سب کچھ روزِ روشن کی طرح عیاں تھا۔ سب ختم ہو گیا تھا۔ جائیداد کے لیے لیا قرض اور اولاد جو شادی کا بندھن برقرار رکھنے کا لازمی اور پُر لطف عنصر ہوتے ہیں وہ ان دونوں سے ہی محروم تھے۔ گھر جس میں وہ رہتے تھے سلیم کے والد سے بلا مطا لبہ ہی ترکے میں مل گیا تھا۔ بچے اگرچہ اسے بہت پسند تھے مگر انھوں نے بے اولادی کی مایوسی کے ساتھ جینا سیکھ لیا تھا۔ اس کے تئیں یہ کوئی ایسا بنیادی تاسف بھی نہیں تھا۔ مگر اس معاشرے میں رہتے ہوئے اسے اندیشہ تھا کہ یہ آسانی سے بنیادی مسئلہ بن بھی سکتا ہے۔ اس نے پورے جوش و جذبے سے خود کو دیگر سر گرمیوں میں مصروف کر لیا تھا۔ چڑیا گھر ان میں سے ایک تھا۔ آج تارا نے اس کے یقین کی بنیادیں ہلا دی تھیں اور ہیرا بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں تھا۔ انیتا نےتارا کے اپنے دونوں بچوں کے ہمراہ گرم جھلساتے ہوئے کنکریٹ کے راستے پر چل کرآنے کے بارے میں سوچا، ہیرا کے خوراک بانٹنے کے متعلق اس کے عقید کے بارے میں سوچا۔ اس نے خود کو حسین کے ساتھ برآمدے میں تمام خوراک کو چیک کرتے، اس کا وزن اور معائنہ کرتے ہوئے پایا۔
جب بیرا رسمی انداز میں تکے کباب سے بھری قابیں ان کے سامنے چن رہا تھا تو سلیم نے انیتا کی کل کی کشمکش کو نظر انداز کرتے ہوئے غائب دماغی اور لا پروائی سے اس کی آج کے دن کی مصروفیت کے متعلق استفسار کیا۔ میز بھنے مرغ، کباب، مسالے دار چانپوں اور تکوں سے سجی ہوئی تھی۔ یہ سب کچھ حسین کی ایک دن کی تنخواہ یا ہو سکتا ہے چوکیدار کی دو دن کی تنخواہ کے مساوی ہو۔
انیتا نے مبہوت ہو کر کھانے کی میز پر نظر دوڑائی۔ اس کی اشتہاء ایک دم غائب ہو گئی اور اس کے منہ میں کوئلے کا ذائقہ گھل گیا۔ گوشت کے ریشے خون میں لتھڑے ہوئے پارچے نظر آنے لگے۔ ان کے اطراف سے بہتی ہوئی رال کی سڑی بساند کو وہ سونگھ سکتی تھی۔ نوالہ تمام تر شدت کے ساتھ تقریباً اس کے حلق میں ہی اٹک گیا۔ وہ تند و تیز تلخی کے ساتھ سلیم کی جانب پلٹی۔
” سب ختم ہو گیا ہے ہمارے درمیان اب کچھ باقی نہیں رہا۔۔۔۔ کیا ایسا ہی نہیں ہے؟”
تمام ہمت مجتمع کر کے وہ بس اتنا ہی کہہ پائی تھی۔۔۔
