Laaltain

نجمِ اسود اور ننھی کائناتیں: قسط نمبر 7 (میرا نکتۂ نظر)

گذشتہ اقساط کے مطالعہ کے لئے درج ذیل لنکس استعمال کیجئے (لنک نئے ٹیب میں کھلیں گے) قسط نمبر 1, قسط نمبر 2، قسط نمبر 3، قسط نمبر 4, قسط نمبر 5 ، قسط نمبر 6 میرا نکتۂ نظر یہ مضمون میرے خدا پر ایمان یا عدمِ ایمان سے متعلق نہیں ہے۔ اس کی بجائے میں اس امر پر میں گفتگو کروں گا کہ ہم […]

نجمِ اسود اور ننھی کائناتیں: قسط نمبر 1 (پیش لفظ)

عرضِ مترجم: اسٹیفن ہاکنگ کی کتاب ‘وقت کی مختصر تاریخ’ کا اردو ترجمہ محترم ناظر محمود صاحب، علیم احمد صاحب، یاسر جواد صاحب اور دیگر احباب نے اپنی اپنی جگہ نہایت ہنر مندی اور سلیقے سے کیا ہے، مزید برآں ہاکنگ کی تازہ ترین کتاب “بڑے سوالوں کے مختصر جواب” کا ترجمہ بھی حال ہی […]

روشنی کے ذرّات (تحریر: کارلو رویلی، ترجمہ: فصی ملک، زاہد امروز)

دوسرا سبق: روشنی کے ذرّات (کوانٹا) کارلو رویلی ترجمہ: زاہد امروز، فصی ملک اسی سلسلے کے مزید اسباق پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔ بیسویں صدی کی فزکس کے دواہم ستون،آئن سٹائن کا نظریہ عمومی اضافیت (جس کے بارے میں میَں نے گزشتہ سبق میں بات کی) اورکوانٹم میکانیات (جس کے متعلق میَں اس سبق میں […]

ہگز بوزان اور عبدالسلام

ڈاکٹر عقیل احمد: عبدالسلام نے کائنات کے متعلق ہماری موجودہ فہم کو حاصل کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔عبدالسلام گزشتہ صدی کا ایک عظیم سائنسدان ہی نہیں تھا بلکہ تیسری دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترویج کے لیے ان کی خدمات کا کوئی ثانی نہیں ہے۔

وجودِ کائنات

رابرٹ ایڈلر: جوہروں جیسی چھوٹی اشیاء سے لے کر کہکشاؤں جیسی بڑی چیزوں تک۔ ہمارا بہترین نظریہ جو ان بڑی ساختوں کی وضاحت کرتا ہے عمومی نطریہ اضافیت کہلاتا ہے ۔ یہ وضاحت کرتا ہے کہ زمان، مکان اور انجذاب کیسے کام کرتے ہیں۔

کائنات یا کائناتیں؟

فلپ بال: متوازی کائناتوں کا تصور جو کبھی سائنس فکشن کا حصہ ہوتا تھا اب سائنسدانوں یا کم از کم طبیعیات دانوں—جن میں یہ اہلیت ہے کہ وہ تصورات کو حقیقت کی حدوں تک لے جاتے ہیں– کے درمیان بھی قابلِ تعظیم بنتا جا رہا ہے۔

کوانٹم میکانیات کے مسائل

سٹیون وائن برگ: کوانٹم میکانیات میں کسی نظام کی حالت کلاسیکی طبیعیات کی طرح ہر ذرے کا مقام اور رفتار اور مختلف میدانوں کی تبدیلی کی شرح کی قیمتیں دے کر بیان نہیں کی جاتی۔

نظریہ کثرتِ کائنات

ہماری کائنات کے علاوہ دیگر اربوں کھربوں کائناتیں موجود ہیں اور ان میں سے ہر کائنات کے قوانین اور ان کے تمام خصائل بشمول وہاں کی مخلوقات حقیقی وجود رکھتے ہیں اسی نظریے کو کثرت کائنات (Mul­ti­verse) کا نظریہ کہا جاتا ہے۔