Categories
نقطۂ نظر

امام کعبہ ہمارے پاؤں کب چومیں گے

کیا کبھی امام کعبہ بھی اپنے خطبہ حج میں ابن رشد کے ساتھ کیے گئے سلوک پر اسی طرح معافی مانگیں گے جس طرح پوپ اور چرچ نے ماضی میں گلیلیو اور دیگر سائنس دانوں کے خلاف روا رکھے جانے والے سلوک پر مانگی تھی؟
پوپ فرانسس کی جانب سے مہاجرین کی قدم بوسی مذہب کے اس حقیقی مقصد و منتہا کا عملی اظہار ہے جو ہر تعصب سے بالاتر ہو کر انسانوں کی خدمت اور ان سے محبت کے ذریعے خدا تک پہنچنے اور اس کی خوشنودی کا راستہ ہے۔ یہ مذہبی رواداری کی ایک عظیم مثال ہے، ویسی ہی جیسی محمد اور عیسی کے ہاں موجود ہیں اور جن کا مظاہرہ ہم روز دیکھتے ہیں۔ مگر ہمیں ان چند مثالوں سے بڑھ کر اب انسانی محبت، اخوت اور رواداری کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی ضروت ہے۔ لیکن میں سوچتا ہوں کہ عیسائیت کے روحانی پیشوا اور چرچ کا ادارہ جو قرون وسطیٰ میں خونریزی، علم دشمنی اور سماجی جمود کا مبلغ و حامی رہا ہے وہ اس درجہ عاجزی، انکساری اور انسان دوستی کی روش اپنانے پر کیسے مجبور ہوا؟ یہ بھی سوچنا ضوروی ہے کہ کیا کبھی دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ہاں بھی اس قدر فراخدلی اور کشادہ ظرفی دیکھنے کو مل سکے گی جس کا اظہار پوپ فرانسس کر رہے ہیں؟ کیا کبھی امام کعبہ بھی اپنے خطبہ حج میں ابن رشد کے ساتھ کیے گئے سلوک پر اسی طرح معافی مانگیں گے جس طرح پوپ اور چرچ نے ماضی میں گلیلیو اور دیگر سائنس دانوں کے خلاف روا رکھے جانے والے سلوک پر مانگی تھی؟ یہ سوال تب زیادہ وسعت اختیار کر لیتا ہے جب ہم مسلم دنیا میں عورتوں، مذہبی اقلیتوں، ہم جنس پرستوں اور بچوں کی حالت زار دیکھتے ہیں۔ ہم کسی پاکستانی مسجد میں ایک عورت یا کسی ہم جنس پرست کی امامت کا تصور بھی نہیں کر سکتے لیکن عیسائیت کا عمومی بیانیہ کم زور اور ماضی میں دھتکارے ہوئے طبقات سے نفرت کی بجائے انسانی مساوات اور باہمی اخوت کا روادار ہو چکا ہے۔

 

یہ درست ہے کہ دنیا کے سب عیسائی پوپ فرانسس کی طرح نہیں سوچتے اور یورپ میں حالیہ حملوں کے بعد مہاجرین کی آمد اور مسلمانوں کی موجودگی کے خلاف نفرت موجود ہے، بہت سی عیسائی گروہ اب بھی انتہائی دائیں بازو کے متشدد نظریات کے حامی ہیں،وہاں بھی اقلیتوں کے خلاف تعصب موجود ہے، گھریلو تشدد ہے، کم سن بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات ہیں لیکن کم سے کم وہاں یہ احساس اجتماعی معاشرتی ضمیر کا حصہ ہے کہ یہ سب غلط ہے اور نہیں ہونا چاہیئے۔

 

یہ دنیا ناانصافی پر مبنی ہے اور اسے جہنم بنانے والوں میں مغرب والوں کا پلڑا شاید ہم سے بھاری ہے، لیکن اس دنیا کو منصفانہ بنانے والوں کے ناموں میں بھی سب سے زیادہ نام مغرب والوں کے ہی ہیں۔
میں مانتا ہوں کہ عراق، افغانستان اور شام کے مظلوموں کا خون مغرب کے دامن پر بھی ہے اور ان کی آستینیں بھی خون آلود ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ مسلم معاشروں میں ان جہادیوں کی حمایت تو موجود ہے جو ان علاقوں میں قتل غارت گری کر رہے ہیں مگر اس قتل و غارت گری سے متاثر ہونے والے عام لوگوں کے لیے کوئی دروازہ نہیں کھلا؟ شام کے مہاجروں کے لیے طاقت ور عرب ملکوں کے ہاں کوئی کیمپ نہیں، فاٹا سے بے گھر ہونے والوں کے لیے سندھ اور پنجاب میں کوئی جگہ نہیں تھی اور کسی نے بھی بوکو حرام کے ہاتھوں اغوا ہونے والی بچیوں کو چھڑانے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی؟ یہ دنیا ناانصافی پر مبنی ہے اور اسے جہنم بنانے والوں میں مغرب والوں کا پلڑا شاید ہم سے بھاری ہے، لیکن اس دنیا کو منصفانہ بنانے والوں کے ناموں میں بھی سب سے زیادہ نام مغرب والوں کے ہی ہیں۔

 

پوپ فرانسس نے چند لوگوں کے پیر ہی نہیں دھلائے، چند مہاجروں کے قدم ہی نہیں چومے بلکہ عیسیٰ علیہ سلام اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس سنت کو زندہ کیا ہے کہ لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرنے والا اور بے گھروں کا سائبان بننے والا ہی خدا کا مقرب اور محبوب ہے۔ لیکن کیا رحمت عالم کے وارث بھی ہتھیار والون کو چندے دینے اور قاتلوں کے جنازے پڑھنے کی بجائے بندوقوں سے سہمے ہووں کو گلے لگائیں گے؟ کیاہم اسلام کے غلبے اور تمام دنیا کے مسلمان ہونے سے پہلے اس دنیا کو پر امن اور پر سکون بنانے کو تیار نہیں؟ کیا امام کعبہ بھی آبلہ پاوں کے چھالوں پر مرہم لگائیں گے؟ کیا مسجدوں میں بھی ہم جنس پرستوں کے لیے کوئی جگہ ہو گی جہاں وہ اعلانیہ کسی کی نفرت اور تشدد کے خوف کے بغیر خدا کے حضور پیش ہو سکیں گے؟ کیا عورتیں بھی خدا کی کتاب پر برابری کا دعویٰ کر سکیں گی؟ کیا امام کعبہ پاکستان سے جان بچا کر بھاگنے والے ہندووں، احمدیوں اور عیسائیوں کے پاوں دھلائیں گے اور کیا وہ سعودی بمباری سے یمن میں محصور ہونے والوں کے پاوں چومیں گے؟

 

میں چاہتا ہوں کہ میں بھی فخر سے بتا سکوں کہ میرے مذہب کے سب سے بڑے پیشوا بھی تمام انسانوں سے اسی طرح محبت کرتے ہیں جیسے محمد اور عیسی کرتے تھے یا جیسے پوپ فرانسس کر رہے ہیں۔ لیکن شاید ایسا ہونا اتنا آسان نہیں، یہ مزہبی اصلاحات کی کئی صدیوں کا نتیجہ ہے کہ آج پوپ کسی عورت کو جادوگرنی قرار دینے پر زندہ جلانے یا کسی سائنسدان کو بائبل کی کائناتی تعبیر سے اختلاف پر تعزیری سزا کے حق میں کھڑے ہونے کی بجائے مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہمیں یہ سفر طے کرنے میں بھی بہت وقت لگے گا۔ ہمیں اس دنیا کو رہنے کے لیے جنت بنانا ہے تو پھر اسے اخروی جنت کے حصول کے لیے جہنم بنانے والوں میں شامل ہونے کی بجائے اسے قابل قبول بنانے والوں کی صفوں میں کحرے ہونا ہو گا۔
Categories
خصوصی

کندھ کوٹ : مذہبی رواداری کا ایک مثالی نمونہ

عثمان شاہد

سندھ ساگر نے اپنے کنارے کیا کچھ نہیں دیکھا؟سندھ وادی بستی رہی اجڑتی رہی، ناک نقشے بدلتے رہے، راجہ پرجا ریتی رواج، دھرم کرم کی موجوں پر صدیا ں بہتے بہتے سمندر کی تہہ میں جا چھپی ہیں۔ سندھ کنارے بستیوں میں اب دریا کے پانیوں سے زیادہ اس ذہنی خشک سالی کا خوف ہے جس کی ویرانی میں شدت پسندی کا تھور محبتوں کی کھیتیوں کو بنجر کر گیا ہے۔ سینتالیس کے بعد کی جس نسل کو سرحد پار کر جانے والے اپنے ساتھ اپنی گٹھڑیوں میں شاید رواداری اور برداشت بھی واہگہ اور کھوکھرا پار کی دوسری طرف لے گئے۔
اب تو سندھ کی وادی پر مشتمل پاک سر زمین کا ہربچہ ہندوستان کے بٹوارے کی کہانیاں سنتے ،سنتے بازیچہ اطفال سے شعور کے آنگن میں داخل ہوتا ہے تو عقیدے کی بنیاد پر پاکیزگی سکھاتے نصاب کی تعلیم پانے والے ذہن تو یہ سوال بھی نہیں اٹھا تے کہ کیا مختلف نام، عقیدے، رنگ اور نسل کے ساتھ بھی انسان ساتھ رہ سکتے ہیں۔ کیاا اللہ دتہ کا کوئی دوست رام لعل یا ہری سنگھ بھی تھا جس کے ساتھ وہ سکول جایا کرتے تھے اور واپسی پر آم کے پیڑ تلے کھیلتے تھے۔ عیدمنانے والے دیوالی بھی جوش و خروش سے مناتے تھے۔ نفرتیں ناپید تھیں کہ محبتوں سے ہی فرصت نہ ملتی۔ امرتسر سے لاہور سائیکل پر بھی آیا جا سکتا تھا۔ مادھو لال حسین کے میلے میں مسلم، ہندو، سکھ دھمالیں ڈالتے ، نذر نیاز کرتے اور مراد پاتے تھے۔
مگر۔۔۔(اس مگرمیں بھی قصے اور مرثےے پنہاں ہیں) مگر اب شناختی کارڈ دیکھ کر زندگی اور موت کے فیصلے سڑکوں پر ہونے لگے ہیں۔ لیکن کندھ کوٹ نے سندھ کے کناروں کا بھرم رکھا ہے۔ یہاں گزرے وقت کی وہ پرچھائیاں ابھی بھی غور سے دیکھنے پر نظر آجاتی ہیں جن میں ہندو مسلم پانی الگ نہیں تھا۔ یہاںوہ ماضی سانس لیتا ہے جہاں غیر مسلم ہی نہیں بلکہ شیعہ ، سنی، پنجابی، بلوچ یا سندھی ہونابھی کوئی جرم نہیں۔ جہاں دیوالی کی رات کسی کا گھر نہیں بلکہ پھلجھڑیاں جلتی ہیں، پھیرے لینے والیوں کو پر دعا کرنے والے ہاتھوں کی شفقت رخصت کرتی ہے تبرک اور پرشاد میلاد اور دیوالی سب سانجھا ہے۔حیرت ہے کہ یہاں پر کوئی کسی کو کافر نہیں کہتا۔ کندھ کوٹ بازار میں تجارت کاروبار ، روپے پیسے، دھن دولت کے گھن چکر میں موہ مایا کا جال تو پھیلا ہے پر چاندنی چوک کے بلراج سوےٹس کی مٹھاس، مائی چوائس بیکری والوں کی خوش اخلاقی میں ہندومسلم تفریق کی کوئی کڑواہٹ نہیں گھلتی۔ہندو مالک ہو یا مسلم ملازم سب کی روزی ایک دوسرے سے بندھی ہے۔ صرافہ بازار کے ہوٹلوں پر فلم اور چائے کی ضیافت ہو یا کہن سالہ برساتی کے آس پاس کی بھیڑ کہیں کوئی اچھوت نہیں لگتا۔
کندھ کوٹ ،ضلع کشمور کا ہیڈکوارٹر ہے۔ یہ دارلحکومت اسلام آباد سے قریباََ 1200کلومیٹر جنوب اور بالائی سندھ میں واقع ہے۔ ضلع کشمور کی نا صرف سندھ بلکہ پاکستان کےلئے بھی اہمیت بڑھ جاتی ہے کہ یہ مشرق سے پنجاب کے شہر راجن پور، شمال سے بلوچستان کی ڈسٹرکٹ سبی اور جنوب سے دریائے سندھ اور ڈسٹرکٹ گھوٹکی سے منسلک ہے۔ اسی وجہ سے یہاں کاروباری سرگرمیاں عروج پر ہیں۔گورنمنٹ ڈگری کالج کندھ کوٹ میں معاشیات کے پروفیسر عبدالرحمان ملک کے مطابق شہر میں موجود غلہ منڈی ایشیاءکی دوسری بڑی منڈی ہے جہاں سے پورے پاکستان خصوصاََ بلوچستان ، سندھ اور جنوبی پنجاب میں گندم اور چاول سمیت دیگر اجناس مہیا کی جاتی ہیں۔
کندھ کوٹ کے اڑھائی لاکھ نفوس میں سے ایک چوتھائی ہندوہیں۔ زیادہ تر لوگ زراعت، چند افراد سرکاری ملازمت جبکہ ہندو اکثریت کاروبار کرتی ہے۔ ہندو کاروبار میں بہتر اور قدرے متمول ہیں۔ مذہب و ذات اور لسانی امتیاز سے بالاتر، کندھ کوٹ کے تمام رہائشی سندھی زبان بولتے اور اجرک و سندھی ٹوپی پہننا پسند کرتے ہیں۔ بلوچ بھی مناسب تعداد میں موجود ہیں لہٰذا شہر کی دوسری بڑی زبان بلوچی ہے۔ کشمور ، سندھ کے ان تین اضلاع میں سے ایک ہے جن کی اپنی گیس فیلڈ اور تھرمل پاور سٹیشن ہے۔ یہاں گڈو تھرمل پاور سٹیشن بجلی کی پیداوار کے حساب سے پاکستان کا دوسرا بڑا یونٹ ہے جہاں سے حیدر آباد اور کراچی تک بجلی مہیا کی جاتی ہے۔
سینتالیس کے فسادات میں جو ہندو سرحد پار جانے کی بجائے یہاںرہ گئے ان پر پینسٹھ اور اکہتر کی جنگوں کا جنون خوف بن کر لہرایا، ہنوستان کے مسلمانوں کی حالت کا انتقام لینے والے بھی کچھ تھے پر ابھی فضا یہاںکی ساز گار ہے۔دیوان لعل جیسے بزرگ ہندووں کی بات ابھی بھی سنی جاتی ہے سمجھتے ہیں کہ یہ اس لئے ہے کیوں کہ یہاں کی آبادی نے مسلم خون مسلمانوں کے ہاتھوں بہتے دیکھا ہے ۔ اشوک سنگھ کا خاندان تقسیم کے بعدسے حلوہ پوڑی کی ریڑھی لگاتا ہے ، پنجہ صاحب ، ننکانہ صاحب، گولڈن ٹیمپل اور رنجیت سنگھ کی مڑی کی زیارت کے بعد بھی من لگانے کو یہیں ٹکا ہوا ہے۔
صرافہ بازار کے حکیم امان اللہ بھٹہ ڈاکٹر ستیہ پال امام مسجد مرتضیٰ ملک کو سندھی زبان اور قوم پرستی کے اس اٹوٹ بندھن نے باندھ رکھا ہے جس صدیوں پرانا ہے ، جس نے عقیدے اور مذہب اپنا کر اپنی دھرتی اور سنگت سے انحراف نہیں کیا۔ شہر میں کھلی دکانوں میں کون کس عقیدے کے ساتھ آتا ہے اس سوال کو پالن ہار پر چھوڑ سب زندگی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ابھی یہاں مقدس متن کی وہ تشریحات نہیں پہنچیں جو لوگوں کے لوگوں سے الگ کر تی نیکیوں کی تلقین نہیں کرتیں۔ مسجد ، مندر اور گردوارہ میں خدا کو تقسیم کرنے کی ضرورت ابھی پیش نہیں آئی۔