مجھے ایک سرجن کی تلاش ہے

حسین عابد: میں اس مجنون نوحہ گر کے ساتھ اب نہیں جی سکتا
میں دل کے اس چھوٹے سے ٹکڑے کے ساتھ جیوں گا
جو اندھا دھند گالیوں سے لبریز ہے
حطؔاب کہو، اب کیا بیچو گے؟

نصیر احمد ناصر: حطاب کہو !
بے کاری کے دن کیسے کاٹو گے؟
کن پیڑوں پر وار کرو گے؟
روشنی زیادہ اہم ہے لالٹین سے

نزار قبانی: روشنی زیادہ اہم ہے
لالٹین سے
نظم زیادہ اہم ہے
بیاض سے
اور بوسہ زیادہ اہم ہے
ہونٹوں سے
ناف کٹوانے کی سزا

صفیہ حیات: کائناتی برتن میں آنسو اتنے جمع ہو گئے ہیں
کہ بارش کی بھی ضرورت نہیں
کائی میں لپٹی بیوہ

صفیہ حیات: وہ بدن پہ مرد کے نام کی
جمی کائی کھرچتی رہی
کائنات کا آخری دکھ

حفیظ تبسم: پھر خداکے نام کی تختی دیکھ کر گھنٹی بجانے والوں نے
کٹہرے کو کئی بار چوما
اور اندھیرے کے آگے سجدہ ریز ہوگئے
آگاہی

حسین عابد: بچہ روشن دان سے آتا ہے
آسمان سے
یا ماں کے پیٹ سے
وہ ہمیں نہیں بتاتے
خدا زمین پر صبحیں لکھنا بھول گیا ہے

نصیر احمد ناصر: وہ محض نظمیں لکھ سکتے ہیں
یا زیادہ سے زیادہ
مرگِ خود پر
تعزیتی قرارداد پیش کر سکتے ہیں!
میں تمہاری موت پر رو سکتی تھی

تنویر انجم:اگر تم نے مجھے ریچارج کر لیا ہوتا
تو میں تمہاری موت پر رو سکتی تھی
ہاں میری محبوبہ

سرمد صہبائی: لفظ سے لفظ بنانے والے
کوئی بھی غم ہو
لفظ کی گولی رنگ بدلتے لمحوں کی گنگا میں گھول کے پی جاتے ہیں
پھر سویرا ناچ رہا ہے

عمران ازفر: شب بھر میں نے
تجھ کو دیکھا,خود کو ڈھونڈا
اور سویرا سر پر آ کر ناچ رہا ہے
کجلا چکے جذبوں سے آخری مصافحہ

محمد حمید شاہد: تمہاری انا زدگی نے
مجھے گھسیٹ کر
ڈوبتی امید کے اس چوبی زینے پر لاکھڑا کیا ہے
کایا کا کرب

آفتاب اقبال شمیم: اس نے چاہا
بند کمرے کی سلاخیں توڑ کر باہر نکل جائے
مگر شاخوں سے مرجھائے ہوئے پتوں کی صورت
ہاتھ اس کے بازوؤں سے
گر چکے تھے
وہ ایک چوکی جڑی ہوئی ہے (گلزار)

گلزار: لکیر اپنی جگہ سے ہٹتی نہیں، نہ ہٹتا ہے وہ سپاہی
چَھپے ہوئے لفظ کی طرح سے پڑے ہیں دونوں
اجنبی جگہیں

ابرار احمد: دریچے، آنکھیں بن جاتے ہیں
ایک اجنبی باس
الوہی سرشاری سے
ہمارے مساموں میں اتر جانے کو بے چین ہو جاتی ہے