Categories
نان فکشن

روشنی سے تیز؟

روشنی کا لفظ سامنے آتے ہی ہمارے ذہن میں اس لفظ کے کچھ تصورات معنی کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ ایک عام شخص روشنی کی ہیئت میں شاید اس قدر دلچسپی محسوس نہ کرتا ہو مگر وہ روشنی کے بارے میں ایک مبہم سا تصور ضرور قائم کرتا ہے۔ اگر ہم قدیم انسانوں کی تاریخ اور ثقافتوں کا مطالعہ کریں تو بہت ہی دلچسپ قسم کی کہانیاں اور واقعات سامنے آتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر قدیم مذاہب کا مطالعہ کیا جائے تو خداؤں کی تقسیم روشنی اور اندھیرے کے خدا سے کی جاتی رہی ہے۔ ہندو مذہب میں سوریا پوجا (سورج کی عبادت) ایک باقاعدہ عملی صورت میں آج بھی موجود ہے۔ اسی طرح زردشتی یا مجوسی مذہب میں آگ کی پوجا میں بھی روشنی کا عنصر شامل ہے۔ اسی طرح جدید مذاہب یعنی عیسائیت، یہودیت اور اسلام وغیرہ میں روشنی ایک خدا کی صفت کے طور پر ظاہر ہوتی ہے جس میں سورج اور چاند کی حیثیت خدا کی مخلوق جیسی ہے۔ اسلام میں خاص طور پر روشنی کو ‘برق’ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے جو انسان کو راستے میں رہنمائی کا کام دیتی ہے۔ قرآن میں ایک مکمل صورت ‘الشمس’ کے نام سے نازل ہوئی۔ معراج کے واقعہ میں رسول خدا ﷺ کی سواری کو ‘براق’ یعنی روشنیوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔

 

روشنی کے بارے میں سائنس کے نظریات کیا ہیں؟ اور روشنی کی رفتار ایک متعین مقدار سے زیادہ یا کم ہوسکتی ہے کہ نہیں؟ اور سب سے زیادہ یہ کہ کیا روشنی کی رفتار تیز ہوجائے تو کون و مکاں میں کیا واقعات رونما ہوسکتے ہیں؟ یہ تمام اور ان جیسے دیگر سوالات کو سائنسی انداز سے سمجھنے کے لئے ہم نے اس مضمون کا انتخاب کیا ہے۔

 

سائنسدان روشنی کو بھی انرجی یا توانائی کی ایک شکل قرار دیتے ہیں جو انسانی آنکھ میں دیکھنے کا احساس پیدا کرتی ہے۔ یہ عمومی سی تعریف سکول کی فزکس کی کتابوں میں مل جائے گی۔ روشنی کس چیز سے مل کر بنی ہے؟ اس سوال کا تاریخی جائزہ لیا جائے تو ہمیں دو مختلف تصورات باہم برسرپیکار نظر آئیں گے۔ ایک نیوٹن کا مفروضہ تھا کہ روشنی بھی باقی مادے کی طرح ذرات پر مشتمل ہوتا ہے۔ لیکن نیوٹن اور اس کے بعد تین سو سال تک اس نظریے کا کوئی ثبوت نہ مل سکا۔ اسکے مقابلے میں ہائی جینز (Huygen) کا نظریہ تھا کہ روشنی ایک انرجی ہے جو لہروں کی شکل میں سفر کرتی ہے۔ اور یہی نظریہ بعد میں تجربات سے ثابت ہوا۔ لیکن انیسویں صدی کے آخر میں میکسول (Maxwell) کے مطابق روشنی ایک برقناطیسی لہر (Electromagnetic wave) کی شکل میں چلتی ہے۔ بعد ازاں مائکلسن اور مورلے کے تجربات کی روشنی میں آئن سٹائن نے حتمی فیصلہ سنایا کہ ان برقناطیسی لہروں کی رفتار ایک خاص حد سے تجاوز نہیں کرسکتی۔
آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت (Relativity) کے مطابق زمان و مکاں میں کوئی فرق نہیں اور ہم ان دونوں تصورات کو ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ دو مختلف چیزوں کی بجائے ایک ہی چیز کے دو نام ہیں جسے ہم زمان و مکاں کی اکائی کہتے ہیں۔ اس نظریہ کی بنیاد جس مفروضے پر قائم ہے وہ یہ کہ ہر وہ ذرہ جس کی کمیت صفر ہوگی وہ ایک متعین مقدار سے زیادہ رفتار حاصل نہیں کرسکتا۔ چونکہ روشنی کا ذرہ فوٹون بھی صفر کمیت کا حامل ہے لہٰذا روشنی بھی ایک خاص حد (380,000 km/s) سے زیادہ رفتار حاصل نہیں کرسکتی۔ چونکہ باقی تمام مادہ غیر صفرکمیت کے حامل ذرات پر مشتمل ہے لہٰذا روشنی کے علاوہ باقی کوئی شے اس رفتار سے تجاوز نہیں کرسکتی۔ اگر کوئی مادی ذرہ اس رفتار سے زیادہ تیز دوڑے گا تو زمان و مکاں کی اکائی ٹوٹ جائے گی۔ کیونکہ ایسا ذرہ پھر زمان اور مکان کو مختلف انداز سے دیکھے گا اور ہم پھر سے 100 سال پہلے کے نظریات میں لوٹ جائیں گے۔ آج تک جتنی بھی نئی تحقیق ابھری ہے اس پر سوالیہ نشان پڑ جائے گا۔

 

23ستمبر 2011ء کو دنیا ئے طبیعات کی سب سے بڑی لیبارٹری سرن(CERN)میں ایک تجربے کے نتائج پیش کئے گئے جس نے پوری دنیا کے سائنسدانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ اس تجربے میں یہ دیکھا گیا کہ نیوٹرینو نامی ایک ذرے نے سویٹزرلینڈ سے اٹلی تک 732کلومیٹرکا سفر مقررہ وقت سے 60 نینو سیکنڈ (یعنی ایک سیکنڈ کا کھربواں حصہ) پہلے مکمل کر لیا۔ یعنی نیوٹرینو نے یہ فاصلہ روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے طے کیا اوریہ روشنی سے 60 فٹ زیادہ آگے جاتے پائے گئے۔ نیوٹرینو ایک انتہائی چھوٹا ذرہ ہے جس کی اولین دریافت 1987ء میں ایک سوپرنووا (Supernova) کے پھٹنے سے پیدا ہونے والی شعاعوں میں ہوئی۔ اس مشاہدے میں دیکھا گیا کہ نیوٹرینو اور روشنی کے ذرات ایک ہی وقت میں 50،000 ملین میل کا سفر طے کرنے کے بعد ایک ہی وقت میں زمین تک پہنچے جس سے یہ سمجھا گیا شاید نیوٹرینو کی رفتار روشنی کے برابر ہے اور ان کی کمیت صفر ہے۔ بعد کی تحقیات سے پتا نیوٹرینو کے تین خاندان ہیں جنکو الیکٹران نیوٹرینو، میوؤن نیوٹرینو اور ٹاؤ نیوٹرینو کا نام دیا جاتا ہے۔ جب نیوٹرینو حرکت کرتے ہیں تو یہ اپنے خاندان کو آپس میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ یہ خصوصیت محض ان ذرات میں پائی جاتی ہے جن کی کمیت صفر نہ ہو۔ 1998ء کے تجربات میں بالواسطہ طور پر یہ دریافت ہوا کہ نیوٹرینو کی کمیت صفر نہیں اور لہٰذا یہ روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزرفتار نہیں ہوسکتے۔

 

اس تجربے کے بعد دنیا بھر میں ایک بحث کا آغاز ہوگیا۔ سب کی زبان پر یہی سوال تھا کہ کیا آئن سٹائن غلط تھا؟ کیا نظریہ اضافیت کی بنیادیں کمزور ہوگئی ہیں اور ہمیں اپنے نظریات کو ازسرنو تعمیر کرنا ہوگا؟

 

لیکن کچھ ماہ کے بعد یعنی 22 فروری 2012ء کواٹلی میں اس تجربے کے ایک شریک اوپرا ٭(OPERA) نامی سرن کے ممبر ادارے نے معذرت کر لی اور کہا کہ ان کے تجربات میں کچھ خامیوں کی بنا پر ایسا نتیجہ برامد ہوا۔ آئن سٹائن غلط ثابت نہ ہوسکا اور نظریہ اضافیت اپنی مضبوط بنیادوں پر قائم رہا۔

 

1930 میں جرمنی کی نازی پارٹی نے آئن سٹائن کے نظریہ کو رد کردیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک کتاب بھی شائع کی جس میں جرمنی کے 100 بڑے دانشوروں نے اس نظریہ کو رد کیا۔ جب آئن سٹائن سے پوچھا گیا کہ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ 100 سائنسدانوں کی بجائے میرا نظریہ تو صرف ایک تجربے سے غلط ثابت ہوجائے گا۔ لیکن تاریخ میں ابھی تک ایسا کوئی تجربہ سامنے نہیں آیا۔

 

لیکن اس اہم ترین سائنسی ہیجان میں ایک نیا سوال ابھرتا ہے کہ کیا آئن سٹائن کے نظریات کبھی بھی غلط ثابت نہیں ہوں گے؟ میرے خیال میں یہاں لفظ ‘غلط’ ایک انتہا پسندی کی علامت ظاہر کرے گا۔ کیونکہ سائنس میں نہ کوئی نظریہ ‘ہمیشہ درست’ رہتا ہے اور نہ ‘بالکل غلط’ ہوسکتا ہے۔ اس کا جواب یوں دیا جا سکتا ہے کہ ہر نظریہ کسی خاص حالت میں کارگر ثابت نہیں ہوسکتا۔ سائنس کو کوئی مذہبی نظریہ یا کوئی جامع فلسفہ نہیں کہا جاسکتا جو ہمارے ہر سوال کا جواب دے اور ہمیشہ ہرحال میں درست رہے۔ بلکہ یہ ایک مخصوص طرز کا علم ہے جس میں کوتاہیاں، غیریقنییت اور خوب سے خوب تر ہونے کی خصوصیات باقی رہتی ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ ہمارے نظریات میں تبدیلی آتی رہے گی اور ہم حقائق کو نت نئے انداز سے سمھجتے رہیں گے۔ آئن سٹائن کا نظریہ عمومی اضافیت (General Relativity) اور کوانٹم فزکس آپس میں میل کھاتے نظر نہیں آرہے اور شاید آئن سٹائن کے نظریات کی مستقبل میں ایک حدبندی ہوجائے۔ لیکن اس سے سائنسدان مایوس ہونے کی بجائے مزید تحقیق کی نئی راہیں تلاش کرسکتے ہیں!

 

ذیل میں ان تجربات کے حوالہ جات دئے گئے ہیں جو اس ضمن میں کئے گئے۔

arXiv:1102.1882v1 [hep-ex] 9 Feb 2011
arXiv:1109.4897v4 [hep-ex] 12 Jul 2012
arXiv:1109.6562v1 [hep-ph] 29 Sep 2011
arXiv:1110.3763v3 [hep-ex] 8 Mar 2012

Categories
نان فکشن

منفی کمیت کی دریافت؟

10 اپریل 2017 کو سائنس کے ایک اعلی ترین جریدے فزیکل ریویو لیٹرز میں ایک پرچہ شائع ہوا جس کے محققین نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے روبیڈیم نامی ایک عنصر میں منفی کمیت کے رجحا نات کا مشاہدہ کیا ہے۔ یہ تجربہ انہوں نے امریکی ریاست واشنگٹن کی ایک مشہور یونیورسٹی میں سرانجام دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ منفی کمیت کا رجحان طبیعات کے قوانین میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس تجربے میں پنہاں مختلف طبعی عوامل کا مختصر جائزہ پیش کرتے ہیں۔

 

اس تجربے کو سمجھنے کے لئے ہمیں کچھ بنیادی اصطلاحات سے واقفیت ضروری ہے۔

 

نیوٹن کا دوسرا قانون حرکت یہ بتاتا ہے کہ جب کسی ذرے یا جسم پر قوت لگائی جائے تو اس کی رفتار کی مقدار یا حرکت کی سمت میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے جسے اسراع یا اکسلریشن کہتے ہیں۔ کسی جسم کی کمیت کی مقدار یہ فیصلہ کرتی ہے کہ ایک قوت اس جسم میں کتنا اسراع پیدا کرے گی۔ اسی طرح اسراع کی سمت بھی قوت کی سمت کے ہمراہ ہوتی ہے۔ یعنی اگر کسی جسم پر دائیں جانب قوت لگائی جائے تو اس میں اسراع بھی دائیں جانب پیدا ہوگا۔

 

کوانٹم میکانیات سے مراد طبیعات کی وہ شاخ ہے جو انتہائی چھوٹی مائکروسکوپک اشیاء کی حرکت سے متعلق قوانین پیش کرتی ہے۔ اس تھیوری کے مطابق ان اشیاء میں ایک خاص کیفیت پائی جاتی ہے جسے لہروذرہ کی دوئی کہا جاتا ہے۔ مادہ اپنی بنیاد میں جن بنیادی ذرات سے مل کر بنتا ہے ان میں لہر اور ذرے کی باہمی خوبیاں موجود ہوتی ہیں۔ کبھی تو یہ ذرات ایک ٹھوس شے کی مانند معلوم ہوتے ہیں اور کبھی یہ ایک لہر کی مانند دکھائی دیتے ہیں۔

 

بوزآئن سٹائن آمیزہ کی دریافت 1924 میں ایک انڈین سائنسدان ستیندرناتھ بوز اور مشہور سائنسدان آئن سٹائن نے کی۔ اس سے مراد مادے کی وہ حالت ہے جس میں اسے انتہائی ٹھنڈا کردیا جاتا ہے۔ اس قدر تھنڈی حالت میں مادے کے ایٹموں کی حرکت بہت سست ہو جاتی ہے اور وہ لہروں کی مانند ہوجاتے ہیں لہذا ان پر کوانٹم میکانیات کے اصول لاگو ہوتے ہیں۔ بوز کے اس کام کی اہمیت کے پیش نظر ذرات کی ایک خاص قسم کو بوزون کا نام دیا گیا ہے۔ بوزون ایسے ہم ساخت ذرات کو کہا جاتا ہے جن کی سپن صحیح اعداد کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ بوزون خاندان کا ایک مشہور ذرہ فوٹون ہے جو روشنی کا ذرہ بھی کہلاتا ہے۔ اس حالت پر مزید تحقیقات سے مادے کی نئی حالتیں دریافت ہوتی رہی ہیں جن میں سوپرفلوئڈ اور سپرسولڈ قابل ذکر ہیں۔ 1995ء میں پہلی دفعہ روبیڈیم کی گیسی حالت میں اسکے ایٹموں کو 170 نینوکیلون تک ٹھنڈا کرنے سے اسکا بوز آئن سٹائن آمیزہ تیار کیا گیا تھا۔ اور 2017 کی دریافت اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

 

واشنگٹن سٹیٹ یونیورسٹی میں ہونے والے حالیہ تجربے میں دوبارہ اسی روبیڈیم کو گیسی حالت میں منفی 273 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب درجہ حرارت پر ٹھنڈا کیا گیا جس سے وہ ایک بوز آئن سٹائن آمیزے میں تبدیل ہو گئی۔ اس کے لئے سائنسدانوں نے لیزر کا استعمال کیا۔ آمیزہ کی تیاری کے بعد لیزر کی ہی مدد سے گرم ذرات کو باہر نکال لیا گیا جس سے یہ مزید ٹھنڈا ہوتا چلا گیا۔ اس طرح ان ایٹموں کو ایک پیالہ نما شکل میں قید کر لیا گیا جس کا سائز ایک میٹر کے ایک لاکھویں حصے سے بھی کم تھا۔ اگر اس پیالہ نما شکل کو توڑا جائے تو روبیڈیم ایک جھٹکے سے باہر کی جانب پھیلے گی۔ لیکن ابھی اس حالت میں اس کی کمیت ایک مثبت کمیت ہی رہتی ہے یعنی قوت کی جانب اسراع پیدا ہوتا ہے۔ اب اگر ایک دوسری قسم کی لیزر کی مدد سے ان ایٹموں کو آگے پیچھے دھکیلا جائے تو ان کی سپن میں خاص تبدیلی پیدا ہوتی ہے جس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایٹموں میں منفی کمیت کا رجحان پیدا ہورہا ہے یعنی قوت کی سمت کے مخالف اسراع پیدا ہوتا ہے۔ اگر اس حالت میں کسی شے کو آگے کی طرف دھکیلا جائے تو یہ پیچھے کی جانب دوڑے گی جیسے کسی گیند کو دیوار کی طرف پھینکا جائے تو وہ ٹکرانے کے بعد پیچھے کو دوڑتی ہے۔

 

اس دریافت کی اشاعت کے بعد دنیا بھر کے میڈیا میں یہ خبر چلنے لگی کہ سائنسدانوں نے منفی کمیت دریافت کر لی اور اس سے بہت سی نئی امیدیں وابستہ کر لی گئی ہیں۔ یہ کہا جانے لگا ہے کہ اس نئی دریافت سے کائنات کے بہت سے راز افشاء ہوسکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اگر طبیعات کے اصولوں اور اس شائع شدہ پرچہ کو بغور دیکھا جائے تو حقیقت کچھ اور معلوم ہوتی ہے۔ جس چیز کو دریافت کیا گیا ہے وہ طبیعات میں کوئی نئی شے نہیں اور نہ ہی ان سائنسدانوں نے “منفی کمیت” کو دریافت کیا ہے۔ بلکہ انہیں ایک تجربے میں ایسی “مؤثرمنفی کمیت” ملی ہے جو اس سے پہلے کسی بوزآئن سٹائن آمیزہ میں نہیں ملی۔ کسی شے کی اصل مقدارہونا اور اس کی مؤثر مقدار ہونے میں بہت فرق ہے۔ اس کی دیگر مثالیں کسی کہکشاں کا “مؤثررداس” اور کسی نیوکلیس کا “مؤثرچارج” وغیرہ ہیں لیکن یہ اصل مقداروں کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ کسی تھیوری میں ضرورت کے تحت سامنے آتا ہے۔

 

منفی کمیت کی مؤثر مقدار کا حصول ایک خاص مساوات سے ہوتا ہے جسے “ڈسپرشن” کی مساوات کہا جاتا ہے۔ اس مساوات کی ایک جانب توانائی اور دوسری جانب مومینٹم ہوتا ہے۔ اگر اس مساوات پر دو دفعہ کیلکولس کے عوامل دہرائے جائیں تو ہمیں معکوس کمیت ملتی ہے۔ اس طرح ہم موجودہ پرچہ کو سمجھ سکتے ہیں کہ اس میں ایک آمیزہ کے ایٹم باہر کی جانب پھیلاؤ کی بجائے رک جاتے ہیں۔ اس کی وجہ ایک قوت جو روبیڈیم کے سالمے میں کوانٹم پریشر کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے بیرونی قوت کی مخالفت کرتی ہے اور اس طرح باہر کی جانب پھیلاؤ رک جاتا ہے۔ لیکن اس تحقیق کا تعلق بلیک ہول اور ڈارک انرجی جیسے تصورات سے جوڑنا ایک عجیب فعل ہے جسے میڈیا کی سنسنی خیال کیا جا سکتا ہے!
Categories
نان فکشن

ماضی کے مسافر

ہمارے وہ قارئین جو بگ بینگ تھیوری سے واقفیت رکھتے ہیں، انہیں یہ مضمون کافی آسان اور معنی خیز معلوم ہوگا۔ لیکن اپنے نئے قارئین کو ہم پہلے بگ بینگ تھیوری سے مختصر سی واقف کروانا ضروری سمجھتے ہیں۔ 1915ء میں البرٹ آئن سٹائن نے کشش ثقل سے متعلق “عمومی نظریہ اضافیت” پیش کیا۔ اس نظریہ کے مطابق کائنات ایک مسقتل شئے نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ کائنات میں ہونے والے عوامل ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اثرپذیر عمل کون و مکاں کی باہمی یکجائیت کا ہے۔ لہٰذا کائنات کی وہ تفسیر جو سر آئزک نیوٹن کے مستقل ریاضیاتی تصور زمان پر مبنی ہے، ایک نئی جہت اختیار کرتی نظر آتی ہے۔ آئن سٹائن کے اس نظریہ کے فوراً بعد ہی اس نظریہ کے مضمرات پر بحث کا باب کھل گیا۔ فرائیڈمین نامی ایک ریاضی داں نے جلد ہی آئن سٹائن کی مساوات کو حل کیا اور اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوا کہ یہ کائنات ایک خاص وقت سے پہلے معدوم تھی اور پھر عدم سے وجود پذیر ہوئی ہے۔ جس لمحے یہ کائنات وجود پذیر ہوئی ہے اسے سائنسدان بگ بینگ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟ یہ سوال اپنی جگہ ایک اہمیت کا حامل ہے۔ مگر سائنسدانوں کی اکثریت اس بارے میں یہ دلیل پیش کرتی ہے کہ بگ بینگ ازخود وقت یا زمانے کا نقطہ آغاز ہے۔ لہٰذا یہ سوال لایعنی ہے کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟

 

دنیا کی مختلف تہذیبوں، مکاتب فکر اور مذاہب عالم میں ایک بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ کائنات سے متعلق کوئی بھی نظریہ اور واقعات عالم کی کوئی بھی تشریح ایک عمومی تصور زمان سے خالی نہیں رہ سکتی۔
اس مرحلے پر کچھ باتوں کو ذہن نشین کر لینا ازحد ضروری ہے۔ وقت کی ساخت اور اس کے وجود سے متعلق کچھ نظریات ہمیشہ سے دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والی مختلف اقوام اور مذاہب میں موجود رہے ہیں۔کیا وقت ایک معروضی حقیقت ہے یا صرف ایک ذہنی کیفیت کا نام وقت ہے؟ اگر وقت ایک ذہنی کیفیت ہے تو کیا مختلف اشیاء اور انسانوں کے لئے وقت مختلف حیثیت رکھتا ہے؟ وقت کی یہ تفہییم انسانوں کے لئے دو طرح سے مددگار ثابت ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ وہ اپنے روزمرہ کے کاموں کی ترتیب اور سماجی تہواروں اور ثقافتی سرگرمیوں کو بروقت سرانجام دینے کے لئے وقت کے مختلف پیمانے بناتا ہے۔ مثال کے طور پر پنجاب کے دیہاتوں میں آج بھی بڑے بزرگ وقت کی تقسیم لمحوں، گھڑیوں، پہروں، مہینوں اور سالوں میں کرتے ہیں۔ موسموں کے لحاظ سے تہوار منعقد ہوتے ہیں جن میں بیساکھی کا تہوار دنیا بھر میں مقبول ہے۔ دوسرا پہلو جو وقت کی تفہیم سے متعلق ہے وہ وقت کا ایک عمومی یا کونیاتی تصور ہے جو دنیا کی مختلف تہذیبوں، مکاتب فکر اور مذاہب عالم میں ایک بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ کائنات سے متعلق کوئی بھی نظریہ اور واقعات عالم کی کوئی بھی تشریح ایک عمومی تصور زمان سے خالی نہیں رہ سکتی۔

 

انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یونانی فلاسفہ میں ہمیں ہر طرح کے نظریات ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ فلاسفہ جیسے زینو اور پارمینڈیس حرکت کو فریب قرار دیتے تھے۔ اس کے برعکس دوسرے فلسفی جیسے ہیراقلیطس نے سکوت کو وہم اور حرکت کو اصل قرار دیا۔ اسی طرح مسلم مفکروں بالخصوص طوسی، ابن حزم اور عراقی و دیگر فلسفی تحریکیں یعنی اشاعرہ اور معتزلہ میں بھی زماں اور حرکت کے کچھ نظریات پائے جاتے تھے۔ اشاعرہ کے نزدیک وقت بھی مکاں کی طرح ناقابل تقسیم ایٹموں سے مل کر بنا ہے۔ جبکہ ابن حزم کے نزدیک زمان و مکاں مسلسل ہیں نہ کہ ایٹموں سے مرکب ہیں۔ مسلم فکر کے زوال کے بعد یورپ میں نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا تو تصور زمان و مکاں نے بھی نئی توجیہ حاصل کر لی۔ جب نیوٹن نے حرکت کے قوانین وضع کئے تو ان کے پس پردہ بھی وقت کا ایک تصور موجود تھا۔ نیوٹن کے مطابق وقت ایک مطلق اور خارجی شے ہے۔ وہ اپنی کتاب “پرنسپیا” میں رقمطراز ہے: ـ

 

“مطلق، حقیقی اور ریاضیاتی وقت کسی خارجی شے کے لحاظ سے نہیں بلکہ فی نفسہ اور بذاتِ خود یکساں طور پر بہتا ہے۔ اضافی، ظاہری اور معمولی وقت حقیقی اور مطلق وقت کا ایک خارجی ناپ ہے جسے ہم روز مرہ کے کاروبار میں استعمال کرتے ہیں۔”

 

سائنس کا تصور زمان اگرچہ ازخود سائنس کی ایجاد نہیں ہے بلکہ اس میں مختلف ادوار اور اقوام کے تصورات کی ایک جھلک دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اس تصور کی بنیاد جیومیٹری اور ریاضیاتی مفروضوں پر مبنی ہے۔
دنیا میں موجود تمام مکاتب فکر کی طرح سائنس نے بھی وقت کا ایک تصور قائم کر رکھا ہے۔ سائنس کا تصور زمان اگرچہ ازخود سائنس کی ایجاد نہیں ہے بلکہ اس میں مختلف ادوار اور اقوام کے تصورات کی ایک جھلک دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اس تصور کی بنیاد جیومیٹری اور ریاضیاتی مفروضوں پر مبنی ہے۔ آئزک نیوٹن نے میکانیات سے متعلق اپنے مشہور قوانین کو جب ریاضیاتی بنیاد فراہم کی تو اس میں وقت کو جگہ یا مکاں سے الگ حیثیت عطا کی۔ اس کے مطابق وقت ایک مسلسل خط مستقیم کی طرح یک طرفہ مطلق حرکت کا نام ہے۔ اسی طرح مکاں اپنا ایک الگ وجود رکھتا ہے۔ مکاں اور زماں کا ایک دوسرے پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شے مکاں میں حرکت کرے تو اس سے مطلق زماں کی رفتار پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ اس نظریے میں اہم بات یہ تھی کہ زماں میں حرکت صرف ایک سمت میں ہوگی۔ وقت کی ماضی سے مستقبل کی جانب ایک غیر متغیر رفتار سے حرکت کا نظریہ کلاسیکل تصور زماں کہلاتا ہے۔

 

کلاسیکل تصور زماں کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے انٹروپی کے تصور سے واقفیت ضروری ہے۔انٹروپی دراصل اشیاء کی حرکت میں ایک فطری رجحان کا نام ہے۔ اشیاء کی حرکت اس طرح سے ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ نظم و ضبط کی کیفیت سے بدنظمی کی کیفیت میں ڈھل رہی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر سیاہی کا ایک قطرہ جب پانی کے گلاس میں ڈالا جاتا ہے تو وہ لازمی طور پر ایک قطرے کی منظم شکل سے پانی میں موجود مختلف مالیکیولز کی بے ہنگم اشکال میں ڈھل جاتا ہے۔اور یوں کچھ دیر بعد سارا پانی سیاہی مائل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح گلاس کا ٹوٹنا اور خوشبو کا پھیلنا بھی اسی حرکت کی مثالیں ہیں۔ اسی فطری رجحان کو انٹروپی کا نام دیا جاتا ہے۔ لہٰذا ہم اسے ایک قانون کی حیثیت دے دیتے ہیں کہ فطرت میں اشیاء کی انٹروپی بڑھے گی۔ یہاں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سیاہی کا قطرہ اس وقت تک بدنظمی کی کیفیت سے نہیں گرزتا جب تک پانی کے مالیکیولز اسے بدنظمی کی کیفیات کے ایک وسیع میدان سے متعارف نہیں کرواتے۔ اب اگر یہی اصول پوری کائنات پر منطبق کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کائنات کی انٹروپی بھی بڑھ رہی ہے کیونکہ کائنات پھیل ر ہی ہے اور اس پھیلاو کے نتیجے میں کائنات کی تمام اشیاء کو بدنظمی کی مزید کیفیات میسر ہو رہی ہیں۔ لہٰذا یہ سوال کہ ہم ہمیشہ ماضی سے مستقبل کی جانب کیسے حرکت کرتے ہیں، اب ایک معمہ نہیں رہا۔

 

روشنی کی یہی محدود رفتار ہے جو طبعی کائنات میں قانون علیت کو برقرار رکھتی ہے۔ وگرنہ اگر روشنی بھی لامحدود رفتار رکھتی تو معلول اپنی علت سے قبل وجود پذیر ہو جاتا۔
اب تک ہم کلاسیکل تصور زماں کی سائنسی توجیہ پیش کر رہے تھے۔ جس میں وقت کی سمت ہمیشہ ماضی سے حال میں ہوتے ہوئے مستقبل کی جانب ہوتی ہے۔ اس تصور کے مطابق مستقبل ایک جامد اور ہمیشہ سے موجود شے ہے۔ یعنی اگر ہمیں ماضی اور حال کی حرکت کے تمام قوانین معلوم ہوجائیں تو ہم مستقبل کی بالکل صحیح پیش گوئی کر سکتے ہیں۔ مستقبل ویسے ہی موجود اور ثابت ہے جیسے کہ ماضی۔ لہٰذا مستقبل لکھا جا چکا ہے اور یوں ساری کائنات ایک جبرمسلسل کے تحت مستقبل کی جانب رواں دواں ہے۔ ہمارا اگلا سوال قدرے عجیب ہے اور وہ یہ کہ کیا ہم وقت کی رفتار تیز کر کے جلد مستقبل میں جا سکتے ہیں؟ کیا انسان کسی طرح ماضی میں لوٹ سکتا ہے؟ کلاسیکل تصور زماں میں یہ سوال شاید مضحکہ خیز معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن جدید سائنس میں انکا جواب ہاں میں ہے۔

 

1915ء میں جرمنی کے مشہور سائنسدان آئن سٹائن نے ایک نظریہ عمومی اضافیت کے نام سے پیش کیا۔ اس نظریے کے مطابق نیوٹن کا تصور یعنی مطلق زمان و مکاں صرف اس صورت میں قابل قبول ہے جب مختلف مشاہدہ کرنے والے ایک ہی نظام میں موجود ہوں یا دو مختلف نظام ایک دوسرے کے لحاظ سے ایک خفیف اور مستقل رفتار سے چل رہے ہوں۔ ایسے نظام میں تمام مشاہدہ کرنے والے وقت کو ایک ہی شرح سے ماپ سکتے ہیں۔ لیکن نیوٹن کا یہ تصور اس وقت ناقابل قبول ہو جاتا ہے جب رفتار کی شرح بہت زیادہ ہو۔ کائنات میں روشنی کی رفتار سب سے زیادہ ہے۔ نیوٹن اور کلاسیکی طبیعات نے تو روشنی کو لامحدود رفتار عطا کر رکھی تھی لیکن آئن سٹائن کے مطابق روشنی بھی ایک محدود رفتار سے چلتی ہے۔ اس وقت تک کے تجربات کے مطابق یہ رفتار تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ زمین پر پائے جانے والی اشیاء یعنی ہوائی جہاز وغیرہ جو 500 میل فی سیکنڈ تک جا سکتے ہیں، روشنی کے مقابلے میں ان کی رفتار انتہائی کم ہے۔ لیکن تیز ترین ہونے کے باوجود روشنی ایک محدود رفتار کی حامل ہے۔ اور روشنی کی یہی محدود رفتار ہے جو طبعی کائنات میں قانون علیت کو برقرار رکھتی ہے۔ وگرنہ اگر روشنی بھی لامحدود رفتار رکھتی تو معلول اپنی علت سے قبل وجود پذیر ہو جاتا۔ بہرحال آئن سٹائن نے نیوٹن کے مطلق زمان و مکاں کے تصور کو رد کر دیا۔ اور اب زمان و مکاں کی حیثیت اضافی ہوگئی۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہوگا کہ مختلف مشاہدہ کرنے والوں کا وقت ایک ذاتی حیثیت اختیار کر جائے گا۔ ہر مشاہد کے لئے وقت ایک الگ شرح سے بدلے گا۔ کسی بھی دو واقعات کا درمیانی وقفہ مختلف افراد کے لئے ان کی رفتار کے لحاظ سے مختلف ہوگا۔اسی طرح مکاں بھی محض نقطوں پر مشتمل شے نہیں بلکہ واقعات کی ایک ترتیب کا نام ہے جو مقام کے ساتھ ساتھ ایک خاص وقت میں موجود ہوتے ہیں۔ زمان و مکاں ایک ہی شے کے مختلف اجزاء قرار دئے جائیں گے۔ زمانے کی اس نئی تشریح نے کلاسیکی طبیعات کے تصورات میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ نظریہ اضافیت کی بنیاد پر ایسے ایسے نتائج سامنے آئے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ انہی نتائج میں آغاز کائنات یعنی بگ بینگ کا نظریہ، سیاہ شگاف یا بلیک ہول کی دریافت، GPS کی ایجاد بھی شامل ہیں۔

 

زمان و مکاں ایک قسم کی لچکدار چادر کی طرح ہیں جس میں اگر کوئی بھاری جسم ڈال دیا جائے تو اس میں ایک جھول پیدا ہوتا ہے۔
طے زمانی یعنی Time Travel کی اصطلاح نے بھی سائنس میں پہلی دفعہ آئن سٹائن کے نظریات کی وجہ سے مستند حیثیت اختیار کی ہے۔اس سے پہلے سائنس فکشن میں ایسی اصطلاح استعمال کی جاتی تھی۔ یاد رہے مشرقی روایات بالخصوص متصوفانہ نظریات میں بھی ایسے تصورات پائے جاتے تھے کہ جن کے مطابق کوئی ذی روح کسی بھی زمانے یا مقام پر منتقل ہوسکتا تھا۔ لیکن اب یہ باتیں محض افسانہ نہیں بلکہ ایک حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں۔ نظریہ اضافیت کے مطابق زمان و مکاں ایک اکائی ہیں۔ جس طرح ہم ایک مقام الف سے دوسرے مقام ب تک آگے جاسکتے ہیں اور پھر واپس ب سے الف تک لوٹ سکتے ہیں اسی طرح وقت میں بھی ایسی حرکت ممکن ہے۔ کیونکہ وقت بھی مقام ہی کی طرح ایک لمحے سے دوسرے لمحے تک کا دورانیہ ہے اور اسے بھی واپس لایا جاسکتا ہے۔ زمان و مکاں ایک قسم کی لچکدار چادر کی طرح ہیں جس میں اگر کوئی بھاری جسم ڈال دیا جائے تو اس میں ایک جھول پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اس چادر کو گول کر کے اس کے مختلف کناروں کو آپس میں جوڑ سکتے ہیں۔ زمان و مکاں کی یہ چادر بھی لپیٹی جا سکتی ہے اور یوں ہم زمانے میں واپس اسی لمحے اور مقام پر لوٹ جائیں گے جہاں سے ہم چلنا شروع ہوئے تھے۔ لیکن اس طرح بہت سے تناقضات اور مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر زید ماضی میں چلا جائے اور اپنے دادا کو اس کی ہونے والی بیوی سے ملنے ہی نہ دے تو اس کے دادا اور دادی کی شادی ممکن نہیں رہے گی۔ اور اگر انہوں نے شادی نہیں کی تو پھر زید کیسے پیدا ہو گیا؟ اور اگر زید پیدا نہیں ہوا تو ماضی میں کیسے چلا گیا؟ یقینی طور پر آپ اس مثال سے الجھ گئے ہوں گے۔ ایسی اور بھی الجھنیں ہیں جو آئن سٹائن کے نظریات کا خاصہ ہیں۔ ان الجھنوں کو حل کرتے کرتے سائنسدانوں نے بہت سے دیگر نظریات کو جنم دیا ہے جن میں سے کثرت کائنات کا نظریہ قابل ذکر ہے جسے ہم لالٹین میگزین میں گزشتہ تحریر میں بتا چکے ہیں۔ یعنی زید ماضی میں جاتے ہوئے ایک الگ اور نئی کائنات میں جا نکلے گا۔ اسی طرح ایک اور نطریہ جو اس وقت بہت مقبول ہے یہ کہ ہم ماضی میں سفر کر تو سکتے ہیں لیکن ماضی کے واقعات پر ہمارا کوئی اثر نہیں ہو پائے گا۔ اسی طرح مسقبل میں سفر بھی ممکن ہے۔

 

اس کا ایک طریقہ یہ کہ اپنی رفتار کو تیز کر دیں۔ زمانے کے بہاو کی شرح کا انحصار کسی بھی شے کی رفتار پر ہے۔ رفتار کی تیزی سے وقت آہستہ بہتا ہے۔ اور یوں ایک مسافر جو کسی خلائی سفر پر انتائی تیزرفتاری سے گامزن ہے وہ زمین پر موجود افراد کی نسبت زمانے میں آہستہ حرکت کرے گا۔ جب وہ زمین پر واپس آئے گا تو یہاں کئی صدیاں بیت چکی ہوں گی۔ گویا وہ مستقبل میں جا پہنچا ہے۔اسی طرح گریوٹی بھی وقت کے بہاو کو بدل سکتی ہے۔ 2014ء میں بننے والی ہالی ووڈ کی مشہور فلم Interstellar میں ایسے ہی کچھ مناظر دکھائے گئے تھے جب بلیک ہول کے قریب جانے والے خلائی طیارے کے لئے وقت انتہائی سست ہو گیا اور زمین پر موجود لوگ بوڑھے ہوگئے لیکن خلانودر ابھی جوان ہی رہے۔ اس کے علاوہ ایک ٹائم مشین جو وقت میں سفر کے کام آسکتی ہے ورم ہول Worm Hole کے نام سے جانی جاتی ہے۔ یہ ایک قسم کا شگاف ہے جو کائنات کے ایک حصے کو کسی دوسرے حصے سے جوڑتا ہے۔ لیکن ایسے ورم ہول کو آسمانوں میں ڈھونڈنا اور اس قدر رفتار حاصل کرنا ابھی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ آج کل سائنسدان دنیا کی سب سے بڑی لیبارٹری CERN جو کہ جنیوا میں بنائی گئی ہے، میں کچھ تجربات کر رہے ہیں جس میں شاید ایسے ورم ہول یا بلیک ہول تیار کر لئے جائیں جن میں ایٹمی ذروں کو ماضی میں بھیجا جا سکے۔ اس نوعیت کے کچھ تجربات اس وقت تک کئے جا چکے ہیں۔ لیکن کیا انسان کبھی ایسی مشین تیار کر سکے گا جو اسے ماضی یا مستقبل میں فوری طور پر پہنچا سکے؟ اور اگر ایسا کبھی ممکن ہو گیا تو ہمارا تخیل اس بارے میں کیا تصویر بنائے گا؟ اس بات کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا یا پھر شاید ہمیں اس کے لئے واپس ماضی کی طرف لوٹ کر جانا پڑے!
Categories
نان فکشن

کائنات ،بگ بینگ اور شعور

بیسویں صدی عیسوی کا آغاز انسانی فکر اورکائنات کے بارے شعور میں بہت سی تبدیلیوں کا مژدہ لے کر آیا تھا۔ اور پھر پوری صدی انسان اس فکر کی تشریح میں مگن رہا۔ تشریحات کا یہ سلسلہ چلتے چلتے اکیسویں صدی تک جا پہنچا اور اس دوران انسان نے جو نظریہ کائنات تشکیل دیا اس کو سائنسی فکروعمل میں ڈھالنے کی کوششیں اپنے عروج پر تھیں۔ حتٰی کہ اکیسویں صدی کے آغاز ہی میں انسان اپنے نظریات کو سائنسی حقائق کے طور پر دیکھنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ اسی رواں سال مارچ کی 17 تاریخ اس عمل میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے جب امریکہ کے ھارورڈ سمِتھسونین مرکز برائے فلکیاتی طبیعات نے جنوبی قطب پر لگائی گئی دوربین کے مشاہدات کی بنیاد پر ثقلی لہروں کی دریافت کا اعلان کیا ہے جو انسان کے کائناتی شعور میں خاص اہمیت کی حامل دریافت ہے(1)۔ اس دریافت نے جدید شعورکائنات کو ایک سائنسی حیثیت میں ڈھالنے میں اہم کردار کیا ہے۔
اگرچہ اس مرکز کے نتائج حتمی نہیں ہیں کیونکہ ابھی اس سلسلے میں مزید شواہد درکار ہیں جن کی کھوج کے لئے پلانک نامی ایک مصنوعی سیارہ سرگرم عمل ہے(2)۔ لیکن تقریباً تمام ماہرین فلکیات و کونیات اس ضمن میں پر امید ہیں۔
مشہور جرمن فلسفی کانٹ کا مقولہ ہے “انسان کو حیرت میں ڈالنے کے لئے دو ہی چیزیں کافی ہیں۔ تاروں بھرا آسمان اور انسان کا اپنا وجود”۔
آئیے اس نئی تحقیق کو مزید سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس تحقیق کا تعلق بنیادی طور پر آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس نظریے پر کام کرتے ہوئے سائنسدان ہماری کائنات کی بنیادی ساخت کو سمجھنے کی کوشش کرتے آئے ہیں۔ بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں کام کرنے والے سائنسدانوں جن میں سٹیفن ہاکنگ (3) کا نام سرفہرست ہے۔ انہوں نے سیاہ شگافوں اور بگ بینگ کے متعلق اپنے نظریات کی بنیاد بھی اسی نظریہ عمومی اضافیت پر رکھی تھی۔ لہٰذہ اس عمومی نظریہ اضافیت پر روشنی ڈالنا ضروری ہے۔
نیوٹن کے سر پر سیب گرنے والا واقعہ تقریباَ ہر پڑھے لکھے شخص کو معلوم ہوگا کہ جب اس نے درخت سے سیب گرتے دیکھا تو اس کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ آیا چاند بھی زمین پر گر سکتا ہے یا نہیں؟ اس سوال پر غوروفکر کے نتیجے میں اس نے کشش ثقل کا مشہور قانون دریافت کیا اور اسکو ریاضیاتی شکل میں بیان کر دیا۔ اس قانون کے مطابق کائنات میں پائے جانے والے تمام اجسام ایک دوسرے کو ایک خاص قوت کے ساتھ کھینچتے ہیں۔ یہ قوت اجسام کے اوزان کے لحاظ سے بڑھتی ہے اور اسی طرح ان کے دور جانے پر کم ہو جاتی ہے۔ اس قوت کو اس نے کشش ثقل کا نام دیا۔
نیوٹن کی اس فکری پرواز کا اثر نہ صرف سائنسی قانون کی صورت میں ظاہر ہوا بلکہ اس نے انسانی فکر اور اسکے شعور کائنات پر بھی گہرے اثرات مرتب کئے۔ مشہور جرمن فلسفی کانٹ کا مقولہ ہے “انسان کو حیرت میں ڈالنے کے لئے دو ہی چیزیں کافی ہیں۔ تاروں بھرا آسمان اور انسان کا اپنا وجود”۔ گویا اپنی حیرت کومعنی دینے کے لئے انسان ان دو چیزوں کے بارے میں ہمیشہ سے کوئی نہ کوئی نظریہ یا افسانہ تخلیق کرتا آیا ہے۔ مثال کے طور پرنیوٹن کے زمانہ میں یہ توہم پایا جاتا تھا کہ شہاب ثاقب کے گرنے کی وجہ نحوست یا کوئی بدشگونی کی پیشین گوئی ہے۔ لیکن نیوٹن کے دئیے ہوئے قانون ثقل کی وجہ سے اس توہم کا اثر ٹوٹتا رہا اور انسان نے یہ جانا کہ شہاب ثاقب ایک خاص قانون کا پابند ہے۔ اور اس کے گرنے کا تعلق کسی بدشگونی یا نحوست کے ساتھ نہیں ہے۔
اپنی تمام تر اہمیت و حیثیت کے باوجود نیوٹن کے قانون ثقل کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ درپیش تھا کہ یہ کشش ثقل دراصل ہے کیا اور کس طرح کام کرتی ہے؟
نیوٹن کے بعد سائنسدانوں کی ایک کثیر تعداد اس کے دئیے ہوئے قانون کو استعمال کرتی رہی اور یوں انہوں نے زمین ، چاند ، سورج اور نظام شمسی سمیت فلکیات کے بہت سے معمے حل کر لئے۔ آج کے دور میں بھی ہم طبیعات کے اکثر مسائل کو نیوٹن کے قانون کی مدد سے حل کر سکتے ہیں۔ مثلاَ اگر ہم زمین سے ایک خلائی طیارہ مریخ تک بھیجنا چاہیں تو نیوٹن کے اس قانون کے مطابق بھیج سکتے ہیں۔ لیکن اپنی تمام تر اہمیت و حیثیت کے باوجود نیوٹن کے قانون ثقل کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ درپیش تھا کہ یہ کشش ثقل دراصل ہے کیا اور کس طرح کام کرتی ہے؟ تقریباَ تین صدیوں تک سائنسدان اس مسئلے کا حل نہ ڈھونڈ سکے۔ یہی وہ مسئلہ تھا جس کا حل آنے والے وقتوں کے انسان کے فکری زاویوں کو تبدیل کرنے والا تھا اور جس سے ایک جدید شعور کائنات کی داغ بیل ڈلنی تھی۔ اس حل کو پیش کرنے والا ایک سوئس پیٹنٹ آفس کا کلرک آئن سٹائن نامی نوجوان تھا۔
انسان کے کائناتی شعور کے سفر میں آئن سٹائن کا تعارف اس وقت ہوتا ہے جب اس نے انیسیویں صدی کے آغاز ہی میں اپنی اہم دریافت دنیا کے سامنے رکھی اور وہ یہ تھی کہ روشنی ایک محدود رفتار کے ساتھ سفر کرتی ہے! مزید یہ کہ کائنات کی کوئی بھی شے روشنی کی رفتار سے زیادہ رفتار نہیں پا سکتی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ روشنی کو ایک جسم سے دوسرے جسم تک سفر کرنے کے لئے محدود وقت درکار ہوتا ہے۔ گویا روشنی کی کرن سورج سے زمین تک فوری طور پر نہیں پہنچ سکتی۔ لیکن اس دریافت سے نیوٹن کے قانون کا معمہ کیسے حل ہو؟ مزید دس سال کی ریاضت کے بعد آئن سٹائن نے ایک انوکھا جواب تلاش کیا جس نے سائنس میں انقلاب برپا کر دیا۔ اسی انوکھے حل کو اس نے عمومی نظریہ اضافیت کا نام دیا(4)۔

zameen

آئن سٹائن کے اس نظریہ کو سادہ لفظوں میں بیان کیا جائے تو یوں کہا جائے گا کہ زمان اور مکان دو الگ وجود کے حامل نہیں ہیں۔ زمانے کو مکاں ہی کی مانند ایک جہت قرار دیا جائے گا۔ گویا زمان و مکاں ایک ہی واحد اکائی کی جہات ہیں۔ اب اس نظریے کی بنیاد پر کشش ثقل کو پرکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مادہ اس اکائی میں اضافی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں اس بات کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ مادہ اور توانائی آپس میں ایک دوسرے کے بدل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہٰذہ چاہے ہم مادہ کہیں یا توانائی‘ اس سے ہمارے نظریہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ توانائی مادے ہی کی ایک شکل ہے۔ مادے کی موجودگی میں زمان و مکاں کی اس اکائی میں بگاڑ یا خم پیدا ہوتا ہے جبکہ مادے کی غیر موجودگی میں یہ بگاڑ نہیں ہوتا اور اکائی اپنی فطری حیثیت یعنی خالص چپٹی حالت میں برقرار رہتی ہے۔ لہٰذہ خم پیدا ہونے کی صورت میں نزدیکی اجسام اس خمدار سطح کی جانب جھک جاتے ہیں اور ایک خاص فاصلے پر اس کے گرد مداروں میں حرکت کرنے لگتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ اس طرح یہ بھی معلوم ہوا کہ زمان و مکاں کی اس اکائی میں پیدا ہونے والی خمدار لہریں بھی روشنی کی رفتا ر سے زیادہ تیز رفتار نہیں ہیں۔ کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو سورج کی روشنی فوراَ زمین تک پہنچ سکتی تھی۔ بلکہ زمان ومکاں کی اس اکائی میں خم کے پیدا ہونے کا ثبوت ہی یہ ہے کہ روشنی کی رفتار محدود ہوتی ہے۔
اس نظریہ نے انسانی فکر میں ایک نیا انقلاب برپا کیا۔ زمان و مکاں کی جامد اور غیرجانبداراںہ حیثیت کو متحرک قرار دینے والے آئن سٹائن نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی خطا بھی اسی نظریہ کے غیرمعمولی اثرات سے خائف ہو کر انجام دی۔ کیوں کہ اگر زمان ومکاں کی یہ اکائی متحرک قرار دی جائے تو اس سے کائنات کی جامد ساخت کا نظریہ بلکل غلط ثابت ہو جاتا ہے۔ یہ کہ کائنات جیسی ہے ہمیشہ سے ہی ایسی تھی اور ہمیشہ قائم رہے گی۔ اس لئے اس نے اپنے کام میں تبدیلی پیدا کی اور جامد کائنات کے نظریہ کو بقا دینے کی کوشش کی۔ لیکن فطرت کو کچھ اور ہی منظور تھا(5)۔
سن 1929 عیسوی میں ہبل نامی ایک سائنسدان نے اپنے مشاہدات کی بنیاد پر ثابت کر دیا کہ کائنات واقعی نہ صرف متحرک ہے بلکہ مسلسل پھیل رہی ہے۔ اس نے مشاہدہ کیا کہ جو کہکشائیں ہم سے دور ہیں وہ مزید دور ہوتی جا رہی ہیں(6)۔ اس کے ساتھ ہی طبیعات دان یہ بھی جان چکے تھے کہ کائنات میں ہونے والے واقعات روز بروز توازن سے انتشار یا پھر ترتیب سے بے ہنگمی کی شکل اختیار کرتے جاتے ہیں۔ اس طرح سے یہ سوچنا بھی ممکن ہوا کہ ہو سکتا ہے چونکہ کہکشائیں روز بروز دور ہوتی جا رہی ہیں تو پھر زمانہ ماضی بعید میں یہ ایک دوسرے کے بہت ہی قریب رہی ہونگی۔ یعنی انکے درمیان بہت حد تک توازن پایا جاتا ہوگا۔ لیکن اگر یہ بھت قریب یا ایک ہی جگہ پر اکٹھی موجود تھیں تو پھر زمان ومکاں میں پایا جانے والا مادہ ایک ہی جگہ پر مرتکز ہوگا۔ لیکن نظریہ اضافیت کے مطابق اس سے زمان و مکاں کی اکائی میں بہت زیادہ حد تک خم پیدا ہوا ہوگا۔ اور یوں ممکن ہے کہ ایک ایسا بھی وقت ہو گا کہ ساری کائنات کا مادہ وتوانائی ایک ہی نقطہ پر مرتکز ہو۔ اور یوں کسی نامعلوم وجہ سے یہ سارا مادہ پھٹ پڑا ہو بالکل جیسے ایٹم بم کا مادہ شروع میں ایک گٹھلی میں مرتکز ہوتا ہے اور پھر وہ پھٹ پڑتا ہے(7)۔
کائنات بشمول اسکے تمام اجزاء حتٰی کہ زمان و مکاں بھی ایک عظیم دھماکے کی صورت میں ایک خاص نقطہء آغاز سے درجہ بہ درجہ پیدا ہوئےتھے۔ اس نطریہ کو ہی بگ بینگ نظریہ کہا جاتا ہے۔
بہت جلد سائنسدان اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ کائنات بشمول اسکے تمام اجزاء حتٰی کہ زمان و مکاں بھی ایک عظیم دھماکے کی صورت میں ایک خاص نقطہء آغاز سے درجہ بہ درجہ پیدا ہوئےتھے۔ اس نطریہ کو ہی بگ بینگ نظریہ کہا جاتا ہے۔ اپنے آغاز کے وقت یہ کائنات بہت زیادہ گرم تھی اور وقت کے ساتھ اس نے ٹھنڈا ہونا شروع کیا۔ اور اس طرح کروڑوں سال بعد اس میں سازگار ماحول بن گیا کہ کہکشائیں‘ ستارے‘ سیارے اور نظام شمسی وجود میں آئے اور پھر کافی وقت کے بعد یہاں زمین سازگار ہوئی کہ زندگی کی ابتدا ہو سکے۔ آج بگ بینگ کو تقریباَ 15 ارب سال بیت گئے ہیں (8)۔ اگرچہ کچھ لوگوں نے اس کے مقابل بھی کچھ نظریات پیش کئے ہیں مگر سائنسدانوں کی اکثریت بگ بینگ ہی پر متفق نظر آتی ہے۔
اب چونکہ بگ بینگ نظریہ سائنس میں ایک مستند نظریہ بنتا جا رہا ہے لہٰذہ سائنسدانوں کی بہت بڑی تعداد آئے روز اس پر مزید تحقیق کر رہی ہے۔ ان تحقیقات کی بدولت یہ بات بھی سامنے آئی کہ یہ نظریہ بھی ابھی نامکمل ہے اور اس کے کچھ معمہ جات ایسے ہیں جنکے بارے میں ٹھوس بنیادیں فراہم نہیں کی گئی تھیں۔ ان میں سے کچھ مسائل کے حل کے طور پر 1981 میں ایلن گوتھ نامی ایک سائنسدان نے انفلیشنری کاسمولوجی (9) ، (10) کا تصور پیش کیا تھا جس کے مطابق کائنات اپنے آغاز کے دور میں انتہائی انفشاری قوت کے ساتھ پھیلی۔ اس قدر زیادہ اسراع کے ساتھ پھیلاؤ کے نتیجے میں کائنات کے انتہائی چھوٹے حصہ جات کا سائز بڑھتا گیا اور آج انکا سائز کائنات کے سائز کے برابر جا پہنچا ہے۔ اس طرح کائنات کے چھوٹے چھوٹے خمدار حصے بڑے ہو کر چپٹے ہو گئے۔ اسی طرح اس وقت زمان ومکاں کی اکائی میں کوانٹم میکانی تھرتھراہٹ سے جو خمدار لہریں وجود میں آئیں وہ آج ہم تک ثقلی لہروں کی شکل میں پہنچ رہی ہونگی۔ یہ وہ پیشین گوئی ہے جو بانیان انفلیشن نے کی تھیں اور 17 مارچ 2014 کی دریافت اسی پیش گوئی کی طرف کامیابی کا اشارہ ہے۔
اس ساری تفصیل کے بعد ہم دوبارہ اس بات کی طرف آتے ہیں کہ جس طرح نیوٹن کے قانون ثقل نے انسانی فکر پر گہرے اثرات مرتب کئے اور کائنات کی ساخت کے متعلق بہت سے غیر سائسی نظریات کو رد کیا گیا بالکل اسی طرح آئن سٹائن اور اس کے بعد آنے والوں کی طرف سے پیش کیے گیے نظریات بھی بہت حد تک انسانی زاویہ فکر اور شعور کائنات کو متاثر کرتے رہے ہیں۔ بلکہ اگر بیسیوں اور اکیسویں صدی کے ابتدائی ادوار کا عمیق مطالعہ کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ آج کا سائنسدان ان سوالات پر بھی آواز اٹھا رہا ہے جو شاید اب تک مذہب اورفلسفہ کی دسترس میں تھے۔ اسی طرح آج کا مزہبی عالم اور فلسفی بھی جدید طبیعات کو اپنا موضوع سخن بنا کر بات کرتا ہے۔ آج کے دور میں مذہب اور سائنس کے موضوع پر جس قدر بحث ہو رہی ہے ایسی بحث کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ شاید اسکی وجہ یہی ہے کہ موجودہ سائنس اور خصوصاَ علم کونیات انسان اور کائنات کے تعلق پر بنیادی سوال آٹھا رہی ہے۔ ان میں سے کچھ سوال یہ ہیں:
کیا کائنات کا کوئی آغاز بھی ہے؟
اگر کائنات کا آغاز ہوا تو کیونکر ہوا اور کیسے ہوا؟
کیا کائنات خود بخود وجود میں آ گئی؟
کیا کائنات کا کوئی اختتام بھی ہے؟
انسان کا کائنات سے کوئی تعلق ہے کہ نہیں؟
کیا انسان اور کائنات کا کوئی بنانے والا بھی ہے؟
ان سب سوالوں کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے دور میں وہی نظریہ‘ مذہب یا فلسفہ قابل قبول ہو گا جو ان سوالوں کے تسلی بخش جواب فراہم کر سکے گا۔ آج کا انسان اپنے شعور کائنات کو ایک مربوط اور سائنسی بنیاد پر استوار دیکھنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں کی گئی کوئی بھی پیش رفت مستقبل کے انسان پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ 17 مارچ 2014 نیز پلانک سیٹلائٹ کے نتائج اسی خصوصیت کے حامل ہیں۔

References:
(1) arXiv:1403.3985v2
(2) arXiv:1404.0373
(3) For Stephen Hawking’s life and works see “Stephen Hawking: Quest for a Theory of Everything” By Kitty Ferguson
(4) arXiv:physics/0405066v1
(5) http://map.gsfc.nasa.gov/universe/uni_accel.html
(6) http://www.pnas.org/content/15/3/168.full
(7) http://map.gsfc.nasa.gov/universe/bb_theory.html
(8) http://map.gsfc.nasa.gov/universe/uni_age.html
(9) http://www.astro.caltech.edu/~ccs/Ay21/guth_inflation.pdf‎
(10) https://www.astro.rug.nl/…/inflationary.universe.guth.physrevd-1981.pdf‎