Categories
خصوصی

لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی" انٹرنیشنل گیٹ وے فار گفٹڈ یوتھ" کا حصہ بننے والی پہلی پاکستانی پبلک سیکٹر یونیورسٹی بن گئی

سٹاف رپورٹرcampus-talks
لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی پاکستان کی پہلی سرکاری یونیورسٹی بن گئی ہے جو برطانیہ کی یونیورسٹی آف واروک کے نوجوانوں کے سماجی رابطے کی کمیونٹی “انٹرنیشنل گیٹ وے فار گفٹڈ یوتھ” (IGGY) کا حصہ بن چکی ہے۔ اعزازی رکنیت دینے کی تقریب لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے کیمپس میں منعقد ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر صبیحہ منصور نے حاضرین سے کہا کہ اس اقدام سے یونیورسٹی کی 13سے 18سالہ طالبات کو اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے مواقع میسر آئیں گے۔ IGGYنیٹ ورک کے ذریعے طالبات دنیا کے مختلف ممالک lcwuمیں موجود طلبہ سے رابطہ کر سکیں گے اور تنظیم کی فراہم کردہ سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
تقریب میں موجود IGGYکے ہیڈ آف کسٹمر انگیجمنٹ پیٹرسیڈلر نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک کے نوجوان پہلے ہی IGGYنیٹ ورک سے مستفید ہو چکے ہیں اور اس نیٹ ورک کا مقصد تاریخ، ریاضی، سائنس، سیاسیات اور دیگر مضامین سے متعلق مواد فراہم کرنا اور طلبہ کو مباحثہ اور تبادلہ خیالات کے مواقع فراہم کرنا ہے۔” انٹرنیشنل گیٹ وے فار گفٹڈ یوتھ” 2008سماجی رابطے کی عالمی ویب سائٹ ہے جس میں 32 ممالک کے 2500سے زائد طلبہ شامل ہیں۔ اس کمیونٹی کا مقصد 13سے 18سال کے طلبہ کی تعلیمی استعداد میں اضافہ اور مختلف سماجی پس منظر کے حامل طلبہ کو میل جول کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کو ملنے والی ممبر شپ سے یونیورسٹی کی 200انٹرمیڈیٹ کی طالبات استفادہ کر سکیں گی۔ یونیورسٹی کو ملنے والی ممبر شپ اعزازی ہے جسے استعمال کرنے کے لئے طالبات کو ممبر شپ فیس ادا نہیں کرنی پڑے گی۔


Categories
خصوصی

اسلامی جمعیت طلبہ کا احتجاج اور بھوک ہڑتال؛ ہاسٹل 16 اور 17کی طالبات کو الاٹمنٹ تعطل کا شکار

سٹاف رپورٹر

campus-talks

پنجاب یونیورسٹی میں طالبات کی بڑھتی ہوئے تعداد کے پیش نظر بوائز ہاسٹل 16اور 17کو گرلز ہاسٹل بنانے کے فیصلے پر اسلامی جمعیت طلبہ کی طرف سے احتجاج کے بعد عمل درامد روک دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے رواںتعلیمی سال کے آغاز پر طالبات کو درپیش ہاسٹل الاٹمنٹ کے مسائل کم کرنے کے لئے یہ فیصلہ کیا تھا جسے اسلامی جمعیت طلبہ کے احتجاج کے بعد روک دیا گیا ہے۔ جمعیت کے کارکنان نے گزشتہ ہفتے لاء کالج سے وائس چانسلر آفس تک احتجاجی ریلی نکالی اور مزید ہاسٹل تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا۔

pu-strike-inner

لالٹین ذرائع کے مطابق جمعیت نے انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن ایند ریسرچ کے لان میں اپنا بھوک ہڑتالی کیمپ آج صبح قائم کیاجو سہ پہر چار بجے تک قائم رہا۔ ہڑتال میں شریک لاء کالج کے طالبِ علم اشرف علی نے کہا کہ یونیورسٹی لاء کالج کے طلبہ کو ہاسٹل الاٹ نہیں کر رہی اور مزید ہاسٹل تعمیر کرنے کی بجائے پہلے سے موجود ہاسٹلز کو گرلز ہاسٹل میں تبدیل کر رہی ہے۔ کیمپ کی خاص بات اس کیمپ میں طالبات کی عدم موجودگی تھی۔ طالبات کے موجود نہ ہونے پر گفتگو کرتے ہوئے اشرف علی کا کہنا تھا کہ طالبات کی تصاویر لئے جانے کا اندیشہ تھا اور ان کی شناخت ظاہر ہونے کی صورت میں ان کے خلاف انتظامیہ کی کاروائی کا خطرہ موجود تھا اس لئے طالبات شریک نہیں۔ کیمپ کے آس پاس آویزاں بینرز پر نئے ہاسٹلز کی تعمیر کے مطالبات درج تھے۔
گرلز ہاسٹل نمبر 5 کی طالبہ بزمہ اشرف نے لالٹین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بعض ہاسٹلز میں نئے آنے والی طالبات کو کمرے خالی ہونے تک ٹی وی لاونج میں رہنا پڑتا ہے اور بعض اوقات ایک کمرے میں 6سے 7 طالبات کی الاٹمنٹ بھی کر دی جاتی ہے۔ بزمہ نے ہاسٹل 16اور17کی گرلز ہاسٹل میں تبدیلی کے اقدام کی حمایت کی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق تمام اہل طلبا کو ہاسٹل الاٹ کئے جا چکے ہیں۔ طالبات کی بڑھتی تعداد کے پیشتر ایک اور گرلز ہاسٹل تعمیر کیا جا رہا ہے۔

hunger-strike-pu-2
ایک طالب علم نے نام نہ بتانے کی شرط پر اسلامی جمعیت طلبہ پر تنقید کرتے ہوئے ہاسٹلز کے مسئلہ کو یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ طالب علم کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے غیر قانونی طور پر مقیم طلبہ کے خلاف کی جانے والی کاروائی سے توجہ ہٹانے کے لئے جمعیت اس مسئلے کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئےاستعمال کر رہی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں اس وقت کل 22 ہاسٹل موجود ہیں، جن میں سے 16 طلبہ جب کہ 10 طالبات کے لئے مخصوص ہیں۔


Categories
خصوصی

اٹھاؤ پرچم تحقیق ہرچہ بادا باد۔۔۔روئیداد خودی مشاعرہ

1459167_688882147789265_1320336212_n
اردو میں شعر کہنے کی روایت کو عالمی شعری سرمائے میں شاید سب سے عظیم قرار نہ دیا جا سکے، لیکن شعر سننے اور سراہنے کی مجلسی روایت، اور روزمرہ گفتگو یا رسمی تحریر و تقریر میں اشعار نقل کیے جانے کا چلن، اردو والوں کے ہاں کسی طور بھی عربی یا فارسی تہذیبوں اور دبستانوں سے کم تر نہیں ہے۔ اگر لگے بندھے معیارات اور عمومی شعری ذوق سے کچھ دیر صرفِ نظر کر کے محض روز مرہ ابلاغ میں شاعری کے عمل دخل کو ہی پیمانہ بنایا جائے تو ہند و پاک کے لوگ مشرق و مغرب کی سبھی دوسری تہذیبوں سے آگے نظر آتے ہیں۔سیاسی تقریریں اور عدالتی فیصلے ہوں یا دل جلوں کے ذاتی خطوط اور پیغام ہوں،کچی سڑکوں پر کھڑکھڑاتی پبلک بسوں کی باڈیاں ہوں یا پکی قبروں کے دلگیر کتبے، شعر و شاعری کوہر جگہ ایک تہذیبی فریضہ سمجھ کر نقل کیا جاتا ہے۔ شاعری کے ساتھ اس والہانہ لگاؤ کی بدولت اس خطے میں مشاعرے کے ادارے کی صورت میں شعر سننے سنانے کی ایک ایسی روایت نے جنم لیا ہے، جس کی مثال (مشرقِ وسطی کے چند ایک معاشروں کے استثنا کے ساتھ) دنیا بھر میں کہیں نہیں ملتی۔ مشاعرے کی روایت کی شکل میں شعر کو سماعت کرنا، محض ایک خواص پسند علمی و ادبی کام سے آگے بڑھ کر ایک مکمل سماجی اور ثقافتی سرگرمی کا روپ دھار چکا ہے۔ان نشستوں میں عرضِ سخن اور دادِ سخن کا عمل، دوسرے تمام روایتی ذرائع کی نسبت زیادہ براہ راست اور والہانہ ہوتا ہے۔ پرانی اردو تہذیب اپنی تمام تر پرپیچ رسوم اورڈھب ڈھنگ کے ساتھ رو بہ زوال ہوئی تومشاعروں کی محفلوں نےبدلتے وقت کے ساتھ اپنے ڈھنگ بدل کر، نئے عہد میں قدم رکھا۔ درباروں اور حویلیوں سے نکل کر شائقین شعر کے نجی حلقوں،تعلیمی اداروں اور منظم سماجی اداروں وغیرہ کے توسط سےیہ روایت چند بدلے ہوئے اطوار کے ساتھ، گئے دور کی ایک خوشنما یادگار کے طور پر آج بھی پورے وقار سے قائم ہے۔نوجوانوں کی سماجی تنظیم خودی پاکستان کی سہ روزہ سالانہ سرگرمی ‘خودی فیسٹیول آف آئیڈیاز’ اس برس کچھ اس وجہ سے بھی منفرد رہی کہ اس بار خودی میلے کےمکالموں کا آغاز شاعری کی زبان میں ہوا۔میلے کے پہلے دن 25 اکتوبر کو ملک بھر سے آئے نوجوان مندوبین کا باقاعدہ استقبال ایک پروقار شعری نشست سے کیا گیا، جس میں استاد شعراء سمیت لاہور اور دیگر شہروں سے آئے نوجوان شعراء و شاعرات نے اپنا اپنا کلام پیش کیا۔ مشاعرے کا مرکزی خیال شاعر شباب اور شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کے اس مصرع کو بنایا گیا تھا؛
“اٹھاؤ پرچم تحقیق، ہر چہ بادا باد “اپنے اپنے اسالیب کے نمائندہ 12 شعراء پر مشتمل اس مشاعرے کی صدارت اردو کے معتبر شاعر، ادیب اور محقق ڈاکٹر خورشید رضوی نے کی، مہمان خصوصی نامور شاعر اور لکھاری جناب نذیر قیصر تھے، جبکہ نظامت کے فرائض اسد فاطمی کے سپرد تھے۔شعرائے کرام کی آمد کے ساتھ ہی ان کا خیر مقدم کیا گیا اور صدر مشاعرہ کی اجازت سے مشاعرے کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ شروع میں ناظم مشاعرہ نے حاضرین کو مشاعرے کے مرکزی خیال کے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ شاعری پر، ہر طرح کے فکری اور حسی میلان رکھنے والے کا، برابر کا دعوی ہے۔ شاعری بیک وقت آذری بھی ہے اور ابراہیمی بھی۔ تحقیق کی چنگاری نفی اور اثبات کے دونوں پتھروں کی باہمی ضرب سے پیدا ہوتی ہے۔سماج کی ترقی میں مکالمے اور استدلال کی دوطرفگی کی اہمیت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق کا پرچم ہی دراصل قوموں کی قیادت اور سیادت کا پرچم ہے۔

سیاسی تقریریں اور عدالتی فیصلے ہوں یا دل جلوں کے ذاتی خطوط اور پیغام ہوں،کچی سڑکوں پر کھڑکھڑاتی پبلک بسوں کی باڈیاں ہوں یا پکی قبروں کے دلگیر کتبے، شعر و شاعری کوہر جگہ ایک تہذیبی فریضہ سمجھ کر نقل کیا جاتا ہے۔

خلاف روایت شعر خوانی کا آغاز ناظم مشاعرہ نے اپنے کلام کی بجائےفیصل آباد کے صاحب طرز جوان شاعر علی زریون کی ایک نظم سے کیا، جو کہ نہایت ناگزیر نجی مصروفیات کی وجہ سے مشاعرے میں شرکت نہیں کر پائے تھے، لیکن انہوں نے بصدمحبت اپنی نظم “میں شبد ہوں” مشاعرے کے سامعین کے لیے لکھ بھیجی تھی۔ اس نظم کو سامعین میں بہت سراہا گیا۔

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں زیر تعلیم تازہ کار شاعر اختر منیر کی شاعری کا بڑا موضوع لڑکپن کے عشق کے دوران کے راز و نیاز ہیں۔ سامعین غزل نے دل کھول کر ان کے کلام پر ان کی حوصلہ افزائی کی؛
مری عادت ہے، میں تنہا کبھی بھی رہ نہیں سکتا
مری عادت بدلنے تک تو میرے پاس رہ جاؤ

نصراللہ حارث ایک پختہ اسلوب کے شاعر اور یونیورسٹی آف انجنئیرنگ ٹیکنالوجی لاہور میں زیر تعلیم ہیں۔ ان کے اشعار کو شائقین غزل میں خوب سراہا گیا؛
شعر اچھا ہو تو دیوان سے باہر جھانکے
کان کا رزق ہے بھائی جو سنائی دیوے

تہذیب حافی کا تعلق تونسہ سے ہے اور وہ لاہور میں مقیم ہیں۔ ان کے اشعار
کو محفل میں بہت داد دی گئی؛
جس کی چھاؤں میں تجھے پہلے پہل دیکھا تھا
میں اسی پیڑ کے نیچے تری بیعت کروں گا
اب ترے راز سنبھالے نہیں جاتے مجھ سے
میں کسی روز امانت میں خیانت کروں گا

شازیہ نورین کا تعلق گجرات سے ہے اور وہ ان اٹلی کے شہر میلان میں مقیم ہیں؛
اب دیکھ لیا اپنے رویوں کا نتیجہ؟!
اجڑا ہوا یہ خواب نگر دیکھ رہے ہو؟!

عثمان ضیاء خوش اسلوب شاعر اور حلقۂ ارباب ذوق لاہور کے جوائنٹ سیکرٹری ہیں؛
پھر اس کے بعد لذت گریہ نہیں ملی
اک رات مجھ سے تیری کمی چھین لی گئی
حماد نیازی نوجوان شعراء میں ایک نمایاں نام ہیں، ان کی غزلوں پر سامعین نے دل کھول کر داد دی؛
ہم اس خاطر تری تصویر کا حصہ نہیں تھے
ترے منظر میں آ جائے نہ ویرانی ہماری

توقیر عباس آج کی غزل میں ایک اہم نام ہیں، ان کی شاعری نے شائقین سخن سے خوب داد وصول کی؛
ٹھہرے پانی پہ ہاتھ مارا تھا
دوستوں کو کہاں پکارا تھا
چھوڑ آیا تھا میز پر چائے
یہ جدائی کا استعارہ تھا

ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ ایف سی کالج لاہور میں اردو کی معلمہ اور درجن بھر کتابوں کی مصنفہ ہیں؛
دریا کی مسافت نے زمیں کا نہیں چھوڑا
یکطرفہ محبت نے کہیں کا نہیں چھوڑا

ڈاکٹر تیمور حسن پیشے کے اعتبار سےاستاد ہیں، بصارت سے محروم ہیں اور شعر خوانی میں ان کا انداز نہایت منفرد اور بھرپور ہے۔ کلام سنا چکنے کے بعد حاضرین کے اصرار پر مزید کلام سنانے کے لیے شعرخوانی کی نشست پر دوبارہ آنا پڑا اور ان سے فرمائش پر ان کی متعدد معروف غزلیں سنی گئیں؛
میرے بیٹے، میں تمہیں دوست سمجھنے لگا ہوں
تم بڑے ہو کے مجھے دنیا دکھانا مرے دوست
میں مقابلے میں شریک تھا فقط اس لیے
کوئی مجھ سے آ کے یہ پوچھتا، ترا کیا بنا

حاضرین محفل میں سے بیشتر لوگوں نے اس تقریب کو اپنی زندگی کی ایک یادگار شام قرار دیا۔ خودی ٹیم ارکان پرعزم ہیں کہ شعروسخن کی محافل کو شہری ثقافت میں اپنے پرانے مقام پر لانے کی کوششوں میں وہ مقدور بھر اپنا حصہ ڈالتے رہیں گے اور مستقبل میں بھی صحتمند تفریح اور سنجیدہ سامعین کے ذوق کی آبیاری کے لیے اس شام سے ملنے والی سرشاری کے اعادے کا سامان کرتے رہیں گے۔

شہزاد نیر کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے اور وہ راولپنڈی میں مقیم ہیں۔فلمسازی اور سپہ گری کے کاموں سے وابستہ ہیں لیکن شاعری ان کی بنیادی شناخت ہے۔ ان کی نظم “ہدایتکار” کو سامعین میں خوب سراہا گیا، نظم کے علاوہ انہوں نے متعدد غزلیں بھی حاضرین کی خدمت میں پیش کیں اور بے پناہ داد پائی؛
چلتے پھرتے کہیں بندش کا گماں تک نہ رہے
اس نے انسان کو اس درجہ کشادہ باندھا

نذیر قیصر اردو اور پنجابی شاعری دونوں میں یکساں طور پر معتبر حوالہ ہیں، ان کے لکھے ہوئے گیت ہندو پاک کے ریڈیو، فلموں اور ٹیلی ویژن میں دو دہائیوں سے گونج رہے ہیں۔ اردو میں بارہ اور پنجابی میں دو شعری مجموعوں کے خالق ہیں۔وہ اس محفل کے مہمان خصوصی تھے؛
در و دیوار یونہی دیکھتے رہ جائیں گے
اے پری زاد اڑا کر تجھے لے جاؤں گا
مجھ کو بھی علم ہے کہ شمع نہیں، آگ ہے تو
اپنے دامن میں لگا کر تجھے لے جاؤں گا
ہم دونوں کے خواب کہاں مل سکتے ہیں
تم نے رات، تو ہم نے عمر گزاری ہے

صدر محفل ڈاکٹر خورشید رضوی تقریب کے آخری سخن ور تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے جملہ شعری مجموعے، “یکجا” کے نام سے کلیات کی صورت شامل ہو چکے ہیں۔ تخلیق کے ساتھ ساتھ تحقیق کا پرچم بھی تھامے ہوئے ہیں اور قبل از اسلام کے عرب ادب کی مفصل تاریخ کے مولف ہیں۔ غزل گوئی کے معاصر افق پر ان کا وجود اپنے عہد کی ایک عظیم حجت کے معنی رکھتا ہے۔ ان کی بہت سی زبان زد عام غزلیں فرمائش پر سنی گئیں؛
میں عمیق تھا، کہ پلا ہوا تھا سکوت میں
یہ جو لوگ محو کلام تھے، مجھے کھا گئے
جو کھلی کھلی تھی عداوتیں، مجھے راس تھیں
یہ جو زہر خند سلام تھے، مجھے کھا گئے
پیش آئینہ لبھاتا ہے بڑھاپے کا وقار
ہم نہیں کہتے کہ افسوس، جوانی افسوس

اس محفل میں اگرچہ مشاعرے کی بہت سی روایتوں سے انحراف بھی کیا گیا، تاہم روایت کے بہت سے پہلوؤں کو بہ خوبی محفوظ کیا گیا۔ سامعین محفل نے نہایت سلیقے سے اشعار کو سماعت کیا اور دل کھول کر داد دی۔ شیبا چوہدری اور ساتھی رضاکار ٹیم نے اسٹیج کی پروقار آرائش کے ذریعے مشاعرے کو حاضرین کے لیے ایک خوشگوار سمعی و بصری تجربہ بناکر پیش کیا۔ دوران محفل شعراء اور حاضرین کو پان پیش کیے گئے اور اگربتی کی روایتی خوشبو کے ساتھ شام کو مزید خوشگوار احساس کے ساتھ ہمکنار کیا گیا۔ مشاعرے کی پرانی روایت میں دوران محفل اچھے اشعار پر تالیوں سے داد دینے کو معیوب سمجھا جاتا تھا تاہم حالیہ دہائیوں میں داد سخن کے لیے یہ تاثر پوری طرح قبول عام پا چکا ہے۔ اس محفل کی ابتداء میں چند منچلوں نے سیٹیوں کے ذریعے شعراء تک داد پہنچائی تاہم بعد میں ناظم مشاعرہ کی گزارش کو مانتے ہوئے داد سخن کا ابلاغ زبانی واہوا اور تالیوں سے ہی کیا جاتا رہا۔ صدر مشاعرہ کے کلام سنا چکنے کے بعد ناظم مشاعرہ نے معزز شعراء، سامعین اور رضاکار ٹیموں کا شکریہ ادا کیا اور جناب صدر کی اجازت سے محفل کو برخاست کرنے کا اعلان کیا تاکہ شعراء اور شائقین شعر کھانے کے میز پر براہ راست باہم گھل مل سکیں۔

حاضرین محفل میں سے بیشتر لوگوں نے اس تقریب کو اپنی زندگی کی ایک یادگار شام قرار دیا۔ خودی ٹیم ارکان پرعزم ہیں کہ شعروسخن کی محافل کو شہری ثقافت میں اپنے پرانے مقام پر لانے کی کوششوں میں وہ مقدور بھر اپنا حصہ ڈالتے رہیں گے اور مستقبل میں بھی صحتمند تفریح اور سنجیدہ سامعین کے ذوق کی آبیاری کے لیے اس شام سے ملنے والی سرشاری کے اعادے کا سامان کرتے رہیں گے۔


Categories
خصوصی

Khudi Festival of Ideas: Learning for a Way Forward

M. Fahad Ur Rehman

foi eng

Recently I got the opportunity to attend Khudi’s annual Festival of Ideas in Lahore. Khudi is a progressive youth organization working for countering extremist mindset and for raising awareness about democracy. I had been following this organization on social media over the past few years and I grew to admire the remarkable work they are doing. Khudi works on various themes ranging from peace building, rights of minorities, gender issues and civic and political education. This time I applied for the annual Festival of Ideas and was luckily selected among limited number of delegates from across the country.
1457651_688884067789073_1155489168_n
I occasioned a remarkable hospitality upon my arrival and the organizers cordially welcomed the participants. In the matter of few minutes I started feeling like a part of the event wholeheartedly. The developments of the first day of the three-day event clearly indicated that I was among a very well organized community and a team of devoted folks who were working continuously for the better service and management of every activity.

It was my first experience with Khudi and I would, without any doubt, rate this Festival as the best ever event I have attended. The way it instigated critical thinking, new ideas and paradigms for future thinking is simply outstanding.

The orientation session started with a lecture of a leading intellectual and public figure Mr Javed Jabbar, who delivered a beautifully crafted lecture on the idea of Pakistan and the issues that we are confronting in the contemporary age. Mr Jabbar spoke in detail about our identity crisis and ways to face the challenges posed by it. By the end of this interactive lecture followed by very interesting questions & answers session, I had realized that the event is not going to betray any of the high ideals and anticipation which it portrayed; a 10 out of 10 from my side. After that we had a brilliant Mushaira, a session of poetry, featuring young zealous poets expressing their inner feelings through their splendid verses on romantic themes. As the Mushaira moved forward and veteran poets took the stage, I was fascinated to see that the notion of romanticism of the young poets was replaced by grave issues of life, suffering, death and the existential quests.
1381267_682432601767553_752510163_n
Following the dinner, rich cultural and musical performances were in line. These performances portrayed bright and vibrant cultural diversity of the nation with many participants donning their traditional cultural dresses. In the midst of all this, we got to listen to a phenomenal voice amongst us; a visually impaired gentleman showing the talent of his divinely gifted majestic vocal cords. The notion “when nature deprives you in one area and blesses you with so much more in other” was proven true by this talented gentleman. He was the star of night stealing the show from the rest and attracting the huge crowd towards his passionate rhymes and beats. Everyone was singing and dancing to his voice, a scene of profundity was experienced by the onlookers.

Pashtoons dancing on the beat of Punjabi Bhangra music, Baloch dancing with Pashtoons in Attan, Sindhis and Punjabis dancing together and in the end the stage was full of every color and stripe of the beautiful plurality of the nation.

The cultural night ended with passionate dancing, representing major ethnicities of Pakistan including Punjabi, Baloch, Pashtoon, Chitrali, Gilgit Baltistani, and Sindhi. The beautiful sight was exceptional in its own accord giving a message of coexistence and peace where almost all the cultures of the land participated in the specific dance item with their brethren. Pashtoons dancing on the beat of Punjabi Bhangra music, Baloch dancing with Pashtoons in Attan, Sindhis and Punjabis dancing together and in the end the stage was full of every color and stripe of the beautiful plurality of the nation. If it was on my wish I would have stayed in this euphoric environment forever and just forget all the worries and agonies that we are facing in the contemporary Pakistan.

The second day was also a huge success starting from the main theme of conflict resolution with some leading intellectuals from the country in which some were those who had lost their loved ones to the gruesome militancy; Tahir Wadood Malik, an ex-army officer who had lost his wife and then the highly famous politician from Khyber-Pakhtoonkhwa, Mian Iftikhar Hussian, who shared personal stories during his party’s rule in the province. The most emotional and inspiring part of his speech was when he shared his personal tragedy; the loss of his only son to the terrorists. This was a moment when many among the audience had tears in their eyes. Despite of all the controversies surrounding his party, all the allegations of corruption and bad governance, I experienced that everyone was hugely affected by his story and their sacrifices for the land to ward-off the terrorists.
1384373_680515121959301_571131931_n
Afterwards Mekaal Hasan, the renowned musician gave a frank talk on the ways music can play an effective role in combating the social evils and militancy. This session was animated by his band’s beautifully composed video songs. Later on, for their self-composed unique National Anthem theme, everyone stood up to pay love, respect and homage to the motherland which was yet again a sight that will remain in the memory for many days to come. The ecstatic environment created by their classical music was indeed a spectacle to enjoy.

The theater performance of the night was something which dazzled all the audience. Those who took it on a lighter note in the beginning including me, with the passage of time, grew more interested and became able to connect the dots of the contextual relevance of drama with contemporary Pakistan. The views of most of the audience seemed that nowhere in the country had they seen such a masterpiece and gem of a stage drama. The theme was based on bigotry, gender inequality, and intolerance that run deep in our male chauvinistic society.

It is through such events that we can contribute towards a more responsible, vigilant, and critical-minded citizenry and make Pakistan a more peaceful, tolerant and prosperous place.

Third day again started with a critical and in-depth panel discussion about the role of education in uplifting a society and the loopholes and discrepancies that are found in our educational curriculum, most of which is based on outdated and state-sponsored distorted facts.

The last discussion was about the position of Pakistan on the global stage which highlighted issues and problems that we confront internationally. The panelists shared the hopes and fears pertaining to topic and it ended in the same manner with a critical question answer session. Finally, everyone paid a huge round of applause for the brilliant team of organizers, who worked for a multitude of days, to make Khudi Festivial of ‘Ideas’ a reality. I would say despite of the fact that the whole auditorium was buzzing with the sound of the clapping they still deserved a lot more for their matchless efforts. I wanted the event go on, but then everything has to have an ending and so it ended with the final lunch and certificate distribution ceremony.
994034_681479371862876_336975374_n
It was my first experience with Khudi and I would, without any doubt, rate this Festival as the best ever event I have attended. The way it instigated critical thinking, new ideas and paradigms for future thinking is simply outstanding. Furthermore the most crucial and significant aspect was its plurality. I have never had the opportunity to interact so well with my Baloch and Sindhi brethren. Knowing their views and the issues confronting their parts of the country was a great learning experience.

I would say that we need more events like this on regular basis in order to aware youth about new ideas and new ways of thinking. It is through such events that we can contribute towards a more responsible, vigilant, and critical-minded citizenry and make Pakistan a more peaceful, tolerant and prosperous place. And where no one is discriminated on the basis of caste, creed, gender, race, religion, political inclinations or any other affiliation, and where the value of human dignity based on universality prevails.


M. Fahad Ur Rehman is a freelance writer and a teacher belonging to Peshawar. He is also a student of International Relations and Public Policy at SZABIST Islamabad.


Categories
خصوصی

دفاعِ پاکستان اور مذہبی اقلیتیں

پاکستان کی تاریخ کے اولین دنوں سے اب تک مذہبی اقلیتیں ہماری قومی زندگی کا ایک اہم حصہ رہی ہیں۔ تعلیم، علوم و فنون اور سماجی خدمات سے لے کر دفاعِ وطن تک کے فریضے میں غیرمسلم پاکستانی اپنی عددی کم تری کے باوجود کارکردگی میں کسی طور مسلمان اکثریت سے کم نہیں۔ زیرِنظر تحریر میں ہم دفاعِ وطن میں مذہبی اقلیتوں کے اس اہم کردار پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے جس پر وقت کی ہوا نے تعصب کی گرد چڑھا نا شروع کردی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ مذہبی شناخت اور تشخص کا مسئلہ پاکستانیوں میں مِن حیث القوم ایک ایسا سنجیدہ معاملہ بنتا جا رہا ہے کہ اب شاید ہمیشہ سے زیادہ اس امر پر روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے کہ بحیثیت قوم، لفظ پاکستانی کا مطلب فقط مسلمان ہرگز نہیں ہے اور اس مٹی کی کوکھ سے جنم لینے والا اور وطن سے محبت کا دم بھرنے وال ایک عیسائی، ہندو، پارسی ، احمدی اور سکھ بھی اتنا ہی پاکستانی ہے جتنا کہ اس کے برابر محبِ وطن مسلمان شہری جو کہ قانونِ شہریت کے تحت پاکستانی کہلاتا ہے۔
بحیثیت قوم، لفظ پاکستانی کا مطلب فقط مسلمان ہرگز نہیں ہے اور اس مٹی کی کوکھ سے جنم لینے والا اور وطن سے محبت کا دم بھرنے وال ایک عیسائی، ہندو، پارسی ، احمدی اور سکھ بھی اتنا ہی پاکستانی ہے جتنا کہ اس کے برابر محبِ وطن مسلمان شہری جو کہ قانونِ شہریت کے تحت پاکستانی کہلاتا ہے۔
پاکستان کی مسلح افواج کو ان کے ابتدائی سالوں میں ایک نیم تربیت یافتہ، ناپختہ کار ، نامکمل طور پر مسلح اور معمولی فوجی گروہوں سے اٹھا کر خطے کی اہم فوجی تنظیموں میں شمار کرنے کے پیچھے جہاں اُس وقت کے ہراولین (Pioneer) پاکستانی فوجی افسر کی انتہائی مخلص اور بے لوث محنت کا عمل دخل ہے وہاں اس میں کئی غیر مسلم افسران کی پیشہ ورانہ لیاقت اور جذبہ حب الوطنی کا بھی ایک ناقابلِ فراموش حصہ شامل ہے۔ قیامِ پاکستان کے فوری بعد پاک فوج میں رضاکارانہ طور پر شامل ہونے والے انگریز افسران کے علاوہ کئی اینگلو انڈین ، کرسچن، پارسی اور ہندو افسران نے پاک فوج میں شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ بری فوج چونکہ تعداد میں ایک بڑی سپاہ تھی جس کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی راولپنڈی، جہلم، چکوال اور اٹک کے پنجابی مسلمانوں پر مشتمل تھا، اس لئے بری فوج میں مسلم افسران کی تعداد بھی بحریہ اور فضائیہ سے زیادہ تھی۔ تاہم بحریہ اور فضائیہ میں انگریز، اینگلوانڈین اور غیرمسلم افسران کی تعداد کافی زیادہ تھی۔ 1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں میں نمایاں کارکردگی کامظاہرہ کرنے والے پیشہ ور اور بہادر افسران میں چند کرسچن اور احمدی افسران اور جوان اہم مقام رکھتے ہیں۔
بھٹودورکے بعد جب ملک کےتمام شعبوں میں بالعموم اورافواج میں بالخصوص اسلامائزیشن کا عمل شروع ہواتواس وقت تک اینگلوپاکستانی افسران کی آخری کھیپ بھی ریٹائر ہونے والی تھی جب کہ کرسچن اور احمدی افسران کے لئے یہ دور اس تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوا جس کے تحت پاک فوج نے سیکولر اقدار کو چھوڑ کر ایک اسلامی شناخت اپنانا شروع کی ۔ وقت کے ساتھ ملٹری سوسائٹی میں پیشہ وارانہ اقدار کی بجائے مذہبی تفریق کا عمل شروع ہو گیا۔ ترقی اور فرائض کی تفویض کے شفاف نظام نے اگرچہ غیر مسلم افسران کے ساتھ نمایاں امتیازی سلوک روا نہ ہونے دیااور غیرمسلم افسران کو نچلے اور متوسط رینکس (Ranks) تک کسی قسم کی قابلِ ذکر رُکاوٹوں اور الجھنوں سے بچائے رکھا لیکن اُوپر کی سطح پر کافی حد تک مذہب کا عنصر بھی پیش ِ نظر رہنے لگا۔ کئی موقعوں پر ، سننے میں آیا ہے کہ غیر مسلم افسران بالخصوص احمدی افسران کی خدمات اور سنیارٹی کو نظر انداز کر کے ان کی وفاداریوں پر سوال تک اُٹھائے گئے ۔ راقم نے اپنی باوردی زندگی کے لگ بھگ ایک عشرے میں کسی احمدی کرنیل یا جرنیل کو نہیں دیکھا۔یہ کوئی قابلِ فخر بات نہیں ہے کہ تمام سرکاری اداروں میں احمدیوں کے ساتھ اس درجہ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہےکہ وہ اپنےکیرئیر اور معاشرتی زندگی کو پُر سکون بنانے کے لئے اپنے تئیں مسلم ظاہر کرنے یا مذہبی شناخت کو خفیہ رکھنے کی حتی الوسع کوشش کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم دورِحاضر کے کسی احمدی فوجی افسر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں یا پھر اس کا اظہار کرنے سے اس لئے گریزاں ہیں کہ یہ اُس کے لئے مضر ہوسکتا ہے۔
اب جب کہ مذہبی شناخت اور تشخص کا معاملہ ہمارے ہر شعبہ زندگی پر اثرانداز ہو رہا ہے ، یہ ضروری ہے کہ ہم رواداری کا ثبوت دیتے ہوئے وطن عزیز کی مذہبی اقلیتوں کے احساسِ اجنبیت اور محرومی کو ختم کریں اور پاکستان کے خوش نما رُخ پر اِن بُھلائے ہوئے حسین رنگوں کی پچی کاری بھی کریں جو عالمی اُفق پر آزادی ، روشن خیالی اور امن پسندی کی قوسِ قزح بن کر ابھرنے کے لئے ضروری ہے۔
جنرل پرویز مشرف کے دورِحکومت میں روشن خیالی اور کسی حد تک سیکولر فوج کا ویژن عملی طور صورت اختیار کرتا دیکھا گیا جب پاک فوج میں 1سکھ اور 2ہندو افسران جب کہ پاک بحریہ میں ایک معمولی تعداد میں ہندو رنگروٹ بھرتی ہوئے۔ یہ سلسلہ شاید جنرل مشرف کی حکومت کے ساتھ ہی ختم ہوگیا تھا۔ اب جب کہ مذہبی شناخت اور تشخص کا معاملہ ہمارے ہر شعبہ زندگی پر اثرانداز ہو رہا ہے ، یہ ضروری ہے کہ ہم رواداری کا ثبوت دیتے ہوئے وطن عزیز کی مذہبی اقلیتوں کے احساسِ اجنبیت اور محرومی کو ختم کریں اور پاکستان کے خوش نما رُخ پر اِن بُھلائے ہوئے حسین رنگوں کی پچی کاری بھی کریں جو عالمی اُفق پر آزادی ، روشن خیالی اور امن پسندی کی قوسِ قزح بن کر ابھرنے کے لئے ضروری ہے۔
ماضی کے جھروکوں میں ہمارے غیر مسلم شہداء، غازیوں اور مُحسن سپاہیوں کےکئی ایسے فراموش کردہ چہرے ہیں جو اپنی بے لوث خدمتوں کے عوض کچھ ستائش، کچھ التفات اور کچھ صلہ مانگتے ہیں۔
ائیر کموڈور بلونت کمار داس
بی-کے داس فضائیہ کے واحد سینئر ہندو افسر تھے جوکہ تقسیم کے وقت پاک فضائیہ میں شامل ہوئے اور پاکستان ائر فورس میں مختلف عہدوں پر خددمات سر انجام دیتے رہے۔ ان کے علاوہ فلائنگ آفیسرولیم ستیش چندر وسواس کا نام بھی پاک فضائیہ کے اولین افسران میں شامل ہے لیکن اِن کا تفصیلی ریکارڈ دستیاب نہیں ہو سکا۔
میجر جنرل جیولین پیٹر
راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے جیولین پیٹر نے 1965اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں میں حصہ لیا۔1990 میں اُنہیں پاک فوج کے پہلے پاکستانی کرسچن جنرل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اِنہیں اوکاڑہ میں ایک ڈویژن کی کمان ملی۔ اُنہوں نے ڈائریکٹر جنرل لاجسٹکس اور دیگر اہم کمانڈ اور اسٹاف ڈیوٹیوں پر فرائض سرانجام دئیے اور 2004میں ریٹائر ہوئے۔
میجر جنرل افتخار جنجوعہ
میجر جنرل افتخار جنجوعہ احمدی عقیدے سے تعلق رکھتے تھے۔انہیں ان کی خدمات کے صلے میں بہادری کا دوسر اعلیٰ ترین اعزاز ہلالِ جرات دوبار عطا کیا گیا۔ 1971میں وطن پر جان قربان کرنے والے ہماری تاریخ کے پہلے جرنیل کا اعزاز بھی انہی کے حصے میں آیا۔
راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے میجر جنرل افتخار جنجوعہ مذہبااحمدی تھے۔ وہ دوسری جنگِ عظیم میں سسلی ، اٹلی اور شمالی افریقہ کے محاذوں پر خدمات سر انجام دے چکے تھے۔ 1965میں اُنہوں نے رن کچھ میں بھارتی فوج کے خلاف ایک بریگیڈ کی کمان کرتے ہوئے قوم سے فاتحِ رن کچھ کا لقب حاصل کیا۔ اُنہیں پاکستانی فوج کی تاریخ کا پہلا آرمرڈ حملہ بطورِ بریگیڈ کمانڈر بیار بیٹ کی لڑائی میں کمان کرنےکا اعزاز حاصل ہے۔ انہیں ان خدمات کے صلے میں بہادری کا دوسر اعلیٰ ترین اعزاز ہلالِ جرات دوبار عطا کیا گیا۔ 1971میں وطن پر جان قربان کرنے والے ہماری تاریخ کے پہلے جرنیل کا اعزاز بھی انہی کے حصے میں آیا۔ 71میں کشمیر کے محاذ پرایک پرواز کے دوران بھارتی فوج کے حملے میں شہید ہوئے۔
لیفٹننٹ جنرل عبدالعلی ملک
1965 میں چونڈہ کی لڑائی میں 24انفنٹری بریگیڈ کی کمان کرنے والے عبدالعلی ملک راولپنڈی کے علاقے پنڈوری سے تھے اوران کا تعلق جماعتِ احمدیہ سے تھا۔ وہ بنیادی طور پر انجنئیر تھے اور لیفٹننٹ جنرل کے عہدے تک پہنچے۔
ائر وائس مارشل ایرک گورڈن ہال
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے بانی چئیرمین اور 65 کی جنگ میں پاک فضائیہ کے ڈرامائی ایڈونچر “ہرکولیس بمبار “کے منصوبہ ساز ائر وائس مارشل ایرک گورڈن ہال ایک عیسائی تھے۔
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے بانی چئیرمین اور 65 کی جنگ میں پاک فضائیہ کے ڈرامائی ایڈونچر “ہرکولیس بمبار “کے منصوبہ ساز ایرک گورڈن ہال برمی کرسچین والدین کے ہاں پیدا ہوئے اور پاک فضائیہ میں شمولیت کے بعد اُنہوں نے پاکستانی شہری کی حیثیت سے زندگی گزاری۔ 1965کی جنگ میں وہ گروپ کیپٹن تھے جب اُنہوں نے بمبار طیاروں کی کمی اور کچھ تکنیکی مسائل کے پیشِ نظر رن کچھ کے محاذ پر بمباری کے لئے پہلی بار C-130 مال بردار طیارے کو بطور بمبار استعمال کرنے کا خیال پیش کیا۔ اِس مقصد سے C-130 طیارہ اڑاتے ہوئے اُنہوں نے ایک دلچسپ بمبار مشن کرتے ہوئے دُنیا بھر کے ہوابازوں کو حیران کردیا۔ اِنہیں اِن کی جنگی خدمات کے صلے میں ستارہ جرات کا اعزاز ملا۔ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سربراہ کے طور پر ایک عرصے تک یورینیئم کی افزودگی کے منصوبوں کی نگرانی کی۔
ائر وائس مارشل مائیکل جان اوبرائن
لاہور کے کرسچین خاندان سے تعلق رکھنے والے اوبرائن پاک فضائیہ کے اولین افسران میں ایک نمایان شخصیت ہیں۔ اُنہیں پاک فضائیہ میں جنگی اور انتظامی خدمات کے صلے میں تمغہ جرات اور ستارہ بسالت جیسے بہادری کے جبکہ نشان امتیاز جیسااعلیٰ کارکردگی کا اعزاز ملا۔ بطور ڈپٹی ائر چیف ریٹائر ہونے کے بعد وہ پاکستان کے جوہری پروگرام سے منسلک ہو گئے۔کڑانہ مین موجود ایٹمی تنصیب (KATS) کی کمان کرتے ہوئے اُنہوں نے پاکستان کے جوہری پروگرام کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا۔
ائر مارشل ظفر احمد چوہدری
پاک فضائیہ کمانڈر ان چیف ، ظفر احمد چوہدری کا تعلق جماعتِ احمدیہ سے تھا۔ وہ دوسری جنگِ عظیم کے آخری سال میں فضائیہ میں شامل ہوئے۔ 1971کی شکست خوردہ فضائیہ کی کمان ملنا ظفر چوہدری کے لئے ایک چیلنج تھا جسے قبول کرتے ہوئے اُنہوں نے اِس دلبرداشتہ اور ہاری ہوئی سپاہ کواز سرِنو مستقبل کے دفاعی فرائض کے لئے پوری تندہی سے تیا ر کیا۔ بھٹو حکومت سے، اپنے پیشہ ورانہ معاملات میں مداخلت پر ان کے تعلقات کشیدہ ہوئے تو انہوں نے فضائیہ کو خیرباد کہہ دیا۔ اس کے بعد اُنہوں نے پاکستان میں انسانی حقوق کے موقر ادارے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (Human Rights Commission of Pakistan) کی داغ بیل ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ائر کموڈور نذیر لطیف
1965 اور1971 کی پاک بھارت جنگوں کے غازی نذیر لطیف کا تعلق راولپنڈی کے کرسچین خانوادے سے تھا۔ اُنہیں بہادری کا تیسرا اعلیٰ ترین اعزاز دو بار عطا کیاگیا۔
سکواڈرن لیڈر پیٹر کرسٹی
ملتان کے ایک کرسچین فائر فائٹر مولا بخش کرسٹی کے بیٹے سکواڈرن لیڈر پیٹر کرسٹی پاک فضائیہ میں فائر ماسٹر کے نام سے مشہور تھے۔ وہ پاک فضائیہ کے نمبر7 بمبار سکواڈرن کے ایک دلیر نیوی گیٹر (Navigator) تھے ۔ 1965 کی جنگ میں B-57 طیاروں کے بہادرانہ مشن اُڑانے پر اُنہوں نے تمغہ جرات کا اعزاز حاصل کیا۔وہ 1971 کی جنگ میں شہید ہوئے۔ اُنہیں بعد از شہادت ستارہ جرات کا اعزاز دیا گیا۔
ونگ کمانڈر میروِن لیزلی مڈل کوٹ
“کمانڈر لیزلی” کانام پاک فوج کے کرسچین افسران میں ایک دمکتا ستارہ ہے۔ لیزلی لاہور کی ایک کرسچین فیملی کے چشم وچراغ تھے جنہیں پاک فضائیہ میں پیار سے کمانڈرلیزلی کے نام سے یاد کیا جاتاتھا۔ اُنہوں نے 1965 کی پاک بھارت جنگ میں دُشمن کے حملہ آور لڑاکا طیاروں کو شکار کرنے کے صلے میں ستارہ جرات کا اعزاز حاصل کیا۔ 1968 کی عرب جنگ میں پاکستان کی طرف سے وہ اسرائیلی فضائیہ سے لڑے اور اُردن کا اعلیٰ اعزاز حاصل کیا ۔ 1971 کی جنگ میں اُن کی شہادت پر اُردن کے بادشاہ حُسین نے جو کہ خود بھی ایک ماہر پائلٹ تھے، اُن کی بیوہ کو خط میں لکھا،”بہن!کمانڈر لیزلی کی موت میرا ذاتی نقصان ہے۔ میری خواہش ہے کہ اگر شہید کے جسدِخاکی کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کرنے لگو تو اس کے سر کے نیچے اُردن کا پرچم ضرور لپیٹ کر رکھنا۔ “کمانڈر لیزلی نے مادرِوطن کے ساتھ وفاداری کاحق ادا کرنے کی خاطر ایک اور مسلم ملک کو بھی تاابد اپنا شکرگزار اور ممنون کر دیا۔
گروپ کیپٹن سیسل چوہدری
مرحوم سیسل چوہدری 1965کی جنگ میں بھارتی فضائیہ کے خلاف فضائی لڑائیوں میں اعلیٰ ترین شہرت حاصل کرنے والے کرسچین افسر ہیں۔ اُنہیں ان کی جنگی خدمات کے صلے میں ملک کے تیسرے اور چوتھے اعلیٰ ترین بہادری کے اعزازات ستارہ جرات اور تمغہ جرات سے نوازا گیا۔
لاہور کے نامی گرامی کرسچین فوٹوگرافر ایف –ای چوہدری کے صاحب زادے سیسل چوہدری کا وطنِ مالوف سپاہیوں کی سرزمین چکوال ہے۔ مرحوم سیسل چوہدری 1965کی جنگ میں بھارتی فضائیہ کے خلاف فضائی لڑائیوں میں اعلیٰ ترین شہرت حاصل کرنے والے کرسچین افسر ہیں۔ اُنہیں ان کی جنگی خدمات کے صلے میں ملک کے تیسرے اور چوتھے اعلیٰ ترین بہادری کے اعزازات ستارہ جرات اور تمغہ جرات سے نوازا گیا۔ وہ اپنی پیشہ ورانہ لیاقت کے مطابق ترقی سے تو محروم رہ گئے اور اُنہیں گروپ کیپٹن ہی ریٹائر ہونا پڑا جس پر مبینہ طور پر وہ غیر مسلم افسران کے ساتھ پروموشن بورڈ کے رویے کے شاکی بھی رہے۔لیکن سویلین زندگی میں اُنہوں نے انسانی حقوق اور فروغِ تعلیم میں اُنہوں نے جو سرگرم اور عملی خدمات سرانجام دیں وہ انتہائی قابلِ قدر ہیں۔ وہ تاحیات ایک سماجی رہنمااور ماہرِتعلیم رہے اور2012میں وفات پاگئے۔
میجرجنرل کیزاد سپاری والا
کیزاد مانک سپاری والا پاک فوج کے پہلے پارسی جرنیل تھے ۔ اُن کے والد لیفٹننٹ کرنل میک پسٹن جی سپاری والا نے 1965میں بلوچ رجمنٹ کی ایک بٹالین کمان کی اور اعلیٰ کارکردگی پرصدر ایوب خان سے تعریفی سند وصول کی۔ کیزاد سپاری والا نے 1986 میں امریکہ سے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کورس کیا۔ انہیں ان کی نمایاں عسکری خدمات پر نشانِ امتیاز (ملٹری)عطا کیا گیا۔ جنرل کیزاد پاک فوج سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔
ان کے علاوہ ائر کموڈور پرسی ویر جی ، کمانڈر ایف۔ ڈی ہریکر (نیوی)، اورکیپٹن نوشیر جہانگیر کوپر (نیوی) جیسے کئی پارسی افسران مختلف سالوں میں مسلح افواج میں خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔
میجر جنرل نوئیل اسرائیل کھوکھر
لاہور سے تعلق رکھنے والے کرسچین افسر نوئیل اسرائیل کھوکھر کا تعلق توپ خانے سے ہے۔ انہوں نے منگلا چھاونی میں ایک لڑاکاڈویژن کی قیادت کی اور پی-ایم-اے کاکول ، کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں تدریسی عہدوں پر فائز رہے۔ 2011میں انہیں ہلالِ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا اور 2012 میں وہ پاکستان آرمی سے ریٹائر ہو گئے۔
فلائٹ لیفٹننٹ الفریڈ جگ جیون
1948 میں کشمیر کے محاذ پر بھارتی اور پاکستانی فضائیہ کے درمیان تاریخ کی پہلی فضائی لڑائی ہوئی جس میں بھارتی ہاکر ٹمپسٹ لڑاکا طیارہ نے پاک فضائیہ کے مال بردار ڈیکوٹا طیارے پر حملہ کیا جسے فلائٹ لیفٹننٹ مختار ڈوگر (اَئر کموڈور ،ستارہ جرات) اورایک کرسچین افسر، فلائنگ افسر جگ جیون نے کمال بہادری سے ناکام بنا دیا۔
شہید سیکنڈ لیفٹننٹ ڈینئل عطارد
ڈینئل لاہور کے ایک کرسچین گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جن کی عسکری روایات بہت اعلیٰ تھیں۔ ان کے والد میجر آرتھر عمانوئیل عطارد، چچا لیفٹننٹ کرنل فلپ عطارد اور لیفٹننٹ کرنل اولیور آئزک بھی پاک فوج میں خدمات سر انجام دے چکے تھے۔ سیکنڈ لیفٹننٹ ڈینئل کا تعلق پنجاب رجمنٹ سے تھا۔ وہ 1971 میں مشرقی پاکستان میں شہید ہوئے اور وہیں کسی نامعلوم مقام پر دفن ہیں۔ انہیں بہادری کا اعزاز ستارہ جرات دینے کی سفارش کی گئی تھی۔ اُنیس سالہ سیکنڈ لیفٹننٹ ڈینئل کا نام پنجاب رجمنٹ سنٹر مین یاد گارِ شہداء پر کندہ ہے۔
کیپٹن ہرچرن سنگھ
پاک فوج کے پہلے سکھ افسر ہرچرن سنگھ کا تعلق ننکانہ صاحب سے ہے۔ وہ 1986میں وہاں کے ایک غریب سکھ آیا سنگھ کے ہاں پیدا ہوئے۔ 2007مین پاک فوج میں کمیشن ملا، تو کیپٹن سنگھ کے والد یہ خوشی دیکھنے کے لئے زندہ نہ تھے لیکن یہ خوشی پاکستان کے تمام ہندو اور سکھ نوجوانوں کی خوشی تھی کیونکہ پہلی بار ہندو اور سکھ پاکستانیوں کو بھی پاک فوج میں شمولیت کی اجازت ملی تھی۔ ان کی تقلید میں کیپٹن پرکاش اور کیپٹن دنیش نے پاکستان آرمی میڈیکل کورمیں شمولیت اختیار کی جو کہ بلاشبہ ایک تاریخی واقعہ تھا۔ اس کے بعد پاک بحریہ میں بھی چند ہندو نوجوانوں نے رینکس (Ranks) میں شمولیت اختیار کی۔کیپٹن ہرچرن سنگھ کو آرڈیننس کور میں کمیشن ملالیکن حال ہی میں وہ پاک فوج کی سینئر اور تاریخی لڑاکا رجمنٹ ، بلوچ رجمنٹ میں شامل ہو گئے ہیں۔
ہماری مسلح افواج اپنے پیشہ ورانہ قدوقامت کی بلندی کے لئے ایسے لاتعداد غیر مسلم افسران ، جوانوں، شہیدوں اور غازیوں کی ممنون ہے جنہوں نے دفاعِ وطن کا فریضہ کسی بھی محبِ وطن پاکستانی مسلمان کی طرح انجام دیا۔
ہماری مسلح افواج اپنے پیشہ ورانہ قدوقامت کی بلندی کے لئے ایسے لاتعداد غیر مسلم افسران ، جوانوں، شہیدوں اور غازیوں کی ممنون ہے جنہوں نے دفاعِ وطن کا فریضہ کسی بھی محبِ وطن پاکستانی مسلمان کی طرح انجام دیا۔
رئیر ایڈمرل لیزلی نارمن منگاوِن، جو کہ نسلا پولش (Polish) تھے اور پاک بحریہ کے محسن افسروں میں سے ایک تھے، جب فوت ہوئے تو وصیت کر گئے کہ بعد از مرگ ان کے جسدِخاکی کو جلا کر راکھ پاک بحریہ کے حوالے کر دی جائے تاکہ وہ اسے سمندر میں بہا کر ہمیشہ کے لئے انہیں پاکستان کے سمندروں کے حوالے کر دے۔
قائدِ اعظم کا پاکستان اور پاک فوج یہی ہے جس میں ہر مذہب اور ہر صوبائی و علاقائی پس منظر کا فرد ایک ہی پہچان رکھتا ہے؛ وہ محبِ وطن پاکستانی ہے!
Categories
خصوصی

پنجاب انرولمنٹ ایمرجنسی کیمپین 2013

سٹاف رپورٹر

campus-talks

پنجاب حکومت نے 5-16 برس کے بچوں کے داخلوں کے لئے ہنگامی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ مہم کے تحت سکول نہ جانے والے چھبیس لاکھ بچوں کو تعلیم مہیا کرنے کے لئے سروے اور تربیت کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے۔ بچوں کے داخلے کے لئے بیس ہزار اساتذہ 35تحصیلوں میں کام کریں گے۔ اس مہم میں سکول نہ جانے والے اور مختلف وجوہ کی بنیاد پر سکول چھوڑ نے والے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کے انتظامت کیے جائیں گے۔ مہم کے پہلے مرحلے میں سکول نہ جانے والے بچوں کا سروے مکمل کیا جا چکا ہے۔دوسرے مرحلے میں ہر ضلع کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اپنے ضلع میں تربیت یافتہ اساتذہ کے ذریعے بچوں کی انرولمنٹ یقینی بنائیں گے۔ مہم کے دوران بڑی عمر کے سکول نہ جانے والے بچوں کو لٹریسی سنٹرز میں داخل کیا جائے گا۔ چھوٹی عمر اور سکول چھوڑنے والے بچوں کو ان کی عمر اور قابلیت کے مطابق مختلف جماعتوں میں داخلہ دیا جائے گا۔ پاکستان میں اس وقت لاکھوں بچے تعلیم کے حق سے محروم ہیں انہیں تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کی اس کوشش کو سماجی اور فلاحی تنظیموں نے خوش آئند قرار دیا ہے۔ماضی میں بیوروکریسی اور سرکاری اداروں میں موجود بدعنوانی اور غیر پیشہ ورانہ رویے کے باعث تعلیم بالغاں اور مسجد سکول جیسے منصوبے ناکام ہو چکے ہیں۔ انرولمنٹ ایمرجنسی کیمپین میں سرکاری سطح پر فنڈا کی عدم دستیابی، پسماندہ علاقوں میں سکولوں کا نہ ہونا اورچائلڈ لیبر جیسے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔


Categories
خصوصی

My Journey as a Holy Warrior

My-Journey-as-a-Holy-Warrior2

rana-irfanNarrator: Rana Irfan

 

It had been quite some time since Zia-ul-Haq’s eleven years military regime had ended with his sudden death yet the fiery sermons in mosques had not abandoned praising him and his policies. Jihadi organizations were actively working all over our city distributing Jihadi literature in the form of pamphlets, books, audio and video cassettes. Instead of any anticipated change because of the regime change, the jingoistic songs, demonstrations, arms exhibitions and speeches were on a constant rise.

I come from a strictly religious family of Chiniot, a city in central Punjab bordering Jhang, the latter being the birthplace of sectarian terrorism in Pakistan. My family was fervent supporter of a newly formed sectarian Jihadi organization. I did not have to go through training to develop hatred against other sects and infidels; I inherited it in the very environment I grew up in. This mindset was going to play the crucial role of pushing me into a perilous journey.

A college student back then, I was understandably easily inspired by the militant literature circulating among students. It took me no time to become familiar with all those strange faces that regularly came to our locality for preaching and recruiting for Jihad. I, along with new fellows, started attending their local meetings and rallies. In the light of the heroic tales of great Muslim conquerors and fighters, we were told that arms are ornaments of a true Muslim. Apart from the religious reasons, the exhibition of modern weapons and prospect of an adventure did lure us to wear these ornaments.

Motivating us on the beat of enthusiastic jihadi songs, these new friends of mine denounced any method of peaceful preaching, and urged us to take ‘practical steps’. We were required to learn these teachings by heart and propagate them among our families and acquaintances. As I set out to preach, I started filtering my friends; I boycotted those who did not pay heed to my advice of regularly offering all the prayers. I developed my own criteria of piety in everyday life to decide if somebody was worthy of any relation with me. Those who wouldn’t listen to me were less than human for me and were destined to burn in hell. With every passing day many of the familiar faces were vanishing from my life, and being replaced by new bearded ‘angelic’ ones.

Mujahedeen would come all the way from Kashmir and Afghanistan and would enthusiastically tell us stories of their adventures in the holy war. I remember them telling us how Muslims were being oppressed all over the world and all the non-Muslim countries have only one agenda of subjugating the Muslims.

Conferences on Jihad were being regularly held in Chiniot by various religious groups, and I would make sure to attend them despite all my educational engagements. Mujahedeen would come all the way from Kashmir and Afghanistan and would enthusiastically tell us stories of their adventures in the holy war. I remember them telling us how Muslims were being oppressed all over the world and all the non-Muslim countries have only one agenda of subjugating the Muslims. Armed struggle is need of the time and any attempt to placate the Muslims through preaching peace equals traitorship. Their sermons and flashes of Jihadi ornaments, i.e. arms continuously bred restlessness in me to do something for my fellow Muslims.

1989 was the year when I finally decided to go for Jihad. Through local sectarian outfits, I came into contact with the Jihadi organizations working in Chiniot. I met the local Ameer (leader) of mujahedeen who admired my fighting spirit and prayed for the fulfilment of my desire for martyrdom. On a beautiful spring day of 1989 I, along with 25 other boys, packed some necessary things and cloths and reached at the local office of the mujahedeen. The local Ameer handed me over a letter to be given to the Ameer of Miran Shah, a town in North Wazirastan of Federally Administered Tribal Areas of Pakistan (FATA). After a long and restless journey we reached at the camp of Harkatul Mujahedeen at Miran Shah. They verified our particulars right away and then divided us into groups of ten to twelve people. When they finished forming these groups, a vehicle took us towards north-west of Miran Shah leading to Afghanistan. After entering Afghanistan, another vehicle took us to a Jihadi camp in the outskirts of Khost city. We were to get Jihadi training in this camp for forty days. After welcoming us they gave us different kinds of forms and affidavits to fill in; the forms entailed that we had come to Jihad by our own free will and if we die, the organization would not be answerable to anyone.

Our training started the very next day. After morning prayer and recitation of Holy Quran, they would give us just two minutes to change uniform and shoes to leave for a physical training drill. The arms training continued from breakfast till afternoon prayer in which we would learn both about light arms and heavy arms like rocket launchers. The recruits who were doing special commando training would continue their training till late afternoon prayers, while we cleaned our arms and took rest. After late evening prayer, there used to be long Jihadi speeches in which the virtues of Jihad and stories of atrocities against Muslims in Kashmir and Afghanistan were told. The forty day training finished and I was sent to fight against Northern Alliance within Khost province. We fought in groups; after every fifteen days a group of fighters was replaced by another and the earlier one was sent back to the camp for rest. In the camps we were regularly asked if we wanted to continue Jihad with an advanced commando’s training. The commando fighters enjoyed perks and earned great respect in the eyes of senior mujahedeen.

The nights at the training camp were apparently peaceful but every now and then the silence of our nights was torn apart by the echoes of fiery Jihadi speeches.

I showed my desire to go for advanced training and they sent me back to Peshawar. After going through formalities in Peshawar centre they took me to a camp in Jalalabad (Afghanistan) where another three months training session started. This camp was headed by Philippine fighters who were fluent in Arabic, Pashto and English. Most of the trainee fighters were unable to understand these languages. I was able to develop a close relation with my new commanders as I could converse with them in English. I worked as an interpreter between the trainee fighters and the commanders. In this advanced training we were taught to use heavy artillery, light weapons and develop strategic skills. After completing this course we were to be sent to the fronts in Kashmir, Tajikistan and interior Afghanistan; being free to choose one of the three.

The nights at the training camp were apparently peaceful but every now and then the silence of our nights was torn apart by the echoes of fiery Jihadi speeches. We would have nightmares of screaming mutilated bodies as depicted in Jihadi literature. We would wake up in terror and call out our Kashmiri brethren promising them to liberate them from Indian occupation. The cool Himalayan winds coming from the north were like heavenly breeze for us. We could not wait to embrace the hoories in paradise.

I, along with some other fellows, showed interest to join Jihad in Kashmir, so Muzafarabad was our next destination. From there we went to Athmuqam in Pakistani administered Kashmir where we were welcomed in an office of Pakistan’s premier intelligence agency. On a cold night of October 1989 we crossed the border of Indian held Kashmir under the protection of Pakistani intelligence agency. But the heavy snowfall blocked our way and we had to wait on the way indefinitely.

Meanwhile I got to know that my father had been searching for me and had somehow reached Muzaffarabad. I wished to meet him so I was sent back to Muzaffarabad on a special vehicle to visit my father. My father persuaded me that I was needed at home because of my mother’s ailing health and other family issues. Emotions overpowered him while he was talking and his begging made me decide to go back home for a while. I came back to Chiniot with my father. I was welcomed at home with a great jubilation, but I was no more the same person.

The precarious confrontation with possible death and the spiritual brainwashing had developed inside me a deep sense of arrogant piety. I looked down upon people around me for shirking from the great cause of Jihad. I despised them for living their routine lives without ever thinking for their religious obligations. To me the whole life of a non-Mujahed was nothing short of a sin in itself. The news of arrival in the city spread rapidly among the local religious circles and the supporters of Jihad. I started to get dinner invitations every other day from the people whom I never knew before. The more respect and recognition I earned from these people for telling the stories of my Jihad, the greater disgust I felt for the ordinary non-religious folks.

I had dozens of ways to answer any objection raised against my actions and to keep my conscience at peace until the day when I witnessed these pious ‘Mujahedeen’ stooping to lowest level of moral decadence.

Soon I decided to go back to the front. I secretly left my home with a close friend of mine. Meanwhile my father came to know about my going back and he stopped me at the bus stop. While crying he tried to convincing me not to go, he even threatened to commit suicide if I left. I felt nothing could stop me at that time from achieving the ultimate objective of my life, i.e. martyrdom.

I left my crying father behind with a cold heart but during my arguments with him, I missed the last available bus to FATA. The incident of losing my bus struck me as a bad omen. I suddenly felt a spasm of guilt for abandoning my family when they need me the most. But on the other hand my egoist piety and desire for heaven were stopping me from going home. After thinking for a long time I concluded to go back home. I decided that I will never go for Jihad again but the way my mind had been moulded into violent thoughts at Jihadi camps always kept me restless.

In 1992 I met a militant of a sectarian organization. After developing a level of trust and frankness, he took me to a mosque which stored a big amount of modern weapons and ammunition. The inviting sight of weapons and the persuasion of my new comrade urged me to become a Mujahed again, this time of a different sort. Because of my family background and Jihadi training, I was already clear on the status of certain sects in Islam. I believed that some heretical sects such as Shias were worse than infidels and deserved to be killed. This fellow introduced me to an opportunity of Jihad at the local level by targeting these sects. I joined it eagerly. To start with, the plan was to target the prominent Shia figures of our locality by damaging their assets and business. I was so convinced of the apostasy of Shias that our planned crime of robbing them looked to me nothing short of a great virtue.

Under the banner and direction of sectarian organizations and with the help of professional criminals, we started looting and stealing. Till then every criminal act of mine was a step towards implementation of Islam and towards preserving the mandated respect for Sahaba, the companions of Holy Prophet. I had dozens of ways to answer any objection raised against my actions and to keep my conscience at peace until the day when I witnessed these pious ‘Mujahedeen’ stooping to lowest level of moral decadence. It happened at one of our robberies when a woman from a Shia house unexpectedly resisted us. My comrades treated her with such dirty language and brutal beating that I am unable to recount here.  Her pleas for help in my mother tongue touched my heart more than any of those imaginary cries which I was made to hear while in Kashmir or Kabul. This ultimate degradation of a woman in my own homeland deeply traumatized me to question the whole moral and political narrative of Jihad. During the last two and half years when I was busy killing the infidels and risking my own life and that of my family, I never bothered to have an informed and balanced look at what I was doing and who was benefitting from it.

The incident of that night became a turning point and putting aside the one sided propaganda of Jihadi literature, I started reading about other sides of the picture. Soon I realized how badly I had ruined my studies, family life, career and energies. Following this realization, it took me quite an effort to become humble and nice to the people in order to recompense for my hateful behaviour. For my economic worries, I started running a gym in the city. Meanwhile some remnants of the ideological confusion and questions kept me mentally occupied.

On a summer day of 1992 when I was at my gym, police raided my place, arrested me and locked me up. Afterwards I got to know that due to my past association, I was a suspect in a recent robbery in the city. After a long legal battle I was finally acquitted. I left my city the same day. The introspection that I was able to do while in incarceration at the police station made me further critical of the choices that I made in the past. From Chiniot, I reached Faisalabad. I felt relieved after confessing all about my criminal past to a barber in Faisalabad who shaved my beard.

Today I am living a totally different life in Lahore. Though the wars that we have been waging for decades have reached our homes now, I am glad that at least my children are born in a different century. I work as a teacher here, and during teaching I try my best to teach my students to spread love and be tolerant and peace loving Pakistanis.

Many of my companions from Afghan and Kashmir Jihad did not return alive. Many are those who came back but they still look down upon common people thinking them not ‘pious’ enough, and there are others who still await acceptance by the people including their family and friends. And many are those who, with the fear of facing any unexpected situation, are still living in mountains and missing their homeland. I still remember the words of my Philippine commander when I asked him when will he go back home. There was great pain in his eyes and he said with a sigh, “May be never”.

I am lucky to be living a new life with my family so that I could tell the new generation memoirs of the terrible ventures of my generation.


Read Urdu version of this article here


Categories
خصوصی

کندھ کوٹ : مذہبی رواداری کا ایک مثالی نمونہ

عثمان شاہد

سندھ ساگر نے اپنے کنارے کیا کچھ نہیں دیکھا؟سندھ وادی بستی رہی اجڑتی رہی، ناک نقشے بدلتے رہے، راجہ پرجا ریتی رواج، دھرم کرم کی موجوں پر صدیا ں بہتے بہتے سمندر کی تہہ میں جا چھپی ہیں۔ سندھ کنارے بستیوں میں اب دریا کے پانیوں سے زیادہ اس ذہنی خشک سالی کا خوف ہے جس کی ویرانی میں شدت پسندی کا تھور محبتوں کی کھیتیوں کو بنجر کر گیا ہے۔ سینتالیس کے بعد کی جس نسل کو سرحد پار کر جانے والے اپنے ساتھ اپنی گٹھڑیوں میں شاید رواداری اور برداشت بھی واہگہ اور کھوکھرا پار کی دوسری طرف لے گئے۔
اب تو سندھ کی وادی پر مشتمل پاک سر زمین کا ہربچہ ہندوستان کے بٹوارے کی کہانیاں سنتے ،سنتے بازیچہ اطفال سے شعور کے آنگن میں داخل ہوتا ہے تو عقیدے کی بنیاد پر پاکیزگی سکھاتے نصاب کی تعلیم پانے والے ذہن تو یہ سوال بھی نہیں اٹھا تے کہ کیا مختلف نام، عقیدے، رنگ اور نسل کے ساتھ بھی انسان ساتھ رہ سکتے ہیں۔ کیاا اللہ دتہ کا کوئی دوست رام لعل یا ہری سنگھ بھی تھا جس کے ساتھ وہ سکول جایا کرتے تھے اور واپسی پر آم کے پیڑ تلے کھیلتے تھے۔ عیدمنانے والے دیوالی بھی جوش و خروش سے مناتے تھے۔ نفرتیں ناپید تھیں کہ محبتوں سے ہی فرصت نہ ملتی۔ امرتسر سے لاہور سائیکل پر بھی آیا جا سکتا تھا۔ مادھو لال حسین کے میلے میں مسلم، ہندو، سکھ دھمالیں ڈالتے ، نذر نیاز کرتے اور مراد پاتے تھے۔
مگر۔۔۔(اس مگرمیں بھی قصے اور مرثےے پنہاں ہیں) مگر اب شناختی کارڈ دیکھ کر زندگی اور موت کے فیصلے سڑکوں پر ہونے لگے ہیں۔ لیکن کندھ کوٹ نے سندھ کے کناروں کا بھرم رکھا ہے۔ یہاں گزرے وقت کی وہ پرچھائیاں ابھی بھی غور سے دیکھنے پر نظر آجاتی ہیں جن میں ہندو مسلم پانی الگ نہیں تھا۔ یہاںوہ ماضی سانس لیتا ہے جہاں غیر مسلم ہی نہیں بلکہ شیعہ ، سنی، پنجابی، بلوچ یا سندھی ہونابھی کوئی جرم نہیں۔ جہاں دیوالی کی رات کسی کا گھر نہیں بلکہ پھلجھڑیاں جلتی ہیں، پھیرے لینے والیوں کو پر دعا کرنے والے ہاتھوں کی شفقت رخصت کرتی ہے تبرک اور پرشاد میلاد اور دیوالی سب سانجھا ہے۔حیرت ہے کہ یہاں پر کوئی کسی کو کافر نہیں کہتا۔ کندھ کوٹ بازار میں تجارت کاروبار ، روپے پیسے، دھن دولت کے گھن چکر میں موہ مایا کا جال تو پھیلا ہے پر چاندنی چوک کے بلراج سوےٹس کی مٹھاس، مائی چوائس بیکری والوں کی خوش اخلاقی میں ہندومسلم تفریق کی کوئی کڑواہٹ نہیں گھلتی۔ہندو مالک ہو یا مسلم ملازم سب کی روزی ایک دوسرے سے بندھی ہے۔ صرافہ بازار کے ہوٹلوں پر فلم اور چائے کی ضیافت ہو یا کہن سالہ برساتی کے آس پاس کی بھیڑ کہیں کوئی اچھوت نہیں لگتا۔
کندھ کوٹ ،ضلع کشمور کا ہیڈکوارٹر ہے۔ یہ دارلحکومت اسلام آباد سے قریباََ 1200کلومیٹر جنوب اور بالائی سندھ میں واقع ہے۔ ضلع کشمور کی نا صرف سندھ بلکہ پاکستان کےلئے بھی اہمیت بڑھ جاتی ہے کہ یہ مشرق سے پنجاب کے شہر راجن پور، شمال سے بلوچستان کی ڈسٹرکٹ سبی اور جنوب سے دریائے سندھ اور ڈسٹرکٹ گھوٹکی سے منسلک ہے۔ اسی وجہ سے یہاں کاروباری سرگرمیاں عروج پر ہیں۔گورنمنٹ ڈگری کالج کندھ کوٹ میں معاشیات کے پروفیسر عبدالرحمان ملک کے مطابق شہر میں موجود غلہ منڈی ایشیاءکی دوسری بڑی منڈی ہے جہاں سے پورے پاکستان خصوصاََ بلوچستان ، سندھ اور جنوبی پنجاب میں گندم اور چاول سمیت دیگر اجناس مہیا کی جاتی ہیں۔
کندھ کوٹ کے اڑھائی لاکھ نفوس میں سے ایک چوتھائی ہندوہیں۔ زیادہ تر لوگ زراعت، چند افراد سرکاری ملازمت جبکہ ہندو اکثریت کاروبار کرتی ہے۔ ہندو کاروبار میں بہتر اور قدرے متمول ہیں۔ مذہب و ذات اور لسانی امتیاز سے بالاتر، کندھ کوٹ کے تمام رہائشی سندھی زبان بولتے اور اجرک و سندھی ٹوپی پہننا پسند کرتے ہیں۔ بلوچ بھی مناسب تعداد میں موجود ہیں لہٰذا شہر کی دوسری بڑی زبان بلوچی ہے۔ کشمور ، سندھ کے ان تین اضلاع میں سے ایک ہے جن کی اپنی گیس فیلڈ اور تھرمل پاور سٹیشن ہے۔ یہاں گڈو تھرمل پاور سٹیشن بجلی کی پیداوار کے حساب سے پاکستان کا دوسرا بڑا یونٹ ہے جہاں سے حیدر آباد اور کراچی تک بجلی مہیا کی جاتی ہے۔
سینتالیس کے فسادات میں جو ہندو سرحد پار جانے کی بجائے یہاںرہ گئے ان پر پینسٹھ اور اکہتر کی جنگوں کا جنون خوف بن کر لہرایا، ہنوستان کے مسلمانوں کی حالت کا انتقام لینے والے بھی کچھ تھے پر ابھی فضا یہاںکی ساز گار ہے۔دیوان لعل جیسے بزرگ ہندووں کی بات ابھی بھی سنی جاتی ہے سمجھتے ہیں کہ یہ اس لئے ہے کیوں کہ یہاں کی آبادی نے مسلم خون مسلمانوں کے ہاتھوں بہتے دیکھا ہے ۔ اشوک سنگھ کا خاندان تقسیم کے بعدسے حلوہ پوڑی کی ریڑھی لگاتا ہے ، پنجہ صاحب ، ننکانہ صاحب، گولڈن ٹیمپل اور رنجیت سنگھ کی مڑی کی زیارت کے بعد بھی من لگانے کو یہیں ٹکا ہوا ہے۔
صرافہ بازار کے حکیم امان اللہ بھٹہ ڈاکٹر ستیہ پال امام مسجد مرتضیٰ ملک کو سندھی زبان اور قوم پرستی کے اس اٹوٹ بندھن نے باندھ رکھا ہے جس صدیوں پرانا ہے ، جس نے عقیدے اور مذہب اپنا کر اپنی دھرتی اور سنگت سے انحراف نہیں کیا۔ شہر میں کھلی دکانوں میں کون کس عقیدے کے ساتھ آتا ہے اس سوال کو پالن ہار پر چھوڑ سب زندگی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ابھی یہاں مقدس متن کی وہ تشریحات نہیں پہنچیں جو لوگوں کے لوگوں سے الگ کر تی نیکیوں کی تلقین نہیں کرتیں۔ مسجد ، مندر اور گردوارہ میں خدا کو تقسیم کرنے کی ضرورت ابھی پیش نہیں آئی۔

Categories
خصوصی

میرا جہاد

rana-irfan

رانا عرفان

ضیا الحق کی موت کے ساتھ اس کا گیارہ سالہ دور ختم ہوئے کئی دن ہو چکے تھے اور ابھی تک مساجد میں جمعہ کے خطبوں میں اس کے فضائل پر مشتمل دھواں دھار تقریروں کا سلسلہ جاری تھا۔ جہادی تنظیمیں اب بھی ہمارے شہر میں برابر سرگرم تھیں۔ لٹریچر اور جوشیلے ترانوں والی کیسٹوں کی تقسیم، جہادی مظاہرے، اسلحے کی نمائش اور تقریروں، خطبوں میں کمی آنے کی بجائے یہ سلسلہ کچھ تیز ہوتا نظر آ رہا تھا۔
میرا تعلق چنیوٹ کے ایک سخت گیر مذہبی گھرانے سے ہے جو اس وقت کی ایک نوزائیدہ فرقہ پرست کالعدم تنظیم کا شدید حامی خاندان تھا۔ اس پس منظر کی وجہ سے مجھے مخالف فرقوں کے خلاف متشدد جذبات رکھنے کے لیے بڑی حد تک گھر میں ہی موزوں فضا میسر آ گئی تھی۔ مذہبی مزاج کا یہی انتہا پسند پہلو آگے جا کر میری زندگی کے ایک بڑے حصے کوایک نہایت بے سمت سفر میں دھکیلنے والا تھا۔میں اس وقت کالج میں زیرِ تعلیم تھا اور بجا طور پر اس وقت کے نوجوانوں میں گردش کرنے والے تشدد پسند لٹریچر سے ازحد متاثر بھی تھا۔ گلی محلوں میں آ کر جہاد کی تبلیغ کرنے والے سبھی اجنبی چہروں سے مانوسیت ہو چکی تھی اور میں نے ان کے مقامی اجتماعات اور محافل میں جانا شروع کر دیا تھا۔ روایات صالحات کے مسلسل اعادے سے ہمیں یہ تو باور کروا دیا گیا تھا کہ اسلحہ مومن کا زیور ہے، ساتھ میں ان اجتماعات میں جدید اسلحے کی سرِ عام نمائشیں ہمیں یہ زیور پہننے کے لیے للچاتی اور لبھاتی بھی رہتیں۔ میرے یہ نئے دوست پر امن تبلیغی مہمات اور تبلیغی گروہوں کی شدید مخالفت اور مذمت کرتے ہوئے ہمیں پر جوش جہادی ترانوں کی دھن پر “عملی قدم” اٹھانے کی تلقین کیا کرتے تھے، اور ہم ان تعلیمات کو ان اجتماعات سے ازبر کر کے اپنے اقارب میں آ کر ان تعلیمات کا اعادہ کرتے۔ شہر کے عام لوگوں میں بھی اب اخلاقی قدریں بڑی حد تک بدل رہی تھیں۔ میرے جو دوست میری تبلیغ کے باوجود نماز کے لیے باقاعدگی سے مسجد میں نہیں پائے جاتے تھے، میں نے ان سے قطع تعلق کر لیا۔روز مرہ معاملات میں ملنے جلنے والےلوگوں سے تعلقات رکھنے یا نہ رکھنے کے لیے میں نے تقویٰ کے ایک ذاتی معیار کو پیمانہ بنا لیا۔ اب مجھے اپنی باتوں پر کان نہ دھرنے والے لوگ دوزخ کا ایندھن اور جانوروں سے بدتر مخلوق نظر آنے لگے تھے۔ میرا حلقۂ احباب ایک طرف سے سکڑ رہا تھا، جبکہ دوسری طرف میں آئے روز نئے “نورانی” چہروں سے متعارف ہو رہا تھا۔
چنیوٹ میں آئے روز مختلف گروہوں کے زیر اہتمام جہاد کانفرنسیں منعقد ہو رہی تھیں، اور میں بھی تمام تعلیمی مصروفیات سے ترجیحی طور پر وقت نکال کر ان اجتماعوں میں شریک ہوتا رہا۔ کشمیر اور افغانستان کے میدانوں سے آئے ہوئے مجاہدین اپنی تقریروں میں جوشیلے جملوں کے ساتھ اپنی کارروائیوں کا احوال سناتے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے ہر خطے میں مسلمان پِس رہا ہے اور سبھی غیر مسلم ممالک کی سوائے اس بات کے، کسی اور امر میں دلچسپی نہیں کہ مسلمانوں کوصفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے۔سبھی لوگوں پر مسلح اقدام واجب ہے اور پر امن تبلیغ یا سیاسی جدوجہد کرنے والے لوگ کشمیری اور افغان مسلمانوں کے مجرم ہیں وغیرہ۔ بیچین کر دینے والی ان تقریروں کو سن کر میرے اندر عدم تحفظ کا ایک احساس پیدا ہوا اوراسلحے کی نمائشوں کو دیکھ کر میرے دل میں ہتھیار چلانے کی لگن پیدا ہوئی۔
۱۹۸۹ء کے ابتدائی دنوں میں میں نے جہاد پر جانے کا فیصلہ کر لیا اورایک مقامی کالعدم فرقہ پرست تنظیم سے وابستہ افراد کے توسط سےمجاہد تنظیموں کے چنیوٹ سطح کی انتظامیہ تک رسائی حاصل کی۔مقامی تشکیل کے باریش امیر المجاہدین نے میرے جذبۂ جہاد کی قدر کی اور میری شہادت کی آرزو کے پورے ہونے کی دعا کی۔ سن ۸۹ء کے موسم بہار میں ایک دن میں گھر سے ضروری سامان اور کپڑے لے کر چنیوٹ مرکز پہنچا اور امیر صاحب نے مجھ سمیت پچیس نوجوانوں کے لیے ایک رقعہ میرانشاہ معسکر کے امیر المجاہدین کے نام لکھ کر ہمیں دیا۔ایک طویل اور بے چین فاصلہ طے کرنے کے بعد ہم میرانشاہ میں قائم حرکۃ المجاہدین کے معسکر (چھاؤنی) پہنچے اور پہنچتے ہی ہمارے تمام کوائف کی تصدیق کی گئی۔اس عمل کے مکمل ہونے کے بعد ہماری تشکیلِ نو کی گئی اور ہمیں دس سے بارہ جوانوں پر مشتمل گروہوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ تشکیلِ نو کے بعد ایک گاڑی ہمیں میرانشاہ سے شمال مغرب کی طرف لےگئی۔ افغانستان کی حدود میں پہنچنے کے بعد گاڑی تبدیل کی گئی جو کہ ہمیں خوست شہر کے نواحات میں واقع ایک جہادی معسکر تک لے گئی۔ اس معسکر میں ہمیں چالیس دن تک جہادی تربیت حاصل کرنا تھی۔ ہمارے استقبال کے بعد ہم سے مختلف قسم کے فارم اور حلف نامے بھروائے گئے جن میں ہم نے اس بات کا اعلان کیا کہ ہم اپنی مرضی سے جہاد پر آئے ہیں اور مارے جانے کی صورت میں جہادی تنظیم، والدین یا لواحقین کے کسی ردعمل کی ذمہ دار نہیں ہوگی۔
دوسرے ہی دن ہماری تربیت کا آغاز ہوا، جس میں نمازِ فجر کے بعد تلاوت ہوتی اور اس کے بعد وردی بوٹ بدلنے کے لیے دو منٹ دئیے جاتے جس کے فوراً بعد ہم پیشہ ور اساتذہ کے زیرِ نگرانی صبح سات تا نو بجے تک پی.ٹی اور ڈرل جیسی مشقیں کرتے۔ ناشتے کے بعدظہر کے وقت تک اسلحہ کی تربیت حاصل کرتے جس میں ہلکے اسلحے سے لے کر بھاری راکٹ لانچروں تک کی تربیت شامل تھی۔ عصر تک سپیشل کمانڈوز ٹریننگ (تخصص) کرنے والے جوان اپنی مشقوں میں مگن رہتے جبکہ ہم اپنا اسلحہ کی صفائی کرتے اور سستاتے، عشاء کی نماز کے بعد دیر تک جہادی بیان ہوتا اور جہاد کے فضائل اور کشمیر و افغانستان میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی داستانیں بیان کی جاتیں۔
چالیس دن بعد ہماری تربیت مکمل ہوئی اور مجھے صوبہ خوست ہی میں شمالی اتحاد کے خلاف ایک محاذ پر بھیج دیا گیا۔ یہاں ہر پندرہ روز بعد تعینات جنگجوؤں کا تبادلہ ہوتا تھا۔ پندرہ روز تک معمول کی جھڑپوں اور گوریلا کارروائیوں کے بعد میری جگہ ایک اور جنگجو کو تعینات کر کے مجھے معسکر واپس بلوا لیا گیا۔ یہاں ہم سے جہاد جاری رکھنے اور تخصص (اسپیشل کمانڈو تربیت) کرنے کے لیے ہماری آمادگی کا پوچھا گیا۔ تخصص کر چکنے والے جنگجوؤں کو بہت قابلِ ذکر مراعات حاصل تھیں اور دیگر وابستہ حلقوں میں انہیں بہت تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔میں نے جہاد جاری رکھنے اور تخصص کرنے کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کی جس کے بعد مجھے میرانشاہ سےپشاور بھیج دیا گیا۔ پشاور کے مرکز میں رسمی کارروائیاں نمٹانے کے بعد جلال آباد (افغانستان) میں واقع ایک اور معسکر میں بھیج دیا گیا جہاں تین ماہ پر مشتمل تربیتی دور کا آغاز ہوا۔ یہ معسکر فلپینی جنگجوؤں کے زیرِکمان تھا جو عربی، پشتو اور انگریزی پر عبور رکھتے تھے۔ دیگر زیرِتربیت جنگجو چونکہ ان تینوں زبانوں سے نابلد تھے لہٰذا مجھے انگریزی سے موزوں واقفیت کی وجہ سے ان کمانڈروں کے نہایت قریب رہنے کا موقع ملا۔ میں زیرتربیت جنگجوؤں اور فلپینی کمانڈروں کے درمیان ترجمانی اور رابطے کا کام بھی سرانجام دیتا رہا۔تخصص کے دوران ہمیں بھاری توپ خانے، ہلکے ہتھیاروں اور دیگراعلی مہارتوں کی تربیت دی گئی۔ اس کورس سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ہمیں کشمیر، تاجیکستان یا اندرون افغانستان کے محاذوں کی مہمات پر بھیجا جانا چاہیے تھا۔ تین ماہ کی تربیت کے اختتام پر ہم سے ہماری پسند کے محاذوں کا پوچھا گیا۔
معسکر کی راتوں میں جہادی کانفرنسوں میں سنی تقریریں ہمارے کانوں میں گونجتی تھیں اور جہادی لٹریچر میں دکھائی گئی کٹی پھٹی لاشیں ہمارے خوابوں میں آ آ کر چیختی تھیں۔ہم ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھتے اور پکار پکار کر کشمیر کے لوگوں کو آوازیں دیتے اور انہیں بھارتی ریاست سے آزاد کرانے کے عہد کیا کرتے۔ پہاڑوں سے ٹکرا کر واپس آنے والی خنک ہوائیں ہمیں جنت کے بہشتی جھونکوں کی طرح لگتیں اورجنتی خیموں کے کنارے بیٹھی حوروں کا انتظار ہمارے بس سے باہر ہونے لگتا۔ تخصص مکمل ہوتے ہی میں نے اور کچھ دوسرے ساتھیوں نے کشمیر جانے پر آمادگی ظاہرکی۔جلال آباد سے ہمیں مظفرآباد لایا گیا۔ یہاں سے اَٹھ مقام میں واقع قومی حساس ادارے کے ایک دفتر میں ہمارا استقبال کیا گیا۔اکتوبر ۱۹۸۹ء کو سخت سردی میں اَٹھمقام سے ہم حساس اداروں کی حفاظت میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوئے لیکن شدید برفباری کی وجہ سے آگے کے راستے بند تھے اور ہم فضا سازگار ہونے کے انتظار میں وہیں رک گئے۔
اسی دوران مظفرآباد سے مجھے پیغام ملا کہ میرے والد صاحب مجھے ڈھونڈتے ڈھونڈتے مظفرآباد پہنچ آئے ہیں۔ مجھ سے میری آمادگی جان کر خصوصی گاڑی پر مظفرآباد بھیجا گیا جہاں میں نے والد صاحب سے ملاقات کی۔ والد صاحب نے مجھے والدہ کی صحت اوردیگر معاملات اور گھر پر میری ضرورت کے حوالے سے بہت سی باتیں کیں اور اس دوران وہ نہایت جذباتی ہو گئے۔ میں نے گھر واپس جانے کا فیصلہ کیا اور والد صاحب کے ہمراہ چنیوٹ آ گیا۔ گھر واپسی پر میرے خاندان میں ایک خوشی کی لہر ضرور دوڑی لیکن اس وقت تک مجھ میں بہت سی تبدیلیاں آ چکی تھیں۔خوست کے سرحدی محاذوں پر جھڑپوں میں عملی شرکت اور مجاہدین کی ہمراہی میں تقویٰ اور روحانی ریاضتوں نے ایک خاص قسم کی پرہیزگارانہ نخوت پیدا کر دی تھی۔ آس پاس رہنے والے عام لوگ، جو میری طرح جہاد پر نہیں گئے تھے اور جہادی حلیے کی بجائے روایتی لباس اور وضع قطع کے ساتھ روزمرہ کے کام کاج کرتے تھے، ان لوگوں کے لیے میرے دل میں سوائے حقارت کے اور کوئی جذبہ نہیں بچا تھا۔ اب میرے نزدیک شہر کے سبھی “غیرمجاہد” باسیوں کی زندگی کا ایک ایک سانس ایک کفریہ فعل کے مترادف تھا۔ افغانستان میں جاری روس امریکہ جنگ میں پاکستان کی شمولیت کے حامی افراد میں میری جہاد سے واپسی کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ آئے روز شہر میں نئے سے نئے ناواقف افراد کے ہاں سے مجھے کھانے کے دعوت نامے موصول ہونے لگے۔ ان مجلسوں میں بیٹھ کر اپنے جہاد کے قصے سنا کر مجھے جس قدر تکریم اور پذیرائی ملتی رہی، اسی قدر عام “دنیادار” لوگوں سے بیزاری اور میرے جنگجویانہ مزاج میں مزید ترشی آتی گئی۔
اس دوران میں نے دوبارہ جہاد پر جانے کا فیصلہ کیا اور نئے سرے سے اپنا سامان باندھ لیا۔میرا ایک ہم راز دوست مجھے بس اسٹاپ تک چھوڑنے میرے ساتھ آیا، لیکن اسی دوران میرے والد کو میرے دوبارہ جہاد پر جانے کا علم ہو چکا تھا۔ وہ نہایت جذباتی ہو کر بس سٹاپ پہنچے اور مجھے روکنے پر قائل کرنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں اپنے اس ارادے سے باز نہ آیا تو وہ گاڑی کے چلتے ہی اس کے آگے لیٹ کر اپنا خاتمہ کر لیں گے۔ اس وقت دنیا کا ہر وہ جذبہ جو مجھے لڑائی پر جانے سے روکتا تھا، میرے نزدیک نہایت مذموم اور میرے جنت کے حصول کی راہ میں رکاوٹ تھا۔ میں نے پوری بے حسی کے ساتھ اپنے مرحوم والد کو واویلا کرتا چھوڑا اور بڑے بس اڈے کی طرف نکل پڑا۔ میرے بس اڈے پہنچنے تک بنوں جانے والی آخری بس نکل چکی تھی۔ بس نکلنے کو میں نے اپنی روانگی کے لیے ایک برا شگون سمجھا اور مجھے اپنے والد کی نافرمانی پر ندامت محسوس ہوئی۔ لیکن دوسری طرف میری اپنی انا، اور جنت کا حصول میرے گھر لوٹنے سے مانع بھی ہو رہے تھے۔ ایک طویل پس و پیش کے بعد میں نے اپنے گھر جانے کا فیصلہ کر لیا۔ گھر پہنچا تو میرے والد ابھی تک گھر نہیں پہنچے تھے اور والدہ بستر پر نڈھال پڑی تھیں۔ میں نے دوبارہ جہاد پر نہ جانے کا فیصلہ کیا لیکن ساتھ ہی میں جہادی مراکز میں میری ذہن کو جس طرح کے متشدد خیالات میں ڈھالا گیا تھا، مجھے مسلسل بے چین کیے رکھتا تھا۔
۱۹۹۲ء میں میری ملاقات ایک کالعدم فرقہ پرست تنظیم کے ایک عسکریت پسند سے ہوئی۔ بے تکلفی ہونے کے بعد وہ مجھے ایک مسجد کے ایک گوشے میں لے گیا جہاں اس نے مجھے جدید اسلحے اور ایمونیشن کا ایک بڑا ذخیرہ دکھایا۔ اسے دیکھ کر میری اسلحہ استعمال کرنے کے لیے بیچینی اور بڑھ گئی۔ اپنے ذاتی پس منظر اور امتیازی تربیت کی وجہ سے میں دوسرے تمام فرقوں کو بھی دیگر غیر مسلموں کی طرح واجب القتل سمجھتا تھا۔ اور اسی ہم فکری نے مجھے اس نئے دوست سے قریب کیا تھا۔ اس شخص نے مقامی سطح پر ‘جہاد’ کے ارادے میں شمولیت کے حوالے سے میری رائے لی، جس کے لیے میں پہلے سے ہی تیار تھا۔ کالعدم تنظیم کے اس رکن نے مجھے مقامی سطح پر شیعہ فرقہ کے لوگوں کے خلاف مسلح جہاد کی ایک اسکیم پیش کی۔ اس کے مطابق ہمیں پہلے مرحلے میں علاقہ کے بااثر اور ثروت مند شیعہ لوگوں کو مالی طور پر کمزور بنانا اور ان کے کاروبار اور املاک کو نقصان پہنچانا تھا۔ میں شیعہ فرقہ کی تکفیر پر مشتمل تقریری و تحریری مواد اس قدر پڑھ سُن چکا تھا کہ مجھے ڈکیتی جیسا سنگین اخلاقی جرم ایک کارِ خیر سے کم نہیں لگا۔
کالعدم تنظیم کے اس گروہ کے ساتھ ہم نے ڈکیتی اور لوٹ مار کی وارداتوں کا سلسلہ شروع کیا جس میں ہمیں تالا توڑنےاور نقب لگانے کے لیے پیشہ ور چوروں اور نقب زنوں کی ہمراہی حاصل تھی۔ اس وقت تک مجھے اپنا ہر مجرمانہ عمل، نفاذِ اسلام اور ناموسِ صحابہ کے مشن کے لیے ایک مقدس اقدام لگتا تھا اور میرے پاس اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے ہزار جواز تھے۔ تاوقتیکہ ڈکیتی کی ایک واردات کے دوران میں نے اپنے گروہ کے سب سے پارسا ‘مجاہدوں’ کی اخلاقی سطح کو بے نقاب ہوتے دیکھا، جب ایک شیعہ گھر پر رات گئے بلوہ کے دوران اس گھر سے ایک خاتون نے ہماری توقع سے کہیں ذیادہ مزاحمت کی۔ میرے ساتھیوں نے اس خاتون کو خاموش کروانے کے لیے نہایت حیا باختہ گالیاں دیتے ہوئے انتہائی بے دردی سے زدوکوب کیا۔ اس خاتون کے مانوس زبان میں احتجاجی واویلا اور چیخ و پکارکے آگے مجھے مظلوم عورتوں کی وہ سب فرضی چیخیں بہت مدھم ہوتی نظر آئیں جو مجھے خوابوں خیالوں میں کشمیر یا کابل کی بولیوں میں سنوائی جاتی رہی تھیں۔ اپنے ہی ملک اور اپنے ہی شہر کی ایک خاتون کی اس درجہ بے احترامی کو اپنے آنکھوں کے آگے دیکھ کر میرے ذہن میں اپنی زندگی کے گزشتہ ڈھائی سالوں پر کئی ایک سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے۔ان ڈھائی سالوں میں، جب میں اپنے ہم وطنوں سے مسلسل نفرت کر کے غیر ملکی جنگجوؤں کے ساتھ ایک ایسی جنگ میں شریک رہا تھا، جس جنگ کے پیچھے کارفرما عوامل اور طاقتوں کے ذاتی مفادات کے متعلق نسبتاً متوازن مطالعے کی میں نے کبھی زحمت نہیں کی تھی۔
اس رات کا واقعہ میرے لیے سوچ میں تبدیلی کا ایک اہم محرک تھا ہی، لیکن ساتھ ہی میں نے اب تک معسکروں اور جہادی کانفرنسوں میں پڑھی سنی یکطرفہ آراء کو ایک طرف رکھ کر متبادل تجزیوں کا مطالعہ کرنا شروع کیا۔ متوازن مطالعے کی بدولت مجھے گزشتہ ڈھائی سالوں میں اپنی تعلیم، خانگی زندگی اور توانائیوں کی رائیگانی کا احساس اور بھی شدت سے ہوا۔ اس تبدیلی کے بعد میں نےاپنی سماجی زندگی میں ملنساری اور انسان دوستی کے جذبے بحال کرنے کے لیے خوب ریاضت کی تاکہ گزشتہ برسوں کی مردم بیزاری کی تلافی کر سکوں۔اپنے گھر کی معیشت میں بہتر حصہ ڈالنے کے لیے میں نےشہر میں تن سازی کا کلب قائم کیا اور ساتھ میں میرے باطن میں فکری جوڑ توڑ کا عمل بھی برابر جاری رہا۔
سن ۹۲ء ہی کے موسمِ گرما میں ایک دن پولیس نے میرے کلب پر ریڈ کیا اور مجھے گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ علاقہ میں کالعدم تنظیم کی ایک تازہ ڈکیتی کی واردات پر مشکوک افراد کی فہرست میں، سابقہ وابستگی کی بنیاد پر مجھے بھی شامل کر لیا گیا تھا۔ ملزمان پر چھبیس لاکھ روپے کی ڈکیتی کا الزام تھا۔ ایک طویل قانونی جدوجہد کے بعد مَیں اس مقدمہ سے بری ہو گیا اور اسی دن اپنی تن سازی کی دکان بڑھا کر شہر چھوڑ دیا۔ حوالات میں گزرنے والی رات اپنے ہاتھوں پر لگی آہنی ہتھکڑیوں کے ساتھ میں نے اپنی گزشتہ زندگی کا تفصیلی اور دیانتدارانہ محاسبہ کیا اور بہت سے ایسے نتیجوں پر پہنچا، جن کے اخذ کرنے کی اب تک مجھ میں ہمت نہیں آ رہی تھی۔ میں نے چنیوٹ کو خیرباد کہہ دیا۔فیصل آباد میں میری ڈاڑھی مونڈنے والا حجاّم وہ پہلا آدمی تھا جسے میں نے سب سے پہلے اپنے مجرمانہ ماضی کی داستان سنائی، اور جس نے مجھے ایک بدلی ہوئی وضع قطع کے ساتھ، ایک عام پاکستانی شہری کے روپ میں پہلی بار دیکھا تھا۔
آج میں لاہور میں اپنے خاندان کے ساتھ ایک نئی اور بالکل مختلف زندگی گزار رہا ہوں۔ اگرچہ دو دہائیاں پرانی وہ جنگ ہمارے گھروں تک پہنچ آئی ہے، لیکن مجھے خوشی ہے کہ میرے بچوں نے ایک مختلف صدی میں جنم لیا ہے۔ یہاں میری معاش درس و تدریس سے وابستہ ہے اور اپنے تدریسی فرائض سرانجام دیتے ہوئےمیری کوشش ہوتی ہے کہ نئی پود کے ذہنوں میں زہر بھرنے کی بجائے انہیں محبتیں بانٹنے والا، جمہوریت پسند اور پرامن پاکستانی بننے کی تلقین کی جائے۔
افغان جہاد اور جہادِ کشمیر میں میرے ساتھ کئی ایک لوگ ایسے تھے، جو محاذوں سے زندہ نہیں لوٹے… بہت سے ایسے بھی ہیں جو محاذ سے لوٹ آئے لیکن اب تک عام شہریوں کو ان کے “پارسا” نہ ہونے کی وجہ سے حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، یا ان کے ہم وطنوں نے انہیں اپنے درمیان قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اور کئی ایک ایسے بھی ہیں، جو اپنے سماج میں واپسی پر اس تصادم کے خوف سے اب تک پہاڑوں میں بیٹھے اپنے وطن کو یاد کر رہے ہیں۔ مجھے جلال آباد میں اپنے فلپینی کمانڈر کے وہ الفاظ اب بھی یاد ہیں جب میں نے اس پوچھا تھا کہ وہ وطن واپس کب جائے گا۔۔ اس کی آنکھوں میں ایک دلگیر درد تھا جب اس نے ایک آہ بھرتے ہوئے کہا تھا؛ “شاید کبھی نہیں…”
میں خوش قسمت ہوں کہ ایک نئی زندگی کے ساتھ اپنے بیوی بچوں کے درمیان زندہ ہوں، تاکہ آنے والی نسلوں کو اپنی نسل کی منفی مہم جوئیوں کی یادداشتیں سنا سکوں۔


انگلش میں ترجمہ پڑھنے کیلیے یہاں کلک کریں۔


Categories
خصوصی

قصور (بدلتے شہر)۔

badaltay-shehar

اسد فاطمی
شہر قصور کا ذکر بھی جی سے سننے والوں کے لیے ایسا سب رنگ اور دلآویز ہے کہ موضوع بدلنے کے لیے کسی بہت بڑے تمدنی نام کو بیچ میں لانے سے بات بدلتی ہے۔ ایک بھرپور تاریخ کے حامل اس شہر کی شناخت بننے والے مشاہیر کی فہرست کسی بھی دوسرے عظیم شہر سے کم نہیں ہے۔ بلھے شاہ کی مستانہ کافیوں نے اسے آتش فشانی دہانوں کا شہر بنایا ہے، عہدِ اکبری میں تان سین کی جاگیر رہنے والا، استاد بڑے غلام علی خاں اور میڈم نور جہاں کا یہ شہر پانچ دریاؤں کے بیچ تانپورے کے منجھلے تار کی طرح ہے۔ سیاست و حکمرانی میں سیاسی فطانت سے لے کر محلاتی سازشوں تک، قصور کی تاریخ ایک نصابی حوالے کی مانند ہے۔
ریڈیو پر کھیم کرن فتح ہونے کی خبر نشر ہوئی تو تقسیم کے وقت کھیم کرن سے ہجرت کر کے قصور آباد ہونے والے خاندان پیدل، سائیکلوں اور گھوڑوں پر بیٹھے جوق در جوق اس قصبے میں واقع اپنے پرانے گھروں کو پہنچ گئے۔
شہر کے معرض وجود میں آنے کے بارے میں کوئی حتمی رائے دینا بہت قبل از وقت ہو گا، تاہم رامائن میں ہے کہ شری رامچندر جی نے اپنے بیٹے کشو کو نوازنے کے لیے ایک تیر پھینکا جو اس جگہ آن گرا اور رام نے یہ جگہ کشو کو جاگیر کے طور پر عطا کی، اور خیال کیا جاتا ہے کہ اسی نسبت سے اس کا نام کسور پڑا۔فیروز پور روڈ پر واقع ٹبہ کمال چشتی کا اونچا خرابہ، ایک پرانے شہر روہےوال کا پتہ دیتا ہے، عہدِ اکبری میں قصور روہیوال کا ایک قصبہ تھا جو اکبر نے تان سین کو عطا کیا تھا۔ ایک محلاتی بدگمانی کو رفع کرنے کی غرض سے بعد میں یہ علاقہ مغل فوج کے ایک علی زئی افغان جرنیل کو بخشا گیا۔ افغان فوجی افسروں کے یہاں آباد ہونے سے شہر کی معلوم تاریخ کا آغاز ہوتا ہے۔ پٹھانوں نے اس جگہ قصر نما ۱۲ قلعے (باراں کوٹ) تعمیر کیے۔ اس کے بعد یہ شہر ہندوی لفظ کسور سے، عربی کا ‘قصور’ کہلانے لگا۔اس عہد میں رند قبیلے کے ایک بلوچ سورما پِیرا بلوچ کی پٹھانوں کے ساتھ چشمک علاقے کی لوک داستانوں کا اہم موضوع ہے۔ پِیرا بلوچ رات کے اندھیرے میں پٹھان امراء کے محلات میں شب خون مارتا، اور ساتھ میں اپنی غریب پروری کی وجہ سے عام لوگوں میں مقبول بھی رہا۔ پٹھانوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں پیرا مارا گیا اور قصور کے بارہ قلعوں کی پرتعیش زندگی میں امن و سکون کے ایک اور عہد کا آغاز ہوا۔ تاہم لوک رزمیوں (واراں) میں آج بھی پِیرا کو ایک ہیرو کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔سکھ قبیلے بھنگی کی تاراج کے عہد کو ‘مِسل دور’ کہتے ہیں۔ مسل دور بھی یہاں کے پٹھان امراء کے لیے بے سکونی کا ایک باب ہے۔ یہ عہد قصورکی تاریخ میں بھاری سیاسی اور ثقافتی بحران کا زمانہ ہے۔ قصور میں سنگھا شاہی رسوخ ملتان کے نواب مظفر خاں سدوزئی کے ساتھ رنجیت سنگھ کی جنگوں کے پس منظر سے شروع ہوتا ہے جب یہاں کے ایک جرنیل قطب الدین خاں کو رنجیت سنگھ نے ملتان کے سدوزئیوں کے خلاف اس کا ساتھ دینے کا کہا اور قطب الدین نے انکار کیا۔اس بات پر رنجیت سنگھ قصور کے رؤسا پر چڑھ دوڑا اور قطب خان کو شکست کھا کر رنجیت کا کہا ماننا پڑا۔ قطب خاں کی نصرت میں رنجیت سنگھ نے ملتان کا قلعہ فتح کیا اور اس کی مغل جاگیریں بحال کر دیں۔
قصور میوزیم میں تاریخ کے مختلف ادوار اور ثقافت کی جھلکیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

قصور میوزیم میں تاریخ کے مختلف ادوار اور ثقافت کی جھلکیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

انیسویں صدی کے وسط میں قصور کا قلمرو انگریزوں نے سکھوں سے چھین لیا۔ برٹش دور میں یہاں کہ پٹھان رؤسا کے حکومت کے ساتھ نہایت دوستانہ روابط رہے۔ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران رؤسائے قصور نے جنگ کے لیے خطیر چندے اکٹھے کیے اور سرکاری طور پر انہیں بھاری مراعات اور عہدوں سے نوازا گیا۔ جلیانوالہ باغ کے واقعےپر قصور میں نہایت پرجوش عوامی ردعمل سامنے آیا۔ ان مظاہروں کو قصور جلوس ایجی ٹیشن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ مقامی امراء نےاسکولوں سے طلبہ کی ایک بڑی تعداد کو پکڑ کر پنجروں میں قید کر دیا اور ان پر کوڑے برسائے۔ برطانوی عہد میں قصور کے گرد ریل کی پٹڑی کا جال بچھایا گیا، جو اسے امرتسر، فیروزپور، لودھراں اور رائیونڈ سے ملاتی تھی۔ اس عہد میں قصور کو ضلع لاہور کی ذیل میں تحصیل کا درجہ ملا اور نئی طرز کے بنیادی انتظامی ادارے،کچہریاں اور یونین کونسل قائم ہوئے۔تقسیمِ ہند کے بعد یہاں کی تقریباً چوتھائی بھر غیرمسلم آبادی نے شہر چھوڑ دیا، جبکہ ہندوستان سے فیروزپور، امرتسر اور میوات وغیرہ سے مہاجرین کی ایک بڑی تعداد یہاں مہاجر بستیوں میں آباد ہوئی۔ تقسیم کے وقت کا یہ المناک باب بھی قابلِ ذکر ہے کہ جب پاکستانی پنجاب کے مختلف شہروں سے ہجرت کر کے بھارت جانے والے تارکین قصور بارڈر کے راستے ملک چھوڑ رہے تھے، قصور شہر کے ریلوے اسٹیشن پر تارکین سے کھچاکھچ بھری تین ٹرینوں کو روک کرمسافروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ۱۹۶۵ء کی جنگ میں فتح ہونے والا
بھارتی قصبہ کھیم کرن تقسیم ہند سے قبل قصور کے مضافاتی قصبات میں شمار ہوتا تھا۔ ریڈیو پر کھیم کرن فتح ہونے کی خبر نشر ہوئی تو تقسیم کے وقت کھیم کرن سے ہجرت کر کے قصور آباد ہونے والے خاندان پیدل، سائیکلوں اور گھوڑوں پر بیٹھے جوق در جوق اس قصبے میں واقع اپنے پرانے گھروں کو پہنچ گئے۔ مفتوحہ شہر کھیم کرن کے مکان خالی پڑے تھے، لوگوں نے اپنے سابقہ گھروں سے بچ رہے سامان، کواڑ، شہتیر، یہاں تک کہ اینٹیں، اپنے آبائی گھروں کی یادگار کے طور پر ساتھ لیں اور قصور میں واقع اپنے نئے گھروں میں سجا دیں۔ کھیم کرن سے قصور آئے ان گھرانوں کے لیے جنگِ ستمبر ۱۹۶۵ء میں ہاتھ آنے والا سب سے قیمتی سرمایہ یہی ہے جو آج بھی ان کے گھروں میں محفوظ ہے۔ ۱۹۶۷ء میں قصور کو ضلع کا درجہ دیا گیااور شہرِ قصور اس کا انتظامی مرکز قرار پایا۔ ضلعی مرکز بننے کے بعد شہر میں ضلعی حکومتی دفاتر کے قیام اور نئی تعمیرات کے بننے سے شہر کی ظاہری صورت میں صفائی آنے کی ایک امید قائم ہوئی لیکن اس کے باوجود بھی افسروں کی گنی چنی گزرگاہوں کے علاوہ شہر کی شاہراہیں اور گلیاں دھول اور کیچڑ ہوا میں اچھالتی رہیں۔نصف دہائی قبل قصور میں تعمیراتی ترقی کی ایک جھلک واضح دیکھنے میں آئی ہے۔ تین سال قبل قصور کو لاہور سے ملانے والی جرنیلی سڑک، فیروزپور روڈ کے حالیہ کشادہ تر اور دو رویہ سڑک میں تبدیل ہونے سے قصور کا صوبائی و صنعتی دارالحکومت لاہور سے فاصلہ نہایت سکڑ گیا ہے۔ ساتھ ہی شہر کی بیشتر نقل و حرکت اور تجارتی اہمیت کی حامل شاہراہوں کی حالت میں بھی بہتری آنے سے یہاں کی صنعت اور روزمرہ سرگرمیاں بہتر معیشت کی جانب راہی ہوتی نظر آتی ہیں۔

قصور ریلوے اسٹیشن کے جنوب مغرب میں واقع علاقہ کوٹ مراد خان رقص وموسیقی کے حوالے سے قصور کی شناخت رہا ہے۔ افغان عہد میں کلاسیکی گائیکوں کا ایک قبیلہ، جس کا سردار مراد خان تھا، اس جگہ آباد ہوا تھا۔ اس علاقے نے برصغیر پاک و ہند کی موسیقی میں استاد غلام حیدر خاں، استاد بڑے غلام علی خاں، استاد چھوٹے غلام علی خاں، ظہور بخش قصوری، ملکۂ ترنم نور جہاں، ظلِ ہما، عذرا جہاں اور ایسے لاتعداد ناموں کا اضافہ کیا۔
قصور کی روایتی صنعتوں میں چمڑے کے جوتے شہر کی خاص پہچان ہیں، لوک ادب و موسیقی میں بھی “جتی قصوری” کا حوالہ نفاست اور وقار کی علامت کے طور پر آتا رہا ہے۔ پارچہ بافی میں یہاں کے جولاہے (انصاری) ایک صدیوں پرانی روایت کے وارث ہیں۔ اس صنعت میں کپڑے کی قسم ‘بافتہ’ کو خاص امتیاز حاصل ہے جس میں ایک ریشم کے تار کے ساتھ سوت کے ایک تار کو بُنا جاتا ہے۔ گرم اوڑھنیوں میں یہاں کے جولاہے کھیس (مجنوں) بنانے میں خاص کمال رکھتے ہیں۔ جانوروں کی کھال سے چمڑا تیار کرنے کی قدیم صنعت بھی قصور کی خاص شناخت ہے۔چمڑے کی صنعت کی وسعت اور قدامت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ صدیوں سے تازہ گیلی کھال سے ماس اور خون کی باس نکالنے، بالوں کی صفائی وغیرہ سے لے کر قابلِ استعمال سوکھے چمڑے کی تیاری تک کے مراحل میں جو خاص کیمیاوی مواد برتا جاتا ہے، اس تمام فاضل مواد کی غیر دانشمندانہ نکاسی کی وجہ سے قصور کی زمین کے نیچے موجود پانی نہایت آلودہ ہو چکا ہے۔اس پانی کو پینے اور دیگر ضروریات میں استعمال کرنے کی وجہ سے قصور میں کینسر کے مریضوں کی شرح ملک بھر میں سب سے ذیادہ ہے۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران یہاں پانی کا ایک بڑا ٹریٹمنٹ پلانٹ قائم کیا گیا تھا جو شہر بھر کو پینے کا صاف پانی مہیا کرتا ہے۔ اس اقدام کی وجہ سے صورتِ حال کی سنگینی میں بہت کمی واقع ہوئی۔ لکڑی کی مصنوعات کی قدیم صنعت یہاں خاتمے کے دہانے کو پہنچ چکی ہے۔ رنگلے پایوں والی کھاٹ، مدھانیاں، رنگلے پیڑھے اور شوخ رنگوں والے لٹو ایک مدت تک قصور کی خاص شناخت رہے ہیں۔ مغل عہد کے ایک سِکھ مہتمم کی نسل یہاں ‘مہتم’ برادری کے نام سے جانی جاتی ہے جن کا موروثی پیشہ چھج بانی (سرکنڈے سے بننے والی مصنوعات) تھا۔ چِک سازی، مصلے اور ایسی دیگر اشیاء بنانے کا ہنر اس خاندان سے یادگار ہے۔جھی ور قبیلہ خوشنما رنگوں اور نسلوں کے پرندوں کا شکار اور فروخت کا کام کرتا ہے۔ کمانگر ذات کے لوگ پرانے وقتوں میں تیر، کمانیں اور ترکش بنانے کے پیشے سے وابستہ تھے۔ ان سب پرانی صنعتوں میں سے جو صنعتیں جدید انڈسٹری کے ساتھ مطابقت پیدا کر پائیں، باقی رہیں۔ باقی تمام صنعتیں آہستہ آہستہ معدوم ہو چکی ہیں، یا معدومی کے دہانے پر ہیں۔
قصور کا تاریخی ریلوے سٹیشن جہاں تقسیم کے وقت سرحد پار کرتے ہوئے سکھ اور ہندوتارکین کی تین ٹرینیں روک کر مسافروں کا قتلِ عام کیا گیا

قصور کا تاریخی ریلوے سٹیشن جہاں تقسیم کے وقت سرحد پار کرتے ہوئے سکھ اور ہندوتارکین کی تین ٹرینیں روک کر مسافروں کا قتلِ عام کیا گیا

کھانے پینے کے حوالے سے قصوریوں کی حسِ ذائقہ نہایت قابلِ رشک ہے۔ ملک بھر میں قصوری فالودہ کی ایک جداگانہ شناخت ہونے کے ساتھ ساتھ قصوری اندرسا، بھلے پکوڑیاں، اوجڑی اور ناشتے میں دہی قلچہ نہایت مرغوب سمجھے جاتے ہیں۔ قصور کے روایتی گھرانوں میں شام کا
کھانا گھر پر پکانے کا رواج بہت کم ہے۔کپاس اور مرچ کی کاشت یہاں نواحات کی روایتی فصلیں ہیں لیکن گزشتہ تین سے چار دہائیوں میں آلو، اروی، میتھی، ہلدی اور مکئی کی کاشت کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ ملنساری، زندہ دلی اور محنت یہاں کے لوگوں کے امتیازی اوصاف ہیں، دوسری طرف قصور چونکہ صدیوں سے مختلف طاقتوں کی کشمکش اور حویلیوں، قلعوں میں محلاتی سازشوں کا گڑھ رہا ہے، اسی وجہ سےروایتی اذہان کے زبانی حوالوں میں مکر، سیاست اور دورویہ روش کے منفی خواص بھی متوازی طور پر قصور کے لوگوں سے منسوب کیے جاتے ہیں۔ ثقافتی طور پر اگرچہ قصور لاہور سے بہت مشابہت رکھتا ہے، تاہم قصور کی بسنت ایک مدت تک لاہور میں منائے جانے والے بسنت کے تہوار کے برابر، اور بعض حالات میں اس سے بھی زیادہ والہانہ طور پر منائی جاتی رہی ہے۔ قصور ریلوے اسٹیشن کے جنوب مغرب میں واقع علاقہ کوٹ مراد خان رقص وموسیقی کے حوالے سے قصور کی شناخت رہا ہے۔ افغان عہد میں کلاسیکی گائیکوں کا ایک قبیلہ، جس کا سردار مراد خان تھا، اس جگہ آباد ہوا تھا۔ اس علاقے نے برصغیر پاک و ہند کی موسیقی میں استاد غلام حیدر خاں، استاد بڑے غلام علی خاں، استاد چھوٹے غلام علی خاں، ظہور بخش قصوری، ملکۂ ترنم نور جہاں، ظلِ ہما، عذرا جہاں اور ایسے لاتعداد ناموں کا اضافہ کیا، جبکہ کلاسیکی رقص میں استاد فلوسے خاں جیسے لوگ یہاں پیدا ہوئے۔سخن پروری کے حوالوں میں یہ بابا بلھے شاہ کا شہر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وارث شاہ نے بھی اپنی ابتدائی فنی زندگی اسی شہر میں گزاری تھی۔ وارث شاہ کے استاد و مرشد مخدوم قصور سے تعلق رکھتے تھے۔ اندرون شہر کے موری دروازے کی جامع مسجد میں دو حجرے موجود ہیں جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک حجرے میں بابا بلھے شاہ مقیم رہے، جبکہ دوسرا ایک عرصہ تک وارث شاہ کی قیام گاہ رہا۔ ادب کی ان عظیم روایتوں کے تسلسل میں پنجابی زبان کی معاصر شاعری میں بھی قصور نے لاتعداد عظیم نام پیدا کیے ہیں۔ پنجاب کی فلم انڈسٹری لالی وڈ کے قیام کے وقت سے ہی قصور کے فنکاروں کا اس میں ایک گرانقدر حصہ رہا ہے۔ایوب خان کے عہدِ صدارت میں معروف فلم ‘جال’ کی پاکستان میں نمائش پر جو تنازعہ کھڑا ہوا، اس کے روح رواں قصور کے معروف فلمساز یوسف خان تھے۔ ان مظاہروں کو ‘جال ایجی ٹیشن’ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس ایجی ٹیشن کا مقصد پاکستانی فلمی صنعت کی بقاء اور خودانحصاری کے لیے بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش پر پابندی کے لیے جدوجہد کرنا تھا۔ اس تنازعے میں فلمی صنعت مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ اور بڑی تعداد میں فنکاروں اور فلم بینوں کو زدوکوب کیا گیا۔
مزار بابا شاہ جمال کے قریبی چوک کا ایک منظر

مزار بابا شاہ جمال کے قریبی چوک کا ایک منظر

اس شہر نے ترقی، تمدن اور تہذیب کے مراحل کی کم و بیش سبھی ناہمواریوں کو تجربہ کیا ہے۔اس لیے قصور اپنے آغوش میں ایک بڑے شہر کی سی رنگا رنگی اور چھوٹے شہروں والی سادگی اور روایتی پسندی، ہر دو ذائقے نہایت حسین توازن کے ساتھ لیے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب کی سیاسی، معاشی اور ثقافتی تاریخ کے حوالوں یا عصری احوال میں سے قصور کو منہا کر کے ایک مکمل رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔

Categories
خصوصی

جوزف کالونی کے جل بجھے خرابوں پر دہشت کے سائے پھر سے منڈلانے لگے

ارون آرتھر

۹ مارچ ۲۰۱۳ء کو لاہور میں واقع مسیحی برادری کی بستی جوزف کالونی، بادامی باغ کو توہینِ رسالت کے ایک مبینہ ملزم کی بستی ہونے کی پاداش میں مذہبی شدت پسند ہجوم نے آگ لگا کر راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا۔ علاقہ کے مکینوں کے گھر، مقدسات، اور گھریلو املاک سمیت بھاری قیمت کے سامان کے مکمل طور پر خاکستر ہونے کے بعد آگ بجھانے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آئے۔مبینہ ملزم کو حراست میں لے لیا گیا اورحکومت اور خیراتی اداروں کی مدد سے بحالی اور تعمیر نو کے وعدے کیے گئے۔ تعمیرات کا کام ایک حد تک مکمل ہو چکا ہے تاہم مقامی بااثر افراد کی طرف سے انتخابات کے بعد ایسی کارروائیوں کے دوہرائے جانے کی دھمکیاں اب بھی جوزف کالونی کے مکینوں کو دی جا رہی ہیں۔ حال ہی میں قریبی آبادیوں کے بااثر لوگوں کی طرف سے یہاں کے باسیوں پر تشدد اور دھمکیوں کے واقعات نے علاقہ میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور یہاں کی مسیحی برادری کے عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ ہوا ہے۔

اہلِ علاقہ کے مطابق صوبائی حکمران جماعت کا حمایت یافتہ ایک بااثر شخص غزالی بٹ جو کہ جوزف کالونی کی جگہ پر ایک فیکٹری بنانے کا ارادہ رکھتا تھا، گزشتہ دو ماہ سے اہلِ علاقہ کو بستی خالی کر دینے کے لیے دھمکا رہا تھا۔
توہین کے مبینہ ملزم ساون مسیح کی بہن بشریٰ نے وقوعہ کا پس منظر بتاتے ہوئے ‘لالٹین’ کو بتایا کہ اس کے بھائی کی بلیرڈ کی دوکان تھی، جس کے ہمسائے میں ایک حجام کی دوکان بھی تھی۔ ساون کے ہاں حجام کا کچھ قرض واجب الادا تھا جس کا وہ کئی دن سے تقاضا کر رہا تھا۔ بدھ کے روز وہ بلااجازت ان کے گھر داخل ہوا اور اور ساون کے ساتھ جھگڑا اور بدکلامی کی۔ جھگڑا بڑھا تو اس شخص نے ساون کو نازیبا گالیاں دینے کے ساتھ ساتھ عبرتناک انتقامی کارروائی اور توہینِ مذہب کے مقدمے میں مروائے جانے کی دھمکی دی۔
اہلِ علاقہ کے مطابق صوبائی حکمران جماعت کا حمایت یافتہ ایک بااثر شخص غزالی بٹ جو کہ جوزف کالونی کی جگہ پر ایک فیکٹری بنانے کا ارادہ رکھتا تھا، گزشتہ دو ماہ سے اہلِ علاقہ کو بستی خالی کر دینے کے لیے دھمکا رہا تھا۔ سانحے سے دو دن قبل غزالی بٹ نامی اس بااثر شخصیت کے دفتر میں تفصیلی منصوبہ بندی کی گئی اور علاقہ کے مولویوں کو بلوا کر ان سے مشاورت کی گئی۔ منصوبہ کے مطابق نمازِ جمعہ کے خطبہ میں عوام کے مذہبی جذبات کو بھڑکا کر نماز کے فوراً بعد مشتعل ہجوم کی ہمراہی میں بستی کو نذرِ آتش کیا جانا تھا۔ جمعے ہی کے دن جوزف کالونی کے باسیوں کو پولیس کے کچھ اہلکاروں نے مطلع کیا کہ بستی پر حملہ ہونے والا ہے، لہٰذا اپنی جانیں بچانے کے لیے جلد از جلد بستی کو خالی کر دیں۔اسی وقت یہاں کے باسیوں نے بستی سے نکلنا شروع کر دیا اور کچھ ہی دیر میں علاقہ خالی کر دیا گیا۔ یہ علاقہ جمعہ کی دوپہر سے لے کر ہفتے کے روز تک خالی پڑا رہا۔ہفتے کو لگ بھگ تین ہزار لوگوں پر مشتمل ہجوم بستی پر حملہ آور ہوا اور پہلے مرحلے میں گھروں سے زیورات، اور چھوٹی قیمتی اشیاء لوٹی گئیں، بعد ازاں بھاری بھرکم اشیاء پر کیمیکل چھڑک کر آگ لگا دی گئی۔ کیمیکل جلنے کی حرارت سے گھروں کے دھاتی سامان اور چھتوں کے شہتیر تک پگھل گئے۔ پولیس، جسے ممکنہ حملے کا پہلے سے علم تھا، کے سیکڑوں اہلکار موقع پر موجود تھے۔ پولیس اہلکار وقوعہ پر خاموش تماشائی بنے رہے۔ واقعہ میں ایک سو اٹھہتر گھر اور دو چرچ نذرِ آتش ہوئے اور ایک خاتون سمیت دو افراد جل کر ہلاک ہوئے۔
اتوار کے روز وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف متاثرہ بستی کا دورہ کرنے آئے لیکن میڈیا پر بیان دینے کے بعد بستی میں داخل ہو کر متاثرین کی حالتِ زار دیکھے بغیر ہی چلے گئے، جس کی وجہ سے پنجاب حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی شروع ہو گئی۔

اتوار کے روز وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف متاثرہ بستی کا دورہ کرنے آئے لیکن میڈیا پر بیان دینے کے بعد بستی میں داخل ہو کر متاثرین کی حالتِ زار دیکھے بغیر ہی چلے گئے، جس کی وجہ سے پنجاب حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی شروع ہو گئی۔ صوبائی حکومت کی طرف سے پوری بستی کے متاثرین کے لیے دو شامیانے لگائے جن کے نیچے زیادہ سے زیادہ پچاس کے قریب لوگ کھڑے ہو سکتے تھے۔ حکومت کی طرف سے متاثرین کی طرف سے ایک وقت کا کھانا بھی بھیجا گیا جسے متاثرین نے لینے سے انکار کر دیا۔متاثرین کی اکثریت کے دیر تک بھوکے رہنے کے بعد اتوار کے دن تک مشنری تنظیموں اور دیگر فلاحی اداروں کی طرف سے کھانے کی شکل میں امداد پہنچنا شروع ہو گئی۔ دو ہفتے بعد پنجاب حکومت کی طرف سے متاثرین میں پانچ پانچ لاکھ کے چیک تقسیم کیے گئے، جن میں سے بیشتر چیک باؤنس ہو گئے۔بعدازاں میڈیا پر تنقید کا نشانہ بننے کے بعد ان میں سے چند چیکس کے ریکارڈ کی درستی کی گئی۔
توہین کے مبینہ ملزم کو اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن جوزف فرانسس کی کوششوں سے گرفتار کر لیا گیا۔ جوزف فرانسس کے مطابق اس نے ساون مسیح کی گرفتاری میں مدد اس لیے کی کہ یہ جوزف کالونی کی باقی ماندہ آبادی کی سلامتی کے لیے مفید اور مصلت پسندانہ عمل تھا، جبکہ مسیحی آبادی میں ساون مسیح کی گرفتاری میں جوزف فرانسس کی معاونت کو ایک ناپسندیدہ قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ساون مسیح کی بہن بشریٰ کا کہنا ہے کہ اس کا بھائی کسی قسم کی گستاخی کا مرتکب نہیں ہوا بلکہ اسے ایک ذاتی چپقلش میں انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ساون مسیح کا والد جو کہ وقوعہ کے دن دل کا دورہ پڑنے کے کی وجہ سے ہسپتال لے جایا گیا، دل کے دورے کے بعد فالج میں مبتلا ہو گیا تھا، دوہری مصیبت میں گرفتار ہے کہ اپنے علاج کے قابل نہ ہونے کے ساتھ ساتھ اسے اپنے بیٹے کی خیریت کا کوئی علم نہیں ہے اور نہ ہی اب تک اس سے اس کی کوئی ملاقات ممکن ہو پائی ہے۔ساون مسیح کی بہن کے بقول اس کی ماں کی حالت قدرے بہتر ہے جبکہ اس کا باپ ابھی تک موت و حیات کی کشمکش میں ہے، دوسری طرف ان کو آئے روز ملنے والی دھمکیوں کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے۔ پولیس سمیت دیگر سیاسی اداروں کا رویہ بھی نہایت امتیازی ہے۔
جوزف کالونی میں تعمیر نو کا بیشتر کام مکمل ہو چکا ہے۔ علاقہ کے مکینوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے تعمیر نو کے وعدوں کے بعد صرف ان افراد کے گھر سرکاری خرچ پر تعمیر ہوئے ہیں جو اپنے رسوخ کے ذریعے اداروں سے امداد حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے تھے۔ زیادہ تر افراد نے اپنے ذاتی اخراجات سے اپنے گھر تعمیر کیے ہیں۔ سرکاری طور پر کیے گئے تعمیر نو کے کاموں میں صرف گھر کے باہری حصوں کی معمولی مرمت کی گئی جبکہ اندرونی حصے پر محض سفیدی کر کے جلنے کے آثار چھپائے گئے ہیں۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ تعمیر نو کا ٹھیکہ لینے والے ٹھیکیدار کا رویہ مقامی باسیوں کے ساتھ نہایت شرمناک اور ہتک آمیز رہا۔ دیگر اداروں کی طرف سے روزمرہ تعاون میں کمی ہوئی ہے۔۴ مئی کے دن یہاں آنے والی پولیو ٹیم نے یہاں کے باسیوں اور بچوں کے ساتھ امتیازی رویے کا مظاہرہ کیا، جس پر مقامی خواتین اور پولیو ٹیموں میں جھگڑا ہو گیا، یہاں تک کہ پولیس کو بلوا کر معاملہ رفع کروایا گیا۔ سیوریج اور پانی کی فراہمی اب تک بحال نہیں ہو پائی ہے اور پینے کے پانی کے حوالے سے جوزف کالونی ایک قحط زدہ علاقے کا منظر پیش کر رہی ہے یہاں تک کہ مقامی باسیوں کو اکثر مقامات پر سیوریج کا گندا پانی پیتے دیکھا گیا ہے۔
بحالی کے کاموں میں سرکاری طور پر اس قدر غفلت اور معاشرتی طور پر امتیازی سلوک کا شکار جوزف کالونی کی آبادی کے سر سے خوف اور عدم تحفظ کے بادل ابھی تک ٹلے نہیں ہیں۔ اس کی تازہ مثال ۳۰ اپریل کو موٹرسائیکل مکینک کا کام کرنے والے کم سن بَنی مسیح پر اغواء اور تشدد کا حالیہ واقعہ ہے۔ جسے کام پر جاتے ہوئے قریبی علاقہ شیخ آباد کے چند افراد نے اغواء کر کے اس پر تشدد کیا اور بعد ازاں اس کے گلے میں رسی ڈال کر اسے گھسیٹ کرجان سے مارنے کے لیے لے جانے لگے۔ تشدد کی وجہ سے بنی مسیح کا بازو ٹوٹ گیا اور اس کی ٹانگوں اور باقی جسم پر شدید چوٹیں آئیں۔ بنی مسیح کے ذریعے علاقہ کے باسیوں تک اس دھمکی آمیز پیغام کا اعادہ کیا گیا کہ جوزف کالونی پر دوبارہ حملہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح جوزف کالونی کا رہائشی بابر مسیح کچھ دن قبل اپنی بہن کی شادی کی تیاری کے سلسلے میں شیخ آباد گیا، وہاں چند لڑکے بلوا کر اس پر ڈنڈوں سے شدید تشدد کیا گیا جس سے اس کی ایک ٹانگ اور ایک بازو ٹوٹ گئے۔ جوزف کالونی ہی کے ایک اور کمسن بچے کو اغواء کرنے کے بعد دو دن تک اس پر بلیڈوں کے گھاؤ اور دوسرے طریقوں سے تشدد کیا جاتا رہا۔ دو دن بعد نہایت تشویشناک حالت میں اسے رہا کیا گیا۔تشدد کے ان سب واقعات میں ایک مشترک بات یہ ہے کہ ان سب کو یہ پیغام دیا جاتا رہا کہ وہ اپنی بستی میں جا کر یہ بتا دیں کہ انتخابات تک وہ سیاسی مجبوریوں کی بنا پر کارروائی نہیں کر پا رہے ہیں، انتخابات کے بعد جوزف کالونی کے باسیوں پر پہلے سے زیادہ عبرتناک سلوک کیا جائے گا۔
ان دھمکی آمیز پیغامات کی وجہ سے علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ علاقہ کے باسیوں کے مطابق راتوں کو کسی معمولی سے کھٹکے پر بھی مائیں اپنے بچوں کو سینے سے لگا لیتی ہیں اور لوگ کسی انہونی آفت کے لیے خود کو تیار کر لیتے ہیں۔ جوزف کالونی کے لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تعمیر نو کے وعدوں کی بجائے انہیں جانی تحفظ فراہم کیا جائے۔ جوزف کالونی پر اس قدر شرمناک سانحہ گزرنے کے بعد بھی سرکاری اداروں کے عدم تعاون کے ساتھ ساتھ عام ہم وطنوں کی طرف سے بھی اس قدر امتیازی رویہ بجا طور پر مذہبی ہم آہنگی کی ختم ہوتی قدروں کے حوالے سے ایک بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے۔

[nggallery id=9]

 

(Published in The Laaltain – May 2013)

Categories
خصوصی

قائدِاعظم یونیورسٹی میں طالبعلم کا پراسرار اغوا

campus-talks

رضوان اسماعیل
(قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد)قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کا شمار ملک کی بہترین یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔ کچھ دن قبل گلگت سے تعلق رکھنے والے مدثر شین نامی ایک طالبعلم یونیورسٹی ہاسٹل سے پر اسرار طریقے سے غائب ہوگئے۔مدثر یونیورسٹی کی طلبہ سیاست میں کافی نمایاں تھے اور ان کا تعلق قا ئدِ اعظم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی گلگت کونسل سے تھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اتنے بڑے واقعےپر کوئی کارروائی نہیں کی۔ یہاں تک کہ طلبا کی ایک بڑی تعداد نےمظاہرے کیے اور اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس بھی کی۔ اس کےباوجودبھی اس وقعے کی ایف آئی آر نہیں کاٹی گئی۔ پریس کانفرنس میں طلبہ نے جماعتِ اسلامی اور اس کی طلبا تنظیم پرمدثر کے اغوا کا الزام عائدکیا۔ اغوا کے 8 دن بعد مدثر زخمی حالت میں ہوسٹل کے پاس پائے گئے۔ ان کے جسم پر شدید تشدد کے نشانات بھی ہیں اور وہ بہت زیادہ سہمے ہوئے ہیں۔ اس واقعے کے بارے میں وہ کچھ بھی کہنے سے گریزاں ہیں۔
اس مجموعی صورتِ حال سے ایک بات سامنے آتی ہے کہ اس گھناونے واقعے کے پیچھے کوئی بڑی سازش کار فرما ہے جس کے محرکات سیاسی ہیں۔ تاہم یہ اپنی نوعیت کا انتہائی غیر معمولی واقعہ ہے اور ماضی قریب میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یونیورسٹی کے سیاسی ماحول کے سیاق و سباق میں یہ بات غور طلب ہے کہ حال ہی میں کُچھ عناصر یونیورسٹی کے پرامن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جس میں ثقافتی سرگرمیوں کو روکنا اور مختلف طلبا تنظیموں کے عہدے داروں اور کارکُنوں کو ہراساں کرنا شامل ہے۔ گلگت کونسل اور دوسرے طلبہ گروہوں کا کہنا ہے کہ یہ تخریب پسند گروہ مذہبی تنظیموں بالخصوص جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم کا حصہ ہیں اور ان کا مقصد یونیورسٹی کے اندر گُٹھن، یکسانیت اور مُتشدد مذہبی رویوں کو ہوا دینا ہے۔
یونیرسٹی کی نمائندہ اور سرگرم طُلبا تنظیم قا ئدِ اعظم اسٹوڈنٹس فیڈریشن چھ علاقائی کونسلز بشمول پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی، گلگت اور پنجاب پہ مشتمل ہے ۔ گزشتہ کئی سالوں سے اس تنظیم نے طلبا کے بُنیادی مسائل کے حل سے لے کر غیر نصابی سرگرمیوں خصوصی طور پر یوتھ کلچرل پروگرامز (فن فیئرز) اور کلچرل ڈسپلے کے حوالے سے بہت اہم اقدار اور روایات کو فروغ دیاہے۔ جس میں طلبا نہ صرف مختلف ثقافتی سرگرمیوں جیسا کہ موسیقی، روایتی رقص اور طرزِلباس وغیرہ سے لُطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ اُن کے اندر باہمی رواداری اور برداشت جیسے جذبات بھی پروان چڑھتے ہیں۔
یونیورسٹی طلبا کا یہ ٹھوس مطالبہ ہے کہ مدثر کے اغوا کی مکمل تفتیش کر کے ذمہ داروں کو سزا دی جائے اورقبل اس کے کہ ایسا کوئی واقعہ دوبارہ رونما ہو، کسی بھی تخریبی عنصر یا جماعت کو یونیورسٹی میں جڑ پکڑنے سے روکا جائے ۔

(Published in The Laaltain – May 2013)

Categories
خصوصی

‘Civilizing’ Mission: Black Abaya Made Compulsory at Islamia University Bahawalpur

campus-talks
Islamia University Bahawalpur, the only public sector university of Bahawalpur and one of the oldest and largest in Pakistan, has recently made wearing the black abaya compulsory for its female students of MBA department. According to an official notification at the end of March, uniform was made compulsory which included abaya or black gown with black dopatta for female students. According to sources, the head of the respective department took this decision in an instant move after seeing a female student in an inappropriate dress. While head of the department was displeased with the dress of a certain student, other eye witnesses do not think that the dress in question was unusual and inappropriate as such.

Students’ reaction to this administrative move is mixed. Some favor it as a step to promote piety and morality while others see it as an excessive and regressive move to curtail basic freedoms. In any case this step must raise questions about the powers and role of administration. Is administration allowed to enforce dress code on adult students? Given the whimsical nature of the act, will such a precedent not lead to blur the line between what is justified and what is not?
IUB-notification
(Published in The Laaltin – May 2013)

Categories
خصوصی

Social Media Trends

social-media-final-feb

(Published in The Laaltain – April 2013 Issue)

Categories
خصوصی

سنتے ہیں کہ بہاراں ہے

(اسد فاطمی)

Spring-inner

فطرت کے قریب رہنے والے آدمی کی سرشت رہی ہے کہ وہ باہر کے موسم کی خوشگواری یا ناگواری سے سرخوشی یا غمی، سرمستی یا اداسی جیسے جذبے کشید کر کے اپنے اندر کے موسم کو بناتا بگاڑتا رہا ہے۔ موسموں میں بہار کا موسم معلوم تاریخ اور فنون میں اب تک خوشحالی، شادمانی، رقص و کیف، میل ملاپ اور پیداوار کا ایک سکہ بند استعارہ رہا ہے۔ موسم اور فضا کے ساتھ مقابلے سے آدمی نے اس کے پہلو بدلنے کو مشاہدہ کر کے اس کے مرحلوں کی تفریق کی۔ پھر اسی مشاہدے کے تحت ان میں سے مہربان اور نامہربان، دوست اور دشمن موسموں کو الگ کیا۔ کھیتی باڑی کا ہنر دریافت کیا تو فصلوں کے چکر کو پیمانہ بنا کر انہیں ربیع و خریف میں بانٹا۔ ان سے حصولِ رزق کی خوشی اور سنجوگ کی فراغت کے حیلے تراشے۔ مشاہدہ وسیع تر ہوا تو ستاروں کی چال کو پرکھا، اندازہ ہوا کہ موسم کا پھیر محض زمینی واقعہ نہیں بلکہ ایک کائناتی بندوبست ہے کی کڑی ہے۔ یوں وقت کی رَو کو اکائیوں میں بانٹا گیا، اور تقویمیں طے کی گئیں۔ مذاہب آئے تو ان فلکیاتی اور موسمیاتی وقائع کے ساتھ ساتھ روحانی اور تاریخی یادداشتوں کو بھی جوڑا جانے لگ گیا۔ سماج اور فطرت کے تقاضوں سے آگے نکل کر یہ تیوہار جغرافیے اور اقوام کی بجائے مذاہب کے نمائندہ سمجھے جانے لگ گئے۔
قدیم مذاہب میں موسمی تہواروں کا سب سے ذیادہ منظم سلسلہ چار ہزار برس پرانی میسوپٹیمیا اور نینوا کی تہذیب میں ملتا ہے۔بابلیوں اور اشوریوں کے ہاں عشتار زرخیزی، پیداوار، محبت اور تناسل کی دیوی تھی۔
قدیم مذاہب میں موسمی تہواروں کا سب سے ذیادہ منظم سلسلہ چار ہزار برس پرانی میسوپٹیمیا اور نینوا کی تہذیب میں ملتا ہے۔بابلیوں اور اشوریوں کے ہاں عشتار زرخیزی، پیداوار، محبت اور تناسل کی دیوی تھی۔ بہار کی آمد کے موقع پر بابل میں زرخیزی اور سرسبزگی کا ایک عظیم تہوار منایا جاتا جبکہ تھا۔ جبکہ خزاں کے دنوں میں زرخیزی کے روٹھ جانے پر ماتم گساری اور گریہ کے جلوسوں کا اہتمام کیا جاتا تھا۔”اکیتو” بہ معنی گندم کی کٹائی، بیساکھ کا میلہ تھا۔یہ تہوار سال کے آخری ماہ آذار کی اکیسویں تاریخ سے شروع ہو کر نئے سال کے پہلے ماہ نیسان تک منایا جاتا تھا۔ بارہ دنوں کے اس تہوار میں ہر دن کی رسوم الگ تھیں۔اپنے غلے کا کچھ حصہ دیوتاؤں کو چڑھاوا دیا جاتا تھا اور تیامات، اور مردوخ دیوتاکے حضور بابل کی سلامتی اور حفاظت کی مناجات پڑھی جاتی تھیں۔ خوشی اور وصل کے گیت گائے جاتے تھے۔اس عید کو فصلوں اور کوکھ کی بارآوری کے لیے خاص اہمیت دی جاتی تھی اور بخت نصر کے معلق باغات والے برج کے پہلو میں مقدس خلوت خانے قائم تھے جہاں باکرات اپنے آشناؤں کے ساتھ اختلاط کرتی تھیں۔ یہ تہوار کچھ تبدیلیوں کے ساتھ آج بھی شام میں سریانی مذاہب کے لوگ یکم اپریل کو “خابنیساں” کے نام سے مناتے ہیں۔
سامی مذاہب میں سب سے قدیم مذہب یہودیت ہے۔ بابل کے کنعان اور اسرائیل کے ساتھ جغرافیائی اور مذہبی تاریخی قرب کی وجہ سے کیلنڈر سمیت یہودیت کے بیشتر ثقافتی خواص پر بابل کی تہذیب کے اثرات گہرے رہے ہیں۔ آمدِ بہار کو عبرانی کیلنڈر کے پہلے سال نیسان کی پندرہویں تاریخ کو عیدِ فصح/پسح کے نام سے منایا جاتا ہے۔گھر کا سب سے پہلوٹھا بچہ روزہ رکھتا ہے اور اس دن عام دعوتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ نانِ فطیر (خمیری روٹی) اور دیگر روایتی کھانوں کے ساتھ افطار اور تواضع کی جاتی ہے۔ یہودیوں کے مطابق ۳۳۰۰ برس قبل اس دن یہودی قوم نے حضرت موسیٰ کی قیادت میں مصر سے نکل کر فرعون کے ظلم سے نجات پائی تھی۔
یورپ میں عیسائیت کی آمد سے قبل یہاں کے وثنی مذاہب میں اپریل کے آغاز پردیوی ایوسٹر کا تہوارمارچ میں زمین کے فلکیاتی اعتدال کے موقع پر منایا جاتا تھا۔ یورپ میں عیسائیت آئی تو مسیحی تہوار عیدِ فصح یا عیدِ پنتیکوست (عیدِ قیامت المسیح) کو یورپ میں ایسٹر کے نام سے منایا جانے لگا۔ اس دن حضرتِ مسیحؑ کی مصلوبی کے بعد جی اٹھنے کی خوشی میں طرح طرح کی رسوم کے ذریعے خوشی منائی جاتی ہے۔
جزیرہ نمائے عرب میں چونکہ صرف دو موسم پائے جاتے ہیں لہذا بہار و خزاں کے تہوار یہاں ترویج نہیں پا سکے البتہ اجرامِ فلکی میں گہرے مشاہدے کی وجہ سے فلکیاتی وقائع پر تہوار منانے میں عربوں نے بابلیوں سے بہت کچھ سیکھا۔ قبل از اسلام یہاں اجرامِ فلکی نہایت تقدس کے حامل تھے۔ یمن کے علاقہ سباء میں سورج کی پوجا کی جاتی تھی۔ عرب میں سورج نسوانیت جبکہ پہلے چاند کو مردانہ وجاہت اور قوت کا سرچشمہ اور سب سے طاقت ور فلکیاتی ستارہ سمجھا جاتا تھا۔بابلِ قدیم میں مہینے “سوان” کو اگلے ماہ تموذ کا چاند دیکھ کر تموذ دیوتا کی خوشنودی کے لیے روزے رکھے جاتے تھے۔ عرب میں قومِ عکاظ اعتدال کے اس فلکیاتی واقعے کی بزرگداشت میں ماہِ شعبان کو اگلے ماہ کا چاند دیکھ کر پورا ماہ روزے رکھا کرتی تھی۔ ہر سال عکاظ کا سب سے بڑا میلہ مکہ میں کعبہ کے مقام پر ہوتا تھا اور شعراء اپنی شاعری سے حریف شاعروں کو نیچا دکھاتے تھے۔ روزہ بڑھاتے ہوئے ساتھیوں کو ضیافت پر بلایا جاتا اور دودھ اور کھجوروں کے ساتھ کھانا کھایا جاتا۔ ظہورِ اسلام کے بعد اس روایت کو دیوتاؤں کی بجائے اللہ کی خوشنودی کے لیے قائم رکھا گیا۔ اب بھی مسلمان ممالک خاص طور پر عرب دنیا میں رمضان کے تیس روزوں کے بعد عید الفطر کو نہایت جوش خروش کے ساتھ خوشیاں منائی جاتی ہیں۔
جزیرہ نمائے عرب میں چونکہ صرف دو موسم پائے جاتے ہیں لہذا بہار و خزاں کے تہوار یہاں ترویج نہیں پا سکے البتہ اجرامِ فلکی میں گہرے مشاہدے کی وجہ سے فلکیاتی وقائع پر تہوار منانے میں عربوں نے بابلیوں سے بہت کچھ سیکھا۔
سرزمینِ ایران بھی اپنی تاریخ، ثقافت اور جغرافیے میں بے تحاشا رنگ لیے ہوئے ہے۔ یہاں کا جغرافیہ عمومی طور پر ٹھنڈا ہے، سردیوں میں سنگین برف باری ہوتی ہے اور مارچ اپریل میں سورج نکلتا ہے۔ ہر طرف سرخ گلابوں کا قالین بچھ جاتا ہے اور بہار کا استقبال کیا جاتا ہے۔ایرانی کیلنڈر (شمسی) کے پہلے مہینے فروردین کی یکم کو نئے سال اور بہار کا پہلا دن شمار کیا جاتا ہے۔اس تہوار کو ‘نوروز’ کہتے ہیں۔ یہ تہوار نامعلوم صدیوں سے ایران میں منایا جا رہا ہے۔ دیومالا میں دنیا کے پہلے بادشاہ اور پہلے آدمی گیومرد (کیومرث) نے سب سے پہلے یہ دن منایا۔ایران میں اسلام کی آمد، اور زرتشت کی تعلیمات کے عام ہونے سے قبل یہاں پر سورج (مہرِ خورشید) کی پوجا کی جاتی تھی۔ یہاں کے خنک علاقوں میں سورج کی مہربان گرمی کی وجہ سے اسے انسان سے محبت کرنے والا دیوتا سمجھا جاتا اور ان کے ہاں سورج کے لیے برتا جانے والا لفظ ‘مہر’ محبت اور مہربانی کا ہم معنی بن گیا۔بعد ازاں زرتشتی مذہب میں بھی آگ کو محبت اور زندگی کے استعاروں کے طور پر لیا جانے لگا۔ دھوپ کے خوشگوار تھپیڑوں اور کلیاں چٹکنے کے استقبال میں،ہر سال ۲۰ مارچ کے دن ایران، افغانستان، تاجیکستان، ترکی، آرمینیہ، اور گلگت بلتستان وغیرہ میں بہار کے پہلے دن کو نوروز کے نام سے منایا جاتا ہے۔اس قدیم تہوار پر سات مختلف کھانوں کا سفرہ، ہفت سین (سیب، سرکہ، سنجد، سماق، سمنو، سوہان، سیاہ دانہ وغیرہ) سجا کرمہمانوں اور رشتہ داروں کو پیش کیا جاتا ہے۔ انگیٹھیوں میں تازہ آگ جلا کر سینکی جاتی ہے۔ چچا نوروز (عمو نوروز)اس دن سے وابستہ ایک قدیم لوک داستانی کردار ہے۔ اس دن اس کے پٹولے بنا کر بچوں کو اس کی کہانیاں سنائی جاتی ہیں، نوروز کے گیت گائے جاتے ہیں اور دوستوں کو بہار کے مبارکبادی پیغام بھیجے جاتے ہیں۔
برصغیر پاک و ہند کے زرعی علاقوں میں چیت اور بیساکھ خاص پیداواری اور ثقافتی اہمیت کے حامل ہیں۔زرعی علاقوں میں یہاں کی مقامی تقویم (بکرمی کیلنڈر) کا پہلا مہینہ چیت (چیتہ/چیتر) اور دوسرا مہینہ بیساکھ (وِساکھہ/وِساخ/پِساخ)آمدِ بہار، فصلوں کی کٹائی، غلے کی جمع بندی اور سال بھر کی خریداریوں کا مہینہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ پورا برصغیر ان دو مہینوں میں سیکڑوں طرح کے میلوں ٹھیلوں سے آراستہ ہوتا ہے۔ چیت کا مہینہ ہریالی، سر سبزی، سرخوشی اور وصل کا مہینہ سمجھا جاتا ہے۔ اس ماہ کھیتوں پر سرسوں کے پھولوں کی زرد رنگی چادر پھیل جاتی ہے اور لڑکیاں زرد رنگ کے جوڑے پہن کر ان کا خیر مقدم کرتی ہیں۔ تیز خوشگوار ہوا کے تھپیڑے بے طرح رقص کو ابھارتے ہیں اور من چلے نوجوان سازگار ہواؤں میں پتنگ کے پیچ لڑاتے ہیں۔پنجاب کے بیشتر علاقوں میں اسے بسنت کے نام سے منایا جاتا ہے۔ بیساکھ میں فصلیں پک کر تیار ہو جاتی ہیں اور پوری ششماہی کی محنت جیب میں رکھ کر کسان میلوں ٹھیلوں کا رخ کرتے ہیں۔ خریداریاں، کھیل تماشے، رقص و موسیقی اور فصلوں سے فراغت کے سبھی رنگوں اور خوشیوں کو سمیٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اولیاء، بزرگوں، گروؤں اور سنت سادھوؤں کے ہاں چڑھاوے نذر کیے جاتے ہیں۔ بیساکھ کے ان تہواروں کو بیساکھی یا دیگر مقامی ناموں سے منایا جاتا ہے۔ بنگالی تقویم میں بوئساکھ سال کا پہلا مہینہ ہے۔ بنگالی ماہی گیر بھی بوئساکھ کی پہلی کو مختلف میلے منعقد کرتے ہیں۔سندھ اور بھارت میں ہندو سکھ اور دیگر مذاہب کے لوگ مل کر رنگوں کا تہوار مناتے ہیں اور مختلف رنگوں کی پچکاریاں ایک دوسرے کو مار کر ہنستے کھیلتے ہیں۔
برصغیر میں آمدِ بہار کے یہ سبھی مقامی تہوار اتنے ہی پرانے ہیں، جتنی کہ یہاں کی زرعی معیشت۔ آریاؤں کے آنے کے بعد یہاں متعارف ہونے والے موجودہ ہندو مذہب نے ان تہواروں کو بلا کم و کاست اپنے اندر جذب کر لیا۔چند صدیاں قبل یہاں سکھ مت کی بنیاد پڑی تو سکھ گروؤں نے بیساکھی کو خاص مذہبی تقدس سے بہرہ ور کیا۔ ہزار برس قبل جب اسلام یہاں آیا تھا تو جہاں جہاں زرعی معیشت تھی، اولیائے کرام کے عرس کی شکل میں چیت بیساکھ اور دیگر ربیعی و خریفی تہواروں کو ایک انسانی، سماجی اور معاشی ضرورت کے طور پر محفوظ کیا گیا اور ان زرعی و موسمی تہواروں کے مقابلے میں ہندو پاک کے کھیتوں کھلیانوں پر کوئی صحرائی و قمری تقویم بطورِ متبادل نافذ کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔لیکن گزشتہ دو تین دہائیوں کے سیاسی و ثقافتی مخمصوں میں ان میں سے بیشتر سماجی تہوار پاکستانی معاشرے میں پھوٹنے والے حالیہ شناخت کے بحران کی نذر ہوتے جا رہے ہیں۔ ربیع اور خریف کے چکر پر چلنے والی زرعی معیشت چھوڑ کر شہروں میں آ بسنے، یا گاؤں میں رہتے ہوئے ماہانہ معاوضوں کی نوکریاں کرنے والے لوگ اب پریشان ہیں کہ وہ بسنت اور بیساکھی کو چھوڑ کر ہجری یا عیسوی، کس کیلنڈر میں سے بہار کی سرمست ہواؤں پر مل جل کر خوش ہونے کا کوئی بہانہ ڈھونڈیں۔
ہزار برس قبل جب اسلام یہاں آیا تھا تو جہاں جہاں زرعی معیشت تھی، اولیائے کرام کے عرس کی شکل میں چیت بیساکھ اور دیگر ربیعی و خریفی تہواروں کو ایک انسانی، سماجی اور معاشی ضرورت کے طور پر محفوظ کیا گیا
پنجاب کا قلب، لاہور صدیوں سے آغازِ بہار میں رنگارنگ پتنگوں اور پہناووں کی وجہ سے پچھلی دہائی تک دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا ہے۔ لیکن تاریخ کے معاشی اور جغرافیائی شعور سے بے بہرہ پیشواؤں کی تقریروں کی وجہ سے بالآخر سرکاری طور پر اس شہر میں بسنت کے منائے جانے پر پابندی لگا دی گئی۔ دوسری طرف پیچ بازی کے اندھا دھند مقابلوں کی وجہ سے دھاتی ڈور متعارف ہوئی جو تماشائیوں اور راہگیروں کے حلقوم پر موت بن کر پھرنے لگی۔ یہ اہم وجہ بھی کئی ہزاریاں پرانے اس تہوار پر حکومت کو پابندی عاید کرنے کا جواز برابر فراہم کرتی رہی۔
دنیا بھر میں مذہبی اور ثقافتی تہواروں میں کئی رسوم انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنتی رہی ہیں لیکن مقتدر اور رہنما حلقوں نے ان رسوم کو ختم کرنے کی بجائے انہیں محفوظ تر اور انسان دوست بنانے کے لیے قاعدہ بندیاں کیں۔ ہسپانیہ میں گرما کا تہوار “آ بیل مجھے مار” (Running of the bulls) ایک خطرناک تہوار کے طور پر جانا جاتا ہے، پچھلی ایک صدی میں درجن بھر سے زیادہ جانیں لینے کی وجہ سے بیلوں کے سینگ کند کیے جاتے ہیں، کھیل کے قواعد میں نرمی کی گئی ہے اور اس کھیل میں حصہ لینے کے لیے خصوصی ڈپلوما کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے اب یہ ایک بے خطر تفریح کے طور پر دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے توجہ کا مرکز ہے۔چین کا قدیم تہوار یان شوئی راکٹ میلہ آتش بازی کا سالانہ مذہبی موقع ہے۔ آتش زدگی کے خطرات اور گزشتہ تلخ تجربات کی روشنی میں ہوائیوں میں بے ضرر کیمیاوی مواد بھرا جاتا ہے اور قرب و جوار کو آتش زدگی سے محفوظ بنایا جاتا ہے۔ یہ تہوار سرکاری سطح پر بھی منایا جاتا ہے اور ہر سال ماضی سے کہیں زیادہ سیاح اپنی طرف کھینچتا ہے۔بابلِ قدیم میں خزاں کی آمد پر سوگ کا جلوس ہوتا تھا جس میں روتے پیٹتے مرد اپنے اعضائے تولید کاٹ کر زرخیزی کی دیوی عشتار کی بلی دیتے تھے، تاکہ اگلی بہار ان کے لیے زرخیزی لائے۔ اس موقع پر اکثر لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے تھے۔ تہذیبی مورخین کے نزدیک سامی مذاہب یعنی یہودیت، مسیحیت اور اسلام میں ختنہ کی روایت اسی بابلی رسم سے مستعار لی گئی ہے لیکن اس میں زندگی کے ضیاع کا خطرہ ختم کر دیا گیا۔ دنیا بھر کی لوک ثقافتیں ایسی سیکڑوں مثالوں سے بھری پڑی ہیں۔

(Published in The Laaltain – April 2013 Issue)