Categories
نقطۂ نظر

‘Out of the Box’ Diplomacy

The philosopher Ralph Waldo Emerson once said that “A foolish consistency is the hobgoblin of little minds, adored by little statesmen and philosophers and divines.” In the realm of international affairs, these words reflect the very nature of intelligent diplomacy – an exercise that requires constant recalibration to face a dynamic world, where even a single tweet can spark an international incident. Charges of ‘flip flops’ and ‘inconsistencies’ may be good soundbites for political attacks, yet they form part of any competent nation’s diplomatic strategy.

Prime Minister Modi’s stop-over in Pakistan to meet Nawaz Sharif did nothing less than stump the Opposition in India, which scrambled to formulate a line of attack against the NDA government instead of supporting the effort.

Prime Minister Modi’s stop-over in Pakistan to meet Nawaz Sharif did nothing less than stump the Opposition in India, which scrambled to formulate a line of attack against the NDA government instead of supporting the effort. For months, the Congress party had criticised the Centre for not talking to Pakistan. After the NSA talks in Bangkok and Indian External Affairs Minister Sushma Swaraj’s attendance at the Heart of Asia summit in Islamabad, the same party is now calling the NDA government’s new found engagement “unstructured”, adding that the ground realities in the region have not changed.

It is clear that this is churlish criticism levelled purely for political leverage. Major political parties in Pakistan welcomed PM Modi’s visit to Lahore. Even the international media was full of praise, but the majority of Opposition parties in India remained united against the PM’s move, citing issues such as the progress of the 26/11 trial, Hafiz Saeed, cross-border terror and the Kashmir dispute to counter the praise. Even Indian news channels, which lauded the Prime Minister, were accused by the Congress of being BJP mouthpieces.

PM Modi’s Lahore visit indicates his attempt to re-evaluate India’s engagement with Pakistan. It is a two-pronged approach, with Indian officials dealing with the military wing via the NSA level talks in
Bangkok and Modi engaging the civilian leadership. The Prime Minister is conscious of the fact that the Indian government cannot appear stubborn when it comes to India-Pakistan ties. There is diplomatic capital in engagement, especially atmospherics, when the Indian government also enforces red lines. The Indian government has previously cancelled talks over Pakistan’s engagement with the Hurriyat as third party stakeholders in the bilateral process. Enhancing atmospherics in such a scenario is essential to facilitate favourable international opinion.

Narendra Modi’s visit to Lahore was unconventional, but so are India’s ties with Pakistan, which continuously face the fleeting promise of resolution.

In the book ‘New Regionalism and the European Union’, political scientists Stelios Stavridis and Panagiota Manoli reflect on the establishment of the European coalition of nations, stressing the
importance of atmospherics to establish and strengthen regional ties, especially to achieve new paradigms. They say, “It is not always the immediate impact that matters, but rather the
wider question of socialization that needs to be acknowledged, which refers to a learning process and the diffusion of norms and behaviours. The potential bridge-making role of parliamentary
diplomacy, coupled with its overall socialization effect, should not be underestimated.”

India-Pakistan ties have always faced a political push and pull, but all challenging diplomatic ties need to be regularly boosted with acts of goodwill and rapprochement. It is an important pre-cursor to achieve any breakthroughs, no matter how unlikely they may seem. Narendra Modi’s visit to Lahore was unconventional, but so are India’s ties with Pakistan, which continuously face the fleeting promise of resolution.

The main charge against Modi is that he didn’t follow conventional procedure; that he thought ‘out of the box’. However, no one with their sights set on a big objective should hesitate to think out of the box or fear criticism for breaking with convention. While achieving tangible results is a different challenge altogether, Modi’s recent move has been one of a statesman, not a politician.

Categories
نقطۂ نظر

کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے

پیرس میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام بین الاقوامی کانفرنس میں 195 ممالک شریک ہیں۔ تقریباً 145 ممالک کے سربراہان، اہم حکومتی عہدیدار اور سیاسی شخصیات اس وقت پیرس میں ماحولیاتی تبدیلی کی روک تھام کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش میں ہیں۔ کانفرنس میں پاک بھارت تعلقات کے لیے سازگار ماحول بنانے کی ایک کوشش اس وقت سامنے آئی جب بھارتی وزیراعظم نے وقفے کے دوران وزیراعظم پاکستان نوازشریف سے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو نوازشریف نے بھی گرم جوشی سے اس کا جواب دیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان دو منٹ تک مختصر گفت وشنید بھی سرگوشیوں میں ہوئی۔ یہ غیر رسمی، بے تکلفانہ کے ماحول میں مختصر ملاقات پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے لیے سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے۔ اوفا میں شریف، مودی ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ کے مطابق مذاکرات بھارت نے کشمیری قائدین سے ملاقات کا بہانہ بنا کر ملتوی کردیئے تھے۔ مودی کی پاکستان کے بارے میں سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے تعلقات کافی کشیدہ ہوگئے تھے۔ اس ملاقات کو سفارتی حلقوں نے بہت مثبت قرار دیا ہے مگر یہ سوال اہم ہے کہ کیا اس ملاقات سے سردمہری کی یہ برف پگھل جائے گی؟

 

انیس سو پچاسی میں پاکستان کے ساتھ بھارت کے تعلقات بہت خراب ہوگئے تو صدر ضیاء الحق نے مالدیپ سے واپس آتے ہوئے بھارت کا دورہ کیا جو صورتحال کو اعتدال پر لانے میں دوررس نتائج کا حامل ثابت ہوا۔
پاک بھارت تعلقات ہمیشہ سے غیر یقینی کا شکار رہے ہیں۔ ان تعلقات کی تشکیل اور اتار چڑھاؤ میں کئی مثبت اور منفی عوامل کا عمل دخل رہا ہے۔ پاک بھارت تعلقات کی تاریخ دراصل باہمی اعتماد اور ہم آہنگی کے فقدان کی داستان ہے۔ آزادی کے بعد سے اب تک پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر، سیاچن اور سرکریک پر تنازعات اور دریاؤں کے پانی کی تقسیم جیسے اہم مسائل پیدا ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ دہشت گردی اور دونوں ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت جیسے الزامات بھی دونوں فریق ایک دوسرے پر لگاتے ہیں۔

 

بھارت ممبئی حملے، سکھ تخریب کاروں کی مبینہ امداد جیسے الزامات مختلف فورمز پر دہراتا ہے، جبکہ پاکستان بلوچستان میں مداخلت،کراچی میں بدامنی اورپاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت جیسے الزامات بھارت پر لگاتا ہے۔ پاک بھارت معاملات کو بہتر بنانے کے لیے بہت سی کاوشیں کی گئی ہیں۔ 1960-1961 میں برطانیہ اور امریکہ نے عالمی بنک کے تعاون سے دریاؤں کی تقسیم کا معاہدہ کروایا، معاہدے کے تحت چھ دریاؤں میں سے تین دریا راوی، ستلج، بیاس بھارت کے حوالے کر دیئے گئے۔ ستمبر 1965 میں تاشقند کے مقام پر پاکستانی صدر ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات ہوئے۔ اس وقت کے پاکستانی وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کی مخالفت کے باوجود 4 جنوری 1966 کو تاشقند میں معاہدہ ہوا۔ مگر چار سال بعد ہی تعلقات دوبارہ کشیدہ ہوگئے اور 1971 میں جنگ کی وجہ سے پاکستان دولخت ہوگیا۔ 1985 میں پاکستان کے ساتھ بھارت کے تعلقات بہت خراب ہوگئے تو صدر ضیاءالحق نے مالدیپ سے واپس آتے ہوئے بھارت کا دورہ کیا جو صورتحال کو اعتدال پر لانے میں دوررس نتائج کا حامل ثابت ہوا۔ نوازشریف کے سابقہ دورحکومت میں سابق بھارتی وزیراعظم واجپائی کے ساتھ مذاکرات اور تصفیہ طلب مسائل پر تفصیلی بات چیت ہوئی تھی لیکن اعلان لاہور کے باوجود کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوسکی۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں بیک ڈور ڈپلومیسی کے تحت چار نکاتی فارمولا بھی سامنے آیا۔

 

اس وقت دونوں ممالک اپنے بجٹ کی خطیر رقم دفاع پر خرچ کر رہے ہیں حالانکہ دونوں ملکوں کو دہشت گردی، انتہاپسندی، غربت، جہالت، بیروزگاری، معاشی پسماندگی، بڑھتی ہوئی آبادی اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے گوناگوں مسائل کا سامنا ہے۔
خارجہ پالیسی کے بعض ماہرین کے مطابق مشرف کا چار نکاتی فارمولا ہی پاک بھارت مسائل کا مستقل حل ہے۔ شرم الشیخ میں بھی پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات میں مذاکرات بحال کرنے کا وعدہ کیا گیا مگر عملی طور پر تمام مسائل جوں کے توں رہے۔ روس کے شہر اوفا میں برکس کانفرنس کے موقع پر نواز شریف اور نریندر مودی کے درمیان ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ میں اس بات کا عہد کیا گیاتھا کہ تمام تصفیہ طلب مسائل حل باہمی بات چیت سے حل کیے جائیں گے۔ بعد میں بوجوہ معاملات آگے نہیں بڑھ سکے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کے عوام آپس میں خوشگوار اور برابری کی بنا پر دوستی چاہتے ہیں۔ اس وقت دونوں ممالک اپنے بجٹ کی خطیر رقم دفاع پر خرچ کر رہے ہیں حالانکہ دونوں ملکوں کو دہشت گردی، انتہاپسندی، غربت، جہالت، بیروزگاری، معاشی پسماندگی، بڑھتی ہوئی آبادی اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے گوناگوں مسائل کا سامنا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل باہمی بات چیت کے ذریعہ حل کریں۔ عالمی برادی خطے میں پائیدار قیام امن کے لیے دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار اداکرے۔ مشرف دور کے سابق وزیرخارجہ خورشید رضا قصوری نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ بیک ڈور چینل کے ذریعہ ہم ایک معاہدہ کے قریب پہنچ گئے تھے جو بوجوہ مکمل نہیں ہوسکا۔ دونوں ممالک کو الزام تراشی کی روش ترک کے کھلے دل کے ساتھ ایک دوسرے کا موقف سننا چاہیئے اور آؤٹ آف دی باکس کسی حل پر غور کرنا چاہئیے۔

 

اس مرتبہ پاکستان نے مذاکرات اور دوستی کی طرف ہاتھ بڑھانے میں پہل کی ہے اب مودی صاحب کو بھی چاہیئے کہ جس طرح انہوں نے پیرس میں پہل کی ہے وہ اس ملاقات کو نتیجہ خیز بنانے اور دوررس نتائج کے لیے پاکستان کو باضابطہ مذاکرات کی دعوت دیں۔
اس مرتبہ پاکستان نے مذاکرات اور دوستی کی طرف ہاتھ بڑھانے میں پہل کی ہے اب مودی کو بھی چاہیئے کہ جس طرح انہوں نے پیرس میں پہل کی ہے وہ اس ملاقات کو نتیجہ خیز بنانے اور دوررس نتائج کے لیے پاکستان کو باضابطہ مذاکرات کی دعوت دیں۔ اچھی پہل کرنے کے لیے بھارتی حکومت اپنی کرکٹ ٹیم کو پاکستان کے ساتھ کھیلنے کی اجازت دے اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کرے، تاکہ باہمی اعتماد کی فضا قائم ہوسکے۔ خارجہ امور کے بعض ماہرین اس ملاقات کو 8 اور 9 دسمبر کو ہونے والی ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس سے بھی نتھی کر رہے ہیں۔ اگر بھارت کی وزیرخارجہ سشما سوراج اس کانفرنس میں شریک ہوکر پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کرکے باضابطہ بات چیت کا آغاز کریں تو اس سے برف پگھل جائے گی۔ وزیراعظم پاکستان نوازشریف نے اس ملاقات کے بعد صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملاقات بہت خوشگوار ماحول میں ہوئی دونوں طرف سے اچھے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے مگر اچھے جذبات کو عملی جامہ پہنانا بہت ضروری ہے۔ وزیراعظم پاکستان پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ اگر بھارت پیشگی شرائط نہ رکھے تو ہم مذاکرات کے لیے تیارہیں۔ اس وقت پاکستانی حکومت اور عسکری قیادت بھارت کے ساتھ اچھے ہمسائے کی طرح رہنے کے حق میں ہیں اور مسائل بات چیت سے حل کرنے کو تیار ہیں۔ خطے میں پائیدار امن کے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک اسلحے کی دوڑ سے باہر نکلیں، جنگی جنون کو چھوڑ کر پیسہ اپنی عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں۔ دونوں ممالک میں تعلیم، صحت، بنیادی ضروریات زندگی، انفراسٹرکچر، جدید تحقیق، ٹیکنالوجی، زرعی سہولیات، تجارت اور ٹرانسپورٹ سمیت بہت سے بنیادی مسائل پر بجٹ خرچ کرنے سے کروڑوں عوام کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی۔ بڑھتی ہوئی آبادی، دہشت گردی، ماحولیاتی آلودگی اور موسمی تبدیلیاں جیسے اہم مسائل سے نمٹنے کے لیے بھی دونوں ممالک کو الزام تراشی کی بجائے ایک دوسرے سے حل کے لیے تعاون کر ناچاہیئے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون پہلے ہی دونوں ممالک میں تصفیہ طلب مسائل کے مذاکرات کے ذریعے حل کے لیے تعاون کی پیشکش کرچکے ہیں جو عالمی برادری کی جانب سے اس امر کا اظہار ہے کہ دونوں ایٹمی ممالک کے درمیان مسائل حل نہ ہوئے تو یہ عالمی امن کے لیے مستقل خطرہ ہوں گے۔ دونوں ملکوں کے میڈیا کو بھی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کا مظاہرہ کر تے ہوئے ایک دوسرے کو نیچادکھانے کی بجائے مثبت پہلووں پر روشنی ڈالتے ہوئے قیام امن کی کاوشوں میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔
Categories
نقطۂ نظر

شدت پسندی سےلبرل ازم تک

چار نومبر 2015ء کو اسلام آباد میں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کے دوران وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ “عوام کا مستقبل جمہوری اور لبرل پاکستان میں ہے، پاکستان نے انتہا پسندی اور دہشت گردی پر قابو پانے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، قوم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم اپنے معاشرے کے کسی طبقے میں بھی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے کینسر کو پھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے”۔ کانفرنس کے چند روز بعد ہی کراچی میں دیوالی کے موقعے پر جو کچھ نوازشریف نے کہا وہ ناقابل یقین تھا۔ بقول نواز شریف “میں مسلمانوں کے علاوہ ہندووں، سکھوں، عیسائیوں اور پارسیوں کا بھی وزیراعظم ہوں۔ میں آپ کا ہوں، آپ میرے ہیں۔ مجھے ہولی پر بلائیں اورجب میں آوں تو مجھ پر رنگ ضرور پھینکیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ قوم میں اتحاد اور اتفاق پیدا کرنا میرا مشن ہے، تمام مذاہب کے لوگ ہم آہنگی کو فروغ دیں، ظالم کے خلاف آپ کے ساتھ کھڑاہوں گا”۔

 

وزیر اعظم کےان دو خطابات کوسمجھنے کے لیے پہلے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ لبرل کسے کہتے ہیں اور لبرل ازم کیا ہے۔ ایک بات ذھن میں رکھیے گا کہ پاکستان میں لبرل ازم کے حامیوں میں نہ تو صرف مذہب سے بیزار لوگ شامل ہیں اور نہ ہی مادر پدر آزادی کے حامی، کیونکہ یہ سب ایک ایسے معاشرئے میں رہتے ہیں جو مذہب کا بہت احترام کرتا ہے، اور سماجی اقدار کی اہمیت سے بھی آگاہ ہیں۔ ذیشان ہاشم اپنے مضمون “لبرل ازم کیا ہے؟” میں لکھتے ہیں کہ “لبرل ازم سیاسی، سماجی اور معاشی تصورات کا ایسا مجموعہ ہے جس کی بنیاد شخصی آزادی، انصاف اورمساوات پرقائم ہے، اس کا دائرہ کارمحض سیاست سماج اور معیشت تک ہی محدود ہے۔ لبرل ازم میں جمہوریت، شہری حقوق، آزادی اظہار رائےاورحق اجتماع کا ہونا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ لبرل ازم میں مذہبی آزادی ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے، ہر فرد کو آزادی حاصل ہے کہ وہ جس مذہب یا نظریہ کو اپنی عقل و بصیرت سے بہتر جانے، اس پر عمل کرے ۔ مذہبی آزادی کے بغیر لبرل ازم کی بنیادیں قائم نہیں رہ سکتیں، دوسرے ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ جو چاہے خریدے یا بیچے۔ جائیداد رکھنے کا ہر فرد کو حق حاصل ہے۔ ریاست انتظامی اخراجات کے لیے لوگوں سے ٹیکس وصول کر سکتی ہے مگر وہ اس کے خرچ میں جوابدہ ہے ۔ ٹیکس کا مصرف محض شہریوں کی فلاح و بہبود اور ملکی دفاع ہونا چاہیئے” ۔ ان تمام باتوں سے اتفاق رکھنے والے فرد کو لبرل کہا جاتا ہے۔

 

ہر ملک کا لبرل ازم اپنی تشریحات میں مختلف ہے مگر شخصی آزادی، انصاف، اور مساوات کی بنیادیں ہر جگہ مشترک ہیں۔ اس میں ہر عہد کے اعتبار سے ارتقا ہے۔
ذیشان ہاشم اپنے اسی مضمون میں مزید لکھتے ہیں کہ”لبرل ازم زمان و مکان کے بارے میں بہت حساس ہے۔ ہر ملک کا لبرل ازم اپنی تشریحات میں مختلف ہے مگر شخصی آزادی، انصاف، اور مساوات کی بنیادیں ہر جگہ مشترک ہیں۔ اس میں ہر عہد کے اعتبار سے ارتقا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ میں لبرل قوتیں ویلفیئر اسٹیٹ کی حامی ہیں تو یورپ میں لبرل قوتوں کا موقف یہ ہے کہ حکومت محض ادارہ جاتی انتظام قائم کرے، ہر شخص اپنی محنت اور ذہانت سے اپنے لیے ویلفیئر کا خود ہی بندوبست کرسکتا ہے۔ پاکستان میں بھی لبرل ازم یہاں کی تاریخ ثقافت اور شہریوں کی امنگوں کے مطابق ہی عملی و فکری بنیادوں پر قائم ہو سکتا ہے جن کی بنیاد ہر صورت میں شخصی آزادی، انصاف، اور مساوات پر قائم ہوگی”۔

 

وزیر اعظم کے بیانات شدت پسندوں کے لیے ہضم کرنا بہت مشکل تھا، لہٰذاوزیر اعظم کے چار نومبر کے بیان کے فوراً بعد جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے اسلامی جمعیت طلبہ کے ایک پروگرام میں کہا ہےکہ “قیام پاکستان کےوقت لاکھوں عوام نے لبرل نہیں اسلامی پاکستان کے لیے قربانیاں دی تھیں جو پاکستان کے اسلامی کردار کو ختم کرنا چاہتے ہیں وہ خود ختم ہو جائیں گے، وزیراعظم کو ملک کے آئین سے متصادم باتوں سے پرہیز کرنا چاہئیے، قائد اعظم اور علامہ اقبال دو قومی نظریے پر یقین رکھتے تھے، اگر وہ آج زندہ ہوتے تو یقیناً جمعیت میں ہوتے، اس کے ساتھ ہی اُنہوں نے کہا کہ جسے لبرل ازم کی چاہت ہے وہ امریکہ چلا جائے۔ اس سے پہلے سراج الحق لوگوں کو ممبئی جانے کا مشورہ بھی دے چکے ہیں جبکہ 2013ء کے انتخابات کے موقعہ پر سابق امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کراچی کے ایک جلسہ میں لبرلز کوملک سے چلے جانے کا کہہ چکے ہیں۔ دیوالی کے موقع پر وزیراعظم کی تقریر کے بعد جماعت اسلامی کے ڈاکٹرحسین احمد پراچہ نے ایک مضمون “نفاذ شریعت سے لبرل ازم تک” لکھا ہے جس میں امریکہ اور یورپ میں ہونے تمام برائیوں کا ذمہ دار “لبرل ازم” کو قرار دیا ہے۔ ان کا مضمون کسی بھی نقطہ نظر کو سمجھے بغیر اس پر تنقید کرنے کا سماجی رویہ ہے۔ ان کا مضمون اسی فرسودہ اور غیر عملی مذہبی سیاسی فکر کی تکرار ہے جو پاکستان کے پسماندگی کی ایک اہم وجہ ہے۔

 

جماعت اسلامی کے سابق امیرِ قاضی حسین احمد اور سیدمنور حسن اسامہ بن لادن جیسے عالمی دہشت گرد کی ‘شہادت’ کا ماتم کرتے ہیں۔ سید منور حسن حکیم اللہ محسود کی موت کےعظیم سانحہ پر نوحہ کناں رہتے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام اور لال مسجد کے شدت پسند مولانا عبدالعزیز لوگوں کے گلے کٹتے تو دیکھ سکتے ہیں لیکن اُن کو حقوق ملتے نہیں دیکھ سکتے۔ پاکستانیوں کی یہ بدقسمتی بھی ہے کہ وہ لوگ جو کل تک پاکستان کے مخالف تھے آج اپنے آپ کو پاکستان کا مالک سمجھ کر اپنے حقوق کی بات کرنے والے لبرل پاکستانیوں کو پاکستان سے چلے جانے کو کہہ رہے ہیں۔ یہ حضرات آج یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ اگر آج قائد اعظم اور علامہ اقبال زندہ ہوتے تو وہ جماعت اسلامی کی ‘دہشت گرد’ طلبہ تنظیم اسلامی جمیت طلبہ کے رکن ہوتے۔ دہشت گرد تنظیم “جند اللہ” کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ اس کے موجد اسلامی جمعیت طلبہ کے اراکین ہی ہیں، جماعت اسلامی کےامیرسراج الحق کو اپنی نظریاتی بنیادوں پر غور کرنے کے بعد قائد اعظم اور علامہ اقبال سے متعلق بات کرنی چاہیئے۔

 

2013ء کے انتخابات دراصل طالبان دہشت گردوں کی نگرانی میں ہوئے، جس میں طالبان مخالف کسی بھی لبرل جماعت کو آزادی سے انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیا گیا۔
پاکستان میں دہشت گردوں اور فسادیوں کو لانے کا سہراتو پاکستان کے آمر جنرل ضیاالحق کوجاتا ہے جس نے امریکہ کے ڈالروُں اور اپنی حکومت کو طویل کرنے کےلیےروس کے ساتھ افغانستان میں کرائے کی جنگ لڑی اور اس جنگ میں اُسے مذہبی بنیاد پرستوں کی حمایت حاصل تھی۔ آج جب پاکستان کی افواج اور عوام اس جنگ میں اپنی سرزمین کو بچانے کے لیے حرکت میں آئے تو یہ پاکستان کی افواج اور پاکستانی عوام کے خلاف دہشت گردوں کی حمایت پر ڈٹے رہے۔ افغانستان میں شدت پسند طالبانی حکومت بنوانے کا سہرا ہمارے عسکری اداروں کے سر ہے۔ یہ سانپ اِن کے ہی پالے ہوئے ہیں اور سانپ چونکہ کسی کے نہیں ہوتے اس لیے جب بینظیربھٹو کو ہوش آیا اور اُن کی شدت سے مخالفت کی تو 2007ء میں ان سانپوں نے بینظیر بھٹو کو ہی ڈس لیا۔ 2013ء کے انتخابات دراصل طالبان دہشت گردوں کی نگرانی میں ہوئے، جس میں طالبان مخالف کسی بھی لبرل جماعت کو آزادی سے انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیا گیا۔ طالبان مخالف پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پر انتخابی سرگرمیوں کے دوران دہشت گرد حملے کیے گئے جبکہ طالبان حامی پاکستان مسلم لیگ(ن)، پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے دونوں گروپوں نے بغیر کسی پریشانی اور خوف کے اپنی انتخابی مہم چلائی اور طالبان دہشت گردوں سے اپنے تعلقات کو چھپانے کی قطعی کوشش نہیں کی۔

 

کسی زمانے میں پاکستان میں نظریاتی سیاست کا رواج تھا، لیکن اب پاکستان میں نظریاتی اور اصولوں کی سیاست ختم ہوچکی ہے۔ اب صرف شدت پسندی، مفاد پرستی اور منافقت کی سیاست ہوتی ہے۔ ان حالات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے لبرل ازم کا نعرہ لگانا ایک انقلاب سے کم نہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) پاکستان کے قدامت پسند طبقات کی نمائندہ جماعت رہی ہے۔ نواز شریف کے حالیہ بیانات کے بعد ڈاکٹر پراچہ سمیت کافی لوگوں کو نواز شریف کا 25 اگست 1993ء کا وہ بیان یاد آیا ہو گا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ “اگر پاکستان کے عوام مسلم لیگ (ن) کو اپنے اعتماد سے نوازتے ہیں تو میں عہد کرتا ہوں کہ میں نفاذِ شریعت کے ذریعے پاکستان کی نظریاتی اساس کو مضبوط بناوں گا اور مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط سے مضبوط تر بناوں گا۔ مجھے ایک ایسا مینڈیٹ درکار ہے کہ میں اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ جاوں اور اپنے اس منشور کے مطابق تاریخی مشن پورا کر سکوں”۔ 1993ء میں نواز شریف کے پیرومرشد جنرل ضیاالحق کو اُن سے جدا ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزر ا تھا لہٰذا اُن کے جذبات نفاذ شریعت کے حق میں تھے۔ تب سیاسی مفاد کے تحت شریعت کا نعرہ لگایا اور اب شاید شدت پسندی کو کمزور پا کر 2018ء کے انتخابات جیتنے کے لیے لبرل ازم کا نعرہ بلندکیا ہے۔

 

لالٹین ڈاٹ کام کے اداریے کے مطابق “اگر وزیراعظم اپنے اس بیان میں سنجیدہ ہیں تو یقیناً مستقبل کا پاکستان قرارداد مقاصد کا پاکستان نہیں بلکہ محمد علی جناح کی 11 اگست 1947ء کی تقریر کے موافق پاکستان ہوگا جہاں شہریوں کو اپنی مذہبی یا علاقائی وابستگی کی بناء پر امتیازی سلوک، جبر، تشدد اور استحصال سے محفوظ بنایا جاسکے گا”۔ دنیا کی تاریخ میں بڑے بڑے انقلاب آ چکے ہیں شاید نواز شریف بھی ایک ایسا ہی انقلاب لے آئیں اور پاکستان کو شدت پسندی سے لبرل ازم کی طرف گامزن کردیں اور تاریخ میں اپنا نام امر کرجائیں۔ ایک بات طے ہے کہ نواز شریف کے لیے شدت پسندی سے لبرل ازم تک کا یہ سفر آسان نہ ہوگا۔ اگرنواز شریف نے محض 2018ء کے انتخابات جیتنے کےلیے لبرل ازم کا نعرہ بلند کیا ہے جیسے نوے کی دہائی میں انہوں نے نفاذِ شریعت کا نعرہ لگایا تھا تو یہ عوام کے ساتھ زیادتی ہو گی جو اپنے رہنماوں کے جھوٹے وعدے سننے کی عادی ہو چکی ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

بھارت شدت پسندی کی راہ پر

ایک ارب تیس کروڑ انسانوں کی بستی یعنی بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست کہا جاتا ہے۔ 1947ء میں برطانوی استعمار سے آزادی کے بعد اس وقت کی کانگریسی قیادت نے زمانے کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ چونکہ بھارت ایک کثیر النسلی اور کثیر القومی آبادی پر مشتمل ایک وسیع وعریض خطہ ہے لہٰذا ملک کے سارے شہریوں کو یکساں حقوق دینے اور نسلی،لسانی اورمذہبی تعصبات سے بالاتر ہوکر سب کو مساوی شہری کا درجہ دینے کے لیے لازم ہے کہ ملک کا سیاسی نظام وفاقی طرز پر اور آئین سیکولر بنیادوں پر استوار کیا جائے (ایسانظامِ حکومت جس میں ریاستی معاملات میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہ ہو قانون کے مطابق سب شہریوں کو بلاتفریق مذہب، رنگ اور نسل برابر کے حقوق حاصل ہو سیکولر سیاسی نظام کہلاتا ہے)۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی حکمرانوں نے اپنا آئین سیکولر بنیادوں پر استوار کیا اور اپنے طرز حکمرانی کو سیکولر رکھنے کی کوشش کی۔ بھارتی قیادت کا یہ فیصلہ جرات مندانہ تھا کیوں کہ کثیر قومی ممالک کے لیے اس سے بہتر انتخاب موجود نہیں۔ ہندوستان کی معمار جماعت کانگریس ہندوستان میں ایک طاقتور سیاسی قوت کے طورپر موجود رہی ہے۔

 

بھارت کی 68سالہ تاریخ میں کانگریس کو حکمرانی کا موقع دیگر تمام جماعتوں کی نسبت زیادہ ملا ہے۔ کانگریس اپنے اعتدال پسند سیاسی نظریات کی بناء پر بھارت میں ایک سیکولر سیاسی قوت کے طورپر پہچانی جاتی ہے۔ لیکن حالیہ چند برسوں میں کانگریس کی خراب معاشی کارکردگی کی وجہ سے اس کی مقبولیت کم ہوئی ہے۔ 2014ء کے پارلیمانی انتخاب میں انہیں بری طرح شکست سے دوچار ہونا پڑا اور اس کی جگہ سخت گیر بنیاد پرست اور رجعت پسند مذہبی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو ترقی اور خوشحالی کے نام پر زبردست کامیابی ملی۔ بی جے پی کے ساتھ آر ایس ایس اور ہندوتوا کی حامی دوسری سخت گیر سیاسی جماعتیں بھی کامیاب ہو کر ایوان اقتدار تک پہنچیں۔

 

بھارت اور پاکستان میں گزشتہ عام انتخابات میں ترقی کے نام پر دائیں بازو کی رجعت پسند سیاسی جماعتیں حکومت میں آئی ہیں، یہ الگ بات ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کسی حد تک اپنے ماضی سے چھٹکارا پانے کے لیے کوشاں ہے اور سخت گیریت کی بجائے اعتدال پسندی کی جانب مائل دکھائی دیتی ہے۔
بھارت میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی:
بھارت اور پاکستان میں گزشتہ عام انتخابات میں ترقی کے نام پر دائیں بازو کی رجعت پسند سیاسی جماعتیں حکومت میں آئی ہیں، یہ الگ بات ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کسی حد تک اپنے ماضی سے چھٹکارا پانے کے لیے کوشاں ہے اور سخت گیریت کی بجائے اعتدال پسندی کی جانب مائل دکھائی دیتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ فیصلہ سازی میں کلیدی کردار اداکرنے والی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا مذہبی بنیاد پرستی سے ہٹ کر معتدل نظریات اپنانا ہے۔ مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف نے اپنے حالیہ بیانات میں پاکستان کی ایک معتدل تصویر پیش کرنا شروع کر دی ہے۔ اس کے برعکس بھارت میں نریندر مودی اور ان کے اتحادی سیکولر اور تکثیریت پر مبنی معاشرے کو بتدریج ایک ہندوبرہمنی معاشرے میں تبدیل کرنے کے خواہاں نظر آتے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران بین الاقوامی ذرائع ابلاغ بھارتی حکومت اور اداروں کی جانب سے شخصی آزادیوں پر قدغن لگانے اور نصابی کتب میں حقائق مسخ کر کے پیش کرنے کی خبریں دے رہے ہیں۔

 

گھر واپسی کی تحریک:
ہندو برہمنی نظریات کے دوبارہ احیاء اور بھارتی معاشرے کو ہندومت میں تبدیل کرنے کی عرض سے مذہبی سیاسی جماعتوں نے”گھر واپسی”کے نام سے تحریک شروع کررکھی ہے۔ اس تحریک کا بنیادی مقصد دوسرے خطوں سے آنے والے مذاہب مثلاً اسلام اور عیسائیت وغیرہ قبول کرنے والے افراد کو ہندوستان سے ابھرنے والے مذہب یعنی ہندو مت میں واپس داخل کرنا ہے۔ مذہبی احیاء کی یہ تحریکیں ہندوستانی ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہیں۔ مذہبی تحریکوں کے سیاسی اثر میں اضافہ بھارتی جمہوریت کے لیے خطرناک ہے جو بھارت جیسے کثیر النسلی معاشرے کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

 

تاریخ کا قتلِ عام:
بھارت میں بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تاریخ اور نصابی کتابوں کو ہندوتوا کے نظریات کے مطابق مرتب کیا جارہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بی جے پی کی حکومت بھارت کی نصابی کتابوں میں تبدیلی لا کر ہندوانہ نظریات کو نصاب میں شامل کرنے اور سخت گیریت کو فروغ دینے کے حوالے سے کام کررہی ہے۔ حقائق کو مسخ کر کے سخت گیرہندو بنیاد پرست نظریات کو فروغ دینے کے لیے نصاب ازسرنو تشکیل دیا جا رہا ہے۔ تعلیمی اور تحقیقی اداروں میں برہمنی نظریات کے فروغ کے لیے سخت گیر نظریاتی ہندووں کو اہم عہدے دیئے جا رہے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی اتحادی اور سخت گیر مذہبی جماعت آرایس ایس کے اعلیٰ عہدے داروں کے مطابق گزشتہ70سالوں کے دوران کانگریس نے ہندومذہب کو معاشرے سے باہر رکھا اب وقت آگیا ہے کہ ہندومت کوفروغ دیاجائے۔ یہی نہیں بھارت کے مذہبی طبقات نے سائنسی نظریات کو مذہبی بنیاد پرستی کے سانچوں میں ڈھال کر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ اسی قسم کے خیالات پاکستان کے مذہبی طبقات بھی پیش کرتے آئے ہیں جو آئن اسٹائن کے نظریہ اضافت سے لےکر ایمبریالوجی اور جدید طب تک سبھی علوم قرآن کریم سے ماخوذ قرار دیتے ہیں۔ نامور ترقی پسند ادیب، دانشور اور مصنف جناب سبطِ حسن اپنی تصنیف”نویدِ فکر”میں اس مریضانہ ذہنیت کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں،”مغرب(یورپ وامریکہ) کی طرف دوسرا رویہ فاخرانہ اور سرپرستانہ تھا جو ان دنوں ہمارے ملک میں بہت عام ہے یعنی اس بات پر بغلیں بجانا کہ ہزار برس پہلے مغرب کو تہذیب وتمدن کا درس ہم نے دیاتھا اور یہ دعویٰ کرنا کہ نظامِ شمسی ہویانظریہ ارتقاء، برقی قوت ہویا ایٹم بم، خلا میں پرواز ہو یا چاند کاسفر تمام سائنسی ایجادوں اور دریافتوں کا ذکر ہماری مقدس کتابوں اور علماء وحکماء کی تصنیفات میں پہلے سے موجود ہے۔ لہٰذا ہم کو مغرب(یورپ وامریکہ)سے کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیں۔مہاسبھائی ہندوبھی وید اور پُران کے حوالے سے اسی قسم کے بے بنیاد دعوے کرتے تھے”۔(نویدِ فکر صفحہ104)۔

 

بھارت کے مذہبی طبقات نے سائنسی نظریات کو مذہبی بنیاد پرستی کے سانچوں میں ڈھال کر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ اسی قسم کے خیالات پاکستان کے مذہبی طبقات بھی پیش کرتے آئے ہیں جو آئن اسٹائن کے نظریہ اضافت سے لےکر ایمبریالوجی اور جدید طب تک سبھی علوم قرآن کریم سے ماخوذ قرار دیتے ہیں۔
مذہبی اقلیتوں کے خلاف پرتشدد واقعات:
موجودہ بی جے پی سرکار کے آتے ہی مذہبی اقلیتوں کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ریاستی اداروں میں تعصب برتنے کے واقعات بڑھے ہیں۔ مشتعل بلوائیوں کی کارروائیوں میں شدت آئی ہے۔ تاریخ کا مطالعہ بتارہاہے کہ قوموں کی زندگی میں حکمرانوں کے ایک غلط فیصلے کا خمیازہ کئی نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اگر پاکستان کی تاریخ میں ضیاالحق کا ”تاریک دورِ حکومت” نہ آتا تو شاید ایک لاکھ کے قریب پاکستانی ناکردہ گناہوں کے جرم میں موت کی آغوش میں نہ چلے جاتے اور نہ ہی افغانستان کی سرزمین چالیس برس کے لیے آگ وخون کی دلدل میں دھنس جاتی۔ ضیاالحق نے اپنی حکمرانی کو طول دینے کے لیے مذہب کا استعمال کیا، نصابی کتابوں اور تعلیمی اداروں میں مذہبی سخت گیریت، بنیاد پرستی اور رجعت پسندی کو فروع دیا جبکہ مذہبی اصلاحات کے نام پر اقلیتوں اور اعتدال پسند مسلمانوں کو دیوار سے لگا کر معاشرے میں موجود ترقی پسند افکار اور مذہبی رواداری کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔ آج بھارت کی منتخب جمہوری حکومت پاکستانی آمر ضیاالحق کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے وہی غلطیاں دہرا رہی ہے جو پاکستان نے کی تھیں۔

 

چند ہفتے قبل جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے وادی میں گائے کی ذبیحہ کو ممنوع قرار دیا جس کے خلاف ورزی کی صورت میں ریاست کو سخت اقدامات اٹھانے کا حکم دیاگیا اس متنازعہ فیصلے بلکہ شخصی آزادیوں پر بدترین حملے کے بعد وادی کشمیر کے مسلمان اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھر پور احتجاج کیا اور جگہ جگہ کھلے عام گاؤکشی کرکے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو ماننے سے انکارکیا۔ بحیثیت مجموعی وادئ کشمیر میں عدلیہ کے اس فیصلے کے بعد فضا انتہائی خراب ہے۔ اس کے چند ہی روز بعد عید الضحٰی کے موقع پر ریاست اترپردیش کے ایک گاؤں میں ہندوجنونیوں نے ایک مسلمان محمد اخلاق کو گائے کا گوشت کھانے اور گھر پرجمع کرنے کے الزام میں گھر پر حملہ کر کے قتل کر دیا جبکہ ان کے بیٹے کو شدید زخمی کردیا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق “اترپردیش کے ایک گاؤں کے باسی محمد اخلاق کو گائے کاگوشت کھانے اور گھر میں ذخیرہ کرنے کے الزام میں قتل کردیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابقل گھر کے قریب واقع مندر کے لاؤڈاسپیکر پر اعلان ہوا کہ اخلاق کے گھر میں گائے کا گوشت ذخیرہ کرکے کھایاجارہاہے۔ اس اعلان کے بعد لوگوں کے ہجوم نے اخلاق کے گھر پر دھاوا بول دیا جس کی وجہ سے محمد اخلاق موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ اس کے بیٹے کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیاگیا ہے”۔ لاؤڈ اسپیکر جیسے منحوس صوتی آلے کی تباہ کاریاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہمارے ملک میں بھی اسی آلے کی مدد سے ہندووں، عیسائیوں اور اہلِ تشیع کے خلاف زہر اگل کر بستیوں کی بستیوں جلا کر خاکستر کی جاتی رہی ہیں۔ لاہور میں جوزف کالونی کوجلانے، کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کی بستی پر بموں کے حملوں، کورٹ رادھا کشن میں مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے جیسے کئی واقعات مذہبی جنونیوں کی اشتعال انگیزی کا نتیجہ ہیں۔ قادیانی برادری کے خلاف مسلسل حملوں میں بھی لاؤڈ اسپیکر کی شیطانی آواز کا عمل دخل تھا البتہ آپریشن ضربِ عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے طفیل رفتہ رفتہ اس منحوس آلے کے ذریعے تباہ کاریوں میں کمی آئی ہے۔ جونہی ہم (پاکستانی) اپنے ماضی کے تاریک دور سے چھٹکارا پا کر بہتری کی جانب گامزن ہوئے ہیں ٹھیک اسی وقت ہمارے پڑوسی ملک بھارت نے آزاد خیالی اور سیکولر ازم کو خیر باد کہہ کر قدامت پسندی اور رجعت پرستی کی جانب سفر شروع کر دیا ہے۔ بھارتی سیاسی نظام میں یہ تبدیلی سارے معاشرے کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے البتہ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کیابھارت تکثیریت اور سیکولرازم کی راہ پر واپس آئے گا یا پھر شدت پسندوں کے زیراثر اپنے لیے موت کا سامان پیدا کرے گا۔

 

حوصلہ افزا اقدام:
ایک طرف بھارت کی حکمران جماعت اور دائیں بازو کے انتہا پسند عدم برداشت کے فروغ میں ملوث ہیں تو دوسری جانب بھارت کی سول سوسائٹی بھارتی حکومت کی رجعت پسندی کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق بی جے پی حکومت کی سخت گیریت کے خلاف بھارت کے 200 سے زائد سرکردہ فلم ساز، قلم کار، ادیب، سائنسدان، مورخین اور فلم ساز اپنے ایوارڈز حکومت کو واپس کر کے حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں جبکہ بی جے پی حکومت کے وزراء سول سوسائٹی کے ان اقدامات پر شدید اعتراضات کر رہے ہیں۔ لیکن بھارتی دانشوروں کے عدم برداشت کے خلاف احتجاج کو دیکھ کر یہ امید کی جا سکتی ہے کہ شاید بھارتی معاشرہ شدت پسندی کی گرفت میں اس قدر آسانی سے نہیں آ سکے گا۔
Categories
اداریہ

ایک لبرل اور جمہوری پاکستان – اداریہ

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے ہندو برادری کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر ان پر ظلم ہوتا ہے اور ظالم مسلمان ہے تو وہ ہندو برادری کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ دیوالی وہ دوسرا موقع ہے جب وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان کو مساوات، برداشت اور رواداری پر مبنی ایک لبرل اور جمہوری پاکستان بنانے کا اعادہ کیا ہے۔ دیوالی کے موقع پر کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے تمام شہریوں کو مساوی حقوق کا حامل قرار دیا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق کراچی میں دیوالی کی ایک تقریب میں انہوں نے خود کو تمام پاکستانیوں کا وزیراعظم کہا ہے، انہون نے کہا کہ وزیر اعظم کی حیثیت سے میرا فرض ہے کہ ہر ایک کی مدد کروں۔ ہندو برادری سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ قوم میں اتحاد اور اتفاق پیدا کرنا میرا مشن ہے، تمام مذاہب کے لوگ ہم آہنگی کو فروغ دیں، ظالم کے خلاف آپ کے ساتھ کھڑاہوں گا۔ اس سے قبل 4 نومبر کو اسلام آباد میں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے پاکستان کا مستقبل ایک لبرل اور جمہوری مملکت سے وابستہ قرار دیا تھا۔ پاکستان کے قدامت پسند طبقات کی نمائندہ جماعت مسلم لیگ نواز کے سربراہ اور پاضی میں پاکستان میں شریعت آرڈیننس کے نفاذ کی کوشش کرنے والے نواز شریف کی جانب سے پاکستان کو ایک لبرل اور جمہوری ملک بنانے کا عزم ایک ایسی خوش آئند تبدیلی ہے جو جمہوری نظام کے تسلسل کا نتیجہ ہے۔ میاں نواز شریف کا یہ اعلان پاکستانی قوم کے لیے ایک ایسے آغاز کی نوید ہو سکتا ہے جو اس مملکت کو ہر مسلک، عقیدے اور قومیت سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے رہنے کے قابل جگہ بنا سکتا ہے۔ اگر وزیراعظم اپنے اس بیان میں سنجیدہ ہیں تو یقیناً مستقبل اک پاکستان قرارداد مقاصد کا پاکستان نہیں بلکہ جناح کی 11 اگست کی تقریر کے موافق پاکستان ہو گا جہاں شہریوں کو اپنی مذہبی یا علاقائی وابستگی کی بناء پر امتیازی سلوک، جبر، تشدد اور استحصال سے محفوظ بنایا جاسکے گا۔ یہ اعلان خوش آئند ہے اور پاکستان کے لیے درست سمت کی جانب سفر کا اشارہ ہے۔

اگر وزیراعظم اپنے اس بیان میں سنجیدہ ہیں تو یقیناً مستقبل اک پاکستان قرارداد مقاصد کا پاکستان نہیں بلکہ جناح کی 11 اگست کی تقریر کے موافق پاکستان ہو گا جہاں شہریوں کو اپنی مذہبی یا علاقائی وابستگی کی بناء پر امتیازی سلوک، جبر، تشدد اور استحصال سے محفوظ بنایا جاسکے گا۔
لیکن محترم وزیراعظم!
کیا اپ ان بلوچوں کے وزیراعظم بھی ثابت ہوں گے جو ریاستی اداروں کے جبر کا شکار ہیں؟ جن کے وسائل کو ایک قابض استعماری قوت کی طرح صرف کیا جارہا ہے اور جہاں کے لوگ اپنی ہی سرزمین پر جبری گمشدگان کی فہرستوں میں اندراج سے خوفزدہ ہیں، مسخ شدہ لاشوں کی شناخت میں مصروف ہیں اور عقوبت خانوں کے اندھے شکموں کی بھوک مٹانے کے لیے کسی بھی وقت اٹھائے جا سکتے ہیں؟

محترم وزیراعظم!
کیا آپ ان احمدیوں کے وزیراعظم بھی ثابت ہوں گے جو اپنے تشخص، بقاء اور حقوق کی خاموش جنگ لڑ رہے ہیں؟ کیا مستقبل کے لبرل اور جمہوری پاکستان میں احمدیوں کو عمومی انتخابی فہرستوں میں شامل کیا جائے گا جن میں گزشتہ انتخابات کے دوران انہیں خارج کر دیا گیا تھا؟ کیا آپ ریاست سے مسلم یا غیر مسلم قرار دینے کا “خدائی” اختیار واپس لے کر خدا کو سونپ سکیں گے اور یہ ضمانت دے سکیں گے کہ ایک احمدی بھی اتنا ہی پاکستانی ہے جتنا ایک غیر احمدی؟

محترم وزیراعظم!
کیا آپ مستقبل میں ان غیر مسلم اقلیتوں کے لیے تحفظ، سلامتی، تعلیم، روزگار اور صحت کی ضمانت دے سکیں گے جو درس گاہوں، گزرگاہوں اور سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں اچھوت قرار دیئے جا چکے ہیں۔ کیا آپ غیر مسلم اقلیتوں کے لیے اپنے نمائندوں کے براہ راست انتخاب کا حق دلانے کے لیے آواز اٹھا سکیں گے؟ کیا آپ توہین رسالت اور توہین مذہب کے قوانین کا شکار ہونے والے افراد کے لیے بھی جمہوری اور لبرل پاکستان میں کوئی جگہ فراہم کر سکیں گے جہاں انہیں کسی مجمعے کے ہاتھوں قتل کیے جانے یا جلا دیئے جانے کا خوف نہیں ہو گا؟

کیا آپ بتا سکیں گے کہ آزادی اظہار رائے پر عائد قدغنوں کے ہوتے ہوئے ایک لبرل اور جمہوری پاکستان کا اعلان کیا معنی رکھتا ہے؟
محترم وزیراعظم!
آپ کو ان خواتین اور خواجہ سراوں کا وزیراعظم بھی بننا پڑے گا جو ایک قدامت پسند معاشرے کی پدرسری اقدار کے باعث امتیازی سلوک اور جنسی جرائم کا شکار ہیں۔ آپ کو ان مزارعوں، ہاریوں اور مزدوروں کے لیے معاشی انصاف کا وعدہ بھی کرنا ہوگا جو معاشی ناانصافی کا شکار ہیں۔ جن کی فصلیں اپنی لاگت پوری کیے بغیر گل سڑ جاتی ہیں۔ آپ کو ان صحافیوں، فنکاروں، مورخین، ادیبوں اور بلاگروں کے تحفظ کا بھی بندوسبست کرنا ہوگا جو اپنے ضمیر کی بجائے ریاستی اداروں اور سماجی جبر کے سامنے جوابدہ بنا دیئے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کے ان کارکنوں، قوم پرست سیاستدانوں اور دانشوروں کی زندگیاں اندھی گولیوں اور جبری گمشدگیوں سے بچانے کے لیے کیا تجاویز آپ کے پاس ہیں؟

محترم وزیراعظم!
کیا آپ بتا سکیں گے کہ آزادی اظہار رائے پر عائد قدغنوں کے ہوتے ہوئے ایک لبرل اور جمہوری پاکستان کا اعلان کیا معنی رکھتا ہے؟ اقلیتوں اور عورتوں کے لیے امتیازی قوانین کی موجودگی میں مساوی حقوق کیسے یقینی بنائے جا سکیں گے؟ بنیاد پرست، نفرت آمیز اور قدامت پسند نصاب کے ہوتے ہوئے ایک آزاد خیال پاکستان کا خواب کس قدر ناممکن ہے؟ معاشی ناانصافی پر مبنی اقتصادی نظام کی اصلاح کے بغیر تمام طبقات کے لیے یکساں ترقی کے مواقع فراہم کرنا کیسے ممکن ہے؟ عسکری اداروں کی بالادستی اور سول معاملات میں مداخلت کا تدارک کیسے ممکن بنایا جائے گا؟

محترم وزیراعظم!
تمام پاکستان کے لیے مساوی مواقع کا حامل لبرل اور جمہوری پاکستان تبھی ممکن ہے جب امتیازی قوانین کا خاتمہ کیا جائے، تمام شہریوں کو تعلیم، صحت اور روزگار کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں، بنیادی شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کو ریاستی تحفظ فراہم کیا جائے اور آئین کی بالادستی یقینی بنائی جائے۔ ایک لبرل اور جمہوری پاکستان کے لیے پہلا قدم اٹھائے جانے کے ہم سب منتظر ہیں اور اب آپ کے اس سعد ارادے کو حقیقت میں بدلتے دیکھنے کے خواہاں بھی۔
Categories
نقطۂ نظر

Pakistan Baffles the World Again

It was touted as a diplomatic victory, when Pakistan PM Nawaz Sharif and India’s PM Narendra Modi met in Ufa in Russia and agreed to exchange voice samples to expedite the 26/11 trial. At the same time, Kashmir was left out of the joint statement, highlighting a bilateral commitment and focus to tackle terror – which has been a scourge on both sides of the Line of Control. The Pakistan Prime Minister signed on the dotted line, and shook hands with Narendra Modi for the whole world to see.

Not only is this case a major embarrassment for Pakistan – but once again highlights that control over foreign policy does not fully rest with the Pakistan Prime Minister’s office.

But, like many times in the past, it was too good to be true. Soon Pakistan’s National Security Advisor Sartaj Aziz held a press conference calling the Modi-Sharif meeting ‘informal’ adding that the joint statement was a ‘non-binding agreement’. Aziz said that India must provide more evidence for the 26/11 trial in Pakistan, a day after the chief of the prosecution team in Pakistan said that no fresh plea will be filed to acquire the voice sample of 26/11 mastermind Zakir-Ur-Rehman Lakhvi – who is out on bail. Lakhvi’s lawyer Rizwan Abbasi said that there is no law in Pakistan which can force his client to provide a voice-sample, whereas the Investigation for a Fair Trial Act passed in Pakistan in 2013 gives the government special powers for surveillance and recording of terror suspects.

This is a direct contradiction to the agreement Nawaz Sharif penned his signature on with the full authority of the highest political office of Pakistan. Not only is this case a major embarrassment for Pakistan – but once again highlights that control over foreign policy does not fully rest with the Pakistan Prime Minister’s office. Clearly there was a push-back from the opposition and the Pakistani army against the stance Sharif took in the joint statement, which prompted the reaction from the establishment. But such a flip-flop erodes confidence in the authority of the Pakistan PM’s office and any assurance that may come from there regarding bilateral ties with India. Nawaz Sharif was even undermined by defence experts from Pakistan who appeared on Indian TV channels – who said that India must not pay much attention to the joint statement, reiterating the same argument that resolving Kashmir is the only way there can be peace between the two nations.

But beyond the foreign policy argument, what’s more worrying is that the Pakistani government has not taken the public outcry against terrorism within its own country that seriously.

This is not the first time India has witnessed a u-turn under the Sharif regime – the first time it was the 1999 Kargil War which broke out just over two months after Nawaz Sharif and former Indian Prime
Minister Atal Bihari Vajpayee signed the Lahore Declaration in Pakistan to boost bilateral ties and seek a peaceful resolution of all outstanding issues.

Pakistan is currently patting itself on the back for strengthening ties with China and Russia. These are significant achievements, but the move with India has once again set the precedent that Pakistan’s political authority can easily renege on bilateral agreements if it feels pressure from other institutional authorities, primarily the military. This once again has sent out the message that there can only be effective engagement on security issues and counter-terrorism if Pakistan’s security establishment is on-board, if not gives a nod to the political authority. That is not a good sign for Pakistan’s infant democracy. But beyond the foreign policy argument, what’s more worrying is that the Pakistani government has not taken the public outcry against terrorism within its own country that seriously. Launching military operations near the borders of Pakistan is one thing, but the security establishment is ignoring the terror units operating and growing in its heartland. If Pakistan repeatedly tells the world that it is a victim of terror and is fighting monsters on the front lines – it should help India bring one its biggest perpetrators to justice. It will be a big boost for Indo-Pak ties and will hasten the wavering faith of the world in Pakistan’s commitment to fight terror.

Categories
نقطۂ نظر

Worthy of Peace…. Capable of Cooperation?

Ayushman Jamwal

india-pakistan-LOC-2

India and Pakistan relations have taken another serious hit after the killing of five soldiers on the Indian side of the Line of Control (LoC) this month. The incident has sparked intermittent firing from Indian and Pakistani forces which have injured dozens, heightened panic along the border and potentially derailed efforts made by both sides for rapprochement. This flare up in tensions comes months after two Indian soldiers were beheaded near the LoC. Even as the Pakistan government has denied any hand in both attacks, the Indian government has not cut off diplomatic ties with the nation, despite Pakistan’s unwillingness to investigate the incidents from their side of the border. The Indian army has conducted anti-infiltration operations on the Indian side to flush out militants and recovered a massive cache of arms and ammunition last week bearing markings of the Pakistan army. Yet, Pakistan has continued to remain silent. Ever since the 26/11 attacks and numerous infiltration attempts, India has continued to extend its hand to bolster economic relations with Pakistan, receiving extensive flak from the Opposition and the public for acting soft. As rapprochement with Pakistan starts to cost the government politically, it is quickly losing patience.

While the debates may rage on in newsrooms on both sides of the border, we civilians may never know how our governments truly intend to take relations forward.

If India is to believe Pakistan Prime Minister Nawaz Sharif’s intentions to broker peace, then it seems there is a division between the authority of the Executive and the armed forces in the country. On the other hand, if the government is in complete control, then it indicates that Sharif regime is behind the escalation in tensions. While the debates may rage on in newsrooms on both sides of the border, we civilians may never know how our governments truly intend to take relations forward.

Nonetheless, I continue to believe that the prosperity of both nations rest on strong bilateral ties and cultural connections between the citizenry. Yet I know that destiny can only be realized by my generation, the youth of India and Pakistan. Our elders have had the misfortune of being isolated from imagining such a future where we can exist with peace, let alone freely share views the way I am doing through this article. The people of India are angry at Pakistan’s silence and more importantly allegations of the nation’s vilification which bolsters the public position of the jingoistic outfits in the Indian political system. Many people of my age want to believe that the young of Pakistan are committed to peace with India, but they need a sign no matter how miniscule.

I appeal to my brothers and sisters across the border – if you believe that a better future for both our nations is linked to peace between us – write, demonstrate, and express your solidarity with the people of India at this time.

I appeal to my brothers and sisters across the border – if you believe that a better future for both our nations is linked to peace between us – write, demonstrate, and express your solidarity with the people of India at this time. Condemn the attacks on our soldiers; condemn the ceasefire violations; demand that your government answer the appeals of the Indian government to investigate the killings from the Pakistan side of the border in an act of good faith. Do not allow silence to exacerbate tensions further.

As normal citizens, let’s do what we can to show that despite the standoff between our armies and governments, a pursuit for peace and brotherhood can prevail between the citizens of both our countries. Aren’t we capable of that?

 


Aushman-Jamwal

Ayushman Jamwal is a political journalist based in New Delhi