خواب

رضی حیدر: خواب اک ایسی کنشت،
جس میں خداؤں کو موت ہے اور بشر کی حیات
بہت یاد آتے ہیں

بہت یاد آتے ہی چھوٹے ہو جانے والے کپڑے ، فراموش کردہ تعلق اور پرانی چوٹوں کے نشان — —-اولین قرب کی سرشاری، سرد راتوں میں ٹھٹھرتے ہوے ‚ریتلے میدان … پہلے پہل کی چاندنی میں —- ڈھولک کی سنگت میں گاۓ ہوے کچھ گیت اور نیم تاریک رہداریوں میں جگمگاتے لمس۔۔۔۔۔ .دوستوں کی ڈینگیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ […]
آدمی قید ہے

تصنیف حیدر: آدمی قید ہے
وقت میں، خون میں، لفظ میں
آدمی قید ہے
نئی اردو شاعری کا استعاراتی نظام

صدف فاطمہ: اگر نئی شاعری کا دلجمعی سے مطالعہ کرو تو معلوم ہوتا ہے کے نئی شاعری میں معنیات کی سطح پر بکھرنے کا جذبہ آئے دن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔
من و تو

ثروت زہرا: تمھارے گھیروں میں آجانے کے بعد
مجھے ایسا کیوں لگتا ہے
جیسے پوری کائنات
مجھ میں سما رہی ہو
ایک گناہ کی اجازت

صفیہ حیات: طلب کا سانپ پھنکارتا سر پٹختا
وجود کو ڈستے ڈستے
صبح کی ہنگامہ خیزی تک مر جاتا ہے
اور ہمیں ایک بھی
گناہ کی اجازت مل نہیں پاتی
اوڈ ٹو سموسہ اور دیگر عشرے

جنید الدین: ہم پرانی لائبریریوں میں کھنگالے جائیں گے
جب لڑکے کچھ خط چھپانے آئیں گے
کومل راجہ کی نظمیں

کومل راجہ:
میرا دماغ ایک خالی کمرہ ہے
جس میں شاہی سانپ
میرا بھیجا نگلے،کنڈل مارے، پھن اٹھائے
عین میرے ماتھے کے پیچھے بیٹھا ہے
کور چشم ولدیت

صفیہ حیات: میں عورت ہوں
مگر تم سے ولدیت چھین لوں گی
نفرت بھیانک خواب کی طرح ہماری نیندوں میں آتی ہے

عذرا عباس: آنکھ کھولنے اور بند ہونے کے دورانیے میں
جو دیکھا تو صرف نفرت کو پنپتے ہوئے
نفرت جو ایک بھیانک خواب کی طرح روزہماری نیندوں میں آتی ہے
تم وہی رہو، جو ہو

زاہد امروز: اِسی طرح تم وہی رہو
عیاری اور منافقتوں سے پاکیزہ
جس کو پوجنا چاہتا ہے
دنیا کا مکّار خدا!
آج کے دن

تنویر انجم:فرج کو کھانوں سے بھرو
اور دفتر کی تیاری کرو
آج کے دن نظموں کو چھٹی دے دو
آنسوؤں کی سیڑھی

مصطفیٰ ارباب: میں نے
آنسوؤں سے
ایک سیڑھی بنائی ہے
بغیر پَیر کا پرندہ

رضوان علی: جس پرندے کے پَیر نہیں ہوتے
اُسے اڑنے کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی
تم جو آتے ہو

ابرار احمد: تم جو آتے ہو
تو ترتیب الٹ جاتی ہے
دھند جیسے کہیں چھٹ جاتی ہے