Laaltain

گرڑ پُران

ستیہ پال آنند: گرڑ پُران کا لیکھک تم کو سمجھاتا ہے
اپنا لیکھا جوکھا اب تم خود ہی کر لو

چُندھا

نصیر احمد ناصر: اگر کوئی اچانک روشنی کر دے
تو کیا تم دیکھ پاؤ گے
ابد کی دھند میں لپٹی
ازل سے منتظر
آنکھیں کسی کی ۔۔۔۔۔۔؟

نئے گوتم کا اُپدیش

نصیر احمد ناصر: دکھ ڈائری میں نہیں لکھا جا سکتا
نہ کسی نظم میں ڈھالا جا سکتا ہے

نظم کیا ہے؟

ستیہ پال آنند: سچی تخلیق کا دار و مدار فہم، شعور، عقل و دانش پر نہیں ہے۔ اس کے لیے کسی کو بھی چِت یا بودھ نہیں چاہیے، قوائے فکر و فطانت کی ضرورت نہیں، صرف خدا داد حسیت پر اس کی بنیاد رکھی گئی ہے

بھوک کی قاتلانہ سازش

سلمیٰ جیلانی: کوڑا چننے والا لڑکا
روٹی کے ٹکڑے کی تلاش میں
کتنی دیر سے کھڑکی کے سامنے پڑے
کوڑے کے ڈھیر کو
الٹ پلٹ رہا ہے

بغیر پَیر کا پرندہ

رضوان علی: جس پرندے کے پَیر نہیں ہوتے
اُسے اڑنے کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی

تم جو آتے ہو

ابرار احمد: تم جو آتے ہو
تو ترتیب الٹ جاتی ہے
دھند جیسے کہیں چھٹ جاتی ہے

مجسمہ ہائے آب

رضی حیدر:
ہم مگر باقی رہیں گے
ہم خداؤں کے حروف
ہم ابابیلوں کی چونچ
ہم ہی ماہی کی زباں
ہم مجسمہ ہائے آب

کائنات کا آخری اداس گیت

نصیر احمد ناصر: کوئی اپنی غیر مرئی انگلیوں سے
پیانو کو چھیڑتا ہے
اور کہیں بہت قریب سے
ساکن اور بےآواز آسمانی گیت سنائی دے رہا ہے