Laaltain

خودکشی پر مائل معاشرے کے خدوخال

کراچی میں اسماعیلی برادری کے قتل عام کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے بعض ایسے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے جنہیں اسماعیلی افراد کے قتل عام اور کراچی میں سبین محمود کے قتل کے علاوہ دہشت گردی کی کئی دوسری وارداتوں میں ملوث قرار دیا جارہا ہے۔

ہمارا اور کوئی مدعا نہیں

١٣ مئی کو کراچی میں اسماعیلی فرقے پر حملے نے جہاں ایک طرف مختلف ضربوں اور ناموں کے ساتھ کیے جانے والے فوجی آپریشنوں کی قلعی کھول دی تو دوسری طرف ملک کی اندر بسنے والی مذہبی اقلیتوں کی لاچاری کو بھی آشکار کر دیا۔

مجلس احرار سے مولوی عبدالعزیز تک

آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں سیاست دانوں کے عوامی بیانات و تقاریر پر بہت زیادہ حساسیت پائی جاتی ہے ؟ان کے ایک ایک لفظ کو حب الوطنی کی چھلنی میں سے انتہائی باریک بینی سے گزارا جاتا ہے جب کہ دوسری طر ف نام نہاد دین فروشوں کے بدترین اور متنازعہ ترین بیانات بھی عوامی احتجاج کو اکسانے میں ناکام رہتے ہیں۔

درخواست بنام سالار اعظم برائے حصول سند وفاداری و حب الوطنی

مودبانہ گزّارش ہے یہ حقرے ،فیرن، پُر تصیر آپ کی خدمت میں ایک درخواست لےکر حاضر ہوا ہےمگر اپنا مدّعا بیان کرنے سے قبل ہوش و حواسِ خمسّہ سےزیادہ اپنی چھٹی حِس کو بروئے عمل لاتے ہوئے اگر جان کی امان ہو تویہ عرض کرنا چاہتا ہے:

پورا ملک تھر کا منظر پیش کرے گا

“پانی کا موثر استعمال ہی آنے والے دنوں میں ہمیں اس کی فراہمی ممکن بنا سکتا ہے” یہ بات 20 مارچ 2015 کو اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ورلڈ واٹر ڈویلپمنٹ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

مذہبی آزادی مگر اپنے رِسک پر

11 اگست 1947 کی تقریر میں قائد اعظم محمد علی جناح کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر کوئی اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لیے آزاد ہوگامگر بد قسمتی سے جناح صاحب ایک اضافی جملہ کہنا بھول گئے “اپنے رِسک پر”۔

بلوچ عورت کی تحریک

ایک روایتی معاشرہ بھی عجیب ہوتا ہے ؛اپنے رواجوں روایتوں میں سب اچھائیاں تلاش کرتا رہتا ہے۔