Laaltain

کیچڑ سے بھرے جوتے

سدرہ سحر عمران: اس منظر نامے میں تھا بھی کیا ؟
ہوا کے زور پہ پھڑ پھڑا تے شاپنگ بیگز کے ہیبت ناک قہقہے، گلے سڑے آلوؤں سے اٹھتی بساند، زرد ٹماٹروں کے پچکے ہوئے رخساروں پر جمی مٹی کی تہیں۔ پکے ہوئے خربوزوں کی انتڑیاں با ہر ڈھلک رہی تھیں۔

میرواہ کی راتیں – چھٹی قسط

رفاقت حیات: دفعتاً اس کی نگاہ ڈرائیور کے سامنے لگے آئینوں پر جا کر ٹھہر گئی اور اس کی مسرت کی کوئی حد نہ رہی۔ سامنے لگے ہوئے ہر آئینے میں اسے اس کی جھلک نظر آ رہی تھی۔ نذیر کی آنکھیں ان آئینوں کے درمیان بھٹکنے لگیں۔

سرخ شہر اور دوسری کہانیاں

شین زاد: اس نے محسوس کیا اس کا قد مسلسل بڑھ رہا ہے اور پھر چند ہی دہائیوں میں دیکھتے دیکھتے اس کا سر آسمان سے جا لگا وہ جب چاہتا آسمان کی دوسری طرف جھانک سکتا تھا

ایک مردہ فلسفی کا روزنامچہ

جنیدالدین: میں ان شاعروں اور فلسفیوں کو کیا جواب دوں گا جو پہلے سے مر چکے ہیں کہ میری زندگی کا سب سے خوش کن لمحہ کون سا تھا اور کس بات نے مرتے وقت مجھے سب سے زیادہ رنجیدہ کیا۔

میرواہ کی راتیں — پانچویں قسط

رفاقت حیات: نورل نے اس کے پاس آ کر سرگوشی میں کہا، “تمام گوٹھوں کے عاشقوں کے لیے کماد کی فصل خدا کی طرف سے ایک انمول تحفہ ہے۔”

میر واہ کی راتیں- چوتھی قسط

رفاقت حیات: نورل نے اپنی باتوں سے اپنے دوست کے دل میں مایوسی کو گھر بنانے نہیں دیا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ ہر نوجوان عاشق کا دل قنوطی ہونے کے باوجود کبھی بھی بے آس نہیں ہوتا وہ ہمیشہ کسی نہ کسی معجزے کی رونمائی کا منتظر رہتا ہے۔

سوال

اسد رضا: اب مجھے یاد آرہا ہے کہ اکثر میں خواب دیکھتا تھا کہ وہ مجھے زور زور سے ہنٹر سے پیٹ رہے ہیں جس سے میری سفید کھال لہو لہان ہوتی جا رہی ہے کچھ زخم تو میری کھال سے بہت اندر تک اُتر جاتے ہیں۔

کسی صبا رفتار کا بیان

تصنیف حیدر: میں اسے صبا کہوں یا صبا رفتار ۔مگر بات یہی ہے کہ وہ گزری جاتی ہے، نگاہوں کے سامنے سے، ٹھنڈک پہنچاتی ہوئی، کانوں میں سچے شہد کی سی سرگوشیاں گھولتی ہوئی مگر ہم جھونکوں کو محسوس کرنے سے عاری لوگ ہیں۔

ریفری‎

جنید الدین: وہ شیشوں کی نفسیات اور شکل کے معاملے میں اکثر پریشان رہا کہ اس کا چہرہ کیسا ہے کیا وہ اتنا ہی پیارہ ہے جتنا اس شیشہ میں نظر آتا تھا یا اتنا ہی بھدا جتنا کہ ساتھ والے شیشہ میں۔

میرواہ کی راتیں- تیسری قسط

رفاقت حیات: نذیر کے بھائی اور والد اسے کبھی شہربدر نہ کرتے اگر وہ میرپور ماتھیلو کے چکلے کی بدنامِ زمانہ رنڈی زوری کی زلفوں کا اسیر نہ ہو جاتا۔

گمراہ

ابنِ مسافر: آخری لال بیگ نے اس کے بائیں کندھے پر کچھ دیر ٹھہر کر اسے جانی پہچانی لیکن بری نظروں سے دیکھا۔۔ اور اپنے معدے میں خود ساختہ فاضل جکڑ بندیوں کی باقیات چھپائے ایک اڑان بھر کر سامنے راستے پر والدین کی انگلی تھامے ایک بچے کے سر پر جا بیٹھا۔

رف رف رفتن

اس نے اپنی پوتی سے کچھ کہنے کو مڑ کر کمرے کے اندر جھانکا تو کھڈی پر کوئی نہیں تھا۔

بائیسویں صدی کا آدمی اور دوسری کہانیاں

شین زاد: مجھ سے کب پوچھا مجھے کس گھرانے میں پیدا کرے مجھے تو میرے ماں باپ نے بتایا کہ یسوع خدا کا بیٹا ہے خدا ہم سب کو پیدا کرتا ہے اور مقدس روح ہماری حفاظت کرتی ہے

پھیری والا چڑیا گھر

ڈاکٹر احمد حسن رانجھا: گلے میں چھتروں کا ہار اور منہ پر کالک مل کر پورے میلے میں پھیرایا گیا۔ لوگ انہیں مڑ مڑ کر ایسے دیکھ رہے تھے جیسے وہ پھیری والے چڑیا گھر کے بندر ہوں۔ یہ تماشہ تو انہیں دس روپے کے ٹکٹ کے بغیر ہی میسر آگیا تھا۔

میرواہ کی راتیں- دوسری قسط

رفاقت حیات: پلیٹ فارم پر ٹرین کے رکتے ہی لوگوں نے اس پر سوار ہونے کے لیے کوششیں شروع کر دیں کیونکہ ٹرین مسافروں سے کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر بوگی کے دروازے پر لوگ آلتی پالتی مارے ہوئے بیٹھے تھے۔