Laaltain

نظم مجھے ہر جگہ ڈھونڈ لیتی ہے

نصیر احمد ناصر: میں اُسے نہیں لکھتا
وہ مجھے لکھتی رہتی ہے
اَن کہے، اَن سنے لفظوں میں
اور پڑھ لیتی ہے مجھے
دنیا کی کسی بھی زبان میں

پانچواں مفرد

نصیر احمد ناصر: اگر تم میں انتظار کی شکتی ہوئی
تو میں عناصر کی نئی ترتیب کے ہمراہ
تمہیں ملنے آؤں گا

ایک ہذیانی لمحے کا عکس

جمیل الرحمان: سورج مکھی
تیرے شہر میں دن راستہ بھول گیا
تیرے مکینوں کی لاشیں خاک پر اوندھے منہ پڑی رہیں
اور تیرے سورج کو بیڑیاں پہنا دی گئیں
کیا تیرے شہر میں کوئی ایسی شام تو دفن نہیں
جس کے کتبے کا حاشیہ لکھنے والے بد ہیئت ہاتھ
ستاروں کے لہو سے لتھڑے ہوئے تھے؟؟؟؟

کئی دن سے آنکھوں میں آنسو نہیں تھے

نصیر احمد ناصر: مجھے تم بتاؤ!
میں لفظوں کے کیپسول کھا کھا کے کب تک جیوں گا
یہ نظموں کا سیرپ بھی کب تک پیوں گا
یہ ملبوسِ انفاس کامل ہی اب پھٹ چکا ہے
اسے اور کتنا سیوں گا ۔۔۔۔۔۔۔ ؟

پانی میں گم خواب

نصیر احمد ناصر: رقص کے تماشے میں
ارض و شمس ہوتے ہیں
اور خدا نہیں ہوتا

خوابوں کی افادیت

نصیر احمد ناصر: خواب دیکھتے ہوئے
کچھ بھی کیا جا سکتا ہے
مثلآ گدھے کی سواری
شیر کے ساتھ دوست

عشرہ/ جنگ کی خوشگوار شام

ادریس بابر: تابکاری کا امریکی صدارتی انتخابات پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا
روسی صدر کی اپنے چینی ہم منصب سے پانچ منٹ گفتگو
قدیم تہذیبوں کی تباہی لمحہء فکریہ ہے، عالمی رہنماؤں کا شدید ردعمل

عشرہ/ جنگ کی خوشگوار صبح

ادریس بابر: پراٹھا جانے کب سے یخ ٹھنڈا ہو رہا
چائے پکنے میں ابھی کتنی دیر اور ہے
ویسے اسے کوئی ایسی خاص بھی بھوک نہیں

شب خیزیا

نصیر احمد ناصر: ایک خواب
ہر شب میری نیند میں داخل ہو جاتا ہے
کسی خفیہ راستے سے
میرے وجود کا خود کار حفاظتی نظام
اسے ٹریس نہیں کر پاتا

صبح و شام کے درمیان

جمیل الرحمان: سورج دیوتا نے
شہزادے کا رتھ الٹ دیا
شہزادے کا کچھ پتہ نہین چلا
لیکن
شہزادی کی لاش کے ٹکڑے
راہگیرون کو گھاٹی میں ملے