Laaltain

عمران خان میں تبدیلی آچکی ہے

جنرل ضیاء الحق کی موت کے بعد 1988ء میں بینظیر بھٹو جب پہلی مرتبہ وزیراعظم بنی تو تھوڑے ہی عرصہ بعد ضیاء دور کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے بینظیر بھٹو کے شوہرآصف علی زرداری کو مسٹر ٹین پرسینٹ کا خطاب دیا۔

قصہ قائد کے عقیدے کا

جب بھی پاکستان کا کوئی قومی تہوار آتا ہے تو قلم کے مزدور قائد اعظم کی 11اگست کی تقریر اور ان کے عقیدے پر اپنی اپنی آراء ، تبصروں اور تشریحات کے تیشے تاریخ کے سینے پر چلانے لگتے ہیں ۔

دھابے جی آئے تو بتانا

مہاتما بدھ نے کہا تھا کہ لوگ بچوں کی طرح ہوتے ہیں، یہ قصے کہانیوں، واقعات اور داستانوں میں بڑی دلچسپی رکھتے ہیں اور انہیں سننے اور دیکھنے کی تمنا بھی رکھتے ہیں۔

پیپلز پارٹی بدعنوانوں کا ٹولہ ہے

ذوالفقار علی بھٹو پر اُن کے مخالفین بہت سےالزامات لگاتے ہیں مگراُن کے ایک کٹر نظریاتی مخالف جماعت اسلامی کے سابق نائب امیر پروفیسر غفور احمد مرحوم سے کئی برس پہلے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا بھٹو صاحب مالی خوردبرد میں ملوث تھے تو پروفیسر غفور نے جواب دیا تھا کہ بھٹو پر ہر الزام لگایا جاسکتا ہے لیکن بھٹو پر مالی بدعنوانی اور لوٹ مار کا الزام کوئی نہیں لگاسکا۔

شخصی آزادی پرعسکری شب خون — اداریہ

پاکستان میں شہریوں، سیاستدانوں اور عدالت عالیہ کے ججوں کی غیر قانونی نگرانی کا انکشاف ملک میں شخصی آزادی کو درپیش خطرات کی محض ایک جھلک ہے۔ انٹرنیٹ امور پر نظر رکھنے والی برطانوی تنظیم پرائیویسی انٹرنیشنل کی جاری کردہ حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی خفیہ ادارے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور ملک […]

!تبدیلی ٓا گئی ہے

یاد ہے کہ 2006 میں سیالکوٹ میں دو نوجوان بھرے بازار میں تن تنہا پارٹی کی رکنیت سازی مہم کے دوران لوگوں کو روک روک کر تبدیلی کے سفر کا مسافر بنا رہے تھے۔

ایک نامعلوم صوبے کی دریافت

“پاکستان کے چار صوبے ہیں؛ پنجاب، پنجاب کے جنوب میں واقع صوبہ جہاں مہاجر اور وڈیرے رہتے ہیں اور پنجاب کے مغرب میں واقع صوبہ جہاں نسوار بہت استعمال ہوتی ہے، لوگ کندھوں سے بندوقیں لٹکائے پھرتے ہیں اور پشتو فلمیں بنتی ہیں۔ ”

!شعر اور اس کی تشریح

کچھ دن ہوتے ہیں وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف پنڈی اسلام آباد میٹرو بس کی افتتاحی تقریب میں ایک مجمعے سے مخاطب تھے۔

سیکولرازم کیوں ضروری ہے؟

برما کے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم اور ان مظلوموں کے حق میں کیے جانے والے احتجاج کو مذہبی رنگ دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مذہب سیاسی مقاصد کے لیے کس قدر آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔