ان چکھے گناہ کی مٹھاس

محمد حمید شاہد: میں لذت کی شیرینی میں لتھڑے ہونٹ
اپنی ہوس کی بے صبری زبان سے چاٹ رہا ہوں
ایک اور فتح کے بعد

ثروت زہرا: بموں اور گولیوں سے
مری دھرتی اب نئی دنیا اگائے گی
پیچھے مُڑ کے مت دیکھنا!

ثمینہ تبسم: صحیفے طاق پہ دھرے ہیں
قانُون مر چُکا ہے
اور تُم صرف ایک ناہنجار عورت ہو
وہ برسوں سے ایک خواب دیکھ رہا ہے

مصطفیٰ ارباب: وہ ایک ہی وقت میں
دو جگہوں پر
دو طریقوں سے
زندگی بسر کر رہا ہے
بھگتنا ہاتھوں کو پڑتا ہے

ایچ- بی- بلوچ: مجسمہ سازی ہو یا تاریخ سازی
بھگتنا ہاتھوں کو پڑتا ہے
علی زریون کے نام ایک خط

جمیل الرحمان: پیارے علی زریون
یہاں تخت
درختوں کی لکڑی سے نہیں
معصوموں اور کمزوروں کی ہڈیوں اور گوشت سے بنتے ہیں
ایک کتے کی موت

شارق کیفی: بھونکنا چاہتا ہوں
اپنے اندر كے کتے پہ میں زور سے بھونکنا چاہتا ہوں
تمھاری تجارت چلتی رہے

عذرا عباس: ہم نہیں جانتے
ہمارے خواب کب چھین لئے جاتے ہیں
ہم منہ بولی اخلاقیات کے بچھونے میں
منہ چھپا کر سونے کے عادی بنا دئے گئے
پریس نوٹ

علی محمد فرشی: وہ کبوتر جو چھتری سمجھ کر فلک کی طرف اڑ گیا
کس بصیرت نے دھوکا دکھایا اسے
ورشا گورچھیا کی نظمیں

ورشا گورچھیا: یہ میری آنکھیں
میری خوفزدہ نظموں کی
ٹوٹتی سانسوں کے گمنام
سلسلے کے علاوہ کچھ نہیں
آج کی تازہ خبر جو کل بھی تازہ تھی

محمد حمید شاہد: اندھیرا
بولائے ہوئے کتے کی طرح
گلیوں میں الف ننگا بھاگ رہا ہے
یہ رسم الخظ اگر میں جانتا تو—

گلزار: چمکتی دھوپ میں دیوار کے کونے سے اک پتی نے جھانکا ہے
بہت سینچی ہیں تم نے درد سے مٹی کی دیواریں
اُپج کی کونپلیں اُگنے لگی ہیں!
نظم-سرمد صہبائی

سرمد صہبائی: کیسے کھلے گا تیری بانہوں کے کُندن میں
میرا یہ سیال دکھ اور میرے صدمے
تیرے بدن کے ان جیتے سیار سموں میں
میرا لہو کیسے جاگے گا
بدن کی حمایت میں

کچھ نہیں، کچھ نہیں
آنکھ کی کھیتیوں سے پرے کچھ نہیں ہے
آخری دلیل

افضال احمد سید: اس کھڑکی کو سبزے کی طرف کھولتے ہوئے
تمہیں محاصرے میں آئے ایک دل کی یاد نہیں آئی