خودکشی پر مائل معاشرے کے خدوخال
کراچی میں اسماعیلی برادری کے قتل عام کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے بعض ایسے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے جنہیں اسماعیلی افراد کے قتل عام اور کراچی میں سبین محمود کے قتل کے علاوہ دہشت گردی کی کئی دوسری وارداتوں میں ملوث قرار دیا جارہا ہے۔
ہمارا اور کوئی مدعا نہیں
١٣ مئی کو کراچی میں اسماعیلی فرقے پر حملے نے جہاں ایک طرف مختلف ضربوں اور ناموں کے ساتھ کیے جانے والے فوجی آپریشنوں کی قلعی کھول دی تو دوسری طرف ملک کی اندر بسنے والی مذہبی اقلیتوں کی لاچاری کو بھی آشکار کر دیا۔
مجلس احرار سے مولوی عبدالعزیز تک
آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں سیاست دانوں کے عوامی بیانات و تقاریر پر بہت زیادہ حساسیت پائی جاتی ہے ؟ان کے ایک ایک لفظ کو حب الوطنی کی چھلنی میں سے انتہائی باریک بینی سے گزارا جاتا ہے جب کہ دوسری طر ف نام نہاد دین فروشوں کے بدترین اور متنازعہ ترین بیانات بھی عوامی احتجاج کو اکسانے میں ناکام رہتے ہیں۔
“پاکستان ہم نہیں تم توڑنا چاہتے ہو”
بظاہر پاکستان میں بلوچوں کی بات کرنا منع ہے اور اکیس ہزار لاپتہ بلوچوں اور چھ ہزار مسخ شدہ لاشوں کی بات کرنا ممنوع تر۔
درخواست بنام سالار اعظم برائے حصول سند وفاداری و حب الوطنی
مودبانہ گزّارش ہے یہ حقرے ،فیرن، پُر تصیر آپ کی خدمت میں ایک درخواست لےکر حاضر ہوا ہےمگر اپنا مدّعا بیان کرنے سے قبل ہوش و حواسِ خمسّہ سےزیادہ اپنی چھٹی حِس کو بروئے عمل لاتے ہوئے اگر جان کی امان ہو تویہ عرض کرنا چاہتا ہے:
وہ جن کا نام کسی فہرست میں نہیں
کہنے کو تو یکم مئی مزدوروں کا دن ہے اور دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی یہ پورے اہتمام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
پاکستان سائبر مارشل لاءکی راہ پر-اداریہ
بظاہرپاکستانی پارلیمان جمہوریت کی اس بنیادی اساس کے ہی درپے ہے جو اس ایوان کے انتخاب کا آئینی جواز ہے۔
ماما قدیر کالعدم تنظیموں سے زیادہ سنگین خطرہ ہے-اداریہ
ماماقدیر کو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں بلائے جانے پر ملکی خفیہ اداروں کا دباو اور مذاکرے کی منسوخی پاکستانی تعلیمی اداروں میں آزادی اظہاررائے کے حوالے سے موجود دہرے معیار کی نشاندہی کے لیے کافی ہیں۔
پورا ملک تھر کا منظر پیش کرے گا
“پانی کا موثر استعمال ہی آنے والے دنوں میں ہمیں اس کی فراہمی ممکن بنا سکتا ہے” یہ بات 20 مارچ 2015 کو اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ورلڈ واٹر ڈویلپمنٹ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔
قائد کی 11 اگست کی تقریر نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ
آٹھویں سے دسویں جماعت تک کی کتب میں قائد اعظم کی گیارہ اگست کی تقریر کے اقتباسات شامل کیے جائیں گے۔
موت کی خبر اپنی اہمیت کھو چکی ہے
پاکستان میں “موت” کی خبر اپنی اہمیت کھو چکی ہے، لوگ ناگہانی اموات کے عادی ہو چکے ہیں۔
پرخطر ممکنات میں گھرامستقبل
پشاور حملے کے تقریباً دو ماہ بعد بھی ابھی تک یہ غیر واضح ہے کہ پاکستان نے اپنی سمت تبدیل کی ہے کہ نہیں۔
مذہبی آزادی مگر اپنے رِسک پر
11 اگست 1947 کی تقریر میں قائد اعظم محمد علی جناح کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر کوئی اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لیے آزاد ہوگامگر بد قسمتی سے جناح صاحب ایک اضافی جملہ کہنا بھول گئے “اپنے رِسک پر”۔
بلوچ عورت کی تحریک
ایک روایتی معاشرہ بھی عجیب ہوتا ہے ؛اپنے رواجوں روایتوں میں سب اچھائیاں تلاش کرتا رہتا ہے۔
چنن پیر: صحرائے چولستان میں امن و آشتی کا نمونہ
بہاول پور سے تقریباً 60میل دور صحرائے چولستان میں قلعہ دراوڑ اور دین گڑھ کے درمیان پنجاب کی رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑی تحصیل یزمان سے ذرا آگے چنن پیر کا مزار ہے۔