Laaltain

شنگھاؤ غار

زید سرفراز: ہم غار کی دیواروں میں مجسم، وہ تنہائی تھے
جسے صورت دیتے ہوئے
مؤرخ نے تیشے کا استعمال کیا

کفارہ

سعد منیر: ایک شور ہے
ہمارے درمیان
چپ چاپ بیٹھا ہوا
جیسے
کسی کائنات کا وقت ہو

روئی ہوئی آنکھ سے

ابرار احمد: مٹی میں اترے ہوئے پانی کی طرح
میرا شہر میری مٹی بن گیا ہے

میں ڈرتا ہوں

افضال احمد سید: میں ڈرتا ہوں
تمہیں سوچ کر
دیکھ کر
چھو کر
شاعری بنا دینے سے

تمنا آنکھ بھرتی ہے

عمران ازفر: وہ قصہ رات کی دیوار پر لکھا ہوا ہے
نہ آنکھوں میں سِمٹتا ہے
نہ سانسوں سے سُلجھتا ہے
کوئی گُل آبی ریشم ہے جو پہلو سے لپٹتا ہے

تنہائی ایک ملاقات سے شروع ہوتی ہے

نصیر احمد ناصر: تنہائی کے اعداد و شمار میں فرق نہیں پڑتا
یہ گنتی میں ستاروں کی طرح بے حساب
رقبے میں آسمان جیسی بے کنار
اور حجم میں کائنات سے بڑی ہے
تنہائی کا ٹھور ٹھکانہ بتانا مشکل ہے !

خود کلامی

ابرار احمد: تم نے ٹھیک سمجھا
ہر تعلق ایک ذلت آمیز معاہدہ ہے
تھکے ہارے دلوں کا ، اپنے ارادوں کے ساتھ

میری زندگی کا شیزوفرینیا

تنویر انجم: میری زندگی کا شیزوفرینیا
ناقابل یقین انداز سے
غائب کر دیتا ہے
ہر لمحے میں چھپی بے شمار نظمیں

ہم نے گیت نہیں لکھے

دلاور شفیق: ہم نےگیت نہیں لکھے
نہ ہانپتی ہوئی زبان سے بچھڑنےوالے کوتسلی دی
کیا ہم دونوں اور کہکشاؤں کے بیچ کاخلاترچھی لکیروں سے پرْ کیا جائےگا

انا کا کون سا چہرہ تھا وہ

شارق کیفی: کہا پورا نہ ہو نے کی مری
بے عزتی
کسی کی جان سے بڑھ کر بھی ہو سکتی ہے
مجھ کو یہ نہیں معلوم تھا

اندھیرا تم سے ہم کلام ہوتا ہے

حٖیظ تبسم:عذرا عباس !
میز پر رکھے تمہارے ہاتھ
انگلیاں بجاتے ہیں
لکیروں کے ساکت ہجوم میں
اور سرگوشی میں پوچھتے ہیں
خود سے پرانے عہد کی داستان

Love is a Punishment

نسرین انجم بھٹی: خون سے رنگے سب راستے محبت سے جدا ہونے کی سزا بھگت رہے ہیں

تم نے اسے کہاں دیکھا ہے؟

نصیر احمد ناصر: کبھی تم نے پوچھا ہے
چلتے ہوئے راستے میں
کسی اجنبی سے
پتا اس کے گھر کا
ہوا جس کے قدموں کے مٹتے
نشاں چومتی ہے
نگر در نگر گھومتی ہے