انسانی ہاتھوں کی زنجیر کے ذریعے اقلیتوں سے اظہار یکجہتی

22 مارچ کی صبح یوحنا آباد حملوں پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے طلبہ نے نولکھا پریسبیٹیرین چرچ کے باہر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر اقلیتوں کے تحفظ اور ان سے اظہار یکجہتی کا عزم کیا۔

"لطیف جوہر بھوک ہڑتال پر ہے اور زاہد بلوچ لاپتہ؛ باقی سب خوف زدہ ہیں”

لاہور پریس کلب کے سامنے بدھ 14 مئی کو بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے بلوچ طالب علم نے نام نہ بتانے کی شرط پر لالٹین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ بھوک ہڑتال کیمپ میں شریک طلبہ ۱۸ مارچ کو کوئٹہ سے اغوا ہونے والے بلوچ طلبہ رہنما زاہد بلوچ اور لیاری شرفا کمیٹی کے چیرمین لعل محمد بلوچ کے بیٹے نعمان بلوچ کی بازیابی کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔

غیر مسلم طلبہ سے مسلم عقائد سے متعلق سوال کیوں؟

پاکستانی نظام تعلیم اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے لئے کس قدر تنگ نظر اور ناقابل برداشت ہے ،اس کا اندازہ رواں برس پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے بی –اے سالانہ امتحانات میں لیا جانے والا اخلاقیات کا پرچہ دیکھ کر بخوبی کیا جا سکتا ہے۔