلدی جلدی کپڑے پہننے لگی۔ نذیر نے کھاٹ پر لیٹے لیٹے اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی طرف کھینچا، مگر اس نے ایک ہی جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا۔ اس کی گرفت مضبوط نہیں تھی۔ اس نے دھیمے لہجے میں آواز دے کر اسے بلانا چاہا، مگر وہ اس کے قریب نہیں آئی۔ وہ ذرا پرے ہو کر آہیں بھرتی اپنے لباس کی شکنیں درست کرتی رہی۔ پھر وہ آنگن میں رکھی گھڑونچی کی طرف گئی، اس نے مٹکے کو لٹا کر کٹورے میں پانی انڈیلا اور اس کے بعد زمین پر بیٹھ کر گھونٹ گھونٹ پانی پینے لگی۔

 

نذیر شدید اذیت میں تھا۔ وہ کچھ دیر تک بے تکے انداز میں چارپائی پر ٹانگیں لٹکائے بیٹھا رہا، پھر نیچے اتر کر کپڑے اٹھائے کونے میں چلا گیا۔ شمیم پیتل کے کٹورے میں اس کے لیے پانی لے آئی۔ وہ اس کے ہاتھ سے پانی کا کٹورا لے کر کئی دنوں کے پیاسے شخص کی طرح یک ہی گھونٹ میں سارا پانی پی گیا۔

 

“میری ساس تھوڑی دیر میں اٹھنے والی ہے، اگراس نے دیکھ لیا تو یہ ہم دونوں کے لیے اچھا نہیں ہو گا،” وہ دھیمے لہجے میں بولی اور اس کے ہاتھ سے کٹورا لے کر دور ہٹ کر کھڑی ہو گئی۔

 

وہ اس سے کچھ دیر باتیں کرنا چاہتا تھا، اسے اپنی حالتِ زار کے بارے میں بتانا چاہتا تھا، لیکن اس کی بات سننے کے بعد اس میں کچھ بھی کہنے کا حوصلہ نہ رہا۔ وہ ہونق نظروں سے اسے دیکھتا رہا۔ اسے احساس ہو چکا تھا کہ اب اس کی تمام گرم جوشی پر اوس پڑ چکی ہے۔ نذیر اٹھا۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا اور دھیرے دھیرے صحن کی طرف بڑھنے لگا۔

 

صحن سے برآمدے میں آتے ہوئے وہ ایک ستون سے ٹکرایا۔ وہ خود کو سنبھالنا چاہتا تھا مگر اس کے اعصاب پر ایک حواس باختگی طاری ہو چکی تھی۔ کھیتوں کی طرف کھلنے والے دروازے سے نکلتے ہوئے اس کا پیر چوکھٹ سے بھی ٹکرا یا۔ اس مرتبہ وہ لڑکھڑایا اور باہر کی طرف منھ کے بل گرتے گرتے بچا۔ وہ سنبھل تو گیا مگر اس کے پاؤں کی ڈگمگاہٹ ختم نہیں ہو سکی۔ وہ گھر سے باہر نکلا تو اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھایا ہوا تھا۔ اسے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا، نہ راستہ، نہ مکان، نہ کھیت۔ وہ ڈگمگاتا اور لڑکھڑاتا ناہموار زمین پر چلتا رہا۔ وہ پلٹ کر دیکھنا چاہتا تھا مگر دیکھ نہیں سکا۔ وہ جانتا تھا کہ پیچھے دو آنکھیں اسے رخصت کرنے کے لیے موجود ہیں۔ اپنی ندامت اور خفت کے سبب اس کے لیے ان آنکھوں کی طرف دیکھنا ممکن نہ تھا۔ وہ جلدازجلد یہاں سے دور جانا چاہتا تھا تاکہ ان آنکھوں کی پہنچ سے نکل جائے۔

 

شمیم گھر کے دروازے سے لگ کر نڈھال کھڑی آہیں بھرتی رہی اور اسے جاتے ہوئے تکتی رہی۔ کچھ دیر بعد اس نے دروازہ بند کر دیا اور کنڈی چڑھا دی۔

 

نذیر کا وجود درد کا گولہ بنا ہوا تھا۔ اس کی ٹانگیں دکھ رہی تھیں۔ بازوؤں میں اتنا شدید درد تھا کہ اسے لگتا تھا کہ وہ کٹ کر اس کے کاندھے سے جھول رہے ہیں۔ زمستاں کی رات میں گرتے کہرے اور پالے میں اسے اپنا خون اور اپنی سانسیں منجمد ہوتی محسوس ہو رہی تھیں۔ وہ اوبڑکھابڑ زمین پر دقت کے ساتھ قدم رکھتا رہا۔
وہ شرینہہ کے دیوقد پیڑ کے پاس پانی کے نالے پر بیٹھ گیا۔ آنے کے بعد وہ اسی جگہ بیٹھ کر شمیم کا انتظار کرتا رہا تھا۔ نالے کی سیمنٹ کی سطح اسے پہلے سے بہت زیادہ یخ محسوس ہو رہی تھی۔ وہ بیٹھ کر اپنے ہاتھوں کو مسلنے لگا تاکہ وہ گرم ہو سکیں، مگر بہت دیر تک ہاتھ مسلتے رہنے کے باوجود ان میں حرارت پیدا نہ ہو سکی۔ اس کی ٹانگیں بھی وقفے وقفے سے کانپ رہی تھیں۔

 

وہ اچانک اْٹھا اور ایک پگڈنڈی پر دوڑ کر رگوں میں جامد خون کو گرم کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ کچھ دور جا کر رات کے پالے سے بھیگی ہوئی پگڈنڈی پر اس کا پاؤں پھسلا اور وہ کماد کی فصل میں جا گرا۔ اس کے کپڑے اور پاؤں گیلی مٹی میں آلودہ ہو گئے۔ گرنے سے اس کا بدن اور زیادہ دکھنے لگا۔ کماد کے کھیت میں دشواری سے چلتے ہوئے وہ دھیرے دھیرے گوٹھ ہاشم جوگی سے دور ہوتا چلا گیا۔

 

بہت آگے جا کر وہ جھاڑیوں سے باہر نکلا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا نہر کے پْل پر پہنچ گیا اور اندھیرے کے سبب سیاہ نظر آتے پانی کو دیکھنے لگا۔ نہر کا پانی اپنے کناروں سے نیچے نیچے بہہ رہا تھا۔ اس کی سطح پر ٹمٹماتے ستاروں کا عکس جھلملا رہا تھا۔

 

ہولے ہولے اس کا خوف زائل ہو رہا تھا۔اسے درختوں کا عکس پانی میں دھندلے دھبوں کی طرح نظر آ رہا تھا۔

 

اس نے قصبے کے مکانوں کی جانب نگاہ کی تو وہ سب اسے ایک ڈھیر کی صورت ایک دوسرے کے اوپر تلے پڑے ہوئے دکھائی دیے۔ وہ مکانات کے اس ڈھیر میں چھپی ہوئی گلیوں سے اس طرف آیا تھا۔ پل پر کھڑے کھڑے اس نے اپنی چشمِ تصور سے شمیم کو بستر پر درازدیکھا اور اس کی تلخ آہوں کو سنا۔ اس نے بے بسی اور لاچاری سے دانت کچکچائے۔ اپنی دونوں مٹھیاں بھینچ لیں۔ اس کے وجود میں ایک ساتھ اذیت کی کئی لہروں نے سر اٹھایا۔ اس کے دل نے چاہا کہ وہ اونچی آواز میں چیخے چلائے اور سینہ کوبی کرتے ہوئے اپنی چھاتی کو زخمی کر ڈالے۔ اسے اپنے وجود کے وہ سب حصے جن سے اس نے شمیم کو چھوا تھا، قابلِ نفریں محسوس ہونے لگے۔ اس نے اپنی انگلیوں کی طرف دیکھا اور اپنے ہاتھ سے اپنے ہونٹوں کو ٹٹولنے لگا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہاں سے خون رسنے لگے۔ اس نے نہر کنارے کسی درخت پر رسی باندھ کر خودکشی کے بارے میں سوچا۔

 

وہ بڑبڑایا: “آج کے دن کی شروعات منحوس طریقے سے ہوئی تھی۔”
اس کے بدن میں اب بھی درد تھا اور اس کے اعضا کی دکھن بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ وہ پل سے اتر کر نہر کے کنارے پیڑوں کی قطار کے نیچے چلنے لگا۔ کچھ دور جا کر وہ ایک ایسی جگہ پر کنارے سے نیچے اترنے لگا جہاں پر نہر کا پانی اسے زیادہ گہرا دکھائی دے رہا تھا۔ وہ بے سوچے سمجھے نہر کنارے کی ٹھنڈی ٹھنڈی گھاس پربیٹھ گیا۔ کچھ آگے کھسک کر اس نے اپنی چپلوں سمیت اپنے پاؤں نہر میں ڈال دیے۔ نہر کا پانی اسے بہت ٹھنڈا محسوس ہو رہا تھا۔ اس کی یخ لہریں اس کے ٹخنوں اور پنڈلیوں میں گھسنے لگیں۔ مگر نذیر کے سر میں عجیب سودا سمایا ہوا تھا۔

 

وہ نہر کے پانی میں لرزتا ہوا اپنا دھندلا دھندلا عکس دیکھتا رہا۔ وہ اپنی رگوں میں اپنے جامد خون کو گرمانا چاہتا تھا۔ شمیم سے ملاقات کے دوران اسے جس ہزیمت اور اذیت کا بوجھ اٹھانا پڑا تھا، وہ اس کا کفارہ ادا کرنا چاہتا تھا۔

 

اپنے عضوِلذیذ کو بہت دیر تک رگڑنے اور مسلنے کے بعد اس کے جسم میں حرارت پیدا ہونے لگی۔ اسے اور زیادہ حرارت کی ضرورت تھی۔ اس کے ہاتھوں کی حرکت دھیرے دھیرے مجنونانہ اور وحشیانہ انداز اختیار کرتی چلی گئی۔ اگر اس وقت اسے کوئی شخص اس حال میں دیکھ لیتا تو یقیناً فاترالعقل یا سودائی خیال کرتا۔

 

اس کے رگ و ریشے میں یکلخت کئی الاؤ جلنے لگے۔ اس کی پیشانی پر پسینے کی بوندیں نمایاں ہونے لگیں۔ اس کی سانسیں کسی دھونکنی کی طرح چلنے لگیں۔ وہ اپنے ہاتھوں کی حرکت میں مزید تیزی پیدا کرتا گھاس پر لیٹ گیا اور سیاہ آسمان کو تکنے لگا۔

 

ایک شدید ہیجان خیز لمحے میں وہ سرعت سے اٹھ کھڑا ہوا اور نہر کے پانی میں انزال کی بوندیں گرانے لگا۔ اگلے ہی وہ گھاس پر نڈھال ہوکر گر پڑا اور زور زور سے سسکیاں لینے لگا۔ اس کو معلوم نہیں تھا کہ صبحِ صادق اب صرف چند لمحوں کی منتظر تھی۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

صبح دیر سے جاگنے کے باوجود نذیر کے جسم میں کل شب کی ہزیمت اور اذیت کے آثار باقی تھے۔ اس نے کمرے میں جا کر صندوق سے استری شدہ لباس نکالا۔ وہ جلدازجلد غسل کرنا چاہتا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ چاچی اس کے کپڑوں پر مٹی اور گھاس کے نشان دیکھ لے اور کسی شک میں مبتلا ہو جائے، مگر وہ جیسے ہی برآمدے میں آیا، چاچی خیرالنسا اسے برآمدے میں ٹہلتی دکھائی دی۔ وہ اسے دیکھ کر تولیے سے اپنے بال سکھانے لگی۔

 

چاچی اس کے پاس آ گئی اور اسے ٹوہ لینے والی نظروں سے دیکھنے لگی۔

 

اس نے سنجیدگی سے کہا، “تیرا چاچا آج سویرے سویرے ہی دکان پر چلا گیا۔ “

 

نذیر نے اسے دیکھا مگر کوشش کے باوجود اس سے آنکھیں نہیں ملا سکا۔ وہ کتھئی رنگ کے ریشمی لباس میں تھی جو اِس کی سفید رنگت سے مل کر پرکشش تاثر پیدا کر رہا تھا۔ اس کی گردن اور کلائی کا رنگ نکھرا نکھرا لگ رہا تھا۔ اس کے سر سے ڈوپٹہ اْترا تو اس کی خوبصورتی دوچند ہو گئی۔

 

“آج تو دیر تک گہری نیند سوتا رہا۔ دکان جانے سے پہلے تیرے چاچے نے تجھے ایک دو بار جگانے کی کوشش کی، مگر تو ہلاجلا ہی نہیں، “اس نے بے تکلفی سے کہا۔

 

وہ اس کے ہونٹوں پرپہلی بار لگی ہوئی لپ اسٹک کی تہہ دیکھ کر بولا، “رات جب تو کمرے میں چلی گئی تو اس کے بعد میں سو نہیں سکا۔ “ پہلی بار اسے چاچی کے بھرپور خدوخال روکھے پھیکے سے محسوس ہو رہے تھے۔

 

“مجھے بھی نیند مشکل سے آئی۔” وہ چاہتی تھی، نذیر آج بھی اس کی تعریفیں کرے اور اس سے اپنی چاہت کا اظہار کرے۔ مگر وہ اس سے کھنچا کھنچا سا تھا۔ اس کی آنکھوں میں پژمردگی تھی اور لہجے میں گرم جوشی کے بجائے سوگواری تھی۔ وہ اسے نظرانداز کرتا، نیلے آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا جہاں پرندے اْڑتے پھر رہے تھے۔ “تیرے لیے ناشتہ تیارکردیا ہے،” وہ ٹھنڈا سانس بھرتے ہوئے بولی۔
“غسل کر کے کھا لوں گا،” یہ کہتے ہوئے وہ کپڑے اٹھائے غسل خانے کی طرف چل دیا۔

 

ناشتے کے بعد اس نے ایک اور چائے پینے کی فرمائش کر دی۔ وہ باورچی خانے جا کر اس کے لیے ایک اور چائے کی پیالی لے آئی۔ وہ اس سے گریزاں سا تھا۔ اس کا جسم اور چہرہ دیکھ کر اسے تکلیف ہو رہی تھی۔ اسے بالکل یاد نہیں تھا کہ اس نے کل رات اس سے کیا کیا باتیں کی تھیں۔ اس کے اعصاب اور حواس پر شمیم سے ملنے کے دوران ہونے والی شکست سوار تھی۔ وہ اپنی ناکامی کے عذاب میں مبتلا تھا۔
“آج تو نے پیٹ بھر کے ناشتہ نہیں کیا۔”

 

“بھوک ہی کم تھی۔”

 

وہ سوچ رہی تھی کہ آج اچانک اسے کیا ہو گیا۔ وہ پہلے تو اکیلا ہی چار پانچ روٹیاں کھا جاتا تھا۔ “آج تجھے دکان پر جانے کی ضرورت نہیں۔ مجھے تیری طبیعت خراب لگ رہی ہے۔ تو آرام کر لے،” اس نے اپنائیت سے کہا۔

 

“دکان پر تو نہیں مگر ذرا دیر کو باہرگھومنے جاؤں گا۔”

 

اس کی بات سن کر وہ افسردہ ہو گئی۔

 

نذیر نے اچانک اس کے بارے میں سوچا کہ کیا وہ اس عورت سے وصل کر کے اپنی جذباتی شکست کا مداوا کر سکتا تھا۔ اسے اچانک باورچی خانے میں پیش آنے والے واقعے کی جزئیات یاد آئیں تو وہ حیران رہ گیا۔ اس نے کس طرح اسے چومتے ہوئے اپنے بازوؤں میں بھر لیا تھا؟
ان خیالات کا سلسلہ بھی اس کے مزاج کی سردمہری کو ختم نہیں کر سکا۔ وہ پیالی سے چائے کی آخری چسکی لے کر باہر جانے کے لیے اْٹھ کھڑا ہوا۔

 

“سن! تیرا چاچا ہاروالی بات بھول گیا ہے۔”

 

وہ روکھی مسکراہٹ سے بولا، “اچھا؟”اس کے بعد ٹھنڈا سانس لیتے ہوئے وہ دروازے کی طرف چل پڑا۔

 

گلی سے گزرتے ہوئے تنہائی میں وہ سوچتا رہا کہ کل رات کے تیسرے پہر جو کچھ پیش آیا وہ محض ایک اتفاق تھا۔ اگر بلی چھپر کی چھت سے اس کی پیٹھ پر چھلانگ نہ لگاتی تو اس کا شادکام ہونا یقینی تھا۔ وہ اپنے آپ کو تسلی دینے لگا کہ اسے احساسِ کمتری میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ وہ بالکل ٹھیک تھا۔ اس کی مردانگی پوری طرح بحال تھی اور نہر کنارے بیٹھ کر وہ اپنے انزال کے آب دار موتی بھی نہر کے پانی میں گرا چکا تھا۔ یہ سب باتیں سوچنے کے باوجود وہ خود پر اپنے یقین اور اعتماد کو بحال نہیں کر سکا۔

 

اس نے پان کی مانڈلی سے کچھ سگریٹ خریدے اور دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا کھیتوں کی طرف چل دیا۔ وہ سگریٹ سلگا کر اس کے لمبے کش لیتا آگے ہی آگے بڑھتا رہا۔

 

مکمل تنہائی میں مکمل خودسپردگی کے لیے آمادہ عورت سے مباشرت میں ناکامی غیرمعمولی اور شرم ناک بات تھی۔ شمیم خود کو ملامت کرتی رہی ہو گی اور اسے ایک نامرد تصور کر کے دل ہی دل میں وہ اس کا مضحکہ اڑاتی رہی ہو گی۔ نذیر نے فیصلہ کیا کہ وہ اب ہمیشہ کے لیے اس سے قطع تعلق کر لے گا اور آئندہ کبھی نورل کی شکل بھی نہیں دیکھے گا۔ اپنے آپ سے یہ عہد کرتے ہوئے وہ جانتا تھا کہ اس کی خاطر اس کا دل بری طرح مچلے گا اور کیا پتا وہ نیند میں اْٹھ کر نہر کی طرف دوڑتا چلا جائے۔

 

وہ قصبے کی مشرقی سمت میں واقع آخری مکانوں تک پہنچا اور انہیں عبور کرتا ہوا کھیتوں میں داخل ہو گیا۔ تاحدِنظر زمین پر سبزیوں اور گندم کے پودے لہلہا رہے تھے۔ سورج آسمان کے وسط میں چمک رہا تھا اور سارے میں پیلی سی دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔ گردوپیش اچٹتی سی نگاہ ڈال کر وہ سر جھکائے ایک پگڈنڈی پر چلنے لگا۔

 

وہ اپنے آپ کو باربار سمجھاتا رہا کہ اس کے ساتھ جو واقعہ پیش آ چکا تھا وہ اس کے اناڑی پن کی وجہ سے پیش آیا تھا۔ اس نے پہلی اور بنیادی غلطی پکوڑافروش کے ہمراہ مے خانے جا کر کی تھی۔ وہاں اس نے چرس اور بھنگ کا بے محابا استعمال کیا تھا، جس کی وجہ سے اس کے حواسِ خمسہ کند پڑ گئے تھے۔ پھر شدید سردی کے موسم میں آدھی رات کو چوری چھپے گھر سے نکلنا، ویران اور تاریک گلیوں میں خوفزدہ چلنا، آہٹوں پر چونکنا اور کھیتوں کے پاس کانپتے ہوئے اس کاانتظار کرنا یہ تمام چیزیں بھی تو اس افسو س ناک عمل کی رونمائی میں شامل تھیں۔

 

سوچتے سوچتے اس کا دماغ شل ہو گیا اوروہ تھک کر ایک بلندقامت شیشم کے پیڑ کے نیچے پگڈنڈی پر ہی بیٹھ گیا۔

 

چاچی خیرالنسا کے بارے میں سوچتے ہوئے اس نے عجیب شرمندگی محسوس کی لیکن اسے معلوم تھا کہ یہی وہ عورت ہے جو اس کے اعتماد کو بحال کر سکتی ہے۔

 

وہ بیٹھے بیٹھے تین سگریٹ پھونکنے کے بعد اپنی الجھنوں کو سلجھائے بغیر اْٹھا اور قصبے کی طرف واپس چل دیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اگلے دن وہ سویرے اٹھا اور چابیاں لے کر دکان چلا گیا۔

 

جانے سے پہلے باورچی خانے میں ناشتہ کرتے ہوئے اس نے محسوس کیا کہ چاچی اسے ملامت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اس کی نگاہوں کی تاب نہ لا کراس کے ہاتھ سے چائے سے بھرا پیالہ نیچے گر گیا اور گرم چائے نے اس کے اپنے پاؤں کو جلا دیا۔ اپنی تکلیف کو چھپاتے ہوئے وہ اس سے آنکھیں ملائے بغیر اٹھا اور باورچی خانے کی کوٹھڑی سے باہر نکل گیا۔

 

دکان پر پہنچ کر اس نے اپنی جیب سے چابیاں نکالیں اور شٹر پر لگے ہوئے تالے کھولے۔ شٹر اٹھا کر دکان کھول کر وہ صفائی کرنے کے بجائے دیواروں پر چسپاں فلمی اداکاراؤں کی تصویروں کو غور سے دیکھنے لگا۔ اس نے محسوس کیا کہ کچھ نئی تصویروں کا اضافہ ہو گیا تھا۔ وہ تصویروں کے نزدیک ہو کر انہیں اپنی نظروں سے ٹٹول ٹٹول کر دیکھ رہا تھا کہ اچانک ایک بھاری سی مردانہ آوازنے اسے چونکا دیا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو یعقوب کاریگر اس کے قریب ہی کھڑا مسکرا رہا تھا۔ وہ نذیر کو ڈرانے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔

 

“دیوار پر لگے نئے نئے فوٹو کیسے ہیں؟ میرے ایک دوست نے مجھے باہرکے ملک کا ایک رنگین رسالہ تحفے میں دیا تھا۔ میں نے اس میں سے بہترین تصویریں نکال کر یہاں لگا دیں۔ ذرا دیکھو! اس فوٹو کا تو جواب نہیں۔”

 

“ویسے تمھاری پسند کا بھی کوئی جواب نہیں۔”

 

کاریگر اپنی تعریف سن کر اس تصویر کی خصوصیات پر روشنی ڈالنے لگا۔ “اسے غور سے دیکھو! اس کے بالوں کا رنگ بالکل سونے جیسا ہے۔ اس کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ دیکھ کر ہم جیسا خوامخواہ خوش ہونے لگتا ہے۔ ذرا اس کی چمڑی کو دیدے پھاڑ کر دیکھو، کتنی چمکیلی اور نرم ہے۔ اور اس کے وہ تو۔۔” وہ بے قابو ہو رہا تھا۔
وہ آگے بڑھ کر چمکیلے رنگین کاغذ کی سطح پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ پھر تصویر کو چومتے ہوئے کہنے لگا، “پتا نہیں کہاں اور کون سے دیس میں رہتی ہیں یہ پریاں۔ ہماری قسمت میں تو باگڑی اور بھیل بھکارنیں لکھی ہیں۔” وہ افسردگی سے سر ہلاتابیڑی سلگا تے ہوئے اپنی سلائی مشین کے پاس لگی نشست پر بیٹھ گیا۔

 

نذیر نے اسے چھیڑا۔ “تمہارے پاس کپڑے سلوانے خوبصورت عورتیں بھی آتی ہیں۔ پھر ان سے دوستی کیوں نہیں کرتے؟”

 

“وہ بہت چالاک اور ہوشیار ہوتی ہیں۔ آسانی سے ہاتھ بھی نہیں آتیں۔ پھر انہیں قابو کرنے کے لیے پیسوں کی بہت ضرورت پڑتی ہے۔ میں ٹھہرا ایک غریب درزی۔ تمھارے چاچے کی قسمت بہت اچھی ہے کہ اسے زندگی بھر کے لیے ایک حسین اور جوان عورت مل گئی۔”

 

نذیر نے اس سے یونہی ایک بات پوچھی۔ “اب اس کی پریشانی کا کیا حال ہے؟”

 

یعقوب کاریگر یہ سننے کے بعد اپنی آنکھیں پھیلا کر اسے دیکھنے لگا۔ وہ اپنی بیڑی کی راکھ جھٹکتے ہوئے اْٹھا اور گلی میں جھانکنے کے بعد نذیر کے پاس آ بیٹھا۔ وہ رازداری سے کہنے لگا، “میں جانتا ہوں تم شریف آدمی ہو، اسی لیے میں تمہیں پسند کرتا ہوں مگر یہ حقیقت ہے کہ وہ تمہاری وجہ سے پریشان ہے۔ اس نے کل یہ بات مجھ سے رازداری رکھنے کی قسم لینے کے بعد بتائی۔”

 

“میری وجہ سے؟”

 

“اسے شک ہے کہ تم اس کی بیوی کے ساتھ خراب ہو۔” اس نے بیڑی کو فرش پر پھینکا اوراسے پاؤں کے نیچے مسلتے ہوئے کہنے لگا، “وہ تھوڑی دیر میں آنے والا ہو گا۔ دکان بند ہونے کے بعد تم مجھ سے جوگی کے چائے خانے پر ملو۔”

 

واقعی تھوڑی دیر بعد چاچا غفور دکان پہنچ گیا۔ یعقوب کاریگر سلائی میں مصروف تھا جبکہ نذیر قمیص کے بٹن لگاتا رہا۔ اس دوران غفور نے ایک بار بھی نذیر سے کوئی بات تک نہ کی۔ وہ آتے ہی سر جھکائے اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

سرائے

مزید مائیکرو فکشن پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

رہنما

 

غار سے نکل کر بے نور پتلیوں والے شخص نے رنگ برنگا جھنڈا ایک طرف رکھا!

 

بغیر سروں کے انسانی ہجوم کو بیٹھنے کا اشارہ کیا!

 

پھر دوسرے ہاتھ میں پکڑے چھرے کو کھونٹے سے بندھے نوخیز غزال کے پیٹ میں گھونپ کر آزاد کر دیا۔

 

اس کے رستے خون سے چہرہ تر کیا اور روشنی کی دعا مانگی غزال گیت گاتا، قلانچیں بھرتا رخصت ہوا۔

 

آسمانوں پر پنکھ پھیلائے ساکت گدھ نظریں جمائے ہوے دور کے درندوں کو خبر دے رہے تھے۔

 

میں حیران تھا۔

 

تھوڑی دیر پہلے ہی تو الاؤ روشن ہوا تھا کہ
کارواں ان راستوں میں کھو نہ جائیں جو اندھیروں میں گم ہو رہے تھے۔

 

جب خوشبو دار پھول راہ دکھانے پر مامور کیے گئے۔

 

الاؤ بھڑ کانے کو کتنے خوشبو دار پھولوںٰ کتنی نازک کلیوں اور تروتازہ کونپلوں نے اپنا وجود آگ کے سپرد کیا !

 

مگر افسوس قافلے والے دکانوں سے رنگ برنگے جگنو خرید کر انہی کی پھیکی روشنی میں راستہ بھٹک کر پتھیریلی وادیوں کی طرف نکل گئے۔

 

سرائے

 

وہ دلاویز مسکراہٹ سے ہر آنے والے کااسقبال کرتی۔ اس کا والہانہ انداز ہر مسافر کو یہ باور کرواتا کہ جیسے اس کو بس اسی کا انتظار تھا۔ آنے والا ہر مسافر سرشار تھا کہ وہ اس کا خاص مہمان ہے۔

 

مسافروں کی سرشاری دیدنی ہوتی کہ جب طاقتِ اظہار نہ ہونے کے باوجود وہ ان کی ضرورتوں کو بھانپ جاتیٰ۔ مہمان کو کس وقت کیا چاہیے وہ بن مانگے پیہم خدمت میں ڈٹ جاتی۔

 

مسافروں کو اس کا قطعاً ادراک نہیں تھا کہ اقتصادی اصولوں کے پیش نظر ہر چیز کی ایک قیمت مقرر ہے۔ وہ تو بس اس کی خدمت سے محظوظ ہو رہے تھے۔

 

مسافروں کو سرائے میں ٹھہرے ہوئے جب چند دن گزرے تو ان کو احساس ہوا کہ اب اس کی مسکراہٹ میں ایک اکتاہٹ کا عنصر نمایاں ہو چکا ہے۔

 

وہ آج بھی ان کی خدمت میں کوشاں تھی مگر ایسا لگتا تھا جیسے اب یہ سب بادل ناخواستہ کر رہی ہے وہ نئے آنے والے مسافروں سے خاص عنایت برت رہی تھی جبکہ پرانے مسافر اس کی بے اعتنائی و کج روی کا شکار ہوچلے تھے۔

 

پرانے مسافروں میں سب سے بوڑھا شخص جسے آج بھی اس کی وہ شاندار اسقبالیہ مسکراہٹ روز اول کی طرح یاد تھی اور وہی اس کے بدلے ہوئے رویے پر سب سے زیادہ دلبرداشتہ بھی تھا دھیرے سے اٹھا اور اپنا سامان باندھنے لگا۔ اس کی ڈبڈباتی ہوئی ملگجی آنکھیں تصور میں اپنا پہلا وجود دیکھنے لگیں کہ جس پر اس قتالہ نے ایک نگاہِ غلط انداذ ڈالی اور اسے غیر مرئی زنجیر سے جکڑ لیا تھا۔
بوڑھا مسافر اپنا سامان باندھ کر جھکی ہوئی کمر پر ہاتھ دھرے دروازے کی طرف بڑھا جہاں وہ اپنی روایتی حشر سامانیوں سے لیس نئے مسافروں کا اسقبال کر رہی تھی۔

 

بوڑھا اس کے قریب سے گزرا مگر اس نے اسے یوں نظر انداز کیا جیسے جانتی ہی نہیں بوڑھا مسافر دل گرفتہ ہوکر اس کی بے وفائی پر آنسو بہاتا ہوا دروازے تک پہنچا تو ایک آواز سماعت سے ٹکرائی سنیے !!!

 

یہ اسی کی مدھر آواز تھی۔ مسافر کی آنکھیں فرط مسرت سے جگمگا اٹھیں۔ تمام وسوسے دم توڑ رہے تھے وہ اسے بلا رہی تھی بوڑھے نے خود کو ملامت کیا کہ کیوں کر وہ اسے بے وفا سمجھا وہ تو اسے بلا رہی ہے۔

 

بوڑھے نے گھوم کر اس کی طرف دیکھا وہ اسی طرح شاداب تھیں کئی ہزار سال کی عمر پانے کے باوجود وہ اتنی ہی تر و تازہ تھی بولی حضور معذرت چاہتی ہوں گر خدمت میں کوئی کوتاہی ہوئی ہو اب آپ سے حساب ہو جائے؟

 

بوڑھے نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اپنی بند مٹھی اس کی طرف بڑھائی اور اپنی روح اس کی ہتھیلی پر رکھ دی۔
Categories
فکشن

چیخوف کی گلی میں

ٹوٹے بان والی چارپائی پہ لیٹا اسلم نائی مسلسل چھت کو گھورے جا رہا تھا۔ کسٹرڈ جیسے سبز روغن سے رنگی دیواریں اس بات کا ثبوت تھیں کہ جس کمرہ میں وہ لیٹا تھا وہ محض پرانا ہی نہیں تھا بلکہ اس کی آرائش کیے ہوئے بھی عرصہ بیت چکا تھا۔ بڑے بوڑھوں کے بقول یہ اسی زمانے کی بات ہے جب گاؤں میں پہلی بار لوگوں نے سفید چینی کے بارے میں سنا تھا اور پھر اس کا کوٹہ منظور ہوا جو گاؤں کے سب سے معتبر اور سمجھدار سمجھے جانیوالے شخص کو ملا۔ اسی زمانے میں بی ڈی ممبر کے بیٹے کی شادی پرگاؤں میں بجلی کی تاریں بچھیں اور کھمبے لگائے گئے اور پہلی بار مکانوں کو رنگ کیا گیا۔ شروع شروع میں روغن کرانے والوں کے متعلق لطیفے بھی کسے گئے۔ جیسے لوگ اب مکانوں میں نہیں بلکہ متنجن چاولوں میں رہا کریں گے۔ پھر دیکھے ہی دیکھتے ابلے ہوئے چاولوں کی طرح بے رنگ مکانوں کے متنجن بنتے گئے۔

 

اسی کسٹرڈ نما رنگ کے کمرے میں لیٹے ہوئے آج وہ مسلسل ماضی کو یاد کیے جا رہا تھا۔ گلی کے کنارے پر واقع ہونے کے باعث لوگوں کی آوازوں کا شور اسے بار بار حال میں کھینچ لاتا۔ لیکن ہر مرتبہ وہ سر کو جھٹک کر خود کو دوبارہ پیچھے دھکیلنے میں مصروف ہو جاتا۔ شور سے اس کے ذہن میں آندھی سی چلنے لگ جاتی مگر بستر میں دبکے ہونے کی بدولت اسے انجانے سے تحفظ کا احساس بھی تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ ان لوگوں سے اچھی تو یہ ٹوٹے روشندان والی دیواریں ہیں جنہوں نے لاکھ نظر انداز کئے جانے کے باوجود اسے پناہ دی ہوئی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ آج کی رسوائی کے بعد اگر یہ دیواریں بھی اپنی بے اعتنائی کا ہرجانہ طلب کرنے لگیں تو وہ کہاں پناہ ڈھونڈے گا۔ انہی سوچوں میں اسے گھر والوں کا خیال آیا جنہیں وہ کبھی اپنے قصے سنایا کرتا تھا کہ کیسے جب اس نے نوجوانی میں پہلی مرتبہ نے میلاد پر دیگ پکائی تو چاول یوں ختم ہو گئے کہ گویا کبھی پکے ہی نہ تھے۔ حالانکہ پہلے چاول پکوانے والے گھروں کو بھی لے جاتے اور ٹِپ کا بھی حصہ رکھا جاتا جہاں مولوی صاحب اور باہر سے آنے والے مہمان قیام کرتے تھے۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ آس پاس کے دیہات میں بھی اس کے ذائقے اور ہنر کے چرچے ہونے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اردگرد کے تمام نائیوں کا روزگار ٹھپ ہونے لگا سوائے موسیٰ نائی کے جس نے مندی کے ان دنوں میں بھی اپنی پہچان قائم کیے رکھی۔

 

اس پذیرائی کے باوجود اس نے کبھی نخرے نہیں کیے اور نہ کسی کو وقت دے کر عین موقع پہ اسے جواب دے دیا۔ تمام تر مصروفیت کے باوجود اس نے کبھی چودھری یا کمی میں تمیز نہیں کی۔ تعریف سن کر بھی اس نے ہمیشہ عاجزی کا اظہار کیا۔ وہ اپنی تعریف سن کر ہمیشہ یہی کہتا کہ یہ سب قدرت کا نظام ہے۔ نظامِ قدرت ہر کسی کو زندگی میں ایک موقع ضرور دیتا ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ لوگ ہمیشہ یہ سمجھنے میں سستی کر جاتے ہیں کہ شاید یہ وہ موقع نہیں جو ان کی قسمت بدل دے گا۔ اس روز اگر میں بھی یہ موقع گنوا دیتا یہ سمجھ کر کہ لنگر اچھا یا برا نہیں ہوتا اس کا کھایا جانا ہی کافی ہے تب کیا ہو جاتا۔ کیا لوگ گھر میں کھانا نہیں کھاتے؟ لوگ کھاتے، پکاتے اور بانٹتے رہتے۔ بھوک کا لگنا ایک فطری عمل ہے، میں نے لوگوں کی قدر کی، ان کی بھوک کی قدر کی اور انہوں نے اس کو میری ایمانداری جانا۔ بات تو فقط اتنی سی ہے۔

 

مگر جو آج اس کے ساتھ ہوا تھا اس نے ماضی کا آئینہ کرچی کرچی کر دیا تھا۔ ہاں اس سے غلطی ہوئی تھی مگر کیا یہ سزا کم نہیں تھی کہ کھانے کے وقت سب کو یہ کہہ دیا جاتا کہ اسلم اب بوڑھا ہو چکا ہے، اس کی نظر کمزور اور حواس باختہ ہو چکے ہیں۔ باقی لوگ بھی تو یہی غلطی کر جاتے ہیں جیسے الیکشن کے دنوں میں میرو نے دو دیگیں خراب کر دیں لیکن اگلے دن پھر اسی کو بلا لیا گیا کہ پہلی غلطی تو خدا بھی معاف کر دیتا ہے۔ اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ اگر اس کی جگہ میرو یہ دیگیں خراب کر دیتا تو کیا تب بھی وہ اُس کو بلاتے۔

 

پریشانی کے عالم میں وہ گھر سے اٹھا اور گاؤں سے باہر ایک ڈیرے میں چلا گیا تاکہ ان لوگوں اور دیواروں سے آزاد ہو کر کچھ دیر مراقبہ کر لے۔ یہاں کے درخت اور در و دیوار اس کے ساتھ رونما ہونے والے واقعہ سے بے خبر اپنی اپنی دھن میں مست چاندنی میں نہا رہے تھے۔ وہ اس وقت کو کوسنے لگا جب اس نے اپنے لئے دیگیں پکانے کا پیشہ اختیار کیا۔ پانچ جماعتیں پڑھ لینے کے بعد وہ بیلدار بھرتی ہو جاتا لیکن وائے قسمت کہ وہ اس کام میں کود گیا۔ شروع شروع میں اسے اس کام میں مزہ آتا تھا جب دیگیں پکانے کے دوران وہ مالکوں سے مختلف چیزوں کی فرمائش کرتا۔ اس کی فرمائشوں میں سستے میسی سگریٹوں کی ڈبی اور چائے یا سوڈا ضرور شامل ہوتا۔ وقت گزاری کے لئے باتیں کرتا رہتا، اس کی باتیں بھی پکوائی کے گرد ہی گھومتی تھیں۔ کبھی بتاتا کہ لیموں چاولوں کو کھٹا کر دیتے ہیں اور کبھی کہتا کہ مسالہ جس قدر تیکھا ہوگا کھانا اس قدر کم کھایا جائے گا۔

 

مگر اس دوران آگ کے قریب کھڑے رہنے کے سبب اس کی ٹانگوں کا اوپر والا حصہ جلنا شروع ہو گیا۔ تھوڑے ہی عرصے میں جلن شروع ہو گئی اور یہی سوچتے سوچتے جگراتے بڑھنے لگے۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ آگ سے دور بھاگنے لگا۔ کھڑے کھڑے اسے محسوس ہوتا کہ اس کی ٹانگوں اور ناف کے نچلے حصے میں فشار خون بند ہو چکا ہے اور اندر موجود خون لاوے کی مانند پھٹ کر باہر نکلنے کو ہے۔ پھر اس کا دھیان کل شام کی طرف مڑ گیا جب اسے پیغام ملا کہ اشتیاق جٹ کے گھر میلاد ہے جس کا کھانا وہ پکائے گا۔ وہ انکار کرنے والا تھا کہ اچانک اسے بیوی کا خیال آیا جسے پچھلے چار سال سے یرقان تھا۔ اس نے دوائی لینے کے خیال سے ہاں کر دی اور اگلے دن دیگ پکانے پہنچ گیا۔ مگر قسمت کی بتی گل ہونے کا احساس اسے دیگ پک جانے کے بعد ہوا۔ وہ جسے اپنے ساتھ مدد کے لیے لایا تھا اس نے نمکین سمجھ کر بارہ کلو چاول تولے تھے جبکہ اسلم نے آٹھ کلو کے حساب سے پانی ڈال دیا اور بعد میں جب چاول پک کر تیار ہوئے تو وہ اتنے خشک تھے کہ ٹھنڈا ہونے پر جیبوں میں بھر کے بھی کھائے جا سکتے تھے۔ اس غلطی کے بعد اس کا کورٹ مارشل کر دیا گیا۔ اشتیاق جٹ نے مزدوری دینے سے انکار کرتے ہوئے دیگ اسے تھما دی اور تقاضا کیا کہ دیگ پہ آیا ہوا سارا خرچ واپس کیا جائے۔ اپنی معتدل طبعیت کے باعث وہ بغیر کوئی احتجاج کیے کڑچھے اٹھائے گھر روانہ ہو گیا۔ جب شام کو اشتیاق جٹ کا لڑکا پیسے لینے آیا تو اسے احساس ہوا کہ فطرت نے ماضی کا دیا ہوا لمحہ واپس لے لیا ہے۔

 

یہ خیال آتے ہی اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں کہ اچانک کسی نے نرمی سے اس کا کندھا دبایا۔ یہ جلیل تھا۔ اقبال موچی کا لڑکا جو کبھی ویگن ڈرائیور ہوا کرتا تھا۔ ایک دن طالبعلموں کے ساتھ جھگڑے کے نتیجے میں اس نے گاڑی بھگائی تو گاڑی بے قابو ہو جانے کے باعث ایک طالبعلم کچلا گیا۔ کچھ عرصہ اس نے جیل میں بھی گزارا لیکن پھر رہا کر دیا گیا اور اس کے بعد ڈرائیوری سے تائب ہو کر فیکٹری میں کام کرنے لگا۔ ان دنوں وہ چھٹی پہ گھر آیا ہوا تھا۔ وہ جب بھی گاؤں آتا اسلم سے ہی بال کٹواتا۔ آج جب اس نے اس بارے سنا تو پتہ کرنے چلا آیا۔ اسے گھر نہ پا کر وہ بھی یہیں ڈیرے پر آگیا کہ گھر سے باہر یہ واحد جگہ تھی جہاں وہ آجایا کرتا تھا۔ جلیل نے اسے تسلی دی اور کچھ دیر بعد اپنے بارے میں اسے بتانے لگا کہ کس طرح وہ بھی ایک انجانے جرم کی سزا کاٹ چکا تھا۔ اس دن اگر وہ طالبعلموں کے ہاتھ لگ جاتا تو شاید ہڈیاں تڑوا بیٹھتا اور اسی ڈر سے اس نے گاڑی بھگائی۔ باتیں ختم ہو جانے اور کڑھنے کے بعد جب کچھ نہ بچا تو دونوں اٹھے اور گھروں کو روانہ ہو گئے۔

 

اسی رات اسلم نے فیصلہ کیا کہ جلیل کی طرح وہ بھی کچھ اور کرنے لگ جائے گا یا اس کا میٹرک پاس بیٹا بیلدار تو بن ہی سکتا ہے۔

 

دور کہیں فطرت اس بات پہ مسکرا رہی تھی کہ خود کو آزاد کہنے والا انسان کیا آزاد ہے؟
فطرت کا غلام۔ فطرت کے قانون کا غلام۔ لاچار انسان۔
Categories
فکشن

Apocrypha

سکندر کی حالت غیر ہو چلی تھی۔ گھوڑے کی پیٹھ پر ٹکا اس کا بدن نڈھال ہو کر آگے کو جھک گیا تھا۔ باگوں پر اس کی انگلیاں لرزنے لگی تھیں اور پسینے کی نمی میں گندھے اس کے گرد آلود لمبے اور بے ترتیب بال ادھر ادھر جھول رہے تھے۔ گھوڑے کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ خشک ترین پہاڑوں کے بیچ حد درجہ پتھریلے راستے پر مریل چال چلتا سکندر کا گھوڑا کسی وقت بھی زمین بوس ہونے کو تھا۔ اگلے ہی لمحے سکندر کا بے جان جسم بائیں طرف ڈھلک گیا اور گھوڑے کے پاس کھڑے خضر نے اسے سہارا دے کر چھوٹے بڑے تپتے پتھروں کے بستر پر لٹا دیا۔ خضر کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ لیکن آبِ حیات کی بچھی کچھی طاقت نے اسے سہارا دے رکھا تھا۔ وہ ایک بار پھر سکندر کو کسی نا معلوم مقام کی طرف لیے جا رہا تھا۔ یہ سکندر وہ آبِ حیات والا سکندر نہیں تھا۔ لیکن تھا سکندر ہی اور تھا بھی بادشاہ۔ جب وہ چلے تھے توخوب شان و شوکت کا منظر تھا۔ ان کے ساتھ سینکڑوں دراز قد اور مضبوط گھڑ سوارا ور رنگا رنگ بڑھکیلی وردیوں میں ملبوس چاک و چوبندپیادوں کے منظم دستے تھے۔

 

نا قابلِ عبور صحراؤں، فلک بوس پربتوں، ویران میدانوں، خوفناک گھاٹیوں، آندھی طوفانوں اور بد بو دار دلدلی علاقوں نے سکندر کی شان و شوکت کے تمام مظاہرکو دھیرے دھیرے نگل لیا تھا۔ اس کے سینکڑوں ہمراہی اسے اور خضر کو اپنی جانوں کی قربانی دے کر زندہ رکھنے کی کوشش میں کامیاب رہے تھے۔ لیکن اب سکندر، خضر اور اپنے گھوڑے کے ہمراہ تنہا اور بدحال تھا۔ اس کی ساری ہمتیں جواب دے چکی تھیں۔ سخت پتھریلی چٹانیں گویا سورج بنی ہوئیں تھیں اور پینے یاکھانے کو کچھ بھی نہیں بچا تھا۔

 

نئے والے سکندر کو آبِ حیات کی بجائے ایک کتاب کی تلاش تھی۔ جس میں ہمیشہ کی خوشحالی اور آسودگی کے راز لکھے تھے۔ اس کی بادشاہت خطرے میں تھی۔ اس کی سلطنت سے نعمتوں نے منہ موڑ لیے تھے۔ سیلابوں نے سر سبز میدانوں اور کھیتوں کو روند ڈالا تھا۔ایک مستقل قحط کی سی صورتحال تھی۔ اُس کی ساری تدبیریں ناکام ہو چکی تھیں۔ ایسے میں ایک ایسا واقع رونما ہوا جس کے بعدیہ نیا والا سکندرآبِ حیات والے سکندرکی طرح یہ کٹھن سفر کرنے پر مجبور ہو گیا۔ جو واقع رونما ہوا تھا وہ کچھ یوں تھا کہ ایک شخص کہیں سے سکندر کی سلطنت کی حدود میں داخل ہوا تھا۔ وہ کچھ ایسی باتیں کر رہا تھا جنھیں سن کر مقامی لوگوں نے اس کی تکا بوٹی اڑا دی تھی۔ وہ کسی کتاب کا نام بھی لیتا رہا تھا۔

 

سکندر کے خاص الخاص اہلِ علم مصاحبوں نے اس اجنبی کی باتوں سے اندازہ لگا کر یہ انکشاف کیا کہ اس روئے ارض پر ایک ایسی کتاب ہے جس میں ہمیشہ کی خوشحالی، آسودگی اور صاحبِ طاقت رہنے کے راز درج ہیں اور وہ خوف اور غم کو فنا کر دینے والے منتروں سے بھری ہوئی ہے۔ سکندر تک جب اس بات کی خبر پہنچی تو وہ بہت بے چین اور غضب ناک ہوا۔ اُ س نے اُن سب لوگوں کو سولی چڑھا دیا جنھوں نے اُس اجنبی کا یہ حال کیا تھا۔خاص الخاص مصاحبوں کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے سکندر نے خضر کواپنی راہنمائی کے لیے ڈھونڈ نکالا اورکتاب کی تلاش کا سفر شروع ہوا۔

 

خضر نے اپنی لمبی زندگی کے تجربے کی بدولت کسی نہ کسی طرح صحیح سمت کا تعین کر لیا اور انسانوں، درختوں، چرند پرند اور دیگر مخلوقات کی مدد لیتا کسی نہ کسی طرح ا س جگہ کے بارے میں جان لینے میں کامیاب ہو گیا جہاں وہ کتاب چھپی تھی۔ لیکن اس جگہ تک پہنچتے پہنچتے انھیں جن صعوبتوں اور مصیبتوں سے گزرنا پڑا انھوں نے سکندر کو موت کی دہلیز پر لا کھڑا کیا تھا۔ حالت خضر کی بھی کچھ کم بری نہیں تھی لیکن اس نے آبِ حیات پی رکھا تھا۔

 

اُس وقت جب یہ نیا سکندرخضر کی بانہوں میں آخری سانسیں لے رہا تھا تو وہ پہاڑ یہاں سے کچھ ہی دور تھا جس کے پیٹ میں وہ کتاب تلاش کیے جانے کی منتظر تھی۔ اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ سکندر نے آخری ہچکی لی اور ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند لیں۔ خضر تذبذب کے عالم میں اسے دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اب وہ کیا کرے؟
وہ کافی دیر سوچتا رہا۔۔۔

 

ہمیشہ کی خوشحالی، آسودگی اور صاحبِ طاقت رہنے کے راز۔۔۔ ہمیشہ کی زندگی۔۔۔کوئی روپوشی نہیں۔۔۔
اور۔۔۔اورپھر وہ لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ لیے اٹھ کھڑا ہوا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

گھور اندھیرے میں دائیں بائیں غار کی کھردری اور ناہمواردیواروں کو ٹٹولتا خضرآگے ہی آگے بڑھ رہا تھا۔ اسے چلتے ہوئے کافی دیر ہو چکی تھی لیکن غار تھی کہ لمبی ہی لمبی ہوتی چلی جا رہی تھی۔ جلد ہی اسے دور سے ایک جگنو سا نقطہ دکھائی دیا اور اس کے قدموں کی رفتار تیز ہو گئی۔ نقطہ قریب آتا گیا اور بڑا ہوتا گیا۔ بالآخرلمبا، تاریک تراورنہایت تنگ راستہ ایک نسبتاً کشادہ اور روشن لیکن جہنم جیسی گرمی کی حامل جگہ میں جا کر کھلا۔ عین درمیان میں قدرتی پتھریلے فرش پر بڑے بڑے سائز کی کتابوں کا ڈھیر سا لگا تھا۔ کتابوں پر کتابیں دھری تھیں۔ خضر نے غور سے دیکھا تو اسے اس ڈھیر کی جڑت میں تھوڑی بہت ترتیب دکھائی دی۔ خوبصورت سے ریشمی غلاف میں لپٹی ایک کتاب سب سے نیچے رکھی تھی۔ وہ کتاب اگرچہ ٹھیک سے دکھائی نہیں دے رہی تھی لیکن خضر کو غور سے دیکھنے پر اندازہ ہوا تھا کہ غلاف میں لپٹی کوئی کتاب ہے۔ اس کتاب کے اوپر چھ یا شاید سات کانٹے دار لوہے کی جلدوں میں محفوظ بڑی بڑی موٹی تازی اور بھدی کتابوں کا بوجھ لدا ہوا تھا۔ کانٹے دار لوہے کی جلدیں گویا آگ میں دہکائی گئی تھیں۔ جن سے بھاپ اورحرارت خارج ہو ہو کر اُس جگہ کو جہنم بنائے ہوئی تھی۔ موٹی تازی اور بھدی کتابوں کے اوپر کئی کئی جلدوں پرمشتمل پہاڑوں جیسا بوجھ لیے مزید ایسی ہی کئی کتابیں عجیب اور خوفناک نظارا پیش کر رہی تھیں۔

 

خضر کے تجربہ کارذہن نے فوراً اندازا لگا لیا کہ وہ جس کتاب کی تلاش میں آیا ہے وہ سب سے نیچے خوفناک بوجھ تلے دبی خوبصورت سے ریشمی غلاف میں لپٹی کتاب ہے۔ اس نے بھدی اور موٹی تازی کانٹے دار دہکتی لوہے کی جلدوں میں ملبوس کتابوں کو ہٹانے کی کوشش شروع کر دی۔ لیکن جلد ہی اسے اندازہ ہو گیا کہ یہ اتنا آسان کام نہیں ہے۔ لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری اور کوشش جاری رکھی۔ زخموں سے چور اور تکلیف سے بے جان کر دینے والی تگ و دو کے بعد خضر آخر کارتمام کے تمام اضافی بوجھ کو ہٹانے میں کامیاب ہو گیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

خوبصورت ریشمی غلاف میں لپٹی کتاب کو بازوؤں میں سمیٹے، سینے سے لگائے، بدحال اور زخموں سے چور خضر نے غار کے دہانے سے باہر کھلی فضا میں قدم رکھا اور گرتا پڑتا ایک چٹان کے سائے میں جا بیٹھا۔ ہانپتا، کانپتا اور اکھڑے سانس بحال کرنے کی کوشش کرتا خضر اندر ہی اندر اپنی کامیابی پر نازاں بھی تھا۔ دھیرے دھیرے اُس کے بدن کی ساری تھکن اُس کے پپوٹوں پر جمع ہونے لگی اور جلد ہی وہ نیند کی پُر سکون وادیوں میں اترتا چلا گیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

خضر کی آنکھ کھلی تو موسلا دھار بارش برس رہی تھی۔ وہ جس چٹان کے نیچے بیٹھا تھا وہ آگے کی جانب اس طرح جھکی ہوئی تھی کہ خضر بارش میں بھیگنے سے محفوظ رہا تھا۔ اس قدر میٹھے پانی کو دیکھ کر وہ بے اختیار چٹان کے نیچے سے نکل کر بارش میں جا کھڑا ہوا اور چُلّو بھر بھرکر بارش کا پانی پینے لگا۔ اور پیتے پیتے اس کی نظر چٹان کے نیچے رکھی خوبصورت ریشمی غلاف میں لپٹی کتاب پر پڑی جسے اس نے اتنی مصیبتوں کے بعد حاصل کیا تھا۔ وہ تیزی سے اس کی طرف لپکا اور جلدی جلدی غلاف کھولنے لگا۔ اُس نے کتاب نکالی اور لمحہ بھر کا بھی توقف کیے بغیر بے تابی سے اُسے پڑھنے لگا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کتاب حاصل کرلینے کے بعد چٹان کے نیچے خضر کا بحیثیت خضر وہ آخری دن تھا۔ اُس روز کتاب پڑھنے کے بعد وہ لوگوں کے لیے خضر نہ رہا۔وہ کتاب پڑھ کے جیسے اُس نے اپنی موت کو دعوت دے لی تھی۔ اُس کی باتیں سُن کرسکندر کے لوگ اُس کی تکا بوٹی کرنے کے لیے دوڑ پڑے۔ دنیا کے باقی لوگوں نے بھی جوکل تک خضر کی تلاش میں مارے مارے پھرتے تھے، خضر کو پاگل، خبطی اورگمراہ کہنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ اَن پڑھ جاہل گنوار اور اجڈ لوگ بھی بڑے وثوق سے اُسے کہتے کہ وہ خضر ہو ہی نہیں سکتا۔