چُندھا

نصیر احمد ناصر: اگر کوئی اچانک روشنی کر دے
تو کیا تم دیکھ پاؤ گے
ابد کی دھند میں لپٹی
ازل سے منتظر
آنکھیں کسی کی ۔۔۔۔۔۔؟
نئے گوتم کا اُپدیش

نصیر احمد ناصر: دکھ ڈائری میں نہیں لکھا جا سکتا
نہ کسی نظم میں ڈھالا جا سکتا ہے
آج کے دن

تنویر انجم:فرج کو کھانوں سے بھرو
اور دفتر کی تیاری کرو
آج کے دن نظموں کو چھٹی دے دو
آنسوؤں کی سیڑھی

مصطفیٰ ارباب: میں نے
آنسوؤں سے
ایک سیڑھی بنائی ہے
بھوک کی قاتلانہ سازش

سلمیٰ جیلانی: کوڑا چننے والا لڑکا
روٹی کے ٹکڑے کی تلاش میں
کتنی دیر سے کھڑکی کے سامنے پڑے
کوڑے کے ڈھیر کو
الٹ پلٹ رہا ہے
مٹی کی بد ہضمی

صفیہ حیات: امیرانہ ڈسٹ بن سے اٹھائی لپ اسٹک
فاقہ زدہ روپ کو سنوارنے سے انکار کرتی
نالیوں میں بہہ جاتی ہے
زندگی درختوں سے گرتے پتوں سے بدتر ہے

عذرا عباس: فسا د کے پھیلاؤ میں
زندگی درختوں سے گرتے پتوں سے بدتر ہے
پاؤں کے نیچے آ جانے والے پتے
تم جو آتے ہو

ابرار احمد: تم جو آتے ہو
تو ترتیب الٹ جاتی ہے
دھند جیسے کہیں چھٹ جاتی ہے
سراب میں جل پری

حسین عابد: سمندر یہ زہر نہیں دھو سکتا
جو میری آنکھوں، رگوں
روئیں روئیں میں ٹھاٹھیں مارتا ہے
وقت کا نوحہ

ثروت زہرا: میرے روئی کے بستروں کے سلگنے سے
صحن میں دُھواں پھیلتا جا رہا ہے
گھروں کی چلمنوں سے اُس پار
باہر بیٹھی ہَوا رو رہی ہے
نظم (تصنیف حیدر)

تصنیف حیدر: خودکشی حرام نہیں
بلکہ ایمان کی پہلی شرط ہے
لال پلکا

نصیر احمد ناصر: کھول کر دیکھوں
لکھا ہے کیا خطِ تقدیر میں
کتنے یگوں کی قید ہے
کتنی رہائی ہے
منی پلانٹ

ثروت زہرا: پرائے اجنبی آنگن میں
ڈالر اور درہم کے لیے
سینچا گیا ہوں
ﺩﻧﯿﺎ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ

زاہد امروز: ﺩﻧﯿﺎ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺗﻢ
ﺳﺮﻣﺎ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﮐﯽ ﭨﮭﻨﮉﮎ ﮨﻮ
کائنات کا آخری اداس گیت

نصیر احمد ناصر: کوئی اپنی غیر مرئی انگلیوں سے
پیانو کو چھیڑتا ہے
اور کہیں بہت قریب سے
ساکن اور بےآواز آسمانی گیت سنائی دے رہا ہے