اب کوئی آواز آتی نہیں

وجاہت مسعود: جوانی کے کچھ بعد
کان بہت تیز ہو جاتے ہیں
بس ناک اور کان کے بیچ
جھولتا ہوا پل
منہدم ہو جاتا ہے
اور کوئی آواز نہیں آتی
کان بہت تیز ہو جاتے ہیں
بس ناک اور کان کے بیچ
جھولتا ہوا پل
منہدم ہو جاتا ہے
اور کوئی آواز نہیں آتی
ایک پتھر خواب کا المیہ

ایچ-بی- بلوچ: پانی کا قطرہ
لاکھ چاہے اسے گوندھے
اسے پتھر نہیں بنا سکت
لاکھ چاہے اسے گوندھے
اسے پتھر نہیں بنا سکت
رستے میں کھو جانے والا اعتبار

ثاقب ندیم: چشمِ دشت میں وحشت دیکھ کر بھی
وہ ڈرتا نہیں
کہ دشت اور شہر ترازو میں
ہم وزن ہو چکے ہیں
وہ ڈرتا نہیں
کہ دشت اور شہر ترازو میں
ہم وزن ہو چکے ہیں
ہمارے لیے صبح کے ہونٹ پر بددعا ہے

سرمد صہبائی: سنو شہر والو
کہاں ہے ہمارے لہو کی بشارت
ہمارے پراسرار خوابوں کا موسم
کہاں ہے ہمارے لہو کی بشارت
ہمارے پراسرار خوابوں کا موسم
اچانک مر جانے والے لوگ

سید کاشف رضا: موت ایک اہم کام ہے
اسے یکسو ہو کر کرنا چاہیئے
یا سارے کام نمٹا کر
اسے یکسو ہو کر کرنا چاہیئے
یا سارے کام نمٹا کر
روٹی کے ٹکڑے کے لئے ایک جنگ

سدرہ سحر عمران: جب بارود کا دن آتا ہے
لاشیں گنتی میں بدل جاتی ہیں
لاشیں گنتی میں بدل جاتی ہیں
عریاں بدن کا مستور چہرہ

حسین عابد: وہ عورت
جو سڑک پر اپنا بدن بیچتی ہے
اس کے کئی چہرے ہیں
جو سڑک پر اپنا بدن بیچتی ہے
اس کے کئی چہرے ہیں
نیند پری کی موت

علی محمد فرشی: ننھے نور بھرے ہاتھوں سے
کالی پالش کی ڈبیا گر پڑتی ہے
اور گلوب کی صورت گھومنے لگتی ہے
کالی پالش کی ڈبیا گر پڑتی ہے
اور گلوب کی صورت گھومنے لگتی ہے
قبرستان کے نل پر

شارق کیفی:
سو کون کتنا برا ہے یہ بات بھول کر
صرف نل چلاؤ
چلائے جاؤ
کہ جب تلک بھیڑ میں ہر اک خاص و عام کے
پاؤں نہ دھل جائیں
سو کون کتنا برا ہے یہ بات بھول کر
صرف نل چلاؤ
چلائے جاؤ
کہ جب تلک بھیڑ میں ہر اک خاص و عام کے
پاؤں نہ دھل جائیں
ہماری خاموشی، تمہاری داستانیں

تنویر انجم: ہمیشہ رہے گا
ہماری خاموشی اور تمہاری داستانوں کے درمیان
ایک گہرا ربط
جوتمہیں نہیں معلوم
ہماری خاموشی اور تمہاری داستانوں کے درمیان
ایک گہرا ربط
جوتمہیں نہیں معلوم
عشرہ // ہر کسی کو مار دو

ادریس بابر: کچھ کہے یا نہ کہے، کچھ کرے یا نہ کرے
جو تمہیں نہیں پسند، کل کیا آج ہی مرے!
تم سے جتنا ہو سکے، زندگی کو مار دو — ہر کسی کو مار دو
جو تمہیں نہیں پسند، کل کیا آج ہی مرے!
تم سے جتنا ہو سکے، زندگی کو مار دو — ہر کسی کو مار دو
خوبانی

عمران ازفر: خوبانی ہے
جلتے جسم کی حیرانی میں
تازہ نرمیلی قاشیں ہیں
جو اک تھال کے بستر اوپر
لمبی تان کے سوتی ہیں اب
بیج بدن میں پھوٹتے ہیں
اور آنکھیں خوشبو بوتی ہیں
جلتے جسم کی حیرانی میں
تازہ نرمیلی قاشیں ہیں
جو اک تھال کے بستر اوپر
لمبی تان کے سوتی ہیں اب
بیج بدن میں پھوٹتے ہیں
اور آنکھیں خوشبو بوتی ہیں
ہمیں کروٹ بدلنے کی مہلت بھی نہیں ملتی

عذرا عباس: وقت تشدد کی چوکڑی بھرتا ہوا
ہمارے بیچوں بیچ سے نکل جاتا ہے
ہمارے بیچوں بیچ سے نکل جاتا ہے
عشرہ // ناموسِ رسالت کا ٹھیکیدار

ہمراز سروانی: یہ مذہب نام کی افیم ہمیں کب تک سنگھاو گے؟
عشرہ // اوور کوٹ

جنید الدین: کیوں اس نے وہ فلمیں دیکھیں
جن میں اس کی دلچسپی اداکاروں کے تاثرات دیکھنے کی بجائے
سب ٹائٹلز دیکھنے کی طرف رہی
جن میں اس کی دلچسپی اداکاروں کے تاثرات دیکھنے کی بجائے
سب ٹائٹلز دیکھنے کی طرف رہی