Categories
نان فکشن

سپیس کے ذرات (تحریر: کارلو رویلی، ترجمہ: فصی ملک، زاہد امروز)

پانچواں سبق: سپیس کے ذرات
کارلو رویلی
ترجمہ: زاہد امروز، فصی ملک

اسی سلسلے کے مزید اسباق پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

ابہام، مایوسی اورکچھ سوالوں کے نامکمّل جوابات کے باوجود وہ طبیعیات جو میں نے ابھی تک یہاں بیان کی ہے،ماضی میں کائنات کے بارے پیش کی گئیں تمام وضاحتوں سے بہتر ہے۔ طبیعیات باقی نظریات کی نسبت کائنات کی بہتر تشریح کرتی ہے. لہٰذا ہمیں کافی حد تک مطمئن ہونا چاہیے۔ لیکن ہم نہیں ہیں۔

طبیعی دنیا کے متعلق ہماری تفہیم کی بنیادوں میں ایک متناقضہ (Paradox) موجود ہے۔ بیسویں صدی نے ہمیں دو علمی گوہر”عمومی اضافیت” (General Relativity)اور”کوانٹم میکانیات” (Quantum Mechanics) فراہم کیے ہیں جن کے متعلق میں نے پچھلے اسباق میں بات کی. آئن شٹائن کی “عمومی اضافیت”کی بنیاد پر کونیات(Cosmology)، فلکیات (Astrophysics)، تجاذبی امواج (Gravitational waves)، بلیک ہولز (Black holes)اور بہت سے دوسرے علوم تشکیل پائے جب کہ “کوانٹم میکانیات” نے جوہری طبیعیات(Atomic Physics)، نیوکلیائی طبیعیات(Nuclear Physics)، مادے کے اساسی ذرات (Elementary Particles) کی طبیعیات، ٹھوس اجسام کی طبیعیات(Condensed Matter Physics) اور بہت ساری دوسری شاخوں کو نظریاتی بنیاد فراہم کی۔ ان علوم نے ہمارے طرزِ زندگی کو بدل دیا اور یہی دونوں نظریات موجودہ ٹیکنالوجی کی بنیاد ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں نظریات کم از کم اپنی موجودہ شکل میں مکمل طور پر درست نہیں ہو سکتے۔ کیوں کہ یہ دونوں نظریات اپنی اساس میں ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔

اگرایک طالب علم صبح کوعمومی اضافیت اور سہ پہر میں کوانٹم میکانیات کے لیکچر سن رہا ہو اور دونوں لیکچر سننے کے بعد یہ کہے کہ اس کے پروفیسر بے وقوف ہیں یا انہوں نے گزشتہ ایک صدی سے ایک دوسرے سے تبادلہ خیال نہیں کیا تواس کو یہ کہنے پر معاف کیا جا سکتا ہے۔ صبح والےعمومی اضافیت کے لیکچرمیں دنیا ایک منحنی خلا ہے جہاں ہر شئے متسلسل ہے جب کہ سہ پہر کے لیکچر کے مطابق دنیا ایک ہموارخلا ہے جہاں توانائی کے قدریے یا کوانٹا جستیں بھرتے ہیں۔

متناقضہ یہ ہے کہ دونوں نظریات کی فلسفیانہ توجیہات ایک دوسرے سے متصادم ہونے کے باوجود یہ درست کام کرتے ہیں۔ قدرت ہمارے ساتھ اس بوڑھے پادری سا برتاؤ کررہی ہے جس کے پاس دو لوگ ایک مسئلے کا حل نکلوانے جاتے ہیں۔ وہ پہلے کی بات سنتا ہے اور کہتا ہے آپ صحیح کہتے ہیں۔ دوسرا شخص اصرار کرتا ہے کہ اس کو بھی سنا جائے۔ پادری اس کو سنتا ہےاورکہتا ہے آپ بھی صحیح کہتے ہیں۔ ساتھ والے کمرے میں موجود پادری کی بیوی جب یہ بات سنتی ہے تو پکارتی ہے “لیکن یہ دونوں بیک وقت ٹھیک نہیں ہو سکتے”۔ پادری اس کی بات سنتا ہے اور فیصلہ سنانے سے پہلے سر ہلا کر کہتا ہے “آپ بھی صحیح کہتی ہیں”۔

پانچ برِاعظموں پرموجود طبیعیات دانوں کا ایک گروہ بڑی محنت سے اس مسئلے کو حل کرنے میں مصروف ہے۔ طبیعیات کی یہ شاخ کوانٹمی تجاذب (Quantum Gravity) کہلاتی ہے۔ اس کا مقصد ایک ایسے نظریے کی تلاش ہے جو ایسی مساواتوں کے سیٹ (Set) پرمشتمل ہو کہ دنیا کی ایک جامع تصویر پیش کرے۔ جس کی وجہ سے طبیعیات کی موجودہ شقاق دماغی (Schizophrenia) کو ختم کیا جا سکے۔

طبیعیات میں ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا جہاں دو انتہائی کامیاب لیکن متصادم نظریات موجود ہوں۔ ماضی میں امتزاج کی کوشش نے دنیا کے متعلق ہمارے ادراک کو ایک نئی فہم سے نوازہ ہے۔ نیوٹن نے گلیلیو (Galileo)کی بتائی ہوئی مکافی اشکال (Parabolas) اور کیپلر(Kepler) کی پیش کردہ بیضوی اشکال (Ellipses)کو یکجا کرکے کائنات میں موجود ہمہ گیر تجاذب یا قوّتِ کشش (Gravity) کو دریافت کیا۔ میکسویل (Maxwell) نے برقی اور مقناطیسی قوّتوں کو یکجا کر کے برقناطیسیت کی مساواتیں دریافت کیں۔ آئن شٹائن نے میکانیات اور برقناطیسیت میں ایک ظاہری تضاد حل کرنے کی کوشش میں نظریہ اضافیت دریافت کیا۔ کسی طبیعیات دان کے لئے دو کامیاب نظریات میں تضاد کی شناخت کر لینا انتہائی خوش کن لمحہ ہوتا ہے۔ ایک سائنس دان کے لیے یہ بہت شاندار موقع ہوتا ہے۔ اب طبیعیات دانوں کو یہ مسئلہ درپیش ہے کہ کیا اس طبعی دنیا کے متعلق کوئی ایسا نظریاتی ڈھانچہ تشکیل دیا جا سکتا ہے جو ان دونوں نظریات (کوانٹم میکانیات اورعمومی اضافیت) کے ساتھ منطبق ہو؟

یہاں علم اورانسانی فہم کی سرحدوں سے آگے سائنس اور بھی خوبصورت ہو جاتی ہے۔ یہ وجدان اور سعی کے نوزائیدہ تصورات کی بھٹی میں دمکتی ہے۔ عقلی جرّات اور جوش کے ان نامعلوم راستوں پر جو اپنائے اور پھر چھوڑ دیے گئے۔ ان تصورات کو عدم سے وجود میں لانے کی کوششں میں جو ابھی تک عالمِ خیال میں بھی پوری طرح نمو پزیر نہیں ہوئے۔

بیس سال پہلےان علمی تصورات کے گرد کہر کافی گہرا تھا۔ اب راستے قدرے نمایاں ہو گئے ہیں جس سے نئے ولولے اور رجائیت نے جنم لیا ہے۔ چونکہ یہ راستے ایک سے زیادہ ہیں لہٰذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مسئلے کو حل کر لیا گیا ہے۔ زیادہ راستے تنازعات کو جنم دیتے ہیں۔ لیکن یہ علمی بحث صحت مند ہے۔ جب تک دھند مکمل طور پر چھٹ نہیں جاتی، تنقید اورمتبادل نظریات کا ہونا اچھا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کی ٹھوس کوششوں میں ایک نظریہ لوپ کوانٹم گریوٹی (Loop Quantum Gravity) کہلاتا ہے جس کو مختلف ملکوں میں موجود طبیعیات کے بہت سے محققین نے اپنایا ہے۔

لوپ کوانٹم گریوٹی عمومی اضافیت اور کوانٹم میکانیات کو یکجا کرنے کی ایک سعی ہے۔ یہ ایک محتاط کوشش ہے کیوں کہ یہ ان مفروضوں کو استعمال کرتی ہے جو پہلے سے دونوں نظریات میں موجود ہیں. ان کو ہم آہنگی پیدا کرنے کی خاطر مناسب طریقے سے دوبارہ لکھا گیا ہے۔ اس سے بنیادی (Radical) نتائج سامنے آئے ہیں۔ یہ ہمیں حقیقت کو دیکھنے کی مزید عمیق ترمیم فراہم کرتے ہیں۔

اصل میں لوپ کوانٹم گریوٹی کا تصورنہایت سادہ ہے۔ عمومی اضافیت ہمیں بتاتی ہے کہ سپیس (Space) کوئی جامد ڈبہ نما چیزنہیں بلکہ ایک متحرک شئے ہے۔ ایک بہت بڑے گھونگھے کے خول جیسی شئے جس میں ہم موجود ہیں۔ ایک ایسا خول جس کو دبایا اور مروڑا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب کوانٹم میکانیات نے ہمیں بتایا ہے کہ اس طرح کا ہرمیدان (Field) کوانٹا (Quanta) کا بنا ہوتا ہے اور اس کی ساخت شفاف ذروں کی سی ہوتی ہے۔اس سے فوری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طبعی سپیس بھی کوانٹا یعنی نہایت چھوٹے ذروں سے مل کر بنی ہے۔

لوپ کوانٹم گریوٹی یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ سپیس یا مکاں درحقیقت متسلسل نہیں ہے۔ یہ لامتناہی طور پرناقابلِ تقسیم نہیں ہے بلکہ جس طرح روشنی چھوٹے ذرّوں (فوٹون) سے مل کر بنی ہے، اسی طرح سپیس بھی ذرّوں یا ایٹموں سے بنی ہے۔ سپیس کے یہ ذرّے نہایت ہی چھوٹے ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹےایٹم کے مرکزے سے بھی اربوں ارب گنا چھوٹے۔ یہ نظریہ سپیس کے ان ایٹموں کو ریاضیاتی شکل میں بیان کرتا ہے اور وہ مساواتیں فراہم کرتا ہے جو ان کے ارتقاء کے متعلق معلومات دیتی ہیں۔ سپیس کے یہ ذرّے لوپ کوانٹم گریوٹی کی ریاضیاتی زبان میں چھلّے یا کڑیاں (Loops or Rings) کہلاتے ہیں کیوں کہ یہ آپس میں منسلک ہوکر تعلقات کا ایک ایسا جال (Network) بُنتے ہیں جو سپیس کے تار و پود یا ساخت وضح کرتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ایک بہت بڑی زنجیر کی کڑیاں آپس میں مربوط طریقے سے بُنی ہوتی ہیں۔

سپیس کے یہ کوانٹا کہاں ہیں؟ کہیں بھی نہیں۔ یہ سپیس میں نہیں ہیں کیوں کہ یہ بذات خود سپیس ہیں۔ سپیس تجاذب کے ذرّات (Quanta of Gravity) کے آپس میں جُڑنے سے بنتی ہے۔ ایک مرتبہ پھر دنیا حقیقی اجسام پر مشتمل ہونے کی بجائے ان اجسام کے محض تعاملات کا مجموعہ لگتی ہے۔

اس نظریے کا ایک دوسرا نتیجہ بھی ہے جو زیادہ بنیادی ہے۔ جس طرح (کوانٹم میکانیات) میں ایک متسلسل سپیس جس میں اجسام موجود ہیں، کا تصور ختم ہو جاتا ہے، ایسے ہی ایک بنیادی اور ابدی وقت جو کائنات میں باقی اشیاء سے بے خبر مسلسل بہتا رہتا ہے، کا تصور بھی ختم ہو جاتا ہے۔ وہ مساواتیں جو سپیس اور مادہ کے ذرّوں کی ماہیت بیان کرتی ہیں ان میں متغّیر وقت (Variable Time) کا تصور موجود نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر چیز ساکت اور غیر متغیّر ہے۔ اس کے برعکس اس کا مطلب یہ ہے کہ تغّیر ہر جگہ موجود ہے لیکن فطرت کے بنیادی مظاہراوراعمال کو وقت یا لمحات کے مشترکہ تواتر میں ترتیب نہیں دیا جاسکتا۔ سپیس کے ذرّوں کے نہایت چھوٹے(کوانٹمی) پیمانوں کی سطح پر فطرت کا رقص آرکیسٹرا کی طرح کسی موسیقار کی چھڑی کے یکسر ردھم کی مانند مخصوص اصول کے طابع نہیں ہوتا بلکہ ہرعمل اپنے ہی ردھم میں ایک دوسرے سے آزادانہ رقص کرتا ہے۔ دنیا میں وقت کا گزرنا داخلی عمل ہے۔ وقت کوئی معروضی و خارجی حقیقت نہیں بلکہ یہ دنیا میں ان کوانٹمی حوادث کے باہمی تعاملات کی بدولت وقوع پذیر ہوتا ہے جن سے دنیا بنی ہے اور وہ بذات خود وقت کا منبع ہیں۔

دنیا کا جو تصور لوپ کوانٹم گریوٹی کا نظریہ پیش کرتا ہے، وہ اُس دینا کو ہماری ظاہری دنیا سے مزید بے گانہ کر دیتی ہے جس میں ہم رہتے ہیں۔ اُس دنیا میں ایسے مکاں کا وجود نہیں ہے جس میں ہماری دنیا موجود ہے اور اُس میں ایسی کوئی زمین موجود نہیں ہے جس میں حادثات وقوع پذیر ہوتے ہوں۔ اُس میں صرف وہ بنیادی عوامل ہیں جس میں سپیس اور مادہ کے کوانٹا مسلسل آپس میں تعامل کرتے ہیں۔ اس زماں و مکاں کا فریب جو ہمارے اردگرد موجود ہے انہی بنیادی عوامل کا مبہم سا مظہر ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ایک بظاہر شفاف اور شانت پہاڑی ندی حقیقت میں پانی کے بہت سارے چھوٹے چھوٹے سالموں (Molecules) کی مسلسل حرکت کا مجموعہ ہوتی ہے۔

اگرایک انتہائی طاقتورمحدب عدسے کی مدد سے دیکھا جائے تو سپیس کی ذراتی ساخت ہمیں نیچے دی گئی تصویر کی طرح دکھائی دے گی۔

کیا اس نظریے کو تجرباتی طور پر ثابت کرنا ممکن ہے؟ ہم سوچ رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ابھی تک کوئی تجرباتی تصدیق نہیں ملی۔ بہرحال اس کے لیے بہت سی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

ان میں سے ایک تجرباتی کاوشں بلیک ہول کے مشاہدے سے اخذ کی گئی ہے۔ اب ہم بلیک ہولز کو دیکھ سکتے ہیں جو ستاروں کے انہدام سے بنتے ہیں۔ اپنے ہی وزن کے زیرِاثر ستاروں کا مادہ منہدم ہوکر ہماری نظر سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ کہاں غائب ہو جاتا ہے؟ اگر لوپ کوانٹم گریوٹی کا نظریہ درست مان لیا جائے تو اس کے مطابق مادہ منہدم ہو کر ایک لامتناہی چھوٹے نقطے میں مدغم نہیں ہوسکتا کیوں کہ ایسا کوئی نقطہ وجود نہیں رکھتا۔ بلکہ سپیس کے صرف متناہی حصے وجود رکھتے ہیں۔ اپنے ہی وزن کے زیرِ اثر منہدم ہو کر کسی ستارے کی کثافت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہاں کوانٹم میکانیات توازن پیدا کرنےکے لیے ایک متبادل دباؤ لگاتی ہے۔

کسی ستارے کی زندگی کی فرضی آخری حالت میں جب وہ منہدم ہو رہا ہو، زماں و مکاں کا کوانٹمی اتارچڑھاؤ مادے کے وزن کو توازن فراہم کرتا ہے۔ انہدام پذیرستارے کی یہ حالت “پلانک ستارہ” (Planck star) کہلاتی ہے۔ اگرآج سورج دہکنا بند کردے اور بلیک ہول میں بدلنے لگے تو اس کا قطرسکڑ کر محض دیڑھ کلومیٹر رہ جائے گا۔ اس بلیک ہول کے اندر سورج کا مادہ مسلسل منہدم ہوتا رہے گا اور بالآخریہ ایک پلانک ستارہ بن جائے گا۔ تب اس کا سائزتقریباً ایک ایٹم کے برابر ہوگا۔ سورج کا تمام مادہ ایک ایٹم کے حجم میں منجمد ہوجائے گا۔ ایک پلانک ستارہ مادہ کی اس شدید ترین منجمد حالت پر مشتمل ہوتا ہے۔

پلانک ستارہ مستحکم نہیں ہوتا۔ جب اس کو آخری حد تک دبایا جاتا ہے تو یہ رّدعمل میں پھر سے پھیلنا شروع کردیتا ہے۔ یہ پھیلاؤ اس بلیک ہول کو پھٹنے کی حد تک لے جاتا ہے۔ اگرایک فرضی مشاہد پلانک ستارے کے اندر بلیک ہول میں بیٹھا ہو تو اس کے لیے یہ پھیلاؤ نہایت تیزرفتاری سے واقع ہوگا۔ لیکن اس مشاہد کے لیے وقت اس رفتار سے نہیں گزرے گا جس رفتار سے بلیک ہول سے باہر موجود شخص کے لئے گزرتا ہے۔

جس طرح نظریہ عمومی اضافیت کی منطق کے مطابق کسی اونچے پہاڑ پر بیٹھے ہوئے شخص کے لیے وقت سطح سمندر پر بیٹھے شخص کی نسبت زیادہ تیزگزرتا ہے اسی طرح ہمارے اور بلیک ہول کے اندرموجود مشاہد کے لیے بھی وقت ایک سا نہیں گزرے گا۔ اس مشاہد کے لیے جو بلیک ہول میں بیٹھا ہے، طبیعیات کی شدید شرائط کی وجہ سے وقت کا فرق بہت زیادہ ہوگا اور بلیک ہول پر بیٹھے مشاہد کے لیے جو تیز پھیلاؤ ہے وہ بلیک ہول سے باہر موجود مشاہد کے لیےایک طویل دورانیے پر محیط ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ بلیک ہول لمبےعرصے تک ایک سی حالت میں دکھائی دیتے ہیں۔ ایک بلیک ہول دراصل انتہائی سست رفتاری سے پھیلتا ہوا ستارہ ہے۔

ممکن ہے کہ بلیک ہول قدرت کی بھٹی میں کائنات کے ابتدائی لمحات میں بنے ہوں اوران میں سے کچھ اب پھٹ رہے ہوں۔ اگریہ درست ہے تو بلیک ہول کے پھٹنے کے وقت جوانتہائی توانائی فلکی لہروں کی شکل میں خارج ہوتی ہے، شاید ہم ان کا مشاہدہ کرسکیں۔ اس سے ہمیں کوانٹم گریوٹی کی مدد سے بیان کیے جانے والے مظاہرکا بلاواسطہ مشاہدہ کرنےاوران کے اثرات کو ماپنے میں مدد ملے گی۔ یہ ایک جرّات مند خیال ہے۔ ہو سکتا ہے ایسا نہ ہو۔ مثلاً یہ بھی ممکن ہے کہ ابتدائی کائنات میں اتنے بلیک ہول نہ بنے ہوں کہ ہم ان کے دھماکوں کا مشاہدہ کرسکیں۔ لیکن ان کے اشاروں کی کھوج لگانے کے لیے تجرباتی تحقیق شروع ہو گئی ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ اس کا کیا نتیجہ آتا ہے۔

اس نظریے کا ایک اورانتہائی شاندار نتیجہ کائنات کی ابتدا کے متعلق ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس نظریے کی مدد سے ہم اپنے سیارے کی طبعی تاریخ کواس کی ابتدا تک تشکیل دے سکتے ہیں جب وہ اپنے حجم میں بہت چھوٹا تھا۔ لیکن اس سے پہلے کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ دلچسپ امر یہ ہے کہ لوپ کوانٹم گریوٹی کی مساواتیں ہمیں تشکیلِ تاریخ میں اس سے بھی پیچھے تک جانے میں مدد دیتی ہیں۔

اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ جب کائنات بہت زیادہ کثیف ہوتی ہے تو کوانٹم نظریے کے مطابق اس میں ایک مخالف قوت پیدا ہوتی ہے۔ نتیجتاً ہمیں یہ کہنا چاہیے کہ انفجارِعظیم یعنی بگ بینگ اصل میں زقندِعظیم یا بگ باؤنس تھا۔ ممکن ہے کہ ہماری کائنات ایک پہلے سے موجود کائنات کے رّدعمل میں وجود میں آئی ہو جو اپنے ہی وزن کے تحت سپیس میں ایک نہایت چھوٹے نقطے میں سکڑی ہو اور پھراس نے پھیلنا شروع کر دیا ہو جسے آج ہم پھیلتی ہوئی کائنات کی صورت میں دیکھتے ہیں۔

اپنی ابتدا میں جب کائنات ایک نقطے میں سمائی ہوئی تھی، زقند (باؤنس) یا پھیلاؤ کا یہ لمحہ کوانٹم گریوٹی کا دور تھا۔ وہاں زماں و مکاں کا وجود ختم ہو جاتا ہے اور دنیا امکانات کے دھندلے بادلوں میں تحلیل ہو جاتی ہے جسے ریاضی کی مساواتیں بیان کر سکتی ہیں۔ کائنات کی جو تصویر ہم نے پانچویں باب میں پیش کی تھی زقندِ عظیم کے تصور کے بعد اس کی حتمی شکل یوں بنتی ہے۔

طبیعیات ایسے درکھولتی ہےجس میں ہم کائنات میں بہت دورتک دیکھ سکتے ہیں۔ ہم جوکچھ دیکھتے ہیں وہ ہمیں حیران کرتا ہے۔ ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم تعصبات سے بھرے ہوئے ہیں اور ہماری دنیا کی جبّلی تصویر نامکمل، رجعتی اور ناموافق ہے۔ ہم نے جانا ہے کہ زمین چپٹی اور ہموار نہیں ہے اور نہ ہی یہ ساکن ہے۔ آج جب ہم کائنات کو زیادہ واضح طور پر گہرائی اورعمیقیت میں دیکھتے ہیں تو یہ مسلسل تبدیل ہوتی نظر آتی ہے۔ ہم نے بیسویں صدی میں طبعی دنیا کے بارے میں جو کچھ دریافت کیا ہے اگر ہم اس کو یکجا کریں توعلمی اشارے ہمیں مادہ اور زماں و مکاں کے بارے میں ہمارے جبّلی فہم سے بھی زیادہ کسی عمیق چیز کی طرف لے جاتے ہیں۔ لوپ کوانٹم گریوٹی ان اشاروں اورعقلی نشانیوں کا ادراک حاصل کرنے اور مزید گہرائی تک دیکھنے کی ہی کاوش ہے۔

Categories
نان فکشن

روشنی کے ذرّات (تحریر: کارلو رویلی، ترجمہ: فصی ملک، زاہد امروز)

دوسرا سبق: روشنی کے ذرّات (کوانٹا)
کارلو رویلی
ترجمہ: زاہد امروز، فصی ملک

اسی سلسلے کے مزید اسباق پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

بیسویں صدی کی فزکس کے دواہم ستون،آئن سٹائن کا نظریہ عمومی اضافیت (جس کے بارے میں میَں نے گزشتہ سبق میں بات کی) اورکوانٹم میکانیات (جس کے متعلق میَں اس سبق میں بات کروں گا)، اپنے بنیادی تصوّرات میں اس قدر الگ تھے کہ ایک دوسرے سے مزید مختلف نہیں ہو سکتے تھے۔ البتہ دونوں نظریات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ فطرت کی ساخت ایسی نہیں ہے جیسی بظاہر نظرآتی ہے۔ یہ اس سے کہیں زیادہ لطیف ہے. عمومی اضافیت ایک ایسا جامع علمی گوہر ہے جس کو ایک تنہا دماغ نے جنم دیا۔ یہ نظریہ کششِ ثقل،زمان و مکاں(Space and Time) کا ایک مربوط تصورہے۔ جب کہ دوسری جانب کوانٹم میکانیات یا کوانٹم فزکس نے بھی اتنی ہی تجرباتی کامیابی حاصل کی ہے اور ایسے سائنسی اور تکنیکی اطلاقات دیے ہیں جس نے ہماری روزمرہ زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے. مثال کے طور پر یہ کمپیوٹر جس پر میں یہ تجریرلکھ رہا ہوں۔ تاہم اپنے جنم سے ایک سو برس بعد بھی یہ ناقابلِ فہم پیچیدگی اورتجسس سے بھری ہوئی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ کوانٹم میکانیات کا آغازعین 1900ع میں ہوا اوراس سے ایک گہرےتفکّرکی صدی نے جنم لیا۔ جرمنی کے سائنس دان میکس پلانک نےایک فرضی سیاہ جسم میں موجود برقی میدان کی ریاضیاتی پیمائش کی جب وہ جسم حالت توازن میں ہو۔ ایسا کرنے کے لیے اس نے ہوشیاری سے کام لیا اورایک ترکیب سوچی۔ اس نے فرض کیا کہ اس میدان کی توانائی قدریوں (building blocks) یا کوانٹا(Quanta) میں منقسم ہے۔ یوں سمجھیں کہ توانائی کوئی بہتی ہوئی شے نہیں، بلکہ یہ چھوٹے چھوٹے ذرات (Quanta)یا پیکٹوں کی صورت میں اپنا وجود رکھتی ہے۔ اس تصور کی رو سے ریاضیاتی پیمائش نے بالکل وہی نتائج دیے جو تجرباتی طورپرحاصل کیے گئے تھے (اور لازماً صحیح تھے)۔ لیکن یہ نتائج مروجّہ سائنسی تصورات کے بالکل منافی تھے۔

توانائی کو ایسی چیز گمان کیا جاتا تھا جو ایک تسلسل سے تبدیل ہوتی ہے۔ ایسا سوچنے کی کوئی وجہ نہیں تھی کہ یہ چھوٹے چھوٹے قدریوں یا ذرات سے مل کر بنی ہو سکتی ہے۔ توانائی کو چھوٹے چھوٹے ذرات گمان کرنا پلانک کے لیے بھی محض ایک حسابی کلیہ تھا اوروہ خود بھی مکمل طور پر اس کی اہمیت کو نہیں سمجھا تھا۔ ایک مرتبہ پھر، یہ آئن سٹائن ہی تھا جس نے پانچ سال بعد ایک سادہ سے تجربے کے ذریعے یہ دیکھا کہ توانائی کے یہ چھوٹے چھوٹے ذرےدراصل حقیقی ہیں۔

آئن سٹائن نے ثابت کیا کہ روشنی محض مسلسل لہر نہیں بلکہ ذرات یا پیکٹوں سے مل کر بنی ہے۔انہیں ہم آج ضیائیہ یا فوٹان (Photon) کہتے ہیں۔ آئن سٹائن نے اپنے مضمون کے تعارف میں لکھا کہ:
“مجھے یوں لگتا ہے کہ سیاہ جسمی شعاعیں (Blackbody Radiation)، روشنی کی دمک (Fluorescence)، بالائے بنفشی شعاؤں (Ultraviolet Rays)کے ذریعےمنفی شعاعوں (Cathode Rays)کی پیداواراورروشنی کے اخراج یا تبدیلیِ ہیت کے ساتھ منسلک دوسرے عوامل کوزیادہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ روشنی کی توانائی مکاں میں غیرمسلسل انداز میں منقسم ہے۔ اس مفروضے کی مطابق ایک نقطے سے خارج ہونے والی روشنی کی شعاع مکاں میں مسلسل بڑھتے تناسب کےساتھ مساوی طورپرمنقسم نہیں بلکہ محدود مقداری روشنی کے ذرات یعنی ‘کوانٹا’ پر مشتمل ہے جوعام ذرات کی طرح خلا میں ایک خاص مقام پر موجود ہوتے ہیں اور انہیں مزید تقسیم نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ مکمل اکائی کی شکل میں خارج یا جذب کیے جا سکتے ہیں”۔

یہ سادہ اور واضح سطور کوانٹم میکانیات کا پیدائشی سرٹیفیکیٹ ہیں۔ حیران کن بات ہے کہ آئن سٹائن کےاس ابتدائی جملے پرغور کریں “مجھے یوں لگتا ہے۔۔۔۔”، جوکہ چارلس ڈارون کے ابتدائی جملے “میں سوچتا ہوں۔۔۔” کی یاد دہانی کراتا ہے جب اس نے اپنی تحقیقی ڈائریوں میں انواع کے ارتقا کا تصورپیش کیا تھا۔ یا فیراڈے کی وہ “ہچکچاہت” جو اس نے مقناطیسی میدان کا انقلابی تصور متعارف کراتے ہوئے ظاہر کی تھی۔ یقیناً نابغے ہچکچاتے ہیں۔
ابتدا میں آئن سٹائن کے سائنسی کام کو اس کے ہم عصروں کی طرف سے ایک بہت ہی ذہین نوجوان کا “لایعنی بچپنہ”سمجھا گیا۔ لیکن بعد میں اسے اسی کام پر نوبل انعام دیا گیا۔ اگرمیکس پلانک اس نظریے کا باپ ہے تو آئن سٹائن ان والدین میں سے ہے جس نے اس کی پرورش کی۔

اپنےاعتراضات کی وجہ سےآئن سٹائن نےاس نظریے کا مکمّل اعتراف نہیں کیا۔ لیکن تمام بچوں کی طرح یہ نظریہ بھی اپنے رستے پر چل پڑا۔ البتہ بیسویں صدی کی دوسری اورتیسری دہائی میں نیل بوہر نے اس نظریےکو مزید مستحکم کیا۔ نیل بوہرنے یہ آگہی حاصل کی کہ جوہروں(Atoms) کےاندربرقیوں یا الیکٹرانوں (Electrons) کی توانائی بھی روشنی کی توانائی کی طرح مخصوص قیمت ہی حاصل کر سکتی ہے۔ سب سے اہم نقطہ یہ کہ الیکٹران ایک مدار سے دوسرے مدار میں ایک خاص توانائی سے ہی چھلانگ لگا سکتے ہیں اورجب وہ ایسا کرتے ہیں تو دو مداروں میں توانائی کے فرق کےبرابرایک فوٹان خارج یا جذب کرتے ہیں۔ یہ مشہورکوانٹمی جستیں (Quantum Leaps) ہیں۔ ڈنمارک کے شہرکوپن ہیگن میں واقع یہ نیل بوہرکا انسٹی ٹیوٹ ہی تھا جہاں بیسویں صدی کے ذہین ترین دماغ اس نئی جوہری دنیا کی حیران کن خوبیوں پر ہونے والی تحقیق میں ایک نظم (Order) لانے کے لیے اکٹھے ہوئے اوراس سے ایک جامع ((Coherent نظریے نے جنم لیا۔ بالآخر1925ع میں اس نظریے کی ریاضیاتی مساواتیں ظہورپذیر ہوئیں جنہوں نے نیوٹن کی میکانیات کومکمل طور پر تبدیل کردیا۔

ایک کامیابی کا تصور کرنا کافی مشکل ہے۔ ایک ہی دھچکے میں ہر چیز قابلِ فہم بن جاتی ہے اور آپ ہر چیز کا حساب لگا سکتے ہیں۔ ایک مثال لیتے ہیں: آپ کو مینڈلیف کا بنایا ہوا دوری جدول یاد ہے؟ جس میں ہائیڈروجن سے لے کر یورینیم تک وہ تمام عناصردرج ہیں جن سے مل کر ہماری کائنات بنی ہے اور جوہمارے اسکولوں اور کالجوں کے بہت سارے کمروں کی دیواروں پرلٹکا ہوتا ہے؟ دوری جدول میں جو عناصر موجود ہیں وہ خاص طور پراسی جگہ پر کیوں ہیں جہاں وہ ہیں اور دوری جدول کی خاص طور پر یہی ساخت کیوں ہے جس میں پیریڈ ہیں اوران کیمیائی عناصر کی مخصوص خصوصیات ہیں؟ جواب یہ ہے کہ ہرعنصرکوانٹم میکانیات کی بنیادی مساوات کے ایک خاص حل سےمطابقت رکھتا ہے۔ تمام کی تمام کیمسٹری ایک ہی مساوات سے نکلتی ہے۔
اس نئے نظریے کی مساوات جو کہ دماغ کو ماؤف کر دینے والے مشکل تصورات پر مبنی تھی، کا خالق جرمنی کا ایک نوجوان نابغہ وارنر ہائزن برگ تھا۔ ہائزن برگ نے فرض کیا کہ الیکٹران ہروقت اپنا وجود نہیں رکھتے۔ یہ صرف اس وقت وجود رکھتے ہیں جب کوئی شخص یا کوئی شئے انہیں دیکھتی ہے یا پھر جب وہ کسی دوسری چیز سے تعامل کرتے ہیں۔ جب یہ کسی دوسری چیز سے ٹکراتے ہیں تو اس جگہ پر کسی خاص امکان کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں جس کا حساب لگایا جا سکتا ہے۔ایک مدار سے دوسرے مدار تک کوانٹمی جستیں ان کے حقیقی ہونے کا وسیلہ ہیں۔ ایک الیکٹران ایک تعامل سے دوسرے تعامل تک جستوں کا مجموعہ ہے۔ جب کوئی چیز اس سے تعامل نہیں کر رہی ہوتی تو یہ کسی بھی خاص مقام پر موجود نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ کہیں بھی “موجود” نہیں ہوتا۔

یہ بالکل ایسے ہی جیسے خدا نے حقیقت کا خاکہ تیار کرنے میں مکمل اورگہرے خط کھینچنے کی بجائے محض دھندلی اورادھوری سی کچھ نیم مکمل لائنیں کھینچ دی ہیں۔

کوانٹم میکانیات میں کسی بھی جسم کا کوئی خاص مقام متعین نہیں ہوتا سوائے جب وہ کسی دوسرے جسم سے ٹکراتا ہے۔ ان دو تعاملات کے درمیانی وقفے میں اسے بیان کرنے کے لیے ایک تجریدی کلیے کا سہارا لینا پڑتا ہے جس کا وجود حقیقی کی بجائے تجریدی ریاضی میں ہے۔ لیکن ابھی اس سے زیادہ پیچیدہ مسئلہ باقی ہے۔ الیکٹرانوں کی ایک مقام سے دوسرے مقام تک ان تعاملاتی جستوں (Interactive Leaps) کی پیش گوئی ممکن نہیں بلکہ مجموعی طور پر یہ بے ترتیب ہوتی ہیں۔ صرف اس امکان (Probability) کا حساب لگانا ممکن ہے کہ الیکٹران کا ظہور یہاں ہو گا یا وہاں، نہ کہ اس کا کہ اس کا ظہور کسی خاص مقام پر ہوگا۔ ان امکانات کا سوال فزکس کی اساس تک جاتا ہے جہاں بظاہرہرچیزخاص قوانین کے تحت کام کرتی محسوس ہوتی ہے اورجو ہمہ گیراورناقابلِ تغّیر ہیں۔

کیا یہ لامعنی محسوس ہوتا ہے؟ یہ آئن سٹائن کو بھی بے معنی ہی لگا تھا۔ ایک طرف تواس نے ہائزن برگ کے اس نظریے کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا نام نوبل انعام کے لیے تجویزکیا کہ اس نے دنیا کے بارے میں کسی بنیادی چیز کو سمجھا ہے۔ جب کہ دوسری جانب اس نے کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جہاں وہ اس نظریے کے خلاف بڑبڑا نہ سکے کہ یہ تصوّر اس کے نزدیک قرین قیاس نہیں۔

کوپن ہیگن کے نوجوان افسردہ تھےکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آئن سٹائن ایسا سوچے؟ان کا روحانی باپ جس نے ناقابلِ تصورکو تصورمیں لانے کی جرّات کی، اس نامعلوم (Unknown) کی جانب ایک نئی جست لگانے سے گھبرا رہا تھا جس کی بنیاد اس نےخود رکھی تھی۔ وہی آئن سٹائن جس نے ثابت کیا تھا کہ وقت ہمہ گیر نہیں ہے اور مکاں منحنی ہے، اب کہہ رہا تھا کہ دنیا “اس قدر”عجیب نہیں ہو سکتی۔

بوہر نے نہایت تحمل سے آئن سٹائن کوان تصورات کی وضاحت پیش کی۔ آئن سٹائن نے اعتراضات کیے۔ اس نے ان نئےتصورات میں موجود تضادات ثابت کرنے کے لیے تخیّلی تجربات (Thought Experiments) ترکیب دیے۔ روشنی سے بھرے ایک ڈبے کا تصور کریں جس سے ہم صرف ایک فوٹان کوباہرآنے دیتے ہیں اوریوں آئن سٹائن کی مشہورمثال “روشنی کے ڈبّے والا تخیلی تجربہ” کا آغاز ہوتا ہے۔ لیکن ہر بار بوہر کوئی ایسا جواب دھونڈ لیتا جس سے ان اعتراضات کو رد کیا جا سکے۔ سالوں تک ان کا مکالمہ خطوط، دروس اور مضامین کے ذریعے جاری رہا۔ تبادلہ خیال کے دوران دونوں شخصیات کو اپنے خیالات پرنظرثانی کرنےاوران کوتبدیل کرنے کی ضرورت پڑی۔ آئن سٹائن کو بالآخر یہ ماننا پڑا کہ نئے تصورات میں تضادات نہیں ہیں اور بوہر کو یہ ماننا پڑا کہ چیزیں اتنی آسان اور سادہ نہیں ہیں جتنی اس نے پہلے سمجھی تھیں۔ آئن سٹائن اس پر بالکل نرمی نہیں برتنا چاہتا تھا جو اس کے لیے سب سے اہم مسلہ تھا: کہ اس سے بالاتر کہ کون سی چیز کس سے تعامل کرتی ہے، کائنات کی ایک معروضی حقیقت موجود ہے۔ جب کہ بوہرنے اس نئے نظریے پر، جس نے حقیقت کی عمیقیت کو نئے انداز میں تصور کیا، کوئی شک نہ کیا۔ بالآخر آئن سٹائن نے مان لیا کہ یہ نظریہ دنیا کے متعلق ہماری فہم میں بہت بڑی جست ہے۔ وو اس بات پربھی قائم رہا کہ چیزیں جتنی عجیب نظرآتی ہیں اتنی ہیں نہیں۔ یقیناً ان مظاہر کے پیچھے قابل فہم وضاحت موجود ہے۔

آج ایک صدی بعد بھی ہم اسی مقام پرکھڑے ہیں۔ کوانٹم میکانیات کی مساواتوں اوران کے مضمرات کو طبیعیات دان، کیمیا گر، انجینئراورحیاتیات دان روزمرہ زندگی کے بہت سارے مختلف علمی میدانوں میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ مساواتیں ہم عصر ٹیکنالوجی میں بہت کار آمد ہیں۔ کوانٹم میکانیات کے بغیر الیکٹرانکس مثلاّ ٹرانسسٹر کا کوئی وجود نہ ہوتا۔ ان کےعملی استمعال کے باوجود یہ مساواتیں پر اسرار اور کسی حد تک ناقابلِ فہم رہتی ہیں۔ کیوں کہ یہ محض یہ بتاتی ہیں کہ ایک طبعی نظام دوسرے طبعی نظام پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے، یہ نہیں بتا پاتیں کہ اس تعامل کے دوران اس طبعی نظام کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔

اس کا مطلب کیا ہوا ؟ کہ کسی نظام کی بنیادی حقیقت ناقابلِ بیان ہے؟ کیا اس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس اس پہیلی کو حل کرنے کے لئے ایک حصّے کی کمی ہے؟ یا کیا اس کا مطلب یہ ہے( اور جو مجھے بھی لگتا ہے) کہ ہمیں اس حقیقت کو مان لینا چاہیےکہ یہ تعامل ہی اصل حقیقت ہے۔ اس سے صحیح معنوں میں ہماراعلم بڑھے گا۔ ایسا مان لیںے سے ہم وہ کچھ کرنے کے قابل ہوں گے جس کے بارے میں ہم نے ابھی تک تصوّربھی نہیں کیا۔ لیکن اس سے نئے سوالات اور نئے اسرار جنم لیتے ہیں۔ اس کے باوجود، تجربہ گاہوں میں ان نظریات کی مساواتوں کواستعمال کرنے والے اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔ لیکن مضامین اورکانفرنسوں میں جو حالیہ سالوں میں کافی بڑھ گئی ہیں، طبیعات دان اورفلسفی اپنی تلاش جاری رکھتے ہیں۔ اپنے جنم کے ایک صدی بعد آج نظریہ کوانٹم کیا ہے۔۔۔ حقیقت کی اصل ماہیت میں ایک گہری ڈبکی؟۔۔۔۔ایک صریح غلطی (Blunder) جو محض حادثاتی طور پر کام کر گئی؟۔۔۔ یا پھر دنیا کی ساخت کے بارے کسی عمیق راز کی طرف اشارہ جس کو ہم ابھی مکمل طور پر سمجھ نہیں پائے؟

جب آئن سٹائن فوت ہوا تو اس کے سب سےبڑے نظریاتی حریف بوہر نے اس کے لیے نہایت جذباتی تعریفانہ کلمات کہے۔ جب کچھ سالوں بعد بوہرکی وفات ہوئی تو کسی نے اس کے کمرہ مطالعہ (Study Room) کے تختہ سیاہ کی تصویر لی۔ اس کے اوپر ایک ڈرائینگ بنی ہے۔ آئن سٹائن کے “روشنی کے ڈبّے والے تخیلی تجربے کی ڈرائینگ”۔ حرفِ آخر میں: خود کو للکارنے اور زیادہ سے زیادہ سمجھنے کی خواہش اورآخر میں سب سے اہم بات: شک۔

Categories
نان فکشن

وقت کی مختصر تاریخ؛ ایک تلخیص (باب چہارم)

سائنسی نظریات، خاص کر نیوٹن کے نظریہِ تجاذب کی روشنی میں فرانسیسی سائنسدان مارکس لپلاس(Laplace) نے یہ دلیل دی کہ کائنات کلی طور پر جبریتی (deterministic)ہے۔ اور سائنسی قوانین کا ایک سیٹ ایسا ہونا چاہیے کہ اگر ہمیں اس کی ماضی کی حالت پتا ہو تو وہ ہمیں کائنات کی مستقبل کی حالت کے بارے میں بتا سکے ۔ یہ بات نیوٹن کے قوانین کو استعمال کرتے ہوئے سورج اور دوسرے سیاروں کی مستقبل کی حالت کی پیش گوئی تک تو ٹھیک ہے لیکن لپلاس نے اس سے بھی آگے جا کر یہ کہا کہ ایسے قوانین نہ صرف نیوٹن کے نظریے بلکہ، بشمول انسانی رویے کے، کائنات میں موجود ہر شئے پر لاگو ہونے چاہیے۔

سائنسی جبریت کے نظریے کو ایسے لوگوں کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جن کے خیال میں اس سے خدا کی دنیا میں دست اندازی کی آزادی میں روکاوٹ آتی ہے۔ پھر بھی یہ موجودہ صدی کے آغاز تک ایک میعاری مفروضہ رہا۔ اس چیز کا پہلا اشارہ کہ ہمیں اس عقیدے کو ترک کرنا پڑے گا، رے لی اور جیمز جینز (Rayleigh and James Jeans) کی کی گئی کیلکولیشنز سے ملتا ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ کسی گرم جسم سے خارج ہو نیوالی شعاعوں کی توانائی لامحدود ہوتی ہے۔اس وقت کے یقین کردہ قوانین کے مطابق کسی بھی گرم جسم سے خارج ہونیوالی برقناطیسی شعاعوں کی توانائی تمام تعددات پر ایک جیسی رہتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک جسم ایک سیکنڈ میں دس سے بیس کھرب لہریں خارج کرتا ہے تو اس سے خارج ہونے والی توانائی ایک ایسے ایسے جسم کی خارج کردہ توانائی کے برابر ہو گی جو ایک سیکنڈ میں بیس سے تیس کھرب لہریں خارج کرتا ہے۔ اب اگر فی سیکنڈ خارج کردہ لہروں کی تعداد لا محدود ہے تو خارج کردہ توانائی بھی لامتناہی ہو گی۔

اس مضحکہ خیز نتیجے سے بچنے کے لیے 1900 میں جرمنی کے ایک سائنسدان میکس پلانک نے یہ فرض کیا کہ گرم اجسام سے خارج ہونے والی شعاعیں پیکٹوں کی شکل میں خارج ہوتی ہیں جن کی توانائی تعدد کے راست متناسب ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زیادہ تعدد پر جا کر پیکٹوں کی توانائی مہیا کردہ توانائی سے بھی زیادہ ہو جائے گی لہٰذا خارج ہونیوالی شعاعوں کی تعداد کم ہو جائے گی۔

کوانٹمی مفروضے نے گرم اجسام سے خارج ہونیوالی سعاعوں کا مسلہ تو حل کر دیا لیکن جبریت پر اس کے مضمرات 1926 میں کھلے جب وارنر ہائزنبرگ نے اصولِ غیر یقینیت پیش کیا۔اس کے مطابق اگر آپ کسی ذرے کی مستقبل کی سپیڈ اور مقام معلوم کرنا ہے تو آپ کو اس کی حال کی سپیڈ اور مقام نہایت درستگی سے معلوم ہونے چاہیے۔ کسی ذرے کا مقام معلوم کرنے کے لیے آپ اس پر روشنی ڈالتے ہیں۔ جب روشنی اس پر پڑنے کے بعد منتشر ہو گی تو اس کے مقام کا پتہ لگا لیا جائے گا۔کسی ذرے کے مقام کی زیادہ درست پیمائش تب ہو گی جب ہم کم طولِ موج کی لہر استعمال کریں۔ لیکن کم طولِ موج کی لہر استعمال کرنے سے اس کی توانائی زیادہ ہو جائے گی اور وہ اتنا ہی زیادہ ذرے کی رفتار کو بدل دے گی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ذرے کا مقام جتنی زیادہ درستگی سے معلوم ہو گا اس کی رفتار اتنی ہی نادرست ہو جائے گی۔یہی ہائزنبرگ کا اصولِ غیر یقینیت ہے کہ آپ چاہے جتنے بھی اچھے آلات استعمال کر لیں آپ کسی ذرے کا مقام اور رفتار(یا مومینٹم) ایک خاص حد سے زیادہ درستگی سے معلوم نہیں کر سکتے۔ اس حد کو پلانک کا مستقل کہتے ہیں۔

اصولِ غیر یقینیت نے دنیا کے متعلق ہمارے تصور کو یکسر بدل دیا۔ ااور اس کے ساتھ ساتھ لپلاس کا ایک جبریتی کائنات کے نظرے کا خواب بھی چکنا چور ہو گیا۔ چونکہ مستقبل کی صحیح صحیح حالت کا پتہ لگانے کے لیے آپ کے پاس حال کی رفتار اور مقام کی صحیح صحیح معلومات ہونی چاہیے جو کہ اب اصولِ غیر یقینیت کے لگائے گئے قدغن کی وجہ سے ممکن نہیں ہے۔اصولِ غیر یقینیت کو بنیاد بنا کر ڈیراک، شروڈنگر اور ہائزنبرگ نے 1920 کی دہائی میں ایک نئی میکانیات کو جنم دیا جو کوانٹم میکانیات کہلاتی ہے۔اس کے مطابق ذرات کی کوئی وضع شدہ رفتار یا مقام نہیں ہے بلکہ ان کی کوانٹمی حالتیں ہیں جو کہ رفتار اور مقام کا امتزاج ہیں۔

کوانٹم میکانیات کسی مشاہدے کے ایک قطعی نتیجے کی پیش گوئی نہیں کرتی بلکہ یہ اس کے بہت سارے ممکنہ نتائج بتاتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ کسی ایک نتیجے کے حاصل ہونے کا کتنا امکان ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی ایک نظام کا مشاہدہ کرتے ہیں تو یہ ہمیں بتائے گی کہ کتنے فیصد الف نتیجہ اور کتنے فیصد ب نتیجہ حاصل ہونے کے امکان ہیں لیکن کس مشاہدے میں کون سا نتیجہ حاصل ہو گا اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔آئن سٹائن کو کوانٹم میکانیات کے اس طرح امکانی ہونے پر سخت اعتراض تھا۔ اس کو اُس کے اس مشہور معقولے میں دیکھا جا سکتا ہے کہ “خدا چوسر نہیں کھیلتا “(God does not play dice)۔ لیکن باقی بہت سارے سائنسدان اس سے متفق تھے کیوں کہ ان مشاہدات سے جو نتائج حاصل ہوتے وہ تجربات کے ساتھ ہم آہنگ تھے۔درحقیقت یہ ایک بہت ہی زبردست نظریہ ہے جو جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کو بنیاد فراہم کرتا ہے۔

اگرچہ روشنی موجوں سے بنی ہوئی ہے لیکن پلانک کا نظریہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ بعض اوقات ان کو ذرے گمان کرنا مناسب ہے۔ اسی طرح ہائزنبرگ کا اصول ہمیں یہ بتاتا ہے کہ روشنی کے ذرات کو بعض اوقات موجوں کی صورت میں گمان کرنا مناسب ہے جن کا نہ تو کوئی خاص مقام ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی رفتار۔کوانٹم میکانیات کی بنیاد ایک نئی قسم کی ریاضی پر ہے جو دنیا کو موجوں یا ذروں کی صورت میں بیان نہیں کرتی بلکہ صرف مشاہداتِ عالم کو ان اصطلاحوں میں بیان کیا جا سکتا ہے۔کوانٹم میکانیات میں موجوں اور ذروں میں ایک دوہریت موجود ہے۔ کچھ مقاصد کے لیے ذورں کو موجوں کی صورت میں اور کچھ مقاصد کے لیے موجوں کو ذروں کی صورت میں گمان کرنا مناسب ہے۔ اس مظہر کا ایک اہم نتیجہ ذروں یا موجوں کے دو سیٹوں کے درمیان تداخل(interference) کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ تداخل کی ایک مثال صابن کے بلبلے پر مختلف رنگوں کا نظر آنا ہے۔ صابن کی تہہ کے اوپر ی اور نچلی سطح سے روشنی کا انعکاس ہوتا ہے۔ یہ روشنی جب آنکھ میں پڑتی ہے تو تداخل کی وجہ سے کچھ رنگ غائب ہو جاتے ہیں اور نتیجتاً ہمیں صابن کی سطح پر مختلف رنگ نظر آتے ہیں۔

کوانٹم میکانیات کی دوہریت کی بدولت تداخل ذرات میں بھی واقع ہو سکتا ہے۔ اس مظہر کو ذیل میں دی گئی دائیگرام میں دکھایا گیا ہے۔اس کو دو درزی تجربہ(double slit experiment) کہتے ہیں۔ شکل میں نظر آنے والی دیوار میں دو تنگ درزیں بنائی گئی ہیں اور اس کے ایک طرف روشنی کا ایک منبع رکھا گیا ہے۔ دسری جانب ایک سکرین موجود ہے۔ روشنی درزوں سے گزر کر سکرین پر پڑتی ہے۔ سکرین پر موجود کسی بھی ایک نقطے پر ہمیں فرنجیں(Fringes) نظر آتی ہے۔ ایسا تداخل کی وجہ سے ہوتا کیوں کہ دونوں درزوں سے نکلنے والی روشنی اس نقطے تک پہنچنے کے لیے مختلف فاصلہ طے کرتی ہے۔ جس کی وجہ سے اس نقطے پر آنے والی لہروں میں تداخل ہوتا ہے۔ اگر ہم روشنی کے منبعے کو الیکٹرانوں کے منبعے سے بدل دیں تو بھی فرنجیں ہی نظر آئیں گی۔

تداخل ایٹم کے متعلق ہماری فہم میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔جوہر کے کلاسیکی نظریات یہ کہتے ہیں کہ جب کوئی برقیہ مرکزے کے گرد چکر لگائے گا تو اسکی توانائی ختم ہوتی جائے گی اور وہ بالآخر مرکزے میں گر جائے گا ۔ لیکن اصل میں ایسا نہیں ہوتا۔ کوانٹم میکانیات یہ کہتی ہے کہ جب کوئی برقیہ جوہری مرکزے کے گرد چکر لگاتا ہے تو وہ ساکن امواج بناتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی بھی مدار، جس میں برقیہ چکر لگائے گا، کی لمبائی طولِ موج کا صحیح عددی ضعف ہو گی۔ یعنی ہر بار جب برقیہ ایک چکر پورا کرے گا تو اس کے ساتھ منسلک موج تعمیری تداخل کرے گی۔ باالفاظ دیگر الیکٹران صرف وہ مدار وجود رکھیں گے جن کے لیے تعمیری تداخل ہو۔

اسی مظہر کو حاصلِ تواریخ(Sum of histories) کی صورت میں بھی بیان کیا جا سکتا ہے جس کو فائن من(Feynman) نے متعارف کرایا۔ اس کے مطابق جب کو ذرہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا ہے تو وہ صرف ایک راستے پر نہیں چلتا بلکہ ہر ممکنہ راستے پر چلتا ہے۔ ان میں سے بہت سارے راستے ایک دوسرے کو منسوخ کر دیتے ہیں۔ جو بچ جاتے ہیں وہ الیکٹرانی مدار ہوتے ہیں۔

ان تصورات کی ریاضیاتی اشکال کی مدد سے ہم مزید پیچیدہ جوہروں اور سالموں کی ساخت معلوم کرنے کے قابل ہو گئے۔ سالمے دو یا دو سے زیادہ جوہروں سے مل کر بنے ہوتے ہیں اور تمام حیاتیاتی اجسام کا بنیادی جزو ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ کوانٹم میکانیات ہمیں ہمارے ارد گرد موجود تمام اشا کے بارے میں پیش گوئی کرنے کے قابل بناتی ہے۔

آئن سٹائن کا عمومی نطریہ اضافیت کائنات اکبر کی وضاحت کرتا ہے۔ یہ ایک کلاسیکی نظریہ ہے۔ایک کلاسیکی نظریہ ایسا نظریہ ہوتا ہے جس میں اصولِ غیر یقینیت کو شامل نہیں کیا جاتا۔لیکن پھر بھی یہ ہمیں صحیح نتائج دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تجاذبی میدان نہایت ہی نحیف ہے۔ تاہم کچھ مقامات ایسے ہیں، جیسا کہ بلیک ہول اور بگ بینگ، جہاں تجاذبی میدان اتنا قوی ہو جاتا ہے کہ کوانٹم میکانیات کو شامل کیے بنا گزارہ نہیں۔ ہمارے پاس ابھی ایسی کوئی تھیوری نہیں ہے جس میں عمومی اضافیت اور کوانٹم میکانیات کو یکجا کیا جا سکے لیکن ہمیں اس بات کا پورا پورا اندازہ ہے کہ یہ تھیوری کیسی ہو گی۔

Categories
نان فکشن

وقت کی مختصر تاریخ؛ ایک تلخیص (باب سوئم)

پھیلتی ہوئی کائنات

کائنات کے متعلق ہماری موجودہ تصویر 1924 سے شروع ہوتی ہے جب ایڈون ہبل نے یہ ثابت کیا کہ کائنات میں ہماری کہکشاں کے علاوہ اور بھی بہت ساری کہکشائیں موجودہیں اور ان کے درمیان بہت زیادہ فاصلے ہیں۔یہ ثابت کرنے کے لیے ہبل کو ان کہکشاؤں کے فاصلے درکار تھے۔ چونکہ یہ بہت دور تھیں اس لیے اسے بالواسطہ طریقے استعمال کرنے پڑے۔کسی ستارے کی ظاہری چمک دو چیزوں پر منحصر ہوتی ہے۔ اول یہ کہ وہ ہم سے کتنا دور ہے اور دوئم یہ کہ وہ کتنی روشنی خارج کرتا ہے۔قریبی ستاروں کے لیے ہم ان کا فاصلہ اور ظاہری چمک ناپ سکتے ہیں۔لہٰذا ان کی دمک (Luminescence) معلوم کی جا سکتی ہے۔اس کے برعکس اگر کسی دوسری کہکشاں میں ہمیں کسی ستارے کی دمک معلوم ہو تو ہم اس کی ظاہری چمک سے اس کا فاصلہ ناپ سکتے ہیں۔اس نے معلوم کیا کہہ کچھ خاص طرح کے ستاروں کی دمک ایک جیسی ہوتی ہے۔ لہٰذا اس نے دلیل دی کہہ اگر ہم ایسے ہی ستارے دوسری کہکشاؤں میں دھونڈ پائیں تو ان کی دمک سے ہم ان کا فاصلہ ناپ سکتے ہیں۔

اس طریقے سے ہبل نے نو کہکشاؤں کے فاصلے معلوم کیے۔اب ہم جانتے ہیں کہ ہماری کہکشاں چند سو ارب کہکشاؤں میں سے ایک ہے اور اس کے ایک سرے سے دوسرے تک کا فاصلہ ایک لاکھ نوری سال ہے۔اور اس کے مرغولے (Spiral) بازوؤں میں موجود ستارے آہستہ آہستہ اس کے مرکز کے گرد گھوم رہے ہیں۔ہمارا سورج ایک پیلا درمیانے سائز کا ستارہ ہے اور اس کے ایک مرغولی بازو کے اندرونی سرے پر موجود ہے۔

جب ستارے ہم سے اتنے دور ہیں کہ یہ ہمیں ایک نقطے کی طرح نظر آتے ہیں تو پھر ہم ان میں تفریق کیسے کر سکتے ہیں؟نیوٹن نے معلوم کیا کہ جب سورج سے آنے والی روشنی کو منشور(Prism) میں سے گزارا جاتا ہے تو وہ مختلف رنگوں میں منقسم ہو جاتی ہے۔اس کو ہم طیف (Spectrum) کہتے ہیں۔ہم کسی بھی ستارے یا کہکشاں سے آنے والی روشنی کا طیف معلوم کر سکتے ہیں۔مختلف ستاروں سے آنے والی روشنی کا طیف مختلف ہوتا ہے۔لیکن مختلف رنگوں سے نکلنے والی روشنی کی اضافی چمک ہمیشہ ایسی ہی ہوتی ہے جیسے ایک سرخ دمکتے ہوئے جسم سے نکلنے والی روشنی کی۔اور اس کا انحصار اس جسم کے درجہ حرارت پر ہوتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم کسی ستارے کے روشنی کے طیف سے اس کادرجہ حرارت بتا سکتے ہیں۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مختلف ستاروں کی روشنی کے طیف میں کچھ خاص رنگ موجود نہیں ہوتے اور یہ ہر ستارے کے لیے مختلف ہوتے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ ہر کیمیائی عنصر کچھ خاص رنگوں کے سیٹ کو جذب کر سکتاہے۔ اس سے یہ پتالگایا جا سکتا ہے کہ کس ستارے کے کُرہ ہوائی میں کون سے عناصرموجود ہیں۔

1920 میں جب ہیت دانوں نے کہکشاؤں کے طیف کی جانچ شروع کی تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے طیف میں بھی وہی رنگ غائب ہیں جو ہماری کہکشاں میں ہیں۔ لیکن وہ تمام کے تمام رنگ روشنی کے طیف کے سرخ سرے کی طرف منتقل ہو چکے ہیں۔اس بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے ڈاپلر اثر (Doppler effect)کو سمجھنا ہو گا۔ ہمیں پتا ہے کہ روشنی برقناطیسی امواج پر مشتمل ہےاور مرئی روشنی ان امواج کا چھوٹا سا حصہ ہے۔ہر موج کا ایک تعدد(Frequency) ہوتا ہے جو کسی کاص رنگ کو ظاہر کرتا ہے۔اگر روشنی کا ایک منبع ہم سے ایک مستقل فاصلے پر موجود ہے تو وہ جو امواج خارج کرے گا ان کا تعدد ہمارے لیے مستقل ہو گا۔یعنی ایک سیکنڈ میں ہم تک پہنچنے والی امواج کی تعداد مستقل رہے گی۔لیکن اگر منبع ہماری طرف حرکت کر رہا ہو تو یہ تعداد مستقل نہیں رہتی۔بلکہ ان کا تعدد بڑھنے لگتا ہے۔ اس وجہ سے جو روشنی ہم تک پہنچتی ہے وہ طیف کے نیلے سرے کی طرف منتقل ہو چکی ہوتی ہے۔ اس کو نیلا انتقال (Blue Shift) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر منبع ہم سے دور جا رہا ہو تو روشنی سرخ سرے کی طرف منتقل ہو جاتی ہے، اس کو سرخ انتقال (Red Shift) کہا جاتا ہے۔ رفتار اور تعدد کے درمیان اس تعلق کو ڈاپلر اثر کہا جاتا ہے۔

1929 میں ہبل نے یہ مشاہدہ کیا کہ وہ کہکشائیں جو ہم سے زیادہ دور ہیں وہ زیادہ رفتار سے ہم سے دور جا رہی ہیں۔یعنی کہکشاں کے فاصلے اور رفتار میں راست تناسب ہے۔اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ کائنات ساکن نہیں ہے بلکہ پھیل رہی ہے۔

نیوٹن کے تجاذبی نطریے سے یہ بات آسانی سے اخذ کی جا سکتی تھی کہ کائنات پھیل رہی ہے لیکن ساکن کائنات کے بارے میں ہمارہ عقیدہ اتنا پختہ تھا کہ سب اس کے ساکن ہونے کی تاویلیں تلاش کرتے رہے۔حتیٰ کہ آئن سٹائن بھی ساکن کائنات کا حامی تھا۔حالانکہ اس کی عمومی اضافیت کی مساواتیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کائنات پھیل رہی ہے۔لیکن اس نے اس کو ساکن بنانے کے لیے ایک نئی ٹرم(Term) متعارف کرا دی جو کونیاتی مستقل (Cosmological Constant) کہلاتی ہے۔یہ ایک رد تجاذبی قوت ہے جو یہ بتاتی ہے کہ زمان و مکان میں خود سے پھیلنے کی خوبی موجود ہے۔ جو مادہ اور توانائی سے پیدا ہونے والی کشش کو منسوخ کرتی ہے اور نتیجتاً ہمیں ایک ساکن کائنات ملتی ہے۔ان سب میں صرف ایک بندہ ایسا تھا جو عمومی اضافیت کی مساواتوں کو ایسے ہی لے رہا تھا جیسا مطلب وہ بتاتی ہیں۔اس نے ان کی وضاحت کا ذمہ اٹھایا۔

فرائیڈ مین نے دو سادہ سے مفروضے فرض کیے۔ اول یہ کہ ہم جس سمت بھی دیکھیں کائنات ایک جیسی ہی نطر آتی ہے۔ اور دوئم یہ کہ ہم کائنات میں جس جگہ پر بھی کھڑے ہو کے دیکھیں ایسا ہی دکھے گا۔

حال ہی میں ان دونوں مفروضوں کے بہت زبردست شواہد ملے ہیں۔1965 میں دو سائنسدان، آرنو پینزیاس (Arno Penzias)اور رابڑٹ ولسن (Robert Wilson) ایک خرد موجی شناسندے(Detector) کی آزمائش کر رہے تھے لیکن اس میں بار بار ان چاہا شور(Noise) موصول ہو رہا تھا۔ جب انہوں نے تمام ممکنہ خامیوں کو بھی دور کر دیا تب بھی یہ شور یا سگنل ویسے ہی رہے۔ انہیں اس بات کا اندازہ تھا کہ یہ سگنل کُرّہ ہوائی کے اندر سے نہیں آرہے کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو اس وقت کم سگنل موصول ہوتے جب شناشندہ سیدھا اوپر کی جانب ہوتا بہ نسبت اس کے جب وہ افق کی طرف ہوتا کیوں کہ افق کی جانب سے آتے ہوئے ان کو زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا۔مزید یہ کہ یہ سگنل دن، رات، مہینے اور سال بھر ایک جیسے ہی تھے۔

اب ہم جانتے ہیں کہ چونکہ یہ سگنل ہر سمت سے ایک جیسے ہی موصول ہوتے ہیں لہٰذا یہ ساری مشاہداتی کائنات کا سفر طے کر کے آتے ہیں جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کائنات ہر سمت میں ایک جیسی ہی دکھائی دیتی ہے۔ آرنو پینزیاس اور رابڑٹ ولس کو اس دریافت پر 1978 میں نوبل انعام سے نوازہ گیا۔

فرائیڈمین کا پہلا مفروضہ اس بات کی طرف اشارہ دیتا ہے جیسے ہمارا کائنات میں کوئی خاص مقام ہو لیکن اس کی ایک متبادل تصریح بھی ہے کہ اگر ہم کسی اور کہکشاں سے دیکھیں تب بھی کائنات ایک جیسی ہی دکھے گی۔ جو کہ فرائیڈمین کا دوسرا مفروضہ ہے۔ہمارے پاس اس بات کو ماننے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ ہم اس کو صرف عاجزانہ طو پر مانتے ہیں کہ کائنات ہر نقطے سے ایک جیسی ہی دکھے۔ یہ صورتحال ایک ایسے غبارے کی طرح ہے جس پر مساوی فاصلے پر نشانات لگے ہوں۔ جب ایسے غبارے کو پھلایا جائے گا تو ہر نشان دوسرے سے دور ہوتا جائے گالیکن کسی کو بھی مرکز نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ دو نقاط ایک دوسرے سے جتنے دور ہوں گے وہ اتنی ہی تیزی سے ایک دوسرے سے دور جائیں گے۔یعنی سرخ انتقال فاصلے کے راست متناسب ہے۔ اسی مظہر کو ایڈون ہبل نے بھی دریافت کیا۔

اپنے دو مفروضوں کو بنیاد بنا کر فرائیڈمین نے کائنات کا ایک ماڈل ڈھونڈا۔ لیکن حقیقت میں ایسا ایک نہیں بلکہ تین ماڈل ہیں۔
پہلے ماڈل میں کائنات پھیل رہی ہے لیکن اس کے پھیلنے کی رفتار وقت کے ساتھ کم ہو رہی ہے۔باالفاظ دیگر کہکشاؤں کے درمیان موجود کششِ ثقل ان کہکشاؤں کو ایک دوسرے کی طرف کھینچنا شروع کرد ے گی۔ اس طرح کی کائنات میں کہکشائیں صفر فاصلے سے پھیلنا شروع کرتی ہیں پھر ان کے درمیان فاصلہ فاصل قیمت کو پہنچتا ہے اور پھر کم ہوتے ہوتے صفر کو پہنچ جاتا ہے۔ یہی ماڈل فرائیڈ مین نے بھی دیا تھا۔

دوسری قسم کے ماڈل میں کائنات اتنی تیزی سے پھیل رہی ہے کہ کشِ ثقل کبھی اس کو روک نہیں پاتی۔ ایسی کائنات میں اجسام صفر فاصلے سے پھیلنا شروع کرتے ہی اور پھر یکساں رفتار سے پھیلتے ہی جاتے ہیں۔

تیسری قسم کے ماڈل میں جیسے جیسے کائنات پھیلتی ہے اس کے پھیلنے کی رفتار بتدریج کم ہوتی جاتی ہے لیکن یہ کبھی بھی اتنی کم نہیں ہوتی کہ کششِ ثقل ان کو واپس صفر فاصلے پر کھینچ سکے۔

پہلے فرائیڈمین ماڈل کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں کائنات سپیس میں لامتناہی نہیں ہے۔اور نہ ہی سپیس کہ کوئی حدہے۔اس میں تجاذب اتنا قوی ہے کہ سپیس کو خود پر ہی منحنی کر دیتا ہےیہ بالکل زمین کی سطح کی طرح ہے جس پر اگر آپ ایک سمت میں چلنا شروع کر دیں تو واپس اسی جگہ پر پہنچ جائیں گے جہاں سے چلنا شروع کیا تھا۔ لیکن یہ سطح سہ جہتی ہے۔

پہلی طرح کے فرائیڈ مین ماڈل میں سپیس زمین کی سطح کی طرح بندہے لہٰذا یہ وسعت میں محدود ہے۔دوسری طرز کے ماڈل میں اس کی شکل زین (Saddle) کی طرح ہے اور لہٰذا یہ وسعت میں لامتناہی ہے۔تیسرے اور آخری فرائیڈمین ماڈل میں یہ مستوی ہے اور وسعت میں لامتناہی ہے۔
لیکن کون سا فرائیڈمین ماڈل ہماری کائنات کو بیان کرتا ہے یہ دیکھنے کے لیے ہمیں کائنات کے پھیلاؤ کی شرح اور اس کی اوسط کثافت کا پتا ہونا چاہیے۔اور اس کی کثافت ایک خاص قیمت (جس کا تخمینہ اس کی پھیلاؤ کی شرح سے ملے گا) سے کم ہوئی تو کششِ ثقل اس کو روکنے میں ناکام رہے گی اور یہ ہمیشہ پھیلتی جائے گی۔ اور اگر کثافت اس فاصل قیمت سے زیادہ ہوئی تو ثقل اس کو واپس کھینچ لے گی اور یہ منہدم ہو جائے گی۔

پھیلاؤ کی شرح کو ہم ڈاپلر اثر سے ناپتے ہیں کہ کہکشائیں ہم سے کس رفتار سے دور جا رہی ہیں۔ اس حساب سے کائنات ہر ایک ارب سال میں پانچ سے دس فیصد پھیلتی ہےتاہم اس کی اوسط کثافت میں غیر یقینیت بہت زیادہ ہے۔ اگر ہم اپنی اور دوسری کہکشاؤں میں موجود ستاروں کی کمیت کو جمع کریں تو یہ کمیت پھلاؤ کو روکنے کے لیے درکار کمیت سے ایک سو گنا کم ہے۔ تاہم ہم جانتے ہیں کہ ستاروں اور کہکشاؤں کے درمیان تاریک مادہ موجود ہے اور اس کی کمیت کو بھی شامل کر لیا جائے تب بھی یہ کمیت پھیلاؤ کو روکنے کے لیے درکار کمیت سے دس گنا کم ہے۔ لہٰذا ہمارا موجودہ اندازہ یہ ہے کہ کائنات پھیل رہی ہے۔

فرائیڈمین کے تمام حل یہ بتاتے ہیں کہ آج سے تقریباً دس سے بیس ارب سال قبل کہکشاؤں کے درمیان فاصلہ صفر رہا ہو گا۔ اور کائنات کی کثافت اور سپیس کا انحنا لامتناہی ہو گا۔ اس کو اب بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ چونکہ ریاضی لامتناہی اعداد کا حساب نہیں لگا سکتی اس لیے اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہاں پر عمومی اضافیت بذاتِ خود لایعنی ہو جاتی ہے۔اس نقطے کو ریاضی دان وحدانیت(Singularity) کا نام دیتے ہیں۔ہمارے تمام نظریات میں یہ فرض کیا گیا ہے کہ زمان و مکان مستوی ہےاس کا مطلب یہ ہوا کہ وحدانیت پر یہ تمام لایعنی ہو جاتے ہیں۔اس کا یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ وہ تمام واقعات جو بگ بینگ سے پہلے وقوع پذیر ہوئے ان کا بگ بینگ کے بعد والے واقعات پر کوئی اثر نہ ہو گا۔یاپھر جو کچھ بگ بینگ کے بعد ہوا ہے اس کو استعمال کر کے یہ معلوم نہیں کیا جا سکتا کہ بگ بینگ سے پہلے کیا ہوا تھا۔ لہٰذا وہ تمام واقعات جو بگ بینگ سے پہلے ہوئے ان کو کسی تھیوری کا حصہ نہیں ہونا چاہیے لہٰذا ہم یہ کہتے ہیں کہ وقت کا آغاز بگ بینگ سے ہوا۔

بہت سارے لوگوں کو بگ بینگ کا تصور پسند نہ آیااس کی ایک مثال مستقل حالتی کائناتی نظریہ (Steady State Universe)ہے جو 1948 میں ہرمن بونڈی، فریڈ ہوئل اور ٹامس گولڈ نے پیش کیا۔ اس کے مطابق جیسے جیسے کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں ان کے درمیان نیا مادہ تخلیق ہو رہا ہے۔جس کی وجہ سے کائنات ایک جیسی ہی دکھتی ہے۔تاہم 1950 اور 1960 میں ہونے والے ریڈیائی موجوں کے مطالعے سے پتا چلا کہ کائنات در حقیقت پھیل رہی ہے۔ اس مطالعے میں موجود سائنسدانوں نے زمین پر موصول ہونے والی ریڈیائی لہروں کا مطالعہ کیا۔ اس میں دیکھا گیا کہ کچھ سگنل بہت قوی جب کہ دوسرے نحیف ہیں۔ اس کی تاویل یوں کی گئی کہ قوی سگنل قریب جب کہ نحیف دور کی کہکشاؤں سے موصول ہو رہے ہیں۔ لیکن پھر یہ بھی دیکھا گیا کہ مشترکہ منبوں کے سپیس کے اکائی حجم میں قوی کی نسبت نحیف منبوں کے اشاروں کی شدت زیادہ ہے، اس کی تاویل یہ تھی کہ ماضی میں یہ نحیف اشاروں کے منبے بھی ہمارے قریب قریب تھے جو اب دور جا چکے ہیں۔ باالفاظِ دیگر کائنات پھیل رہی ہے۔ اس نے مستقل حالتی کائناتی نظریے کا خاتمہ کر دیا۔

اس سوال کا جواب کہ کیا عمومی اضافیت بگ بینگ اور وقت کے آغاز کی پیش گوئی کرتی ہے برطانوی سائنسدان راجر پین روز نے دیا۔ راجر پین روز نے 1965 میں یہ ثابت کیا کہ جب کوئی ستارہ اپنی ہی کشش کے تحت منہدم ہوتا ہے تو اس کاحجم صفر ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمان و مکان کا انحنا لامتناہی ہو جاتا ہے۔ باالفاظِ دیگر زمان و مکان میں واحدانیت موجود ہے جو بلیک ہول کہلاتا ہے۔

پہلے پہل یوں لگا کہ پین روز کا تھیورم صرف ستاروں پر لاگو ہوتا ہے اور اس کا بگ بینگ یا واحدانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔میں نے اس تھیورم کو 1965 میں پڑھا۔ میں نے دیکھا کہ یہ تھیورم تب بھی اپنی حالت برقرار رکھتا ہے اگر آپ وقت کی سمت بدل دیں۔مطلب اگر انہدام پھیلاؤ بن جائے تب بھی۔ یعنی اگر آپ یہ سوچیں کہ کوئی ستارہ منہدم ہو کر وحدانیت کی طرف جانے کی بجائے وحدانیت سے شروع ہو کر باہر کی طرف پھیل رہا ہے۔یہ دلیل یہ ثابت کرتی ہے کہ فرائیڈ مین کی طرح کی کوئی بھی کائنات وحدانیت سے شروع ہوئی ہو گی۔1970 میں پین روز اور میں ریاضیاتی طور پر یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ اگر عمومی اضافیت صحیح ہے تو کائنات کا آغاز درحقیقت بگ بینگ سے ہی ہونا چاہیے۔ شروع میں کچھ حلقوں سے اس کی مخالفت کی گئی لیکن ایک ریاضیاتی تھیورم کے سامنے یہ مخالفت زیادہ دیر نہ ٹھہر پائی۔ ا ب تقریباً تمام سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ بگ بینگ ہی کائنات کا نقطہِ آغاز ہے۔لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر میں نے اپنا ذہن بدل لیا ہے اور سائنسدانوں کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ کائنات کے آغاز میں کوئی وحدانیت نہیں تھی۔ اس پر مزید بحث بعد میں آئے گی۔

چونکہ وحدانیت پر جا کر عمومی اضافیت بھی دم توڑ جاتی ہے اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک مکمل نظریہ نہیں ہے۔ اس پیمانے پر جا کر ہمیں بیسویں صدی کی دوسرے نظریے(کوانٹم میکانیات) کو بھی عمل میں لانا ہوگا۔ اور پھر عمومی اضافیت اور کوانٹم میکانات کے سنگم سے کوانٹم تجاذبی نظریے یا نظریہِ کل کی طرف جائیں گے۔

Categories
نان فکشن

وقت کی مختصر تاریخ؛ ایک تلخیص (باب دوئم)

باب دوئم
زمان اور مکان

کائنات کے بارے میں ہمارے موجودہ تصورات گلیلیو اور نیوٹن سے شروع ہوتے ہیں۔اس سے قبل ارسطو کے تصورات رائج تھے۔ ارسطو کے مطابق اجسام کی فطری حالت سکون کی ہے اور وہ اسی وقت حرکت کرتے ہیں جب ان پر کوئی قوت عمل کرتی ہے۔ اس حساب سے بھاری اجسام زمین کی جانب زیادہ تیزی سے گریں گے کیوں کہ ان پر زیادہ قوت عمل کرتی ہے۔

ارسطاطالوی روایت کے مطابق کائنات کے قوانین کو محض تخیل سے سمجھا جا سکتا ہے اور اس کے لیے کسی مشاہدے کی ضرورت نہیں ہے۔شاید اسی وجہ سے گلیلیو تک کسی نے ارسطو کے عقائد کو تجربے کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش نہ کی۔ کہا جاتا ہے کہ گلیلیو نے مختلف اجسام کو پیسا کے مینار سے گرا کر ان کی رفتاریں ماپیں۔ لیکن یہ کہانی غیر مستند ہے۔ پر گلیلیو نے اس جیسا کچھ کیا ضرور تھا۔اس نے اجسام کو سلوپ(Slope) پر سے لڑکھڑایا تھا۔ مثال کے طور پر ایک سلوپ جو لمبائی میں دس میٹر ہو اوراونچائی میں ایک میٹر ہو تو اس پر سے لڑکھڑائے گئے اجسام کی رفتار ایک میٹر فی سیکنڈ کے حساب سے بڑھے گی۔یعنی ایک سیکنڈ کے بعد اس کی رفتار ایک میٹر فی سیکنڈ ہوگی، دو سیکنڈ کے بعد دو میٹر فی سیکنڈ اور اسی طرح بڑھتی جائے گی۔اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سیسے کا کُرہ ایک پر (Wing) کی نسبت زیادہ تیزی سے گرے گا لیکن یہ اس لیے ہے کیوں کہ اس پر ہوا کی زیادہ مزاحمت عمل کرتی ہے۔اگر مزاحمت کو ختم کر دیا جائے تو دونوں ایک ساتھ گریں گے۔

گلیلیو کے ان تجربات کو نیوٹن نے اپنے قوانینِ حرکت کی بنیاد بنایا۔گلیلیو کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ قوت کا اصل کام اجسام کی رفتار کو تبدیل کرنا ہے۔یعنی اس میں اسراع کا پیدا ہونا ہے۔ یہ نیوٹن کا دوسرا قانون کہلاتا ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ اگر کسی جسم پر قوت عمل نہ کرے تو وہ یکساں رفتار سے حرکت کرتا رہے گا۔یہ نیوٹن کا پہلا قانون ہے۔ یہ قوانین پہلی بار نیوٹن کی کتاب ریاضیاتِ فطری فلسفہ میں چھپے۔

ارسطو اور گلیلیو اور نیوٹن کے تصورات کے درمیان اہم فرق یہ ہے کہ ارسطو کے مطابق اجسام کی فطری حالت سکون کی ہے۔جب کہ نیوٹن کے قوانین یہ بتاتے ہیں کہ سکون کا کوئی حتمی میعار نہیں ہے۔ہو سکتا ہے ایک جسم جو مشاہد الف کے مطابق سکون میں ہے وہ مشاہد ب کے مطابق حرکت میں ہو۔مثال کے طور پر اگر ہم کچھ دیر کے لیے زمین کی محوری حرکت کو نظر انداز کر دیں تو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ آیا کہ زمین ساکت ہے اور ریل گاڑی شمال کی طرف حرکت میں ہے یا ریل گاڑی ساکت ہے اور زمین جنوب کی طرف حرکت میں ہے۔مطلب یہ کہ اگر کوئی ریل گاڑی میں کچھ تجربات کرے تو اس پر بھی نیوٹن کے قوانین ایسے ہی لاگو ہوں گے جیسے زمین پر ہوتے ہیں۔لہٰذا یہ بتانے کا کوئی حتمی طریقہ نہیں ہے کہ ریل گاڑی حرکت میں ہے یا زمین۔

مطلق سکون کے عدم وجود کا مطلب یہ ہے کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ دو واقعات جو مختلف مقامات پر وقوع پذیر ہوتے ہیں وہ ایک ہی مقام پر ہوئے ہیں یا نہیں۔ فرض کریں ایک سم سم والا گیند ریل گاڑی کے اندر ایک جگہ پر دو ٹپے کھاتا ہے۔ ریل گاڑی میں موجود مشاہد کے مطابق گیند ایک ہی جگہ پر دو ٹپے کھائے گا جب کہ زمین پر موجود مشاہد کے مطابق گیند دو مختلف جگہوں پر ٹکرائے گا جو ایک دوسرے سے اتنا دور ہیں جتنا ایک سیکنڈ میں ریل گاڑی فاصلہ طے کرتی ہے۔مطلق سکون کا عدم وجود یہ بتاتا ہے کہ ہم اجسام کو مطلق مقام (یا مطلق سپیس )فراہم نہیں کر سکتے۔

ارسطو اور نیوٹن دونوں مطلق زمان پر یقین رکھتے تھے۔ ان کے مطابق وقت ہر مشاہد کے لیے ایک جیسا رہتا ہے۔ لیکن وقت مطلق اس وقت تک رہتا ہے جب تک اجسام بہت کم رفتار سے حرکت کرتے ہیں۔ جب اجسام کی رفتار روشنی کی رفتار کے قریب پہنچنے لگتی ہے تو وقت بھی مطلق نہیں رہتا۔
اس بات کی تصدیق کہ روشنی کی رفتار متناہی ہے سب سے پہلے اولے روئمر نے1676 میں کی۔ اس کے دیکھا کہ مشتری کے چاند کا اس کے پیچھے جانے اور پھر دوبارہ سے ظاہر ہونے کا وقت ایک جیسا نہیں تھا۔ اس نے کہا کہ چونکہ زمین اور مشتری دونوں ہی سورج کے گرد چکر لگاتے ہیں اس لیے ان کا درمیانی فاصلہ بدلتا رہتا ہے۔جس کی وجہ سے بعض اوقات مشتری کے چاند جلدی نظر آتے ہیں جب کہ بعض دفعہ یہ کافی دیر سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اس نے اس وقت کے موجود ڈیٹا (Data)کی مدد سے روشنی کی رفتار کی پیمائش بھی کی جو کہ ایک لاکھ چالیس ہزار میل فی سیکنڈ تھی۔ یاد رہے کہ روشنی کی موجودہ رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے۔

روشنی کی اشاعت کی پہلی تھیوری 1865 میں جیمز میکسویل نے پیش کی۔ میکسویل کی مساواتیں یہ بتاتی ہیں کہ روشنی موجوں کی صورت میں ایک مستقل رفتار سے سفر کرتی ہے۔ نیوٹن کی تھیوری نے پہلے ہی مطلق مکان کے تصور کو جھٹلا دیا تھا تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ روشنی کی یہ مستقل رفتار کس کے حساب(relative) سے ہے۔ سائنسدانوں کا خیال تھا کہ روشنی کہ یہ رفتار ایتھر(Ether) کے ریلیٹو ہے۔ ایتھر ایک فرضی میٹیریل ہے جو ساری کائنات میں پھیلا ہوا ہے اور روشنی اس میں سے سفر کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین بھی ایتھر کے اندر سے سفر کرتی ہے تو سورج کی طرف سے آنے والی روشنی کے رفتار زیادہ ہونی چاہیے جب زمین سورج کی طرف جا رہی ہو بہ نسبت اس کے جب یہ اس سے دور جا رہی ہے۔ اس چیز کو دیکھنے کے لیے مائکلسن اور مورلے نے 1881 میں ایک تجربہ کیا جس کا مقصد درج بالا پیش گوئی کو جانچنا تھا۔ لیکن اس کے تجربے کے نتائج کے مطابق روشنی کی رفتار مستقل رہتی ہے چاہے آپ (زمین) جس سمت میں بھی سفر کریں۔1887 اور 1905 کے درمیان اس تجربے کے نتائج کی بہت ساری تاویلیں پیش کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی بھی کارگر ثابت نہ ہوئی۔ 1905 میں البرٹ آئن سٹائن نے کہا کہ اگر ہم یہ مان لیں کہ وقت مطلق نہیں ہے تو ہمیں ایتھر کے تصور کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

خصوصی نظریہ اضافیت یہ کہتا ہے کہ اس چیز سے بالا تر کہ وہ کس رفتار سے حرکت کر رہے ہیں، فزکس کے قوانین تمام مشاہدوں کے لیے ایک جیسے رہتے ہیں۔ یہ بات نیوٹن کا نظریہ پہلے ہی بتا چکا تھا لیکن اب اس میں میکسویل کے نظریے کو بھی شامل کر لیا گیا۔ یعنی تمام مشاہد ین کے لیے روشنی کی رفتار مستقل رہے گی۔ نظریہ اضافیت کے نہایت ہی شاندار نتائج ہیں۔ اس میں پہلا کمیت اور توانائی کی برابری ہے جس کو مشہور مساوات E=mc2 کی شکل میں لکھا جاتا ہے۔ ایک اتنا ہی شاندار نتیجہ وہ ہے جس نے زمان و مکان کے متعلق ہمارے تصورات کو یکسر بدل دیا۔ نیوٹن کا نظریہ یہ کہتا ہے کہ اگر آپ کوئی اشارہ یا سگنل ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجتے ہیں تو مختلف رفتار سے حرکت کرنے والے مشاہد ایک ہی وقت ماپیں گے کیوں کہ نیوٹن کے نظریے میں وقت مطلق ہے لیکن وہ اس بات پر متفق نہیں ہوں گے کہ روشنی نے کتنا فاصلہ طے کیا کیوں کہ سپیس یا مکان مطلق نہیں ہے۔ لہٰذا ان کے لیے روشنی کی رفتار جو کہ فاصلے اور وقت کا حاصلِ ضرب ہوتی ہے، مختلف ہو گی۔ لیکن آئن سٹائن کی تھیوری میں چونکہ روشنی کی رفتار مستقل ہے اس لیے مختلف مشاہد فاصلے کو ابھی بھی مختلف ہی ماپیں گے۔ لیکن چونکہ اب روشنی کی رفتار مستقل ہے اس لیے وہ وقت جو کہ فاصلے اور روشنی کی رفتار کا حاصلِ تقسیم ہے اس کو بھی مختلف ماپیں گے۔بالالفظِ دیگر نظریہِ اضافیت نے مطلق زمانے کے تصور کو ختم کر دیا۔

ذیل میں دی گئی شکل میں ایک واقعے (Event) کی پیمائش کی جاتی ہے۔ ریڈار سے ایک اشارہ اس جگہ پر بھیجا جاتا ہے جہاں پر کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے۔ اشارے کا کچھ حصہ منعکس ہوتا ہے اور ایک اور وقت پر اسے پھر سے ریڈار کی مدد سے حاصل کر لیا جاتا ہے۔ واقعے کا وقت کل وقت کا آدھا ہوگا (جیسا کہ شکل میں دیکھایا گیا ہے)۔ اور واقعہ کس جگہ پر رونما ہوتا ہے اس کو وقت اور روشنی کی رفتار کے حاصلِ ضرب سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ذیل میں دی گئی تصویر زمانی مکانی ڈائیگرام کی ایک مثال ہے۔ مختلف مشاہد جو ایک دوسرے کے لحاظ سے حرکت میں ہوں گے وہ اس واقعے کے رونما ہونے کی زمان اور مکان کی مختلف قیمتیں ماپیں گے اور کسی بھی مشاہد کی پیمائش کو کسی دوسرے کی پیمائش پر کوئی برتری حاصل نہ ہو گی۔

یہ ایک عام تجربہ ہے کہ ہم سپیس میں کسی بھی نقطے کو تین اعداد یا محددات سے ظاہر کرتے ہیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ نقطہ ایک دیوار سے اتنے، دوسری سے اتنے جب کہ فرش سے اتنے فاصلے پر موجود ہے۔ لیکن محدددات کا یہ نظام خالصتاً ہماری اپنی پسند ہے۔ہم اسی نقطے کے مقام کو ظاہر کرنے کیے کوئی اور اعداد یا محددات لے کر بھی اس نقطے کا بالکل صحیح مقام پتا لگا سکتے تھے۔

ایک واقعہ ایک ایسی شئے ہے جو سپیس میں کسی خاص مقام اور کسی خاص وقت پر رونما ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کے مقام کو چار محددات کی مدد سے جانا جا سکتا ہے۔ یعنی تین محدد سپیس کے اور ایک وقت کا۔ لیکن خصوصی اضافیت میں سپیس اور وقت میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔بالکل ایسے ہی جیسے سپیس کے دو محددات میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ اس لیے ہم کسی نقطے کے مقام کو بجائے سپیس اور ٹائم کے محددات میں معلوم کرنے کے ایک چہار جہتی سپیس میں ظاہر کرتے ہیں جو کہ زمان و مکاں یا سپیس ٹائم کہلاتی ہے- اس کتاب میں میں زمانے یا وقت کو عمودی جب کی مکان یا سپیس کے کسی ایک محدد کو افقی سمت میں ظاہر کروں گا (سپیس کے باقی دو محددات کو نظر انداز کیا گیا ہے)۔ یہ ڈائیگرام زمانی مکانی ڈائیگرامز کہلاتی ہیں۔

ذیل میں دی گئی ڈائیگرام میں وقت کو عمودی سمت میں سالوں میں جب کہ فاصلے کو افقی سمت میں میلوں میں ماپا گیا ہے۔ زمان ومکان میں سورج اور الفا قنطوری عمودی سمت میں حرکت کرتے ہیں۔سورج سے نکلی ہوئی ایک شعاع وتری راستہ لیتے ہوئے چار سال میں الفا قنطوری تک پہنچتی ہے۔

جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ میکسویل کی مساواتیں یہ بتاتی ہیں کہ چاہے روشنی کا منبہ کسی بھی رفتار سے حرکت کر رہا ہو، روشنی کی رفتار مستقل رہتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب روشنی کسی منبہ سے نکلتی ہے تو وہ ایک کرُے کی شکل میں ہر طرف پھیلتی ہے۔ ایک سیکنڈ کے دس لاکھویں حصے کے بعد اس کُرے کا رداس 300 میٹر جب کہ بیس لاکھویں حصے کے بعد یہ رداس بڑھ کر 600 میٹر ہو جائے گا اور اسی طرح بتدریج بڑھتا جائے گا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک ندی کی سطح پر لہریں پیدا ہوتی ہیں۔یہ لہریں وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ رداس کے دائرے کی صورت میں پھیلتی جائیں گی۔

اگر ہم تین ابعادی(Three dimensional) ماڈل کا تصور کریں جس میں دو ابعاد ندی کی سطح جب کہ تیسری وقت کی سمت کو ظاہر کرے تو یہ لہریں ایک مخرطیہ (Cone) بنائیں گی۔جس کی نوک اس وقت اور مقام پر ہوگی جب پتھر پانی میں گرا تھا۔ اسی طرح کسی بھی واقعے سے پھیلنے والی روشنی بھی چار ابعادی زمان و مکان میں تین ابعادی مخروطیہ بناتی ہے۔ یہ مخروط اس واقعے کی مستقبل کی نوری مخروط (Light Cone) کہلاتی ہے۔ اسی طرح ہم ایک مخروط بنا سکتے ہیں جو ماضی کی نوری مخروط کہلاتی ہے۔ یہ ان واقعات کا مرقع یا سیٹ ہوگی جن سے روشنی کی شعاع مذکورہ واقعے تک پہنچتی ہے۔

کسی واقعےP کے ماضی اور مستقبل کی نوری مخروطیں زمان و مکان کے کسی بھی خطے کو تین حصوں میں تقسیم کرتی ہیں۔کسی واقعے کا مطلق مستقبل وہ خطہ ہو گا جو مستقبل کی نوری مخروط کے اندر ہو گا۔ یہ ان واقعات کا سیٹ ہو گا جو ممکنہ طور پر اس بات سے اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ واقعے P پر کیا ہوا ہے۔ وہ تمام واقعات جو مستقبل کی نوری مخروط کے باہر رونما ہوتے ہیں ان پر P پر ہونے والے حادثات کا کوئی اثر نہیں ہوتا کیوں کہ ان تک روشنی ابھی نہیں پہنچ پاتی۔P کامطلق ماضی وہ خطہ ہے جو ماضی کی نوری مخروط کے اندر موجود ہوتا ہے۔یہ ان تمام واقعات کا سیٹ ہے جن سے اشارے روشنی یا اس سے کم رفتار سے سفر کرتے ہوئے P تک پہنچتے ہیں۔لہٰذا یہ ان واقعات کا سیٹ ہوا جو ممکنہ طور پر P پر وقوع پذیر ہونے والے واقعات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔یعنی اگر اگر آپ کو یہ پتا ہو کہ P کی ماضی کی نوری مخروط میں کیا ہوا تھا تو آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ Pپر کیا ہوگا۔ زمان و مکان کا وہ تمام خطے جو P کی ماضی یا مستقبل کی نوری مخروط کے باہر موجود ہیں ان پر یا ان کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا کہ P پر کیا ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر سورج ابھی چمکنا بند کر دے تواس کا فوری طور پر زمین پر اثر نہیں ہو گا۔ کیوں کہ زمین سورج کے مستقبل کی نوری مخروط میں نہیں آتی۔ بلکہ زمین پر اس کا پتا آٹھ منٹ کے بعد چلے گا کیوں کہ سورج کی روشنی آٹھ منٹ میں زمین پر پہنچتی ہے اور آٹھ منٹ کے بعد زمین سورج کے اس واقعے کی مستقبل کی مخروط میں ہوگی جب اس نے چمکنا چھوڑا تھا۔

اسی طرح دوردراز کے ستاروں سے آنے والی روشنی لاکھوں سال کا سفر طے کر کے ہم تک پہنچتی ہے۔ تو ایک لحاظ سے ہم ان ستاروں کے ماضی میں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

خصوصی نظریہ اضافیت اس وقت صحیح نتائج دیتا ہے جب اجسام کی رفتار روشنی کی رفتار کے قریب قریب ہوتی ہے۔ لیکن یہ نیوٹن کے نظریہ تجاذب کے ساتھ یکساں نہیں ہے۔نیوٹن کا نظریہِ تجاذب یہ کہتا ہے کہ دو اجسام کے درمیان قوتِ کشش ان کے درمیان فاصلے کے مربع کے بالعکس متناسب ہوتی ہے۔ اس کو مطلب یہ ہوا کہ اگر اجسام کے درمیان فاصلے کو بدلا جائے تو اس کا اثر دوسرے جسم پر فوری محسوس کیا جائے گا۔جو کہ خصوصی اضافیت کے خلاف ہے جو یہ کہتا ہے کہ کوئی بھی چیز روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی سے سفر نہیں کرسکتی۔1915 میں آئن سٹائن نے ایک تجاذبی نظریہ پیش کیا جو کہ خصوصی اضافیت کے ساتھ یکساں تھا۔ یہ اب عمومی نظریہِ اضافیت کے نام سے جانا جاتا ہے۔

عمومی نظریہ اضافیت یہ کہتا ہے کہ تجاذب ایک قوت نہیں ہے بلکہ زمان و مکان کے منحنی(curved) ہونے کا نتیجہ ہے۔ کمیت اور توانائی زمان و مکان میں انحنا پیدا کرتے ہیں۔ زمین اور دوسرے اجسام اس انحنائی زمان و مکان میں سیدھے راستے پر چلتے ہیں جو کہ جادیاتی (Geodesic) کہلاتا ہے۔ جادیاتی یا جیوڈیزک دو نقاط کے درمیان کم سے کم فاصلہ ہوتا ہے۔عمومی اضافیت میں اجسام چہار جہتی زمان و مکان میں ایک سیدھی قطار میں حرکت کرتے ہیں لیکن ہماری سہ جہتی زمان و مکان میں وہ منحنی راستوں پر چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔سورج بھی اپنے اردگرد زمان ومکان میں اس طرح کا انحنا پیدا کرتا ہے کہ زمین اس کے گرد گھومتی ہوئی نظر آتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ روشنی بھی زمان و مکان میں ایک جادیاتی یا جیوڈیزک پر چلے گی اور اس طرح ہمارے سہ جہتی(Three dimensional) زمان و مکان میں سیدھے راستے پر چلتی ہوئی نظر نہیں آئے گی۔عمومی اضافیت یہ پیش گوئی کرتی ہے کہ تجاذبی میدان کی وجہ سے روشنی اپنے راستے سے مڑ جائے گی۔اس لحاظ سے دور دراز کے ستارے سے آنے والی روشنی جب سورج کے پاس سے گزرے گی تو اپنے راستے سے مڑ جائے گی اور اس طرح اس ستارے کا ظاہری مقام بدل جائے گا۔ لیکن عام حالات میں سورج کی روشنی کی وجہ سے یہ دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔لیکن چونکہ سورج گرہن کے دوران سورج کی روشنی ہم تک نہیں پہنچ پاتی تو اس منظر کو آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔اس مظہر کی تصدیق 1919 میں لگنے والے سورج گرہن کے دوران کی جانے والے مشاہدات سے کی گئی۔

عمومی اضافیت کی ایک پیش گوئی یہ بھی ہے کہ بھاری اجسام کے پاس وقت سست روی سے گزرتا ہے۔اس کی وجہ توانائی اور تعدد(Frequency) کے درمیان راست تناسب ہے۔ جب روشنی کی ایک کرن اوپر کی جانب جاتی ہے تو اس کی توانائی کم ہوتی ہے۔ یعنی اس کا تعدد کم ہوتا ہے یا طولِ موج بڑھ جاتا ہے۔اس سے بلندی پر کھڑے ایک مشاہد کو یوں لگے گا جیسے نیچے واقعات بہت آہستہ آہستہ وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔اس امر کی تصدیق 1962 میں کیے گئی ایک تجربے میں کی گئی۔

نیوٹن کے قوانینِ حرکت نے مطلق مکان سے آزادی دلائی اور نظریہ اضافیت نے مطلق زمان سے۔1915 سے پہلے زمان و مکان کو ایک جامد سٹیج کی مانند سمجھا جاتا تھاجس میں حاثات وقوع پذیر ہوتے تھے لیکن ان کا اس زمان ومکان پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ عمومی اضافیت میں زمان و مکان متحرک مقداریں ہیں۔ جب اجسام حرکت کرتے ہیں یا ایک دوسرے پر قوت لگاتے ہیں تو وہ زمان و مکان پر اثر ڈالتے ہیں۔اور بدلے میں زمان ومکان اجسام کی حرکات پر اثر انداز ہوتا ہے۔جس طرح آپ کائنات میں ہونے والے واقعات کو زمان و مکان کے بغیر بیان نہیں کر سکتے اسی طرح عمومی اضافیت میں کائنات کے باہر زمان ومکان کا سوال ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔

Categories
نان فکشن

ہگز بوزان اور عبدالسلام

تحریر: ڈاکٹر عقیل احمد
مترجم: فصی ملک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قدرت کی چار بنیادی قوتیں، برقناطیسی قوت، نحیف نیوکلیائی قوت، قوی نیوکلیائی قوت، اور کششِ ثقل، ہیں۔برقناطیسیت کا مشاہدہ روز مرہ کی زندگی میں کیا جا سکتا ہے،جیسا کہ آسمانی بجلی(Lightening) ایک قدرتی عمل ہے۔نحیف نیوکلیائی قوت کا اظہار تابکاری، جس کو سرطان کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، میں ہوتا ہے۔دوسری جانب قوی نیوکلیائی قوت جوہری مرکزہ(اولیے اور تعدیلیے) کو اکٹھا رکھنے کی موجب ہے۔ جب کہ کششِ ثقل کا مشاہدہ روز مرہ کی زندگی میں کیاجاتا ہے، مثال کے طور پر،نظامِ شمسی کے ستارے کششِ ثقل کی وجہ سے ہی سورج کے گرد گھومتے ہیں۔

اس چیز کا جائزہ لینا نہایت اہم ہے کہ برقناطیسیت اور کششِ ثقل طویل حدودی(long range) قوتیں ہیں، یعنی ان کا اثر طویل فاصلوں پر بھی ہوتا ہے۔جب کہ نحیف اور قوی نیوکلیائی قوتوں کا اظہار بہت کم فاصلوں پر ہوتا ہے، جیسا کہ جوہر کے مرکزہ کے اندر، جس کا سائز 10-15 میٹر ہوتا ہے۔کششِ ثقل باقی تینوں قوتوں کی نسبت کمزور ہے اور اپنا اظہار بھاری اجسام پر کرتی ہے۔چونکہ بنیادی ذرات، جیسا کہ برقیے اور کوارکس( جن سے مل کر اولیے اور تعدیلیے بنے ہوتے ہیں) بہت چھوٹے ہوتے ہیں اس لیے یہ باقی تین قوتوں کی نسبت کششِ ثقل کا اثر کم محسوس کرتے ہیں۔اس لیے طبیعیات دان بنیادی ذرات کی خصوصیات کے مطالعے میں عمومی طور پر کششِ ثقل کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔لہٰذا ہمارے پاس تین قوتیں باقی بچتی ہیں، برقناطیسیت اور قوی اور نحیف نیوکلیائی قوتیں۔

تمام قوتیں جو اوپر بیان کی گئی ہیں ذرات کے درمیان قوت بردار ذرات (force carrier particles)سے عمل کرتی ہیں، یہ قوت بردار ذرات گیج بوزانزgauge bosons) ) کہلاتے ہیں۔مثال کے طور پر دو برقیوں کے درمیان برقناطیسی قوت ضیائیوں(photons) کے ذریعے عمل کرتی ہے۔اس مظہر کوبیڈمنٹن(badminton)کے کھیل سے آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ بیڈ منٹن کے دو کھلاڑیوں کے درمیان قوت چِڑی(shuttlecock) کے ذریعے پہنچتی ہے، بالکل اسی طرح بنیادی قوتیں گیج بوزانز کے ذریعے پہنچتی ہیں۔چناچہ بنیادی قوتیں چار قسم کی ہیں اس لیے گیج بوزانز بھی چار مختلف اقسام کے ہیں اور ہر قوت کی نوعیت پر منحصر کرتے ہوے ان کی خصوصیات بھی مختلف ہیں۔ہمارے مقصد کے لیے، جو کہ ہگزمیدان/بوزان کو سمجھنا ہے، صرف دو قوتیں، برقناطیسیت اور نحیف نیوکلیائی قوت، اہم ہیں۔

جیسا کہ ہم نے واضح کیا ہے کہ برقناطیسیت ایک طویل حدودی قوت ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو دو بار شدہ اجسام(جیسا کے دو برقیے)کے درمیان تب بھی محسوس کیا جا سکتا ہے جب ان کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ ہو۔اس لیے چِڑی (ضیائیوں) کو بے کمیت ہونا چاہیے۔اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ برقناطیسیت طویل حدودی قوت ہے کیوں کہ اس کے قوت بردار ذرات( ضیایئے) بے کمیت ہیں۔ اب ہم نحیف نیوکلیائی قوت کو فرض کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ یہ بہت کم فاصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے، مثال کے طور پر جوہری مرکزہ کے سائز تک، جو کہ 10-15 میٹر ہے۔چڑی کی تمثیل سے اب آپ اس پہیلی کا جواب دے سکتے ہیں کہ نحیف نیوکلیائی قوت اتنی قریب حدودی کیوں ہے؟جواب بالکل آسان ہے، اگر ہم چِڑ ی (قوت بردار ذرات) کو بہت زیادہ وزنی بنا دیتے ہیں تو وہ بہت کم فاصلہ طے کرے گی۔لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ نحیف نیوکلیائی قوت کے قوت بردار ذرات “گیج بوزانز” وزنی ہیں اس لیے یہ قریب حدودی ہے۔یہ گیج بوزانز W+ اور W- کہلاتے ہیں جب کہ ± ان بوزانز کے اوپر برقی بار کو ظاہر کرتا ہے۔

ذراتی طبیعیات میں ایک بہت ہی اہم اصول ہائے تشاکل (گلوبل/گیج) (global/gauge symmetries)ہے۔ہائے تشاکل (گلوبل) عمومی طور پر بہت گنجلک ہے مگر اس کی توضیح آسان طریقے سے کرنے کے لیے ہم گردشی تشاکل (rotational symmetry) کی مثال لیتے ہیں۔مثال کے طور پر اگر ہم ایک کُرے (sphere)کو لیتے ہیں(جیسا کہ فٹ بال) اور اسے کسی بھی سمت میں گردش دیتے ہیں تو یہ بالکل ایسے ہی دکھے گا جیسا کہ گردش دینے سے پہلے تھا۔اس لیے ہم کہ سکتے ہیں کہ کُرہ گردش کے تحت تشاکل پذیر یا تشاکلی(symmetric) ہے۔ذراتی طبیعیات کی زبان میں ہم اس کو یوں کہتے ہیں کہ یہ جسم(کُرہ) کچھ تحویلات(گردش) کے تحت غیر متغیر(invariant) ہے۔اگر ایک نظریہ کچھ تحویلات کے تحت غیر متغیر(تشاکل پذیر) ہے تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر اس نظریےکو تحول پذیر(transform) کیا جائے(جیسا کہ گردش دینا) تو یہ ہمیں بالکل وہی نتائج دے گا۔

اگر ہمارے پاس کسی نظریے میں گیج تشاکل موجود ہو تو ہمیں مطلوب یہ ہوتا ہے کہ یہ نظریہ کچھ خاص گیج تحویلات کے تحت گیج متغیر یا گیج تشاکلی(gauge symmetric) ہو۔یہ پتا چلا ہے کہ وہ تمام نظریات جن کے قوت بردار ذرات(gauge bosons) بے کمیت ہیں، کچھ خاص گیج تحویلات کے تحت گیج غیر متغیر(gauge invariant) ہوتے ہیں، جیسا کہ برقنا طیسیت۔جب کہ وہ نظریات جن کے قوت بردار ذرات وزنی ہوتے ہیں وہ گیج غیر متغیر نہیں ہوتے، جیسا کہ نحیف نیوکلیائی قوت۔یہ 1950 اور 1960 کے اوائل میں نظری طبیعیات دانوں کے لیے ایک بہت بڑی پہیلی رہی ہے کہ کیسے نحیف نظریے، جس کے ذرات گیج متغیر ہوتے ہیں، کو گیج غیر متغیر بنایا جائے۔

چونکہ وزنی گیج بوزانز والے نظریات گیج غیر متغیر نہیں ہوتے، اس لیے ہم کہتے ہیں کہ تشاکل ٹوٹ چکا ہے(symmetry is broken)۔اس وقت کے نظری طبیعیات دانوں خاص کر نامبو اور گولڈ سٹون نے گلوبل تشاکلی نظریات پر ٹوٹے تشاکل(broken symmetry) کا آزادانہ مطالعہ کیا (ایک گلوبل تشاکل کو گیج میدا ن کے تعارف سے گیج تشاکل کے مقام پر ترقی دی جا سکتی ہے)۔گولڈ سٹون نے ایک قضیے(theorem) کی بنیاد رکھی کہ اگر ایک گلوبل تشاکل یک لخت ٹوٹے تو ہمارے پاس بے کمیت عددیے(massless scalars) ہونے چاہیے (جن کی غزل (spin) صفر اور مکان میں کوئی خاص سمت نہیں ہوتی)۔ ایک سال بعد گولڈ سٹون، عبدالسلام اور وائن برگ نے گولڈ سٹون کے قضیے کو ثابت کیا کہ ٹوٹے تشاکل بے کمیت عددی ذرات کو جنم دیتے ہیں جو کہ گولڈ سٹون بوزانز کہلاتے ہیں۔ یہ اس وقت ایک بہت شاندار نتیجہ تھا۔لیکن ابھی بھی یہ اس مسلے کو حل نہیں کرتا کہ بے کمیت گیج بوزانز کو کمیت کیسے دی جائے۔

1964 میں اینگلرٹ اور براوٹ نے اپنا بہت اہم تحقیقی مقالہ لکھا، جس کو کچھ ہی ہفتے بعد ہگز نے بھی آزادانہ طور پر حاصل کیا۔اپنے ان مقالوں میں انہوں نے دکھایا کہ اگر تشاکل یک لخت ٹوٹتا ہے تو بے کمیت گیج بوزانز گولڈ سٹون بوزانز کو تناول فرما کر کمیت حاصل کر لیتے ہیں۔یہ بے کمیت گیج بو زانز کو کمیت دینے والے شاندار مسلے کو حل کرتا ہے۔تشاکل کے یک لخت ٹوٹنے کے تصور کو اب براوٹ-اینگلرٹ- ہگز میکانزم (BEH mechanism) یا پھر صرف ہگز میکانزم کہا جاتا ہے۔اینگلرٹ اور ہگز کو 2012 میں فزکس کے نوبل انعام سے نوازہ گیا (بدقسمتی سے براوٹ 2011 میں وفات پا گیا اور انعام میں اپنا حصہ حاصل نہ کر سکا)۔یہاں اس بات کا ذکر کرنا بہت اہم ہے کہ براوٹ، اینگلرٹ اور ہگز کے پیپر کے کچھ ہی ہفتے بعد امپیریل کالج میں موجود پروفیسرعبدالسلام کے گروپ (گُرالنک، ہیجن، کبل) نے بھی یہی نتائج آزادانہ طور پر حاصل کیے اور ان کا پیپر اپنے مضمرات میں زیادہ تفصیلی تھا۔ان کے اس شاندار کام کے اعتراف میں 2010 میں براوٹ، اینگلرٹ، ہگز، ہیجن، کبل اور گُرالنک کو امیریکن فزیکل سوسائٹی کی طرف سے جے جے سکورائی انعام برائے ذراتی نظری طبیعیات سے نوازا گیا۔

گیج بوزانز کو کمیت دینے والے ہگز میکانزم کا اجراع ہونے کے بعد 1967 میں عبدالسلام اور سٹیون وائن برگ نے آزادانہ طور پر ایک ایسا ماڈل پیش کیا جو نحیف نیوکلیائی قوت اور برقناطیسی قوت کو یکجا کرتا تھا۔سلا م نے اس نظریے کو نحیف برقی نظریے (electroweak theory) کا نام دیا۔جو کہ ا ب قوی نیوکلیائی قوت کی شمولیت کے بعد ذراتی طبیعیات کے میعاری نمونے (standard model)کے طور پر جانا جاتا ہے۔نحیف برقی نظریے میں سلام اور وائن برگ نے واضح طور پر ہگز میکانزم کو استعمال کرتے ہوے نحیف نیوکلیائی قوت کے قوت برداروں کی کمیتوں کا حساب لگایا، چونکہ یہ ایک قریب حدودی قوت ہے جب کہ برقناطیسی قوت کے قوت برداروں کو بے کمیت رکھا گیا کیوں کہ یہ ایک طویل حدودی قوت ہے۔ میعاری نمونے میں نہ صرف گیج بوزانز اپنی کمیت ہگز میکانزم کے ذریعے حاصل کرتے ہیں بلکہ دوسرے تمام وزنی ذرات جیسا کہ برقیے اور کوارکس اپنی کمیت ہگز میدان کے ذریعے حاصل کرتے ہیں جو کہ سپیس میں برابر پھیلا ہوا ہے۔سلام-وائن برگ کا نظریہ( نحیف برقی نظریہ) ذراتی طبیعیات کے کامیاب ترین نظریات میں سے ایک ہے۔ ہگز میدان اور اس کے متعلقہ ہگز ذرے کے علاوہ اس کی بہت ساری اہم پیشین گوئیاں ہیں۔نظریے نے ایک نئی قسم کے قوت برداروں کی پیشین گوئی کی جس کی ضیائیے کی طرح کوئی بار نہیں لیکن W بوزانز کی طرح کمیت تھی۔ یہ Z بوزان کہلاتا ہے۔ 1970 کے اوائل میں ذرہ Z بوزان اور اس کا متعلقہ قوت بردار رو (force carrier current)سرن (CERN) میں دریافت کر لیا گیا۔نتیجتاً 1979 میں پاکستان کے عبدالسلام اور امریکہ کے سٹیون وائن برگ اور شیلڈن گلیشو کو فزکس کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔

میعاری نمونے کا آخری گمشدہ ٹکرا،ہگز بوزان،بالاخر اپنی پیشین گوئی کے پچاس سال بعد 4 جولائی 2012 کو عظیم ثقیلہ تصادم گر (Large hadron collider) میں سرن کے مقام پر دریافت کر لیا گیا۔سرن فرانس اور سوٹزرلینڈ کی سرحد پر موجود 27 کلومیٹر لمبی ایک زیرِ زمین مشین ہے۔مشاہد شدہ ذرے کی خصوصیات کا جائزہ دنیا بھر کے سائنسدانوں نے لیا اور یہ دیکھا گیا کہ اس کی خصوصیات بالکل ایسی ہی ہیں جس کی پیشین گوئی سلام۔وائن برگ نظریہ یا میعاری نمونہ کرتا ہے۔ہگز بوزان کی دریافت نظری طبیعیات کے لیے بہت بڑی جیت ہے اور اس کی دریافت کے ساتھ میعاری نمونہ اب مکمل ہو چکا ہے اور موجودہ دن تک سب سے کامیاب نظریہ ہے۔ ذراتی طبیعیات کے میعاری نمونے نے تقریباً طبیعیات میں 15 نوبل انعامات جیتے ہیں اور آخری انعام اس سال (2012 میں) میں اینگلرٹ اور ہگز کو BEH میکانزم (ہگز میکانزم) پر دیا گیا۔

بحث سمیٹتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ عبدالسلام نے کائنات کے متعلق ہماری موجودہ فہم کو حاصل کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔عبدالسلام گزشتہ صدی کا ایک عظیم سائنسدان ہی نہیں تھا بلکہ تیسری دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترویج کے لیے ان کی خدمات کا کوئی ثانی نہیں ہے۔وہ سائنسی اکادمی برائے تیسری دینا(TWAS) اور عبدالسلام بین الاقوامی مرکز برائے نظری طبیعیات (ICTP)، جو کہ اٹلی کے شہر ٹریسٹے میں موجود ہے،کے بانی ہیں۔ عبدالسلام بین الاقوامی مرکز برائے نظری طبیعیات دنیا کے صفِ اول کے اداروں میں شامل ہے جہاں تیسری دنیا کے ممالک سے طالب علم اور سائنسدان طبیعیات میں ہونے والی جدید تحقیق سے فیض یاب ہونے آتے ہیں۔ہم اس مضمون کا خاتمہ عبدالسلام کے مندرجہ ذیل قول کیساتھ کرتے ہیں ” سائنسی سوچ تمام انسانیت کا مشترکہ اثاثہ ہے”۔