Categories
نان فکشن

کوانٹم گریوٹی-طبیعاتی وحدت؟ (محمد علی شہباز)

ذراتی طبیعات سائنس کی وہ شاخ ہے جس کے مطابق کائنات کی ہر شے ایسے ناقابل تقسیم ذروں سے مل کر بنی ہے۔ اگرچہ یہ نظریہ قدیم یونان کے دیموقراطیس کے ایٹم (ناقابل تقسیم ذرہ) سے شروع ہوتا ہے لیکن اس سمت میں سب سے زیادہ کام گزشتہ صدی میں ہوا۔ 1896ء میں جے جے تھامسن نے ایٹم کے اندر الیکٹران نامی منفی بار کا حامل ایک ذرہ دریافت کر کے ایٹم کو قابل تقسیم کر دکھایا۔ اسی طرح گولڈسٹائن کے تجربات سے پروٹان نامی مثبت ذرہ اور 1932ء میں جیمز چیڈوک کی نیوٹران کی دریافتوں نے اس نظریہ کو تقویت دی کہ ایٹم مزید کئی ذرات پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ پال ڈیراک نے کوانٹم نظریہ کی بنیاد پر آئن سٹائن کے نظریہ خصوصی اضافیت میں ایک ایسی مساوات کا اضافہ کیا جس کے نتیجے میں منفی الیکٹران کا جڑواں ذرہ مثبت الیکٹران یعنی پوزیٹران کی پیش گوئی ہوئی جسے 1932ء میں اینڈرسن نے اپنے تجربات سے ثابت کر دکھایا۔ کائنات میں پائے جانے والے ستاروں اور کہکشاؤں سے آنے والی شعاؤں کا تجزیہ کرتے ہوئے مزید ذرے جیسے پائی اون وغیرہ دریافت ہوئے۔ اسی دوران ایٹم کے مرکز یعنی نیوکلیئس سے نکلنے والی تابکاری شعاؤں پر تحقیق کرتے ہوئے ایک ایسا ریاضیاتی طریقہ پیش کیا گیا جسے فیلڈ تھیوری کہا جاتا ہے۔ یعنی ہر ذرہ بنیادی طور پر ایک فیلڈ یا میدان کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔

فیلڈ تھیوری کے مطابق کائنات میں پائی جانے والی تمام قوتیں جیسے کمزور و طاقتور نیوکلیائی قوت، برقی مقناطیسیت وغیرہ سمیت تمام ذرے اپنا مختلف میدان پیدا کرتے ہیں۔ جیسے برقی بار سے برقی میدان، مقناطیس سے مقناطیسی میدان اور گریوٹی سے کشش ثقل کا میدان یا فیلڈ پیدا ہوتا ہے۔فیلڈ تھیوری میں کوانٹم نظریہ کے اثرات دیکھے گئے تو معلوم ہوا کہ کائنات کی بنیادی قوتیں اور ذرے دراصل ان میدانوں کا نتیجہ ہیں۔ یعنی ذرہ بذات خود اسوقت تک وجود نہیں رکھتا جب تک کہ اس کا متعلقہ میدان قائم نہیں ہوتا۔ہر میدان دراصل انرجی کا ایک منبع ہے۔ آئن سٹائن کے مطابق انرجی کا یہ منبع کمیتی شکل یعنی ماس کے طور پر اپنا اظہار کر سکتا ہے۔لہذا ہر میدان اپنی انرجی سے خاص ذرات کو پیدا کرتا ہے۔

برقی مقناطیسی میدان سے جو ذرہ پیدا ہوتا ہے اسے فوٹان کہا جاتا ہے جس کی ایک شکل قابل دید روشنی ہے۔ بعد ازاں پاکستانی سائنسدان عبدالسلام اور دو امریکی سائنسدان سٹیون وائنبرگ اور شیلڈن گلاشو وغیرہ نے اپنی تحقیق سے ثابت کیا کہ مختلف نظر آنے والے ذرات بنیادی طور پر ایک ہی فیلڈ یا میدان کے مختلف اظہار ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے برقی مقناطیسی میدان اور کمزور نیوکلیائی قوت کو یکجا کردیااور ایک نئے فیلڈ یا قوت جسے الیکٹرو ویک قوت کہتے ہیں کی بنیاد ڈالی۔ اس نئے میدان سے تین نئے ذرات یعنی دو W اور ایک Z بوزان کی پیش گوئی کی گئی جنہیں بہت جلد دریافت کر لیا گیا۔ پروفیسر عبدالسلام کو باقی دونوں سائنسدانوں سمیت 1979ء میں سائنس کا سب سے اعلیٰ انعام یعنی نوبل پرائز دیا گیا۔ یہ نئے ذرات پروٹان کے مقابلے میں 100 گنا زیادہ کمیت رکھتے ہیں اور اس لئے عام انرجی کے مقابلے زیادہ انرجی پر نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الیکٹران اور پروٹان کے مقابلے میں یہ ذرات قائم نہیں رہتے اور عام انرجی پر دوسرے ذرات میں تحلیل ہوجاتے ہیں۔

پروفیسر عبدالسلام کی طرح دیگر سائنسدان بھی اب ایسے میدانوں کی تلاش میں پھرنے لگے جو باقی ماندہ فطری قوتوں اور ذروں کو بھی یکجا کرتے ہوئے ایک طبیعاتی وحدت میں پرو سکے۔ اس سلسلے میں ابھی تک سائنسدان تین بنیادی قوتوں کو یکجا کر سکے ہیں۔ یعنی الیکٹرو ویک قوت کے ساتھ طاقتور نیوکلیائی قوت کا اتحاد کیا گیاہے۔ یہ کام پچھلی صدی کی آخری دہائیوں میں سرانجام دے دیا گیا تھا۔ پروٹان اور نیوٹران وغیرہ کو جب زیادہ توانائی والے کسی علاقے سے گزارا جائے تو انکی رفتار انتہائی تیز ہوجاتی ہے اور اسقدر تیز رفتاری پر انکوباہم ٹکرایا جائے تو یہ ذرات مزید تحلیل ہوکر کچھ نئے چھوٹے ذرات کو جنم دیتے ہیں جنہیں آج کوارک کا نام دیا جاتا ہے۔ کوارک کی نظریاتی بنیادیں گیل مین نامی ایک سائنسدان نے رکھ دی تھیں۔یہ چھوٹے ذرات تین نسلوں کی شکل میں رہتے ہیں جن میں سے ہر نسل کے دو افراد ہی ہوتے ہیں۔ گویا یہ چھ مختلف کوارک ہوتے ہیں اور عام طور پر دکی (Doublet) یا تکی (Triplet)کی شکل میں جڑے ہوتے ہیں۔ دکی والے ذرات کو میزون اور تکی والوں کو بیری اون کہا جاتا ہے۔پروٹان اور نیوٹران تین کوارک سے بنتے ہیں۔ بہرحال ان چھ کوارک کی مختلف دکیوں اوت تکیوں سے بہت سے نئے ذرات بھی بنائے جا سکتے ہیں جنہیں بارہا تجربات سے دریافت کیا گیا ہے۔لیکن یہ عام توانائی پر قائم نہیں رہ پاتے اور تحلیل ہوجاتے ہیں لہذا عام مادہ جس کا اظہار کائنات میں ہوتا ہے وہ صرف نچلے درجے کی توانائی والے ذرات ہیں۔

تین بنیادی قوتوں کو ایک ہی میدان کی توانائی کی مختلف شکلیں قرار دینا گزشتہ صدی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اور اسی کامیابی کے پیش نظر سائنسدانوں نے طبیعاتی وحدت کا خواب دیکھا ہے۔ یعنی یہ کہ چوتھی اور آخری قوت گریوٹی کے میدان کو بھی کسی خاص توانائی پر انہی تین میدانوں میں ضم کرتے ہوئے واحد قوت دریافت کر لی جائے جو ساری کائنات کو واضح کر سکے۔ اس سمت میں نظریاتی ذراتی طبیعا ت پر کام کرنے والے تمام سائنسدان گزشتہ تین دہائیوں سے سوچ بچار کر رہے ہیں۔ اور بہت سے ماڈل پیش کئے گئے ہیں۔ ایسی ہی ایک کاوش کوانٹم گریوٹی بھی ہے۔ اس ماڈل کے مطابق ہم گریوٹی کے میدان کو بھی ایک ذرے کی شکل میں دیکھ سکتے ہیں۔ او ر گزشتہ قوتوں کی وحدت کے دوران جو طریقہ کار اختیار کیا گیا تھا اس کے مطابق گریوٹی کے ذرے کی کچھ خصوصیات واضح کر دی گئی ہیں۔ جیسے یہ کہ اس ذرہ کا کمیت صفر ہوگی اور اسکی رفتار روشنی کی رفتار کے برابر ہوگی۔ اسکی اندرونی یا کوانٹم گردش (Spin) کی مقدار فوٹان سے دوگنا ہوگی۔ اس مفروضہ شدہ ذرے کا نام گریویٹان (Graviton) رکھا گیا ہے۔
06 اگست 2012ء کو ڈنمارک میں ہونے والے پوائن کرے لیکچر میں مشہور نوبل انعام یافتہ سائنسدان فری مین ڈائیسن نے کہا تھا کہ اگر دیگر ذرات کی طرح گریویٹان کے لئے بھی کوئی تجربہ کیا گیا تو یہ گریویٹان اتنا بھاری ہوجائے گا کہ ایک بلیک ہول بھی بن سکتا ہے کیونکہ یہ ذرہ اس قدر زیادہ توانائی پر سامنے آئے گا جسے ہم زمین پر موجود کسی تجربہ گاہ میں پیدا نہیں کرسکتے۔ لہذا بہت سے سائنسدان اب بھی یہی سوچتے ہیں کہ شاید گریویٹان کبھی تجربے سے سامنے نہ آسکے۔ لیکن اسی بے یقنی کی صورتحال میں گزشتہ دنوں نیدرلینڈمیں مقیم ایک سائنسدان رچرڈ نورٹ نے ایک سادہ طریقہ وضع کیا ہے جس سے گریویٹان کے اثرات کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں وہ مکمل موصل مادہ کی بنی پلیٹوں کے درمیان گریوٹی کے فیلڈ کے اثرات دیکھ سکتے تھے۔

آئن سٹائن کے مطابق ہر ذرہ انرجی ہی کی ایک شکل ہوتا ہے لہذا گریویٹان بھی انرجی کا حامل ذرہ ہوگا۔ کوانٹم نظریہ کے مطابق اس ذرے کی انرجی کبھی بھی صفر نہیں ہوسکتی۔ لہذا ہر وہ جگہ جہاں کشش ثقل موجود ہے وہاں گریویٹان کی توانائی موجود ہوگی۔ حتٰی کہ خلاء میں بھی یہ توانائی اپنا اظہار کرے گی۔ اس طرح کی توانائی جڑواں ذروں کی شکل میں اپنا اظہار کرتی ہے جنہیں واہمی ذرات (Virtual Particles) کہا جاتا ہے۔ اس طرح کا عمل پہلے بھی فوٹان کے لئے دیکھا جا چکا ہے اور اصطلاح میں اسے کیزی میر کا اثر (Casimir Effect) کہا جاتا ہے۔ اس اثر کے مطابق اگر خلاء میں دو پلیٹوں کو قریب قریب رکھا جائے تو برقی مقناطیسی میدان کی توانائی ان پلیٹوں میں ارتعاش پیدا کرے گی۔ کیونکہ کوانٹم کے مطابق کسی میدان یا فیلڈ کی توانائی کی مقدار کبھی بھی صفر نہیں ہوسکتی۔ لہذا پلیٹوں میں ارتعاش سے ثابت ہوتا ہے کہ خلاء بھی خالی نہیں ہے!

گریوٹی کا میدان چونکہ خلاء میں بھی موجود ہوتا ہے اس لئے اگر مکمل موصل ایلومینیم (Superconducter Aluminum) کی پلیٹوں کو خلاء میں قریب رکھ دیا جائے تو ان کے درمیان ارتعاشی اثر پیدا ہوسکتا ہے۔ 20 جولائی 2018ءکو پروفیسر نورٹ نے طبیعات کے مشہور میگزین فزیکل ریویو لیٹرز میں اپنی تحقیق کے نتائج پیش کئے۔ ان کے تجربے میں ایسا کوئی اثر سامنے نہیں آیا۔یعنی گریویٹان ابھی بھی ناقابل دریافت ہے۔ لیکن سائنسدانوں نے مزید ایسی پیش گوئیاں کی ہیں جن سے یہ دریافت ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر 12 دسمبر 2017ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مارلیٹو نے کوانٹم انفارمیشن کے نظریات کو استعمال کرتے ہوئے دو ذرات کے مابین پائی جانے والی اینٹیگل منٹ (Entaglement) پر تجربات کی صلاح دی۔ اس تجربے میں ہیرے کے کرسٹلز کو خلاء میں گریوٹی کے میدان میں چھوڑا جائے گااور ان پر لیزر کی شعاؤں سے یہ دیکھا جائے گا کہ کیا دونوں کرسٹل ذرات کی گردش یک سمتی رہتی ہے یا نہیں جو کہ ان ذروں کے درمیان اینٹیگلمنٹ کا ثبوت ہوگا۔ ایک اور طریقہ بگ بینگ کے وقت کائناتی توانائی کے انتہائی تیز رفتار پھیلاؤ یا انفلیشن میں بھی گریویٹان کے اثرات کا مطالعہ ہے۔ بگ بینگ شعاؤں کی پیمائش جو کہ مختلف دوربینوں سے ہوتی ہے ان میں یہ ذرات اپنے اثرات بی موڈ پولرائزیشن (B mode Polarization) کی شکل میں چھوڑ تے ہوں گے۔ اسی طرح 2016ء کے نوبل انعام میں دریافت ہونے والی گریوٹی کی لہروں میں بھی ان اثرات کو دیکھا جا سکے گا لیکن چونکہ گریوٹی انتہائی کمزور قوت ہے لہذا گریویٹان کی دریافت کے بہت بڑے پیمانے کی تجربہ گاہ درکار ہے۔ یورپی سپیس ایجنسی کی جانب سے LISO نامی ایسا تجربہ مستقبل قریب میں ہوگا۔ بہرحال انسان کے اندر موجود وحدت کی تلاش کی جبلت کا اظہار طبیعات کے جدید نظریات میں نظر آرہا ہے اور شاید یہی جبلت کسی روز کوانٹم گریوٹی کی شکل میں کائنات کی طبیعاتی وحدت کا اظہار کردے گی!

Categories
نان فکشن

روشنی کے ذرّات (تحریر: کارلو رویلی، ترجمہ: فصی ملک، زاہد امروز)

دوسرا سبق: روشنی کے ذرّات (کوانٹا)
کارلو رویلی
ترجمہ: زاہد امروز، فصی ملک

اسی سلسلے کے مزید اسباق پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

بیسویں صدی کی فزکس کے دواہم ستون،آئن سٹائن کا نظریہ عمومی اضافیت (جس کے بارے میں میَں نے گزشتہ سبق میں بات کی) اورکوانٹم میکانیات (جس کے متعلق میَں اس سبق میں بات کروں گا)، اپنے بنیادی تصوّرات میں اس قدر الگ تھے کہ ایک دوسرے سے مزید مختلف نہیں ہو سکتے تھے۔ البتہ دونوں نظریات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ فطرت کی ساخت ایسی نہیں ہے جیسی بظاہر نظرآتی ہے۔ یہ اس سے کہیں زیادہ لطیف ہے. عمومی اضافیت ایک ایسا جامع علمی گوہر ہے جس کو ایک تنہا دماغ نے جنم دیا۔ یہ نظریہ کششِ ثقل،زمان و مکاں(Space and Time) کا ایک مربوط تصورہے۔ جب کہ دوسری جانب کوانٹم میکانیات یا کوانٹم فزکس نے بھی اتنی ہی تجرباتی کامیابی حاصل کی ہے اور ایسے سائنسی اور تکنیکی اطلاقات دیے ہیں جس نے ہماری روزمرہ زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے. مثال کے طور پر یہ کمپیوٹر جس پر میں یہ تجریرلکھ رہا ہوں۔ تاہم اپنے جنم سے ایک سو برس بعد بھی یہ ناقابلِ فہم پیچیدگی اورتجسس سے بھری ہوئی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ کوانٹم میکانیات کا آغازعین 1900ع میں ہوا اوراس سے ایک گہرےتفکّرکی صدی نے جنم لیا۔ جرمنی کے سائنس دان میکس پلانک نےایک فرضی سیاہ جسم میں موجود برقی میدان کی ریاضیاتی پیمائش کی جب وہ جسم حالت توازن میں ہو۔ ایسا کرنے کے لیے اس نے ہوشیاری سے کام لیا اورایک ترکیب سوچی۔ اس نے فرض کیا کہ اس میدان کی توانائی قدریوں (building blocks) یا کوانٹا(Quanta) میں منقسم ہے۔ یوں سمجھیں کہ توانائی کوئی بہتی ہوئی شے نہیں، بلکہ یہ چھوٹے چھوٹے ذرات (Quanta)یا پیکٹوں کی صورت میں اپنا وجود رکھتی ہے۔ اس تصور کی رو سے ریاضیاتی پیمائش نے بالکل وہی نتائج دیے جو تجرباتی طورپرحاصل کیے گئے تھے (اور لازماً صحیح تھے)۔ لیکن یہ نتائج مروجّہ سائنسی تصورات کے بالکل منافی تھے۔

توانائی کو ایسی چیز گمان کیا جاتا تھا جو ایک تسلسل سے تبدیل ہوتی ہے۔ ایسا سوچنے کی کوئی وجہ نہیں تھی کہ یہ چھوٹے چھوٹے قدریوں یا ذرات سے مل کر بنی ہو سکتی ہے۔ توانائی کو چھوٹے چھوٹے ذرات گمان کرنا پلانک کے لیے بھی محض ایک حسابی کلیہ تھا اوروہ خود بھی مکمل طور پر اس کی اہمیت کو نہیں سمجھا تھا۔ ایک مرتبہ پھر، یہ آئن سٹائن ہی تھا جس نے پانچ سال بعد ایک سادہ سے تجربے کے ذریعے یہ دیکھا کہ توانائی کے یہ چھوٹے چھوٹے ذرےدراصل حقیقی ہیں۔

آئن سٹائن نے ثابت کیا کہ روشنی محض مسلسل لہر نہیں بلکہ ذرات یا پیکٹوں سے مل کر بنی ہے۔انہیں ہم آج ضیائیہ یا فوٹان (Photon) کہتے ہیں۔ آئن سٹائن نے اپنے مضمون کے تعارف میں لکھا کہ:
“مجھے یوں لگتا ہے کہ سیاہ جسمی شعاعیں (Blackbody Radiation)، روشنی کی دمک (Fluorescence)، بالائے بنفشی شعاؤں (Ultraviolet Rays)کے ذریعےمنفی شعاعوں (Cathode Rays)کی پیداواراورروشنی کے اخراج یا تبدیلیِ ہیت کے ساتھ منسلک دوسرے عوامل کوزیادہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ روشنی کی توانائی مکاں میں غیرمسلسل انداز میں منقسم ہے۔ اس مفروضے کی مطابق ایک نقطے سے خارج ہونے والی روشنی کی شعاع مکاں میں مسلسل بڑھتے تناسب کےساتھ مساوی طورپرمنقسم نہیں بلکہ محدود مقداری روشنی کے ذرات یعنی ‘کوانٹا’ پر مشتمل ہے جوعام ذرات کی طرح خلا میں ایک خاص مقام پر موجود ہوتے ہیں اور انہیں مزید تقسیم نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ مکمل اکائی کی شکل میں خارج یا جذب کیے جا سکتے ہیں”۔

یہ سادہ اور واضح سطور کوانٹم میکانیات کا پیدائشی سرٹیفیکیٹ ہیں۔ حیران کن بات ہے کہ آئن سٹائن کےاس ابتدائی جملے پرغور کریں “مجھے یوں لگتا ہے۔۔۔۔”، جوکہ چارلس ڈارون کے ابتدائی جملے “میں سوچتا ہوں۔۔۔” کی یاد دہانی کراتا ہے جب اس نے اپنی تحقیقی ڈائریوں میں انواع کے ارتقا کا تصورپیش کیا تھا۔ یا فیراڈے کی وہ “ہچکچاہت” جو اس نے مقناطیسی میدان کا انقلابی تصور متعارف کراتے ہوئے ظاہر کی تھی۔ یقیناً نابغے ہچکچاتے ہیں۔
ابتدا میں آئن سٹائن کے سائنسی کام کو اس کے ہم عصروں کی طرف سے ایک بہت ہی ذہین نوجوان کا “لایعنی بچپنہ”سمجھا گیا۔ لیکن بعد میں اسے اسی کام پر نوبل انعام دیا گیا۔ اگرمیکس پلانک اس نظریے کا باپ ہے تو آئن سٹائن ان والدین میں سے ہے جس نے اس کی پرورش کی۔

اپنےاعتراضات کی وجہ سےآئن سٹائن نےاس نظریے کا مکمّل اعتراف نہیں کیا۔ لیکن تمام بچوں کی طرح یہ نظریہ بھی اپنے رستے پر چل پڑا۔ البتہ بیسویں صدی کی دوسری اورتیسری دہائی میں نیل بوہر نے اس نظریےکو مزید مستحکم کیا۔ نیل بوہرنے یہ آگہی حاصل کی کہ جوہروں(Atoms) کےاندربرقیوں یا الیکٹرانوں (Electrons) کی توانائی بھی روشنی کی توانائی کی طرح مخصوص قیمت ہی حاصل کر سکتی ہے۔ سب سے اہم نقطہ یہ کہ الیکٹران ایک مدار سے دوسرے مدار میں ایک خاص توانائی سے ہی چھلانگ لگا سکتے ہیں اورجب وہ ایسا کرتے ہیں تو دو مداروں میں توانائی کے فرق کےبرابرایک فوٹان خارج یا جذب کرتے ہیں۔ یہ مشہورکوانٹمی جستیں (Quantum Leaps) ہیں۔ ڈنمارک کے شہرکوپن ہیگن میں واقع یہ نیل بوہرکا انسٹی ٹیوٹ ہی تھا جہاں بیسویں صدی کے ذہین ترین دماغ اس نئی جوہری دنیا کی حیران کن خوبیوں پر ہونے والی تحقیق میں ایک نظم (Order) لانے کے لیے اکٹھے ہوئے اوراس سے ایک جامع ((Coherent نظریے نے جنم لیا۔ بالآخر1925ع میں اس نظریے کی ریاضیاتی مساواتیں ظہورپذیر ہوئیں جنہوں نے نیوٹن کی میکانیات کومکمل طور پر تبدیل کردیا۔

ایک کامیابی کا تصور کرنا کافی مشکل ہے۔ ایک ہی دھچکے میں ہر چیز قابلِ فہم بن جاتی ہے اور آپ ہر چیز کا حساب لگا سکتے ہیں۔ ایک مثال لیتے ہیں: آپ کو مینڈلیف کا بنایا ہوا دوری جدول یاد ہے؟ جس میں ہائیڈروجن سے لے کر یورینیم تک وہ تمام عناصردرج ہیں جن سے مل کر ہماری کائنات بنی ہے اور جوہمارے اسکولوں اور کالجوں کے بہت سارے کمروں کی دیواروں پرلٹکا ہوتا ہے؟ دوری جدول میں جو عناصر موجود ہیں وہ خاص طور پراسی جگہ پر کیوں ہیں جہاں وہ ہیں اور دوری جدول کی خاص طور پر یہی ساخت کیوں ہے جس میں پیریڈ ہیں اوران کیمیائی عناصر کی مخصوص خصوصیات ہیں؟ جواب یہ ہے کہ ہرعنصرکوانٹم میکانیات کی بنیادی مساوات کے ایک خاص حل سےمطابقت رکھتا ہے۔ تمام کی تمام کیمسٹری ایک ہی مساوات سے نکلتی ہے۔
اس نئے نظریے کی مساوات جو کہ دماغ کو ماؤف کر دینے والے مشکل تصورات پر مبنی تھی، کا خالق جرمنی کا ایک نوجوان نابغہ وارنر ہائزن برگ تھا۔ ہائزن برگ نے فرض کیا کہ الیکٹران ہروقت اپنا وجود نہیں رکھتے۔ یہ صرف اس وقت وجود رکھتے ہیں جب کوئی شخص یا کوئی شئے انہیں دیکھتی ہے یا پھر جب وہ کسی دوسری چیز سے تعامل کرتے ہیں۔ جب یہ کسی دوسری چیز سے ٹکراتے ہیں تو اس جگہ پر کسی خاص امکان کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں جس کا حساب لگایا جا سکتا ہے۔ایک مدار سے دوسرے مدار تک کوانٹمی جستیں ان کے حقیقی ہونے کا وسیلہ ہیں۔ ایک الیکٹران ایک تعامل سے دوسرے تعامل تک جستوں کا مجموعہ ہے۔ جب کوئی چیز اس سے تعامل نہیں کر رہی ہوتی تو یہ کسی بھی خاص مقام پر موجود نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ کہیں بھی “موجود” نہیں ہوتا۔

یہ بالکل ایسے ہی جیسے خدا نے حقیقت کا خاکہ تیار کرنے میں مکمل اورگہرے خط کھینچنے کی بجائے محض دھندلی اورادھوری سی کچھ نیم مکمل لائنیں کھینچ دی ہیں۔

کوانٹم میکانیات میں کسی بھی جسم کا کوئی خاص مقام متعین نہیں ہوتا سوائے جب وہ کسی دوسرے جسم سے ٹکراتا ہے۔ ان دو تعاملات کے درمیانی وقفے میں اسے بیان کرنے کے لیے ایک تجریدی کلیے کا سہارا لینا پڑتا ہے جس کا وجود حقیقی کی بجائے تجریدی ریاضی میں ہے۔ لیکن ابھی اس سے زیادہ پیچیدہ مسئلہ باقی ہے۔ الیکٹرانوں کی ایک مقام سے دوسرے مقام تک ان تعاملاتی جستوں (Interactive Leaps) کی پیش گوئی ممکن نہیں بلکہ مجموعی طور پر یہ بے ترتیب ہوتی ہیں۔ صرف اس امکان (Probability) کا حساب لگانا ممکن ہے کہ الیکٹران کا ظہور یہاں ہو گا یا وہاں، نہ کہ اس کا کہ اس کا ظہور کسی خاص مقام پر ہوگا۔ ان امکانات کا سوال فزکس کی اساس تک جاتا ہے جہاں بظاہرہرچیزخاص قوانین کے تحت کام کرتی محسوس ہوتی ہے اورجو ہمہ گیراورناقابلِ تغّیر ہیں۔

کیا یہ لامعنی محسوس ہوتا ہے؟ یہ آئن سٹائن کو بھی بے معنی ہی لگا تھا۔ ایک طرف تواس نے ہائزن برگ کے اس نظریے کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا نام نوبل انعام کے لیے تجویزکیا کہ اس نے دنیا کے بارے میں کسی بنیادی چیز کو سمجھا ہے۔ جب کہ دوسری جانب اس نے کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جہاں وہ اس نظریے کے خلاف بڑبڑا نہ سکے کہ یہ تصوّر اس کے نزدیک قرین قیاس نہیں۔

کوپن ہیگن کے نوجوان افسردہ تھےکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آئن سٹائن ایسا سوچے؟ان کا روحانی باپ جس نے ناقابلِ تصورکو تصورمیں لانے کی جرّات کی، اس نامعلوم (Unknown) کی جانب ایک نئی جست لگانے سے گھبرا رہا تھا جس کی بنیاد اس نےخود رکھی تھی۔ وہی آئن سٹائن جس نے ثابت کیا تھا کہ وقت ہمہ گیر نہیں ہے اور مکاں منحنی ہے، اب کہہ رہا تھا کہ دنیا “اس قدر”عجیب نہیں ہو سکتی۔

بوہر نے نہایت تحمل سے آئن سٹائن کوان تصورات کی وضاحت پیش کی۔ آئن سٹائن نے اعتراضات کیے۔ اس نے ان نئےتصورات میں موجود تضادات ثابت کرنے کے لیے تخیّلی تجربات (Thought Experiments) ترکیب دیے۔ روشنی سے بھرے ایک ڈبے کا تصور کریں جس سے ہم صرف ایک فوٹان کوباہرآنے دیتے ہیں اوریوں آئن سٹائن کی مشہورمثال “روشنی کے ڈبّے والا تخیلی تجربہ” کا آغاز ہوتا ہے۔ لیکن ہر بار بوہر کوئی ایسا جواب دھونڈ لیتا جس سے ان اعتراضات کو رد کیا جا سکے۔ سالوں تک ان کا مکالمہ خطوط، دروس اور مضامین کے ذریعے جاری رہا۔ تبادلہ خیال کے دوران دونوں شخصیات کو اپنے خیالات پرنظرثانی کرنےاوران کوتبدیل کرنے کی ضرورت پڑی۔ آئن سٹائن کو بالآخر یہ ماننا پڑا کہ نئے تصورات میں تضادات نہیں ہیں اور بوہر کو یہ ماننا پڑا کہ چیزیں اتنی آسان اور سادہ نہیں ہیں جتنی اس نے پہلے سمجھی تھیں۔ آئن سٹائن اس پر بالکل نرمی نہیں برتنا چاہتا تھا جو اس کے لیے سب سے اہم مسلہ تھا: کہ اس سے بالاتر کہ کون سی چیز کس سے تعامل کرتی ہے، کائنات کی ایک معروضی حقیقت موجود ہے۔ جب کہ بوہرنے اس نئے نظریے پر، جس نے حقیقت کی عمیقیت کو نئے انداز میں تصور کیا، کوئی شک نہ کیا۔ بالآخر آئن سٹائن نے مان لیا کہ یہ نظریہ دنیا کے متعلق ہماری فہم میں بہت بڑی جست ہے۔ وو اس بات پربھی قائم رہا کہ چیزیں جتنی عجیب نظرآتی ہیں اتنی ہیں نہیں۔ یقیناً ان مظاہر کے پیچھے قابل فہم وضاحت موجود ہے۔

آج ایک صدی بعد بھی ہم اسی مقام پرکھڑے ہیں۔ کوانٹم میکانیات کی مساواتوں اوران کے مضمرات کو طبیعیات دان، کیمیا گر، انجینئراورحیاتیات دان روزمرہ زندگی کے بہت سارے مختلف علمی میدانوں میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ مساواتیں ہم عصر ٹیکنالوجی میں بہت کار آمد ہیں۔ کوانٹم میکانیات کے بغیر الیکٹرانکس مثلاّ ٹرانسسٹر کا کوئی وجود نہ ہوتا۔ ان کےعملی استمعال کے باوجود یہ مساواتیں پر اسرار اور کسی حد تک ناقابلِ فہم رہتی ہیں۔ کیوں کہ یہ محض یہ بتاتی ہیں کہ ایک طبعی نظام دوسرے طبعی نظام پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے، یہ نہیں بتا پاتیں کہ اس تعامل کے دوران اس طبعی نظام کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔

اس کا مطلب کیا ہوا ؟ کہ کسی نظام کی بنیادی حقیقت ناقابلِ بیان ہے؟ کیا اس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس اس پہیلی کو حل کرنے کے لئے ایک حصّے کی کمی ہے؟ یا کیا اس کا مطلب یہ ہے( اور جو مجھے بھی لگتا ہے) کہ ہمیں اس حقیقت کو مان لینا چاہیےکہ یہ تعامل ہی اصل حقیقت ہے۔ اس سے صحیح معنوں میں ہماراعلم بڑھے گا۔ ایسا مان لیںے سے ہم وہ کچھ کرنے کے قابل ہوں گے جس کے بارے میں ہم نے ابھی تک تصوّربھی نہیں کیا۔ لیکن اس سے نئے سوالات اور نئے اسرار جنم لیتے ہیں۔ اس کے باوجود، تجربہ گاہوں میں ان نظریات کی مساواتوں کواستعمال کرنے والے اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔ لیکن مضامین اورکانفرنسوں میں جو حالیہ سالوں میں کافی بڑھ گئی ہیں، طبیعات دان اورفلسفی اپنی تلاش جاری رکھتے ہیں۔ اپنے جنم کے ایک صدی بعد آج نظریہ کوانٹم کیا ہے۔۔۔ حقیقت کی اصل ماہیت میں ایک گہری ڈبکی؟۔۔۔۔ایک صریح غلطی (Blunder) جو محض حادثاتی طور پر کام کر گئی؟۔۔۔ یا پھر دنیا کی ساخت کے بارے کسی عمیق راز کی طرف اشارہ جس کو ہم ابھی مکمل طور پر سمجھ نہیں پائے؟

جب آئن سٹائن فوت ہوا تو اس کے سب سےبڑے نظریاتی حریف بوہر نے اس کے لیے نہایت جذباتی تعریفانہ کلمات کہے۔ جب کچھ سالوں بعد بوہرکی وفات ہوئی تو کسی نے اس کے کمرہ مطالعہ (Study Room) کے تختہ سیاہ کی تصویر لی۔ اس کے اوپر ایک ڈرائینگ بنی ہے۔ آئن سٹائن کے “روشنی کے ڈبّے والے تخیلی تجربے کی ڈرائینگ”۔ حرفِ آخر میں: خود کو للکارنے اور زیادہ سے زیادہ سمجھنے کی خواہش اورآخر میں سب سے اہم بات: شک۔

Categories
نان فکشن

خوبصورت ترین نظریہ

مصنف: کارلو روالی
ترجمہ: فصی ملک

اپنی جوانی میں البرٹ آئن سٹائن نے ایک سال فارغ رہ کر گزارا۔آپ وقت ضائع کیے بنا کسی مقام پر نہیں پہنچتے لیکن بدقسمتی سے یہ ایک ایسی بات ہے جو ٹین ایجرز(Teenagers) کے والدین نہیں سمجھتے۔وہ پاویہ (Pavia) میں تھا۔ اپنے ہائی سکول کی سختی کو برداشت نہ کر سکنے کے بعد وہ جرمنی میں تعلیم کو خیر باد کہہ کے اب اپنی فیملی کے ساتھ رہ رہا تھا۔

یہ بیسویں صدی تھی اور اٹلی میں صنعتی انقلاب کا آغاز۔ اس کا باپ جو کہ ایک انجینئر تھا، پادان(Padan) کے کھیتوں میں برقی طاقت گاہ (power plant) لگا رہا تھا۔البرٹ کانٹ(Kant) کو پڑھا کرتا اور محض نشاطِ دل کی خاطر یونیورسٹی آف پاویہ میں رجسٹر ہوئے یا امتحانات کا سوچے بنا اتفاقی لیکچر لیا کرتا تھا۔لہذٰا یہ وہ طریقہ ہے جس سے سائنسدان بنتے ہیں۔

اس کے بعد اس نے زیورخ یونیورسٹی میں داخلہ لے کر خود کو فزکس پڑھنے میں مگن کر لیا۔ کچھ سال بعد اس نے تین مضامین اس وقت کے فزکس کے سب سے محترم جرنل”اینلز دی فزکس” میں بھیجے۔ان میں سے ہر ایک نوبل انعام کا مستحق ہے۔پہلا یہ بتاتا ہے کہ جوہر واقعی وجود رکھتے ہیں، دوسرا کوانٹم میکانیات کی بنیاد فراہم کرتا ہے جس کو میں اگلے سبق میں بیان کروں گا اور تیسرا اس کے اضافیت کے تیسرے نظریے کو بیان کرتا ہے جو ان نظریہ خاص اضافیت کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ کیسے وقت ہر ایک کے لیے ایک جیسا نہیں گزرتا، کہ کیسے دو جڑواں بھائیوں کی عمر میں فرق آ جاتا اگر ان میں سے ایک رفتار سے حرکت میں ہو۔

آئن سٹائن ایک ہی رات میں مشہور سائنسدان بن گیا اور اسے بہت ساری یونیورسٹیوں سے نوکری کی پیش کشیں آنے لگیں۔لیکن کسی شئے نے اسے بے چین رکھا۔ نظریہ اضافیت اپنے فی الفور اوتراف کے بعد بھی تجاذب(gravitation) ، جو ہہمیں یہ بتاتا ہے کی چیزیں کیسے گرتی ہیں، کے ساتھ یکساں نہیں تھا۔اس نے ایسا اس وقت محسوس کیا جب وہ ایک مضمون میں اپنے نئے نظریہ اضافیت کا خلاصہ بیان کر رہا تھا۔اس نے دیکھا کہ قانونِ ہمہ گیر تجاذب(law of universal gravitation)، جسے جدید طبیعیات کے باپ آئزک نیوٹن نے خود ترکیب دیا تھا،اضافیت کے ساتھ یکسانیت کی خاطر نظرِ ثانی کی ضرورت میں ہے۔اس نے خود کو اس مسلے میں غرق کر لیا اور اسے حل کرنے میں اسے دس سال لگے۔کوششوں، غلطیوں، غلطی بھرے مضامین، شاندار اور غلط تصورات کے دس سال۔

بالاخر 1915 میں اس نے ایک مضمون چھاپا جس میں اس نے اس مسلے کا تجاذب(Gravitation) کا ایک نئے نظریے کی شکل میں مکمل حل فراہم کیا۔اس نے اسے عمومی نظریہ اضافیت(general theory of relativity) کا نام دیا۔جو اس کا ماسٹر پیس اور روسی طبیعیات دان لیو لنڈاو(Lev Landav) کے مطابق خوبصورت ترین نظریہ ہے۔

کچھ ایسے ماسٹر پیس ہوتے ہیں جو ہم پر بہت گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔جیسا کہ موزارٹ کی ریقویم(requiem of Mozart)، ہومر کی آڈیسی(Odyssey of Homer) سسٹین چیپل اور کنگ لیئر۔ ان کی خوبصورتی کو مکمل سراہنے کے لیے لمبی شاگردی کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن اس کا اجر خالص خونصورتی ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ ہماری آنکھیں دنیا کو ایک نئے نقطہ نظر سے دیکھنے لگتی ہیں۔آئن سٹائن کا گوہر—عمومی نظریہ اضافیت— بھی اسی درجے کا ماسڑ پیس ہے۔

مجھے وہ برانگیختگی اب بھی یاد ہے جب میں نے اس کا مطلب سمجھنا شروع کیا تھا۔ وہ گرمیوں کا موسم تھا۔ اپنی یونیورسٹی کے آخری سال میں میں کیلبریا(Calabria) میں کونڈوفری(Condofuri) کے ساحل پر Hellenic Mediterranean سورج کی دھوپ میں ڈوبا تھا۔پڑھائی سے مضطرب ہوئے بنا چھٹیوں میں سب سے بہتر پڑھا جاتا ہے۔میں ایک ایسی کتاب سے پڑھ رہا تھا جس کو کناروں سے چوہوں نے چبا ڈالا تھا۔کیوں کہ امبرین(Umbrian) پہاڑی کے دامن میں ایک خستہ حالت گھر میں ، جہاں میں بولوگنا(Bologna) میں یونیورسٹی کی کلاسوں سے تھا کر پناہ لیتا تھا، میں اس بدقسمت مخلوق کے سوراخ اس کتاب سے بند کر دیا کرتا تھا۔کبھی کبھار میں کتاب سے نظریں اٹھاتا اور دمکتے سمندر کو دیکھتا۔مجھے ایسا لگتا جیسے میں زمان و مکان کے انحنا(space time curvature) کو دیکھ رہا ہوں جس کا تصور آئن سٹائن نے کیا تھا۔جیسے کسی جادوئی طرح سے ایک دوست میرے کان میں ایک پوشیدہ سچ بتا رہا ہو۔جیسے سچائی کا پردہ ہٹا کر ایک سادہ اور عمیق ترتیب کو ظاہر کر دیا جائے۔جب سے ہم نے دریافت کیا ہے کہ زمین گول ہے اور ایک جنونی لٹو کی طرح گھومتی ہے تو ہم سمجھ گئے ہیں کی حقیقت وہ نہیں ہے جو ہمیں دکھائی دیتی ہے۔ہر بار ہم جب اس کے کسی نئے پہلو کا نظارہ کرتے ہیں تو یہ ہمارے لیے ایک عمیق اور جذباتی تجربہ ہوتا ہے۔ ایک اور پردہ ہماری آنکھوں سے ہٹ جاتا ہے۔

ان بہت ساری جستوں میں جو ہم نے کائنات میں اپنی فہم کو آگے بڑھانے کے لیے لیں، شاید کوئی بھی آئن سٹائن کے برابر نہیں ہے۔ کیوں؟
اول یہ کہ جب آپ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ(نظریہ) کیسے کام کرتا ہے، اس میں دم بخود کر دینے والی سادگی ہے۔میں یہاں اس کا مرکزی خیال پیش کروں گا۔

نیوٹن نے یہ توضیح کرنے کی کوشش کی کہ چیزیں کیوں گرتی ہیں اور سیارے کیوں گھومتے ہیں۔ اس نے ایک ایسی قوت کا تصور کیا جو تمام مادی اجسام کو ایک دوسرے کی طرف کھینچتی ہے۔اس نے اسے کششِ ثقل یا گریوٹی کا نام دیا۔ایک دوسرے سے دور مادی اجسام میں، جن کے بیچ میں کوئی اور شئے موجود نہیں ہوتی، یہ قوت کیسے عمل کرتی ہے یہ معلوم نہیں تھا۔اور سائنس کا باپ اس کے بارے میں کوئی مفروضہ پیش کرنے میں بھی محتاط تھا۔نیوٹن نے یہ بھی فرض کیا کہ اجسام سپیس میں سے حرکت کرتے ہیں اور یہ کہ سپیس ایک بہت بڑے جار کی مانند ہے۔ایک ایسا ڈبہ جس نے ساری کائنات کو گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ایک بہت بڑی ساخت جس میں اجسام اس وقت تک سیدھے حرکت کرتے ہیں جب تک کوئی قوت اب کے خطِ مرمی(trajectory) کو منحنی نہ کر دے۔نیوٹن یہ نہیں بتا سکا کہ یہ سپیس— یہ جار جو اس نے ایجاد کیا—کس چیز کا بنا ہوا ہے۔لیکن آئن سٹائن کی پیدائش سے کچھ سال قبل دو برطانوی سائندانوں، فیراڈے اور میکسویل، نے نیوٹن کی سرد دنیا میں ایک نہایت ہی اہم جز، برقناطیسی میدان(electromagnetic field)، جمع کر دیا۔

یہ میدان ایک حقیقی شئے ہے جس نے ہر جگہ پھیل کر ساری سپیس کو بھرا ہوا ہے۔یہ ندی کی سطح کی طرح مرتعش و اہتزاز (vibrate and oscillate) پذیر ہو سکتا ہے اور ریڈیائی امواج اور برقی قوت کی ترسیل کر سکتا ہے۔اپنے بچپن ہی سے آئن سٹائن نے اس برقناطیسی میدان کی طرف بہت کشش محسوس کی جو اس کے باپ کے بنائی ہوئی طاقت گاہوں میں روٹروں(rotors) کو گھماتا تھا۔اور جلد ہی اس نے یہ سمجھ لیا کہ برق کی طرح تجاذب کی ترسیل بھی ایک میدان (field) سے ہوتی ہے۔ایک برقی میدان کی طرح تجاذبی میدان کا بھی لازماً وجود ہونا چاہیے۔اس نے یہ سمجھنے کا ارادہ کیا کہ یہ تجاذبی میدان کس طرح کام کرتا ہے اور اسے ریاضی کی مساواتوں سے کس طرح بیان کیا جا سکتا ہے۔

یہ وہ لمحہ تھا جب ایک بہت ہی شاندار خیال اس مے دماغ میں آیا۔” تجاذبی میدان سپیس میں پھیلا ہوا نہیں ہے بلکہ تجاذبی میدان بذاتِ خود سپیس ہے”۔ یہ عمومی نظریہ اضافیت کا مرکزی خیال ہے۔نیوٹن کی سپیس جس میں سے چیزیں حرکت کرتی ہیں اور تجاذبی میدان درحقیقت ایک ہی چیز ہیں۔
یہ ایک آگہی کا لمحہ ہے، دنیا کی ایک شاندار توضیح۔ سپیس مادہ سے کوئی جدا چیز نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کا ہی ایک مادی جز ہے۔ایک ایسی شئے جس میں ہلکورے(ripples) پڑ سکتے ہیں، جو کھنچ سکتی ہے،منحنی ہو سکتی ہے اور جس میں بل پڑ سکتے ہیں۔ہم کسی ٹھوس غیر مرئی (invisible) بنیادی ڈھانچے میں موجود نہیں ہیں۔ہم کسی بہت بڑے سنیل (snale) کے لچکدار خول میں موجود ہیں۔سورج اپنے اردگرد سپیس کو منحنی کرتا ہے اور زمین اس کے گرد کسی قوت کے زیرِ اثر نہیں گھومتی بلکہ وہ تو ایک ایسی سپیس مین سیدھا جانا چاہتی ہے جو منحنی ہے۔بالکل ایسے جیسے ایک پتھر قیف میں لڑکھتا ہے۔قیف کے مرکز پر کوئی نامعلوم قوت پیدا نہیں ہوتی بلکہ یہ اس قیف کی دیواروں کی منحنی فطرت (curved nature) ہے جو اس کو لڑکھنے پر مجبور کرتی ہے۔سیارے سورج کے گرد گھومتے اور چیزیں اس لیے گرتی ہیں کیوں کہ سپیس منحنی ہے۔

ہم سپیس کے انحنا کو کیسے بیان کر سکتے ہیں؟ انیسویں صدی کے سب سے ممتاز ریاضی دان کارل فریڈرک گاش(Carl Fredrick Gauss) ، جو کہ “ریاضی کا بادشاہ” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے دو ابعادی (two dimensional) سطحوں جیسا کہ پہاڑ وں کی سطح ہوتی ہے کو بیان کرنے کے لیے ایک کلیہ لکھا۔پھر اس نے اپنے سب سے ذہیں طالب علم کو یہ کہا کہ وہ اس کلیے کی اس طرح تعمیم (generalization) کرے کہ یہ تین یا اس سے زیادہ ابعادی سپیس کا بھی احاطہ کرے۔ اس طالب علم نے جو کی برنارڈ ریمان(Bernhard Riemann) تھا نے ایک ایسا اثر انگیز تھیسز لکھا جو بالکل بے کار دکھتا تھا۔ریمان کے تھیسز کا نتیجہ یہ تھا کہ کسی بھی منحنی سپیس (curved space) کی خصوصیات کو ایک خاص ریاضیاتی شئے سے بیان کیا جا سکتا ہے جو ریمانی منحنی(Riemann curvature) کہلاتی ہے اور اسے انگریزی کے حرفِ تہجی R سے ظاہر کیا جاتا ہے۔آئن سٹائن نے ایک مساوات لکھی جو یہ کہتی ہے کہ R مادہ کی توانائی کے برابر ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں مادہ موجود ہو گا وہاں سپیس منحنی ہو جائے گی۔یہ مساوات آدھی لائن میں سما سکتی ہے اور اس میں اور کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک خیال کہ سپیس منحنی ہو جاتی ہے ایک مساوات بن گئی۔

لیکن اس مساوات کے اندر ایک کائنات ذخیرہ ہے۔اور یہاں اس نظریے کی شادابی پیش گوئیوں کی تعبیر میں کھلتی ہےجو ایک دیوانے کی بڑ کے مشابہہ ہے لیکن وہ تمام کی تمام سچ ثابت ہوتی ہیں۔

یہ مساوات یہ بتاتی ہے کہ ایک ستارے کے اردگرد سپیس کیسے منحنی ہوتی ہے ۔ اس انحنا کی وجہ سے نہ صرف سیارے اس کے گرد گھومتے ہیں بلکہ روشنی بھی اپنے راستے سے منحرف ہو جاتی ہے۔آئن سٹائن نے پیش گوئی کی کہ سورج روشنی کو اس کے راستے سے منحرف کر دیتا ہے۔ 1919 میں اس انحراف کی پیمائش کی گئی اور یہ پیش گوئی کی تصدیق ہوگئی۔لیکن صرف سپیس ہی منحنی نہیں ہوتی بلکہ وقت بھی ہوتا ہے۔آئن سٹائن نے پیش گوئی کی کہ وقت زمین کی سطح کی نسبت بلندی پر زیادہ تیزی سے گزرتا ہے۔اس کی پیمائش کی گئی اور نتیجہ بالکل صحیح نکلا۔اگر ایک شخص جو ہمیشہ شطح سمندر پر رہا ہو اپنے جڑواں بھائی سے ملے جو پہاڑوں میں رہا ہو تو وہ دیکھے گا کہ اس کا بھائی اس کی نسبت زیادہ بوڑھا ہے۔اور یہ تو ابھی صرف شروعات ہے۔

ایک ستارہ جو اپنا سارا ایندھن(ہایئڈروجن) استعمال کر چکا ہوتا ہے اپنے ہی وزن کے تحت منہدم ہو کر سپیس میں اتنا انحنا پیدا کر دیتا ہے کہ اس سے سپیس میں ایک حقیقی سوراخ بن جاتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیوں کہ جلنے سے پیدا ہونے والا دباؤ اس انہدام کو روکنے کے لیے ناکافی ہوتا ہے۔یہ مشہورِ زمانہ بلیک ہول ہیں۔جب میں یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا تو ان کو ایک گپت نظریے کی قابلِ یقین پیش گوئی گمان کیا جاتا تھا۔آج ان کا آسمانوں میں سینکڑوں کی تعداد میں مشاہدہ کیا جا چکا ہے اور ہیت دانوں نے کافی تفصیل میں ان کا مطالعہ کیا ہے۔

بات ابھی ختم نہیں ہوئی، ساری کی ساری سپیس پھیل اور سکڑ سکتی ہے۔مزید آئن سٹائن کی مساوات یہ بتاتی ہے کہ سپیس جامد نہیں رہ سکتی۔یہ لازماً پھیل رہی ہے۔1930 میں کائنات کے پھیلاؤ کا حقیقتاً مشاہدہ کیا گیا۔یہی مساوات یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ پھیلاؤ ایک دھماکے کی صورت میں ایک نہایت چھوٹی اور گرم کائنات سے شروع ہوا جس کو اب ہم بگ بینگ کے نام سے جانتے ہیں۔پہلے پہل ایک بار پھر اس پر کسی نے بھروسہ نہیں کیا لیکن ثبوت کونیاتی پس منظری شعاعوں—جو کہ اصل دھماکے سے پیدا ہونے والی تپشی سعاعوں کی مدھم باقیات ہیں— کے مشاہدے تک جمع ہوتے رہے۔آئن سٹائن کی مساوات سے آنے والی ہ پیش گوئی سچ ثابت ہو گئی۔ ابھی بھی یہ نظریہ یہ کہتا ہے کہ سپیس سمندر کی سطح کی طرح حرکت کرتی ہے۔ان ثقلی امواج(gravitational waves) کا مشاہدہ آسمان میں موجود بائنری ستاروں پر کیا گیا۔اور یہ اس نظریے سے ایک سو ارب میں سے ایک درجے تک کی حیران کن درستگی تک مطابقت رکھتی ہے۔

قصہ مختصر یہ کہ یہ نطریہ ایک رنگا رنگ اور متحیرکر دینے والی دنیا کو بیان کرتا ہے۔جہاں کائنات پھٹتی ہے، سپیس ایک بے تہاہ سوراخ میں منہدم ہوتی ہے، وقت ڈھیلا پڑ کر سیارے کے قریب سست ہو جاتا ہے اور بین النجوم پھیلی بے انتہا سپیس میں ہلکورے پڑتے ہیں جو سمندر کی سطح کی طرح لہراتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ سب کچھ جو ایک چوہوں کی چبائی گئی کتاب سے ظاہر ہوا ایک بے وقوف کی پاگل پن کی حالت میں سنائی گئی کوئی داستاں نہیں تھی اور نا ہی کیبلریا کے سمندر یا میڈٹرینین کے جلتے سورج کا فریبِ نظر۔ یہ حقیقت تھی۔

یا پھر حقیقت کی ایک جھلک جو ہمارے روز مرہ کے دھندلے اور عام نقطہ نظر سے کم پوشیدہ ہے۔ ایک حقیقت جو بالکل اسی مواد سے بنی ہوئی دکھائی دیتی ہے جس سے ہمارے خواب بنے ہیں۔لیکن یہ ہمارے دھندلے خوابوں کی نسبت زیادہ حقیقی ہے۔

یہ سب کچھ ایک بنیادی وجدان کا نتیجہ ہے کہ سپیس اور تجاذبی میدان درحقیت ایک ہی شئے ہیں۔اور ایک سادہ سی مساوات جس کو یہاں لکھے بنا میں نہیں رہ سکتا اور شاید ہی آپ اس کو سمجھ پائیں، لیکن پھر بھی پڑھنے والا اس کی حیران کن سادگی کا ضرور معترف ہو جائے گا۔

یقیناً اس مساوات کو پڑھنے اور لاگو کرنے کے لیے آپ کو ریمانی ریاضی کی تیکنیک کو سمجھنا ہو گا۔ اس کے لیے تھوڑی سی کوشش اور حوالگی(commitment) کی ضرورت ہے لیکن یہ اس سے کم ہے جس کی آپ کو بیتھوون کی سٹرنگ کوارٹٹ کو سراہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن دونوں صورتوں میں اجر انتہائی خوبصورتی اور دنیا کو دیکھنے کی ایک نئی بصارت ہے۔

Categories
نان فکشن

کائنات ،بگ بینگ اور شعور

بیسویں صدی عیسوی کا آغاز انسانی فکر اورکائنات کے بارے شعور میں بہت سی تبدیلیوں کا مژدہ لے کر آیا تھا۔ اور پھر پوری صدی انسان اس فکر کی تشریح میں مگن رہا۔ تشریحات کا یہ سلسلہ چلتے چلتے اکیسویں صدی تک جا پہنچا اور اس دوران انسان نے جو نظریہ کائنات تشکیل دیا اس کو سائنسی فکروعمل میں ڈھالنے کی کوششیں اپنے عروج پر تھیں۔ حتٰی کہ اکیسویں صدی کے آغاز ہی میں انسان اپنے نظریات کو سائنسی حقائق کے طور پر دیکھنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ اسی رواں سال مارچ کی 17 تاریخ اس عمل میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے جب امریکہ کے ھارورڈ سمِتھسونین مرکز برائے فلکیاتی طبیعات نے جنوبی قطب پر لگائی گئی دوربین کے مشاہدات کی بنیاد پر ثقلی لہروں کی دریافت کا اعلان کیا ہے جو انسان کے کائناتی شعور میں خاص اہمیت کی حامل دریافت ہے(1)۔ اس دریافت نے جدید شعورکائنات کو ایک سائنسی حیثیت میں ڈھالنے میں اہم کردار کیا ہے۔
اگرچہ اس مرکز کے نتائج حتمی نہیں ہیں کیونکہ ابھی اس سلسلے میں مزید شواہد درکار ہیں جن کی کھوج کے لئے پلانک نامی ایک مصنوعی سیارہ سرگرم عمل ہے(2)۔ لیکن تقریباً تمام ماہرین فلکیات و کونیات اس ضمن میں پر امید ہیں۔
مشہور جرمن فلسفی کانٹ کا مقولہ ہے “انسان کو حیرت میں ڈالنے کے لئے دو ہی چیزیں کافی ہیں۔ تاروں بھرا آسمان اور انسان کا اپنا وجود”۔
آئیے اس نئی تحقیق کو مزید سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس تحقیق کا تعلق بنیادی طور پر آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس نظریے پر کام کرتے ہوئے سائنسدان ہماری کائنات کی بنیادی ساخت کو سمجھنے کی کوشش کرتے آئے ہیں۔ بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں کام کرنے والے سائنسدانوں جن میں سٹیفن ہاکنگ (3) کا نام سرفہرست ہے۔ انہوں نے سیاہ شگافوں اور بگ بینگ کے متعلق اپنے نظریات کی بنیاد بھی اسی نظریہ عمومی اضافیت پر رکھی تھی۔ لہٰذہ اس عمومی نظریہ اضافیت پر روشنی ڈالنا ضروری ہے۔
نیوٹن کے سر پر سیب گرنے والا واقعہ تقریباَ ہر پڑھے لکھے شخص کو معلوم ہوگا کہ جب اس نے درخت سے سیب گرتے دیکھا تو اس کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ آیا چاند بھی زمین پر گر سکتا ہے یا نہیں؟ اس سوال پر غوروفکر کے نتیجے میں اس نے کشش ثقل کا مشہور قانون دریافت کیا اور اسکو ریاضیاتی شکل میں بیان کر دیا۔ اس قانون کے مطابق کائنات میں پائے جانے والے تمام اجسام ایک دوسرے کو ایک خاص قوت کے ساتھ کھینچتے ہیں۔ یہ قوت اجسام کے اوزان کے لحاظ سے بڑھتی ہے اور اسی طرح ان کے دور جانے پر کم ہو جاتی ہے۔ اس قوت کو اس نے کشش ثقل کا نام دیا۔
نیوٹن کی اس فکری پرواز کا اثر نہ صرف سائنسی قانون کی صورت میں ظاہر ہوا بلکہ اس نے انسانی فکر اور اسکے شعور کائنات پر بھی گہرے اثرات مرتب کئے۔ مشہور جرمن فلسفی کانٹ کا مقولہ ہے “انسان کو حیرت میں ڈالنے کے لئے دو ہی چیزیں کافی ہیں۔ تاروں بھرا آسمان اور انسان کا اپنا وجود”۔ گویا اپنی حیرت کومعنی دینے کے لئے انسان ان دو چیزوں کے بارے میں ہمیشہ سے کوئی نہ کوئی نظریہ یا افسانہ تخلیق کرتا آیا ہے۔ مثال کے طور پرنیوٹن کے زمانہ میں یہ توہم پایا جاتا تھا کہ شہاب ثاقب کے گرنے کی وجہ نحوست یا کوئی بدشگونی کی پیشین گوئی ہے۔ لیکن نیوٹن کے دئیے ہوئے قانون ثقل کی وجہ سے اس توہم کا اثر ٹوٹتا رہا اور انسان نے یہ جانا کہ شہاب ثاقب ایک خاص قانون کا پابند ہے۔ اور اس کے گرنے کا تعلق کسی بدشگونی یا نحوست کے ساتھ نہیں ہے۔
اپنی تمام تر اہمیت و حیثیت کے باوجود نیوٹن کے قانون ثقل کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ درپیش تھا کہ یہ کشش ثقل دراصل ہے کیا اور کس طرح کام کرتی ہے؟
نیوٹن کے بعد سائنسدانوں کی ایک کثیر تعداد اس کے دئیے ہوئے قانون کو استعمال کرتی رہی اور یوں انہوں نے زمین ، چاند ، سورج اور نظام شمسی سمیت فلکیات کے بہت سے معمے حل کر لئے۔ آج کے دور میں بھی ہم طبیعات کے اکثر مسائل کو نیوٹن کے قانون کی مدد سے حل کر سکتے ہیں۔ مثلاَ اگر ہم زمین سے ایک خلائی طیارہ مریخ تک بھیجنا چاہیں تو نیوٹن کے اس قانون کے مطابق بھیج سکتے ہیں۔ لیکن اپنی تمام تر اہمیت و حیثیت کے باوجود نیوٹن کے قانون ثقل کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ درپیش تھا کہ یہ کشش ثقل دراصل ہے کیا اور کس طرح کام کرتی ہے؟ تقریباَ تین صدیوں تک سائنسدان اس مسئلے کا حل نہ ڈھونڈ سکے۔ یہی وہ مسئلہ تھا جس کا حل آنے والے وقتوں کے انسان کے فکری زاویوں کو تبدیل کرنے والا تھا اور جس سے ایک جدید شعور کائنات کی داغ بیل ڈلنی تھی۔ اس حل کو پیش کرنے والا ایک سوئس پیٹنٹ آفس کا کلرک آئن سٹائن نامی نوجوان تھا۔
انسان کے کائناتی شعور کے سفر میں آئن سٹائن کا تعارف اس وقت ہوتا ہے جب اس نے انیسیویں صدی کے آغاز ہی میں اپنی اہم دریافت دنیا کے سامنے رکھی اور وہ یہ تھی کہ روشنی ایک محدود رفتار کے ساتھ سفر کرتی ہے! مزید یہ کہ کائنات کی کوئی بھی شے روشنی کی رفتار سے زیادہ رفتار نہیں پا سکتی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ روشنی کو ایک جسم سے دوسرے جسم تک سفر کرنے کے لئے محدود وقت درکار ہوتا ہے۔ گویا روشنی کی کرن سورج سے زمین تک فوری طور پر نہیں پہنچ سکتی۔ لیکن اس دریافت سے نیوٹن کے قانون کا معمہ کیسے حل ہو؟ مزید دس سال کی ریاضت کے بعد آئن سٹائن نے ایک انوکھا جواب تلاش کیا جس نے سائنس میں انقلاب برپا کر دیا۔ اسی انوکھے حل کو اس نے عمومی نظریہ اضافیت کا نام دیا(4)۔

zameen

آئن سٹائن کے اس نظریہ کو سادہ لفظوں میں بیان کیا جائے تو یوں کہا جائے گا کہ زمان اور مکان دو الگ وجود کے حامل نہیں ہیں۔ زمانے کو مکاں ہی کی مانند ایک جہت قرار دیا جائے گا۔ گویا زمان و مکاں ایک ہی واحد اکائی کی جہات ہیں۔ اب اس نظریے کی بنیاد پر کشش ثقل کو پرکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مادہ اس اکائی میں اضافی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں اس بات کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ مادہ اور توانائی آپس میں ایک دوسرے کے بدل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہٰذہ چاہے ہم مادہ کہیں یا توانائی‘ اس سے ہمارے نظریہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ توانائی مادے ہی کی ایک شکل ہے۔ مادے کی موجودگی میں زمان و مکاں کی اس اکائی میں بگاڑ یا خم پیدا ہوتا ہے جبکہ مادے کی غیر موجودگی میں یہ بگاڑ نہیں ہوتا اور اکائی اپنی فطری حیثیت یعنی خالص چپٹی حالت میں برقرار رہتی ہے۔ لہٰذہ خم پیدا ہونے کی صورت میں نزدیکی اجسام اس خمدار سطح کی جانب جھک جاتے ہیں اور ایک خاص فاصلے پر اس کے گرد مداروں میں حرکت کرنے لگتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ اس طرح یہ بھی معلوم ہوا کہ زمان و مکاں کی اس اکائی میں پیدا ہونے والی خمدار لہریں بھی روشنی کی رفتا ر سے زیادہ تیز رفتار نہیں ہیں۔ کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو سورج کی روشنی فوراَ زمین تک پہنچ سکتی تھی۔ بلکہ زمان ومکاں کی اس اکائی میں خم کے پیدا ہونے کا ثبوت ہی یہ ہے کہ روشنی کی رفتار محدود ہوتی ہے۔
اس نظریہ نے انسانی فکر میں ایک نیا انقلاب برپا کیا۔ زمان و مکاں کی جامد اور غیرجانبداراںہ حیثیت کو متحرک قرار دینے والے آئن سٹائن نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی خطا بھی اسی نظریہ کے غیرمعمولی اثرات سے خائف ہو کر انجام دی۔ کیوں کہ اگر زمان ومکاں کی یہ اکائی متحرک قرار دی جائے تو اس سے کائنات کی جامد ساخت کا نظریہ بلکل غلط ثابت ہو جاتا ہے۔ یہ کہ کائنات جیسی ہے ہمیشہ سے ہی ایسی تھی اور ہمیشہ قائم رہے گی۔ اس لئے اس نے اپنے کام میں تبدیلی پیدا کی اور جامد کائنات کے نظریہ کو بقا دینے کی کوشش کی۔ لیکن فطرت کو کچھ اور ہی منظور تھا(5)۔
سن 1929 عیسوی میں ہبل نامی ایک سائنسدان نے اپنے مشاہدات کی بنیاد پر ثابت کر دیا کہ کائنات واقعی نہ صرف متحرک ہے بلکہ مسلسل پھیل رہی ہے۔ اس نے مشاہدہ کیا کہ جو کہکشائیں ہم سے دور ہیں وہ مزید دور ہوتی جا رہی ہیں(6)۔ اس کے ساتھ ہی طبیعات دان یہ بھی جان چکے تھے کہ کائنات میں ہونے والے واقعات روز بروز توازن سے انتشار یا پھر ترتیب سے بے ہنگمی کی شکل اختیار کرتے جاتے ہیں۔ اس طرح سے یہ سوچنا بھی ممکن ہوا کہ ہو سکتا ہے چونکہ کہکشائیں روز بروز دور ہوتی جا رہی ہیں تو پھر زمانہ ماضی بعید میں یہ ایک دوسرے کے بہت ہی قریب رہی ہونگی۔ یعنی انکے درمیان بہت حد تک توازن پایا جاتا ہوگا۔ لیکن اگر یہ بھت قریب یا ایک ہی جگہ پر اکٹھی موجود تھیں تو پھر زمان ومکاں میں پایا جانے والا مادہ ایک ہی جگہ پر مرتکز ہوگا۔ لیکن نظریہ اضافیت کے مطابق اس سے زمان و مکاں کی اکائی میں بہت زیادہ حد تک خم پیدا ہوا ہوگا۔ اور یوں ممکن ہے کہ ایک ایسا بھی وقت ہو گا کہ ساری کائنات کا مادہ وتوانائی ایک ہی نقطہ پر مرتکز ہو۔ اور یوں کسی نامعلوم وجہ سے یہ سارا مادہ پھٹ پڑا ہو بالکل جیسے ایٹم بم کا مادہ شروع میں ایک گٹھلی میں مرتکز ہوتا ہے اور پھر وہ پھٹ پڑتا ہے(7)۔
کائنات بشمول اسکے تمام اجزاء حتٰی کہ زمان و مکاں بھی ایک عظیم دھماکے کی صورت میں ایک خاص نقطہء آغاز سے درجہ بہ درجہ پیدا ہوئےتھے۔ اس نطریہ کو ہی بگ بینگ نظریہ کہا جاتا ہے۔
بہت جلد سائنسدان اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ کائنات بشمول اسکے تمام اجزاء حتٰی کہ زمان و مکاں بھی ایک عظیم دھماکے کی صورت میں ایک خاص نقطہء آغاز سے درجہ بہ درجہ پیدا ہوئےتھے۔ اس نطریہ کو ہی بگ بینگ نظریہ کہا جاتا ہے۔ اپنے آغاز کے وقت یہ کائنات بہت زیادہ گرم تھی اور وقت کے ساتھ اس نے ٹھنڈا ہونا شروع کیا۔ اور اس طرح کروڑوں سال بعد اس میں سازگار ماحول بن گیا کہ کہکشائیں‘ ستارے‘ سیارے اور نظام شمسی وجود میں آئے اور پھر کافی وقت کے بعد یہاں زمین سازگار ہوئی کہ زندگی کی ابتدا ہو سکے۔ آج بگ بینگ کو تقریباَ 15 ارب سال بیت گئے ہیں (8)۔ اگرچہ کچھ لوگوں نے اس کے مقابل بھی کچھ نظریات پیش کئے ہیں مگر سائنسدانوں کی اکثریت بگ بینگ ہی پر متفق نظر آتی ہے۔
اب چونکہ بگ بینگ نظریہ سائنس میں ایک مستند نظریہ بنتا جا رہا ہے لہٰذہ سائنسدانوں کی بہت بڑی تعداد آئے روز اس پر مزید تحقیق کر رہی ہے۔ ان تحقیقات کی بدولت یہ بات بھی سامنے آئی کہ یہ نظریہ بھی ابھی نامکمل ہے اور اس کے کچھ معمہ جات ایسے ہیں جنکے بارے میں ٹھوس بنیادیں فراہم نہیں کی گئی تھیں۔ ان میں سے کچھ مسائل کے حل کے طور پر 1981 میں ایلن گوتھ نامی ایک سائنسدان نے انفلیشنری کاسمولوجی (9) ، (10) کا تصور پیش کیا تھا جس کے مطابق کائنات اپنے آغاز کے دور میں انتہائی انفشاری قوت کے ساتھ پھیلی۔ اس قدر زیادہ اسراع کے ساتھ پھیلاؤ کے نتیجے میں کائنات کے انتہائی چھوٹے حصہ جات کا سائز بڑھتا گیا اور آج انکا سائز کائنات کے سائز کے برابر جا پہنچا ہے۔ اس طرح کائنات کے چھوٹے چھوٹے خمدار حصے بڑے ہو کر چپٹے ہو گئے۔ اسی طرح اس وقت زمان ومکاں کی اکائی میں کوانٹم میکانی تھرتھراہٹ سے جو خمدار لہریں وجود میں آئیں وہ آج ہم تک ثقلی لہروں کی شکل میں پہنچ رہی ہونگی۔ یہ وہ پیشین گوئی ہے جو بانیان انفلیشن نے کی تھیں اور 17 مارچ 2014 کی دریافت اسی پیش گوئی کی طرف کامیابی کا اشارہ ہے۔
اس ساری تفصیل کے بعد ہم دوبارہ اس بات کی طرف آتے ہیں کہ جس طرح نیوٹن کے قانون ثقل نے انسانی فکر پر گہرے اثرات مرتب کئے اور کائنات کی ساخت کے متعلق بہت سے غیر سائسی نظریات کو رد کیا گیا بالکل اسی طرح آئن سٹائن اور اس کے بعد آنے والوں کی طرف سے پیش کیے گیے نظریات بھی بہت حد تک انسانی زاویہ فکر اور شعور کائنات کو متاثر کرتے رہے ہیں۔ بلکہ اگر بیسیوں اور اکیسویں صدی کے ابتدائی ادوار کا عمیق مطالعہ کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ آج کا سائنسدان ان سوالات پر بھی آواز اٹھا رہا ہے جو شاید اب تک مذہب اورفلسفہ کی دسترس میں تھے۔ اسی طرح آج کا مزہبی عالم اور فلسفی بھی جدید طبیعات کو اپنا موضوع سخن بنا کر بات کرتا ہے۔ آج کے دور میں مذہب اور سائنس کے موضوع پر جس قدر بحث ہو رہی ہے ایسی بحث کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ شاید اسکی وجہ یہی ہے کہ موجودہ سائنس اور خصوصاَ علم کونیات انسان اور کائنات کے تعلق پر بنیادی سوال آٹھا رہی ہے۔ ان میں سے کچھ سوال یہ ہیں:
کیا کائنات کا کوئی آغاز بھی ہے؟
اگر کائنات کا آغاز ہوا تو کیونکر ہوا اور کیسے ہوا؟
کیا کائنات خود بخود وجود میں آ گئی؟
کیا کائنات کا کوئی اختتام بھی ہے؟
انسان کا کائنات سے کوئی تعلق ہے کہ نہیں؟
کیا انسان اور کائنات کا کوئی بنانے والا بھی ہے؟
ان سب سوالوں کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے دور میں وہی نظریہ‘ مذہب یا فلسفہ قابل قبول ہو گا جو ان سوالوں کے تسلی بخش جواب فراہم کر سکے گا۔ آج کا انسان اپنے شعور کائنات کو ایک مربوط اور سائنسی بنیاد پر استوار دیکھنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں کی گئی کوئی بھی پیش رفت مستقبل کے انسان پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ 17 مارچ 2014 نیز پلانک سیٹلائٹ کے نتائج اسی خصوصیت کے حامل ہیں۔

References:
(1) arXiv:1403.3985v2
(2) arXiv:1404.0373
(3) For Stephen Hawking’s life and works see “Stephen Hawking: Quest for a Theory of Everything” By Kitty Ferguson
(4) arXiv:physics/0405066v1
(5) http://map.gsfc.nasa.gov/universe/uni_accel.html
(6) http://www.pnas.org/content/15/3/168.full
(7) http://map.gsfc.nasa.gov/universe/bb_theory.html
(8) http://map.gsfc.nasa.gov/universe/uni_age.html
(9) http://www.astro.caltech.edu/~ccs/Ay21/guth_inflation.pdf‎
(10) https://www.astro.rug.nl/…/inflationary.universe.guth.physrevd-1981.pdf‎