Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 11

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

وقت اپنی پوری رفتار سے گزرتا جا رہا تھا، پر نہیں گزر رہا تھا تو سیاسی اُتھل پُتھل اور افرا تفری کا وہ دور جس کا آغاز بٹوارے کے اعلان کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ پاکستان کی ہندو آبادی کے پلائن کی وجہ سے وہاں کا سارا نظام چِھن بِھن ہونے لگا تھا۔ روزمرہ کی ضرورت کی کئی چیزوں تک کی قلت ہونے لگی تھی۔ دکانوں پر تالے لگے تھے جن کی چابیاں اور اپنی جان بچا کر ہندو بیوپاری بھاگ نکلے تھے۔ دھیرے دھیرے ان دکانوں کے تالے ایک کے بعد ایک ٹوٹتے چلے گئے۔ کچھ دکانوں کا مال لُٹ گیا تو کچھ پر وہاں پہنچے مہاجروں نے قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ لیکن چار دن بعد مشکل اسی شکل میں سامنے آ کھڑی ہو جاتی که خالی ہوتی دکانوں میں بھرنے کے لیے نئی سپلائی کا بندوبست نہ تھا۔

اُدھر سڑکوں پر جھاڑو لگانے اور گھروں کے پاخانے صاف کرنے والے صفائی کرمچاری بھی ندارد تھے۔ نتیجے میں گھروں اور سڑکوں پر گندگی اور بدبو کا عالم پھیلنے لگا تھا۔ ایک پاک اور جنّت نشاں ملک کی آس میں اپنا شہر، اپنا گھربار چھوڑ کر پہنچے ہندوستانی مسلمانوں کے لیے وہاں پھیلی بدحالی کا یہ عالم کسی صدمے سے کم نہ تھا۔ اور جو اتنا کافی نہ تھا تو وہاں کے مقامی مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کے رویے نے ان کا دل توڑ دیا۔

حالات ہندوستان میں بھی بہت بہتر نہ تھے۔ ایک صاف ستھری آبادکاری کی پالیسی کے برعکس تمام سرکاری کوششیں لچر ثابت ہو رہی تھیں۔ خاص کر دہلی میں سارا بندوبست چرمرانے لگا تھا۔ پنڈت جواہر لال نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل جیسے نیتاؤں کی تمام کوششوں کے باوجود مار کاٹ، خون خرابے جیسی باتیں روز کا معمول سی بننے لگی تھیں۔ اور جو کوئی کسر باقی تھی تو جب تب پھیلتی بھڑکاؤ افواہوں سے پوری ہوتی جاتی تھی۔ ان افواہوں کو پختگی دینے میں دونوں ملکوں کے اخبار پوری طرح آمادہ نظر آتے تھے۔ اس کے بعد کا کام دونوں طرف کی سیاسی جماعتوں نے مانو اپنے ذمے لے لیا تھا۔ ان مشکل سے مشکل تر ہوتے حالات کے لیے دونوں ملک، ہندوستان اور پاکستان، ایک دوسرے کو ذمےدار بتاتے ہوے، کھلم کھلا ایک دوسرے پر فوجی حملے کی باتیں کرنے لگے تھے۔

ہندو مہاسبھا کے سربراہ این بی کھرے جیسے نیتاؤں کے لیے تو پَوبارہ والے حالات بن گئے تھے۔ پاکستان پر حملہ کر کے اسے پھر سے ہندوستان کا حصہ بنا کر ’’اکھنڈ بھارت‘‘ قائم کرنے جیسی تقریریں آئے دن کی بات ہو گئی۔ ’’ایک دھکا اور دو/ پاکستان کو توڑ دو‘‘ جیسے نعروں کی گونج دھیرے دھیرے پورے دیش میں سنائی دینے لگی تھی۔ اُدھر پاکستان میں بھی مسلم لیگ اسی طرح کا ماحول بنائے ہوے تھی۔ آئے دن انگریزی اخباروں میں چھپنے والے فوٹوؤں اور خبروں سے معلوم ہو رہا تھا که وہاں مسلم لیگ کے رہبران بھی جنگ کا ماحول بنانے میں جٹے ہوے ہیں۔ جلسوں میں گونجنے والا نعرہ ’’ہنس کے لیا ہے پاکستان / لڑ کر لیں گے ہندوستان‘‘ ملک بھر کی دیواروں پر اتر آیا تھا۔ اسی ماحول کا فائدہ اٹھاکر این بی کھرے نے تو باقاعدہ یو این او میں پٹیشن بھی لگا دی تھی، جس میں انھوں نے پاکستان کو غیرقانونی طور پر قائم ہوا دیش بتاتے ہوے اس کی منظوری منسوخ کرنے کی اپیل کی تھی۔ عدالت میں پردھان منتری جواہر لال نہرو، لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور کچھ اور لوگوں کو وادی بنا کر تقسیم پر ریفرنڈم کی مانگ کی اپیل بھی کر دی تھی۔ ان کا الزام تھا که ”کچھ لوگوں نے کسی قانونی اختیار کے بغیر سازش کر کے دیش کے شہریوں کی رضامندی کے بنا بٹوارے کا فیصلہ لیا ہے، جس کا احتیار انھیں تھا ہی نہیں۔

کراچی اور دہلی کے بیچ چھڑی اس سیاسی جنگ کی آنچ سے بھوپال بھی پوری طرح بَری نہ تھا۔ حالانکہ یہاں بقایا ملک کے مقابلے میں حالات کافی بہتر تھے، پھر بھی غم اور غصے کی آنچ پوری طرح بجھی نہ تھی۔

اسی ماحول میں دادا نے ایک طرف رفیوجی پنچائت کی ذمےداری اور دوسری طرف ہندو مہاسبھا کی راج نیتی میں شامل ہوکر اپنی مصروفیت کو بےطرح بڑھا لیا تھا۔ نئی نئی شروع ہوئی وکالت کے لیے وقت نکالنا بھی مشکل ہو چکا تھا۔ نتیجے میں گھر کی مالی حالت بری طرح ڈانواڈول ہو رہی تھی۔ اسی بات کو لے کر گھر میں روز قلح مچتی۔ حالات کو قابو میں رکھنے کو دن رات کھٹتی ماں دادا کے زبانی حملوں اور تہمت طرازی کے نشانے پر رہتی۔

دادا اپنی گھریلو ذمےداریوں سے بھلے ہی بھاگ رہے ہوں لیکن سماجی ذمےداریوں کو نبھانے کے لیے انھوں نے خود کو پوری طرح کھپا رکھا تھا۔ اسی وجہ سے ان سے ملنے اور اپنے دکھ درد اور داد فریاد سنا کر مدد مانگنے والوں کی تعداد بھی لگاتار بڑھنے لگی تھی۔ صبح سویرے ہی حویلی کے بند دروازے پر سانکل کی چوٹ سے اٹھنے والی آواز باربار حویلی میں رہنے والوں کے معمول کے جیون میں خلل پیدا کرنے لگی تھی۔ اس دروازے سے ہی سٹا ہوا سب سے پہلا گھر داداجی کا تھا۔ اکثر وہی یا پھر چاچا، جو داداجی کے ساتھ ہی اوپر بنی برساتی میں رہتے تھے، جا کر دروازہ کھول دیتے تھے۔ بعض مرتبہ یوں بھی ہوتا که حویلی کا کوئی دوسرا باشندہ جا کر دروازہ کھولتا اور آنے والے کے منھ سے دادا کا نام سن کر نراشا بھری آواز میں اس کی خبر ہمیں دے جاتا۔ دھیرے دھیرے ان سارے لوگوں نے یہ مان کر که دروازہ بجانے والا دادا کے لیے ہی آیا ہو گا، دروازہ کھولنا چھوڑ دیا۔ سواے داداجی کے کوئی بھی دروازہ کھولنے نہ جاتا۔ اس بدلاؤ کے نتیجے میں کئی بار دروازے کا سانکل دیر تک پِٹتا رہتا اور ہر بار اس کی آواز آروہی سے اوروہی کی اور چڑھتی چلی جاتی۔ جب دروازہ کھلتا تو یوں بھی ہو جاتا که آیا ہوا انسان حویلی کے کسی اور گھر کا مہمان نکلتا۔ ایسے میں ان کی بات چیت اس اُلاہنے کے ساتھ شروع ہوتی: ”کلاک کھوں در پیا کھڑکایوں! گھر میں سب سمھیا پیا ہیو چھا؟’’ (ایک گھنٹے سے دروازہ پیٹ رہا ہوں۔ گھر میں سب سو رہے تھے کیا؟)

آئے دن بنتی اس حالت سے تنگ آ کر سب نے ایک اجتماعی فیصلہ لے لیا که دن کے وقت دروازہ کھلا رکھا جائے۔ یہ فیصلہ سہولت کے ساتھ ہی ساتھ حویلی کے سندھی اور گلی کے مسلم پریواروں کے بیچ ایک دوسرے کے لیے دھیرے دھیرے بڑھتی آپسی سمجھ اور بھروسے کی علامت بھی تھا۔ دھیرے دھیرے بدلتے اس رشتے پر گھر میں جب بھی بات نکلتی تو ماں کہتی، ’’امیری میں ہوڑ اور غریبی میں جوڑ۔۔۔ لالہ یاد رکھنا، غریبی کا رشتہ آستے آستے بنتا ہے۔ مگر بن جائے تو سب سے مضبوط رشتہ ہوتا ہے۔‘‘

گلی کے دو چار گھروں کو چھوڑ کر باقی ہر گھر سے ایک دم صبح سویرے لگ بھگ ایک ہی وقت ادھ کھلی آنکھیں اور بند مٹھی میں اکنی یا دونّی کے سکے لیے گھروں سے لوگ باہر نکلتے تو ایک دوسرے کا سامنا ہو ہی جاتا۔ ان سب کی راہ ایک ہی ہوتی: برجیسیہ مسجد کے نزدیک مشّو میاں اور پوکرداس کی پرچون کی دکانیں اور توس والی بیکری۔ روز روز ایک راہ چلتے، ایک دوسرے کو دیکھنے کی عادت سی پڑ گئی تو دھیرے دھیرے مسکراہٹ کی ادلابدلی کرنا بھی سیکھ گئے تھے۔ ساتھ ساتھ دکان کی طرف چلتے ہوے جب دکان پر پہنچ کر ان سب کی مٹھیاں کھلتیں تو سکّے بھی اکثر ایک ہی وزن کے نکلتے۔ اسی طرح آوازیں بھی ملتی جلتی سی ہی ہوتیں: ”چھوٹی پُڑیا، طوطا چھاپ اور ایک چھٹانک شکر۔‘‘ کسی کسی آواز میں یہ مانگ ایک آدھا پاؤ شکر اور دو پڑیاں بھی ہوتی، لیکن بروک بانڈ کی طوطا چھاپ چائے پتی کی مانگ لگ بھگ یکساں ہوتی تھی۔ لپٹن کی روبی ڈسٹ کی مانگ بھی سنائی دیتی، مگر ذرا کم۔

بدّو میاں اس چائے کے چسکے میں ڈوب رہے لوگوں سے بےحد خفا رہتے تھے۔ وہ بتاتے تھے که یہاں پہلے دودھ مکھن کا ہی چلن تھا۔ اسی وجہ سے سارا شہر اکھاڑوں اور پہلوانوں سے بھرا پڑا تھا۔ بعد کو انگریزوں نے اپنی کمپنیوں کے منافعے کے لیے یہ ’’گندی‘‘ عادت ڈالی۔ ’’’شہر کے سارے ہاٹ بازاروں میں یہ لوگ ٹیبلیں لگا لگا کر مفت میں چا پلاتے تھے۔ آوازیں لگا لگا کے بلاتے، منتیں کر کر کے کیتے، چا پی لو میاں، چا پی لو۔ حرام کے جنے بُری تراں جھوم جاتے اور تب تلک پیچھا نی چھوڑتے جب تلک آپ چا پی نہ لو۔ سالے نہ جانے کاں کاں سے سات سات فٹے لوگ پکڑ لاتے که لوگ ان کو دیکھنے کھڑے ہو جائیں۔ آپ کھڑے ہوے نئیں که وِن نے فوراً آپ کو چا پلائی نئیں۔ ایسے ہی ایک بڑا لمب تڑنگ جوان آیا تھا جو جتّا لمبا تھا وِتنا ای چوڑا۔ اس کے پیچھے بچوں کی بھیڑ لگ جاتی تھی۔ وہ بھی باقی سب کی تراں غائب ہو گیا۔ اور بعد کو دیکھو تو سالا فلموں میں دِکھنے لگا۔ تبھی پتا چلا که اس کا نام شیخ مختار تھا۔ قسم خدا کی، اس کی فلم دیکھنے سارا شیر پونچ جاتا تھا ٹاکیز میں۔ وہ پردے پہ آتا تو آوازیں لگتیں: چائے گریم، چائے! اور پھر ٹھہاکے لگتے۔ پردے پہ تو وہ دس دس کو اکیلا پچھیٹ پچھیٹ کے مارتا ہے۔ اب تو اتّی ہل گداگد نئیں ہوتی جتّی پیلے ہوتی تھی۔ پیلے اس سالے نے چا کی عادت ڈالی، بعد کو فلم کی۔‘‘

بدّو میاں کی بات میں دم تھا۔ سچ مچ شہر بھر میں چائے کے اشتہار ہی سب سے زیادہ دکھائی دیتے تھے۔ مشو میاں کی دکان پرانی اور ذرا چھوٹی تھی جبکہ پوکرداس کی دکان اس سے کچھ بڑی۔ چھوٹی دکان پر بروک بانڈ چائے کا اینامل پینٹ والا ٹین کا چھوٹا سا بورڈ لگا تھا تو اس نئی دکان نے بروک بانڈ، لپٹن اور اصفہانی چائے کی تختیاں ٹانگ رکھی تھیں۔ ایک تختی پر لکھا ہوتا: ’’اچھی چائے جب / دل خوش میرا تب‘‘۔ بروک بانڈ والے ٹین کے پترے پر ماں بچہ چھاپ چائے، جسے کچھ لوگ عورت چھاپ چائے بھی کہتے تھے، کا اشتہار ہوتا جس پر چائے کا ایک بڑا سا پُڑا ہاتھوں میں تھامے ایک ناچتے گاتے پریوار کی تصویر ہوتی۔ اس کے نیچے انگریزی، ہندی اور اردو میں لکھا ہوتا: ’’بروک بانڈ چائے – کورا ڈسٹ۔ سب کی دلچسپی کا مرکز۔‘‘

دوسرا اشتہار زیادہ صاف ستھرا اور سیدھی بات کرتا تھا: ’’کڑک اور بڑھیا چائے کی زیادہ پیالیاں – بروک بانڈ اے ون ڈسٹ ٹی۔‘‘ اس پر طوطے کی پیٹھ پر لدا ایک طوطا چھاپ چائے کے پیکیٹ کا چتر ہوتا۔ دلچسپ بات یہ ہے که ان دونوں بڑے پیکٹوں کے خریدار اس دکان پر کبھی کبھار ہی دِکھتے تھے۔

لپٹن کی جاکوجا اور روبی ڈسٹ چائے کا اشتہار اسے ’’ہندستان کی عمدہ اور تیز خوشبو، خوش رنگ اور کم قیمت چائے‘‘ بتاتا تھا۔ لیکن صبح کے اس وقت دکان پر آنے والوں میں سے کسی کے بھی پاس ان اشتہاروں کو پڑھ کر چائے خریدنے کا سمے نہیں ہوتا تھا۔ یہاں تو اکثر افراتفری کا ماحول بنا رہتا که سب کو جلدی گھر پہنچنا ہے۔ سب کے گھروں میں پانی کا پتیلا لگ بھگ چولھے پر چڑھنے کو تیار ہوتا یا پھر چڑھ ہی چکا ہوتا تھا۔ ایسے میں جلدی ہونا لازم تھا۔ اس پر بیچ میں شمیم بیکری والے، جسے سب شمّو بھائی بلاتے تھے، کے یہاں سے توس بھی لینے ہوتے تھے۔ خاص کر ٹائی لیور توس۔ واپسی کے وقت جواں مرد تیز چال سے اور بچے لگ بھگ دوڑتے ہوے جلدی سے گھر پہنچنے کو آتُر دکھائی دیتے۔ ہم لوگ تو باقاعدہ آپس میں ریس کرتے، کھلکھلاتے اپنے اپنے گھروں تک پہنچتے۔ کچھ دوستوں کے گھر بیچ میں ہی پڑتے اور کچھ کے آگے، ہماری حویلی گلی کے بیچوں بیچ تھی۔ ہر روز یہاں پہنچ کر مجھے داداجی کو، جنھیں میں بابا کہتا تھا، دروازہ کھولنے کو آواز دینی پڑتی تھی۔ لیکن اُس دن دروازہ پہلے ہی سے کھلا تھا۔ سو بس، سب اسی دوڑ والی رفتار میں سیدھے اندر گھس گئے۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

باجے والے گلی – قسط 9 (راجکمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

جس وقت غیاث الدین یہاں پہنچا تو اس وقت گھر کا داخل دروازہ اندر سے بند تھا۔ پٹھان کے ہاتھ کنڈی کھٹکھٹانے کی غرض سے یکایک اٹھے اور ویسے ہی یکایک پیچھے کی طرف بھی کھنچ گئے۔ اس نے حویلی کے بند دروازے کو نِہارنا شروع کر دیا۔ تقریباً بارہ فٹ اونچے، بےجان سلیٹی رنگ سے پُتے، بھرپور چوڑے محراب دار دروازے کے جسم پر اسے جگہ جگہ باریک لکیریں اُبھری ہوئی دکھائی دینے لگیں۔ غیاث الدین کو حیرت ہو رہی تھی که آخر یہ لکیریں اسے تب کیوں نہیں دکھائی دی تھیں جب وہ یہاں رہتا تھا؟ یا پھر ایسا ہوا ہے که یہ لکیریں اس کے گھر چھوڑ جانے کے بعد ابھری ہیں؟ اپنے جواب کی تلاش میں اس نے دروازے پر ہاتھ پھیرکر دیکھا۔ پھر وہ دروازے کی لکیروں پر نظر گڑا کر انھیں اس طرح گھورنے لگا مانو وہ کسی ہاتھ کی لکیریں پڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔

اچانک اسے اپنی ہی اس کوشش پر ہنسی آئی اور اس نے اِدھر اُدھر دیکھ کر ہنستے ہوے ہی کنڈی کھٹکھٹا دی۔ لوہے کی مضبوط اور موٹی چولوں پر گھومتا بھاری بھرکم دروازہ، اپنی دیونما گونج کے ساتھ اتنی تیزی کے ساتھ کھلا مانو دروازے کے اُس طرف کوئی کھڑا کھڑا اس حویلی کے مالک کی اس عجیب حالت کو شیشے میں نہار رہا ہو۔

’’کہیے؟‘‘ دروازہ کھولنے والے نے پوچھا۔
’’جی آداب۔‘‘
’’آداب۔‘‘
’’معاف کیجیے، آپ شاید ہمیں نہیں جانتے۔ ہمارا نام غیاث الدین ہے۔ کچھ عرصے پہلے تک اس حویلی میں ہم ہی رہتے تھے۔‘‘ اتنا کہہ کر غیاث الدین نے آخر میں دروازہ کھولنے والے سے اس کا تعارف پوچھ لیا۔ ’’معاف کیجیے، آپ کا اسم شریف جان سکتا ہوں؟‘‘

دروازہ کھولنے والے منجھلے سے قد کے، سانولے سے آدمی کے چہرے پر دروازے پر کھڑے چھ فٹ سے اوپر نکلتے قد والے اس لحیم شحیم پٹھان کا نام سنتے ہی مسکراہٹ سی پھیل گئی۔ اسے سب کچھ پتا تھا اور اسے اس گھڑی وہ سب کچھ یاد آ بھی گیا تھا۔ اس نے بےحد گرم جوشی کے ساتھ ہاتھ آگے بڑھا کر اپنے سے سوائے قد والے انسان کا ہاتھ تھام لیا اور ’’ارے آئیے آئیے، پہلوان صاحب‘‘ کہتے ہوئے خوشی سے بھرے کسی بچے کی طرح لگ بھگ کھینچتے ہوے اندر کی طرف لے چلے۔

خوشی سے لبریز یہ ’بچہ‘ کوئی اور نہیں میرے پتا تھے۔ پچھلے تین چار سال میں اس گھر کے مالک کے بارے میں پوچھ تاچھ کرتے کرتے وہ غیاث الدین پٹھان اور اس حویلی کا پورا شجرہ اکٹھا کر چکے تھے۔ عادت کے مطابق وہ ایسی تمام جانکاریوں اور اپنے جذبات کو ایک کاپی میں لکھ لیتے تھے۔ یہ ان کا لگ بھگ روز کا کام تھا۔

لہٰذا ان کی اسی کاپی کے مطابق یہ حویلی غیاث الدین کے پتا میجر انجام الدین نے بنوائی تھی۔ اکلوتا بیٹا ہونے کے ناتے میجر صاحب کے بعد یہ غیاث الدین کو وراثت میں ملی۔ غیاث الدین شہر کے معروف انسان تھے۔ ان کی پہچان ایک دلاور اور دلآویز شخص کے طور پر تھی۔ شہر سے کچھ فاصلے پر آباد ایک گاؤں لسانیہ خورد میں کئی ایکڑ زمین تھی۔ لگ بھگ آدھے رقبے میں خاص بھوپالی دئیڑ آم کا باغ تھا۔ باقی حصے میں گیہوں کی پیداوار تھی، جس کے لیے اسی حویلی میں انھوں نے ایک بڑا سا ہال رکھ چھوڑا تھا۔

لیکن غیاث الدین کا دل کھیتی باڑی سے زیادہ پہلوانی میں رَمتا تھا۔ سو گھر سے کچھ دور ہی کوتوالی کے پاس گپّو استاد کے اکھاڑے میں خوب ڈنڈ پیلتے تھے اور کشتیاں لڑتے تھے۔

دادا کو یہ پہلوانی والی بات خوب بھا گئی تھی۔ انھوں نے اپنے ذہن میں اس پہلوان کی ایک بڑی رومانی سی تصویر بنا لی تھی۔ اسی وجہ سے وہ شہر میں جب بھی اپنا پریچے دیتے تو یہ بتانا نہ بھولتے که وہ ’غیاث الدین پہلوان‘ کی حویلی میں رہتے ہیں۔

غیاث الدین کو لے کر دادا گھر اور آنگن کے بیچ برابری سے پھیلے فرشی والے اوٹلے پر بچھی کھٹیا پر بیٹھ گئے۔ دادا اس حویلی کے بارے میں لگاتار باتیں کیے جا رہے تھے لیکن پٹھان کی نظریں لگاتار چاروں اور گھوم گھوم کر حویلی کا جائزہ لے رہی تھیں۔ اس وقت نہ جانے اس کے ذہن میں کیا کیا باتیں چل رہی ہوں گی، لیکن اتنا طے تھا که وہ اس وقت اپنی حویلی کی کسی بھی چیز کو ان دیکھا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔

دادا اس بات کو تاڑ گئے۔ انھوں نے پٹھان سے سوال کیا، ’’حویلی کو دیکھ رہے ہیں؟‘‘
جواب میں پٹھان مسکرا کر رہ گیا۔
دادا نے پھر سوال کیا، ’’یہاں کی یاد آتی ہوگی۔ نہیں؟‘‘
اس بار پٹھان کے چہرے کا رنگ بدلا۔ مسکراہٹ کی جگہ درد کی ایک عجب سی لکیر آنکھوں کی کوروں کے آس پاس دکھائی دینے لگی۔

’’گھر کی یاد کسے نہیں آتی؟ ۔۔۔ اس بات کو تو آپ بھی خوب سمجھتے ہوں گے۔‘‘ اتنا کہہ کر پٹھان نے اپنا چہرہ حویلی کے کویلو کی چھت والے حصے کی طرف گھما لیا، جہاں کہیں سے کٹ کر آئی ہوئی پتنگ پڑی ہوئی تھی۔ پٹھان کھڑا ہو گیا اور اس کٹی پتنگ کو غور سے دیکھتے ہوے کہنے لگا، ’’بڑی لمبی ڈوروں کے ساتھ ہے۔ کہیں دور سے کٹ کر آئی معلوم ہوتی ہے۔‘‘

اب تک دادا بھی اٹھ کر کھڑے ہو چکے تھے اور اسی طرف دیکھ رہے تھے جدھر پٹھان دیکھ رہا تھا۔ پٹھان کی بات سنی تو دادا کے منھ سے ہنسی ہنسی میں ازخود ایک ایسی بات نکل گئی جس نے پورے ماحول کو بدل ڈالا۔
’’شاید یہ بھی کہیں سندھ سے کٹ کر آئی ہے اور اسے بھی پہلوان صاحب کی حویلی ہی پسند آئی۔‘‘

پٹھان پر اس بات کا جادو سا اثر ہوا۔ اس نے دادا کو بانہوں میں بھر لیا اور واپس کھٹیا پر بیٹھتے ہوے کہا، ’’ہم بھی تو یہاں سے کٹ کر ہی وہاں پہنچے ہیں۔‘‘
اب اس بات چیت میں ایک فلسفیانہ گمبھیرتا آ گئی تھی۔ دادا نے بھی اسی طرح کا جواب دیتے ہوے کہا، ’’پہلوان صاحب، ہمارے لیڈروں کو پینچ لڑانے کا بہت شوق ہے نا۔ اب ان کے پینچ لڑیں گے تو کٹیں گے تو ہم آپ ہی نا۔‘‘

پٹھان نے اس بھاری سے ہوتے ماحول کو بدلنے کی غرض سے ایک سوال کر لیا، ’’آپ کے علاوہ اور کون کون ہے یہاں پر؟ کیا میں ان سے مل سکتا ہوں؟‘‘
اس سوال کے ساتھ ہی دادا کے بھیتر بیٹھا نیتا فوراً متحرک ہو گیا۔ فوراً جواب دیا، ’’ارے پہلوان صاحب بالکل۔ آپ یہیں بیٹھیے اور ناشتہ کیجیے، میں سب کو یہیں بلا لیتا ہوں۔’’

لیکن غیاث الدین تو پوری حویلی میں چاروں طرف گھوم کر سب کچھ اپنی نظروں سے دیکھنا چاہتے تھے۔ سو انھوں نے سجھاؤ والے انداز میں کہا، ’’ارے نہیں۔ کیوں سب کو زحمت دینا۔ ہم لوگ چل کر ہی سب سے مل لیتے ہیں نا۔‘‘

اگلے ایک گھنٹے تک غیاث الدین چہرے پر ایک مستقل مسکراہٹ لیے حویلی کے کونے کونے میں گھومتا، لوگوں سے ملتا اور درودیوار کو چھو کر دیکھتا، کچھ کہتا اور کچھ نہ کہتا، چلتا رہا۔ ایک کونے میں بنی چھوٹی سی کُٹھریا خالی پڑی تھی اور اس سے لگی دیوار کا ایک حصہ گر چکا تھا، جس کی وجہ سے اس پار کوتوالی والی گلی پر بنے مکان کا پچھواڑا دکھائی دے رہا تھا۔ اس جگہ پر آ کر غیاث الدین کے چہرے کی وہ مستقل مسکان والے ہونٹ کچھ اور کھلے۔ بولے، ’’گر گئی آخر۔‘‘

دادا نے اس پہیلی کو سمجھنے کی غرض سے سوال کیا، ’’کیا پہلے سے ہی گرنے والی تھی؟‘‘
’’ہاں، گرنی تو چاہیے تھی۔ مگر ہمارے رہتے نہیں گری۔‘‘
اس سے پہلے که دادا کوئی اور سوال پوچھتے، غیاث الدین نے ہی ایک سوال پوچھ لیا، ’’آپ کو معلوم ہے وہ اُس طرف کس کا گھر ہے؟‘‘
دادا نے انکار میں سر ہلا دیا۔
’’وہ افتخار میاں کی حویلی کا پچھواڑا ہے۔‘‘
پھر ایک لمحے کی خاموشی کے بعد انھوں نے جوڑا، ’’کبھی ہمارے دوست ہوتے تھے۔‘‘

اتنا کہہ کر وہ بڑی تیزی سے مڑا اور باہر جانے کے لیے قدم بڑھا دیے۔ دادا نے بہت اصرار کیا که وہ چائے ناشتے کے بنا نہیں جا سکتے، لیکن اسے جانے کی بہت جلدی سی ہو چلی تھی۔ سو بس ایک پاپڑ کھا کر اور ایک گلاس پانی پی کر باہر کی طرف مڑ گیا۔

دادا اس تیزقدم چال کے ساتھ برابری سے چلنے کی کوشش کرتے ہوے دروازے تک پہنچ گئے۔ غیاث الدین نے دادا کو گلے لگا کر ’’خدا حافظ‘‘ کہا اور پھر پوری رفتار سے آگے بڑھ گیا۔

٭٭٭

دادا جب اندر واپس پہنچے تو حویلی کے گھروں سے لوگ نکل کر آنگن میں کھڑے کھسرپسر میں لگے تھے۔ سب کے چہروں کی ہوائیاں اُڑی ہوئی تھیں۔ حویلی میں رہنے والے سب سے آسودہ اور سب سے بزرگ ماسٹر امبومل نے اپنے گھر کے باہر نکلے ہوے کونے میں لگی کرسی پر بیٹھے بیٹھے اور ہاتھ میں اخبار تھامے تھامے دادا سے سوال کیا، ’’کیا کہتا ہے یہ میاں؟‘‘

’’کچھ نہیں۔ وہ تو بس دیکھنے آیا تھا اپنی حویلی،‘‘ دادا نے جواب دیا۔

”ارے بھائی ہمت رام، تم تو نیتا آدمی ہو، اخبارنویس ہو۔ تم کو معلوم نہیں ہے که یہ مسلمان واپس لوٹ رہے ہیں اور اپنے گھر واپس لینے کے لیے تلواروں سے ہندوؤں کو کاٹ رہے ہیں۔‘‘

غیاث الدین سے ملنے کی خوشی میں ڈوبے دادا کے ذہن میں اس لمحے تک یہ خیال آیا ہی نہیں تھا۔ ماسٹرجی نے چیتایا تو ان کی چیتنا لوٹی۔ پھر بھی ان کا جواب تھا، ’’ماسٹر صاحب، وہ بڑا شریف آدمی ہے۔ وہ کوئی تلوار لے کر آیا تھا کیا؟ اور سارے مسلمان ایک جیسے تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔‘‘
’’یہ بات تم کہہ رہے ہو؟ تم تو سب سے زیادہ مسلمانوں کے خلاف تقریریں کرتے ہو!‘‘ ماسٹرجی نے ایک طنزیہ ہنسی ہنستے ہوے کہا۔

دادا کو یہ بات بڑی ناگوار گزری۔ انھوں نے پلٹ کر جواب دیا، ’’جو کہتا ہوں، سچ کہتا ہوں۔ ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہوں۔ کوئی تلوار لے کر آئے گا تو ہم بھی اس سے تلوار سے بات کریں گے۔ لیکن کوئی شریف آدمی گھر آئے تو کیا اسے پتھر مارنا شروع کر دیں؟‘‘

کرودھ سے بھرے اس جواب سے ایک سنّاکا سا کھنچ گیا۔ ماسٹرجی اپنی اعلیٰ حیثیت اور اپنی عمر کی بڑی پروا کرتے تھے۔ سو انھوں نے اپنے سے بہت چھوٹے ’لڑکے‘ سے الجھنے کے بجاے ہاتھ میں تھامے اخبار کو پڑھنے کی غرض سے اپنے منھ کی طرف اٹھانے کی کوشش کی ہی تھی که دادا نے ایک آخری جملہ جڑ دیا:
’’آخر وہ اس حویلی کا پرانا مالک ہے جس میں ہم سب رہ رہے ہیں۔ اتنی شرافت تو ہم میں بھی ہونی چاہیے ۔۔۔‘‘
یہ کہتے کہتے دادا اپنے گھر کی طرف جانے کو مڑ گئے۔ ٹھیک اسی وقت ماسٹرجی کے گھر سے حویلی کے اکلوتے گھڑیال کے گجر کی آواز گونجنا شروع ہو گئی۔

ایک۔۔۔ دو۔۔۔ تین۔۔۔ چار۔۔۔ پانچ۔۔۔ چھ۔۔۔ سات۔۔۔ آٹھ۔۔۔ نو۔۔۔ دس۔۔۔

٭٭٭

شہر میں سندھی شرنارتھیوں کی موجودگی کو ابھی مقامی لوگ ٹھیک سے سویکار بھی نہیں کر پائے تھے که ایک گھٹنا اور گھٹ گئی، جس کے نتیجے میں تناؤ بڑھنا طے تھا۔ بھارت سرکار کے پُنرواس وبھاگ نے اچانک ہی یہ فیصلہ لے لیا که راجستھان میں اجمیر کے پاس دیولی کیمپ میں رہنے والے بےگھر سندھی پریواروں کا تبادلہ شہر بھوپال سے کوئی 4-5 میل کے فاصلے پر آباد بیراگڑھ کیمپ میں کر دیا جائے۔

ایک بار پھر اُکھڑنے سے ناخوش لوگوں کی ناخوشی کی آواز کسی کان تک نہ پہنچی اور چند برس پہلے سندھ سے بےدخل ہوے ان پریواروں کو دوبارہ بےگھر ہو کر باہر نکلنا پڑا۔ اجمیر سے روانہ ہونے والی اس پہلی ’ریفیوجی سپیشل‘ گاڑی میں تقریباً 2300 پریواروں کو ٹھونس ٹھونس کر بھرا گیا۔ بیراگڑھ کیمپ تک چلنے والی اس میٹر گیج والی ٹرین کو بول چال میں ’چھوٹی لائن‘ والی گاڑی کہا جاتا تھا۔

اجمیر کی نصیرآباد چھاؤنی والے سٹیشن پر اس دن کچھ زیادہ ہی بھیڑ تھی۔ اجمیر میں بس چکے دیولی کیمپ کے رہواسیوں کے رشتےدار ناتےدار ان بچھڑ کر دور جانے والے اپنوں کو وِداع کرنے آ پہنچے تھے۔ ایک نئے انجانے شہر اور غیریقینی مستقبل کے سفر پر نکلنے کو مجبور لوگ اپنوں سے گلے مل اس طرح روتے تھے که مانو اب تو شاید ہی کبھی ملنا ہو۔ آہ و زاری کی گونج سے بھرے، سسکتے سے ماحول کے بیچ ٹرین کا ڈرائیور اور کنڈکٹر ایک دوسرے کو بےبس نگاہوں سے دیکھتے خاموش کھڑے تھے۔ ٹرین کا مقررہ وقت گزر چکا تھا لیکن ٹرین آگے نہیں بڑھ پا رہی تھی، که پسنجر تو ابھی تک پلیٹ فارم پر کھڑے تھے۔ آخر کنڈکٹر ڈینِس بنجامن نے آ کر بڑے نرم لہجے میں آخری چیتاونی دینے کے بعد سیٹی بجا کر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا دی۔
اس بار مجبور ہو کر سب لوگ اپنے اپنے آنسوؤں کو ساتھ لے کر ٹرین کے ان چھوٹے چھوٹے، سکڑے سے ڈبوں میں سوار ہو گئے۔ ٹرین دھیرے دھیرے، لگ بھگ قدم تال والی سپیڈ سے کھسکتی، چل پڑی۔ کوئی 400 میل دور بسے بیراگڑھ کیمپ کی طرف۔

ٹرین کی روانگی کے ساتھ ہی پلیٹ فارم والا منظر ان ٹھساٹھس بھرے ڈبوں میں سوار ہو گیا تھا۔ اپریل مہینے کی گرمی سے تپے ہوے ٹرین کے کمپارٹمنٹ میں چھت کے پنکھے کم اور ہاتھ کے پںکھوں سے زیادہ راحت پانے کی ناکام کوشش ہو رہی تھی۔ اس پر چھوٹے چھوٹے بچوں کا رونا ماحول کو اور بھی رنجیدہ بنا رہا تھا۔

چھک چھک کرتی اور اسی گتی سے چلتی ٹرین کے انجن سے نکلتا دھواں اور ہوا میں اڑتی کوئلے کی ٹکڑیاں لگاتار سارے ڈبوں کے یاتریوں کے ماتم زدہ چہروں کو اور بھی ماتم زدہ بنا رہی تھیں۔ اس ٹرین میں سوار ڈیلارام ممتانی کا پریوار بھی سوار تھا۔ 70 برس کے ڈیلارام کے پریوار میں اس کے دو بیٹے، دو بہویں، ایک وِدھوا بیٹی، چار پوتے اور دو ناتنیں بھی شامل تھے۔ اداس چہروں کی اس بھیڑ کے بیچ جہاں لگ بھگ سارے چہرے ایک جیسے دکھائی دے رہے تھے، اسی جمگھٹے میں کھڑکی سے لگے بیٹھے ڈیلارام باہر کی طرف جھانکتے، آسمان کو نہارتے نہارتے بیچ بیچ میں بےوجہ ہی ہنسنے لگتے تھے۔ اس ہنسی کی وجہ سے اداس چہروں کے بیچ ایک عجب سی ہلچل مچ جاتی تھی۔ بچے حیرت سے ایک بار ڈیلارام کی طرف اور دوسری بار اداس چہروں کی طرف دیکھ کر آنکھوں کے اشارے سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہوے سے معلوم ہوتے تھے که ماجرا کیا ہے؟

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔