مجسمہ ہائے آب

رضی حیدر:
ہم مگر باقی رہیں گے
ہم خداؤں کے حروف
ہم ابابیلوں کی چونچ
ہم ہی ماہی کی زباں
ہم مجسمہ ہائے آب
ﺩﻧﯿﺎ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ

زاہد امروز: ﺩﻧﯿﺎ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺗﻢ
ﺳﺮﻣﺎ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﮐﯽ ﭨﮭﻨﮉﮎ ﮨﻮ
بازیابی

رضوان علی: زندہ لاشوں کی طرح
بازیابی پر
ان کے اپنے خواب بھی انھیں نہیں پہچان پاتے
کائی میں لپٹی بیوہ

صفیہ حیات: وہ بدن پہ مرد کے نام کی
جمی کائی کھرچتی رہی
کائنات کا آخری دکھ

حفیظ تبسم: پھر خداکے نام کی تختی دیکھ کر گھنٹی بجانے والوں نے
کٹہرے کو کئی بار چوما
اور اندھیرے کے آگے سجدہ ریز ہوگئے
خدا زمین پر صبحیں لکھنا بھول گیا ہے

نصیر احمد ناصر: وہ محض نظمیں لکھ سکتے ہیں
یا زیادہ سے زیادہ
مرگِ خود پر
تعزیتی قرارداد پیش کر سکتے ہیں!
نظم کا اعترافی بیان

نصیر احمد ناصر: میں رنگوں کی بھوکی ہوں
ست رنگی، ست خصمی کہلاؤں گی!
کایا کا کرب

آفتاب اقبال شمیم: اس نے چاہا
بند کمرے کی سلاخیں توڑ کر باہر نکل جائے
مگر شاخوں سے مرجھائے ہوئے پتوں کی صورت
ہاتھ اس کے بازوؤں سے
گر چکے تھے
عشرہ // سو قومی نظریہ (4) مومنِ اعظم

ادریس بابر: اپنےہاٹ فیورٹ، ایگ اینڈ بیکن ناشتے سے انصاف کرنے، نیپکن سے کلین شیو مکھڑا پونچھنے کے فورن بعد
وہ یہ دُکھڑا رونا کبھی نہیں بھولا کہ پاکستان اسلام کی تجربہ گاہ ہو گا
پتھر پر لکیر

کومل راجہ: تم مجھ پر حرفِ آخر کی طرح نازل ہوئے ہو
علی زریون کے نام ایک خط

جمیل الرحمان: پیارے علی زریون
یہاں تخت
درختوں کی لکڑی سے نہیں
معصوموں اور کمزوروں کی ہڈیوں اور گوشت سے بنتے ہیں
پریس نوٹ

علی محمد فرشی: وہ کبوتر جو چھتری سمجھ کر فلک کی طرف اڑ گیا
کس بصیرت نے دھوکا دکھایا اسے
نظم-سرمد صہبائی

سرمد صہبائی: کیسے کھلے گا تیری بانہوں کے کُندن میں
میرا یہ سیال دکھ اور میرے صدمے
تیرے بدن کے ان جیتے سیار سموں میں
میرا لہو کیسے جاگے گا
کسی کے سمجھدار ہونے تلک

شارق کیفی:کوئی رکتا نہیں ہے کسی کے سمجھ دار ہونے تلک
سچ کی تہہ میں اترنے کے لائق گنہ گار ہونے تلک
وقت کا چڑیا گھر

ثروت زہرا: سلاخوں کے اندرکا پورا علاقہ میری دسترس میں
دے دیا گیا ہے
مگر تماش بینوں کے روائتی شوق سے پہنچنے والی
اذیت سے تحفظ بھی دیا جا رہا ہے