Categories
اداریہ

قائد اعظم یونیورسٹی؛ احتجاجی طلبہ کے مطالبات منظور، ہڑتال ختم

campus-talks

پرووسٹ قائد اعظم یونیورسٹی ڈاکٹر انور شاہ کی برطرفی کے لیے احتجاج کرنے والے طلبہ نے مطالبات تسلیم کیے جانے پر ہڑتال ختم کر دی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے پرووسٹ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی میں اسلامی جمعت طلبہ کی سرپرستی اور مالی معاونت کے الزامات کے باعث مختلف قوم پرست طلبہ تنظیموں کے متحدہ پلیٹ فارم قائدیئن سٹودنٹس فیڈریشن کی کال پر کی گئی اس ہڑتال کے باعث یونیورسٹی میں تدریسی سرگرمیاں معطل ہو گئی تھیں، جو اب بحال ہو چکی ہیں۔

 

طلبہ کی جانب سے اسلامی جمعیت طلبہ کے ایک رکن فیاض باری کے یونیورسٹی پرووسٹ سے مبینہ روابط، مالی امداد اور سرپرستی کے خلاف پیر 7 مارچ کو احتجاج شروع کیا گیا تھا جس میں بعض طلبہ کو ایک سمیسٹر کے لیے معطل کیے جانے کی وجہ سے شدت آ گئی تھی۔ ان طلبہ کو 24 فروری کی شب فیاض باری کو اس کے ہاسٹل سے اٹھا کر زدوکوب کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا جس پر کارروائی کرتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تین طلبہ میر واعظ، زرق خان اور عادل کو ایک سمیسٹر کے لیے ہاسٹل سے معطلی اور تیس تیس ہزار جرمانہ کیا گیا۔

 

فیاض باری کے پاس سے کالعدم تنظیموں کا لٹریچر بھی برآمد ہوا تھا اور اس سمیت اسلامی جمعیت طلبہ کے دیگر اراکین پر طلبہ کو مذہبی اخلاقیات اپنانے پر مجبور کرنے کے الزامات بھی ہیں۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطابق وائس چانسلر کی جانب سے ان کی شکایات پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے وہ احتجاج اور تدریسی سرگرمیوں کے بائیکاٹ پر مجبور ہوئے تھے۔

 

طلبہ کی ہڑتال تین روز جاری رہی اور اس کے نتیجے میں ڈاکٹر انور شاہ کو ان کے عہدے سے ہٹا کر امانت علی کو ان کی جگہ تعینات کیا گیا ہے۔ طلبہ سے مذاکرات ڈین بایولاجیکل سائنسز ڈاکٹر وسیم احمد نے مذاکرات کیے تھے۔ پرووسٹ کی برطرفی کا فیصلہ وائس چانسلر اور دیگر فیکلٹی اراکین کی مشاورت سے کیا گیا۔ ڈاکٹر وسیم نے ہاسٹل سے نکالے گئے طلبہ کی بحالی کے لیے وائس چانسلر سے نظرِثانی کی اپیل کی ہے۔ دوسری جانب اسلامی جمعیتِ طلبہ کی جانب سے کالعدم تنظیموں سے تعلق اور ان کا لٹریچر تقسیم کرنے کے الزامات کی تردید کی گئی ہے۔
Categories
اداریہ

قائد اعظم یونیورسٹی؛ پرووسٹ کی برطرفی کے لیے طلبہ احتجاج، یونیورسٹی بند

اسلامی جمعیت طلبہ کی سرپرستی اور مالی معاونت کے الزامات کے تحت قائد اعظم یونیورسٹی کے پرووسٹ ڈاکٹر انور شاہ کی برطرفی کا مطالبہ کرنے والے طلبہ کے احتجاج کے باعث یونیورسٹی کی بس سروس اور تدریسی سرگرمیاں معطل ہو گئی ہیں۔ احتجاج کا آغاز پیر کی صبح ہوا۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ کے ایک رکن اور شعبہ کیمیا کے طالب علم فیاض ربانی کو پرووسٹ کی سرپرستی کے باعث ہاسٹل میں قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کمرہ مہیا کیا گیا۔ احتجاجی طلبہ کا کہنا ہے کہ فیاض ربانی کالعدم جہادی تنظیموں کا لٹریچر تقسیم کرنے کا بھی مرتکب ہوا ہے۔

 

یونیورسٹی کا ماحول خراب ہو رہا ہے

 

احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطابق فیاض باری اور دیگر اراکین جمعیت، یونیورسٹی پرووسٹ کی سرپرستی میں یونیورسٹی میں جمعیت کے اثرورسوخ میں اضافے کی کوشش میں مصروف ہیں جو یونیورسٹی کے تعلیمی ماحول کے لیے خطرناک ہے۔
تفصیلات کے مطابق 24 فروری کی شب بعض پشتون طلبہ نے فیاض باری کو اس کے ہاسٹل سے اٹھایا اور اس سے کالعدم تنظیموں سے روابط کا اعترافی بیان حاصل کرنے کے لیے زدوکوب کیا۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطابق فیاض باری اور دیگر اراکین جمعیت، یونیورسٹی پرووسٹ کی سرپرستی میں یونیورسٹی میں جمعیت کے اثرورسوخ میں اضافے کی کوشش میں مصروف ہیں جو یونیورسٹی کے تعلیمی ماحول کے لیے خطرناک ہے۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطابق فیاض کے پاس سے شدت پسند لٹریچر بھی برآمد ہوا اور انور شاہ کی جانب سے جمعیت کو دیے گئے چنفے کی دستخط شدہ رسیدیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے اراکین پر یونیورسٹی میں اپنا اثرورسوخ قائم کرنے کے لیے من پسند “مذہبی اخلاقیات” کے نفاذ کی کوششوں کا بھی الزام ہے۔

 

24 فروری کے واقعے کے خلاف ایک جانب اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا گیا جبکہ قائدیئن سٹوڈنٹ فیڈریشن (قوم پرست طلبہ کا متحدہ سیاسی پلیٹ فارم) کی جانب سے جمعیت کی انتظامی سرپرستی کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا گیا۔ لالٹین کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق قائدیئن سٹوڈنٹس فیڈریشن کی وائس چانسلر سے ملاقات کے بعد احتجاج ایک ہفتہ ملتوی کر دیا گیا۔

 

اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے 24 فروری کے واقعہ کے بعد شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ پریس کلب کے سامنے احتجاج کے دوران قوم پرست لسانی طلبہ تنظیموں کی جانب سے یونیورسٹی کا ماحول خراب کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے کسی بھی کالعدم، جہادی یا شدت پسند تنظیم سے روابط سے انکار کیا ہے۔ واقعہ کے خلاف فیاض ربانی کی جانب سے دی گئی درخواست میں نامزد طلبہ کے خلاف یونیورسٹی کی جانب سے سخت کارروائی کی گئی ہے اور تین طلبہ میرواعظ،زرق خان اور عادل کو تیس تیس ہزار جرمانے اور ہاسٹل بدری کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ سزا سنانے والی کمیٹی کی سربراہی بھی یونیورسٹی پرووسٹ انور شاہ کر رہے تھے۔

 

میرے لیے تمام طلبہ برابر ہیں

 

یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے پرووسٹ کے خلاف دی گئی درخواست پر کوئی کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے طلبہ نے احتجاج شروع کیا ہے جس میں بعض طلبہ کو سزا سنائے جانے کی وجہ سے شدت آ گئی ہے۔
انور شاہ نے کسی بھی طلبہ تنظیم کی سرپرستی یا اس سے وابستگی کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ “میرے لیے تمام طلبہ برابر ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کو سزا نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر دی گئی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے پرووسٹ کے خلاف دی گئی درخواست پر کوئی کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے طلبہ نے احتجاج شروع کیا ہے جس میں بعض طلبہ کو سزا سنائے جانے کی وجہ سے شدت آ گئی ہے۔

 

دھمکیاں اور اساتذہ میں تقسیم

 

قوم پرست طلبہ کے احتجاج سے پیدا ہونے والی صورت حال کے باعث یونیورسٹی وائس چانسلر کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اساتذہ کی تنظیم کی جانب سے پرووسٹ کے خلاف کارروائی کی صورت میں احتجاج کی دھمکی دی گئی ہے۔ تاہم اساتذہ کی ایک بھاری اکثریت قائدیئن سٹوڈنٹس فیڈریشن کے موقف کی حمایت کر رہی ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر لالٹین سے بات کرتے ہوئے ایک استاد کا کہنا تھا کہ 102 فیکلٹی اراکین میں سے 73 کی ہمدردیاں احتجاج کرنے والے طلبہ کے حق میں ہیں۔

 

احتجاج کرنے والے طلبہ کو اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے دھمکیوں کا بھی سامنا ہے، اسلای جمعیت طلبہ کے کیمپس اور کیمپس کے باہر موجود اراکین کی جانب سے قائدئین سٹوڈنٹس فیڈریشن کی حمایت کرنے والے طلبہ اور اساتذہ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انتھروپولوجی کے سرائیکی طلبہ اور ڈین سوشل سائنسز ڈاکٹر عالیہ بٹ کو بھی دھمکیاں موصول ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

 

مطالبات اور مذاکرات

 

یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے باوجود یونیورسٹی میں تدریسی سرگرمیاں بحال نہیں کی جا سکیں۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کی جانب سے اپنے مطالبات تسلیم کیے جانے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے باوجود یونیورسٹی میں تدریسی سرگرمیاں بحال نہیں کی جا سکیں۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کی جانب سے اپنے مطالبات تسلیم کیے جانے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ احتجاج کرنے والے طلبہ پرووسٹ ڈاکٹر انور شاہ کی برطرفی اور اسلامی جمعیت طلبہ کی انتظامیہ میں موجود حمایت کے خاتمے اور اس کی سرگرمیوں پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ طلبہ کا موقف ہے کہ سروس رولز سرکاری ملازمین کو کسی بھی سیاسی سرگرمی میں براہ راست شامل ہونے سے منع کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ قائد اعظم یونیورسٹی میں موجود یگانگت اور ہم آہنگی کا ماحول برقرار رکھنے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ بائیو کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کے ڈاکٹر وسیم احمد طلبہ سے مذاکرات کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جلد اس مسئلے کو حل کر لیا جائے گا۔

 

پاکستانی جے این یو؟

 

بعض حلقے اس احتجاج کو دلی میں جواہر لال نہرو یونویرستی کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں اور ان کے خیال میں دونوں میں کافی مشابہت موجود ہے۔ این ایس ایف کے ایک سابق رکن اشتیاق احمد کے مطابق جے این یو میں بھی ایک دائیں بازو کی مذہبی جماعت کو سرکاری سرپرستی میں موقع دیا گیا کہ وہ وہاں کے سیکولر اور جمہوری ماحول پر اپنا اثرورسوخ بڑھائیں جبکہ یہاں بھی اسلامی جمعیت طلبہ کو سرکاری سرپرستی میں قوم پرست اور ترقی پسند طلبہ کے خلاف صف آراء کیا جاتا ہے۔ اشتیاق نے قوم پرست طلبہ کی جانب سے جمعیت کارکن کو زدوکوب کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ یہ طریقہ مناسب نہیں تھا۔

 

اسلامی جمعیت طلبہ اور قوم پرست طلبہ تنظیموں کے مابین اس سے قبل کراچی یونیورسٹی، پنجاب یونیورسٹی اور پشاور یونیورسٹی میں بھی تشدد کے واقعات ہو چکے ہیں۔
Categories
اداریہ

شعبہ لسانیات قائد اعظم یونیورسٹی کی بندش پر طلبہ کا احتجاجی مظاہرہ

campus-talksقائد اعظم یونیورسٹی میں معدوم ہو جانے کے خطرے سے دوچار زبانوں اور کلینیکل لسانیات کی تدریس کا واحد شعبہ بند کیا جارہا ہے۔ یہ شعبہ اس نوعیت کے مضامین پڑھانے کا واحد پاسکتانی شعبہ ہے۔ شعبہ لسانیات قائداعظم یونیورسٹی کی بندش کا فیصلہ سنڈیکیٹ سے منظور ہونے پر شعبہ کے اساتذہ اور طلبہ نے وائس چانسلر کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا۔ اس فیصلے کے خلاف سو سے زائد طلبہ نے 4 دسمبر کو مظاہرہ کرتے ہوئے شعبہ لسانیات کو بحال رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سنڈیکیٹ قائد اعظم یونیورسٹی کے مطابق شعبہ لسانیات کو مرحملہ وار بند کیا جائے گا تاکہ پہلے سے داخل شدہ طلبہ اپنی ڈگریاں مکمل کر سکیں۔ یونیورسٹی نے یہ فیصلہ اس شعبے کے “معاشی بوجھ” بن جانے کی وجہ سے کیا ہے۔

 

قائد اعظم یونیورسٹی میں معدوم ہو جانے کے خطرے سے دوچار زبانوں اور کلینیکل لسانیات کی تدریس کا واحد شعبہ بند کیا جارہا ہے۔ یہ شعبہ اس نوعیت کے مضامین پڑھانے کا واحد پاسکتانی شعبہ ہے۔
مظاہرے میں شریک طلبہ کے مطابق مرحلہ وار بند کیے جانے کی وجہ سے وہ اپنی موجودہ ڈگریاں تو مکمل کر سکیں گے لیکن مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے انہیں دیگر اداروں کا رخ کرنا پڑے گا۔ ایک اور طالب علم علی کے مطابق یہ ادارہ بند کیا جانا مقامی زبانوں کی تدریس اور لسانی علوم کی ترویج کے لیے نقصان دہ ہے،”یہ واحد ادارہ ہے جو مقامی زبانوں سمیت لسانیات کے درسی اور عملی ہر دو طرح کے مضامین میں اعلیٰ تعلیم کے کورسز پڑھا رہا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ بجائے اس کے کہ یونیورسٹی ان مضامین میں ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرام شروع کرتی انتظامیہ نے اس ادارے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی اساتذہ بھی اس کے حق میں نہیں لیکن اس شعبے کو ایک بوجھ قرار دے کر بند کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق شعبہ لسانیات کی بندش کے فیصلے کے خلاف 200 اساتذہ کے دستخطوں کے ساتھ ایک پٹیشن بھی صدر پاکستان کے ہاں جمع کرائی ہے۔

 

مظاہرین نے فیصلے کے دوران انتظامیہ پر بے قاعدگی کا الزام بھی عائد کیا۔ مظاہرین کے نزدیک وائس چانسلر نے یہ معاملہ اکیڈمک کونسل میں نہیں اٹھایا جو کسی تدریسی پروگرام کے اجراء یا بندش کا مقررہ انتظامی فورم ہے جس کی تجویز پر اکیڈمک کونسل فیصلہ کرتی ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی اکیڈمک کونسل کے صدر سعیدالحان نیازی کے مطابق اس فیصلے کے لیے اکیڈمک کونسل سے رابطہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق اپریل میں اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی جس نے اس شعبے کے تدریسی پروگراموں کو دیگر سعبہ ہائے تدریس میں شامل کرنے یا ان کی نوعیت بدلنے کی تجویز دی تھی لیکن سنڈیکیٹ اراکین نے اس کے برعکس اس شعبے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔
وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی ڈاکٹر جاوید اشرف کے مطابق شعبہ لسانیات کی بندش کا فیصلہ دو ماہ قبل کیا گیا تھا جس پر اب احتجاج معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ اس شعبے کو معاشی بوجھ ہونے کی وجہ سے بند کیا گیا ہے بلکہ “اس حوالے سے تمام ضروری امور اور پہلووں کا جائزہ لیا گیا تھا۔ ” انہوں نے بدانتظامی کے تاثر کو بھی رد کیا اور کہا کہ یونیورسٹی سنڈیکیٹ انتظامی امور پر فیصلہ سازی کے لیے اعلیٰ ترین ادارہ ہے۔

 

اپریل میں اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی جس نے اس شعبے کے تدریسی پروگراموں کو دیگر سعبہ ہائے تدریس میں شامل کرنے یا ان کی نوعیت بدلنے کی تجویز دی تھی لیکن سنڈیکیٹ اراکین نے اس کے برعکس اس شعبے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔
شعبہ لسانیات کی موجودہ سربراہ ڈاکٹرعمیمہ کامران نے مطالبہ کیا ہے کہ اس شعبے کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ اسے بند کرنے کی بجائے اس میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی کلاسیں شروع کی جائیں، انہوں نے کہا کہ یہ سوچ غلط ہے کہ لسانیات کی کوئی عملی یا معاشی اہمیت نہیں۔ لسانیات کی عمرانی علوم میں اہمیت مسلم ہے۔
انگریزی روزنامے دی نیشن پر اس حوالے سے چھپنے والی اسماء غنی کی ایک رپورٹ میں شعبہ لسانیات قائد اعظم یونیورسٹی کے بانی سربراہ ڈاکٹر طارق رحمان کی ای میل کا حوالہ موجود ہے جنہوں نے لسانیات کے شعبے کی بندش پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر طارق رحمان کے مطابق معاشی بنیادوں پر علوم کو جانچنے کی بناء پر زیادہ تر علمی ورثہ ‘بے کار’ قرار دے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ گویائی کے نقائص، مشینی ذہانت پر تحقیق اور زبانوں کی پیمائش کے لیے علوم لسانیات اہم ہیں۔ انہوں نے اطلاقی اہمیت کے علاوہ لسانیات کو سماج، سیاست اور شخصیت کو سمجھنے کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

 

قائد اعظم یونویرسٹی میں لسانیات کا شعبہ 2012 میں قائم کیا گیا تھا جس میں اس وقت 118 طلبہ زیر تعلیم ہیں اور معدوم ہو جانے کے خطرے سے دوچار زبانوں، عملی لسانیات اور مقامی زبانوں سمیت دیگر مضامین میں ماسٹرز تک تعلیم دی جا رہی ہے۔ یہ شعبہ معروف دانشور ڈاکٹر طارق رحمان کی 20 سالہ کوششوں کے بعد قائم کیا گیا تھا۔
Categories
اداریہ

قائد اعظم یونیورسٹی؛ امتحانات میں غلط سوالیہ پرچہ تقسیم ہونے پر پرچہ ملتوی

قائد اعظیم یونیورسٹی اسلام آباد کے تحت جاری بی-اے، بی –ایس –سی اور بی-کام امتحانات کے دوران سال سوم کے طلبہ میں سال چہارم کا پرچہ تقسیم ہونے کی وجہ سےیونیورسٹی سے منسلک 14 کالجز کے طلبہ کو پرچہ دیے بغیر گھر جانا پڑا۔ اطلاعات کے مطابق قائد اعظم یونیورسٹی کے سال سوم کے طلبہ کو جغرافیہ کے پرچہ کے دورانسال چہارم کا سوالیہ پرچہ تقسیم کردیا گیا جسے طلبہ کے احتجاج کے بعد واپس لے لیا گیا ۔
“پرچہ واپس لینے کے بعد ہمیں انتظار کرنے کو کہا گیا کہ جلد ہی نیا سوالیہ پرچہ تقسیم کیا جائے گا۔لیکن ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کے بعد ہمیں گھر بھیج دیا گیا۔ ” پوسٹ گریجویٹ کالج سیکٹر F-7/2کے باہر موجود طلبہ نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ امتحانی عملہ کے مطابق موصول ہونے والے سوالیہ پرچوں کے بنڈل پر سال سوم لکھا ہو تھا جب کہ سوالات سال چہارم کے سلیبس سے دیے گئے تھے۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے اس غلطی کی نشاندہی کے لئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور ملتوی کیا گیا پرچہ 24 مئی کو لینے کا اعلان کیا ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی کی جانب سے منعقدہ امتحانات کے دوران غلط رول نمبر سلپس اور ڈیٹ شیٹ کی تقسیم سمیت دیگر انتظامی بے قاعدگیوں کے باعث طلبہ حلقوں نے یونیورسٹی انتظامیہ پر شدید تنقید کی ہے اور اصلاح کا مطالبہ کیا ہے۔
Categories
خصوصی

قائدِاعظم یونیورسٹی میں طالبعلم کا پراسرار اغوا

campus-talks

رضوان اسماعیل
(قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد)قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کا شمار ملک کی بہترین یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔ کچھ دن قبل گلگت سے تعلق رکھنے والے مدثر شین نامی ایک طالبعلم یونیورسٹی ہاسٹل سے پر اسرار طریقے سے غائب ہوگئے۔مدثر یونیورسٹی کی طلبہ سیاست میں کافی نمایاں تھے اور ان کا تعلق قا ئدِ اعظم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی گلگت کونسل سے تھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اتنے بڑے واقعےپر کوئی کارروائی نہیں کی۔ یہاں تک کہ طلبا کی ایک بڑی تعداد نےمظاہرے کیے اور اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس بھی کی۔ اس کےباوجودبھی اس وقعے کی ایف آئی آر نہیں کاٹی گئی۔ پریس کانفرنس میں طلبہ نے جماعتِ اسلامی اور اس کی طلبا تنظیم پرمدثر کے اغوا کا الزام عائدکیا۔ اغوا کے 8 دن بعد مدثر زخمی حالت میں ہوسٹل کے پاس پائے گئے۔ ان کے جسم پر شدید تشدد کے نشانات بھی ہیں اور وہ بہت زیادہ سہمے ہوئے ہیں۔ اس واقعے کے بارے میں وہ کچھ بھی کہنے سے گریزاں ہیں۔
اس مجموعی صورتِ حال سے ایک بات سامنے آتی ہے کہ اس گھناونے واقعے کے پیچھے کوئی بڑی سازش کار فرما ہے جس کے محرکات سیاسی ہیں۔ تاہم یہ اپنی نوعیت کا انتہائی غیر معمولی واقعہ ہے اور ماضی قریب میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یونیورسٹی کے سیاسی ماحول کے سیاق و سباق میں یہ بات غور طلب ہے کہ حال ہی میں کُچھ عناصر یونیورسٹی کے پرامن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جس میں ثقافتی سرگرمیوں کو روکنا اور مختلف طلبا تنظیموں کے عہدے داروں اور کارکُنوں کو ہراساں کرنا شامل ہے۔ گلگت کونسل اور دوسرے طلبہ گروہوں کا کہنا ہے کہ یہ تخریب پسند گروہ مذہبی تنظیموں بالخصوص جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم کا حصہ ہیں اور ان کا مقصد یونیورسٹی کے اندر گُٹھن، یکسانیت اور مُتشدد مذہبی رویوں کو ہوا دینا ہے۔
یونیرسٹی کی نمائندہ اور سرگرم طُلبا تنظیم قا ئدِ اعظم اسٹوڈنٹس فیڈریشن چھ علاقائی کونسلز بشمول پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی، گلگت اور پنجاب پہ مشتمل ہے ۔ گزشتہ کئی سالوں سے اس تنظیم نے طلبا کے بُنیادی مسائل کے حل سے لے کر غیر نصابی سرگرمیوں خصوصی طور پر یوتھ کلچرل پروگرامز (فن فیئرز) اور کلچرل ڈسپلے کے حوالے سے بہت اہم اقدار اور روایات کو فروغ دیاہے۔ جس میں طلبا نہ صرف مختلف ثقافتی سرگرمیوں جیسا کہ موسیقی، روایتی رقص اور طرزِلباس وغیرہ سے لُطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ اُن کے اندر باہمی رواداری اور برداشت جیسے جذبات بھی پروان چڑھتے ہیں۔
یونیورسٹی طلبا کا یہ ٹھوس مطالبہ ہے کہ مدثر کے اغوا کی مکمل تفتیش کر کے ذمہ داروں کو سزا دی جائے اورقبل اس کے کہ ایسا کوئی واقعہ دوبارہ رونما ہو، کسی بھی تخریبی عنصر یا جماعت کو یونیورسٹی میں جڑ پکڑنے سے روکا جائے ۔

(Published in The Laaltain – May 2013)

Categories
خصوصی

Quality Education Compromised

campus-talks
Quaid e Azam University (QAU) is recognized by HEC as the number 1 university in Pakistan. But it has some major problems which are undermining the quality of education. University’s resources are under tremendous stress due to the huge number of students enrolling each semester. The University has recently introduced a BS programme but it does not have enough resources to accommodate all students. We lack classrooms, lecturers, hostel accommodation (especially for BS students). Transport is another big problem. There are only few buses available and sometimes there isn’t even enough space to stand in the bus. University authorities blame government for not providing enough funding to the university. This is partly true. Unlike other private universities, QAU cannot increase the fee structure steeply. In order to boost its revenue, the admin has increased the number of students on open merit and on self-finance scheme. To enhance the quality of education the university should firstly reduce the number of students. Additional funds from the government could improve the situation, but only if managed properly.

(A student from Quaid-e-Azam University Islamabad)

(Published in The Laaltain – Issue 7)

Categories
اداریہ

Students protest at Quaid-e-Azam University

Recently, there was a standoff between students and the Quaid-e-Azam University, Islamabad, administration. The students were protesting against increasing fees and demanding better facilities on the campus. Since the university administration was ignoring their demands, the students argued, they had decided to set up Quaidians Students Federation (QSF), a student body that would work to protect the rights of the university students. The protesting students demanded that the university administration stop widespread corruption and recognize QSF as a representative student body. The university management remained unresponsive to students’ legitimate demands and kept on employing the delaying tactics for months.

This stalemate eventually led to cancellation of an international conference on the campus, as the students broke into the venue and started chanting slogans. Following the incident, the administration responded aggressively, expelling 11 students from the university. After this there was a huge mobilization of students against the admin decision to which it ultimately succumbed and had to restore the expelled students.

If there is one lesson one can learn from the fiasco, it is this: students must have a platform where they may organize themselves and from which they may voice their grievances. Political process is always an antidote to violence. The denial of on campus politics will result only in further such deadlocks, as mentioned above, which will definitely harm the educational environment. It is high time the government fulfilled its promises and removed the unjustifiable ban on student unions.