قبریں
نصیر احمد ناصر: ہر جانب ساکت و صامت چلتی پھرتی خالی اور لبالب ہر جانب قبریں ہیں
جمیل الرحمان: تم نے ہر گھر سے ستارے نوچ کر تیرگی کا آئینہ صیقل کیا بے حسی کو عام کرنے…
علی اکبر ناطق: دُھول گگن کا رہنے والا، گلے میں غم کا ہار دھوپ کے سائے میں بُنتا ہے دن…
رضی حیدر: آہ میرا یہ جنیں خون اگلتا جاۓ اس قدر خون مری ماں کا بطن بھر جاۓ اس قدر…