Categories
شاعری

ٹہنیوں کے ہاتھ (کلام: ثروت حسین، انتخاب: عدنان بشیر)

ثروت حسین ادبی دنیا کا وہ نام ہے جسے پچھلی تین دہائیوں میں بے انتہا محبوبیت نصیب ہوئی ہے۔ ان کا غیر مدون کلام جو ان کے کسی مجموعے میں نہیں عدنان بشیر نے تحقیق و تدوین کے مراحل سے گزار کر اکٹھا کیا ہے۔ ‘فاتح کا گیت’ کے عنوان سے یہ مجموعہ بہت جلد کولاج پبلی کیشنز لاہور سے شائع کیا جائے گا۔
آپ میں سے جو دوست ایڈوانس بکنگ کرانا چاہیں وہ رابطہ کر سکتے ہیں
03214036980
کولاج، لاہور حماد نیازی
(تعارف اور انتخاب: عدنان بشیر)

 اس مجموعہ کلام کا کچھ حصہ لالٹین قارئین کے لیے پیش کرنے کی اجازت دینے پر ہم محترم عدنان بشیر کے شکر گزار ہیں۔

[divider]ثروت حسین(9 نومبر 1949ء تا 9 ستمبر 1996ء)[/divider]

ساٹھ کی دہائی کے آخری برسوں میں جب ثروت حسین کی ادبی زندگی کا آغاز ہوا تو کراچی کی ہنگامہ خیز ادبی دنیا میں سلیم احمد اور قمر جمیل کی محفلیں عروج پر تھیں اور نثری نظم کی تحریک نے سرحد کے دونوں طرف ایک ہنگامہ برپا کیا ہواتھا۔کالج کی طرف سےبین الکلیاتی مقابلوں میں متعدد انعامات حاصل کرنے والے ثروت حسین نے جامعہ کراچی سے ایم۔اے اردو (1971ءتا 1973ء)کیا۔ تب جامعہ کراچی میں پروین شاکر، ایوب خاور، صغیر ملال، عذرا عباس، انور سن رائے اور اقبال فریدی بھی زیرِ تعلیم تھے اور جامعہ کراچی سے باہراحمد ہمیش، رئیس فروغ، احمد جاوید، افضال احمد سید،سید ساجد، شوکت عابد اور سارہ شگفتہ ان کے حلقہ احباب میں شامل تھے جن کے ساتھ پاکستان ریڈیو کراچی کے مشاعروں میں شرکت کا دل چسپ احوال پروین شاکر نے بھی ” آثار” اسلام آباد میں اپنی آپ بیتی میں کیا۔یہ نوجوان شعرا نثری نظم کی تحریک کے ہراول دستے میں شامل تھے۔ثروت حسین کا کلام فنون، سویرا، شب خون، افکار، آج، پہچان، دنیا زاد، تحریر، روایت اور دیگر اہم ادبی رسائل میں ستر اور اسی کی دہائی میں شائع ہو کر سرحد کے دونوں طرف اپنے مقلدین ومتاثرین کی ایک بڑی تعداد بنا چکا تھا۔
؎ موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروت
لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خود کشی کے بارے میں

موت کی اس کشش نے ثروت کو کئی بار اپنی طرف کھینچا، کبھی پانی کے ذریعے، کبھی ریل سے ٹکراتے ہوئے اور کبھی رگوں کو کاٹ کھانے والی ادویات کے ساتھ۔ آگ اور لوہے کے دیو یعنی ریل کا مقابلہ کرنے کرتے ہوئے ستمبر 1993ء میں وہ اپنے دونوں پاؤں سے محروم ہو چکے تھے لیکن تین برس بعد ستمبر 1996ء میں وہ دوبارہ اس سے ٹکرائے تو جانبر نہ ہو سکے۔شاعری کی طرح ان کی خودکشی نے بھی ادبی دنیا میں دور رس اثرات ڈالے۔ذیشان ساحل، عتیق جیلانی، سعید الدین، شوکت عابد، عامر سہیل،ادریس بابر،کاشف مجید،فیصل ہاشمی،دانیال طریر،شمشیر حیدر، سلمان ثروت، احمد جہاں گیر،علی زریون،رحمان فارس،حماد نیازی، تہذیب حافی،عرفان شہود، شاہد بلال،مشتاق احمد،سانی سید،ضیا مذکور،توقیررضا، مدثر عباس، محمد علی منظر، امیر حسین اور راقم کے علاوہ دیگر بہت سے شعرا نے ثروت حسین اور ن کی خودکشی پر بہت سی نظمیں اور اشعار لکھے۔(ثروت حسین پر لکھے گئے کلام کو یکجا کرنے کی ایک کوشش” دوستی کا ہاتھ” زیرِ تکمیل ہے)

اک دوپہر بہار تھی پٹری پہ ریل کی
انجن نے آ کے پھول ہمارے کچل دیے
سوئے ہوئے تھے گھاس میں تارے کچل دیے
تتلی کے پر، دلوں کے کنارے کچل دیے
ایسا لگا کہ گیت بھی سارے کچل دیے
لیکن کسی کو چیخ سنائی نہ دے سکی
تصویر زندگی کی دکھائی نہ دے سکی
سبزے سے پھول خاک کی آغوش میں گیا
پانی کا شور وادئ خاموش میں گیا
ٹکڑوں میں خواب ہم سے سجایا نہ جا سکا
گلدستۂ بہار بچایا نہ جا سکا
(ذی شان ساحل)

اردو ادب میں خودکشی کی روایت کا سراغ انیسویں صدی سے ملتا ہےجب 25 اپریل 1886ء کو رونق بنارسی نے اپنے ہی لکھے ہوئے ڈرامے “عاشق کا خون” میں اداکاری کرتے ہوئے سٹیج پر ہی اپنے گلے پہ استرا پھیرلیا۔شکیب جلالی، سارہ شگفتہ،ساغر دہلوی، شبیر شاہد،مقبول تنویر، احسن فارقلیط، آنس معین، قمر بشیر احمد،زوار فاطمی اور اسامہ جمشید کے نام بھی بدقسمتی سےثروت حسین کے ساتھ اسی فہرست میں شامل ہیں۔
؎ شکیب و ثروت و سارا و آنس و عدنان
جو دیوِ آہن و آتش سے جنگ جیت گئے

ثروت حسین کی پہلی کتاب “آدھے سیارے پر ” قوسین لاہور سے 1987ء میں ان کی زندگی میں ہی شائع ہونے والی واحد کتاب ہے۔ان کی موت کے ایک سال بعد خود ان کی طرف سے ترتیب دی گئی دوسری کتاب”خاکدان” دوست پبلی کیشنز اسلام آباد سے 1997ء میں شائع ہوئی۔”ایک کٹورا پانی کا” دوست پبلی کیشنز اسلام آباد سے 2012ء میں اور “کلیاتِ ثروت حسین ” آج پبلی کیشنز کراچی سے 2015ءمیں شائع ہوئی۔

ثروت حسین اپنا کلام پاک و ہند کے رسائل میں تواتر سے بھیجتے رہتے تھے۔ان رسائل میں بہت سا کلام ایسا ملا جو کلیات میں شامل نہ ہو سکا تھا۔ستر کے قریب یہ تخلیقات کولاج پبلی کیشنز لاہور سے ” فاتح کا گیت” کے عنوان تلے کتابی صورت میں سامنے آ رہی ہیں۔ان تخلیقات میں غزلیں، نظمیں، حکایتیں، بچوں کے لیے نظمیں، دو خاکے اور ایک ناول کا خاکہ شامل ہیں۔کلام کے بعد فہرست کے نمبر شمار کے مطابق تمام تخلیقات کے حوالہ جات اور ماخذ کو بھی کتاب میں شامل کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی کلام کے استناد پر اٹھنے والے سوال کا جواب موجود ہو۔

کسی ادیب کے کیے ہوئے کام کو یکجا کرتے ہوئے ملنے والے تمام آثار کو یکجا کر دینا ہی اصل مقصد ہوتا ہے۔ ان میں شاعر، ادیب کے طرزِ احساس سے یکسر مختلف تخلیقات بھی شامل ہو سکتی ہیں لیکن ثروت حسین کے غلام حسین ساجد کو لکھے گئے خط کے ایک اقتباس کے مطابق اسے شاعر انہ کل کا ایک جزو ہی جان لینا چاہیے۔

“زندگی کے ہزار رنگ ہیں اور ہزار ذائقے، کہیں آمیز اور کہیں الگ الگ۔ اور پھر یہ مختلف رنگ اور ذائقے سب کے لیے یکساں کشش نہیں رکھتے۔۔۔کیا ہم صرف پھولوں اور پتیوں کو درخت کہہ سکتے ہیں، کھردری چھال، ٹہنیاں، کانٹے اور بد ہئیت جڑیں اور برگ و بار یہ سب مل کر ایک کُل بناتے ہیں۔ سو تم ان غزلوں کو میرے شاعرانہ کُل کا ایک جزو جانو، پھول نہ سہی، ٹہنیوں کے پر خراش ہاتھ سہی۔”(ثروت حسین)

نگار خانے میں بیل
نگار خانے میں بیل ہے اور سورماؤں کے پاؤں پتھر کے ہوگئے ہیں
کوئی نہیں ہے
کوئی نہیں ہے جو رنگ و الواح کی صدا پر مبارزت کا چراغ لے کر ہوا میں نکلے
ہوا میں نکلے کہ رات گہری ہے بیل بپھرا ہوا ہے
اطراف کی صفوں کو پیوندِ خاک کرتا گزر رہا ہے
تمام آئینے، موقلم، رنگ کے پیالے
جو آج سینگو ں کی نوک پر ہیں
دعا تھے، آواز تھے،بدن تھے
مگر یہ کرچیں
مگر یہ کرچیں جو میری آنکھوں میں،میرے ہاتھوں میں
۔ ۔ ۔ میرے تلووں میں چبھ رہی ہیں
حروف و اشکال کے جہنم گواہ رہنا
گواہ رہنا کہ کس کے نیزے کی نوک چمکی تھی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کس کے سینے کی ڈھال دیوار بن گئی تھی
٭٭٭

[divider]وہ تین تھے[/divider]

وہ تین تھے
۔ ۔ ۔ اور صبح ہو رہی تھی
وہ تین تھے
۔ ۔ ۔ اور عدالت کی سیڑھیوں پر صبح ہو رہی تھی
وہ تین تھے
۔ ۔ ۔ اور ان کے پیر ننگے تھے
وہ تین تھے
۔ ۔ ۔ اور لوگ گزر رہے تھے
مذہب‘ سیاست اور گھریلوقضیے
عورت کی چوٹیاں
صبر اور انتقام سے گندھی ہوئیں
بچہ عورت کو دیکھ رہاتھا
عورت اپنے مرد کو
مرد کی آنکھیں عدالت کے دروازے پر
وہ تین تھے
۔ ۔ ۔ اور دوپہربیچ عدالت کی عمارت خالی ہو رہی تھی
مجسمے سیڑھیوں پر رکھے تھے
وہ تین تھے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور عدالت کی سیڑھیوں سے رات اتر رہی تھی
٭٭٭

[divider]بچپن[/divider]

جنوب کے ساحلی علاقوں میں دور بچپن کی تاب ناکی
کے ریت ذرے دمک رہے ہیں، ہزار ہا خوش گوار یادیں
ہمارا دامان کھینچتی ہیں، سفید اور ملگجے پرندے
جھلک دکھا کر فضا میں روپوش ہو گئے ہیں، زمیں کے اوپر
وہ بیر شہتوت کے جزیرے، گیاہ سر سبز جیسے پانی
کہ پھوار بن کر برس رہی ہے اوائلِ عمر کی کہانی

[divider]دوپہر[/divider]

تیز جھکڑ میں ہلتی ہوئی جھاڑیوں پر
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سپاہی کے ملبوس کی دھجیاں
اور سفر۔۔۔دھوپ دیوار ہے
۔ ۔ ۔ ناخنوں سے کھرچتے ہوئے بیت جانے میں لذت نہیں
بارشیں، ٹہنیاں، پھول، بادل، پرندے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہرے کوس، چٹیل
پون چکیوں کے پروں پر ابھرتے، بگڑتے مناظر کے اس پار
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ندی کے پھیلاؤ میں کشتیاں ریت ہیں

اگر کسی روز۔۔۔

اگر کسی روز یہ سمندر
ہماری بستی پہ پاﺅں رکھ دے
تو کاٹھ گودام اور گلیاں
عدالتیں اور دھوپ گھڑیاں
سپاس ناموں، معاہدوں سے بنے ہوئے یہ تمام منظر
ہمارے جسموں پہ آر ہیں گے

[divider]بھکشا پارتر[/divider]

اب سیارے پر شام ہوئی
سورج کے پروں کی چھایا ہے
اک ان دیکھی تنہائی نے
پوجا کا اگر سلگایا ہے
اے دیوی تیری چوکھٹ پر
یہ کون مسافر آیا ہے

میں بادل ہوں میں سایا ہوں
اور تیرے در پر آیا ہوں
اے دیوی آن کے دیکھ ذرا
یہ بھکشا پاتر خالی ہے
اور نگر نگر دیوالی ہے
٭٭٭

[divider]وائی[/divider]

۔ ۔ ۔ آیا ہوں لاڑ سے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھ مجھے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھ مجھے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ منہدی کی باڑ سے
۔ ۔ ۔ ہاتھوں سے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گر پڑی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سورج کی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پنکھڑی
دیکھ مجھے! ۔ ۔ ۔ دیکھ مجھے!!
ظ۔ ۔ ۔ تیشوں سے
ظ۔ ۔ ۔ کٹ جائیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رستے سے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہٹ جائیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دن یہ پہاڑ سے
دیکھ مجھے!دیکھ مجھے !!
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ منہدی کی باڑ سے

[divider]حکایت[/divider]

میرے پاس دو ہاتھ ہیں لیکن چیزیں جو میرے ہاتھ میں ہیں وہ چار ہیں: قلم، جس سے میں شاعری لکھتا ہوں، تیشہ جس سے میں پہاڑ کاٹتا ہوں، چپو جس سے میں سمندر کاٹتا ہوں اور یہ آخری چیز تلوار میرے حکمران ہونے کی دلیل ہے اور جو حکمران ہے اسے ہی زیب دیتا ہے خوش پوشاک ہونا اور کہنا کہ تم نے اتنی دیر کہاں لگادی اور جو ملاح ہے وہ چاہتا ہے سمندر کی طرف جانا جہاں ایک جل پری مونگے کی چٹان پر بیٹھی اس کا انتظار کر رہی ہے۔ مرجان کا ایک پنکھا اس کے ہاتھ میں ہے اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہیں۔ جس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہیں وہ انتظار کر سکتی ہے یہاں تک کہ ملاح آئے اور اس کا نصف بدن جو مچھلی کا ہے عورت میں بدل جائے اور جو تیشہ بدست ہے وہ زمین ایک روزن بنانا چاہتا ہے، روزن جس سے وہ دیکھ سکے۔ پاتال کو اور اس کے خزانوں کو اور کھینچ سکے خوشیاں جو زمین کی تہہ میں اس کے لیے رکھ دی گئی ہیں اور جو شاعر ہے وہ کچھ نہیں چاہتا سوائے ایک سفید کاغذ کے جو ایک ازلی انتظار ہے اور انتظار تو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ خدا ہے اور خدا وہ ہے جو انسانوں کے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں موجزن ہے اور جو موجزن ہے اسے سمندر تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

٭٭٭

[divider]متفرقات[/divider]

اے جنگل! ان گلیوں، ان بازاروں کو
چھوڑ آئے ہیں تیرے ایک اشارے پر
بہنے والی کشتی کو معلوم نہیں
دو آنکھیں جلتی ہیں دور کنارے پر
٭٭٭
بہتے بادل کیسے دیکھیں کیسے جانیں
جلتی دیواروں کا باطن، گزر گیا دن
خوابوں کی آواز پہ جھاگ اڑاتے جائیں
شام سبھا میں سب کچھ ممکن گزر گیا دن
٭٭٭
باغوں چراغوں میں جلتا ہے کون
گیتوں کی گلیوں میں چلتا ہے کون
جلتی ہوئی مشعلوں سے پرے
سبز آئنوں میں پگھلتا ہے کون
٭٭٭

مفتوح ستارے مٹی میں
جیتا ہوا لشکر آگ میں ہے
میں اپنے گماں میں زندہ ہوں
وہ اپنی میسر آگ میں ہے
کیا بیس برس، کیا تیس برس
اک شخص برابر آگ میں ہے
٭٭٭
دیکھ یہ دن پھر نہیں چڑھے گا، ایسی شام نہیں ہوگی
اے مری دوست، مری محبوبہ جاگیروں سے باہر آ
گرم زمیں پر سایہ کرنا مذہب گھنے درختوں کا
اے مرے شاعر، اے مرے ساتھی تحریروں سے باہر آ
٭٭٭
تم کہاں اس کنجِ آزار میں کھوئی ہوئی ہو
تم کو تو میرے بچے کی ماں ہونا تھا
آئینے کو سبز کیا میری آنکھوں نے
مجھ سے ہی یہ کارِ شیشہ گراں ہونا تھا
٭٭٭
دوری ہے بس ایک فیصلے کی
پتوار چنوں کہ پر بناؤں
بہتی ہوئی آگ سے پرندہ
بانہوں میں سمیٹ کر بناؤں
٭٭٭
زندہ رکھتا ہوں اپنے ساتھ اسے
اپنے دشمن کو تھام رکھتا ہوں
آگ ہوں اور اس اندھیرے میں
آئنے سے کلام رکھتا ہوں
٭٭٭
شبِ ستارہ و ساحل کو خیر باد کہو
کہ اس سے پہلے سمندر نے یوں بلایا نہ تھا
٭٭٭
کوئی صورت نئی دیکھوں تو یہ وحشت کم ہو
تیری کھینچی ہوئی دیوار میں در چاہتا ہوں

مجھ سے ناراض بہت ہیں یہ خدایانِ زمیں
جرم اتنا ہے کہ حصے کو ثمر چاہتا ہوں
٭٭٭
یا آئینہ جھوٹ کہہ رہا ہے
یا میں ہی عجیب ہو گیا ہوں
چاہت میں کسی کرن کی ثروت
سورج سے قریب ہو گیا ہوں
٭٭٭
لہلہاتی خواہشوں کے رنگ دھیمے پڑ گئے
بادلوں کے شور سے دیوار ہی کالی نہیں
کچھ تو ہم بھی جھومتے رہتے ہیں ان کے دھیان میں
اور کچھ وہ لڑکیاں بھی بھولنے والی نہیں
٭٭٭
یہ موج موج تلاطم، یہ شورِ ہم نفساں
اب اس ہجوم میں کیا ہم سا کم سخن اُترے
٭٭٭
اُس دستِ ناز پر کبھی بیعت نہ کر سکے
اپنے سوا کسی سے محبت نہ کر سکے
ہفت آسمان سیر کیے اور کنجِ دل
اک حرف تھا کہ جس کو حکایت نہ کر سکے
٭٭٭
زوالِ زردمیں رہتا ہوں اور سوچتا ہوں
یہ میرے چار طرف عہدِ ابتلا کیا ہے
٭٭٭
ہم اس کو بھول گئے تھے کہ ناگہاں کل پھر
ہوئی جو شام تو یاد آ گیا وہ کاجل پھر
٭٭٭
جہانِ تیرگی میں شاعری کا نام لیتا ہوں
یہ میری روشنی ہے روشنی سے کام لیتا ہوں
٭٭٭

ردائے سقفِ آسماں بچھانے والے ہاتھ نے
کہیں کہیں پہ روزنِ دعا رکھاہے کس لیے
٭٭٭
زمین بیٹھتی جاتی ہے اور اک حصہ
جہاں پہ پاؤں ہیں میرے وہاں سے اونچا ہے
٭٭٭
اگرچہ سر پہ کڑی دھوپ تھی مگر ثروت
کسی کے قرب کا سایہ بہت گھنیرا تھا
٭٭٭
میری ادائیں وہی اور وہی دشت وبن
آج بھی سایہ فگن، خوف ہیں مجھ پر ترے
راحت و رنجش وہی اور وہی بارشیں
خشت و خرابات میں خوش ہیں گداگر ترے
٭٭٭
آشنائے لب و رخسارہوں مجھ سے پوچھو
وہ پری گھر میں اتر آئے تو کیا لگتی ہے
٭٭٭٭
طاق، اندھیرا اور سیارے رہ جائیں گے
جائے نماز پہ میرا سایہ پھر نہیں ہوگا
٭٭٭
یہ کیا کہ آج بڑھے آ رہی ہے میری سمت
ہر ایک موجِ سب گام سیلِ آب لیے
٭٭٭
جلتے ہیں اب بھی ہونٹ دھڑکتا ہے اب بھی دل
ثروت وہ ایک رات تو کب کی گزر گئی
٭٭٭
جھلک اٹھا ہے کنارِ شفق سے تا بہ افق
ابد کنار ہوا خون رائیگاں نہ گیا
٭٭٭
گریہ و گرد کا ہنگام نہیں
دل دھڑکنے کی صدا آتی ہے
٭٭٭

Categories
شاعری

عشرہ // موت

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
موت
لسی بھر بھر پیالہ پی کر
مست ہوئے کچھ لمحے جی کر
بابو یار! میں کیا کچھ دیکھا
خواب تھا کوئی؟ یا کچھ دیکھا
دن گزرا اور رات سدھاری
جال بچھایا ایک شکاری
کوئی واج لگاتا جائے
ایک ہی گیت سناتا جائے
اکڑ بکڑ بھمبا بھو۔۔۔
اسی نوے پورا سو

ٰImage: Shruti Gupta Chandra

Categories
شاعری

عشرہ // دل ڈھونڈتا ہے

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
دل ڈھونڈتا ہے
ایک منظر جو کسی بھی آنکھ نے دیکھا نہ ہو
ایک دریا جس کے اندر کوئی بھی ڈوبا نہ ہو
ایک لمحہ جو رواں ہو اور کبھی گزرا نہ ہو
ایک دن جس دن سے پہلے رات کا سایہ نہ ہو
ایک چہرہ جس کے اوپر دوسرا چہرہ نہ ہو
ایک رستہ جو کسی بھی سمت کو جاتا نہ ہو
ایک نشہ جو چڑھا ہو اور کبھی اترا نہ ہو
ایک انساں جو اکیلا ہو مگر تنہا نہ ہو
ایک بستی جس کی گلیوں میں کوئی آیا نہ ہو
ایک دنیا جس میں کوئی بھی کہیں رہتا نہ ہو

Image: Vasudeo S. Gaitonde

Categories
شاعری

عشرہ //مجھے میری ماں نے آزاد جنا ہے

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
مجھے میری ماں نے آزاد جنا ہے
دبائی جا سکتی ہے میری آواز
مگر اسے بانجھ نہیں کیا جا سکتا
قید کیا جا سکتا ہے میرے لفظوں کو
مگر ان کی نسل کشی نہیں کی جا سکتی
منتشر کیے جا سکتے ہیں میرے خواب
مگر انہیں آنکھوں سے جلا وطن نہیں کیا جا سکتا
بجھایا جا سکتا ہے میری آنکھوں کا چراغ
مگر ان کی حیرانی کا قتل نہیں کیا جا سکتا
چھینا جا سکتا ہے مجھ سے میرا رزق
مگر مجھ سے میرا نظریہ نہیں خریدا جا سکتا

Image: suleiman Mansour

Categories
شاعری

زندگی نیند سے بیداری تک کا ثانیہ ہے

لمبی سیاہ رات گزرنے کے بعد
صبح کی پہلی دستک
روشن کر دیتی ہے
بجھے ہوئے چہرے
اور زندہ کر دیتی ہے
مری ہوئی آوازیں، کھڑکیاں اور کواڑ
جگا دیتی ہے
خوابوں سے بھرے کھیت، دالان اور گلیاں
تازہ کر دیتی ہے
دعاؤں اور ضعیف سجدوں سے محروم بارگاہیں
بھڑکا دیتی ہے
انتظار کرتی آنکھوں میں
امید کی ہلکی سی لو
حسین لگنے لگتے ہیں
رات کے آنسوؤں میں بھیگے پھول، اشجار
اور شاداب ہوتی چراگاہیں
خوابوں ،دعاؤں. اور پھولوں کے درمیان سے
گذرتے ہوئے
زندگی نیند سے بیداری تک کا ثانیہ ہے
Categories
شاعری

ہمیں ایک دن جدائی کا گیت گانا ہے

ہمیں ایک دن جدائی کا گیت گانا ہے
سروں پر گرد ڈالے ہوئے
یا ہاتھوں میں پھول لئے ہوئے
گھروں میں روٹیاں پکاتے ہوئے
یا کھیتوں میں ہل چلاتے ہوئے
دفتروں میں فائلوں کو بھرتے ہوئے
یا سیمنٹ کی بوریاں ڈھوتے ہوئے
ہمیں ایک دن جدائی کا گیت گانا ہے

شاہراہوں اور میدانوں میں دوڑتے ہوئے
یا باغوں میں تتلیاں پکڑتے ہوئے
ریل کی پٹڑی پر پتھروں کی سرگوشی سنتے ہوئے
یا دریاوٗں اور ہواوٗں میں تیرتے ہوئے
باپ کے بوسے کا لحن حفظ کرتے ہوئے
یا اپنی کوکھ سے کسی کو جنم دیتے ہوئے
ہمیں ایک دن جدائی کا گیت گانا ہے

اڑن کھٹولوں پر ہوا کے ساتھ اڑتے ہوئے
یا ضیافتوں میں قہقہوں کو بسر کرتے ہوئے
لفظوں کی مزدوری کرتے ہوئے
یا اضطراب کی لے پر زندگی کی دھن ترتیب دیتے ہوئے
آنکھوں کے پیالوں کو منظر سے بھرتے ہوئے
آتے ہوئے یا جاتے ہوئے
ہمیں ایک دن جدائی کا گیت گانا ہے
سردیوں کی دھوپ سینکتے ہوئے
یاپسینے میں نہائےتھکن زدہ جسم کا بوجھ اٹھاتے ہوئے
محملوں میں پلتے ہوئے
یا خانہ بدوش ہوا کے ساتھ سفر کرتے ہوئے
بارگاہوں میں پیشانی کا قرض اداکرتے ہوئے
یا بستروں پر لذت کشید کرتے ہوئے

جاگتے ہوئے یا سوتے ہوئے
ھنستے ہوئے یا روتے ہوئے
ہمیں ایک دن جدائی کا گیت گانا ہے

Image: Laxman Aelay

Categories
شاعری

کولاج

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

کولاج

[/vc_column_text][vc_column_text]

(سرگودھا یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس کے لیےایک نثری نظم)

 

سرگودھا یونیورسٹی میں گزرے ٧٩٠ دنوں کی طرح
چائے کی پیالی سے میری نظم شروع ہوتی ہے
احمد حسن اپنی محبوبہ کے ساتھ کینٹین سے گزرتا ہے اور ادریس بابر کے شعر سناتا ہوا بائیک پر روانہ ہو جاتا ہے

 

ندیم کوٹ مومن کے سپیرئر کالج میں رائیگانی کی نظم لکھ
کر مجھے میسج کرتا ہے جو مجھ تک نہیں پہنچ پاتی
کنول رت جگوں سے ڈسے گهرے حلقوں کے ساتھ اپنے ندیم کی شبیہہ میرے کانوں پہ ثبت کرتی ہے اور اداسی کی دھند میں غائب ہو جاتی ہے
غضنفر رانجھا آبائی گاؤں سے کچھ نئی پرانی کہانیاں لاتا ہے اور کھو جاتا ہے
غلام محی الدین کا دایاں بازو کاٹ دیا گیا ہے اور وه صرف” بائیں بازو” سے لفظوں کے “تیر” چلاتا ہے

 

شناور خان نے مقابلے میں پڑھنے کے لیے ایک نظم لکھی ہے جو اس کی زندگی کی طرح ابھی ادھوری ہے
حارث بلال کی چمکتی ہوئی آنکھیں کیمسٹری کی تجربہ گاه میں بھیج دی گئیں ہیں جہاں ان سے ما بعد جدید غزلیں تیار کی جائیں گی
ازور شیرازی نے خوابوں کی ایک پینٹنگ تیار کی ہے جسے ہم نصابی فورم کے نوٹس بورڈ پر چسپاں کرنے سے انکار کر دیا گیا ہے
ابوبکر حسب معمول شام کا پروگرام پوچھتا ہے اور شام سے پہلے کی گاڑی سے جھنگ روانہ ہو جاتا ہے
خالق داد دو سالوں میں بارہواں فلیٹ تبدیل کرنے کی اطلاع مجھے میرے ہی دربدری کے شعر سنا کر دیتا ہے اور ایک ٹھنڈی آه بھرتا ہے

 

میرا اولین مقالہ نگار فیصل گلزار ساحر لدھیانوی اور جون میں اذیت پسندی تلاش کرتا ہے اور میرا جی کو بھول جاتا ہے

 

یاسر خان شطرنج کی بساط میرے سامنے رکھتا ہے جسے میں زندگی سمجھ کر ہار جاتا ہوں

 

موبائل کی گھنٹی بجتی ہے اور میں ایک سو چھپن ویں دفعہ ماں کو بتاتا ہوں کہ میری تنخواه نہیں بڑھ سکی
“سر جی، سر جی! شام ہو گئی کرسی چک لییے؟”
اور میں ہر دن کی طرح ١٠٠ روپے ادھار چھوڑ کر اپنے کمرے کے قبرستان میں دفن ہو جاتا ہوں

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

Categories
شاعری

سنگترے کے بنجر پیڑ کا گیت

گارسیا لورکا کی نظم ‘Song of a barren orange tree’ کا ترجمہ
لکڑ ہارے !
کاٹ ڈالو میرے سائے کو مجھ سے
نجات دلا دو مجھے بے ثمری کے عذاب سے
میں آئینوں کے درمیان کیوں پیدا ہوا
دن میرے گرد چکر لگاتا ہے
رات اپنے تمام تاروں میں مجھے نقل کرتی ہے
میں رہنا چاہتا ہوں
اپنے عکس کے بغیر
تا کہ خواب دیکھوں
کہ چیونٹیاں اور جڑی بوٹیاں
میرے پتے اور طوطے ہیںٗ
Categories
شاعری

گھر کی طرف کھنچتے ہوئے

شریف ایس الموسی کی ایک نظم کا ترجمہ

گھر کی طرف کھنچتے ہوئے
ڈھلتی ہوئی شام میں ٹرین میں میری آنکھ لگ گئی
اور میں نے اپنی منزل کھو دی
تھک گیا ہوں میں
اور بمشکل سیڑھیاں چڑھ پاؤں گا
پٹڑی سے دوسری سمت جا نے کے لیے۔۔۔
مجھے اس بوڑھے آدمی کے بارے خیال آ رہا ہے جو کہ رہا تھا
کہ کیسے وہ کھیتوں میں تین سے چار گھنٹے مسلسل چلتا ہے
اور پھر اپنی پنڈلیوں کو پکڑ کر ان سے سوال کرتا ہے
کیا ان میں مزید ہمت ہے؟۔۔۔
سیڑھیاں چڑھتے ہوۓ میری ٹانگیں اس کی ٹانگیں لگ رہیں ہیں
بھورے پلیٹ فارم پر ٹہلتے ہوئے میری نظرپڑتی ہے
ایک آدمی پر
جو معائنہ کرتا ہے ایک ٹوٹے ہوئے سگریٹ کا
خوشگوار انداز میں
اور مسل دیتا ہےاسے
نرمی سے اپنے جوتے تلے
ایک مرد اور عورت لمبے سفر پہ جانے کا ارادہ کر رہے ہیں
جنوب کی طرف
شاید وہ محظوظ ہونا چاہتے ہیں
صحرا میں پورےچاند کے نظارے سے
شہر کے مرکز سے دور اس سٹیشن پر
مصریوں کا کوئی قدیم حیرت انگیز مجسمہ نہیں ہے
یہ سب احساس دلاتے ہیں کہ سب کچھ یہاں مختلف ہے
ایک دیوار کے ساتھ جھکتے ہوئے
میں چیونٹیوں کی ایک قطار دیکھتا ہوں
تیزی سے بھاگتی ہوئی ،اوپر نیچے
سیمنٹ میں پڑے شگاف کے ساتھ ساتھ
اوپر سے نیچے آتی چیونٹیاں گھسیٹ کر لا رہیں
چھلکے کے ٹکڑے
اور نیچے سے اوپر جاتی چیونٹیاں ارادہ کیے ہوئے
انہیں ذخیرہ کرنے کا
تیز روشنی میں ان کے سیاہ چمکدار جسم
سروکار رکھتے ہیں مسلسل چلتے رہنے سے
کوئی چیونٹی اس سے کوتاہ نہیں
نہ بھٹکتی ہے
کیا چیز انہیں مجبور کرتی ہے
صبر یا امید؟۔۔۔۔
رکتی کیوں نہیں ان کی ٹانگیں
تھکتی کیوں نہیں ان کی ٹانگیں۔۔۔۔
بدن جھنجھوڑتا ہے دماغ کو
کہ وہ اپنے کام سے کام رکھے
ابھارتا ہے کانوں کو کہ وہ سنیں
ٹرین کی میٹھی گرج دار موسیقی
آرزو کرتا ہے ایک کشادہ بستر کی
اور اس کے نزدیک
پیٹ کے بل رینگتی اس عورت کی
جواب نہیں ہے۔۔۔۔
Categories
خصوصی

اٹھاؤ پرچم تحقیق ہرچہ بادا باد۔۔۔روئیداد خودی مشاعرہ

1459167_688882147789265_1320336212_n
اردو میں شعر کہنے کی روایت کو عالمی شعری سرمائے میں شاید سب سے عظیم قرار نہ دیا جا سکے، لیکن شعر سننے اور سراہنے کی مجلسی روایت، اور روزمرہ گفتگو یا رسمی تحریر و تقریر میں اشعار نقل کیے جانے کا چلن، اردو والوں کے ہاں کسی طور بھی عربی یا فارسی تہذیبوں اور دبستانوں سے کم تر نہیں ہے۔ اگر لگے بندھے معیارات اور عمومی شعری ذوق سے کچھ دیر صرفِ نظر کر کے محض روز مرہ ابلاغ میں شاعری کے عمل دخل کو ہی پیمانہ بنایا جائے تو ہند و پاک کے لوگ مشرق و مغرب کی سبھی دوسری تہذیبوں سے آگے نظر آتے ہیں۔سیاسی تقریریں اور عدالتی فیصلے ہوں یا دل جلوں کے ذاتی خطوط اور پیغام ہوں،کچی سڑکوں پر کھڑکھڑاتی پبلک بسوں کی باڈیاں ہوں یا پکی قبروں کے دلگیر کتبے، شعر و شاعری کوہر جگہ ایک تہذیبی فریضہ سمجھ کر نقل کیا جاتا ہے۔ شاعری کے ساتھ اس والہانہ لگاؤ کی بدولت اس خطے میں مشاعرے کے ادارے کی صورت میں شعر سننے سنانے کی ایک ایسی روایت نے جنم لیا ہے، جس کی مثال (مشرقِ وسطی کے چند ایک معاشروں کے استثنا کے ساتھ) دنیا بھر میں کہیں نہیں ملتی۔ مشاعرے کی روایت کی شکل میں شعر کو سماعت کرنا، محض ایک خواص پسند علمی و ادبی کام سے آگے بڑھ کر ایک مکمل سماجی اور ثقافتی سرگرمی کا روپ دھار چکا ہے۔ان نشستوں میں عرضِ سخن اور دادِ سخن کا عمل، دوسرے تمام روایتی ذرائع کی نسبت زیادہ براہ راست اور والہانہ ہوتا ہے۔ پرانی اردو تہذیب اپنی تمام تر پرپیچ رسوم اورڈھب ڈھنگ کے ساتھ رو بہ زوال ہوئی تومشاعروں کی محفلوں نےبدلتے وقت کے ساتھ اپنے ڈھنگ بدل کر، نئے عہد میں قدم رکھا۔ درباروں اور حویلیوں سے نکل کر شائقین شعر کے نجی حلقوں،تعلیمی اداروں اور منظم سماجی اداروں وغیرہ کے توسط سےیہ روایت چند بدلے ہوئے اطوار کے ساتھ، گئے دور کی ایک خوشنما یادگار کے طور پر آج بھی پورے وقار سے قائم ہے۔نوجوانوں کی سماجی تنظیم خودی پاکستان کی سہ روزہ سالانہ سرگرمی ‘خودی فیسٹیول آف آئیڈیاز’ اس برس کچھ اس وجہ سے بھی منفرد رہی کہ اس بار خودی میلے کےمکالموں کا آغاز شاعری کی زبان میں ہوا۔میلے کے پہلے دن 25 اکتوبر کو ملک بھر سے آئے نوجوان مندوبین کا باقاعدہ استقبال ایک پروقار شعری نشست سے کیا گیا، جس میں استاد شعراء سمیت لاہور اور دیگر شہروں سے آئے نوجوان شعراء و شاعرات نے اپنا اپنا کلام پیش کیا۔ مشاعرے کا مرکزی خیال شاعر شباب اور شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کے اس مصرع کو بنایا گیا تھا؛
“اٹھاؤ پرچم تحقیق، ہر چہ بادا باد “اپنے اپنے اسالیب کے نمائندہ 12 شعراء پر مشتمل اس مشاعرے کی صدارت اردو کے معتبر شاعر، ادیب اور محقق ڈاکٹر خورشید رضوی نے کی، مہمان خصوصی نامور شاعر اور لکھاری جناب نذیر قیصر تھے، جبکہ نظامت کے فرائض اسد فاطمی کے سپرد تھے۔شعرائے کرام کی آمد کے ساتھ ہی ان کا خیر مقدم کیا گیا اور صدر مشاعرہ کی اجازت سے مشاعرے کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ شروع میں ناظم مشاعرہ نے حاضرین کو مشاعرے کے مرکزی خیال کے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ شاعری پر، ہر طرح کے فکری اور حسی میلان رکھنے والے کا، برابر کا دعوی ہے۔ شاعری بیک وقت آذری بھی ہے اور ابراہیمی بھی۔ تحقیق کی چنگاری نفی اور اثبات کے دونوں پتھروں کی باہمی ضرب سے پیدا ہوتی ہے۔سماج کی ترقی میں مکالمے اور استدلال کی دوطرفگی کی اہمیت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق کا پرچم ہی دراصل قوموں کی قیادت اور سیادت کا پرچم ہے۔

سیاسی تقریریں اور عدالتی فیصلے ہوں یا دل جلوں کے ذاتی خطوط اور پیغام ہوں،کچی سڑکوں پر کھڑکھڑاتی پبلک بسوں کی باڈیاں ہوں یا پکی قبروں کے دلگیر کتبے، شعر و شاعری کوہر جگہ ایک تہذیبی فریضہ سمجھ کر نقل کیا جاتا ہے۔

خلاف روایت شعر خوانی کا آغاز ناظم مشاعرہ نے اپنے کلام کی بجائےفیصل آباد کے صاحب طرز جوان شاعر علی زریون کی ایک نظم سے کیا، جو کہ نہایت ناگزیر نجی مصروفیات کی وجہ سے مشاعرے میں شرکت نہیں کر پائے تھے، لیکن انہوں نے بصدمحبت اپنی نظم “میں شبد ہوں” مشاعرے کے سامعین کے لیے لکھ بھیجی تھی۔ اس نظم کو سامعین میں بہت سراہا گیا۔

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں زیر تعلیم تازہ کار شاعر اختر منیر کی شاعری کا بڑا موضوع لڑکپن کے عشق کے دوران کے راز و نیاز ہیں۔ سامعین غزل نے دل کھول کر ان کے کلام پر ان کی حوصلہ افزائی کی؛
مری عادت ہے، میں تنہا کبھی بھی رہ نہیں سکتا
مری عادت بدلنے تک تو میرے پاس رہ جاؤ

نصراللہ حارث ایک پختہ اسلوب کے شاعر اور یونیورسٹی آف انجنئیرنگ ٹیکنالوجی لاہور میں زیر تعلیم ہیں۔ ان کے اشعار کو شائقین غزل میں خوب سراہا گیا؛
شعر اچھا ہو تو دیوان سے باہر جھانکے
کان کا رزق ہے بھائی جو سنائی دیوے

تہذیب حافی کا تعلق تونسہ سے ہے اور وہ لاہور میں مقیم ہیں۔ ان کے اشعار
کو محفل میں بہت داد دی گئی؛
جس کی چھاؤں میں تجھے پہلے پہل دیکھا تھا
میں اسی پیڑ کے نیچے تری بیعت کروں گا
اب ترے راز سنبھالے نہیں جاتے مجھ سے
میں کسی روز امانت میں خیانت کروں گا

شازیہ نورین کا تعلق گجرات سے ہے اور وہ ان اٹلی کے شہر میلان میں مقیم ہیں؛
اب دیکھ لیا اپنے رویوں کا نتیجہ؟!
اجڑا ہوا یہ خواب نگر دیکھ رہے ہو؟!

عثمان ضیاء خوش اسلوب شاعر اور حلقۂ ارباب ذوق لاہور کے جوائنٹ سیکرٹری ہیں؛
پھر اس کے بعد لذت گریہ نہیں ملی
اک رات مجھ سے تیری کمی چھین لی گئی
حماد نیازی نوجوان شعراء میں ایک نمایاں نام ہیں، ان کی غزلوں پر سامعین نے دل کھول کر داد دی؛
ہم اس خاطر تری تصویر کا حصہ نہیں تھے
ترے منظر میں آ جائے نہ ویرانی ہماری

توقیر عباس آج کی غزل میں ایک اہم نام ہیں، ان کی شاعری نے شائقین سخن سے خوب داد وصول کی؛
ٹھہرے پانی پہ ہاتھ مارا تھا
دوستوں کو کہاں پکارا تھا
چھوڑ آیا تھا میز پر چائے
یہ جدائی کا استعارہ تھا

ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ ایف سی کالج لاہور میں اردو کی معلمہ اور درجن بھر کتابوں کی مصنفہ ہیں؛
دریا کی مسافت نے زمیں کا نہیں چھوڑا
یکطرفہ محبت نے کہیں کا نہیں چھوڑا

ڈاکٹر تیمور حسن پیشے کے اعتبار سےاستاد ہیں، بصارت سے محروم ہیں اور شعر خوانی میں ان کا انداز نہایت منفرد اور بھرپور ہے۔ کلام سنا چکنے کے بعد حاضرین کے اصرار پر مزید کلام سنانے کے لیے شعرخوانی کی نشست پر دوبارہ آنا پڑا اور ان سے فرمائش پر ان کی متعدد معروف غزلیں سنی گئیں؛
میرے بیٹے، میں تمہیں دوست سمجھنے لگا ہوں
تم بڑے ہو کے مجھے دنیا دکھانا مرے دوست
میں مقابلے میں شریک تھا فقط اس لیے
کوئی مجھ سے آ کے یہ پوچھتا، ترا کیا بنا

حاضرین محفل میں سے بیشتر لوگوں نے اس تقریب کو اپنی زندگی کی ایک یادگار شام قرار دیا۔ خودی ٹیم ارکان پرعزم ہیں کہ شعروسخن کی محافل کو شہری ثقافت میں اپنے پرانے مقام پر لانے کی کوششوں میں وہ مقدور بھر اپنا حصہ ڈالتے رہیں گے اور مستقبل میں بھی صحتمند تفریح اور سنجیدہ سامعین کے ذوق کی آبیاری کے لیے اس شام سے ملنے والی سرشاری کے اعادے کا سامان کرتے رہیں گے۔

شہزاد نیر کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے اور وہ راولپنڈی میں مقیم ہیں۔فلمسازی اور سپہ گری کے کاموں سے وابستہ ہیں لیکن شاعری ان کی بنیادی شناخت ہے۔ ان کی نظم “ہدایتکار” کو سامعین میں خوب سراہا گیا، نظم کے علاوہ انہوں نے متعدد غزلیں بھی حاضرین کی خدمت میں پیش کیں اور بے پناہ داد پائی؛
چلتے پھرتے کہیں بندش کا گماں تک نہ رہے
اس نے انسان کو اس درجہ کشادہ باندھا

نذیر قیصر اردو اور پنجابی شاعری دونوں میں یکساں طور پر معتبر حوالہ ہیں، ان کے لکھے ہوئے گیت ہندو پاک کے ریڈیو، فلموں اور ٹیلی ویژن میں دو دہائیوں سے گونج رہے ہیں۔ اردو میں بارہ اور پنجابی میں دو شعری مجموعوں کے خالق ہیں۔وہ اس محفل کے مہمان خصوصی تھے؛
در و دیوار یونہی دیکھتے رہ جائیں گے
اے پری زاد اڑا کر تجھے لے جاؤں گا
مجھ کو بھی علم ہے کہ شمع نہیں، آگ ہے تو
اپنے دامن میں لگا کر تجھے لے جاؤں گا
ہم دونوں کے خواب کہاں مل سکتے ہیں
تم نے رات، تو ہم نے عمر گزاری ہے

صدر محفل ڈاکٹر خورشید رضوی تقریب کے آخری سخن ور تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے جملہ شعری مجموعے، “یکجا” کے نام سے کلیات کی صورت شامل ہو چکے ہیں۔ تخلیق کے ساتھ ساتھ تحقیق کا پرچم بھی تھامے ہوئے ہیں اور قبل از اسلام کے عرب ادب کی مفصل تاریخ کے مولف ہیں۔ غزل گوئی کے معاصر افق پر ان کا وجود اپنے عہد کی ایک عظیم حجت کے معنی رکھتا ہے۔ ان کی بہت سی زبان زد عام غزلیں فرمائش پر سنی گئیں؛
میں عمیق تھا، کہ پلا ہوا تھا سکوت میں
یہ جو لوگ محو کلام تھے، مجھے کھا گئے
جو کھلی کھلی تھی عداوتیں، مجھے راس تھیں
یہ جو زہر خند سلام تھے، مجھے کھا گئے
پیش آئینہ لبھاتا ہے بڑھاپے کا وقار
ہم نہیں کہتے کہ افسوس، جوانی افسوس

اس محفل میں اگرچہ مشاعرے کی بہت سی روایتوں سے انحراف بھی کیا گیا، تاہم روایت کے بہت سے پہلوؤں کو بہ خوبی محفوظ کیا گیا۔ سامعین محفل نے نہایت سلیقے سے اشعار کو سماعت کیا اور دل کھول کر داد دی۔ شیبا چوہدری اور ساتھی رضاکار ٹیم نے اسٹیج کی پروقار آرائش کے ذریعے مشاعرے کو حاضرین کے لیے ایک خوشگوار سمعی و بصری تجربہ بناکر پیش کیا۔ دوران محفل شعراء اور حاضرین کو پان پیش کیے گئے اور اگربتی کی روایتی خوشبو کے ساتھ شام کو مزید خوشگوار احساس کے ساتھ ہمکنار کیا گیا۔ مشاعرے کی پرانی روایت میں دوران محفل اچھے اشعار پر تالیوں سے داد دینے کو معیوب سمجھا جاتا تھا تاہم حالیہ دہائیوں میں داد سخن کے لیے یہ تاثر پوری طرح قبول عام پا چکا ہے۔ اس محفل کی ابتداء میں چند منچلوں نے سیٹیوں کے ذریعے شعراء تک داد پہنچائی تاہم بعد میں ناظم مشاعرہ کی گزارش کو مانتے ہوئے داد سخن کا ابلاغ زبانی واہوا اور تالیوں سے ہی کیا جاتا رہا۔ صدر مشاعرہ کے کلام سنا چکنے کے بعد ناظم مشاعرہ نے معزز شعراء، سامعین اور رضاکار ٹیموں کا شکریہ ادا کیا اور جناب صدر کی اجازت سے محفل کو برخاست کرنے کا اعلان کیا تاکہ شعراء اور شائقین شعر کھانے کے میز پر براہ راست باہم گھل مل سکیں۔

حاضرین محفل میں سے بیشتر لوگوں نے اس تقریب کو اپنی زندگی کی ایک یادگار شام قرار دیا۔ خودی ٹیم ارکان پرعزم ہیں کہ شعروسخن کی محافل کو شہری ثقافت میں اپنے پرانے مقام پر لانے کی کوششوں میں وہ مقدور بھر اپنا حصہ ڈالتے رہیں گے اور مستقبل میں بھی صحتمند تفریح اور سنجیدہ سامعین کے ذوق کی آبیاری کے لیے اس شام سے ملنے والی سرشاری کے اعادے کا سامان کرتے رہیں گے۔