Laaltain

آدمی قید ہے

تصنیف حیدر: آدمی قید ہے
وقت میں، خون میں، لفظ میں
آدمی قید ہے

مجھے نہ کر وداع

ستیہ پال آنند: مجھے اٹھا
مجھے گلے لگا
نہ کر وداع، میری ذات آج
 الٹے رُخ کی یہ صلیب
میں نے اپنے کندھوں سے اتاردی !!

وقت کی بوطیقا

نصیر احمد ناصر: وقت کی اپنی کوئی شکل بھی نہیں ہوتی
ہم ہی اس کا چہرہ ہیں
ہم ہی آنکھیں

رات کی بے بسی

صفیہ حیات: میری گلیوں سے جانے والے کو کوئی موڑ لائے
وہ میری گلیوں کی بھول بھلیوں میں کھو کر
اپنے گھر کا رستہ بھول جائے

مردہ انگلیوں کی وکٹری

سلمیٰ جیلانی: آنکھوں سے اب پانی نہیں 
زر انگار سکوں کی تھیلیاں ہر سمت میں   
برستی ہیں

من و تو

ثروت زہرا: تمھارے گھیروں میں آجانے کے بعد
مجھے ایسا کیوں لگتا ہے
جیسے پوری کائنات
مجھ میں سما رہی ہو

مجھے ڈوبنا نہیں آتا

ایچ- بی- بلوچ: میں بولنا بھی نہیں جانتا
کیا تم نے کبھی خاموش کنویں دیکھے ہیں؟
جن میں سے
کائی اگ آتی ہے
جو شہر بھر کے گند اور گناہوں میں
چپکے سے شریک ہوجاتے ہیں

وہ ایک پُل تھا

سوئپنل تیواری: وہ ایک پُل تھا
جہاں ملا تھا
میں آخری بار تم سے جاناں

کایا کلپ کے بعد

ثاقب ندیم: ایک روز صبح سویرے شہر جاگا
تو اُس کے وقت پہ سُرخ اور سیاہ کا
قبضہ ہو چکا تھا

عمر قید

رضوان علی: مجھے اپنے ہی جسم میں
قید کر دیا گیا ہے
پچھلے کئی سالوں میں
اس جسم کے اندر
مَیں بہت سی عمر قیدیں
گزار چکا ہوں

کومل راجہ کی نظمیں

کومل راجہ:
میرا دماغ ایک خالی کمرہ ہے
جس میں شاہی سانپ
میرا بھیجا نگلے،کنڈل مارے، پھن اٹھائے
عین میرے ماتھے کے پیچھے بیٹھا ہے

روشنی کا لہو

عمران ازفر: وہ رات تھی
بہت سیاہ رات تھی
جو ہاتھ بھر کے فاصلے سے کیسے مُجھ کو ڈس گئی