Categories
نان فکشن

خوبصورت ترین نظریہ

مصنف: کارلو روالی
ترجمہ: فصی ملک

اپنی جوانی میں البرٹ آئن سٹائن نے ایک سال فارغ رہ کر گزارا۔آپ وقت ضائع کیے بنا کسی مقام پر نہیں پہنچتے لیکن بدقسمتی سے یہ ایک ایسی بات ہے جو ٹین ایجرز(Teenagers) کے والدین نہیں سمجھتے۔وہ پاویہ (Pavia) میں تھا۔ اپنے ہائی سکول کی سختی کو برداشت نہ کر سکنے کے بعد وہ جرمنی میں تعلیم کو خیر باد کہہ کے اب اپنی فیملی کے ساتھ رہ رہا تھا۔

یہ بیسویں صدی تھی اور اٹلی میں صنعتی انقلاب کا آغاز۔ اس کا باپ جو کہ ایک انجینئر تھا، پادان(Padan) کے کھیتوں میں برقی طاقت گاہ (power plant) لگا رہا تھا۔البرٹ کانٹ(Kant) کو پڑھا کرتا اور محض نشاطِ دل کی خاطر یونیورسٹی آف پاویہ میں رجسٹر ہوئے یا امتحانات کا سوچے بنا اتفاقی لیکچر لیا کرتا تھا۔لہذٰا یہ وہ طریقہ ہے جس سے سائنسدان بنتے ہیں۔

اس کے بعد اس نے زیورخ یونیورسٹی میں داخلہ لے کر خود کو فزکس پڑھنے میں مگن کر لیا۔ کچھ سال بعد اس نے تین مضامین اس وقت کے فزکس کے سب سے محترم جرنل”اینلز دی فزکس” میں بھیجے۔ان میں سے ہر ایک نوبل انعام کا مستحق ہے۔پہلا یہ بتاتا ہے کہ جوہر واقعی وجود رکھتے ہیں، دوسرا کوانٹم میکانیات کی بنیاد فراہم کرتا ہے جس کو میں اگلے سبق میں بیان کروں گا اور تیسرا اس کے اضافیت کے تیسرے نظریے کو بیان کرتا ہے جو ان نظریہ خاص اضافیت کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ کیسے وقت ہر ایک کے لیے ایک جیسا نہیں گزرتا، کہ کیسے دو جڑواں بھائیوں کی عمر میں فرق آ جاتا اگر ان میں سے ایک رفتار سے حرکت میں ہو۔

آئن سٹائن ایک ہی رات میں مشہور سائنسدان بن گیا اور اسے بہت ساری یونیورسٹیوں سے نوکری کی پیش کشیں آنے لگیں۔لیکن کسی شئے نے اسے بے چین رکھا۔ نظریہ اضافیت اپنے فی الفور اوتراف کے بعد بھی تجاذب(gravitation) ، جو ہہمیں یہ بتاتا ہے کی چیزیں کیسے گرتی ہیں، کے ساتھ یکساں نہیں تھا۔اس نے ایسا اس وقت محسوس کیا جب وہ ایک مضمون میں اپنے نئے نظریہ اضافیت کا خلاصہ بیان کر رہا تھا۔اس نے دیکھا کہ قانونِ ہمہ گیر تجاذب(law of universal gravitation)، جسے جدید طبیعیات کے باپ آئزک نیوٹن نے خود ترکیب دیا تھا،اضافیت کے ساتھ یکسانیت کی خاطر نظرِ ثانی کی ضرورت میں ہے۔اس نے خود کو اس مسلے میں غرق کر لیا اور اسے حل کرنے میں اسے دس سال لگے۔کوششوں، غلطیوں، غلطی بھرے مضامین، شاندار اور غلط تصورات کے دس سال۔

بالاخر 1915 میں اس نے ایک مضمون چھاپا جس میں اس نے اس مسلے کا تجاذب(Gravitation) کا ایک نئے نظریے کی شکل میں مکمل حل فراہم کیا۔اس نے اسے عمومی نظریہ اضافیت(general theory of relativity) کا نام دیا۔جو اس کا ماسٹر پیس اور روسی طبیعیات دان لیو لنڈاو(Lev Landav) کے مطابق خوبصورت ترین نظریہ ہے۔

کچھ ایسے ماسٹر پیس ہوتے ہیں جو ہم پر بہت گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔جیسا کہ موزارٹ کی ریقویم(requiem of Mozart)، ہومر کی آڈیسی(Odyssey of Homer) سسٹین چیپل اور کنگ لیئر۔ ان کی خوبصورتی کو مکمل سراہنے کے لیے لمبی شاگردی کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن اس کا اجر خالص خونصورتی ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ ہماری آنکھیں دنیا کو ایک نئے نقطہ نظر سے دیکھنے لگتی ہیں۔آئن سٹائن کا گوہر—عمومی نظریہ اضافیت— بھی اسی درجے کا ماسڑ پیس ہے۔

مجھے وہ برانگیختگی اب بھی یاد ہے جب میں نے اس کا مطلب سمجھنا شروع کیا تھا۔ وہ گرمیوں کا موسم تھا۔ اپنی یونیورسٹی کے آخری سال میں میں کیلبریا(Calabria) میں کونڈوفری(Condofuri) کے ساحل پر Hellenic Mediterranean سورج کی دھوپ میں ڈوبا تھا۔پڑھائی سے مضطرب ہوئے بنا چھٹیوں میں سب سے بہتر پڑھا جاتا ہے۔میں ایک ایسی کتاب سے پڑھ رہا تھا جس کو کناروں سے چوہوں نے چبا ڈالا تھا۔کیوں کہ امبرین(Umbrian) پہاڑی کے دامن میں ایک خستہ حالت گھر میں ، جہاں میں بولوگنا(Bologna) میں یونیورسٹی کی کلاسوں سے تھا کر پناہ لیتا تھا، میں اس بدقسمت مخلوق کے سوراخ اس کتاب سے بند کر دیا کرتا تھا۔کبھی کبھار میں کتاب سے نظریں اٹھاتا اور دمکتے سمندر کو دیکھتا۔مجھے ایسا لگتا جیسے میں زمان و مکان کے انحنا(space time curvature) کو دیکھ رہا ہوں جس کا تصور آئن سٹائن نے کیا تھا۔جیسے کسی جادوئی طرح سے ایک دوست میرے کان میں ایک پوشیدہ سچ بتا رہا ہو۔جیسے سچائی کا پردہ ہٹا کر ایک سادہ اور عمیق ترتیب کو ظاہر کر دیا جائے۔جب سے ہم نے دریافت کیا ہے کہ زمین گول ہے اور ایک جنونی لٹو کی طرح گھومتی ہے تو ہم سمجھ گئے ہیں کی حقیقت وہ نہیں ہے جو ہمیں دکھائی دیتی ہے۔ہر بار ہم جب اس کے کسی نئے پہلو کا نظارہ کرتے ہیں تو یہ ہمارے لیے ایک عمیق اور جذباتی تجربہ ہوتا ہے۔ ایک اور پردہ ہماری آنکھوں سے ہٹ جاتا ہے۔

ان بہت ساری جستوں میں جو ہم نے کائنات میں اپنی فہم کو آگے بڑھانے کے لیے لیں، شاید کوئی بھی آئن سٹائن کے برابر نہیں ہے۔ کیوں؟
اول یہ کہ جب آپ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ(نظریہ) کیسے کام کرتا ہے، اس میں دم بخود کر دینے والی سادگی ہے۔میں یہاں اس کا مرکزی خیال پیش کروں گا۔

نیوٹن نے یہ توضیح کرنے کی کوشش کی کہ چیزیں کیوں گرتی ہیں اور سیارے کیوں گھومتے ہیں۔ اس نے ایک ایسی قوت کا تصور کیا جو تمام مادی اجسام کو ایک دوسرے کی طرف کھینچتی ہے۔اس نے اسے کششِ ثقل یا گریوٹی کا نام دیا۔ایک دوسرے سے دور مادی اجسام میں، جن کے بیچ میں کوئی اور شئے موجود نہیں ہوتی، یہ قوت کیسے عمل کرتی ہے یہ معلوم نہیں تھا۔اور سائنس کا باپ اس کے بارے میں کوئی مفروضہ پیش کرنے میں بھی محتاط تھا۔نیوٹن نے یہ بھی فرض کیا کہ اجسام سپیس میں سے حرکت کرتے ہیں اور یہ کہ سپیس ایک بہت بڑے جار کی مانند ہے۔ایک ایسا ڈبہ جس نے ساری کائنات کو گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ایک بہت بڑی ساخت جس میں اجسام اس وقت تک سیدھے حرکت کرتے ہیں جب تک کوئی قوت اب کے خطِ مرمی(trajectory) کو منحنی نہ کر دے۔نیوٹن یہ نہیں بتا سکا کہ یہ سپیس— یہ جار جو اس نے ایجاد کیا—کس چیز کا بنا ہوا ہے۔لیکن آئن سٹائن کی پیدائش سے کچھ سال قبل دو برطانوی سائندانوں، فیراڈے اور میکسویل، نے نیوٹن کی سرد دنیا میں ایک نہایت ہی اہم جز، برقناطیسی میدان(electromagnetic field)، جمع کر دیا۔

یہ میدان ایک حقیقی شئے ہے جس نے ہر جگہ پھیل کر ساری سپیس کو بھرا ہوا ہے۔یہ ندی کی سطح کی طرح مرتعش و اہتزاز (vibrate and oscillate) پذیر ہو سکتا ہے اور ریڈیائی امواج اور برقی قوت کی ترسیل کر سکتا ہے۔اپنے بچپن ہی سے آئن سٹائن نے اس برقناطیسی میدان کی طرف بہت کشش محسوس کی جو اس کے باپ کے بنائی ہوئی طاقت گاہوں میں روٹروں(rotors) کو گھماتا تھا۔اور جلد ہی اس نے یہ سمجھ لیا کہ برق کی طرح تجاذب کی ترسیل بھی ایک میدان (field) سے ہوتی ہے۔ایک برقی میدان کی طرح تجاذبی میدان کا بھی لازماً وجود ہونا چاہیے۔اس نے یہ سمجھنے کا ارادہ کیا کہ یہ تجاذبی میدان کس طرح کام کرتا ہے اور اسے ریاضی کی مساواتوں سے کس طرح بیان کیا جا سکتا ہے۔

یہ وہ لمحہ تھا جب ایک بہت ہی شاندار خیال اس مے دماغ میں آیا۔” تجاذبی میدان سپیس میں پھیلا ہوا نہیں ہے بلکہ تجاذبی میدان بذاتِ خود سپیس ہے”۔ یہ عمومی نظریہ اضافیت کا مرکزی خیال ہے۔نیوٹن کی سپیس جس میں سے چیزیں حرکت کرتی ہیں اور تجاذبی میدان درحقیقت ایک ہی چیز ہیں۔
یہ ایک آگہی کا لمحہ ہے، دنیا کی ایک شاندار توضیح۔ سپیس مادہ سے کوئی جدا چیز نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کا ہی ایک مادی جز ہے۔ایک ایسی شئے جس میں ہلکورے(ripples) پڑ سکتے ہیں، جو کھنچ سکتی ہے،منحنی ہو سکتی ہے اور جس میں بل پڑ سکتے ہیں۔ہم کسی ٹھوس غیر مرئی (invisible) بنیادی ڈھانچے میں موجود نہیں ہیں۔ہم کسی بہت بڑے سنیل (snale) کے لچکدار خول میں موجود ہیں۔سورج اپنے اردگرد سپیس کو منحنی کرتا ہے اور زمین اس کے گرد کسی قوت کے زیرِ اثر نہیں گھومتی بلکہ وہ تو ایک ایسی سپیس مین سیدھا جانا چاہتی ہے جو منحنی ہے۔بالکل ایسے جیسے ایک پتھر قیف میں لڑکھتا ہے۔قیف کے مرکز پر کوئی نامعلوم قوت پیدا نہیں ہوتی بلکہ یہ اس قیف کی دیواروں کی منحنی فطرت (curved nature) ہے جو اس کو لڑکھنے پر مجبور کرتی ہے۔سیارے سورج کے گرد گھومتے اور چیزیں اس لیے گرتی ہیں کیوں کہ سپیس منحنی ہے۔

ہم سپیس کے انحنا کو کیسے بیان کر سکتے ہیں؟ انیسویں صدی کے سب سے ممتاز ریاضی دان کارل فریڈرک گاش(Carl Fredrick Gauss) ، جو کہ “ریاضی کا بادشاہ” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے دو ابعادی (two dimensional) سطحوں جیسا کہ پہاڑ وں کی سطح ہوتی ہے کو بیان کرنے کے لیے ایک کلیہ لکھا۔پھر اس نے اپنے سب سے ذہیں طالب علم کو یہ کہا کہ وہ اس کلیے کی اس طرح تعمیم (generalization) کرے کہ یہ تین یا اس سے زیادہ ابعادی سپیس کا بھی احاطہ کرے۔ اس طالب علم نے جو کی برنارڈ ریمان(Bernhard Riemann) تھا نے ایک ایسا اثر انگیز تھیسز لکھا جو بالکل بے کار دکھتا تھا۔ریمان کے تھیسز کا نتیجہ یہ تھا کہ کسی بھی منحنی سپیس (curved space) کی خصوصیات کو ایک خاص ریاضیاتی شئے سے بیان کیا جا سکتا ہے جو ریمانی منحنی(Riemann curvature) کہلاتی ہے اور اسے انگریزی کے حرفِ تہجی R سے ظاہر کیا جاتا ہے۔آئن سٹائن نے ایک مساوات لکھی جو یہ کہتی ہے کہ R مادہ کی توانائی کے برابر ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں مادہ موجود ہو گا وہاں سپیس منحنی ہو جائے گی۔یہ مساوات آدھی لائن میں سما سکتی ہے اور اس میں اور کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک خیال کہ سپیس منحنی ہو جاتی ہے ایک مساوات بن گئی۔

لیکن اس مساوات کے اندر ایک کائنات ذخیرہ ہے۔اور یہاں اس نظریے کی شادابی پیش گوئیوں کی تعبیر میں کھلتی ہےجو ایک دیوانے کی بڑ کے مشابہہ ہے لیکن وہ تمام کی تمام سچ ثابت ہوتی ہیں۔

یہ مساوات یہ بتاتی ہے کہ ایک ستارے کے اردگرد سپیس کیسے منحنی ہوتی ہے ۔ اس انحنا کی وجہ سے نہ صرف سیارے اس کے گرد گھومتے ہیں بلکہ روشنی بھی اپنے راستے سے منحرف ہو جاتی ہے۔آئن سٹائن نے پیش گوئی کی کہ سورج روشنی کو اس کے راستے سے منحرف کر دیتا ہے۔ 1919 میں اس انحراف کی پیمائش کی گئی اور یہ پیش گوئی کی تصدیق ہوگئی۔لیکن صرف سپیس ہی منحنی نہیں ہوتی بلکہ وقت بھی ہوتا ہے۔آئن سٹائن نے پیش گوئی کی کہ وقت زمین کی سطح کی نسبت بلندی پر زیادہ تیزی سے گزرتا ہے۔اس کی پیمائش کی گئی اور نتیجہ بالکل صحیح نکلا۔اگر ایک شخص جو ہمیشہ شطح سمندر پر رہا ہو اپنے جڑواں بھائی سے ملے جو پہاڑوں میں رہا ہو تو وہ دیکھے گا کہ اس کا بھائی اس کی نسبت زیادہ بوڑھا ہے۔اور یہ تو ابھی صرف شروعات ہے۔

ایک ستارہ جو اپنا سارا ایندھن(ہایئڈروجن) استعمال کر چکا ہوتا ہے اپنے ہی وزن کے تحت منہدم ہو کر سپیس میں اتنا انحنا پیدا کر دیتا ہے کہ اس سے سپیس میں ایک حقیقی سوراخ بن جاتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیوں کہ جلنے سے پیدا ہونے والا دباؤ اس انہدام کو روکنے کے لیے ناکافی ہوتا ہے۔یہ مشہورِ زمانہ بلیک ہول ہیں۔جب میں یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا تو ان کو ایک گپت نظریے کی قابلِ یقین پیش گوئی گمان کیا جاتا تھا۔آج ان کا آسمانوں میں سینکڑوں کی تعداد میں مشاہدہ کیا جا چکا ہے اور ہیت دانوں نے کافی تفصیل میں ان کا مطالعہ کیا ہے۔

بات ابھی ختم نہیں ہوئی، ساری کی ساری سپیس پھیل اور سکڑ سکتی ہے۔مزید آئن سٹائن کی مساوات یہ بتاتی ہے کہ سپیس جامد نہیں رہ سکتی۔یہ لازماً پھیل رہی ہے۔1930 میں کائنات کے پھیلاؤ کا حقیقتاً مشاہدہ کیا گیا۔یہی مساوات یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ پھیلاؤ ایک دھماکے کی صورت میں ایک نہایت چھوٹی اور گرم کائنات سے شروع ہوا جس کو اب ہم بگ بینگ کے نام سے جانتے ہیں۔پہلے پہل ایک بار پھر اس پر کسی نے بھروسہ نہیں کیا لیکن ثبوت کونیاتی پس منظری شعاعوں—جو کہ اصل دھماکے سے پیدا ہونے والی تپشی سعاعوں کی مدھم باقیات ہیں— کے مشاہدے تک جمع ہوتے رہے۔آئن سٹائن کی مساوات سے آنے والی ہ پیش گوئی سچ ثابت ہو گئی۔ ابھی بھی یہ نظریہ یہ کہتا ہے کہ سپیس سمندر کی سطح کی طرح حرکت کرتی ہے۔ان ثقلی امواج(gravitational waves) کا مشاہدہ آسمان میں موجود بائنری ستاروں پر کیا گیا۔اور یہ اس نظریے سے ایک سو ارب میں سے ایک درجے تک کی حیران کن درستگی تک مطابقت رکھتی ہے۔

قصہ مختصر یہ کہ یہ نطریہ ایک رنگا رنگ اور متحیرکر دینے والی دنیا کو بیان کرتا ہے۔جہاں کائنات پھٹتی ہے، سپیس ایک بے تہاہ سوراخ میں منہدم ہوتی ہے، وقت ڈھیلا پڑ کر سیارے کے قریب سست ہو جاتا ہے اور بین النجوم پھیلی بے انتہا سپیس میں ہلکورے پڑتے ہیں جو سمندر کی سطح کی طرح لہراتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ سب کچھ جو ایک چوہوں کی چبائی گئی کتاب سے ظاہر ہوا ایک بے وقوف کی پاگل پن کی حالت میں سنائی گئی کوئی داستاں نہیں تھی اور نا ہی کیبلریا کے سمندر یا میڈٹرینین کے جلتے سورج کا فریبِ نظر۔ یہ حقیقت تھی۔

یا پھر حقیقت کی ایک جھلک جو ہمارے روز مرہ کے دھندلے اور عام نقطہ نظر سے کم پوشیدہ ہے۔ ایک حقیقت جو بالکل اسی مواد سے بنی ہوئی دکھائی دیتی ہے جس سے ہمارے خواب بنے ہیں۔لیکن یہ ہمارے دھندلے خوابوں کی نسبت زیادہ حقیقی ہے۔

یہ سب کچھ ایک بنیادی وجدان کا نتیجہ ہے کہ سپیس اور تجاذبی میدان درحقیت ایک ہی شئے ہیں۔اور ایک سادہ سی مساوات جس کو یہاں لکھے بنا میں نہیں رہ سکتا اور شاید ہی آپ اس کو سمجھ پائیں، لیکن پھر بھی پڑھنے والا اس کی حیران کن سادگی کا ضرور معترف ہو جائے گا۔

یقیناً اس مساوات کو پڑھنے اور لاگو کرنے کے لیے آپ کو ریمانی ریاضی کی تیکنیک کو سمجھنا ہو گا۔ اس کے لیے تھوڑی سی کوشش اور حوالگی(commitment) کی ضرورت ہے لیکن یہ اس سے کم ہے جس کی آپ کو بیتھوون کی سٹرنگ کوارٹٹ کو سراہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن دونوں صورتوں میں اجر انتہائی خوبصورتی اور دنیا کو دیکھنے کی ایک نئی بصارت ہے۔

Categories
نان فکشن

روشنی سے تیز؟

روشنی کا لفظ سامنے آتے ہی ہمارے ذہن میں اس لفظ کے کچھ تصورات معنی کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ ایک عام شخص روشنی کی ہیئت میں شاید اس قدر دلچسپی محسوس نہ کرتا ہو مگر وہ روشنی کے بارے میں ایک مبہم سا تصور ضرور قائم کرتا ہے۔ اگر ہم قدیم انسانوں کی تاریخ اور ثقافتوں کا مطالعہ کریں تو بہت ہی دلچسپ قسم کی کہانیاں اور واقعات سامنے آتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر قدیم مذاہب کا مطالعہ کیا جائے تو خداؤں کی تقسیم روشنی اور اندھیرے کے خدا سے کی جاتی رہی ہے۔ ہندو مذہب میں سوریا پوجا (سورج کی عبادت) ایک باقاعدہ عملی صورت میں آج بھی موجود ہے۔ اسی طرح زردشتی یا مجوسی مذہب میں آگ کی پوجا میں بھی روشنی کا عنصر شامل ہے۔ اسی طرح جدید مذاہب یعنی عیسائیت، یہودیت اور اسلام وغیرہ میں روشنی ایک خدا کی صفت کے طور پر ظاہر ہوتی ہے جس میں سورج اور چاند کی حیثیت خدا کی مخلوق جیسی ہے۔ اسلام میں خاص طور پر روشنی کو ‘برق’ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے جو انسان کو راستے میں رہنمائی کا کام دیتی ہے۔ قرآن میں ایک مکمل صورت ‘الشمس’ کے نام سے نازل ہوئی۔ معراج کے واقعہ میں رسول خدا ﷺ کی سواری کو ‘براق’ یعنی روشنیوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔

 

روشنی کے بارے میں سائنس کے نظریات کیا ہیں؟ اور روشنی کی رفتار ایک متعین مقدار سے زیادہ یا کم ہوسکتی ہے کہ نہیں؟ اور سب سے زیادہ یہ کہ کیا روشنی کی رفتار تیز ہوجائے تو کون و مکاں میں کیا واقعات رونما ہوسکتے ہیں؟ یہ تمام اور ان جیسے دیگر سوالات کو سائنسی انداز سے سمجھنے کے لئے ہم نے اس مضمون کا انتخاب کیا ہے۔

 

سائنسدان روشنی کو بھی انرجی یا توانائی کی ایک شکل قرار دیتے ہیں جو انسانی آنکھ میں دیکھنے کا احساس پیدا کرتی ہے۔ یہ عمومی سی تعریف سکول کی فزکس کی کتابوں میں مل جائے گی۔ روشنی کس چیز سے مل کر بنی ہے؟ اس سوال کا تاریخی جائزہ لیا جائے تو ہمیں دو مختلف تصورات باہم برسرپیکار نظر آئیں گے۔ ایک نیوٹن کا مفروضہ تھا کہ روشنی بھی باقی مادے کی طرح ذرات پر مشتمل ہوتا ہے۔ لیکن نیوٹن اور اس کے بعد تین سو سال تک اس نظریے کا کوئی ثبوت نہ مل سکا۔ اسکے مقابلے میں ہائی جینز (Huygen) کا نظریہ تھا کہ روشنی ایک انرجی ہے جو لہروں کی شکل میں سفر کرتی ہے۔ اور یہی نظریہ بعد میں تجربات سے ثابت ہوا۔ لیکن انیسویں صدی کے آخر میں میکسول (Maxwell) کے مطابق روشنی ایک برقناطیسی لہر (Electromagnetic wave) کی شکل میں چلتی ہے۔ بعد ازاں مائکلسن اور مورلے کے تجربات کی روشنی میں آئن سٹائن نے حتمی فیصلہ سنایا کہ ان برقناطیسی لہروں کی رفتار ایک خاص حد سے تجاوز نہیں کرسکتی۔
آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت (Relativity) کے مطابق زمان و مکاں میں کوئی فرق نہیں اور ہم ان دونوں تصورات کو ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ دو مختلف چیزوں کی بجائے ایک ہی چیز کے دو نام ہیں جسے ہم زمان و مکاں کی اکائی کہتے ہیں۔ اس نظریہ کی بنیاد جس مفروضے پر قائم ہے وہ یہ کہ ہر وہ ذرہ جس کی کمیت صفر ہوگی وہ ایک متعین مقدار سے زیادہ رفتار حاصل نہیں کرسکتا۔ چونکہ روشنی کا ذرہ فوٹون بھی صفر کمیت کا حامل ہے لہٰذا روشنی بھی ایک خاص حد (380,000 km/s) سے زیادہ رفتار حاصل نہیں کرسکتی۔ چونکہ باقی تمام مادہ غیر صفرکمیت کے حامل ذرات پر مشتمل ہے لہٰذا روشنی کے علاوہ باقی کوئی شے اس رفتار سے تجاوز نہیں کرسکتی۔ اگر کوئی مادی ذرہ اس رفتار سے زیادہ تیز دوڑے گا تو زمان و مکاں کی اکائی ٹوٹ جائے گی۔ کیونکہ ایسا ذرہ پھر زمان اور مکان کو مختلف انداز سے دیکھے گا اور ہم پھر سے 100 سال پہلے کے نظریات میں لوٹ جائیں گے۔ آج تک جتنی بھی نئی تحقیق ابھری ہے اس پر سوالیہ نشان پڑ جائے گا۔

 

23ستمبر 2011ء کو دنیا ئے طبیعات کی سب سے بڑی لیبارٹری سرن(CERN)میں ایک تجربے کے نتائج پیش کئے گئے جس نے پوری دنیا کے سائنسدانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ اس تجربے میں یہ دیکھا گیا کہ نیوٹرینو نامی ایک ذرے نے سویٹزرلینڈ سے اٹلی تک 732کلومیٹرکا سفر مقررہ وقت سے 60 نینو سیکنڈ (یعنی ایک سیکنڈ کا کھربواں حصہ) پہلے مکمل کر لیا۔ یعنی نیوٹرینو نے یہ فاصلہ روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے طے کیا اوریہ روشنی سے 60 فٹ زیادہ آگے جاتے پائے گئے۔ نیوٹرینو ایک انتہائی چھوٹا ذرہ ہے جس کی اولین دریافت 1987ء میں ایک سوپرنووا (Supernova) کے پھٹنے سے پیدا ہونے والی شعاعوں میں ہوئی۔ اس مشاہدے میں دیکھا گیا کہ نیوٹرینو اور روشنی کے ذرات ایک ہی وقت میں 50،000 ملین میل کا سفر طے کرنے کے بعد ایک ہی وقت میں زمین تک پہنچے جس سے یہ سمجھا گیا شاید نیوٹرینو کی رفتار روشنی کے برابر ہے اور ان کی کمیت صفر ہے۔ بعد کی تحقیات سے پتا نیوٹرینو کے تین خاندان ہیں جنکو الیکٹران نیوٹرینو، میوؤن نیوٹرینو اور ٹاؤ نیوٹرینو کا نام دیا جاتا ہے۔ جب نیوٹرینو حرکت کرتے ہیں تو یہ اپنے خاندان کو آپس میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ یہ خصوصیت محض ان ذرات میں پائی جاتی ہے جن کی کمیت صفر نہ ہو۔ 1998ء کے تجربات میں بالواسطہ طور پر یہ دریافت ہوا کہ نیوٹرینو کی کمیت صفر نہیں اور لہٰذا یہ روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزرفتار نہیں ہوسکتے۔

 

اس تجربے کے بعد دنیا بھر میں ایک بحث کا آغاز ہوگیا۔ سب کی زبان پر یہی سوال تھا کہ کیا آئن سٹائن غلط تھا؟ کیا نظریہ اضافیت کی بنیادیں کمزور ہوگئی ہیں اور ہمیں اپنے نظریات کو ازسرنو تعمیر کرنا ہوگا؟

 

لیکن کچھ ماہ کے بعد یعنی 22 فروری 2012ء کواٹلی میں اس تجربے کے ایک شریک اوپرا ٭(OPERA) نامی سرن کے ممبر ادارے نے معذرت کر لی اور کہا کہ ان کے تجربات میں کچھ خامیوں کی بنا پر ایسا نتیجہ برامد ہوا۔ آئن سٹائن غلط ثابت نہ ہوسکا اور نظریہ اضافیت اپنی مضبوط بنیادوں پر قائم رہا۔

 

1930 میں جرمنی کی نازی پارٹی نے آئن سٹائن کے نظریہ کو رد کردیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک کتاب بھی شائع کی جس میں جرمنی کے 100 بڑے دانشوروں نے اس نظریہ کو رد کیا۔ جب آئن سٹائن سے پوچھا گیا کہ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ 100 سائنسدانوں کی بجائے میرا نظریہ تو صرف ایک تجربے سے غلط ثابت ہوجائے گا۔ لیکن تاریخ میں ابھی تک ایسا کوئی تجربہ سامنے نہیں آیا۔

 

لیکن اس اہم ترین سائنسی ہیجان میں ایک نیا سوال ابھرتا ہے کہ کیا آئن سٹائن کے نظریات کبھی بھی غلط ثابت نہیں ہوں گے؟ میرے خیال میں یہاں لفظ ‘غلط’ ایک انتہا پسندی کی علامت ظاہر کرے گا۔ کیونکہ سائنس میں نہ کوئی نظریہ ‘ہمیشہ درست’ رہتا ہے اور نہ ‘بالکل غلط’ ہوسکتا ہے۔ اس کا جواب یوں دیا جا سکتا ہے کہ ہر نظریہ کسی خاص حالت میں کارگر ثابت نہیں ہوسکتا۔ سائنس کو کوئی مذہبی نظریہ یا کوئی جامع فلسفہ نہیں کہا جاسکتا جو ہمارے ہر سوال کا جواب دے اور ہمیشہ ہرحال میں درست رہے۔ بلکہ یہ ایک مخصوص طرز کا علم ہے جس میں کوتاہیاں، غیریقنییت اور خوب سے خوب تر ہونے کی خصوصیات باقی رہتی ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ ہمارے نظریات میں تبدیلی آتی رہے گی اور ہم حقائق کو نت نئے انداز سے سمھجتے رہیں گے۔ آئن سٹائن کا نظریہ عمومی اضافیت (General Relativity) اور کوانٹم فزکس آپس میں میل کھاتے نظر نہیں آرہے اور شاید آئن سٹائن کے نظریات کی مستقبل میں ایک حدبندی ہوجائے۔ لیکن اس سے سائنسدان مایوس ہونے کی بجائے مزید تحقیق کی نئی راہیں تلاش کرسکتے ہیں!

 

ذیل میں ان تجربات کے حوالہ جات دئے گئے ہیں جو اس ضمن میں کئے گئے۔

arXiv:1102.1882v1 [hep-ex] 9 Feb 2011
arXiv:1109.4897v4 [hep-ex] 12 Jul 2012
arXiv:1109.6562v1 [hep-ph] 29 Sep 2011
arXiv:1110.3763v3 [hep-ex] 8 Mar 2012

Categories
نان فکشن

ماضی کے مسافر

ہمارے وہ قارئین جو بگ بینگ تھیوری سے واقفیت رکھتے ہیں، انہیں یہ مضمون کافی آسان اور معنی خیز معلوم ہوگا۔ لیکن اپنے نئے قارئین کو ہم پہلے بگ بینگ تھیوری سے مختصر سی واقف کروانا ضروری سمجھتے ہیں۔ 1915ء میں البرٹ آئن سٹائن نے کشش ثقل سے متعلق “عمومی نظریہ اضافیت” پیش کیا۔ اس نظریہ کے مطابق کائنات ایک مسقتل شئے نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ کائنات میں ہونے والے عوامل ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اثرپذیر عمل کون و مکاں کی باہمی یکجائیت کا ہے۔ لہٰذا کائنات کی وہ تفسیر جو سر آئزک نیوٹن کے مستقل ریاضیاتی تصور زمان پر مبنی ہے، ایک نئی جہت اختیار کرتی نظر آتی ہے۔ آئن سٹائن کے اس نظریہ کے فوراً بعد ہی اس نظریہ کے مضمرات پر بحث کا باب کھل گیا۔ فرائیڈمین نامی ایک ریاضی داں نے جلد ہی آئن سٹائن کی مساوات کو حل کیا اور اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوا کہ یہ کائنات ایک خاص وقت سے پہلے معدوم تھی اور پھر عدم سے وجود پذیر ہوئی ہے۔ جس لمحے یہ کائنات وجود پذیر ہوئی ہے اسے سائنسدان بگ بینگ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟ یہ سوال اپنی جگہ ایک اہمیت کا حامل ہے۔ مگر سائنسدانوں کی اکثریت اس بارے میں یہ دلیل پیش کرتی ہے کہ بگ بینگ ازخود وقت یا زمانے کا نقطہ آغاز ہے۔ لہٰذا یہ سوال لایعنی ہے کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟

 

دنیا کی مختلف تہذیبوں، مکاتب فکر اور مذاہب عالم میں ایک بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ کائنات سے متعلق کوئی بھی نظریہ اور واقعات عالم کی کوئی بھی تشریح ایک عمومی تصور زمان سے خالی نہیں رہ سکتی۔
اس مرحلے پر کچھ باتوں کو ذہن نشین کر لینا ازحد ضروری ہے۔ وقت کی ساخت اور اس کے وجود سے متعلق کچھ نظریات ہمیشہ سے دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والی مختلف اقوام اور مذاہب میں موجود رہے ہیں۔کیا وقت ایک معروضی حقیقت ہے یا صرف ایک ذہنی کیفیت کا نام وقت ہے؟ اگر وقت ایک ذہنی کیفیت ہے تو کیا مختلف اشیاء اور انسانوں کے لئے وقت مختلف حیثیت رکھتا ہے؟ وقت کی یہ تفہییم انسانوں کے لئے دو طرح سے مددگار ثابت ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ وہ اپنے روزمرہ کے کاموں کی ترتیب اور سماجی تہواروں اور ثقافتی سرگرمیوں کو بروقت سرانجام دینے کے لئے وقت کے مختلف پیمانے بناتا ہے۔ مثال کے طور پر پنجاب کے دیہاتوں میں آج بھی بڑے بزرگ وقت کی تقسیم لمحوں، گھڑیوں، پہروں، مہینوں اور سالوں میں کرتے ہیں۔ موسموں کے لحاظ سے تہوار منعقد ہوتے ہیں جن میں بیساکھی کا تہوار دنیا بھر میں مقبول ہے۔ دوسرا پہلو جو وقت کی تفہیم سے متعلق ہے وہ وقت کا ایک عمومی یا کونیاتی تصور ہے جو دنیا کی مختلف تہذیبوں، مکاتب فکر اور مذاہب عالم میں ایک بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ کائنات سے متعلق کوئی بھی نظریہ اور واقعات عالم کی کوئی بھی تشریح ایک عمومی تصور زمان سے خالی نہیں رہ سکتی۔

 

انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یونانی فلاسفہ میں ہمیں ہر طرح کے نظریات ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ فلاسفہ جیسے زینو اور پارمینڈیس حرکت کو فریب قرار دیتے تھے۔ اس کے برعکس دوسرے فلسفی جیسے ہیراقلیطس نے سکوت کو وہم اور حرکت کو اصل قرار دیا۔ اسی طرح مسلم مفکروں بالخصوص طوسی، ابن حزم اور عراقی و دیگر فلسفی تحریکیں یعنی اشاعرہ اور معتزلہ میں بھی زماں اور حرکت کے کچھ نظریات پائے جاتے تھے۔ اشاعرہ کے نزدیک وقت بھی مکاں کی طرح ناقابل تقسیم ایٹموں سے مل کر بنا ہے۔ جبکہ ابن حزم کے نزدیک زمان و مکاں مسلسل ہیں نہ کہ ایٹموں سے مرکب ہیں۔ مسلم فکر کے زوال کے بعد یورپ میں نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا تو تصور زمان و مکاں نے بھی نئی توجیہ حاصل کر لی۔ جب نیوٹن نے حرکت کے قوانین وضع کئے تو ان کے پس پردہ بھی وقت کا ایک تصور موجود تھا۔ نیوٹن کے مطابق وقت ایک مطلق اور خارجی شے ہے۔ وہ اپنی کتاب “پرنسپیا” میں رقمطراز ہے: ـ

 

“مطلق، حقیقی اور ریاضیاتی وقت کسی خارجی شے کے لحاظ سے نہیں بلکہ فی نفسہ اور بذاتِ خود یکساں طور پر بہتا ہے۔ اضافی، ظاہری اور معمولی وقت حقیقی اور مطلق وقت کا ایک خارجی ناپ ہے جسے ہم روز مرہ کے کاروبار میں استعمال کرتے ہیں۔”

 

سائنس کا تصور زمان اگرچہ ازخود سائنس کی ایجاد نہیں ہے بلکہ اس میں مختلف ادوار اور اقوام کے تصورات کی ایک جھلک دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اس تصور کی بنیاد جیومیٹری اور ریاضیاتی مفروضوں پر مبنی ہے۔
دنیا میں موجود تمام مکاتب فکر کی طرح سائنس نے بھی وقت کا ایک تصور قائم کر رکھا ہے۔ سائنس کا تصور زمان اگرچہ ازخود سائنس کی ایجاد نہیں ہے بلکہ اس میں مختلف ادوار اور اقوام کے تصورات کی ایک جھلک دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اس تصور کی بنیاد جیومیٹری اور ریاضیاتی مفروضوں پر مبنی ہے۔ آئزک نیوٹن نے میکانیات سے متعلق اپنے مشہور قوانین کو جب ریاضیاتی بنیاد فراہم کی تو اس میں وقت کو جگہ یا مکاں سے الگ حیثیت عطا کی۔ اس کے مطابق وقت ایک مسلسل خط مستقیم کی طرح یک طرفہ مطلق حرکت کا نام ہے۔ اسی طرح مکاں اپنا ایک الگ وجود رکھتا ہے۔ مکاں اور زماں کا ایک دوسرے پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شے مکاں میں حرکت کرے تو اس سے مطلق زماں کی رفتار پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ اس نظریے میں اہم بات یہ تھی کہ زماں میں حرکت صرف ایک سمت میں ہوگی۔ وقت کی ماضی سے مستقبل کی جانب ایک غیر متغیر رفتار سے حرکت کا نظریہ کلاسیکل تصور زماں کہلاتا ہے۔

 

کلاسیکل تصور زماں کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے انٹروپی کے تصور سے واقفیت ضروری ہے۔انٹروپی دراصل اشیاء کی حرکت میں ایک فطری رجحان کا نام ہے۔ اشیاء کی حرکت اس طرح سے ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ نظم و ضبط کی کیفیت سے بدنظمی کی کیفیت میں ڈھل رہی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر سیاہی کا ایک قطرہ جب پانی کے گلاس میں ڈالا جاتا ہے تو وہ لازمی طور پر ایک قطرے کی منظم شکل سے پانی میں موجود مختلف مالیکیولز کی بے ہنگم اشکال میں ڈھل جاتا ہے۔اور یوں کچھ دیر بعد سارا پانی سیاہی مائل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح گلاس کا ٹوٹنا اور خوشبو کا پھیلنا بھی اسی حرکت کی مثالیں ہیں۔ اسی فطری رجحان کو انٹروپی کا نام دیا جاتا ہے۔ لہٰذا ہم اسے ایک قانون کی حیثیت دے دیتے ہیں کہ فطرت میں اشیاء کی انٹروپی بڑھے گی۔ یہاں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سیاہی کا قطرہ اس وقت تک بدنظمی کی کیفیت سے نہیں گرزتا جب تک پانی کے مالیکیولز اسے بدنظمی کی کیفیات کے ایک وسیع میدان سے متعارف نہیں کرواتے۔ اب اگر یہی اصول پوری کائنات پر منطبق کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کائنات کی انٹروپی بھی بڑھ رہی ہے کیونکہ کائنات پھیل ر ہی ہے اور اس پھیلاو کے نتیجے میں کائنات کی تمام اشیاء کو بدنظمی کی مزید کیفیات میسر ہو رہی ہیں۔ لہٰذا یہ سوال کہ ہم ہمیشہ ماضی سے مستقبل کی جانب کیسے حرکت کرتے ہیں، اب ایک معمہ نہیں رہا۔

 

روشنی کی یہی محدود رفتار ہے جو طبعی کائنات میں قانون علیت کو برقرار رکھتی ہے۔ وگرنہ اگر روشنی بھی لامحدود رفتار رکھتی تو معلول اپنی علت سے قبل وجود پذیر ہو جاتا۔
اب تک ہم کلاسیکل تصور زماں کی سائنسی توجیہ پیش کر رہے تھے۔ جس میں وقت کی سمت ہمیشہ ماضی سے حال میں ہوتے ہوئے مستقبل کی جانب ہوتی ہے۔ اس تصور کے مطابق مستقبل ایک جامد اور ہمیشہ سے موجود شے ہے۔ یعنی اگر ہمیں ماضی اور حال کی حرکت کے تمام قوانین معلوم ہوجائیں تو ہم مستقبل کی بالکل صحیح پیش گوئی کر سکتے ہیں۔ مستقبل ویسے ہی موجود اور ثابت ہے جیسے کہ ماضی۔ لہٰذا مستقبل لکھا جا چکا ہے اور یوں ساری کائنات ایک جبرمسلسل کے تحت مستقبل کی جانب رواں دواں ہے۔ ہمارا اگلا سوال قدرے عجیب ہے اور وہ یہ کہ کیا ہم وقت کی رفتار تیز کر کے جلد مستقبل میں جا سکتے ہیں؟ کیا انسان کسی طرح ماضی میں لوٹ سکتا ہے؟ کلاسیکل تصور زماں میں یہ سوال شاید مضحکہ خیز معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن جدید سائنس میں انکا جواب ہاں میں ہے۔

 

1915ء میں جرمنی کے مشہور سائنسدان آئن سٹائن نے ایک نظریہ عمومی اضافیت کے نام سے پیش کیا۔ اس نظریے کے مطابق نیوٹن کا تصور یعنی مطلق زمان و مکاں صرف اس صورت میں قابل قبول ہے جب مختلف مشاہدہ کرنے والے ایک ہی نظام میں موجود ہوں یا دو مختلف نظام ایک دوسرے کے لحاظ سے ایک خفیف اور مستقل رفتار سے چل رہے ہوں۔ ایسے نظام میں تمام مشاہدہ کرنے والے وقت کو ایک ہی شرح سے ماپ سکتے ہیں۔ لیکن نیوٹن کا یہ تصور اس وقت ناقابل قبول ہو جاتا ہے جب رفتار کی شرح بہت زیادہ ہو۔ کائنات میں روشنی کی رفتار سب سے زیادہ ہے۔ نیوٹن اور کلاسیکی طبیعات نے تو روشنی کو لامحدود رفتار عطا کر رکھی تھی لیکن آئن سٹائن کے مطابق روشنی بھی ایک محدود رفتار سے چلتی ہے۔ اس وقت تک کے تجربات کے مطابق یہ رفتار تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ زمین پر پائے جانے والی اشیاء یعنی ہوائی جہاز وغیرہ جو 500 میل فی سیکنڈ تک جا سکتے ہیں، روشنی کے مقابلے میں ان کی رفتار انتہائی کم ہے۔ لیکن تیز ترین ہونے کے باوجود روشنی ایک محدود رفتار کی حامل ہے۔ اور روشنی کی یہی محدود رفتار ہے جو طبعی کائنات میں قانون علیت کو برقرار رکھتی ہے۔ وگرنہ اگر روشنی بھی لامحدود رفتار رکھتی تو معلول اپنی علت سے قبل وجود پذیر ہو جاتا۔ بہرحال آئن سٹائن نے نیوٹن کے مطلق زمان و مکاں کے تصور کو رد کر دیا۔ اور اب زمان و مکاں کی حیثیت اضافی ہوگئی۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہوگا کہ مختلف مشاہدہ کرنے والوں کا وقت ایک ذاتی حیثیت اختیار کر جائے گا۔ ہر مشاہد کے لئے وقت ایک الگ شرح سے بدلے گا۔ کسی بھی دو واقعات کا درمیانی وقفہ مختلف افراد کے لئے ان کی رفتار کے لحاظ سے مختلف ہوگا۔اسی طرح مکاں بھی محض نقطوں پر مشتمل شے نہیں بلکہ واقعات کی ایک ترتیب کا نام ہے جو مقام کے ساتھ ساتھ ایک خاص وقت میں موجود ہوتے ہیں۔ زمان و مکاں ایک ہی شے کے مختلف اجزاء قرار دئے جائیں گے۔ زمانے کی اس نئی تشریح نے کلاسیکی طبیعات کے تصورات میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ نظریہ اضافیت کی بنیاد پر ایسے ایسے نتائج سامنے آئے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ انہی نتائج میں آغاز کائنات یعنی بگ بینگ کا نظریہ، سیاہ شگاف یا بلیک ہول کی دریافت، GPS کی ایجاد بھی شامل ہیں۔

 

زمان و مکاں ایک قسم کی لچکدار چادر کی طرح ہیں جس میں اگر کوئی بھاری جسم ڈال دیا جائے تو اس میں ایک جھول پیدا ہوتا ہے۔
طے زمانی یعنی Time Travel کی اصطلاح نے بھی سائنس میں پہلی دفعہ آئن سٹائن کے نظریات کی وجہ سے مستند حیثیت اختیار کی ہے۔اس سے پہلے سائنس فکشن میں ایسی اصطلاح استعمال کی جاتی تھی۔ یاد رہے مشرقی روایات بالخصوص متصوفانہ نظریات میں بھی ایسے تصورات پائے جاتے تھے کہ جن کے مطابق کوئی ذی روح کسی بھی زمانے یا مقام پر منتقل ہوسکتا تھا۔ لیکن اب یہ باتیں محض افسانہ نہیں بلکہ ایک حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں۔ نظریہ اضافیت کے مطابق زمان و مکاں ایک اکائی ہیں۔ جس طرح ہم ایک مقام الف سے دوسرے مقام ب تک آگے جاسکتے ہیں اور پھر واپس ب سے الف تک لوٹ سکتے ہیں اسی طرح وقت میں بھی ایسی حرکت ممکن ہے۔ کیونکہ وقت بھی مقام ہی کی طرح ایک لمحے سے دوسرے لمحے تک کا دورانیہ ہے اور اسے بھی واپس لایا جاسکتا ہے۔ زمان و مکاں ایک قسم کی لچکدار چادر کی طرح ہیں جس میں اگر کوئی بھاری جسم ڈال دیا جائے تو اس میں ایک جھول پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اس چادر کو گول کر کے اس کے مختلف کناروں کو آپس میں جوڑ سکتے ہیں۔ زمان و مکاں کی یہ چادر بھی لپیٹی جا سکتی ہے اور یوں ہم زمانے میں واپس اسی لمحے اور مقام پر لوٹ جائیں گے جہاں سے ہم چلنا شروع ہوئے تھے۔ لیکن اس طرح بہت سے تناقضات اور مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر زید ماضی میں چلا جائے اور اپنے دادا کو اس کی ہونے والی بیوی سے ملنے ہی نہ دے تو اس کے دادا اور دادی کی شادی ممکن نہیں رہے گی۔ اور اگر انہوں نے شادی نہیں کی تو پھر زید کیسے پیدا ہو گیا؟ اور اگر زید پیدا نہیں ہوا تو ماضی میں کیسے چلا گیا؟ یقینی طور پر آپ اس مثال سے الجھ گئے ہوں گے۔ ایسی اور بھی الجھنیں ہیں جو آئن سٹائن کے نظریات کا خاصہ ہیں۔ ان الجھنوں کو حل کرتے کرتے سائنسدانوں نے بہت سے دیگر نظریات کو جنم دیا ہے جن میں سے کثرت کائنات کا نظریہ قابل ذکر ہے جسے ہم لالٹین میگزین میں گزشتہ تحریر میں بتا چکے ہیں۔ یعنی زید ماضی میں جاتے ہوئے ایک الگ اور نئی کائنات میں جا نکلے گا۔ اسی طرح ایک اور نطریہ جو اس وقت بہت مقبول ہے یہ کہ ہم ماضی میں سفر کر تو سکتے ہیں لیکن ماضی کے واقعات پر ہمارا کوئی اثر نہیں ہو پائے گا۔ اسی طرح مسقبل میں سفر بھی ممکن ہے۔

 

اس کا ایک طریقہ یہ کہ اپنی رفتار کو تیز کر دیں۔ زمانے کے بہاو کی شرح کا انحصار کسی بھی شے کی رفتار پر ہے۔ رفتار کی تیزی سے وقت آہستہ بہتا ہے۔ اور یوں ایک مسافر جو کسی خلائی سفر پر انتائی تیزرفتاری سے گامزن ہے وہ زمین پر موجود افراد کی نسبت زمانے میں آہستہ حرکت کرے گا۔ جب وہ زمین پر واپس آئے گا تو یہاں کئی صدیاں بیت چکی ہوں گی۔ گویا وہ مستقبل میں جا پہنچا ہے۔اسی طرح گریوٹی بھی وقت کے بہاو کو بدل سکتی ہے۔ 2014ء میں بننے والی ہالی ووڈ کی مشہور فلم Interstellar میں ایسے ہی کچھ مناظر دکھائے گئے تھے جب بلیک ہول کے قریب جانے والے خلائی طیارے کے لئے وقت انتہائی سست ہو گیا اور زمین پر موجود لوگ بوڑھے ہوگئے لیکن خلانودر ابھی جوان ہی رہے۔ اس کے علاوہ ایک ٹائم مشین جو وقت میں سفر کے کام آسکتی ہے ورم ہول Worm Hole کے نام سے جانی جاتی ہے۔ یہ ایک قسم کا شگاف ہے جو کائنات کے ایک حصے کو کسی دوسرے حصے سے جوڑتا ہے۔ لیکن ایسے ورم ہول کو آسمانوں میں ڈھونڈنا اور اس قدر رفتار حاصل کرنا ابھی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ آج کل سائنسدان دنیا کی سب سے بڑی لیبارٹری CERN جو کہ جنیوا میں بنائی گئی ہے، میں کچھ تجربات کر رہے ہیں جس میں شاید ایسے ورم ہول یا بلیک ہول تیار کر لئے جائیں جن میں ایٹمی ذروں کو ماضی میں بھیجا جا سکے۔ اس نوعیت کے کچھ تجربات اس وقت تک کئے جا چکے ہیں۔ لیکن کیا انسان کبھی ایسی مشین تیار کر سکے گا جو اسے ماضی یا مستقبل میں فوری طور پر پہنچا سکے؟ اور اگر ایسا کبھی ممکن ہو گیا تو ہمارا تخیل اس بارے میں کیا تصویر بنائے گا؟ اس بات کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا یا پھر شاید ہمیں اس کے لئے واپس ماضی کی طرف لوٹ کر جانا پڑے!
Categories
نقطۂ نظر

میرا فلسفہ ٔ حیات

(البرٹ آئن سٹائن)
albert-einsteinیہ دنیا بھی کیا بوالعجب شے ہے۔ جہاں ہر کوئی ایک مختصر قیام کے لیے آتا ہے، کسی کو خبر نہیں ہے کہ کس لیے، لیکن کبھی کبھار یونہی ایک الوہی مقصد کی تلاش رہتی ہے۔
روزمرہ زندگی کے زاویہ سے ایک بات ہے جو ہمیں ٹھیک سے معلوم ہے، اور وہ یہ کہ آدمی دنیا میں اس لیے ہے کہ دوسروں کے لیے جیے۔اور خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جن پر ہماری اپنی خوشی، ہنسی اور خوش وقتی کا انحصار ہے اور ایسے ان گنت لوگ جو ہمارے ساتھ باہمی ہمدردیوں کے ایک بندھن میں جڑے ہوئے ہیں۔ میں دن میں کئی بار سوچتا ہوں کہ میری اپنی ظاہری اور باطنی زندگی کس قدر میرے ان ساتھیوں کی محنتوں کی مرہون ہے جو آج میرے ساتھ ہیں، یا گزر چکے ہیں۔اور یہ کہ میں نے ان سے جو کچھ پایا، وہ انہیں لوٹانے میں کس قدر دلجمعی سے اپنی توانائیاں صرف کر سکتا ہوں۔ یہ بات میرے ذہنی سکون کو اکثر تہ و بالا کیے رکھتی ہے کہ میں دوسرے انسانوں کی محنتوں سے مستعار لیے کتنے بھاری قرض اپنے سر چڑھا چکا ہوں۔
میں نہیں مانتا کہ ہمیں فلسفیانہ معنوں میں کبھی بھی کوئی آزادی مل سکتی ہے، کیونکہ ہم اپنے اعمال محض خارجی مجبوریوں کے تحت ہی نہیں، بلکہ داخلی ضرورتوں کے تحت بھی بجا لاتے ہیں۔ شوپنہائر نے کہا تھا؛ “انسان جو ارادہ کر لیتا ہے یقیناً وہ کر سکتا ہے، لیکن وہ یہ کبھی طے نہیں کر سکتا کہ اس نے ارادہ کیا کرنا ہے۔” اس قول نے جوانی میں مجھے بہت متاثر کیا تھا اور ہمیشہ زندگی کی تلخیوں میں مجھے اس سے دلاسا ملتا رہا۔ یہ خیال ایک دائمی تحمل کو نمو بخشتا ہے کیونکہ یہ ہمیں خود اور دوسروں کو بہت ذیادہ سنجیدہ نہیں لینے دیتا۔بلکہ اس سے ایک دلچسپ مزاح کا پہلو نکل آتا ہے۔
کسی کا عمومی انداز میں اپنی زندگی کے وجود اور غایت پر بے تکان سوچتے رہنا،میرے نزدیک ایک سراسر احمقانہ عادت ہے۔تاہم ہر کسی کے اپنی زندگی میں خواہشات اور فیصلوں کے لیے کچھ خاص معیارات ہوتے ہیں۔ جو معیارات میرے سامنے آشکار ہوئے ہیں، اور جنہوں نے مجھے زندگی کے حظ سے معمور کیا ہے، وہ ہیں؛ اچھائی، خوبصورتی اور صداقت۔ مجھے کبھی بھی خوشی اور راحت کے حصول کو اپنا ہدف بنالینا اچھا نہیں لگا؛ ان بنیادوں پر تشکیل دیا گیاکوئی بھی اخلاقی نظام صرف جانوروں کے گِلوں کے لیے موزوں ہو گا۔
فنون لطیفہ اور سائنسی تحقیق کی اس لگن کے جوکھم میں میرے ہم خیال لوگوں کی معاونت کو نکال دیا جائے تو میری زندگی بالکل خالی ہے۔ میں نے بچپن سے ہی انسانی عزائم پر عایدعامیانہ حدود کو حقارت کی نظر سے دیکھا ہے۔ملکیت، حتمی کامیابی، شہرت، عیش و عشرت۔۔ یہ سب ہمیشہ میرے ہاں مردود رہی ہیں۔میرا یہ ماننا ہے کہ سادہ اور منکسر انداز زندگی ہر ایک کے لیے بہترین ہے۔ جسم اور ذہن دونوں کے لیے بہترین۔
سماجی انصاف اور سماجی ذمہ داری میں مجھے ہمیشہ والہانہ دلچسپی رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں مرد و زن سے ذاتی تعلقات کی خواہش کچھ زیادہ نہیں رہی۔ میں ایک اکیلی زین والا گھوڑا ہوں، جو بالکل بھی دوہری تہری بگھی والی گروہی سرگرمی کے لیے نہیں بنا۔میں کبھی بھی ملک یا ریاست کو پورے دل سے نہیں اپنا سکا، یہاں تک کہ اپنے حلقۂ احباب اور اپنے خاندان کو بھی۔ ان بندھنوں کے ساتھ ایک لایعنی تنہائی ہمیشہ جڑی رہتی ہے اور یوں سال بہ سال میری خلوت پسندی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔
ایسی تنہائی کبھی کبھار تلخ ہو جاتی ہیے لیکن مجھے دوسرے لوگوں کو سمجھنے اور ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے عمل سے الگ رہنے پر افسوس نہیں ہے۔ میں یقیناً اس سے بہت کچھ کھو بیٹھتا ہوں گا، لیکن مجھے دوسروں کی اقدار، آراؤں اور تعصبات سے آزادی کی شکل میں اس کی تلافی بھی ہو جاتی ہے۔ اور میں نے کبھی بھی ان بنتی بگڑتی بنیادوں کے عوض اپنے ذہنی سکون کو داؤ پر لگانے کا جوا نہیں کیا۔
میرے نزدیک مثالی سیاسی تصور جمہوریت ہے۔ہر فرد کا احترام تو لازم ہے لیکن پرستش بالکل نہیں۔ اگر مجھ پر ناروا بلاضرورت تعریف اور داد نچھاور کی جائے تو یہ قدرت کی ستم ظریفی ہو گی۔ یہ تحسین شاید لوگوں کی، ان نظریات کا ادراک کرنے کی ناآسودہ خواہش سے جَنم لیتی ہے جن میں میَں نے اپنی ناقص سوجھ بوجھ سے کچھ اضافہ کیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ کسی بھی واضح مقصد کے حصول کے لیے لازم ہے کہ غور و فکر انفرادی نظم و ضبط اور مکمل ذمہ داری درکار ہے۔ اندھے مقلدین کو راستہ دکھانے کی بجائے انہیں اپنے راہ نما منتخب کرنے دیا جائے۔ مجھے لگتا ہے کہ سماجی طبقات کو بانٹنے والے امتیازات بے بنیاد ہیں اور حتمی تجزیے میں ان کی بنیاد طاقت پر ہی ہوتی ہے۔ میں قائل ہوں کہ تشدد پر مبنی ہر مطلق العنانی نظام کا نتیجہ ہمیشہ تباہی ہی ہوتا ہے کیونکہ تشدد لا محالہ طور پر اخلاقی پستی کو دعوت دیتا ہے۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ جابروں کے جانشین بدمعاش ہی ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے میں ہمیشہ اس طرح کے نظام ہائے حکومت کے شدید خلاف رہا ہوں، جیسے کہ اس وقت روس، جرمنی اور اٹلی میں ہیں۔ یورپی جمہوری نظام کو جس امر نے بری طرح متاثر کیا ہے، وہ عمومی رائے کے برعکس بذات خود بنیادی نظریۂ جمہوریت نہیں ہے بلکہ اصل خرابی سیاسی قیادت کا عدم توازن اور سیاسی اتحاد کا غیر اصولی کردار ہے۔ ہماری زندگی کی گہماگہمی میں قدر و قیمت قوم کی نہیں بلکہ تخلیقی انفرادیت اور شخصیت کی ہے؛ وہ شخصیت جو فرد میں اعلیٰ اوصاف پیدا کرے جبکہ گروہ اپنے افکار میں ناقص اور بے حس ہوتا ہے۔اسی بات سے ہم گروہی ذہنیت کی بدترین پیداوار یعنی نفرت پر مبنی عسکریت کی طرف آتے ہیں۔ جو شخص جنگی موسیقی کی دھن پرناک کی سیدھ میں چلتے رہنے سے لطف اندوز ہوتا ہے، میرے لیے قابلِ نفرت ہے۔ اسے دماغ غلطی سے ودیعت کیا گیا ہے، اس کے لیے حرام مغز ہی کافی تھا۔ ایک حکم پر اس قدر بے جگری، بے حس تشدد پسندی اور اس قدر نامعقول حب وطنی؛ میں ان جذبات سے ازحد متنفر ہوں۔ جنگ ازحد احقر اور قابل نفرت ہے، میں ایسے کاموں میں حصہ لینے پر ترجیح دوں گا کہ میرا وجود ہی باقی نہ رہے۔میں انسانی فطرت کو اس حد تک تو سمجھتا ہوں کہ یہ برائی بہت پہلے ختم ہو چکی ہوتی اگر عوام کی عقل سلیم منظم مکاتب، کاروباری صحافت اور سیاسی وجوہ کے ہاتھوں باقاعدہ طور پر لاچار نہ کر دی گئی ہوتی۔
ہمارے لیے حسین ترین تجربہ تحیر کا جادو ہے۔ یہ تمام حقیقی فنون اور علم کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ جس شخص کے لیے یہ جذبہ اجنبی ہو، جو حیرت زدہ ہونے کے لیے توقف نہیں کر سکتا اور جو اس تحیر میں اتر نہیں سکتا، وہ زندگی سے عاری ہے، کہ اس کی آنکھیں بند ہیں۔ زندگی کے بھید کی یہ بصیرت خوف کے ساتھ مل کر مذہب کو پروان چڑھاتی ہے۔ناقابل رسائی حقیقت کا وجود، حد درجہ دانائی اور ارفع جمالیات کے ذریعے ممکن ہے۔ جو ہماری محدود استعداد میں ابھی تک اپنی خام شکلوں میں ہی ہے۔ اسی علم اور جذبے کا حصول ہی حقیقی مذہبیت کی بنیاد ہے۔ محض اس لحاظ سے میں مذہبی کہلا سکتا ہوں۔میں ایسے خدا کا تصور نہیں کر سکتا جو اپنی مخلوقات کو جزا اور سزا دیتا ہے۔ جس کی غایت ہمارے معیارات کی تابع ہے۔ اور وہ خدا جو کہ میں آسان لفظوں میں کہوں تو یہ کہ انسانی اخلاقی کمزوریوں کا عکس ہے۔نہ ہی میں اس امر پر یقین رکھتا ہوں کہ فرد اپنی جسمانی موت کے بعد زندہ رہتا ہے۔ اگرچہ کچھ کمزور روحیں خوف اور بے معنی انانیت کے باعث ایسی کج فکری کا شکار رہتی ہیں۔میرے لیے ابدیت تک جاری و ساری شعوری زندگی کے معمے پر غور و فکر کرنا اور کائنات کی حیران کن ہیئت کے بارے میں سوچنا ہی کافی ہے جس کا صرف موہوم ادراک ہی ممکن ہے۔اور میں فطرت میں موجود حکمت کے ایک معمولی سے حصے کو سمجھنے کی عاجزانہ کاوش پر ہی اکتفا کروں گا۔
(ترجمہ: زکی نقوی)

(Published in The Laaltain – Issue 7)