Laaltain

عشرہ // موت

حماد نیازی: کوئی واج لگاتا جائے
ایک ہی گیت سناتا جائے
اکڑ بکڑ بھمبا بھو۔۔۔
اسی نوے پورا سو

عشرہ // دل ڈھونڈتا ہے

حماد نیازی: ایک منظر جو کسی بھی آنکھ نے دیکھا نہ ہو
ایک دریا جس کے اندر کوئی بھی ڈوبا نہ ہو
ایک لمحہ جو رواں ہو اور کبھی گزرا نہ ہو
ایک دن جس دن سے پہلے رات کا سایہ نہ ہو

دریا مرتا جاتا ہے

عمران ازفر:
گرتے پڑتے یگ میں تم بھی
شام ڈھلے تک آ جانا کہ اس سے پہلے
چرخہ کاتتے، ریشم بنتے، خواب سجاتے
ہاتھوں میں جب چھید پڑیں تو
بوڑھا دریا کچی مٹی کے پہلو میں
لحظہ لحظہ مرتا جائے

پینے لوپیا

زید سرفراز: پینے لوپیا!
اتلس کی بیٹی تم سے زیادہ خوبصورت نہیں ہے.
اتھینہ ہمالیہ سے لوٹے گی
اولمپس پر زیوس اس کی بات پر کان
دھرے گا
بس ریت مٹھی سے پھسلنے نہ پائے

پھول تمہارے ساتھ ہیں

اسرمد بٹ: تم بھڑوں کے چھتے میں
ایک شہد کی مکھی ہو
تمہیں وحی کو پرفارم کرنا ہے
وحی جو تم پر کی گئی ہے

بلڈ پریشر

رضی حیدر: “بام فردوس سے کودیں گے حشیشین ابھی !
منہ میں دابے ہوئے طوماروں پہ پیغامِ خدا!
برہنہ حرف معانی کے لبادے اوڑے
اک گرانڈیل سے سائے کی طرح رقصاں ہیں
آتشِ خرد کے، الحاد کے گرد
اک پریزاد کے گرد ۔۔۔”

ہم سورج سے زیادہ معصوم ہیں

ایچ-بی- بلوچ: بڑھاپا کسئ چیز کو
اچھا رہنے کے قابل نہیں چھوڑتا
اس لیئے
سورج، مذہب اور انا
جب ہماری ناک جلانے لگیں
تو ہمیں کھڑکی بند کر لینی چاہئے

ڈنر سے پہلے

یسریٰ وصال: برقی چاند کی لو میں
آمنے سامنے بیٹھے
ایک دوسرے کو پی رہے ہیں

مٹھی بھر جہنم

سدرہ سحر عمران: تم نے مذہب کو گولی سمجھا
اور
ہمارے جنازوں پہ دو حرف بھیج کر
اسلحہ کی دکانیں کھول لی

میری تاریخ کا لنڈا بازار

سرمد صہبائی:
اس تاریخ کے میلوں پھیلے بازاروں میں
میرے ناپ کا کوئی کوٹ نہیں ہے
شاید میرے قد کا کوئی سورما نہیں ہے

کاری

ناصرہ زبیری: اندھے، بہرے، مردہ، بے چہروں کی اس بستی کے بیچ
زندہ ہے پھر بھی دیکھو
میری صاف بصارت بھی
میری تیز سماعت بھی

ایک باپ کے آنسو

عذرا عباس: ایک باپ کے آنسو
ہم ٹشو پیپر میں رکھ چھوڑیں گے
اور اسے کبھی سوکھنے نہیں دیں گے