Laaltain

مفتی

جیم عباسی: مفتی صاحب کی شادی کی خواہش ابھی بھی برقرار تھی۔ بلکہ جوان ہوتی جارہی تھی۔ جب بھی لڑکے بالے ان کے ساتھ بیٹھ کر تفریحاً ان کی شادی یا کسی رشتے کا تذکرہ چھیڑتے مفتی یاصاحب کی آنکھیں دمکنے لگتیں اور بیٹھے ہشاش بشاش ہوجاتے۔

بلّو، پنکی اور سابو

سوئپنل تیواری: بائیس سال پرانا ایک آسیب اس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ وہ مڑا تو اس کے سامنے آٹھ سال کی ایک بچی کھڑی تھی جس کے ہاتھ میں ایک کامک بک تھی۔

کس جرم کی پائی ہے سزا

محمد جمیل اختر: پچھلے سات سال سے، میں کوئی پچیس مختلف کہانیاں سن چکا ہوں۔ کبھی موبائل چرا کر آرہا ہے تو کبھی کسی کی گاڑی چوری کا الزام اس پر لگ گیا ہے

نور نہار

ممتاز حسین: لینز دکان کے اندر کن کھجورے کو ڈھونڈ رہا تھا۔ اور کن کھجورا دلی نہاری والے کے بیٹے کے خون میں لت پت کپڑوں میں گھسا ہوا تھا

تمغہ

علی اکبر ناطق: میرے کان پولیس کے ترانوں سے گونجتے رہے اور میں آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتاہوا اسٹیج کی طرف بڑھتا گیا۔ حتیٰ کہ دو تین قدم چلنے کے بعد میری حالت میں اعتدال آگیا۔ بالآخر مَیں نے بھی اپنا میڈل ترانوں اور نعروں کے شور میں وصول کر لیا۔

من کی ملکہ

شہناز شورو: ملکہ کا ذِکر اب شہر بھرکا موضوع تھا۔۔۔ ہر شخص کے پاس اپنا ہی ترازو تھا۔۔۔ اور ملکہ کے گناہوں کا پلڑا۔۔۔ بلاشبہ ہر جا، بھاری تھا

فنِ گزشتگان

اسد رضا: ایک بات کا خاص طور پر خیال رکھنا کہ خنجر ، چاقویا کوئی بھی اوزار چلاتے وقت تمہارا ہاتھ زخمی نہ ہو۔ اگر تمہارے خون کا ایک بھی قطرہ لاش پر گر گیا تو تمہاری نسلوں میں یہ فن ختم ہو جائے گا اور تم صرف کمہار پیدا کر سکو گے”۔

ایٹوموسو

محمد جمیل اختر: وہ آوازوں سے اتنا خوفزدہ تھا کہ کانوں میں ہر وقت روئی ڈالے رکھتا لوگ اس کی حالت پر افسوس کرتے اور اس کے ماضی کی خوشگوار باتوں کو یاد کر کے آہیں بھرتے۔

پچھلی گلی کا دروازہ

سدرہ سحر عمران: وہ دفتر سے گھر آیا تو گھر کے باہر لوگوں کو جم غفیر دیکھ کر اسے کسی انہونی کا احساس ہوا۔

چیخوف کی گلی میں

جنیدالدین: اشتیاق جٹ نے مزدوری دینے سے انکار کرتے ہوئے دیگ اسے تھما دی اور تقاضا کیا کہ دیگ پہ آیا ہوا سارا خرچ واپس کیا جائے۔

Apocrypha

ابنِ مسافر:
کتاب حاصل کرلینے کے بعد چٹان کے نیچے خضر کا بحیثیت خضر وہ آخری دن تھا۔اُس روز کتاب پڑھنے کے بعد وہ لوگوں کے لیے خضر نہ رہا۔وہ کتاب پڑھ کے جیسے اُس نے اپنی موت کو دعوت دے لی تھی۔

کیچڑ سے بھرے جوتے

سدرہ سحر عمران: اس منظر نامے میں تھا بھی کیا ؟
ہوا کے زور پہ پھڑ پھڑا تے شاپنگ بیگز کے ہیبت ناک قہقہے، گلے سڑے آلوؤں سے اٹھتی بساند، زرد ٹماٹروں کے پچکے ہوئے رخساروں پر جمی مٹی کی تہیں۔ پکے ہوئے خربوزوں کی انتڑیاں با ہر ڈھلک رہی تھیں۔

ایک مردہ فلسفی کا روزنامچہ

جنیدالدین: میں ان شاعروں اور فلسفیوں کو کیا جواب دوں گا جو پہلے سے مر چکے ہیں کہ میری زندگی کا سب سے خوش کن لمحہ کون سا تھا اور کس بات نے مرتے وقت مجھے سب سے زیادہ رنجیدہ کیا۔

کہانی کا سنگ میل

ڈاکٹر محمد آصف زہری: اور تکمیل تو ایک خلا کا نام ہے۔ ایک نقطہ انجام کے ساتھ ساتھ ایک نقطہ ابتداء۔ بلکہ دونوں کے درمیان ایک مختصر تریں لمحہ۔

سوال

اسد رضا: اب مجھے یاد آرہا ہے کہ اکثر میں خواب دیکھتا تھا کہ وہ مجھے زور زور سے ہنٹر سے پیٹ رہے ہیں جس سے میری سفید کھال لہو لہان ہوتی جا رہی ہے کچھ زخم تو میری کھال سے بہت اندر تک اُتر جاتے ہیں۔