Categories
نان فکشن

کوانٹم گریوٹی-طبیعاتی وحدت؟ (محمد علی شہباز)

ذراتی طبیعات سائنس کی وہ شاخ ہے جس کے مطابق کائنات کی ہر شے ایسے ناقابل تقسیم ذروں سے مل کر بنی ہے۔ اگرچہ یہ نظریہ قدیم یونان کے دیموقراطیس کے ایٹم (ناقابل تقسیم ذرہ) سے شروع ہوتا ہے لیکن اس سمت میں سب سے زیادہ کام گزشتہ صدی میں ہوا۔ 1896ء میں جے جے تھامسن نے ایٹم کے اندر الیکٹران نامی منفی بار کا حامل ایک ذرہ دریافت کر کے ایٹم کو قابل تقسیم کر دکھایا۔ اسی طرح گولڈسٹائن کے تجربات سے پروٹان نامی مثبت ذرہ اور 1932ء میں جیمز چیڈوک کی نیوٹران کی دریافتوں نے اس نظریہ کو تقویت دی کہ ایٹم مزید کئی ذرات پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ پال ڈیراک نے کوانٹم نظریہ کی بنیاد پر آئن سٹائن کے نظریہ خصوصی اضافیت میں ایک ایسی مساوات کا اضافہ کیا جس کے نتیجے میں منفی الیکٹران کا جڑواں ذرہ مثبت الیکٹران یعنی پوزیٹران کی پیش گوئی ہوئی جسے 1932ء میں اینڈرسن نے اپنے تجربات سے ثابت کر دکھایا۔ کائنات میں پائے جانے والے ستاروں اور کہکشاؤں سے آنے والی شعاؤں کا تجزیہ کرتے ہوئے مزید ذرے جیسے پائی اون وغیرہ دریافت ہوئے۔ اسی دوران ایٹم کے مرکز یعنی نیوکلیئس سے نکلنے والی تابکاری شعاؤں پر تحقیق کرتے ہوئے ایک ایسا ریاضیاتی طریقہ پیش کیا گیا جسے فیلڈ تھیوری کہا جاتا ہے۔ یعنی ہر ذرہ بنیادی طور پر ایک فیلڈ یا میدان کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔

فیلڈ تھیوری کے مطابق کائنات میں پائی جانے والی تمام قوتیں جیسے کمزور و طاقتور نیوکلیائی قوت، برقی مقناطیسیت وغیرہ سمیت تمام ذرے اپنا مختلف میدان پیدا کرتے ہیں۔ جیسے برقی بار سے برقی میدان، مقناطیس سے مقناطیسی میدان اور گریوٹی سے کشش ثقل کا میدان یا فیلڈ پیدا ہوتا ہے۔فیلڈ تھیوری میں کوانٹم نظریہ کے اثرات دیکھے گئے تو معلوم ہوا کہ کائنات کی بنیادی قوتیں اور ذرے دراصل ان میدانوں کا نتیجہ ہیں۔ یعنی ذرہ بذات خود اسوقت تک وجود نہیں رکھتا جب تک کہ اس کا متعلقہ میدان قائم نہیں ہوتا۔ہر میدان دراصل انرجی کا ایک منبع ہے۔ آئن سٹائن کے مطابق انرجی کا یہ منبع کمیتی شکل یعنی ماس کے طور پر اپنا اظہار کر سکتا ہے۔لہذا ہر میدان اپنی انرجی سے خاص ذرات کو پیدا کرتا ہے۔

برقی مقناطیسی میدان سے جو ذرہ پیدا ہوتا ہے اسے فوٹان کہا جاتا ہے جس کی ایک شکل قابل دید روشنی ہے۔ بعد ازاں پاکستانی سائنسدان عبدالسلام اور دو امریکی سائنسدان سٹیون وائنبرگ اور شیلڈن گلاشو وغیرہ نے اپنی تحقیق سے ثابت کیا کہ مختلف نظر آنے والے ذرات بنیادی طور پر ایک ہی فیلڈ یا میدان کے مختلف اظہار ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے برقی مقناطیسی میدان اور کمزور نیوکلیائی قوت کو یکجا کردیااور ایک نئے فیلڈ یا قوت جسے الیکٹرو ویک قوت کہتے ہیں کی بنیاد ڈالی۔ اس نئے میدان سے تین نئے ذرات یعنی دو W اور ایک Z بوزان کی پیش گوئی کی گئی جنہیں بہت جلد دریافت کر لیا گیا۔ پروفیسر عبدالسلام کو باقی دونوں سائنسدانوں سمیت 1979ء میں سائنس کا سب سے اعلیٰ انعام یعنی نوبل پرائز دیا گیا۔ یہ نئے ذرات پروٹان کے مقابلے میں 100 گنا زیادہ کمیت رکھتے ہیں اور اس لئے عام انرجی کے مقابلے زیادہ انرجی پر نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الیکٹران اور پروٹان کے مقابلے میں یہ ذرات قائم نہیں رہتے اور عام انرجی پر دوسرے ذرات میں تحلیل ہوجاتے ہیں۔

پروفیسر عبدالسلام کی طرح دیگر سائنسدان بھی اب ایسے میدانوں کی تلاش میں پھرنے لگے جو باقی ماندہ فطری قوتوں اور ذروں کو بھی یکجا کرتے ہوئے ایک طبیعاتی وحدت میں پرو سکے۔ اس سلسلے میں ابھی تک سائنسدان تین بنیادی قوتوں کو یکجا کر سکے ہیں۔ یعنی الیکٹرو ویک قوت کے ساتھ طاقتور نیوکلیائی قوت کا اتحاد کیا گیاہے۔ یہ کام پچھلی صدی کی آخری دہائیوں میں سرانجام دے دیا گیا تھا۔ پروٹان اور نیوٹران وغیرہ کو جب زیادہ توانائی والے کسی علاقے سے گزارا جائے تو انکی رفتار انتہائی تیز ہوجاتی ہے اور اسقدر تیز رفتاری پر انکوباہم ٹکرایا جائے تو یہ ذرات مزید تحلیل ہوکر کچھ نئے چھوٹے ذرات کو جنم دیتے ہیں جنہیں آج کوارک کا نام دیا جاتا ہے۔ کوارک کی نظریاتی بنیادیں گیل مین نامی ایک سائنسدان نے رکھ دی تھیں۔یہ چھوٹے ذرات تین نسلوں کی شکل میں رہتے ہیں جن میں سے ہر نسل کے دو افراد ہی ہوتے ہیں۔ گویا یہ چھ مختلف کوارک ہوتے ہیں اور عام طور پر دکی (Doublet) یا تکی (Triplet)کی شکل میں جڑے ہوتے ہیں۔ دکی والے ذرات کو میزون اور تکی والوں کو بیری اون کہا جاتا ہے۔پروٹان اور نیوٹران تین کوارک سے بنتے ہیں۔ بہرحال ان چھ کوارک کی مختلف دکیوں اوت تکیوں سے بہت سے نئے ذرات بھی بنائے جا سکتے ہیں جنہیں بارہا تجربات سے دریافت کیا گیا ہے۔لیکن یہ عام توانائی پر قائم نہیں رہ پاتے اور تحلیل ہوجاتے ہیں لہذا عام مادہ جس کا اظہار کائنات میں ہوتا ہے وہ صرف نچلے درجے کی توانائی والے ذرات ہیں۔

تین بنیادی قوتوں کو ایک ہی میدان کی توانائی کی مختلف شکلیں قرار دینا گزشتہ صدی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اور اسی کامیابی کے پیش نظر سائنسدانوں نے طبیعاتی وحدت کا خواب دیکھا ہے۔ یعنی یہ کہ چوتھی اور آخری قوت گریوٹی کے میدان کو بھی کسی خاص توانائی پر انہی تین میدانوں میں ضم کرتے ہوئے واحد قوت دریافت کر لی جائے جو ساری کائنات کو واضح کر سکے۔ اس سمت میں نظریاتی ذراتی طبیعا ت پر کام کرنے والے تمام سائنسدان گزشتہ تین دہائیوں سے سوچ بچار کر رہے ہیں۔ اور بہت سے ماڈل پیش کئے گئے ہیں۔ ایسی ہی ایک کاوش کوانٹم گریوٹی بھی ہے۔ اس ماڈل کے مطابق ہم گریوٹی کے میدان کو بھی ایک ذرے کی شکل میں دیکھ سکتے ہیں۔ او ر گزشتہ قوتوں کی وحدت کے دوران جو طریقہ کار اختیار کیا گیا تھا اس کے مطابق گریوٹی کے ذرے کی کچھ خصوصیات واضح کر دی گئی ہیں۔ جیسے یہ کہ اس ذرہ کا کمیت صفر ہوگی اور اسکی رفتار روشنی کی رفتار کے برابر ہوگی۔ اسکی اندرونی یا کوانٹم گردش (Spin) کی مقدار فوٹان سے دوگنا ہوگی۔ اس مفروضہ شدہ ذرے کا نام گریویٹان (Graviton) رکھا گیا ہے۔
06 اگست 2012ء کو ڈنمارک میں ہونے والے پوائن کرے لیکچر میں مشہور نوبل انعام یافتہ سائنسدان فری مین ڈائیسن نے کہا تھا کہ اگر دیگر ذرات کی طرح گریویٹان کے لئے بھی کوئی تجربہ کیا گیا تو یہ گریویٹان اتنا بھاری ہوجائے گا کہ ایک بلیک ہول بھی بن سکتا ہے کیونکہ یہ ذرہ اس قدر زیادہ توانائی پر سامنے آئے گا جسے ہم زمین پر موجود کسی تجربہ گاہ میں پیدا نہیں کرسکتے۔ لہذا بہت سے سائنسدان اب بھی یہی سوچتے ہیں کہ شاید گریویٹان کبھی تجربے سے سامنے نہ آسکے۔ لیکن اسی بے یقنی کی صورتحال میں گزشتہ دنوں نیدرلینڈمیں مقیم ایک سائنسدان رچرڈ نورٹ نے ایک سادہ طریقہ وضع کیا ہے جس سے گریویٹان کے اثرات کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں وہ مکمل موصل مادہ کی بنی پلیٹوں کے درمیان گریوٹی کے فیلڈ کے اثرات دیکھ سکتے تھے۔

آئن سٹائن کے مطابق ہر ذرہ انرجی ہی کی ایک شکل ہوتا ہے لہذا گریویٹان بھی انرجی کا حامل ذرہ ہوگا۔ کوانٹم نظریہ کے مطابق اس ذرے کی انرجی کبھی بھی صفر نہیں ہوسکتی۔ لہذا ہر وہ جگہ جہاں کشش ثقل موجود ہے وہاں گریویٹان کی توانائی موجود ہوگی۔ حتٰی کہ خلاء میں بھی یہ توانائی اپنا اظہار کرے گی۔ اس طرح کی توانائی جڑواں ذروں کی شکل میں اپنا اظہار کرتی ہے جنہیں واہمی ذرات (Virtual Particles) کہا جاتا ہے۔ اس طرح کا عمل پہلے بھی فوٹان کے لئے دیکھا جا چکا ہے اور اصطلاح میں اسے کیزی میر کا اثر (Casimir Effect) کہا جاتا ہے۔ اس اثر کے مطابق اگر خلاء میں دو پلیٹوں کو قریب قریب رکھا جائے تو برقی مقناطیسی میدان کی توانائی ان پلیٹوں میں ارتعاش پیدا کرے گی۔ کیونکہ کوانٹم کے مطابق کسی میدان یا فیلڈ کی توانائی کی مقدار کبھی بھی صفر نہیں ہوسکتی۔ لہذا پلیٹوں میں ارتعاش سے ثابت ہوتا ہے کہ خلاء بھی خالی نہیں ہے!

گریوٹی کا میدان چونکہ خلاء میں بھی موجود ہوتا ہے اس لئے اگر مکمل موصل ایلومینیم (Superconducter Aluminum) کی پلیٹوں کو خلاء میں قریب رکھ دیا جائے تو ان کے درمیان ارتعاشی اثر پیدا ہوسکتا ہے۔ 20 جولائی 2018ءکو پروفیسر نورٹ نے طبیعات کے مشہور میگزین فزیکل ریویو لیٹرز میں اپنی تحقیق کے نتائج پیش کئے۔ ان کے تجربے میں ایسا کوئی اثر سامنے نہیں آیا۔یعنی گریویٹان ابھی بھی ناقابل دریافت ہے۔ لیکن سائنسدانوں نے مزید ایسی پیش گوئیاں کی ہیں جن سے یہ دریافت ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر 12 دسمبر 2017ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مارلیٹو نے کوانٹم انفارمیشن کے نظریات کو استعمال کرتے ہوئے دو ذرات کے مابین پائی جانے والی اینٹیگل منٹ (Entaglement) پر تجربات کی صلاح دی۔ اس تجربے میں ہیرے کے کرسٹلز کو خلاء میں گریوٹی کے میدان میں چھوڑا جائے گااور ان پر لیزر کی شعاؤں سے یہ دیکھا جائے گا کہ کیا دونوں کرسٹل ذرات کی گردش یک سمتی رہتی ہے یا نہیں جو کہ ان ذروں کے درمیان اینٹیگلمنٹ کا ثبوت ہوگا۔ ایک اور طریقہ بگ بینگ کے وقت کائناتی توانائی کے انتہائی تیز رفتار پھیلاؤ یا انفلیشن میں بھی گریویٹان کے اثرات کا مطالعہ ہے۔ بگ بینگ شعاؤں کی پیمائش جو کہ مختلف دوربینوں سے ہوتی ہے ان میں یہ ذرات اپنے اثرات بی موڈ پولرائزیشن (B mode Polarization) کی شکل میں چھوڑ تے ہوں گے۔ اسی طرح 2016ء کے نوبل انعام میں دریافت ہونے والی گریوٹی کی لہروں میں بھی ان اثرات کو دیکھا جا سکے گا لیکن چونکہ گریوٹی انتہائی کمزور قوت ہے لہذا گریویٹان کی دریافت کے بہت بڑے پیمانے کی تجربہ گاہ درکار ہے۔ یورپی سپیس ایجنسی کی جانب سے LISO نامی ایسا تجربہ مستقبل قریب میں ہوگا۔ بہرحال انسان کے اندر موجود وحدت کی تلاش کی جبلت کا اظہار طبیعات کے جدید نظریات میں نظر آرہا ہے اور شاید یہی جبلت کسی روز کوانٹم گریوٹی کی شکل میں کائنات کی طبیعاتی وحدت کا اظہار کردے گی!

Categories
نان فکشن

سائنس کیا ہے؟ – حصہ دوم

اس مضمون کا پہلا حصہ پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

سائنسی فلسفے کی تحریکیں

 

گزشتہ مضمون میں ہم نے سائنسی طریقہ کار کا مختصر تجزیہ پیش کیا جس کے مطابق حقائق کو مشاہدے سے اخذ کرکے کچھ بیانات کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ اور بہت سے بیانات کا آپس میں ربط قائم کر کے ایک مفروضہ تشکیل پاتا ہے جس کو پھر تجربے کی کسوٹی پر پرکھنے سے درست یا غلط ہونے کا پتا لگایا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ سائنسی طریقہ کار چارصدیاں پہلے فرانسس بیکن کے ہاتھوں تشکیل پایا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مختلف فلاسفہ نے اس پر اپنے مباحث پیش کیے ہیں۔ سائنس اور تکنیک کی ترقی سے ایسے مشاہدات سامنے آئے ہیں جنہیں عام حواس خمسہ سے مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا۔

 

مائیکروسکوپ کی ایجاد سے ایسے خلیے اور سالمے دریافت ہوئے جن کو محسوس نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح دوربین کی ترقی نے ایسی کہکشاؤں اور ستاروں کا پتا بتلایا ہے کہ جنہیں عام آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ بیسویں صدی کے آغاز ہی سے فزکس میں ایسے نظریات کا ظہور ہوا ہے کہ جس نے نہ صرف سائنسدانوں کو ورطہ حیرت میں ڈالا ہے بلکہ اب سائنسی نظریات میں بھی اثر پذیر ہورہے ہیں۔ اور فلسفے کی ایک باقاعدہ شاخ جسے ‘فلسفۃ السائنس’ کہا جاتا ہے وجود میں آچکی ہے۔ گزشتہ صدی میں رونما ہونے والی بڑی فلسفیانہ تحریکوں میں سائنس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ سائنسی فلسفے کی ان تحریکوں کا مختصر جائزہ ہمارے اس مضمون کا مدعا ہے۔

 

1۔ منطقی اثباتیت

 

1929ء میں ویانا کے کچھ دانشوروں نے ایک منشور جاری کیا جس کانام “ایک سائنسی جہاں بینی: ویانا سرکل” تھا۔ یہ سرکل 1922ء میں ویانا میں قائم ہوا جس میں گزشتہ صدی کے مشہور فلاسفہ مثلاً گوڈل، کارنپ، کارل پوپر وغیرہ شامل تھے۔ یہ لوگ اس سرکل میں اکٹھے ہوتے اور سائنس اور فلسفے کے مابین مختلف حدود پر بحث و مباحث کرنے کے بعد یہ اس منشور تک پہنچے جسے 1929ء میں شائع کیا گیا۔ اس سرکل کو سائنسی فلسفے کی تاریخ میں بہت اہم مقام حاصل ہے۔ اگرچہ جرمنوں کے قبضے کے بعد یہ سرکل بکھر گیا لیکن اسکے فلسفیانہ نظریات نے گزشتہ صدی میں اہم کردار کیا۔ اس میں سے پہلا اہم نظریہ منطقی اثباتیت کہلاتا ہے جسکا ہم مختصر جائزہ پیش کریں گے۔

 

اس نظریے کے مطابق تمام انسانی علم میں صرف وہی علوم قابل اعتبار ہیں جو یا تو منطقی استدلال یا تجربے کی رو سے ثابت ہوتے ہیں۔ اور دیگر ہر قسم کے علم کی نفی کردی جائے گی۔ گویا اس استدلال کے تحت بہت سے علوم مثلاً مابعد الطبیعات اور اخلاق وغیرہ بے معنی علوم ہیں کیونکہ انکو ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اس نظریے کی بنیاد تصدیقیت پر ہے جس کے مطابق ایک قضیہ صرف اسوقت معتبرمعنی کا حامل ہوگا جب اس کی تصدیق یا تردید ہونے کی کامل دلیل پیش کردی جائے۔ بہرحال منطقی اثباتیت کے مطابق تمام فطری یا سماجی مسائل کو منطق اور تجربے یعنی سائنسی طریقہ کار ہی سے حل کیا جا سکتا ہے۔ یہ لوگ ایک ایسی ‘متحدہ سائنس’ یا زبان کی تلاش میں تھے جس کے ذریعے تمام سائنسی قضیوں کو ایک ہی پیرائے میں بیان کیا جا سکے۔ اس مقصد کے حصول میں مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل کے مایہ ناز شاگرد لدوگ ویتجنسٹائن کے پی ایچ ڈی کے تھیسز بنام ‘ٹریکٹیٹس’ نے اہم کردار ادا کیا جسے ویانا سرکل میں موضوع بحث بنائے رکھا جاتا تھا۔ ویتجنسٹائن کے مطابق کسی لفظ کا معنی زبان کےاستعمال سے بنتا ہے اور الفاظ یا خیالات دراصل دنیا میں موجود اشاء کی علامات یا تصویریں ہوتی ہیں۔ اس رجحان نے بعد میں لسانیات میں سمبلزم یعنی علامت پسندی کو جنم دیا۔ اسی طرح برٹرینڈ رسل اور الفرڈ نارتھ وائیٹ ہیڈ کی مشہور تصنیف ‘پرنسپیا میتھییمیٹکا’ جس کا نام نیوٹن کی کتاب سے مستعار لیا گیا کیونکہ اس میں نیوٹن کے ریاضیاتی اصولوں کا نئے رجحانات کی روشنی میں جائزہ لیا گیا اور ریاضی کو رسمی منطق کی بجائے سمبلزم کی بنیاد پر استوار کیا گیا۔ برطانیہ میں اے جے آئر کی مشہور تصنیف “زبان، سچائی اور منطق” نے منطقی اثباتیت کا بول بالا کیا۔

 

2۔ تردیدی فلسفہ

 

ویانا سرکل کے نتیجے میں منطقی اثباتیت کی تشہیر کے بعد اس پر تنقید کا دور شروع ہوا۔ سب سے پہلا شخص جس نے اس رجحان پر شک کرتے ہوئے اہم تنقید کی وہ سر کارل پوپر ہیں۔ انہوں نے ویانا کی یونیورسٹی سے فلسفے میں پی ایچ ڈی کی جسکا موضوع سوچنے کے عمل میں طریقہ کار کا مسئلہ تھا۔ ان کا زیادہ کام نظریاتی طبیعات اور ریاضی کے حوالے سے تھا۔ لیکن انکا سب سے اہم کام سائنسی و غیرسائنسی نظریات کے معیار کے حوالے سے ہے جسے ہم تردیدی فلسفے کا نام دیں گے کیونکہ اس میں کسی خاص نظریے کے سائنسی ہونے کی تردید کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ انکی دومشہور ترین کتب کا نام “سائنسی دریافت کی منطق” (1959ء) اور “قیاس اور تردید” (1963ء) ہیں۔ اسکے علاوہ تاریخ اور معاشرے کے حوالے سے بھی بہت اہم کام کئے۔

 

اپنی کتاب “قیاس اور تردید” میں انہوں نے لکھا ہے کہ کیسے ان کو پہلی مرتبہ منطقی اثباتیت کے فلسفے پر شک ہوا۔ یہ شک انہیں تین اہم نظریات کے سائنسی کہے جانے پر پیدا ہوا جس میں مارکس، فرائڈ اور ایڈلر شامل ہیں۔ بلکہ ایڈلر کے حوالے سے انہوں نے 1919ء کا ایک واقعہ بھی بیان کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے پاس کسی بچے میں نفیساتی مسئلہ پیش آیا اور انہیں اس کی وجہ ایڈلر کی تھیوری کے مطابق ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔ جب انہوں نے ایڈلر کو یہ کیس دکھایا تو اس نے فوراً اپنے نفسیاتی طریقہ کار سے اس کا حل پیش کر دیا۔ حالانکہ اس نے ابھی بچے کو دیکھا تک نہ تھا۔ پوپر لکھتے ہیں میں نے حیرانی میں ان سے پوچھا کہ آپ اس بارے میں یقین سے کیسے کہہ سکتے ہیں؟ تو جواباً انہوں نے کہا کہ یہ میرا ہزارمرتبہ آزمودہ تجربہ ہے۔ جس پر پوپر نے کہا “تو گویا آج آپ کا تجربہ ایک ہزرا ایک مرتبہ آزمودہ ہو گیا”۔ اس اہم مشاہدے نے جو شک پیدا کیا وہ پوپر کے تردید فلسفے کی بنیاد ہے۔

 

پوپر کے مطابق سائنس اس لئے معتبر نہیں کہ یہ حقائق کی تعداد پر منحصر ہے۔ یعنی زیادہ حقائق کا مطلب یہ نہیں کہ یہ نظریہ زیادہ سائنسی ہوگیا ہے۔ در اصل مارکس، فرائڈ اور ایڈلر کے نظریات اتنے لچکدار ہیں کہ ان کو ہر قسم کے حالات میں ایڈجسٹ کر کے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا یہ نظریات کبھی بھی غلط ثابت نہیں ہو پائیں گے۔ اس کے مقابلے میں آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت قابل تردید ہے کیونکہ ایک تجربے سے اسکو غلط ثابت کیا جاسکتا ہے۔ چونکہ یہ نظریہ قابل تردید ہے لہٰذا سائنسی نظریہ ہے جبکہ مارکس اور فرائڈ وغیرہ کے نظریات غیر سائنسی ہیں۔
تردیدی فلسفہ کے ماننے والے وہی بات کہتے ہیں جو ہم نے اس مضمون کے حصہ اول میں بیان کی تھی یعنی یہ کہ حقائق اور تجربات بھی دراصل ہمارے قیاس اور نظریات کے پابند ہوتے ہیں۔ ہمارا تجربہ ہمارے نظریے کے تابع ہوتا ہے۔ لہٰذا آئندہ تجربیت کی بجائے نظریات کی تردید سائنس کے لئے مشعل راہ ہوگی۔ امریکہ کے مشہور زمانہ فلسفی و ماہرلسانیات نوم چومسکی نے اپنے ایک لیکچر میں بہت اہم بات کہی تھی کہ آج کا زمانہ حقائق سے نظریات لینے کی بجائے نظریات کی بنیاد پر حقائق جانچنے کا زمانہ ہے۔ یعنی پہلے انسان اس کائنات کے بارے میں ایک قیاس قائم کرے گا اور پھر اس کے لئے تجربے سے حقائق کی تلاش کی جائے گی۔ اگر قیاس کی تردید ہوئی تو پھر اس کی جگہ نیا قیاس آجائے گا۔ یعنی سائنسی ترقی “قیاس اور تردید” سے طریقے سے ہوگی۔

 

تردیدی فلسفے سے سائنس کو استقرائی طریقہ کار سے آزادی مل جاتی ہے۔ کیونکہ اب ہم حقائق کی خاص تعداد کی بنیاد پر عمومی نتیجہ اخذ نہیں کریں گے۔ بلکہ عمومی بیانات کی تردید محض ایک واحد بیان سے ہو جائے گی۔ ایک تجربہ کسی بھی قانون کو غلط ثابت کر دے گا۔ ایسے بہت سے سماجی، نفسیاتی اور مذہبی نظریات ہیں جو شاید کائنات کی ہر شے کی وضاحت پیش کریں مگر حقیقت میں وہ کوئی وضاحت پیش نہیں کرتے اور نہ ہی ان سے نیا علم حاصل ہو سکتا ہے۔ کیونکہ نیا علم صرف تب حاصل ہوگا جب کسی نظریے میں غلط ہونے کا امکان پایا جائے گا۔ اور اگر بار بار کے تجربے اور تنقید سے کوئی نظریہ غلط ثابت نہ ہوا تو وہ کسی ایسے مسئلے کو جنم دے گا جس کے لئے پھر کوئی نیا قیاس بنانا پڑے گا۔ مثال کے طور پرنیوٹن کی گریوٹی نے 300 سال تک غلط نہ ہو کر ایسے مسائل پیدا کر دئے کہ ہمیں آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کی ضرورت پیش آگئی۔ لیکن ریلٹوٹی نے نیوٹن کو مکمل غلط ثابت نہیں کیا۔ اس نے نیوٹن کی حدود متعین کردی ہیں اور لہٰذا ہم کہیں گے کہ آئن سٹائن کی فزکس نیوٹن کی فزکس سے بہتر ہے۔ آئندہ ہم آئن سٹائن کی تردید کرنے میں لگ جائیں گے اور شاید مستقبل میں اسکی بھی حدود متعین کرنا پڑ جائیں۔ تردید فلسفہ سچائی کی تلاش کا دعوٰی نہیں کرتا بلکہ خوب سے خوب ترنظریات کی تلاش اس کا مدعا ہے۔

 

یہاں ایک اہم نقطہ یہ ہے کہ اکثر سائنسی نظریات ایک سے زیادہ قیاسی بیانات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جب کبھی کوئی تجرباتی بیان اورنظریات میں تضاد پیدا ہو، تو ہم نظریات ہی کی تردید کیوں کریں؟ اور نظریہ جن قیاسی بیانات پر مشتمل ہے ان میں سے کس قیاس کی تردید ہوئی ہے؟ کیونکہ تردیدی فلسفہ کے مطابق تجربہ بھی قیاس اور نظریات کے تابع ہوتا ہے۔ اسی طرح ہوسکتا ہے کہ ہم نے جو تجربہ ترتیب دیا تھا وہ اس قیاسی نظریے کے لئے کافی نہیں تھا؟ یہ سوالات تاریخ میں دوہم-قوائن تھیسز کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ان سوالات اور دیگر تنقید کے زیراثر تردید فلسفے میں یہ ترمیم کی گئی ہے کہ کسی نظریے کو یکسر رد کردینے کی بجائے اس پر مزید تجربات کرتے رہنا بھی ضروری ہے۔ پوپر خود کہا کرتا تھا کہ محض تردید کافی نہیں ہمیں عقیدہ بھی ہونا چاہئے۔ 2015ء میں رینالڈ نامی ایک سائنسدان نے موجودہ فزکس کے اہم مسئلے ڈارک میٹر کو اس تھیسز کے حوالے سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔

 

3۔ ساختیت یا سانچہ سازی

 

گزشتہ دونوں تحریکوں نے جن مسائل کو جنم دیا ان کے حل کے طور پر بیسیویں صدی کے اواخر میں جس رجحان کو سب سے زیادہ تقویت ملی ہے وہ ساختیت یا ڈھانچہ سازی کی تحریک ہے جس کے بانی مشہور فلسفی تھامس کوہن ہیں جنہوں نے اپنا نظریہ مشہور کتاب “سائنسی انقلاب کی ساخت” میں پیش کیا۔ کوہن نے اپنی تعلیم کا آغاز فزکس سے کیا اور جنگ عظیم دوم کے دوران ہارورڈ اور یورپ میں رڈار سسٹم پر تحقیق کرت رہے۔ فزکس میں انکا اہم کام کوانٹم میکانیات کے اصولوں سے ٹھوس حالت میں مادے کے مطا لعے پر مبنی ہے۔ ہارورڈ میں انہیں عمرانیات کے شعبہ جات میں سائنس کی تاریخ پڑھانے کا موقع ملا جس سے انکا رجحان سائنس کی تاریخ اور فلسفے کی طرف ہوگیا۔

 

کوہن کے مطابق سائنسی نظریات کی پرکھ اس خاص سانچے یا ساخت میں ہوسکتی ہے جس کے تحت وہ نظریہ اخذ ہوا ہے۔ تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ جب ایک سانچہ اس قابل نہیں رہا کہ وہ موجودہ نظریات کی وضاحت کر سکے تو اسکی جگہ ایک نئے سانچے یا ساخت نے لے لی۔ 1957ء میں کوہن نے اپنی پہلی کتاب “کوپرنیکن انقلاب” میں اسی نقطہ نظر کی وضاحت کوپرنیکس کے انقلابی خیالات کی شکل میں کی ہے۔ کوپرنیکس سے پہلے ارسطوئی طبیعات اور بطلیموس کے نظریات کے مطابق زمین ساکت اور کائنات کا مرکز تھی۔ لیکن کوپرنیکس کے مشاہدات نے اس ساکت زمین میں حرکت پیدا کردی اور اس سے کائنات کی مرکزیت چھین لی۔ گلیلیو کی دوربین اور حساب و کتاب نے بھی کوپرنیکس کی حمایت کردی۔ یہ ایک بڑا انقلابی قدم تھا جسے نہ تو استقرائی انداز سے ثابت کیا جا سکتا ہے اور تردیدی فلسفہ اس بارے کچھ بھی واضح کرتا ہے۔ اسکا صرف واحد حل یہی تھا جو کوہن کی ساختیت نے پیش کیا۔

 

ایک اور مثال نیوٹن کی میکانیات کی ہے جو ایک خاص ساخت کی حامل ہے۔ نیوٹن نے کمیت اور قوت وغیرہ کی ایک خاص تعریف کی ہے جس کے بعد اسکی میکانیات نے ایک ساخت یا نظام کی شکل اختیار کی۔ لیکن یہ ساخت ایک انقلابی تبدیلی کے بعد آئن سٹائن کی ریلٹوٹی اور پھر کوانٹم فزکس کی شکل میں نمودار ہوئی۔ کوہن کے مطابق پہلے بکھرے ہوئے تصورات آپس میں مربوط ہو کر ایک سائنسی ساخت تشکیل دیتے ہیں۔ اس ساخت کے تحت ساری سائنسی تحقیق اور تکنیک کام کرتی رہتی ہے۔ جیسے آج کوانٹم فزکس ساری سائنسی تحقیق کے لئے بنیادی سانچہ فراہم کر رہی ہے۔ جبکہ عمرانیات میں کوئی بنیادی سانچہ موجود نہیں اس لئے یہ ایک غیر سائنسی علم ہے۔ کچھ عرصے کے بعد یہ ساخت توڑ پھوڑ کا شکار ہونے لگتی ہے اور ناقابل حل مسائل جنم لیتے ہیں۔ لیکن ہر طرح کے مسائل کو ساختیت کے مسائل نہیں کہا جائے گا۔ صرف وہ مسائل انتشار پیدا کریں گے جو کسی بنیادی سانچے کے اصولوں کو چیلنج کررہے ہوں۔ پھر کسی انقلابی صورتحال میں یہ ساخت ایک نئی شکل میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ یہ نئی ساخت اچانک سے کسی شخص کے ذہن میں نمودار ہوگی اور یہ پچھلی ساخت سے تضاد میں ہوگی۔ مثلاً ریلٹوٹی میں روشنی کی رفتار محدود ہے جبکہ نیوٹن کے مطابق لامحدود۔ اس نئی ساخت میں تبدیلی کسی بھی سائنسدان کے لئے مشکل کام ہوتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی آپ سے اپنا مذہب تبدیل کرنے کا کہے۔ مثلاً آئن سٹائن ساری زندگی کوانٹم فزکس کے نتائج کو نہیں مانتا تھا۔ اور ایک نئی سائنسی ساخت پھرایک اور انقلاب سے دوچار ہوتی ہے اور یوں سلسلہ چلتا رہتا ہے۔

 

کوہن کے اس نظریہ پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ کوہن کے مطابق سارے سائنسی نظام اور نظریات اپنے اپنے وقت اور حالات میں صحیح ہوتے ہیں۔ اور یہ کہ مختلف ساختیں محض اظہار رائے کا کام دیتی ہیں۔ اور اس طرح سائنس میں ترقی کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔

 

4۔ انارکی نظریہ

 

تھامس کوہن کی ساختیت کے نتیجے میں جو رجحان سب سے زیادہ کھل کر سامنے آیا وہ مشہور فلسفی پال فیوربینڈ کا نظریہ نراجیت ہے۔ اس نے 1975ء میں یہ نظریہ اپنی مشہور کتاب “طریقہ کار کی نفی: علم کا نراجی نظریہ” میں پیش کیا۔ اس نظریے کے مطابق سائنس میں کوئی طریقہ کار نہیں ہوتا اور کسی خاص انداز سے ترقی واقع ہوتی ہے۔ بلکہ سائنس میں کسی بھی وقت “کچھ بھی” ہوسکتا ہے۔ سائنس کو کوئی حق نہیں کہ وہ خود کو باقی علوم سے معبتر قرار دے سکے۔ اسی مناسبت سے اسے انارکی کا نظریہ کہا جاتا ہے۔

 

فیورا بنڈ کے مطابق سائنس کو ایک اعلٰی اور معتبر علم کا درجہ دینا محض خام خیالی اور عقیدہ پرستی ہے۔ اسکے دفاع کےلیئے کوئی ٹھوس دلائل میسر نہیں ہیں۔ وہ خود اپنی کتاب میں گیلیلو کا حوالہ دیتے وقت کہتا ہے کہ گلیلیو نے اپنی بات کسی سائنسی طریقے کی بجائے دھوکہ دہی اور چالبازی سے ثابت کی تھی۔ اس کی بجائے وہ انسانی آزادی کا قائل ہے۔ اس کے مطابق سائنسی طریقہ کار سے آزادی کے بعد ہر فرد خود اپنا معیار آپ ہوگا اور کسی بھی قسم کے علم کو حاصل کر سکے گا۔ سائنس کی حکمرانی ختم ہوگی اور انسان آزاد ہوگا۔ یہ انسان کی مرضی اور اس کی خواہش ہے کہ وہ سائنس پڑھے یا کچھ اور۔ لیکن جو بھی وہ پڑھے گا اسے باقیوں پر ترجیح نہ ہوگی۔ بلکہ تمام علوم برابر اہمیت رکھتے ہیں۔ جس طرح ہمارے بزرگوں نے ہمیں مذھبی آزادی دلوائی اسی طرح فیورابنڈ ہمیں علمی آزادی دلوانا چاھتا ہے۔ یعنی “کچھ بھی چلے گا”۔

 

بہرحال فیورابنڈ بالکل ویسی ہی باتیں کرتا نظر آتا ہے جسے آج کل کے پس جدیدیت کے ماننے والے کہتے ہیں۔ اور اس سے انسانی آزادی کا حسین خواب پورا ہوتا نظر آتا ہے۔ لیکن ایسے تو سائنس سمیت ہر علم اپنی اہمیت کھو دے گا اور انسان ایک ویرانے کی سی کیفیت میں مبتلا ہوجائے گا۔ کیوں نہ اس کا کوئی حل نکالا جائے؟ اسکا چالمرز نامی فلسفی نے اپنی کتاب “سائنس اور اس کی ساخت” میں پیش کیا ہے اور وہ یہ کہ ہم فیورابنڈ کے ایک عالمی سائنسی طریقہ کی حمایت کرتے ہوئے ایک ترقی پذیر سائنسی طریقہ کار کو اختیار کریں۔ اس طرح ہم ہر قسم کے علم کے لئے مختلف طریقہ کار کا انتخاب کریں گے۔ اور ہر طریقہ کار بجائے خود ترقی پذیر اور مخصوص علم میں کارگر ہوگا۔ یہ طریقہ کار جامد اصولوں کی بجائے متحرک مشاہدات پر مشتمل ہوگا۔ تمام مشاہدات، تجربات، حقائق اور نظریات دراصل اپنے اندر کچھ اقدار مشترک لازمی رکھتے ہیں یعنی ان میں ایک قسم کی وحدت مقصود پائی جاتی ہے۔ اور اسی وحدت کے زیر اثر سائنس ترقی کرتی ہے۔ وگرنہ کوہن کے مختلف سانچے آپس میں کچھ بھی مشترک نہیں رکھتے تو پھر سائنسی ترقی کیسے ہو؟ اسی طرح سائنس کے عزائم بھی آزاد نہیں بلکہ سماجی تبدیلیوں کے ساتھ منسلک ہیں۔ سائنسدان کی ذاتی دلچسپی، معاشرے کے رجحانات اور سائنس کی فنڈنگ وغیرہ ملکر ان مقاصد کو جنم دیتے ہیں جن کے حصول کی طرف سائنس پیش قدمی کرتی ہے۔