Categories
نان فکشن

روشنی کے ذرّات (تحریر: کارلو رویلی، ترجمہ: فصی ملک، زاہد امروز)

دوسرا سبق: روشنی کے ذرّات (کوانٹا)
کارلو رویلی
ترجمہ: زاہد امروز، فصی ملک

اسی سلسلے کے مزید اسباق پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

بیسویں صدی کی فزکس کے دواہم ستون،آئن سٹائن کا نظریہ عمومی اضافیت (جس کے بارے میں میَں نے گزشتہ سبق میں بات کی) اورکوانٹم میکانیات (جس کے متعلق میَں اس سبق میں بات کروں گا)، اپنے بنیادی تصوّرات میں اس قدر الگ تھے کہ ایک دوسرے سے مزید مختلف نہیں ہو سکتے تھے۔ البتہ دونوں نظریات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ فطرت کی ساخت ایسی نہیں ہے جیسی بظاہر نظرآتی ہے۔ یہ اس سے کہیں زیادہ لطیف ہے. عمومی اضافیت ایک ایسا جامع علمی گوہر ہے جس کو ایک تنہا دماغ نے جنم دیا۔ یہ نظریہ کششِ ثقل،زمان و مکاں(Space and Time) کا ایک مربوط تصورہے۔ جب کہ دوسری جانب کوانٹم میکانیات یا کوانٹم فزکس نے بھی اتنی ہی تجرباتی کامیابی حاصل کی ہے اور ایسے سائنسی اور تکنیکی اطلاقات دیے ہیں جس نے ہماری روزمرہ زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے. مثال کے طور پر یہ کمپیوٹر جس پر میں یہ تجریرلکھ رہا ہوں۔ تاہم اپنے جنم سے ایک سو برس بعد بھی یہ ناقابلِ فہم پیچیدگی اورتجسس سے بھری ہوئی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ کوانٹم میکانیات کا آغازعین 1900ع میں ہوا اوراس سے ایک گہرےتفکّرکی صدی نے جنم لیا۔ جرمنی کے سائنس دان میکس پلانک نےایک فرضی سیاہ جسم میں موجود برقی میدان کی ریاضیاتی پیمائش کی جب وہ جسم حالت توازن میں ہو۔ ایسا کرنے کے لیے اس نے ہوشیاری سے کام لیا اورایک ترکیب سوچی۔ اس نے فرض کیا کہ اس میدان کی توانائی قدریوں (building blocks) یا کوانٹا(Quanta) میں منقسم ہے۔ یوں سمجھیں کہ توانائی کوئی بہتی ہوئی شے نہیں، بلکہ یہ چھوٹے چھوٹے ذرات (Quanta)یا پیکٹوں کی صورت میں اپنا وجود رکھتی ہے۔ اس تصور کی رو سے ریاضیاتی پیمائش نے بالکل وہی نتائج دیے جو تجرباتی طورپرحاصل کیے گئے تھے (اور لازماً صحیح تھے)۔ لیکن یہ نتائج مروجّہ سائنسی تصورات کے بالکل منافی تھے۔

توانائی کو ایسی چیز گمان کیا جاتا تھا جو ایک تسلسل سے تبدیل ہوتی ہے۔ ایسا سوچنے کی کوئی وجہ نہیں تھی کہ یہ چھوٹے چھوٹے قدریوں یا ذرات سے مل کر بنی ہو سکتی ہے۔ توانائی کو چھوٹے چھوٹے ذرات گمان کرنا پلانک کے لیے بھی محض ایک حسابی کلیہ تھا اوروہ خود بھی مکمل طور پر اس کی اہمیت کو نہیں سمجھا تھا۔ ایک مرتبہ پھر، یہ آئن سٹائن ہی تھا جس نے پانچ سال بعد ایک سادہ سے تجربے کے ذریعے یہ دیکھا کہ توانائی کے یہ چھوٹے چھوٹے ذرےدراصل حقیقی ہیں۔

آئن سٹائن نے ثابت کیا کہ روشنی محض مسلسل لہر نہیں بلکہ ذرات یا پیکٹوں سے مل کر بنی ہے۔انہیں ہم آج ضیائیہ یا فوٹان (Photon) کہتے ہیں۔ آئن سٹائن نے اپنے مضمون کے تعارف میں لکھا کہ:
“مجھے یوں لگتا ہے کہ سیاہ جسمی شعاعیں (Blackbody Radiation)، روشنی کی دمک (Fluorescence)، بالائے بنفشی شعاؤں (Ultraviolet Rays)کے ذریعےمنفی شعاعوں (Cathode Rays)کی پیداواراورروشنی کے اخراج یا تبدیلیِ ہیت کے ساتھ منسلک دوسرے عوامل کوزیادہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ روشنی کی توانائی مکاں میں غیرمسلسل انداز میں منقسم ہے۔ اس مفروضے کی مطابق ایک نقطے سے خارج ہونے والی روشنی کی شعاع مکاں میں مسلسل بڑھتے تناسب کےساتھ مساوی طورپرمنقسم نہیں بلکہ محدود مقداری روشنی کے ذرات یعنی ‘کوانٹا’ پر مشتمل ہے جوعام ذرات کی طرح خلا میں ایک خاص مقام پر موجود ہوتے ہیں اور انہیں مزید تقسیم نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ مکمل اکائی کی شکل میں خارج یا جذب کیے جا سکتے ہیں”۔

یہ سادہ اور واضح سطور کوانٹم میکانیات کا پیدائشی سرٹیفیکیٹ ہیں۔ حیران کن بات ہے کہ آئن سٹائن کےاس ابتدائی جملے پرغور کریں “مجھے یوں لگتا ہے۔۔۔۔”، جوکہ چارلس ڈارون کے ابتدائی جملے “میں سوچتا ہوں۔۔۔” کی یاد دہانی کراتا ہے جب اس نے اپنی تحقیقی ڈائریوں میں انواع کے ارتقا کا تصورپیش کیا تھا۔ یا فیراڈے کی وہ “ہچکچاہت” جو اس نے مقناطیسی میدان کا انقلابی تصور متعارف کراتے ہوئے ظاہر کی تھی۔ یقیناً نابغے ہچکچاتے ہیں۔
ابتدا میں آئن سٹائن کے سائنسی کام کو اس کے ہم عصروں کی طرف سے ایک بہت ہی ذہین نوجوان کا “لایعنی بچپنہ”سمجھا گیا۔ لیکن بعد میں اسے اسی کام پر نوبل انعام دیا گیا۔ اگرمیکس پلانک اس نظریے کا باپ ہے تو آئن سٹائن ان والدین میں سے ہے جس نے اس کی پرورش کی۔

اپنےاعتراضات کی وجہ سےآئن سٹائن نےاس نظریے کا مکمّل اعتراف نہیں کیا۔ لیکن تمام بچوں کی طرح یہ نظریہ بھی اپنے رستے پر چل پڑا۔ البتہ بیسویں صدی کی دوسری اورتیسری دہائی میں نیل بوہر نے اس نظریےکو مزید مستحکم کیا۔ نیل بوہرنے یہ آگہی حاصل کی کہ جوہروں(Atoms) کےاندربرقیوں یا الیکٹرانوں (Electrons) کی توانائی بھی روشنی کی توانائی کی طرح مخصوص قیمت ہی حاصل کر سکتی ہے۔ سب سے اہم نقطہ یہ کہ الیکٹران ایک مدار سے دوسرے مدار میں ایک خاص توانائی سے ہی چھلانگ لگا سکتے ہیں اورجب وہ ایسا کرتے ہیں تو دو مداروں میں توانائی کے فرق کےبرابرایک فوٹان خارج یا جذب کرتے ہیں۔ یہ مشہورکوانٹمی جستیں (Quantum Leaps) ہیں۔ ڈنمارک کے شہرکوپن ہیگن میں واقع یہ نیل بوہرکا انسٹی ٹیوٹ ہی تھا جہاں بیسویں صدی کے ذہین ترین دماغ اس نئی جوہری دنیا کی حیران کن خوبیوں پر ہونے والی تحقیق میں ایک نظم (Order) لانے کے لیے اکٹھے ہوئے اوراس سے ایک جامع ((Coherent نظریے نے جنم لیا۔ بالآخر1925ع میں اس نظریے کی ریاضیاتی مساواتیں ظہورپذیر ہوئیں جنہوں نے نیوٹن کی میکانیات کومکمل طور پر تبدیل کردیا۔

ایک کامیابی کا تصور کرنا کافی مشکل ہے۔ ایک ہی دھچکے میں ہر چیز قابلِ فہم بن جاتی ہے اور آپ ہر چیز کا حساب لگا سکتے ہیں۔ ایک مثال لیتے ہیں: آپ کو مینڈلیف کا بنایا ہوا دوری جدول یاد ہے؟ جس میں ہائیڈروجن سے لے کر یورینیم تک وہ تمام عناصردرج ہیں جن سے مل کر ہماری کائنات بنی ہے اور جوہمارے اسکولوں اور کالجوں کے بہت سارے کمروں کی دیواروں پرلٹکا ہوتا ہے؟ دوری جدول میں جو عناصر موجود ہیں وہ خاص طور پراسی جگہ پر کیوں ہیں جہاں وہ ہیں اور دوری جدول کی خاص طور پر یہی ساخت کیوں ہے جس میں پیریڈ ہیں اوران کیمیائی عناصر کی مخصوص خصوصیات ہیں؟ جواب یہ ہے کہ ہرعنصرکوانٹم میکانیات کی بنیادی مساوات کے ایک خاص حل سےمطابقت رکھتا ہے۔ تمام کی تمام کیمسٹری ایک ہی مساوات سے نکلتی ہے۔
اس نئے نظریے کی مساوات جو کہ دماغ کو ماؤف کر دینے والے مشکل تصورات پر مبنی تھی، کا خالق جرمنی کا ایک نوجوان نابغہ وارنر ہائزن برگ تھا۔ ہائزن برگ نے فرض کیا کہ الیکٹران ہروقت اپنا وجود نہیں رکھتے۔ یہ صرف اس وقت وجود رکھتے ہیں جب کوئی شخص یا کوئی شئے انہیں دیکھتی ہے یا پھر جب وہ کسی دوسری چیز سے تعامل کرتے ہیں۔ جب یہ کسی دوسری چیز سے ٹکراتے ہیں تو اس جگہ پر کسی خاص امکان کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں جس کا حساب لگایا جا سکتا ہے۔ایک مدار سے دوسرے مدار تک کوانٹمی جستیں ان کے حقیقی ہونے کا وسیلہ ہیں۔ ایک الیکٹران ایک تعامل سے دوسرے تعامل تک جستوں کا مجموعہ ہے۔ جب کوئی چیز اس سے تعامل نہیں کر رہی ہوتی تو یہ کسی بھی خاص مقام پر موجود نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ کہیں بھی “موجود” نہیں ہوتا۔

یہ بالکل ایسے ہی جیسے خدا نے حقیقت کا خاکہ تیار کرنے میں مکمل اورگہرے خط کھینچنے کی بجائے محض دھندلی اورادھوری سی کچھ نیم مکمل لائنیں کھینچ دی ہیں۔

کوانٹم میکانیات میں کسی بھی جسم کا کوئی خاص مقام متعین نہیں ہوتا سوائے جب وہ کسی دوسرے جسم سے ٹکراتا ہے۔ ان دو تعاملات کے درمیانی وقفے میں اسے بیان کرنے کے لیے ایک تجریدی کلیے کا سہارا لینا پڑتا ہے جس کا وجود حقیقی کی بجائے تجریدی ریاضی میں ہے۔ لیکن ابھی اس سے زیادہ پیچیدہ مسئلہ باقی ہے۔ الیکٹرانوں کی ایک مقام سے دوسرے مقام تک ان تعاملاتی جستوں (Interactive Leaps) کی پیش گوئی ممکن نہیں بلکہ مجموعی طور پر یہ بے ترتیب ہوتی ہیں۔ صرف اس امکان (Probability) کا حساب لگانا ممکن ہے کہ الیکٹران کا ظہور یہاں ہو گا یا وہاں، نہ کہ اس کا کہ اس کا ظہور کسی خاص مقام پر ہوگا۔ ان امکانات کا سوال فزکس کی اساس تک جاتا ہے جہاں بظاہرہرچیزخاص قوانین کے تحت کام کرتی محسوس ہوتی ہے اورجو ہمہ گیراورناقابلِ تغّیر ہیں۔

کیا یہ لامعنی محسوس ہوتا ہے؟ یہ آئن سٹائن کو بھی بے معنی ہی لگا تھا۔ ایک طرف تواس نے ہائزن برگ کے اس نظریے کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا نام نوبل انعام کے لیے تجویزکیا کہ اس نے دنیا کے بارے میں کسی بنیادی چیز کو سمجھا ہے۔ جب کہ دوسری جانب اس نے کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جہاں وہ اس نظریے کے خلاف بڑبڑا نہ سکے کہ یہ تصوّر اس کے نزدیک قرین قیاس نہیں۔

کوپن ہیگن کے نوجوان افسردہ تھےکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آئن سٹائن ایسا سوچے؟ان کا روحانی باپ جس نے ناقابلِ تصورکو تصورمیں لانے کی جرّات کی، اس نامعلوم (Unknown) کی جانب ایک نئی جست لگانے سے گھبرا رہا تھا جس کی بنیاد اس نےخود رکھی تھی۔ وہی آئن سٹائن جس نے ثابت کیا تھا کہ وقت ہمہ گیر نہیں ہے اور مکاں منحنی ہے، اب کہہ رہا تھا کہ دنیا “اس قدر”عجیب نہیں ہو سکتی۔

بوہر نے نہایت تحمل سے آئن سٹائن کوان تصورات کی وضاحت پیش کی۔ آئن سٹائن نے اعتراضات کیے۔ اس نے ان نئےتصورات میں موجود تضادات ثابت کرنے کے لیے تخیّلی تجربات (Thought Experiments) ترکیب دیے۔ روشنی سے بھرے ایک ڈبے کا تصور کریں جس سے ہم صرف ایک فوٹان کوباہرآنے دیتے ہیں اوریوں آئن سٹائن کی مشہورمثال “روشنی کے ڈبّے والا تخیلی تجربہ” کا آغاز ہوتا ہے۔ لیکن ہر بار بوہر کوئی ایسا جواب دھونڈ لیتا جس سے ان اعتراضات کو رد کیا جا سکے۔ سالوں تک ان کا مکالمہ خطوط، دروس اور مضامین کے ذریعے جاری رہا۔ تبادلہ خیال کے دوران دونوں شخصیات کو اپنے خیالات پرنظرثانی کرنےاوران کوتبدیل کرنے کی ضرورت پڑی۔ آئن سٹائن کو بالآخر یہ ماننا پڑا کہ نئے تصورات میں تضادات نہیں ہیں اور بوہر کو یہ ماننا پڑا کہ چیزیں اتنی آسان اور سادہ نہیں ہیں جتنی اس نے پہلے سمجھی تھیں۔ آئن سٹائن اس پر بالکل نرمی نہیں برتنا چاہتا تھا جو اس کے لیے سب سے اہم مسلہ تھا: کہ اس سے بالاتر کہ کون سی چیز کس سے تعامل کرتی ہے، کائنات کی ایک معروضی حقیقت موجود ہے۔ جب کہ بوہرنے اس نئے نظریے پر، جس نے حقیقت کی عمیقیت کو نئے انداز میں تصور کیا، کوئی شک نہ کیا۔ بالآخر آئن سٹائن نے مان لیا کہ یہ نظریہ دنیا کے متعلق ہماری فہم میں بہت بڑی جست ہے۔ وو اس بات پربھی قائم رہا کہ چیزیں جتنی عجیب نظرآتی ہیں اتنی ہیں نہیں۔ یقیناً ان مظاہر کے پیچھے قابل فہم وضاحت موجود ہے۔

آج ایک صدی بعد بھی ہم اسی مقام پرکھڑے ہیں۔ کوانٹم میکانیات کی مساواتوں اوران کے مضمرات کو طبیعیات دان، کیمیا گر، انجینئراورحیاتیات دان روزمرہ زندگی کے بہت سارے مختلف علمی میدانوں میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ مساواتیں ہم عصر ٹیکنالوجی میں بہت کار آمد ہیں۔ کوانٹم میکانیات کے بغیر الیکٹرانکس مثلاّ ٹرانسسٹر کا کوئی وجود نہ ہوتا۔ ان کےعملی استمعال کے باوجود یہ مساواتیں پر اسرار اور کسی حد تک ناقابلِ فہم رہتی ہیں۔ کیوں کہ یہ محض یہ بتاتی ہیں کہ ایک طبعی نظام دوسرے طبعی نظام پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے، یہ نہیں بتا پاتیں کہ اس تعامل کے دوران اس طبعی نظام کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔

اس کا مطلب کیا ہوا ؟ کہ کسی نظام کی بنیادی حقیقت ناقابلِ بیان ہے؟ کیا اس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس اس پہیلی کو حل کرنے کے لئے ایک حصّے کی کمی ہے؟ یا کیا اس کا مطلب یہ ہے( اور جو مجھے بھی لگتا ہے) کہ ہمیں اس حقیقت کو مان لینا چاہیےکہ یہ تعامل ہی اصل حقیقت ہے۔ اس سے صحیح معنوں میں ہماراعلم بڑھے گا۔ ایسا مان لیںے سے ہم وہ کچھ کرنے کے قابل ہوں گے جس کے بارے میں ہم نے ابھی تک تصوّربھی نہیں کیا۔ لیکن اس سے نئے سوالات اور نئے اسرار جنم لیتے ہیں۔ اس کے باوجود، تجربہ گاہوں میں ان نظریات کی مساواتوں کواستعمال کرنے والے اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔ لیکن مضامین اورکانفرنسوں میں جو حالیہ سالوں میں کافی بڑھ گئی ہیں، طبیعات دان اورفلسفی اپنی تلاش جاری رکھتے ہیں۔ اپنے جنم کے ایک صدی بعد آج نظریہ کوانٹم کیا ہے۔۔۔ حقیقت کی اصل ماہیت میں ایک گہری ڈبکی؟۔۔۔۔ایک صریح غلطی (Blunder) جو محض حادثاتی طور پر کام کر گئی؟۔۔۔ یا پھر دنیا کی ساخت کے بارے کسی عمیق راز کی طرف اشارہ جس کو ہم ابھی مکمل طور پر سمجھ نہیں پائے؟

جب آئن سٹائن فوت ہوا تو اس کے سب سےبڑے نظریاتی حریف بوہر نے اس کے لیے نہایت جذباتی تعریفانہ کلمات کہے۔ جب کچھ سالوں بعد بوہرکی وفات ہوئی تو کسی نے اس کے کمرہ مطالعہ (Study Room) کے تختہ سیاہ کی تصویر لی۔ اس کے اوپر ایک ڈرائینگ بنی ہے۔ آئن سٹائن کے “روشنی کے ڈبّے والے تخیلی تجربے کی ڈرائینگ”۔ حرفِ آخر میں: خود کو للکارنے اور زیادہ سے زیادہ سمجھنے کی خواہش اورآخر میں سب سے اہم بات: شک۔

Categories
نان فکشن

وجودِ کائنات

[blockquote style=”3″]

رابرٹ ایڈلر کا یہ مضمون انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[/blockquote]

مصنف: رابرٹ ایڈلر
ترجمہ: فصی ملک

 

لوگ اس سوال پر ہزارہا سال سے مغز ماری کرتے آ رہے ہیں کہ کائنات اپنا وجود کیوں رکھتی ہے۔تقریباً تمام قدیم تہذیبوں نے تخلیق کی ایک اپنی ہی کہانی پیش کی ہے جن میں سے بہتوں نے معاملات کو خدا کے اوپر چھوڑ دیا ۔ جب کہ فلسفیوں نے اس مضمون پر کئی کتابیں لکھی ہیں۔لیکن سائنس نے اس بنیادی سوال کے بارے میں بہت کم رائے دی ہے۔

 

تاہم رواں برسوں میں کچھ ماہرینِ طبیعیات اور کونیات نے اس کا جواب تلاش کرنا شروع کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اب ہمیں کائنات کی تاریخ اور جن قوانین پر یہ کام کرتی ہے ان کی آگہی حاصل ہو گئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس معلومات سے ہمیں اس چیز کا اشارہ ملے گا کہ کائنات اپنا وجود کیسے اور کیوں رکھتی ہے۔

 

ان کا (بجا طور پر) متنازعہ جواب یہ ہے کہ کائنات – انفجارِ عظیم(Big Bang) کے آتشی گولے سے لے کر ستاروں سجی کائنات تک جس میں اب ہم رہتے ہیں- عدم(nothing) سے یک لخت وجود میں آئی۔وہ کہتے ہیں کہ ایسا ہونا ہی تھا کیوں کہ عدم فطرتی طور پر غیر مستحکم(unstable) ہے۔

 

یہ ہیں وہ (وجوہات) کہ کس طرح عدم سے کچھ وجود میں آیا ہو گا۔

 

خالی فضا سے بنتے ذرات:

 

سب سے پہلے ہمیں کوانٹم میکانیات کے دائرہِ کار پر نظر ڈالنی ہو گی۔یہ طبیعیات کی وہ شاخ ہے جو ہمیں چھوٹی اشیاء جیسا کہ جوہر یا اس سے بھی چھوٹی چیزوں کے بارے میں جانکاری دیتی ہے۔ یہ ایک بہت ہی کامیاب نظریہ ہے اور بہت سارے جدید برقیائی گیجٹس(electronic gadgets) کو بنیاد فراہم کرتا ہے۔

 

کوانٹم میکانیات ہمیں بتاتی ہے کہ تہی فضا جیسی کوئی شئے نہیں ہے۔حتٰی کہ مکمل خلا بھی ذرات اور ضد ذرات کے ہیجان پذیر کہر سے بھری ہوئی ہے جو لپک کر وجود میں آتے ہیں اور پھر فوراً ہی واپس عدم میں کوچ کر جاتے ہیں۔ یہ مجازی ذرات، جیسا کہ ان کو کہا جاتا ہے، اتنی دیر زندہ نہیں رہتے کہ ہم بلاواسطہ ان کا مشاہدہ کر سکیں مگر ہم ان کے اثرات سے جانتے ہیں کہ یہ وجود رکھتے ہیں۔

 

لامکان اور لا زمان سے آیا زمان و مکان:

 

جوہروں جیسی چھوٹی اشیاء سے لے کر کہکشاؤں جیسی بڑی چیزوں تک۔ ہمارا بہترین نظریہ جو ان بڑی ساختوں کی وضاحت کرتا ہے عمومی نطریہ اضافیت کہلاتا ہے ۔ یہ وضاحت کرتا ہے کہ زمان، مکان اور انجذاب کیسے کام کرتے ہیں۔
اضافیت کوانٹم میکانیات سے بہت مختلف ہے اور آج تک کوئی بھی ان دونوں کو ٹھیک سے متحد نہیں کر پایا۔تاہم کچھ نظریہ دان منتخب تقارب(chosen approximations) کی مدد سے کچھ خاص مسائل پر دونوں نظریات کو ملانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ طریق کار کیمبرج یونیورسٹی کے سٹیفن ہاکنگ(Stephen Hawking) نے ثقب اسودوں(black holes) کی وضاحت کے لیے استعمال کیا تھا۔

 

ایک چیز جس کا انہوں نے پتا چلایاہے یہ ہے کہ جب کوانٹم نظریے کو فضا پر چھوٹے پیمانے پر لاگو کیا جاتا ہے تو سپیس بذاتِ خود غیر مستحکم ہو جاتی ہے۔ کلی طور پر ہموار اور استوانہ رہنے کی بجائے زمان اور مکان غیر مستحکم ہو کر زمان و مکان کے بلبلوں کے کف(foam) جی شکل اختیار کر لیتا ہے جو وجود پاتے اور فنا ہو تے جاتے ہیں۔
باالفاظ دیگر، زمان و مکان کے بلبلے فی البدیہہ پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایری زونا سٹیت یونیورسٹی کے لارنس کراس کا کہنا ہے کہ اگر زمان اور مکان قدریائی(quantized) ہیں تو ان میں اتار چڑھاؤ(ٖfluctuations) آ سکتا ہے لہٰذا آپ جس طرح مجازی ذرات پیدا کرتے ہیں اسی طرح مجازی زمان و مکان بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

 

مزید یہ کہ اگر یہ (زمان و مکان کے) بلبلے بن سکتے ہیں تو یہ یقیناً بنیں گے۔ تفت یونیورسٹی (tuft university) کے الیگزینڈر ویلنکو (Alexander Vilenkin) کا کہنا ہے کہ کوانٹم میکانیات میں اگر کوئی چیز مانع نہیں ہے تو وہ لازمی طور پر غیر صفری امکان کے ساتھ وقوع پذیر ہو گی۔

 

بلبلے سے بنی کائنات:

 

لہٰذا صرف ذرات یا ضد ذرات ہی نہیں بلکہ زمان و مکان کے بلبلے بھی عدم سے حیات و فنا پا سکتے ہیں۔ تاہم ابھی بھی زمان و مکان کے ایک صغاری بلبلے سے انتہائی وزنی کائنات، جو دس ارب کہکشاؤں کی رہائش گاہ ہے، تک جانا ایک بہت بڑی جِست ہے۔ یقیناً اگر ایک بلبلہ بنتا بھی ہے تو وہ پلک جھپکنے میں دوبارہ فنا نہیں ہو جائے گا؟

 

درحقیقت بلبلے کے لیے بقا حاصل کرنا ممکن ہے مگر اس کے لیے ہمیں کونی افراط (cosmic inflation) کی ضرورت ہے۔
بہت سارے طبیعیات دانوں کا ماننا ہے کہ کائنات کا آغاز انفجارِ عظیم (Big Bang) سے ہوا۔ پہلے پہل کائنات میں موجود تمام مادہ اور توانائی نا قابلِ تصور اصغر نقطے میں مرکوز تھا اور یہ (نقطہ) پھٹ گیا۔ اس کا پتہ بیسویں صدی کہ اس دریافت سے ہوا جو یہ بتاتی ہے کہ کائنات پھیل رہی ہے۔ اگر تمام کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں تو کبھی وہ لازمی طور پر قریب ہوتی ہوں گی۔

 

افراطی نظریہ یہ کہتا کہ انفجارِ عظیم کے فوری بعد کائنات بہ نسبت بعد میں آنے والے وقت کے بہت زیادہ تیزی سے پھیلی۔ اس انوکھے نظریے کو 1980 کی دہائی میں ایم آئی ٹی (MIT) کے ایلن گتھ (Alan Guth) نے پیش کیا اور سٹانفرڈ(Stanford) یونیورسٹی کے آندرے لندے(Andre Linde) نے مزید بہتر بنایا۔

 

مرکزی خیال یہ ہے کہ انفجارِ عظیم کے بعد ایک سیکنڈ سے بھی کم دورانیے کے لیے قدریائی پیمانے(quantum sized) کا مکانی بلبلہ بہت تیزی سے پھیلا۔ بہت ہی کم وقت میں یہ نواتی جسامت (size of nucleus)سے ریت کے ذرے کے برابر پہنچ گیا۔بالآخر جب پھیلاؤ سست ہوا تو وہ قُوی میدان(force field) جس نے اس (پھیلاؤ) کو جنم دیا تھا مادہ اور توانائی میں منتقل ہو گیا جس سے آج کائنات بھری پڑی ہے۔ گُتھ افراط کو حتمی مفت ظہرانے کا نام دیتا ہے۔

 

عجیب و غریب تو یہ دکھتی ہے مگر افراط حقائق پر بہت خوبصورتی سے پورا اترتی ہے۔خاص طور پر یہ اس چیز کی وضاحت کرتی ہے کہ پس منظری کونی خِرد موجیں آسمان پر تقریباً مکمل یکساں کیوں ہیں۔ اگر کائنات اِس تیزی سے نہ پھیلی ہوتی تو یہ موجیں ٹکروں میں بٹی ہوتیں۔

 

کائنات ہموار ہے اور یہ کیوں اہم ہے:

 

افراط نے کونیات دانوں کو وہ وسیلہ بھی فراہم کیا ہے جو انہیں کائنات کی جیومیٹری کو سمجھنے کے لیے درکار تھا۔ یہ سامنے آیا ہے کہ یہ (افراط) اس بات کے ادراک کے لیے بہت اہم ہے کہ کیسے کائنات عدم سے وجود میں آئی۔
آئن سٹائن کا عمومی نظریہ اضافیت ہمیں بتاتا ہے کہ زمان و مکان، جس میں ہم رہتے ہیں، تین مختلف صورتیں اختیار کر سکتا ہے۔ یہ ایک میز کی سطح کی طرح ہموار ہو سکتا ہے۔یہ ایک کرہ کی سطح کی طرح منحنی ہو سکتا ہے اس طرح کی اگر آپ ایک ہی سمت میں بہت دور تک چلتے ہیں تو واپس اسی جگہ پہنچ جائیں گے جہاں سے آپ نے چلنا شروع کیا تھا۔ متبادلاً زمان و مکان ایک پالان(saddle) کی مانند باہر کی جانب منحنا ہو سکتا ہے۔ تو پھر یہ(زمان و مکان) کیسا ہے۔
یہ جاننے کا ایک راستہ ہے۔ آپ کو اپنی سکول کی ریاضی کی جماعت سے یہ یاد ہو گا کہ کسی بھی مثلث میں تینوں زاویوں کا مجموعہ 1800 کے برابر ہوتا ہے۔درحقیقت آپ کے استاد نے ایک اہم نقطہ چھوڑ دیا تھا وہ یہ کہ ایسا صرف ہموار سطح کے لیے ہوتا ہے۔ اگر آپ ایک غُبارے کی سطح پر مثلث بنائیں تو اس کے زاویوں کا مجموعہ 1800سے زیادہ ہو گا۔اس کے برعکس اگر آپ ایک پالان (saddle) جیسی سطح کے اوپر مثلث بنائیں تو اس کے زاویوں کا مجموعہ 1800 سے کم ہو گا۔

 

تو یہ جاننے کے لیے کہ کیا کائنات واقعی ہموار ہے ہمیں ایک بہت بڑی مثلث کے زاویوں کا مجموعہ ماپنا ہو گا۔یہ وہ جگہ ہے جہاں پر افراط کردار ادا کرتی ہے۔ اس نے پس منظری کونی خرد موجوں کے سرد اور گرم ٹکروں کی اوسط جسامت معلوم کی۔ان ٹکروں کی پیمائش 2003 میں کی گئی اور اس سے ہیت دانوں کو مثلثٰں چنے میں مدد ملی۔ اس کے نتیجے میں اب ہم جانتے ہیں کہ پیمائش کے ممکنہ اکبر پیمانوں پر کائنات ہموار ہے۔

 

یہ ثابت ہوا ہے کہ ایک ہموار کائنات بہت اہم ہے کیوں کہ ایک ہموار کائنات ہی عدم سے دجود میں آ سکتی ہے۔
ستاروں اور کہکشاؤں سے لے کر اس روشنی تک جس سے ہم ان کو دیکھتے ہیں، ہر اس چیز کا کہیں نہ کہیں سے آغاز ہوا ہے جو وجود رکھتی ہے۔ہم پہلے ہی جانتے ہیں کہ کوانٹمی پیمانے پر ذرات وجود میں آتے رہتے ہیں۔لہٰذا ہم یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ کائنات میں کچھ بچے کھچے (ذرات) موجود ہوں گے۔لیکن ستارے اور سیارے بنانے کے لیے بہت زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے۔تو کائنات نے اتنی زیادہ توانائی کہاں سے حاصل کی؟ شاید اسے یہ توانائی کہیں سے حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ایسا اس لیے ہے کیوں کہ کائنات میں موجود ہر جسم انجذاب(Gravity) پیدا کرتا ہے جس سے وہ دوسرے اجسام کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔یہ اس توانائی کو متوازن کر دیتا ہے جس کی اسے شروع میں مادہ کو بنانے میں ضرورت پڑی تھی۔

 

یہ ایک پرانی طرز کے ترازو کی طرح ہے جس کے ایک طرف آپ کوئی بھاری وزن رکھتے ہیں جو دوسری طرف موجود وزن کے ساتھ توازن قائم کرتا ہے۔کائنات کے معاملے میں پیمانے کے ایک طرف مادہ پڑا ہوتا ہے جو دوسری طرف انجذاب سے توازن قائم کرتا ہے۔

 

ہموار کائنات کے لیے طبیعیات دانوں نے حساب لگایا ہے کہ مادہ کی توانائی انجذاب(جس کو کوئی جسم پیدا کرتا) کی توانائی کے برابر ہوتی ہے ۔ لیکن یہ صرف ہموار کائنات کے لیے صحیح ہے۔ اگر کائنات منحنی ہوتی تو یہ(توانائی کا) مجموعی ایک دوسرے کو ختم(cancel) نہ کرتے۔

 

کائنات یا کثیرنات؟ (Universe or Multiverse?)

 

اس نقطے پر کائنات بنانا قریب قریب سہل لگتا ہے۔کوانٹم میکانیات ہمیں بتاتی ہے کہ عدم قدرتی طور پر غیر مستحکم ہے لہذٰا عدم سے وجود میں آنے والی جِست ناگزیر تھی۔ اور نتیجتاً زمان ومکان کا بلبلہ ایک بھاری صروف کائنات میں پھیل سکتا تھا، جس کے لیے افراط کا شکریہ۔ جیسا کہ کراس کا کہنا ہے کہ طبیعیات کے قوانین جن کو اب ہم جانتے ہیں اس بات کو نمایاں طور پر معقول بناتے ہیں کہ کائنات عدم سے وجود میں آئی—نہ مکان، نہ زمان، نہ ذرات—ایسی کسی بھی چیز سے نہیں جس کو اب ہم جانتے ہیں۔

 

تو ایسا صرف ایک ہی دفعہ کیوں ہوا؟ جب ایک بلبلہ عدم سے وجود میں آیا اور پھول کر ہماری کائنات میں بدل گیا تو باقی بلبلوں کو ایسا کرنے سے کس نے روکا؟

 

لِنڈے اس کا سادہ مگر حیران کن جواب فراہم کرتا ہے۔وہ قیاس کرتا ہے کہ کائناتیں ہمیشہ سے وجود میں آ رہیں ہیں اور یہ عمل ہمیشہ جاری رہے گا۔ لِنڈے کا کہنا ہے کہ جب کوئی نئی کائنات پھولنا بند کر دیتی ہے تو بھی یہ ایسی سپیس میں گھری ہوتی ہے جو مسلسل پھول(inflate) رہی ہوتی ہے۔یہ پھولتی ہوئی کائنات مزید کائناتوں ،جن کے گرد پھیلنے کے لیے ابھی بھی سپیس موجود ہوتی ہے، کی افزائش کر سکتی ہے۔لہذٰا جب ایک دفعہ افراط شروع ہو تو اسے کائناتوں کا ایک لامتناہی سلسلہ بنانا چاہیے۔لِنڈے اس کو دائمی افراط (eternal inflation)کا نام دیتا ہے۔ہو سکتا ہے ہماری کائنات ایک لامتناہی ساحل پر ریت کا ایک ذرہ ہو۔

 

ہو سکتا ہے وہ کائناتیں ہماری کائنات سے بالکل مختلف ہوں۔ممکن ہے پڑوس میں موجود کائنات کی ہماری کائنات کی طرح سپیس کی تین ابعاد – لمبائی، چوڑائی اور اونچائی – کی بجائے پانچ جہتیں ہوں۔ ثقل دس گنا زیادہ قوّی یا ہزار گنا نحیف ہو یا پھر ہو سکتا ہے وہ سِرے سے موجود ہی نہ ہو۔ہو سکتا ہے مادہ یکسر مختلف ذرات سے مل کر بنا ہو۔ لہذٰا یہاں کائناتوں کی ایک تنوع ہو سکتی ہے۔لِنڈے کہتا ہے کہ دائمی افراط نہ صرف ایک حتمی مفت ظہرانہ ہے بلکہ یہ ایک ایسا ظہرانہ ہے جس پر کھانے کی تمام ممکنہ اقسام میسر ہیں۔

 

تاہم ابھی تک ہمارے پاس اس کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے کہ دوسری کائناتیں وجود رکھتی ہیں۔لیکن کسی بھی صورت میں یہ “لاشئے کے لیے شکریہ” کو ایک نیا مطلب فراہم کرتیں ہیں۔