Categories
نقطۂ نظر

ہولی؛ خوشی اور رنگ کا کوئی مذہب نہیں

ہولی موسم بہار میں منایا جانے والا ہندو مت اور برصغیر کا ایک مقدس مذہبی اور عوامی تہوار ہے۔ یہ پھاگن کے مہینے (مارچ-اپریل) میں چاند کی پندرہویں تاریخ کو منایا جاتا ہے۔اس دن ہندو دھرم کے ماننے والے اور عام لوگ ایک دوسرے پر رنگ پھینک کر محظوظ ہوتے ہیں، گھروں کے آنگن کو رنگوں سے مزین کرتے ہیں اور بہار کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

 

اس دن ہندو دھرم کے ماننے والے اور عام لوگ ایک دوسرے پر رنگ پھینک کر محظوظ ہوتے ہیں، گھروں کے آنگن کو رنگوں سے مزین کرتے ہیں اور بہار کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
اس بار کی ہولی گزشتہ برسوں سے اس لیے بھی مختلف ہے کہ اس بار حکومت وقت نے اسے قومی تہوار قرارد دیا ہے، 68 سال بعد بہرحال یہ کوشش کامیاب ہو ہی گئی۔ لوگوں کی التجا سن ہی لی گئی اور پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں کو پاکستان کے آئین (سماجی معاہدے) کی ایک اور کڑی سے جوڑا گیا۔

 

ویسے تو ہولی پوری دینا میں موسم بہار کی آمد کی نوید کےطور پر منایا جاتا رہا ہے، برصغیر میں یہ مذہبی عقیدت سے اور ایک ثقافتی تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہولی اس خطے کی پیداوار ہے اور یہاں کی ثقافت کا رنگین اظہار بھی۔ ہندو مت کے مورخین نے یہ دلائل بھی دیئے ہیں کہ ہولی کی شروعات ملتان سے ہوئی، اس کے شواہد ملتان کے پرہلاد مندر سے ملتے ہیں جو اس وقت خستہ حالی کی جانکنی میں آخری سانسیں لے رہا ہے۔ اس مندر کی قسمت میں صرف خستگی ہی نہیں لکھی بلکہ عدم توجہی بھی اس کا نصیب ہے۔ یہ پرانا پرہلاد مندر اوقاف والوں نے کچھ نائیوں اور کیٹرنگ والوں کو لیز پر دے دیا ہے۔ جہاں مقامی ثقافت کو حملہ آوروں کی ثقافت کا لبادا اوڑھا کر فخر کیا جائے، جہاں رام باغ کو آرام باغ، امر کوٹ کو عمرکوٹ، لائل پور کو فیصل آباد اور نیروں کوٹ کو حیدرآباد بنا دیا جائے، جہاں امن بزدلی قرار پائےاور ہر حملہ آوروں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جائے ایسے میں بھلا لوگ کس طرح اپنے مذہبی اور ثقافتی تہوار منا سکتے ہیں!

 

پرپلاد مندر کی خستہ حال عمارت
پرپلاد مندر کی خستہ حال عمارت
ہولی پوری دینا کے لیے رنگوں کا تہوار بن چکا ہے، اب ہولی سندھ اور ہند کی سرحدیں پار کر کے امریکہ اور یورپ سے ہوتی ہوئی آسٹریلیا کے گوروں تک پہنچ گئی ہے۔ مختلف کمپنیاں اسے اپنے کارکنان کے ساتھ ایک جشن کے طور پر مناتی ہیں مگر پاکستان میں بسنے والے ہر ہندو اور اپنی ثقافتی تہوار منانے کے خواہاں تمام شہریوں کے لیے یہ تہوار خوف اور دہشت کی علامت بنا دیا گیا ہے۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے میں نے کبھی ہولی خوشی اور آزادی سے نہیں منائی، ہر سال سندھ میں ہولی پر کہیں نہ کہیں توہیں رسالت کے فتوے لگتے رہے ہیں، مندر توڑے گئے ہیں اور لوگوں کی جان لی گئی ہے، شاید ہمارے ہاں کے بنیاد پرست مسلمان رنگوں میں سے صرف خون کا سرخ رنگ ہولی کے لیے پسند کرتے ہیں۔ 2014 میں بھی میرے گاوں کے کچھ بچوں پر توہین رسالت کا الزام لگ چکا ہے اور یہ اس نوعیت کا پہلا اور واحد الزام نہیں۔

 

ہم لوگوں کی جان لینے والوں کی حمایت کرتے ہیں مگر کسی تہوار کو منانے یا خوشیوں میں شریک ہونے سے ہمارے ایمان ڈگمگا جاتے ہیں! جہاں مذاہب امن کا درس دیتے ہیں وہیں انہیں مذاہب کو ماننے والے محض اپنے مفادات کی خاطر مذاہب کی بنیادی تعلیمات کی دھجیاں اڑاتے ہیں۔

 

ہندومت محض کسی مذہب یا عقیدے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک علاقائی پہچان بھی ہےاور ایک ثقافتی تسلسل بھی۔ قدیم ہند میں رہنے والے لوگوں کو ہندو کہا جاتا رہا ہے۔
ہندومت محض کسی مذہب یا عقیدے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک علاقائی پہچان بھی ہےاور ایک ثقافتی تسلسل بھی۔ قدیم ہند میں رہنے والے لوگوں کو ہندو کہا جاتا رہا ہے۔ ہندومت مذہب بھی ہے مگر اسی طرح سے ایک ثقافتی اور علاقائی شناخت بھی ہے جس طرح سندھی، پنجابی، بلوچ اور پختون شناختیں ہیں۔ ہندومت کو اگر زیادہ باریکی سے دیکھا جائے تو یہ ایک تہذیب کا نام بھی ہے جس میں اسلام سے قبل جین مت، بدھ مت، سناتن دھرم اور سکھ مت کے مذہبی عقائد کے لوگ بھی تھے جو تہذیبی، ثقافتی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہی مختلف العقیدہ افراد کے تہذیبی اشتراک کا نتیجہ ثقافتی اظہار کی وہ صورتیں ہیں جو بسنت، ہولی، بیساکھی، دسہرے، شب برات اور عرس کی شکل میں ہمارے سامنے ہیں۔ آج بھی برصغیر کے مختلف لوگوں کے مذہبی عقائد تو مختلف ہیں، مگر ثقافتی اقدار میں یکسانیت موجود ہے۔

 

ہولی کو مذہب کے ساتھ جوڑنا ایک الگ بات ہے مگر جب ہولی کی شروعات ہوئی تو اس وقت ہندوازم صرف مذہبی عقیدہ نہیں تھا بلکہ ایک پوری تہذیب کا حصہ تھا۔ میرا یہ کامل یقین ہے کہ ثقافت بہت بڑی اور پرانی انسانی تشکیل ہے اور مذاہب ان ثفاقتوں کا ایک حصہ ہیں۔ آپ تمام مذاہب کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، مذہب کی تاریخ انسان کی تاریخ سے پرانی نہیں ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے جو بھی تہوار مقدس شخصیات کی بجائے کسی رسم، خوشی غمی اور موسم کی آمد سے منسوب ہیں وہ تہوار اور دن کبھی بھی کسی ایک مذہب کسے متعلق نہیں ہو سکتے۔ اس لیے میری نظر میں ہولی ایک علاقائی اور ثقافتی تہوار ہے، رنگوں سے کھیلنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہندو ہیں اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم خوشیوں کو خوش آمدید کہنا اور خوشی منانا جانتے ہیں۔ اور خوشی اور غم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، خوشی منانا، رقص کرنا، رنگ بھینکنا یا گانا بجانا انسانی ثقافت کے مظہر ہیں اور ان کا تعلق مذہب سے زیادہ انسانی تمدن اور معاشرت سے ہے۔

 

پاکستان معاشرے میں مخصوص مذہبی تنگ نظری سے ہر تہوار کو دیکھنا عام ہے اور ایسے میں ریاستی طور پر ہولی کی چھٹی دینے کی منظوری ایک اچھی پیش رفت ہے، مگر اس کے ساتھ یہ ذہن میں رکھنا بھی ضروری ہے کہ محض تعطیل کا اعلان ہی سب کچھ نہیں بلکہ اپنی ثقافت کو انتہاپسندی کی یلغار سے بچانا بھی ضروری ہے۔

 

پاکستان میں بسنے والی تمام مذہبی اقلیتوں کی طرح ہندو برادری بھی گزشتہ تین دہائیوں سے خوف و ہراس کا شکار ہے۔
پاکستان میں بسنے والی تمام مذہبی اقلیتوں کی طرح ہندو برادری بھی گزشتہ 3 دہائیوں سے خوف و ہراس کا شکار ہے۔ 2015 کی ایک رپورٹ کے مطابق سندھ میں 250 سے زیادہ ہندو لڑکیوں کا مذہب جبری طور پر تبدیل کرایا گیا، 30 سے زائد مندر توڑے گئے، بدین میں بھورو بھیل کی قبر کھود کر اس کی لاش کی بے حرمتی کی گئی، کئی ہندو تاجروں کو تاوان کے لیے اغوا براء کیا گیا، ہولی اور دیگر مذہبی تہوار منانے پر توہین رسالت کے جھوٹے مقدمات درج کیے گئے، اس ڈر کی وجہ سے سندھ کے معتدد ہندو خاندان ہندوستان جانے پر مجبور ہوئے۔ مذہب کے نام پر دھرتی کے لوگوں کو اپنی دھرتی ماں سے بے دخل کر دیا جاتا ہے مگر کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

 

اقلیتوں کے خلاف اس نفرت اور ان سے لاتعلقی کی وجہ نصاب میں پھیلائی گئی مذہبی منافرت بھی ہے۔ نصابی کتابوں میں ہماری تاریخ 712 عیسوی سے کیوں شروع ہوتی ہے، حالانکہ مہرگڑھ، موئن جو دڑو اور وادی سندھ کی تہذیبیں دس سے پانچ ہزار سال پرانی ہیں، ہمیں کیوں بابا بلھے شاہ، بابا فرید، شاہ عبدالطیف بھٹائی اور سچل کی تعلیمات سے دور رکھ کر صرف حملہ آوروں کی تاریخ پڑھائی جاتی رہی ہے اور ان پر فخر کرنا سکھایا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے ہمیں پچھلی 2 دہائیوں سے انتہاپسندی اور دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اتنا کچھ بھگتنے کے بعد اب لوگوں کو سمجھ آ رہا ہے کہ اس خطے میں جو چیز ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتی ہے وہ ثقافت، تہذیب اور یہاں کا تصوف ہے نا کہ مذہب۔

 

مذہب کی بنیاد پر ثقافت کو رد کرنے کی روش اگر ترک کر دی جائے تو امید ہے ہولی ہر زندگی رنگین بنائے گی، خوشیوں کے اظہار کا باعث بنے گی لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ریاست بلا امتیاز تمام شہریوں کو برابری کی بنیاد پر تحفظ فراہم کرے اور ثقافتی سرگرمیوں کی سرپرستی کرے۔

Image: http://razzdazzle.blogspot.com

Categories
خصوصی

سنتے ہیں کہ بہاراں ہے

(اسد فاطمی)

Spring-inner

فطرت کے قریب رہنے والے آدمی کی سرشت رہی ہے کہ وہ باہر کے موسم کی خوشگواری یا ناگواری سے سرخوشی یا غمی، سرمستی یا اداسی جیسے جذبے کشید کر کے اپنے اندر کے موسم کو بناتا بگاڑتا رہا ہے۔ موسموں میں بہار کا موسم معلوم تاریخ اور فنون میں اب تک خوشحالی، شادمانی، رقص و کیف، میل ملاپ اور پیداوار کا ایک سکہ بند استعارہ رہا ہے۔ موسم اور فضا کے ساتھ مقابلے سے آدمی نے اس کے پہلو بدلنے کو مشاہدہ کر کے اس کے مرحلوں کی تفریق کی۔ پھر اسی مشاہدے کے تحت ان میں سے مہربان اور نامہربان، دوست اور دشمن موسموں کو الگ کیا۔ کھیتی باڑی کا ہنر دریافت کیا تو فصلوں کے چکر کو پیمانہ بنا کر انہیں ربیع و خریف میں بانٹا۔ ان سے حصولِ رزق کی خوشی اور سنجوگ کی فراغت کے حیلے تراشے۔ مشاہدہ وسیع تر ہوا تو ستاروں کی چال کو پرکھا، اندازہ ہوا کہ موسم کا پھیر محض زمینی واقعہ نہیں بلکہ ایک کائناتی بندوبست ہے کی کڑی ہے۔ یوں وقت کی رَو کو اکائیوں میں بانٹا گیا، اور تقویمیں طے کی گئیں۔ مذاہب آئے تو ان فلکیاتی اور موسمیاتی وقائع کے ساتھ ساتھ روحانی اور تاریخی یادداشتوں کو بھی جوڑا جانے لگ گیا۔ سماج اور فطرت کے تقاضوں سے آگے نکل کر یہ تیوہار جغرافیے اور اقوام کی بجائے مذاہب کے نمائندہ سمجھے جانے لگ گئے۔
قدیم مذاہب میں موسمی تہواروں کا سب سے ذیادہ منظم سلسلہ چار ہزار برس پرانی میسوپٹیمیا اور نینوا کی تہذیب میں ملتا ہے۔بابلیوں اور اشوریوں کے ہاں عشتار زرخیزی، پیداوار، محبت اور تناسل کی دیوی تھی۔
قدیم مذاہب میں موسمی تہواروں کا سب سے ذیادہ منظم سلسلہ چار ہزار برس پرانی میسوپٹیمیا اور نینوا کی تہذیب میں ملتا ہے۔بابلیوں اور اشوریوں کے ہاں عشتار زرخیزی، پیداوار، محبت اور تناسل کی دیوی تھی۔ بہار کی آمد کے موقع پر بابل میں زرخیزی اور سرسبزگی کا ایک عظیم تہوار منایا جاتا جبکہ تھا۔ جبکہ خزاں کے دنوں میں زرخیزی کے روٹھ جانے پر ماتم گساری اور گریہ کے جلوسوں کا اہتمام کیا جاتا تھا۔”اکیتو” بہ معنی گندم کی کٹائی، بیساکھ کا میلہ تھا۔یہ تہوار سال کے آخری ماہ آذار کی اکیسویں تاریخ سے شروع ہو کر نئے سال کے پہلے ماہ نیسان تک منایا جاتا تھا۔ بارہ دنوں کے اس تہوار میں ہر دن کی رسوم الگ تھیں۔اپنے غلے کا کچھ حصہ دیوتاؤں کو چڑھاوا دیا جاتا تھا اور تیامات، اور مردوخ دیوتاکے حضور بابل کی سلامتی اور حفاظت کی مناجات پڑھی جاتی تھیں۔ خوشی اور وصل کے گیت گائے جاتے تھے۔اس عید کو فصلوں اور کوکھ کی بارآوری کے لیے خاص اہمیت دی جاتی تھی اور بخت نصر کے معلق باغات والے برج کے پہلو میں مقدس خلوت خانے قائم تھے جہاں باکرات اپنے آشناؤں کے ساتھ اختلاط کرتی تھیں۔ یہ تہوار کچھ تبدیلیوں کے ساتھ آج بھی شام میں سریانی مذاہب کے لوگ یکم اپریل کو “خابنیساں” کے نام سے مناتے ہیں۔
سامی مذاہب میں سب سے قدیم مذہب یہودیت ہے۔ بابل کے کنعان اور اسرائیل کے ساتھ جغرافیائی اور مذہبی تاریخی قرب کی وجہ سے کیلنڈر سمیت یہودیت کے بیشتر ثقافتی خواص پر بابل کی تہذیب کے اثرات گہرے رہے ہیں۔ آمدِ بہار کو عبرانی کیلنڈر کے پہلے سال نیسان کی پندرہویں تاریخ کو عیدِ فصح/پسح کے نام سے منایا جاتا ہے۔گھر کا سب سے پہلوٹھا بچہ روزہ رکھتا ہے اور اس دن عام دعوتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ نانِ فطیر (خمیری روٹی) اور دیگر روایتی کھانوں کے ساتھ افطار اور تواضع کی جاتی ہے۔ یہودیوں کے مطابق ۳۳۰۰ برس قبل اس دن یہودی قوم نے حضرت موسیٰ کی قیادت میں مصر سے نکل کر فرعون کے ظلم سے نجات پائی تھی۔
یورپ میں عیسائیت کی آمد سے قبل یہاں کے وثنی مذاہب میں اپریل کے آغاز پردیوی ایوسٹر کا تہوارمارچ میں زمین کے فلکیاتی اعتدال کے موقع پر منایا جاتا تھا۔ یورپ میں عیسائیت آئی تو مسیحی تہوار عیدِ فصح یا عیدِ پنتیکوست (عیدِ قیامت المسیح) کو یورپ میں ایسٹر کے نام سے منایا جانے لگا۔ اس دن حضرتِ مسیحؑ کی مصلوبی کے بعد جی اٹھنے کی خوشی میں طرح طرح کی رسوم کے ذریعے خوشی منائی جاتی ہے۔
جزیرہ نمائے عرب میں چونکہ صرف دو موسم پائے جاتے ہیں لہذا بہار و خزاں کے تہوار یہاں ترویج نہیں پا سکے البتہ اجرامِ فلکی میں گہرے مشاہدے کی وجہ سے فلکیاتی وقائع پر تہوار منانے میں عربوں نے بابلیوں سے بہت کچھ سیکھا۔ قبل از اسلام یہاں اجرامِ فلکی نہایت تقدس کے حامل تھے۔ یمن کے علاقہ سباء میں سورج کی پوجا کی جاتی تھی۔ عرب میں سورج نسوانیت جبکہ پہلے چاند کو مردانہ وجاہت اور قوت کا سرچشمہ اور سب سے طاقت ور فلکیاتی ستارہ سمجھا جاتا تھا۔بابلِ قدیم میں مہینے “سوان” کو اگلے ماہ تموذ کا چاند دیکھ کر تموذ دیوتا کی خوشنودی کے لیے روزے رکھے جاتے تھے۔ عرب میں قومِ عکاظ اعتدال کے اس فلکیاتی واقعے کی بزرگداشت میں ماہِ شعبان کو اگلے ماہ کا چاند دیکھ کر پورا ماہ روزے رکھا کرتی تھی۔ ہر سال عکاظ کا سب سے بڑا میلہ مکہ میں کعبہ کے مقام پر ہوتا تھا اور شعراء اپنی شاعری سے حریف شاعروں کو نیچا دکھاتے تھے۔ روزہ بڑھاتے ہوئے ساتھیوں کو ضیافت پر بلایا جاتا اور دودھ اور کھجوروں کے ساتھ کھانا کھایا جاتا۔ ظہورِ اسلام کے بعد اس روایت کو دیوتاؤں کی بجائے اللہ کی خوشنودی کے لیے قائم رکھا گیا۔ اب بھی مسلمان ممالک خاص طور پر عرب دنیا میں رمضان کے تیس روزوں کے بعد عید الفطر کو نہایت جوش خروش کے ساتھ خوشیاں منائی جاتی ہیں۔
جزیرہ نمائے عرب میں چونکہ صرف دو موسم پائے جاتے ہیں لہذا بہار و خزاں کے تہوار یہاں ترویج نہیں پا سکے البتہ اجرامِ فلکی میں گہرے مشاہدے کی وجہ سے فلکیاتی وقائع پر تہوار منانے میں عربوں نے بابلیوں سے بہت کچھ سیکھا۔
سرزمینِ ایران بھی اپنی تاریخ، ثقافت اور جغرافیے میں بے تحاشا رنگ لیے ہوئے ہے۔ یہاں کا جغرافیہ عمومی طور پر ٹھنڈا ہے، سردیوں میں سنگین برف باری ہوتی ہے اور مارچ اپریل میں سورج نکلتا ہے۔ ہر طرف سرخ گلابوں کا قالین بچھ جاتا ہے اور بہار کا استقبال کیا جاتا ہے۔ایرانی کیلنڈر (شمسی) کے پہلے مہینے فروردین کی یکم کو نئے سال اور بہار کا پہلا دن شمار کیا جاتا ہے۔اس تہوار کو ‘نوروز’ کہتے ہیں۔ یہ تہوار نامعلوم صدیوں سے ایران میں منایا جا رہا ہے۔ دیومالا میں دنیا کے پہلے بادشاہ اور پہلے آدمی گیومرد (کیومرث) نے سب سے پہلے یہ دن منایا۔ایران میں اسلام کی آمد، اور زرتشت کی تعلیمات کے عام ہونے سے قبل یہاں پر سورج (مہرِ خورشید) کی پوجا کی جاتی تھی۔ یہاں کے خنک علاقوں میں سورج کی مہربان گرمی کی وجہ سے اسے انسان سے محبت کرنے والا دیوتا سمجھا جاتا اور ان کے ہاں سورج کے لیے برتا جانے والا لفظ ‘مہر’ محبت اور مہربانی کا ہم معنی بن گیا۔بعد ازاں زرتشتی مذہب میں بھی آگ کو محبت اور زندگی کے استعاروں کے طور پر لیا جانے لگا۔ دھوپ کے خوشگوار تھپیڑوں اور کلیاں چٹکنے کے استقبال میں،ہر سال ۲۰ مارچ کے دن ایران، افغانستان، تاجیکستان، ترکی، آرمینیہ، اور گلگت بلتستان وغیرہ میں بہار کے پہلے دن کو نوروز کے نام سے منایا جاتا ہے۔اس قدیم تہوار پر سات مختلف کھانوں کا سفرہ، ہفت سین (سیب، سرکہ، سنجد، سماق، سمنو، سوہان، سیاہ دانہ وغیرہ) سجا کرمہمانوں اور رشتہ داروں کو پیش کیا جاتا ہے۔ انگیٹھیوں میں تازہ آگ جلا کر سینکی جاتی ہے۔ چچا نوروز (عمو نوروز)اس دن سے وابستہ ایک قدیم لوک داستانی کردار ہے۔ اس دن اس کے پٹولے بنا کر بچوں کو اس کی کہانیاں سنائی جاتی ہیں، نوروز کے گیت گائے جاتے ہیں اور دوستوں کو بہار کے مبارکبادی پیغام بھیجے جاتے ہیں۔
برصغیر پاک و ہند کے زرعی علاقوں میں چیت اور بیساکھ خاص پیداواری اور ثقافتی اہمیت کے حامل ہیں۔زرعی علاقوں میں یہاں کی مقامی تقویم (بکرمی کیلنڈر) کا پہلا مہینہ چیت (چیتہ/چیتر) اور دوسرا مہینہ بیساکھ (وِساکھہ/وِساخ/پِساخ)آمدِ بہار، فصلوں کی کٹائی، غلے کی جمع بندی اور سال بھر کی خریداریوں کا مہینہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ پورا برصغیر ان دو مہینوں میں سیکڑوں طرح کے میلوں ٹھیلوں سے آراستہ ہوتا ہے۔ چیت کا مہینہ ہریالی، سر سبزی، سرخوشی اور وصل کا مہینہ سمجھا جاتا ہے۔ اس ماہ کھیتوں پر سرسوں کے پھولوں کی زرد رنگی چادر پھیل جاتی ہے اور لڑکیاں زرد رنگ کے جوڑے پہن کر ان کا خیر مقدم کرتی ہیں۔ تیز خوشگوار ہوا کے تھپیڑے بے طرح رقص کو ابھارتے ہیں اور من چلے نوجوان سازگار ہواؤں میں پتنگ کے پیچ لڑاتے ہیں۔پنجاب کے بیشتر علاقوں میں اسے بسنت کے نام سے منایا جاتا ہے۔ بیساکھ میں فصلیں پک کر تیار ہو جاتی ہیں اور پوری ششماہی کی محنت جیب میں رکھ کر کسان میلوں ٹھیلوں کا رخ کرتے ہیں۔ خریداریاں، کھیل تماشے، رقص و موسیقی اور فصلوں سے فراغت کے سبھی رنگوں اور خوشیوں کو سمیٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اولیاء، بزرگوں، گروؤں اور سنت سادھوؤں کے ہاں چڑھاوے نذر کیے جاتے ہیں۔ بیساکھ کے ان تہواروں کو بیساکھی یا دیگر مقامی ناموں سے منایا جاتا ہے۔ بنگالی تقویم میں بوئساکھ سال کا پہلا مہینہ ہے۔ بنگالی ماہی گیر بھی بوئساکھ کی پہلی کو مختلف میلے منعقد کرتے ہیں۔سندھ اور بھارت میں ہندو سکھ اور دیگر مذاہب کے لوگ مل کر رنگوں کا تہوار مناتے ہیں اور مختلف رنگوں کی پچکاریاں ایک دوسرے کو مار کر ہنستے کھیلتے ہیں۔
برصغیر میں آمدِ بہار کے یہ سبھی مقامی تہوار اتنے ہی پرانے ہیں، جتنی کہ یہاں کی زرعی معیشت۔ آریاؤں کے آنے کے بعد یہاں متعارف ہونے والے موجودہ ہندو مذہب نے ان تہواروں کو بلا کم و کاست اپنے اندر جذب کر لیا۔چند صدیاں قبل یہاں سکھ مت کی بنیاد پڑی تو سکھ گروؤں نے بیساکھی کو خاص مذہبی تقدس سے بہرہ ور کیا۔ ہزار برس قبل جب اسلام یہاں آیا تھا تو جہاں جہاں زرعی معیشت تھی، اولیائے کرام کے عرس کی شکل میں چیت بیساکھ اور دیگر ربیعی و خریفی تہواروں کو ایک انسانی، سماجی اور معاشی ضرورت کے طور پر محفوظ کیا گیا اور ان زرعی و موسمی تہواروں کے مقابلے میں ہندو پاک کے کھیتوں کھلیانوں پر کوئی صحرائی و قمری تقویم بطورِ متبادل نافذ کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔لیکن گزشتہ دو تین دہائیوں کے سیاسی و ثقافتی مخمصوں میں ان میں سے بیشتر سماجی تہوار پاکستانی معاشرے میں پھوٹنے والے حالیہ شناخت کے بحران کی نذر ہوتے جا رہے ہیں۔ ربیع اور خریف کے چکر پر چلنے والی زرعی معیشت چھوڑ کر شہروں میں آ بسنے، یا گاؤں میں رہتے ہوئے ماہانہ معاوضوں کی نوکریاں کرنے والے لوگ اب پریشان ہیں کہ وہ بسنت اور بیساکھی کو چھوڑ کر ہجری یا عیسوی، کس کیلنڈر میں سے بہار کی سرمست ہواؤں پر مل جل کر خوش ہونے کا کوئی بہانہ ڈھونڈیں۔
ہزار برس قبل جب اسلام یہاں آیا تھا تو جہاں جہاں زرعی معیشت تھی، اولیائے کرام کے عرس کی شکل میں چیت بیساکھ اور دیگر ربیعی و خریفی تہواروں کو ایک انسانی، سماجی اور معاشی ضرورت کے طور پر محفوظ کیا گیا
پنجاب کا قلب، لاہور صدیوں سے آغازِ بہار میں رنگارنگ پتنگوں اور پہناووں کی وجہ سے پچھلی دہائی تک دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا ہے۔ لیکن تاریخ کے معاشی اور جغرافیائی شعور سے بے بہرہ پیشواؤں کی تقریروں کی وجہ سے بالآخر سرکاری طور پر اس شہر میں بسنت کے منائے جانے پر پابندی لگا دی گئی۔ دوسری طرف پیچ بازی کے اندھا دھند مقابلوں کی وجہ سے دھاتی ڈور متعارف ہوئی جو تماشائیوں اور راہگیروں کے حلقوم پر موت بن کر پھرنے لگی۔ یہ اہم وجہ بھی کئی ہزاریاں پرانے اس تہوار پر حکومت کو پابندی عاید کرنے کا جواز برابر فراہم کرتی رہی۔
دنیا بھر میں مذہبی اور ثقافتی تہواروں میں کئی رسوم انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنتی رہی ہیں لیکن مقتدر اور رہنما حلقوں نے ان رسوم کو ختم کرنے کی بجائے انہیں محفوظ تر اور انسان دوست بنانے کے لیے قاعدہ بندیاں کیں۔ ہسپانیہ میں گرما کا تہوار “آ بیل مجھے مار” (Running of the bulls) ایک خطرناک تہوار کے طور پر جانا جاتا ہے، پچھلی ایک صدی میں درجن بھر سے زیادہ جانیں لینے کی وجہ سے بیلوں کے سینگ کند کیے جاتے ہیں، کھیل کے قواعد میں نرمی کی گئی ہے اور اس کھیل میں حصہ لینے کے لیے خصوصی ڈپلوما کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے اب یہ ایک بے خطر تفریح کے طور پر دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے توجہ کا مرکز ہے۔چین کا قدیم تہوار یان شوئی راکٹ میلہ آتش بازی کا سالانہ مذہبی موقع ہے۔ آتش زدگی کے خطرات اور گزشتہ تلخ تجربات کی روشنی میں ہوائیوں میں بے ضرر کیمیاوی مواد بھرا جاتا ہے اور قرب و جوار کو آتش زدگی سے محفوظ بنایا جاتا ہے۔ یہ تہوار سرکاری سطح پر بھی منایا جاتا ہے اور ہر سال ماضی سے کہیں زیادہ سیاح اپنی طرف کھینچتا ہے۔بابلِ قدیم میں خزاں کی آمد پر سوگ کا جلوس ہوتا تھا جس میں روتے پیٹتے مرد اپنے اعضائے تولید کاٹ کر زرخیزی کی دیوی عشتار کی بلی دیتے تھے، تاکہ اگلی بہار ان کے لیے زرخیزی لائے۔ اس موقع پر اکثر لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے تھے۔ تہذیبی مورخین کے نزدیک سامی مذاہب یعنی یہودیت، مسیحیت اور اسلام میں ختنہ کی روایت اسی بابلی رسم سے مستعار لی گئی ہے لیکن اس میں زندگی کے ضیاع کا خطرہ ختم کر دیا گیا۔ دنیا بھر کی لوک ثقافتیں ایسی سیکڑوں مثالوں سے بھری پڑی ہیں۔

(Published in The Laaltain – April 2013 Issue)