Categories
خصوصی

اٹھاؤ پرچم تحقیق ہرچہ بادا باد۔۔۔روئیداد خودی مشاعرہ

1459167_688882147789265_1320336212_n
اردو میں شعر کہنے کی روایت کو عالمی شعری سرمائے میں شاید سب سے عظیم قرار نہ دیا جا سکے، لیکن شعر سننے اور سراہنے کی مجلسی روایت، اور روزمرہ گفتگو یا رسمی تحریر و تقریر میں اشعار نقل کیے جانے کا چلن، اردو والوں کے ہاں کسی طور بھی عربی یا فارسی تہذیبوں اور دبستانوں سے کم تر نہیں ہے۔ اگر لگے بندھے معیارات اور عمومی شعری ذوق سے کچھ دیر صرفِ نظر کر کے محض روز مرہ ابلاغ میں شاعری کے عمل دخل کو ہی پیمانہ بنایا جائے تو ہند و پاک کے لوگ مشرق و مغرب کی سبھی دوسری تہذیبوں سے آگے نظر آتے ہیں۔سیاسی تقریریں اور عدالتی فیصلے ہوں یا دل جلوں کے ذاتی خطوط اور پیغام ہوں،کچی سڑکوں پر کھڑکھڑاتی پبلک بسوں کی باڈیاں ہوں یا پکی قبروں کے دلگیر کتبے، شعر و شاعری کوہر جگہ ایک تہذیبی فریضہ سمجھ کر نقل کیا جاتا ہے۔ شاعری کے ساتھ اس والہانہ لگاؤ کی بدولت اس خطے میں مشاعرے کے ادارے کی صورت میں شعر سننے سنانے کی ایک ایسی روایت نے جنم لیا ہے، جس کی مثال (مشرقِ وسطی کے چند ایک معاشروں کے استثنا کے ساتھ) دنیا بھر میں کہیں نہیں ملتی۔ مشاعرے کی روایت کی شکل میں شعر کو سماعت کرنا، محض ایک خواص پسند علمی و ادبی کام سے آگے بڑھ کر ایک مکمل سماجی اور ثقافتی سرگرمی کا روپ دھار چکا ہے۔ان نشستوں میں عرضِ سخن اور دادِ سخن کا عمل، دوسرے تمام روایتی ذرائع کی نسبت زیادہ براہ راست اور والہانہ ہوتا ہے۔ پرانی اردو تہذیب اپنی تمام تر پرپیچ رسوم اورڈھب ڈھنگ کے ساتھ رو بہ زوال ہوئی تومشاعروں کی محفلوں نےبدلتے وقت کے ساتھ اپنے ڈھنگ بدل کر، نئے عہد میں قدم رکھا۔ درباروں اور حویلیوں سے نکل کر شائقین شعر کے نجی حلقوں،تعلیمی اداروں اور منظم سماجی اداروں وغیرہ کے توسط سےیہ روایت چند بدلے ہوئے اطوار کے ساتھ، گئے دور کی ایک خوشنما یادگار کے طور پر آج بھی پورے وقار سے قائم ہے۔نوجوانوں کی سماجی تنظیم خودی پاکستان کی سہ روزہ سالانہ سرگرمی ‘خودی فیسٹیول آف آئیڈیاز’ اس برس کچھ اس وجہ سے بھی منفرد رہی کہ اس بار خودی میلے کےمکالموں کا آغاز شاعری کی زبان میں ہوا۔میلے کے پہلے دن 25 اکتوبر کو ملک بھر سے آئے نوجوان مندوبین کا باقاعدہ استقبال ایک پروقار شعری نشست سے کیا گیا، جس میں استاد شعراء سمیت لاہور اور دیگر شہروں سے آئے نوجوان شعراء و شاعرات نے اپنا اپنا کلام پیش کیا۔ مشاعرے کا مرکزی خیال شاعر شباب اور شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کے اس مصرع کو بنایا گیا تھا؛
“اٹھاؤ پرچم تحقیق، ہر چہ بادا باد “اپنے اپنے اسالیب کے نمائندہ 12 شعراء پر مشتمل اس مشاعرے کی صدارت اردو کے معتبر شاعر، ادیب اور محقق ڈاکٹر خورشید رضوی نے کی، مہمان خصوصی نامور شاعر اور لکھاری جناب نذیر قیصر تھے، جبکہ نظامت کے فرائض اسد فاطمی کے سپرد تھے۔شعرائے کرام کی آمد کے ساتھ ہی ان کا خیر مقدم کیا گیا اور صدر مشاعرہ کی اجازت سے مشاعرے کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ شروع میں ناظم مشاعرہ نے حاضرین کو مشاعرے کے مرکزی خیال کے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ شاعری پر، ہر طرح کے فکری اور حسی میلان رکھنے والے کا، برابر کا دعوی ہے۔ شاعری بیک وقت آذری بھی ہے اور ابراہیمی بھی۔ تحقیق کی چنگاری نفی اور اثبات کے دونوں پتھروں کی باہمی ضرب سے پیدا ہوتی ہے۔سماج کی ترقی میں مکالمے اور استدلال کی دوطرفگی کی اہمیت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق کا پرچم ہی دراصل قوموں کی قیادت اور سیادت کا پرچم ہے۔

سیاسی تقریریں اور عدالتی فیصلے ہوں یا دل جلوں کے ذاتی خطوط اور پیغام ہوں،کچی سڑکوں پر کھڑکھڑاتی پبلک بسوں کی باڈیاں ہوں یا پکی قبروں کے دلگیر کتبے، شعر و شاعری کوہر جگہ ایک تہذیبی فریضہ سمجھ کر نقل کیا جاتا ہے۔

خلاف روایت شعر خوانی کا آغاز ناظم مشاعرہ نے اپنے کلام کی بجائےفیصل آباد کے صاحب طرز جوان شاعر علی زریون کی ایک نظم سے کیا، جو کہ نہایت ناگزیر نجی مصروفیات کی وجہ سے مشاعرے میں شرکت نہیں کر پائے تھے، لیکن انہوں نے بصدمحبت اپنی نظم “میں شبد ہوں” مشاعرے کے سامعین کے لیے لکھ بھیجی تھی۔ اس نظم کو سامعین میں بہت سراہا گیا۔

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں زیر تعلیم تازہ کار شاعر اختر منیر کی شاعری کا بڑا موضوع لڑکپن کے عشق کے دوران کے راز و نیاز ہیں۔ سامعین غزل نے دل کھول کر ان کے کلام پر ان کی حوصلہ افزائی کی؛
مری عادت ہے، میں تنہا کبھی بھی رہ نہیں سکتا
مری عادت بدلنے تک تو میرے پاس رہ جاؤ

نصراللہ حارث ایک پختہ اسلوب کے شاعر اور یونیورسٹی آف انجنئیرنگ ٹیکنالوجی لاہور میں زیر تعلیم ہیں۔ ان کے اشعار کو شائقین غزل میں خوب سراہا گیا؛
شعر اچھا ہو تو دیوان سے باہر جھانکے
کان کا رزق ہے بھائی جو سنائی دیوے

تہذیب حافی کا تعلق تونسہ سے ہے اور وہ لاہور میں مقیم ہیں۔ ان کے اشعار
کو محفل میں بہت داد دی گئی؛
جس کی چھاؤں میں تجھے پہلے پہل دیکھا تھا
میں اسی پیڑ کے نیچے تری بیعت کروں گا
اب ترے راز سنبھالے نہیں جاتے مجھ سے
میں کسی روز امانت میں خیانت کروں گا

شازیہ نورین کا تعلق گجرات سے ہے اور وہ ان اٹلی کے شہر میلان میں مقیم ہیں؛
اب دیکھ لیا اپنے رویوں کا نتیجہ؟!
اجڑا ہوا یہ خواب نگر دیکھ رہے ہو؟!

عثمان ضیاء خوش اسلوب شاعر اور حلقۂ ارباب ذوق لاہور کے جوائنٹ سیکرٹری ہیں؛
پھر اس کے بعد لذت گریہ نہیں ملی
اک رات مجھ سے تیری کمی چھین لی گئی
حماد نیازی نوجوان شعراء میں ایک نمایاں نام ہیں، ان کی غزلوں پر سامعین نے دل کھول کر داد دی؛
ہم اس خاطر تری تصویر کا حصہ نہیں تھے
ترے منظر میں آ جائے نہ ویرانی ہماری

توقیر عباس آج کی غزل میں ایک اہم نام ہیں، ان کی شاعری نے شائقین سخن سے خوب داد وصول کی؛
ٹھہرے پانی پہ ہاتھ مارا تھا
دوستوں کو کہاں پکارا تھا
چھوڑ آیا تھا میز پر چائے
یہ جدائی کا استعارہ تھا

ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ ایف سی کالج لاہور میں اردو کی معلمہ اور درجن بھر کتابوں کی مصنفہ ہیں؛
دریا کی مسافت نے زمیں کا نہیں چھوڑا
یکطرفہ محبت نے کہیں کا نہیں چھوڑا

ڈاکٹر تیمور حسن پیشے کے اعتبار سےاستاد ہیں، بصارت سے محروم ہیں اور شعر خوانی میں ان کا انداز نہایت منفرد اور بھرپور ہے۔ کلام سنا چکنے کے بعد حاضرین کے اصرار پر مزید کلام سنانے کے لیے شعرخوانی کی نشست پر دوبارہ آنا پڑا اور ان سے فرمائش پر ان کی متعدد معروف غزلیں سنی گئیں؛
میرے بیٹے، میں تمہیں دوست سمجھنے لگا ہوں
تم بڑے ہو کے مجھے دنیا دکھانا مرے دوست
میں مقابلے میں شریک تھا فقط اس لیے
کوئی مجھ سے آ کے یہ پوچھتا، ترا کیا بنا

حاضرین محفل میں سے بیشتر لوگوں نے اس تقریب کو اپنی زندگی کی ایک یادگار شام قرار دیا۔ خودی ٹیم ارکان پرعزم ہیں کہ شعروسخن کی محافل کو شہری ثقافت میں اپنے پرانے مقام پر لانے کی کوششوں میں وہ مقدور بھر اپنا حصہ ڈالتے رہیں گے اور مستقبل میں بھی صحتمند تفریح اور سنجیدہ سامعین کے ذوق کی آبیاری کے لیے اس شام سے ملنے والی سرشاری کے اعادے کا سامان کرتے رہیں گے۔

شہزاد نیر کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے اور وہ راولپنڈی میں مقیم ہیں۔فلمسازی اور سپہ گری کے کاموں سے وابستہ ہیں لیکن شاعری ان کی بنیادی شناخت ہے۔ ان کی نظم “ہدایتکار” کو سامعین میں خوب سراہا گیا، نظم کے علاوہ انہوں نے متعدد غزلیں بھی حاضرین کی خدمت میں پیش کیں اور بے پناہ داد پائی؛
چلتے پھرتے کہیں بندش کا گماں تک نہ رہے
اس نے انسان کو اس درجہ کشادہ باندھا

نذیر قیصر اردو اور پنجابی شاعری دونوں میں یکساں طور پر معتبر حوالہ ہیں، ان کے لکھے ہوئے گیت ہندو پاک کے ریڈیو، فلموں اور ٹیلی ویژن میں دو دہائیوں سے گونج رہے ہیں۔ اردو میں بارہ اور پنجابی میں دو شعری مجموعوں کے خالق ہیں۔وہ اس محفل کے مہمان خصوصی تھے؛
در و دیوار یونہی دیکھتے رہ جائیں گے
اے پری زاد اڑا کر تجھے لے جاؤں گا
مجھ کو بھی علم ہے کہ شمع نہیں، آگ ہے تو
اپنے دامن میں لگا کر تجھے لے جاؤں گا
ہم دونوں کے خواب کہاں مل سکتے ہیں
تم نے رات، تو ہم نے عمر گزاری ہے

صدر محفل ڈاکٹر خورشید رضوی تقریب کے آخری سخن ور تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے جملہ شعری مجموعے، “یکجا” کے نام سے کلیات کی صورت شامل ہو چکے ہیں۔ تخلیق کے ساتھ ساتھ تحقیق کا پرچم بھی تھامے ہوئے ہیں اور قبل از اسلام کے عرب ادب کی مفصل تاریخ کے مولف ہیں۔ غزل گوئی کے معاصر افق پر ان کا وجود اپنے عہد کی ایک عظیم حجت کے معنی رکھتا ہے۔ ان کی بہت سی زبان زد عام غزلیں فرمائش پر سنی گئیں؛
میں عمیق تھا، کہ پلا ہوا تھا سکوت میں
یہ جو لوگ محو کلام تھے، مجھے کھا گئے
جو کھلی کھلی تھی عداوتیں، مجھے راس تھیں
یہ جو زہر خند سلام تھے، مجھے کھا گئے
پیش آئینہ لبھاتا ہے بڑھاپے کا وقار
ہم نہیں کہتے کہ افسوس، جوانی افسوس

اس محفل میں اگرچہ مشاعرے کی بہت سی روایتوں سے انحراف بھی کیا گیا، تاہم روایت کے بہت سے پہلوؤں کو بہ خوبی محفوظ کیا گیا۔ سامعین محفل نے نہایت سلیقے سے اشعار کو سماعت کیا اور دل کھول کر داد دی۔ شیبا چوہدری اور ساتھی رضاکار ٹیم نے اسٹیج کی پروقار آرائش کے ذریعے مشاعرے کو حاضرین کے لیے ایک خوشگوار سمعی و بصری تجربہ بناکر پیش کیا۔ دوران محفل شعراء اور حاضرین کو پان پیش کیے گئے اور اگربتی کی روایتی خوشبو کے ساتھ شام کو مزید خوشگوار احساس کے ساتھ ہمکنار کیا گیا۔ مشاعرے کی پرانی روایت میں دوران محفل اچھے اشعار پر تالیوں سے داد دینے کو معیوب سمجھا جاتا تھا تاہم حالیہ دہائیوں میں داد سخن کے لیے یہ تاثر پوری طرح قبول عام پا چکا ہے۔ اس محفل کی ابتداء میں چند منچلوں نے سیٹیوں کے ذریعے شعراء تک داد پہنچائی تاہم بعد میں ناظم مشاعرہ کی گزارش کو مانتے ہوئے داد سخن کا ابلاغ زبانی واہوا اور تالیوں سے ہی کیا جاتا رہا۔ صدر مشاعرہ کے کلام سنا چکنے کے بعد ناظم مشاعرہ نے معزز شعراء، سامعین اور رضاکار ٹیموں کا شکریہ ادا کیا اور جناب صدر کی اجازت سے محفل کو برخاست کرنے کا اعلان کیا تاکہ شعراء اور شائقین شعر کھانے کے میز پر براہ راست باہم گھل مل سکیں۔

حاضرین محفل میں سے بیشتر لوگوں نے اس تقریب کو اپنی زندگی کی ایک یادگار شام قرار دیا۔ خودی ٹیم ارکان پرعزم ہیں کہ شعروسخن کی محافل کو شہری ثقافت میں اپنے پرانے مقام پر لانے کی کوششوں میں وہ مقدور بھر اپنا حصہ ڈالتے رہیں گے اور مستقبل میں بھی صحتمند تفریح اور سنجیدہ سامعین کے ذوق کی آبیاری کے لیے اس شام سے ملنے والی سرشاری کے اعادے کا سامان کرتے رہیں گے۔


Categories
اداریہ

خودی فیسٹیول آف آئیڈیاز

عمید ملکFoi report

پاکستان مختلف لسانی اور نسلی گروہوں کا مجموعہ ہے اور پاکستان کے بہت سے ثقافتی مسائل کی جڑ مختلف گروہوں میں آپس کی سماجی اجنبیت اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد ہے۔ اب تک مقتدر حلقوں نے لوگوں کی گروہی شناختوں کو قبول کرنے کی بجائے ان کی نفی کرتے ہوئے، گروہوں کے مابین فاصلے بڑھائے ہیں، جس سے یہ ثقافتی گروہ قومی دھارے کا حصہ بننے کی بجائے، ان میں رسہ کشی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہر کوئی اپنی ہی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے۔ پاکستان کا ہر کونہ دوسرے دوسرے سے اجنبی ہے اور جہاں ہمیں یہ تمام گروہ اکٹھے نظر آتے ہیں، وہاں ان فاصلوں کی وجہ سے کراچی کے سے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ وقت کی ضرورت ہے کہ مقتدر حلقے ان تمام گروہوں کو ایک اعتماد دیں اور برابری کی سطح پر ان کے حقوق انہیں لوٹائیں۔

گزشتہ ہفتے اسی ثقافتی رنگارنگی کو جس احسن رنگ میں خودی پاکستان کے فیسٹیول آف آئیڈیاز میں نمایاں کیا گیا ہے، وہ داد کے قابل ہے۔ خودی پاکستان نے ملک کے تقریبا تمام نسلی و لسانی گروہوں کے نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا کہ وہ سب ایک ساتھ ایک جشن کی صورت میں منا سکیں۔

آج کا پاکستان جس سماجی ابتری کا شکار ہے اور جس طرح پاکستانی ایک دوسرے سے اجنبی ہیں، ایسے میں ڈھول کی تھاپ پر پیچیدہ مسائل کو زیر بحث لانا مختلف گروہوں کا ان پر مکالمہ کروانا ان کی مخالفانہ آراء لینا اور پھر مسائل کے حل کی طرف گامزن ہونا، پاکستانی قوم کے مزاج کے لحاظ سے جوے شیر لانے کے مترادف ہے۔

آج کا پاکستان جس سماجی ابتری کا شکار ہے اور جس طرح پاکستانی ایک دوسرے سے اجنبی ہیں، ایسے میں ڈھول کی تھاپ پر پیچیدہ مسائل کو زیر بحث لانا مختلف گروہوں کا ان پر مکالمہ کروانا ان کی مخالفانہ آراء لینا اور پھر مسائل کے حل کی طرف گامزن ہونا، پاکستانی قوم کے مزاج کے لحاظ سے جوے شیر لانے کے مترادف ہے۔ خودی پاکستان نے یہ تمام کام نہایت احسن رنگ میں سرانجام دیا ہے۔

خودی پاکستان کے میلے کا آغاز جمعہ کے روز مصنف، فلم ساز و سابق وفاقی وزیر جاوید جبار کی تقریر سے ہوا جس میں انہوں نے ان خیالات کا اظہار کیا پاکستان کا وجود اپنے آپ میں ایک نیا خیال تھا۔ ملک کے قیام کے وقت وسائل نہایت قلیل تھے۔ ایسے میں انتھک محنت، لگن اور ایمان کی وجہ سے پاکستان آج اس مقام پر کھڑا ہے۔

ابتدائی تقریر کہ بعد ملک کے مختلف مقامات سے آئے ہوئے نمائندوں نے اپنی اپنی مقامی موسیقی پر رقص پیش کیا۔ یہ منظر بڑے دلفریب تھے کیونکہ اس سے تمام مختلف علاقوں سے آئے ہوئے نوجوان نمائندوں کو ایک دوسرے سے گھلنے ملنے کا موقع ملا اور اجنبیت کا خاتمہ ہوا۔ نوجوان دوسرے علاقوں کی لوک موسیقی پر رقص سے ناصرف محظوظ ہوتے رہے بلکہ بہت سوں نے خود اس میں شرکت بھی کی۔ فیسٹیول میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ تمام علاقوں کی موسیقی کو موقع ملے۔ میکال حسن بینڈ نے بھی جب دوسرے دن اپنے فن کا مظاہرہ کیا تو تمام صوبوں اور علاقوں کے گیتوں کو جگہ دی۔ نوجوان ٹولیاں اس دوران رقص کرتی رہیں۔ البتہ رقص کا انداز روایتی گیتوں کے ساتھ ساتھ بدلتا رہا اور اس تدبیر سے مکالمہ کے لیے نہایت سازگار ماحول پیدا ہو گیا۔

ہم جدید دنیا کو قدیم عینک سے دیکھ رہے ہیں، ممتاز قانون دان اور کالم نگار سروپ اعجاز کا کہنا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملالہ کے خیالات ہمیں پریشان کر دیتے ہیں، کیونکہ یہ ہماری 15-16 سال کی لڑکی کے بارے میں روایتی سوچ سے مطابقت نہیں کھاتے۔ ایک موقعہ پر انہوں نے کہاکہ لبرل حلقوں کو اب مشہور قدامت پرستانہ نظریات کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔

دوسرے دن کے سیشن کا آغاز جمہوری تغیر کے عنوان پر نشست سے ہوا۔ شرکاء میں جناب طاہر مہدی، فہد حسین، اور ڈاکٹر تیمور رحمان شامل تھے۔ اس نشست میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ جمہوریت صرف ایک طرز حکمرانی نہیں بلکہ یہ ایک طرز زندگی ہے۔اصل جمہوری تبدیلی لانے کے لئے ہمیں جمہوری روایات کو گھر اور دفاتر سمیت زندگی کے تمام پہلووں پر نافذ کرنا چاہیے۔
ایک اور نشست میں بانی جماعت اسلامی کے بیٹے حیدر فاروق مودودی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مذہب کے بےجا سیاسی استعمال نے پاکستان کو جہنم بنا دیا ہے۔ انھوں نے مزید کہاکہ پاکستان کسی مذہبی اختلاف کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے سیاسی وجوہات تھیں۔ انھوں نے مذہب کو ریاست کے معاملات سے جدا رکھنے پر زور دیا۔

دوسرے دن کی کاروائی میں سب سے زیادہ توجہ کا مرکز اے این پی کے مرکزی لیڈر اور سابق صوبائی وزیر میاں افتخار حسین کی تقریر تھی۔ میاں افتخار حسین نے شدت پسندی اور طالبانائزیشن کی روک تھام پر کلیدی خطاب کیا۔ اپنے خطاب کے دوران سابق وزیر نے پی ٹی آئی کی موجودہ مذاکراتی عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے مذاکرات کے لئے اب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا اور یہ سارا بوجھ وفاق کے کندھوں پر ڈال کہ سبکدوش ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عمران خان نے اب تک طالبان کے 53 دھڑوں میں سے جن کا وہ کہتے ہیں مذاکراتی عمل شروع نہیں کیا۔ میاں افتخار حسین سے کہا کہ اگر میرے جیسا سیاسی ورکر طالبان کے آفس بتا سکتا ہے تو پھر حکومت کو کیسے نہیں پتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے شدت پسندی کے خلاف اپنی سوچ نہ بدلی اور اور شدت پسندوں کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھایا تو اے این پی کے 800 سے زائد شہید ورکرز کی قربانیاں رائیگاں جائیں گی جن میں ایک میرا بیٹا بھی ہے۔ سابق وزیر نے طالبان سے مذاکرات کے ضمن میں اپنے ذاتی تجربات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہاکہ مذاکرات کرنا پک نک منانے کی طرح نہیں کہ طالبان پشاور میں آفس کھول لیں۔ بلکہ مذاکرات میں بھی جان ہتھیلی پر رکھنا پڑتی ہے اور طرح طرح کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایاز امیر صاحب نے کہاکہ مولوی کبھی بھی اتنا طاقتور نہیں ہوا تھا کہ وہ ریاست کو ان حالات تک پہنچا دے، ملک کے موجودہ حالات کا ذمہ دار مولوی نہیں بلکہ سول اور ملٹری لیڈر شپ کا سیکولر طبقہ ہے۔

فیسٹیول کا تیسرا اور آخری دن کافی گہما گمی کا مرکز رہا۔ سنسر شپ اور عوامی مکالمہ پر گفتگو کے دوران شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تاریخ میں ردوبدل اور مذہبی اوہام پرستی نے پاکستانی معاشرے کو مکالمے اور اختلاف کے بارے میں عدم برداشت کا شکار کر دیا ہے۔ معروف قانون دان یاسر لطیف ہمدانی نے اس بات پر زور دیاکہ اگر ہم پاکستان کو ترقی کرتے دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ریاست سے مذہب کو علیحدہ کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا معاشرہ جو واحد فکری نظام کو نافذ کرنے پر مائل ہو وہاں کسی مخالف رائے کو برداشت کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ محقق عامر مغل کے مطابق پاکستانی مسائل کے حل سے فرار کے لئے مسائل کے وجود کی ہی نفی کر دیتے ہیں۔

ایک اور نشست جو پاکستان عالمی میدان میں کے موضوع پر تھی شرکاء نے اتفاق کیا کہ پاکستانیوں کی دنیا کے بارے میں رائے عدم اعتماد اور حقارت پر مبنی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دنیا کے بارے میں اپنا علم بڑھائیں تاکہ ہمارا روایتی تنگ نظر طرز عمل تبدیل ہوسکے کہ دنیا ہمارے ملک کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔

ہم جدید دنیا کو قدیم عینک سے دیکھ رہے ہیں، ممتاز قانون دان اور کالم نگار سروپ اعجاز کا کہنا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملالہ کے خیالات ہمیں پریشان کر دیتے ہیں، کیونکہ یہ ہماری 15-16 سال کی لڑکی کے بارے میں روایتی سوچ سے مطابقت نہیں کھاتے۔ ایک موقعہ پر انہوں نے کہاکہ لبرل حلقوں کو اب مشہور قدامت پرستانہ نظریات کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔
ریڈیو پاکستان کے سابق ڈائریکٹر مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے موجودہ حالات کی ذمہ دار ہمارا کمزور تعلیمی نظام ہے جو غور و فکر کی نفی کرتا ہے۔

جو بات اس فیسٹیول کی خاص تھی وہ یہ کہ اس فیسٹیول میں اس بات کا خیال رکھا گیا تھا کہ مسائل کا حل امن و امان سے یکسو ہو کر ڈھونڈا جائے۔ تمام شرکاء کی رائے لی جائے مگر روز روز کے ٹی وی ٹاک شوز کی طرح جمعہ بازار نہ لگایا جائے۔

دانش مصطفیٰ جو کنگز کالج لندن میں جیوگرافی کے پروفیسر ہیں نے اپنے خیالات کا اظہار کرنے ہوئے کہاکہ پاکستان خارجی تنہائی کا شکار ہے،’اسلام خطرے میں ہے’ جیسی سوچ نے ہمیشہ ہمیں دنیا سے خوف میں مبتلا رکھا۔
فیسٹیول کا اختتام معروف سیاست دان اور کالم نگار ایاز امیر کی تقریر پہ ہوا۔ ایاز امیر صاحب نے کہاکہ مولوی کبھی بھی اتنا طاقتور نہیں ہوا تھا کہ وہ ریاست کو ان حالات تک پہنچا دے، ملک کے موجودہ حالات کا ذمہ دار مولوی نہیں بلکہ سول اور ملٹری لیڈر شپ کا سیکولر طبقہ ہے۔ سابق پارلیمنٹرین نے کہاکہ جناح کی وفات کے بعد ایک کے بعد دوسرا بد سے بدتر لیڈر آتا گیا اور یہی پاکستان کی بدبختی ہے۔ موجودہ وزیراعظم کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حالیہ امریکا کے دورے کے دوران باراک اوباما کے سامنے ہمارا وزیرِاعظم ایک سہما ہوا جوان طالبعلم لگ رہا تھا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج پاکستان کو درست لیڈرشپ کی ضرورت ہے جو پاکستان کو صحیح سمت فراہم کر سکے۔ ایاز امیر نے کہا پاکستان کو دو تاریخی واقعات نے بہت تبدیل کیا۔ ایک 1965 کی جنگ نے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان نفرت کی خلیج آگئی اور دوسرا افغان جنگ نے جس نے سماجی طور پر پاکستان کو بہت متاثر کیا۔

ایاز امیر صاحب کی تقریر کے بعد خودی فیسٹیول آف آئیڈیاز اختتام پذیر ہوگیا مگر جو بات اس فیسٹیول کی خاص تھی وہ یہ کہ اس فیسٹیول میں اس بات کا خیال رکھا گیا تھا کہ مسائل کا حل امن و امان سے یکسو ہو کر ڈھونڈا جائے۔ تمام شرکاء کی رائے لی جائے مگر روز روز کے ٹی وی ٹاک شوز کی طرح جمعہ بازار نہ لگایا جائے۔ بلا شبہ جس طرح مسائل کے حل کو اجتماعی جستجو سے ڈھونڈنے کی جو روایت “خودی پاکستان” نے شروع کی ہے اس کو قائم رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔


فیسٹیول کی تصاویر کے لیے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
https://www.facebook.com/khudipakistan/photos_stream