روئی ہوئی آنکھ سے

ابرار احمد: مٹی میں اترے ہوئے پانی کی طرح
میرا شہر میری مٹی بن گیا ہے
Ashra // Entrepreneurship

ملک ہمایوں: ہلکی پھلکی، جھوٹی موٹی تقریروں سے
ڈیسپیریٹ کو موٹی ویٹ بنادیں گے
ڈیسپیریٹ کو موٹی ویٹ بنادیں گے
تماشا

علی زیرک: ہمیں لجلجاتے چناروں سے آگے تساہل بھری کھیتیوں سے گزر کر
فصیلوں کی فصلوں میں چھپنے سے پہلے
دھوئیں کی لچکدار دیوار کو چاٹنا ہے
فصیلوں کی فصلوں میں چھپنے سے پہلے
دھوئیں کی لچکدار دیوار کو چاٹنا ہے
ابعادیت

نصیر احمد ناصر: کھڑکی کے اُس پار کا منظر
یک سمتی کا بہلاوا ہے
اندر آؤ غور سے دیکھو
اتنی جہتوں کا پھیلاؤ
دیواروں کا پہناوا ہے
یک سمتی کا بہلاوا ہے
اندر آؤ غور سے دیکھو
اتنی جہتوں کا پھیلاؤ
دیواروں کا پہناوا ہے
گلابی اور نارنجی

رفعت ناہید:
بڑا دریا اپنا راستہ بدل چکا ہے
ہواؤں نے رہنے کے لیے کوئی
اور درخت منتخب کر لیے ہیں
اور دریا کے کناروں پر بڑی بڑی دراڑوں میں
زہریلی بوٹیاں اگ آئی ہیں
بڑا دریا اپنا راستہ بدل چکا ہے
ہواؤں نے رہنے کے لیے کوئی
اور درخت منتخب کر لیے ہیں
اور دریا کے کناروں پر بڑی بڑی دراڑوں میں
زہریلی بوٹیاں اگ آئی ہیں
پل بھر کا بہشت

سرمد صہبائی: ہم دونوں آدم اور حوا
پَل کے بہشت میں رہتے ہیں
پَل کے بہشت میں رہتے ہیں
عشرہ // ماں

ادریس بابر:
میں جو تیری عورت آنکھوں کا پہلا خواب تھا
کیوں نہیں پورا ہوا، پوری طرح؟
میرے سوال میں میرا جواب تھا
میں جو تیری عورت آنکھوں کا پہلا خواب تھا
کیوں نہیں پورا ہوا، پوری طرح؟
میرے سوال میں میرا جواب تھا
ہم سورج سے زیادہ معصوم ہیں

ایچ-بی- بلوچ: بڑھاپا کسئ چیز کو
اچھا رہنے کے قابل نہیں چھوڑتا
اس لیئے
سورج، مذہب اور انا
جب ہماری ناک جلانے لگیں
تو ہمیں کھڑکی بند کر لینی چاہئے
اچھا رہنے کے قابل نہیں چھوڑتا
اس لیئے
سورج، مذہب اور انا
جب ہماری ناک جلانے لگیں
تو ہمیں کھڑکی بند کر لینی چاہئے
عشرہ // بلاعنوان

ادریس بابر: گالیاں آنگن کی دیوار پھلانگ آئی ہیں
دھمکی کے پتھر سے آئینہ گھائل ہے
فتوے کے فائر سے فاختہ قائل ہے
دھمکی کے پتھر سے آئینہ گھائل ہے
فتوے کے فائر سے فاختہ قائل ہے
اے میرے سوچنے والے بیٹے

شہزاد نیر: سو میرے سوچنے والے بیٹے !
تم نے خاموش رہنا ہے
تمہاری خاموشی میں تمہاری زندگی ہے
تم نے خاموش رہنا ہے
تمہاری خاموشی میں تمہاری زندگی ہے
تتلی اور للن کی شادی

وجیہہ وارثی: للن بولا
آج سے تم آزاد ہو اتنی
جتنا کہ میں رہتا ہوں
آج سے تم آزاد ہو اتنی
جتنا کہ میں رہتا ہوں
رات زندگی سے قدیم ہے

نصیر احمد ناصر: اور پھر ایک دن ہم
اتر جائیں گے
اُن دریاؤں کے پار
جہاں راستے ہیں نہ مسافر
دھوپ ہے نہ شام
بس ایک خواب جیسی دھند ہے
اور پہاڑ جیسی رات
اتر جائیں گے
اُن دریاؤں کے پار
جہاں راستے ہیں نہ مسافر
دھوپ ہے نہ شام
بس ایک خواب جیسی دھند ہے
اور پہاڑ جیسی رات
ﻻﺋﭧ ﮨﺎﺅﺱ

نصیر احمد ناصر: ﺑﺘﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮔﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﻢ! ﺗﺠﮭﮯ ﮐﻦ ﺯﻣﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪﻭﮞ ﻧﮯ ﮔﮭﯿﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﮐﺴﯽ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﺳﺮﺯﻣﯿﮟ ﭘﺮ ﺧﺪﺍ ﺑﺎﺭﺷﯿﮟ ﺭﻭ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺁﻧﺴﻮ ﻣِﺮﺍ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﭘﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﮎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ؟
اندھیرے کا گیت

نصیر احمد ناصر: اُدھر خدا کے بے ستون آسمانی محلات میں
اندھیرا روشن ستاروں کے آس پاس منڈلاتا رہتا ہے
اور موقع پاتے ہی وار کرتا ہے
اور اُن زمینوں تک جا پہنچتا ہے
جہاں دلوں کی کاشت کاری ہوتی ہے
اور دماغوں کے پھول کھلتے ہیں
اندھیرا روشن ستاروں کے آس پاس منڈلاتا رہتا ہے
اور موقع پاتے ہی وار کرتا ہے
اور اُن زمینوں تک جا پہنچتا ہے
جہاں دلوں کی کاشت کاری ہوتی ہے
اور دماغوں کے پھول کھلتے ہیں
عشرہ / سترہ سے سترہ تک

ادریس بابر: ظلم کے زور پہ کھینچی گئی لائن
خلق کے خون سے سینچی گئی لائن
اس خونی ریکھا کی رکھشا
اب تک کس کھاتے میں قرض ہے
خلق کے خون سے سینچی گئی لائن
اس خونی ریکھا کی رکھشا
اب تک کس کھاتے میں قرض ہے