ایک غلطی کا ارتکاب ہوا تھا اور وہ سب کچھ الجھانے پر تُلا بیٹھا تھا، جائز اور ناجائز کی حدود خلط ملط کر رہا تھا، دو مختلف معاملات کو یکساں قرار دینے پر بضد تھا۔ ظاہر ہے کہ وہ یہ سب اسے نیچا دکھانے کی خاطر کر رہا تھا۔ ان کے درمیان اختلافِ رائے کے خلا کو پُر کرنے کے لئے گئے دنوں کی گرم جوش محبت کی ایک رمق تک باقی نہیں رہی تھی۔
وہ لاہور میں دیگر گوری خواتین کو بھی جانتی تھی جن سے راہ و رسم بڑھا سکتی تھی۔ لیکن ان کی معیت میں بھی اسے اپنے اور ان کے درمیان ایک خلا کا احساس رہتا تھا۔۔۔ عقائد اور تصورات کے درمیان اونگھتا خلا جو لوگوں سے بھرےاس تپتے شہر میں انیتا کو مزید تنہا کیے دے رہا تھا۔ وہ اس کی ذات کو گھٹا رہا تھا، اس کے قدموں تلے سے زمین کھسکا رہا تھا اسے دفاع پر مجبور کر رہا تھا۔ اسے احساس ہوا کہ وہ بیوقوف اور کمزور بن گئی تھی۔ اگر وہ پولیس نہیں بلا سکتی تھی تو ملازموں کو ہی بلا لیتی، لوگ اکٹھے کر لیتی، یہی درست راہِ عمل تھی۔ اس رات انیتا نے فیصلہ کیا کہ کل صبح وہ حسین سے سب سے پہلے اسی بات کا تذکرہ کرے گی۔
اگرچہ اگلی سہ پہر جب و ہ بات کرنے کا مناسب موقع ڈھونڈ رہی تھی اس کا ارادہ ڈانواں ڈول ہو گیا۔ اس نے مدھم آواز میں خود کو بولنے پر آمادہ کیا۔
” مسٹرحسین میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتی ہوں۔”
“جی میڈم!”
وہ مستعد اور متوجہ ہو کر بولا۔
” چڑیا گھر کے احاطے میں کتنے خاندان رہتے ہیں؟” انیتا نے سوال کیا۔
“تین خاندان میڈم! میرا، چوکیدار اور مالی کا”
بہر حال وہ اس عورت کا کوئی تعلق حسین سے نہ جوڑ پائی۔ انیتا نے جھجھکتے ہوئے بات کاآغاز کیا۔
” میں نے۔۔۔۔ میں نے کل ایک عورت کو ہیرا کے پنجرے سے گوشت چراتے ہوئے دیکھا ہے۔ ”
” ایک عورت۔۔۔۔۔؟”
وہ صحیح معنوں میں چونکا۔
” میڈم! وہ لمبے قد کی تھی یا چھوٹے قد کی؟”
حسین نے محتاط طریقے سے اپنی آواز کو دھیما رکھا۔انیتا بر آمدے میں منڈلاتے ہوئے دونوں لڑکوں کی متجسس نگاہوں سے آگاہ تھی۔
” دراز قد” وہ بولی۔
” وہ تارا ہے میڈم! معراج چوکیدار کی بیوی۔ کیا میں اسے لے کر آؤں؟”
” ہاں مہربانی فرما کر کام کے بعد لے آنا مگر آپ کو یہاں رکنا ہو گا اور میری طرف سے اس کے ساتھ کچھ بات چیت کرنا ہو گی۔”وہ پہلے ہی اس عورت کے ساتھ سوال جواب سے خائف تھی۔
یقیناً یہ سب آسان نہ تھا مگر پھر بھی تارا آ گئی۔ وہ ایک عامیانہ لباس میں ملبوس مگر غیرمعمولی طور پر خوش شکل عورت تھی۔ اس نے ایک خارش زدہ اور بہتی ناک والے بچے کو کولہے پر اٹھایا ہوا تھا اور میل کی تہوں سے اٹا ایک بچہ اس کی پیلی بدرنگ شلوار کو کھینچتا ہوا اس کے پیچھے چلا آ رہا تھا۔ اس نے دونوں کو اندر داخل ہونے سے پہلے ہی باہر گھاس کے قطعہ پرچھوڑ دیا، اور ان کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ اس کے رویے سے کسی قسم کا تاسف یا ندامت ظاہر نہیں ہوتی تھی، وہ بے دھڑک اور سرکش دکھائی دے رہی تھی۔ چند ثانیے تو یوں لگا کہ وہ وضاحت اور معذرت کے طور پر کچھ نہیں کہے گی۔ اس نے اپنا رخ پھیر لیا۔ پارسائی لاوا بن کر انیتا کے سر میں پھٹ پڑنے کو تھی ۔ تب اچانک ہی وہ عورت پٹرپٹرایک جذباتی تقریر جھاڑنے لگی۔ انیتا کو بہت سے لفظوں اور جملوں کی سمجھ نہیں آئی۔ اس نے وضاحت کے لئے مدد طلب نظروں سے حسین کی طرف دیکھا۔ حسین خجالت سے کھانسا اور تارا کو کچھ جواب دینے کی کوشش کی مگر انیتا نے اسے جھاڑ دیا۔
” پہلے مجھے بتاؤ”وہ تحکمانہ لہجے میں بولی۔
” میڈم وہ ہیرا کے متعلق کچھ کہہ رہی ہے کہ ہیرا خود چاہتا ہے وہ اس کی خوراک میں سے کچھ حصہ لے۔” حسین منمنایا۔ عورت کی بات پر بے یقینی اس کے لہجے سے عیاں تھی۔ “کس بنیاد پر وہ ایسا کہتی ہے؟” انیتا کے دماغ میں غصے کا لاوا اور تیزی سے پکنے لگا۔ اس نےاشتیاق اور بیتابی سے عورت کے چہرے پر نظریں جماتے ہوئے استفسار کیا۔۔ جبکہ حسین جھنجلا رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ خود کو اس قصے سے دور رکھنا چاہتا ہے۔
“وہ کہتی ہے کہ ہیرا اپنی خوراک کے قریب پھٹکے گا بھی نہیں جب تک وہ اس میں سے کچھ اٹھا نہیں لیتی۔ اور وہ کہتی ہے میڈم! آپ آج شام رک کر بذاتِ خود اس بات کا مشاہدہ کر سکتی ہیں”۔
“یہ سب گرمی کی شدت کی وجہ سے ہو گا اور ہیرا پچھلے کچھ دنوں سے ٹھیک بھی نہیں تھا۔” انیتا نے حسین کو وضاحت کرنے کا اشارہ کیا مگر اس کا اپنا دل تارا کی باتوں میں الجھا ہوا تھا۔ حسین کی نسبت اس کے لیے تارا کی باتیں زیادہ قابل اعتبار تھیں۔ اس کی آنکھوں کے سامنے کل کھانے سے لاتعلق، سائے میں بیٹھے ہیرا کی تصویر لہرا گئی۔ اس نے جھپٹنا تو دور کی بات آنکھ بھر کر دیکھنا بھی مناسب خیال نہیں کیا اور اس عورت کو گوشت اٹھا لینے دیا۔
” میڈم! وہ کہتی ہے کہ ہیرا ایک درندہ ہے مگر اس کے اندر ایک ولی کی روح ہے۔ ہیرا کو معلوم ہے کہ اس کے بچوں کو اکثر بھوکا ہی سونا پڑتا ہے چنانچہ وہ بھی پیٹ بھر کر نہیں کھا سکتا۔ ہیرا منتظر رہتا ہے کہ وہ کچھ حصہ اٹھا لے جائے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گی تو گوشت اس کے ارد گرد بکھرا رہے گا اور پڑا پڑا گل سڑ جائے گا۔” حسین نے یہ رام کتھا سناتے ہوئے طنزیہ انداز میں ہونٹ سکوڑے۔
انیتا نے جزوی طور پر اس تصوراتی کہانی پر یقین کرنا چاہا مگر سرکاری حیثیت میں اس کا فرض تھا کہ وہ اس مفروضے کی تردید کرے۔
” مسٹر حسین! براہِ مہربانی اسے مطلع کردیجئے کہ وہ غلطی پرہے، اسے تنبیہ کر دیں کہ آئندہ ایسی حرکت نہ کرے۔”اس نے اس قضیے کو ایک باوقار انجام تک پہنچانے کے لیے اپنی بات کو دہرایا۔
انیتاکے لہجے میں سختی اور شدت مفقود پاکر حسین کو مایوسی ہوئی، اس نے عورت کو بتایا لیکن وہ متاثر نہیں ہوئی۔ وہ مسلسل تند و تیز دلائل دے رہی تھی، جیسے اس کے دفاع کی پہلی کوشش کی کامیابی نے اس کا حوصلہ برھا دیا ہو۔ انیتا نے ایک بار پھر بغور اس کا چہرہ دیکھا۔ وہ ایک بے ریا، واضح اور کھرا چہرہ تھا جس پر راست گوئی کی جھلک نمایاں تھی۔ یہ دیکھ کر اس کے دماغ کے اندر ابلتا ہوا لاوا سرد پڑ گیا۔ ہیرا کے متعلق اس کی کہانی یوں ہی تھی جیسے کسی بچے کی غیر معمولی ذہانت کی کہانی پر اس کی محبت کرنے والی ماں بلا ثبوت مہرِ تصدیق ثبت کر دیتی ہے۔ انیتا نے ہلکی سی سرزنش کے ساتھ اس بحث کو ختم کیا ۔ وہ جانے کے لئے پلٹی تو اس گفتگو کے نتائج پر متجسس مگر توقع سے زیادہ مطمئن تھی۔
وہ جمعرات کا دن تھا۔ لاہور جمخانہ کلب میں ‘باربی کیو نائٹ’ منائی جا رہی تھی۔ انیتا عموماً آٹھ بجے کے قریب سلیم کے ہمراہ اس میں شرکت کرتی تھی۔ اور وہ رات گئے وہاں سے لوٹتے تھے۔ وہ جوس پینے بیٹھ گئی اور سلیم کے غسل کر کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔ شام کو وہ گالف کھیلتا رہا تھا۔ کلب میں معمول کے مطابق رش تھا۔ وہی معمول کے چہرے اپنی معمول کی بے معنی خوش گپیوں میں مصروف ۔ انیتا بے صبری سے منتظر تھی۔ اس کی روح آج شام کی جذباتی اتھل پتھل سے شرابور اور اس کا دماغ شادی سے متعلقہ ایک بڑے سوالیہ نشان پر اٹکا ہوا تھا۔ ایسا سوال جس سے وہ اب تک نظریں چراتی آئی تھی۔
