Categories
نقطۂ نظر

میں جنگ کے خلاف ہوں لیکن۔۔۔۔

[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر کا یہ مضمون اس سے قبل ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ تصنیف حیدر کی اجازت سے اسے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

یہ اس سویرے کی بات ہے، جب میری آنکھ اتفاق سے جلد کھل گئی تھی، پتہ نہیں کیوں، کس بات پر مگر نیند ٹوٹی تو معلوم ہوا کہ نیند کے ساتھ ساتھ خواب بھی ٹوٹا ہے اور یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ سرحدی علاقے میں اٹھارہ جوانوں کو کچھ دہشت گردوں نے شہید کردیا ہے۔ حالانکہ لفظ شہید ہمیشہ میرے لیے کشمکش کا باعث رہا ہے اور میں اپنی دوست رامش فاطمہ سے اس حد تک اتفاق کرتا ہوں کہ یہ لفظ انسان کے قتل، اس کی موت کو تقدس کے ہالے میں لپیٹ کر طاق میں رکھ دینے کی سازش کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ بہرحال اب آپ میرے یہاں موجود اس لفظ کو قتل یا موت کے معنی میں پڑھ سکتے ہیں۔ ہم اس دن نیوز کی دکانوں پر پڑی لکڑی کی چھوٹی چھوٹی بینچوں پر بیٹھے رہے، جہاں تازہ اپڈیٹس کی جلیبیاں اتار کر عوام کو دی جاتی ہیں، کچھ کرکری، کچھ تازی، کچھ گرم اور کچھ بہت زیادہ جلی ہوئی۔ دکان دار کوشش کرتے ہیں کہ یہ جلیبیاں کرکری اور گرم ہوں تاکہ بیٹھے ہوئے لوگوں کو اس کی عادت پڑ جائے۔ سو اس دن بھی یہی ہورہا تھا۔ آج میں کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں، حالانکہ مجھ جیسے ایک گھریلو قسم کے ادیب کا ہندوپاک کی نہایت گنجلک، خطرناک، سازشی اور سخت ترین سیاست پر لکھا گیا کوئی بھی جملہ اعتبار کا درجہ نہیں رکھتا، مگر میں چونکہ ایک امن پسند، ڈرا ہوا اور خاموش طبع انسان ہوں، اس لیے چاہتا ہوں کہ میری بات بھی کبھی سنی جائے۔

 

جب بھی کہیں کوئی موت ہوتی ہے، ہمیں اس کا دکھ منانا چاہیے، دکھ اس معاملے میں کہ آج ایک پھول پک کر، سڑ کر، پچک کر زمین پر گرپڑا ہے۔
جب بھی کہیں کوئی موت ہوتی ہے، ہمیں اس کا دکھ منانا چاہیے، دکھ اس معاملے میں کہ آج ایک پھول پک کر، سڑ کر، پچک کر زمین پر گرپڑا ہے۔ عام طور پر ہمارے ملکوں میں سپاہیوں کی موت کو موت نہیں بلکہ قربانی سمجھا جاتا ہے، ان کے مرنے، ان کے قربان یا پھر شہید ہونے سے ان کے ماں باپ کو فرق نہیں پڑنا چاہیے، ان کے بچوں، ان کے خاندان والوں اور ان کے اپنوں کو پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ فوج میں بھرتی ہونے کا ایک مقصد ہمارے یہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ لوگ وطن پر جان دینے کے لیے، کفن باندھ کر اپنے گھر سے نکلے ہیں۔ ہمارے یہاں ایک ٹرینڈ ہے، اگر آپ کو یہ بے وقت کا انگریزی لفظ برا معلوم ہوا ہے تو معافی چاہوں گا، مگر یہ روایت سے کئی گنا بہتر لفظ ہے۔ ٹرینڈ یہ ہے کہ ایک بھری ہوئی بندوق لیے ہوئے سپاہی کے پیچھے کھڑے ہوئے کچھ نہتے جی بھر کر جالیوں کے اس پار لوگوں کو گالیاں دینا چاہتے ہیں، کوسنا چاہتے ہیں، ان کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں، ان سے جھگڑا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ دونوں طرف ہے۔ اور جب اس جانب سے کوئی گولی آتی ہے تو سپاہی کا سینہ تو شہید ہونے ہی کے لیے بنایا گیا ہے، چنانچہ اس کا کوئی غم نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کے غم میں مزید آبلہ پا ہو کر ایک نئے انسان کو وردی، کنٹوپ پہنا کر، بندوق ہاتھوں میں تھما کر اس کی پشت پناہی حاصل کرلینی چاہیے۔ ہمیں اس شخص کے گھروالوں، اس کے عزیزوں، اس کی زندگی، رشتوں، خوابوں، طور طریقوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔معاف کیجیے گا، مگر ہم اس مقام پر سپاہی اور خودکش بمبار میں فرق کرنا بھول جاتے ہیں۔سپاہی ایک ذمہ دار شہری ہوتا ہے، ایک ذمہ دار باپ ہوتا ہے، ایک ذمہ دار شوہر ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر ذمہ دار انسان ہوتا ہے، جس کے اندر وہ سارے جذبات موجود ہیں، جو اس کے پیچھے کھڑے ہوکر چخ چخ کرنے والوں میں ہونے کے امکانات ہیں۔ہم کبھی جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے، اس لیے کیوں نہیں گھبراتے کہ ہمیں ان سپاہیوں کی جان اور ان کے بچوں، بیویوں کی زندگی کی فکر ہو، ان سے محبت ہو، ان کی زندگی سے محبت ہو۔ہم نفرت کی دلدل میں اس قدر گہرےاترنے کے لیے تیار ہیں کہ اپنی طرف سے لڑنے کے لیے کچھ ایسے مجبور انسانوں کو آگے کرتے ہیں، جن کے لیے فوج میں بھرتی ہونا، ان کی چھوٹی بڑی ذمہ داریوں کو نبھانے کا نام بھی ہوسکتا ہے۔ جنگ کی خواہش آپ کی ہے، تو سپاہی کیوں مرے۔ آپ کہیں گے کہ اس کا کام ہی حفاظت کرنا ہے۔ تو میرا سوال ہے کہ حفاظت اصل کام ہے، موت اصل کام نہیں ہے۔ موت اس کا مقصد نہیں ہے، اس کا مقصد ایک سچی، صاف اور صحیح زندگی ہے۔ نفرت میں ڈوب جانے والے، اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ وہ نفرت کرنے والوں کی ہی زبان بول رہے ہیں۔اس بھاشا کا اپیوگ ہمیشہ ہوتا رہا ہے، ہر زمانے میں۔ اور ہر زمانے میں سوچنے والا ذہن ان کے لیے ایک نحوست، قابل نفرت اور گھن کرنے جیسی چیز ہی بنا رہا ہے۔سوشل میڈیا کی خبروں پر ہندو پاک کے عام لوگوں کے جذبات ، جس طرح منہ سے نکلنے والے جھاگ کی طرح ، کی بورڈ پر گھس کر پیدا کیے جانے والے لفظوں کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں،ان کا نظارہ تو ہر شخص نے کیا ہوگا۔ایک صاحب نے لکھا۔ ہندوستان پر نیوکلیر حملہ ہوجائے تو ہوجائے، ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔یہ بہت بڑا دیش ہے، جتنے لوگ بچیں گے، وہ پھر سے ہندوستان بنالیں گے، مگر ہم پاکستان کا نام و نقشہ اس دنیا سے ہٹا دیں گے۔میرے ذہن میں ان کے خیالات پڑھنے کے بعد دو باتیں ایک ساتھ پیدا ہوئیں۔ اول تو یہ کہ یہ کمنٹ کرتے وقت موصوف پوری طرح اس بات کی یقین دہانی کرچکے تھے کہ وہ بچنے والوں میں سے ہی ہوں گے، دوسرے ان کا رویہ اس دہشت گرد کی ہی طرح تھا، جو سوچتا ہے کہ بھیڑ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مارگرایا جائے، مجھے تو مرنا ہی ہے، مگر میں اپنے دشمنوں کو بھی زیادہ سے زیادہ ختم کرسکوں۔اس کے لیے وہ تمام لوگ اس کے دشمن ہوتے ہیں، جن سے نہ وہ کبھی ملا، نہ ان کے خیالات کو سمجھنے کی کوشش کی، نہ عام زندگی میں انہیں اپنے ہی جیسا گھرداری اور کاروبار، عشق و تمدن میں الجھا ہوا انسان سمجھا، نہ وہ ان کے نام سے واقف، نہ ان کی فکریات سے۔بس چل پڑے، خود کو چیتھڑے چیتھڑے کرنے۔ اب اس سوچ میں اور اس سوچ میں کون سا ایسا فرق ہے۔ دہشت گردی، کہیں اور سے نہیں آتی، یہ بدلے کے جذبے سے پیدا ہونے والا ایک مرض ہے، ایک نفسیاتی مرض، جو انسان کو سوچنے سمجھنے سے محروم کرکے بس تباہی پھیلانے کی جانب راغب کرتا ہے۔اورتباہی بھی ان لوگوں کی ،جن کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو۔جن سے بلاواسطے کا ایک بیر ہو۔

 

امن حکومت کے ذریعے نہیں آ سکتا، یہ نعرے لگانے، چیخنے چلانے، گولیاں داغنے یا بم ماردینے سے نہیں آئے گا۔یہ بات کرنے کے ماحول سے پیدا ہو گا۔
یہی کام اس روز ان چار دہشتگردوں نے کیا، جو سرحد پار کرکے یہ جانتے بوجھتے اس طرف داخل ہوئے تھے کہ وہ کسی کو مار پائیں یا نہ مار پائیں مگر ان کا مرنا تو طے ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ انہوں نے کیا کیا ہے؟یہ وقت حکومتوں کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کا نہیں ہے، وہ وقت گزر گیا، اب مسئلہ عوام کے ذریعے حل ہوگا۔جرمنی کے تاریخی معاہدے کو یاد کیجیے، جرمنی کی حکومتوں نے برلن کی دیوار کو نہیں گرایا تھا، عوام نے گرایا تھا۔ دیواریں تو ہمیں ہی گرانی ہوں گی۔ یہ کون لوگ ہیں، جو ہمیں جانے بوجھے بغیرہمارے بیچ مارنے، مرنے کے لیے آجاتے ہیں۔ہمیں ان کے مرض کی تشخیص کرنی ہو گی، ہمیں انہیں یہ یقین دلانا ہوگا کہ ہم ان کے دشمن نہیں ہیں، انہیں ہماری دشمنی پر جو لوگ آمادہ کررہے ہیں، دراصل وہ انہیں گمراہ کر رہے ہیں۔ امن حکومت کے ذریعے نہیں آ سکتا، یہ نعرے لگانے، چیخنے چلانے، گولیاں داغنے یا بم ماردینے سے نہیں آئے گا۔یہ بات کرنے کے ماحول سے پیدا ہو گا۔ اب آپ پوچھیں گے کہ بات کیسے ہو گی، یہ بھی آپ ہی کو طے کرنا ہے۔آپ کو کسی حکومت سے بات نہیں کرنی ہے، آپ عوام سے بات کیجیے، عوام میں یہ یقین پیدا کیجیے کہ وہیں کے رہنے والے، وہیں کے لوگوں کے درمیان آپ کی اس امیج کو غلط ثابت کر دیں، جو وہاں کے گھٹیا ذہن بنارہے ہیں۔ وہاں کے نصابات میں زبردستی جس طرح بھارت اور بھارتی لوگوں کو دشمن بتایا جارہا ہے، آپ اپنے عمل سے یہ ثابت کیجیے، کہ تمہارا نصاب جھوٹا ہے، تم لوگوں کو غلط تعلیم دے رہے ہو، کیونکہ اسکولی تعلیم اور حقیقت پسند انسانی زندگی میں بہت فرق ہوتا ہے۔

 

پاکستان ایک کمزور پڑتا ہوا ملک ہے، وہاں کے بہت سے رہنے والوں کے دماغوں میں مذہبی رگ پھول کر سبز سے نیلی ہوگئی ہے۔ انہیں یہ بات سمجھنے میں دشواری ہورہی ہے کہ زندگیاں کرکٹ کا میدان نہیں ہوا کرتیں۔جہاں ہوائوں میں چھکے، چوکے لگائے جائیں۔ میں حیران ہوں کہ ان کے وزیر دفاع ایک نیشنل چینل پر نیوکلیئر کو استعمال کرنے کی بات کربھی کیسے سکتے ہیں۔یہ سب کتنا خطرناک ہے، پاکستانی حکمرانوں اور وہاں کے مذہب پرست بیمار لوگوں کو اس سے کوئی مطلب نہیں۔ اب ایسی ہی کچھ آبادی ہمارے یہاں بھی ہے، جو اس بات کو نہیں سمجھتی کہ مسئلے مذہبی فقروں یا وطنی نعروں سے نہیں حل ہوتے۔انسانیت کی قدر کرنے سے حل ہوتے ہیں۔مگر ایسا نہیں ہے کہ ان کے یہاں اور ہمارے یہاں کی عوام سیکولر نہیں ہے، عوام جنگ چاہتی ہے یا اپنی تباہی کے لیے پر تولے بیٹھی ہے۔ ان کے مسائل بھی اتنے ہی زمینی ہیں، جتنے ہمارے ہیں۔مجھے کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ اگر پاکستان نہیں بنا ہوتا تو کیا یہ مسائل ہوتے، جواب ملتا ہے کہ ہوتے اور شاید اس سے زیادہ بھی ہو سکتے تھے۔ کیونکہ مذہبی افتخار، نئی قومیت کے تصور کو جنم دے رہا ہے، جس سے اکیسویں صدی میں بڑی طاقتیں فائدے اٹھارہی ہیں۔نیوز چینلوں کی ان بکواسوں پر مت جائیے کہ امریکہ یا چین ہندوپاک کی ٹھڈیوں میں ہاتھ ڈال کر انہیں کس طرح منانے کی کوشش کررہے ہیں۔ جنگ کا میدان اگر دو ملک بنتے ہیں، تو آج کے زمانے میں وہاں صرف وہ دو ممالک ہی نہیں لڑتے، بلکہ دنیا کے باقی بڑے ممالک بھی اسی کا فائدہ اٹھاکر اپنی طاقت جھونک دیتے ہیں، تاکہ ایک دوسرے سے اپنی زمین سے دور لوہا لیا جاسکے، ایک دوسرے کی طاقت کا اندازہ کیا جاسکے اور کسی ایک کو کمر جھکانے پر مجبور کیا جائے۔سیریا کا انجام آپ کے سامنے ہے۔ مگر افسوس کہ ہم نے گلوبل حالات سے کچھ نہیں سیکھا اور کیوں نہیں سیکھا یہ کسی اور سے نہیں، اپنے آپ سے پوچھیے۔خدا کی بخشی ہوئی عظیم تر نعمت یعنی کہ زندگی کو کوئلہ کردینے کی خواہش نہ رکھیے، کسی سے نفرت ہی کرنی ہے تو اس رویے سے کیجیے جو انسان کو انسان سے لڑنے پر مجبور کرتا ہے۔

 

ان اسباب کو ڈھونڈنا اور ڈھونڈ کر انہیں ختم کرنا نہایت ضروری ہے، جو شہادت کے اس غلط اور گمراہ کن تصور کو رائج ہونے میں مدد دیتے ہیں، ورنہ اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتاردینے والوں کی کمی کبھی نہیں ہوگی۔
میں سوچتا ہوں کہ وہ کون لوگ ہوں گے، جن کو اس بات پر مذہبی فقرے سنا کر آمادہ کرلیا جاتا ہوگا کہ تم کسی کی جان لے کر کوئی گناہ نہیں کررہے ہو، کسی باپ، کسی شوہر، کسی بیٹے کو ختم کرکے، اسے ابدی نیند سلا کر، اس کے افکار و نظریات سے ناواقف ہوتے ہوئے بھی تم کو ایک کھلکھلاتی جنت مل سکے گی۔ان اسباب کو ڈھونڈنا اور ڈھونڈ کر انہیں ختم کرنا نہایت ضروری ہے، جو شہادت کے اس غلط اور گمراہ کن تصور کو رائج ہونے میں مدد دیتے ہیں، ورنہ اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتاردینے والوں کی کمی کبھی نہیں ہوگی۔اس لیے ضروری ہے کہ جتنے انسان پیدا ہوں، اسی مقدار میں سوچنے والے ذہن پیدا ہوں۔شارلی ہیبدو پر جب حملہ ہوا تو فرانس میں دس لاکھ کے مجمع نے مل کر اپنے غصے کا اظہار کیا، لیکن وہاں کے لوگ مسلمانوں کے تعلق سے تب بھی یہی کہہ رہے تھے کہ انہیں تعلیم کی ضرورت ہے۔سچ ہے کہ تعلیم ہی اس مسئلے کا حل ہے، وہ تعلیم جو سوچنا سکھا سکے، صرف دوسروں کے کہے پر بنا سوچے سمجھے چلنے کاطریقہ نہ سکھائے۔

 

کشمیر کا جہاں تک معاملہ ہے، مجھے لگتا ہے کہ اس علاقے کو یہاں کی ہٹ دھرم مذہبی اور علیحدگی پسند سیاست نے جہنم بنارکھا ہے۔وہاں کے لوگوں کو چاہیے کہ ہندوستان کا ساتھ دیں۔ایک تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ملک کو دل سے اپنائیں اور اس کا حصہ بنیں اور اس سے محبت کریں۔انہوں نے ہمیشہ حالات کو اس قدر خراب اور عجیب رکھا ہے کہ ان کی علیحدگی پسندی نے ہندوستان کے باقی بیس بائیس کروڑ مسلمانوں کی ایمانداری اور وطن سے ایک قسم کے محبتانہ جذبے پر سوالیہ نشان قائم کردیا ہے۔کشمیریوں کو چاہیے کہ اس قسم کی سیاست سے باہر نکلیں اور ہندوستان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کرچلیں ، بغاوت یا علیحدگی کے نام پر کسی بندوق بردار کا ساتھ نہ دیں۔وہ اپنے لیے ایک خوشگوار ماحول پیدا کرسکتے ہیں۔مگر وہ نہیں کررہے ہیں۔وہ اس مسئلے کو پچھلے ستر سا ل سے مسئلہ بنائے ہوئے ہیں اور آگے بھی بنائے رکھیں گے، یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا اور ان کی زندگیاں جنت و جہنم کے بیچ ڈولتے ہوئے ایک پل پر یونہی مجہول و مبہم رقص میں مبتلا رہیں گی۔یہ ٹچی حرکتیں، جن میں دوسری زمینی طاقتوں کی زبانی حمایت سے لے کر ایک الگ ملک کا شہری ہونے کے خواب تک پھیلی ہوئی ہیں، اب کشمیریوں کو بند کردینی چاہییں۔جس دن وہ یہ فیصلہ لیں گے، اپنے ہی نہیں، اپنے بچوں کے مستقبل کو بھی تابناک کردیں گے۔ہندو پاک کے وہ تمام لوگ جو اس زخم کے سوکھنے کے بجائے، ابھی بھی اسے اپنے نظریات سے ناسور بنے رہنے کی حمایت کرتے ہیں، وہ کشمیریوں کی زندگی کو ابتر کرنے کی سازش میں برابر کے شریک ہیں۔انہیں کشمیرکے رہنے والے انسانوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے، وہ بس ان کو بے وقوفوں کی طرح ایک مسلح فوج سے بھڑا دینا چاہتے ہیں، جس کا انجام نہایت کریہہ اور خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

 

میں جنگ کے خلاف ہوں لیکن اس لیے کیونکہ میں یہ جانتا ہی نہیں کہ میری جنگ ہے کس سے۔
ہندو پاک کے کرکٹ میچ میں چھائے ہوئے ایڈونچر سے لے کر آج جنگ کی نوبت جب ایک دفعہ پھر ہمارے آسمانوں تک آن پہنچی ہے تو ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے۔ہم اپنے ملکوں کے وفادار ہیں تو ہمیں ان کی بھلائی کے بارے میں سوچنا چاہیے، ہمیں بغیر جانے، بغیر دیکھے ہوئے لوگوں کو دشمن سمجھنے کے بجائے ایک ایسی طاقت سے لڑنے کی ضرورت ہے، جو نفرت کو ہوا دے رہی ہے اور آئے دن اس نفرت کا سہارا لے کر معصوم لوگوں کی جان لینے کے درپے ہیں (جن میں بھٹکے ہوئے نوجوان بھی ہیں اور وردی پوش سپاہی بھی)۔

 

میں جنگ کے خلاف ہوں لیکن اس لیے کیونکہ میں یہ جانتا ہی نہیں کہ میری جنگ ہے کس سے۔میں کسی سٹیڈیم میں بیٹھ کر رنگ میں لڑنے والے اپنے فریق کے بدن میں حوصلے کی ہوا نہیں بھررہا ہوں، بلکہ یہ ایک ملک کا سوال ہے، جہاں کی آبادی، جہاں کی جگہوں، جہاں کے قصوں، جغرافیائی حصوں، تاریخی مقامات اور معاملات سے میرا ایک تعلق ہے۔میں کسی انسان کے خلاف نہیں جاسکتا، جب تک کہ اپنے ذہن کی کسوٹی پر اس کے نظریات کو نہ کس لوں۔میں چاہتا ہوں کہ بہکانے والی طاقتیں ختم ہوں، کیونکہ وہی سب سے بڑا مسئلہ ہیں لیکن میرے چاہنے سے ہوتا کیا ہے۔۔۔۔
Categories
نان فکشن

امن کے عالمی دن پر ہندوستانی ہمسائے کے نام خط

ہندوستانی ہمسائے کے نام مزید خطوط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

میرے ہمسائے!

 

ہو سکتا ہے تمہاری رائے میرے بارے میں تبدیل ہو گئی ہو، اور ہو سکتا ہے کہ اب تم میرے خط کو وصول کرنے سے انکار کر دو۔ دیکھو مجھے کسی کے فوجی کے مرنے کی کوئی خوشی نہیں ہوتی تمہارے اٹھارہ فوجی مرے، مجھے ان کے مرنے کا دکھ ہے۔ مگر ایک ایسے وقت میں ہی تو امن کی بات کرنا زیادہ اہم ہو جاتا ہے، اس پاگل پن کے بیچ ہی تو ہمیں دانشمندی کے حق میں دلائل دینے ہیں۔

 

اگر کل کلاں کو میرے اور تمہارے ملک کے مابین جنگ ہوئی تو میں ابھی تک فیصلہ نہیں کر سکا کہ میں تم پر بندوق تان سکوں گا کہ نہیں۔
ایک ایسے وقت میں امن کی بات کرنا جب ایک طرف سے جنگ کی للکار ہو اور دوسری طرف ہر حملے کا سامنا کرنے کے عزم کا اظہار معلوم نہیں کس قدر دانشمندی ہے لیکن مجھے ابھی تک فیصلہ کرنے کا موقع نہیں ملا۔ اگر کل کلاں کو میرے اور تمہارے ملک کے مابین جنگ ہوئی تو میں ابھی تک فیصلہ نہیں کر سکا کہ میں تم پر بندوق تان سکوں گا کہ نہیں۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ میرے لیے بہر طور انسانیت اپنے ملک سے محبت ور تمہارے ملک سے دشمنی نبھانے سے زیادہ اہم ہے اور میں کسی ایسے پاگل پن کا حصہ نہیں بن سکتا جو حب الوطنی، مذہب یا قومیت کی بنیاد پر رچایا جائے۔ میں جنگ نہیں چاہتا اور اگر جنگ ہوئی تو میرے لیے کسی کے بھی خلاف بندوق اٹھانا ممکن نہیں ہو گا سوائے اپنے۔ میں کسی بھی اور شخص پر خواہ وہ میرے دشمن ملک سے ہی ہو گولی چلانا ممکن نہیں۔ سو اگر کبھی ہمارے درمیان جنگ ہوئی اور اگر کبھی ہم دونوں کے ملکوں کی فوجیں ایک دوسرے کو نابود کرنے کو ایک دوسرے پر چڑھ دوڑیں تو جان لینا کہ میں تب تک خود کو مار چکا ہوں گا۔

 

میرے اور تمہارے دیس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور ہم پلک جھپکتے میں ایک دوسرے کے ملکوں کو راکھ کر سکتے ہیں۔ ہم اربوں کی آبادیاں جھلسا سکتے ہیں اور ہمارے میزائل ایک دوسرے کو لمحوں میں ہمیشہ کے لیے بنجر کر سکتے ہیں۔ مگر سوچو کہ دونوں طرف ایک دوسرے کی اس تباہی کا جشن منانے کو بھی کوئی نہیں بچے گا۔ وہ بھی نہیں جو اس وقت “جنگ کرو، برباد کر دو، دشمن کو منہ توڑ جواب دو” کی گردان کر رہے ہیں۔ موت کے لیے اتنے اسباب مہیا کرنے کو دفاع کا نام کیسے دیا جا سکتا ہے؟ کیا اپنے دفاع کے لیے ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ملکوں کو تباہ کرنے کے ہتھیار جمع کر لیں اور اتنی فوجیں اکٹھی کر لیں کہ ہمارے لیے سانس لینا مشکل ہو جائے؟

 

ہم صرف اس لیے ایک دوسرے کے بچوں اور ماوں کو قتل کرنے اور ان پر بارود برسانے کو تیار ہیں کیوں کہ ہم ایک دوسرے کو جانتے نہیں اور ہمیں ایک دوسرے سے نفرت کرنے کے سوام کوئی اختیار ہمارے ملکوں نے نہیں دیا
ہمارے جوہری ہتھیار، ہمارے میزائل، ہمارے طیارے، ہمارا گولہ بارود اور ہمارے لشکر کیا یہ سب کچھ ہی ہمارے وطنوں کی نمائندگی کرتے ہیں؟ کیا ہمارے پاس ایک دوسرے کو دینے کے لیے دھکمیوں کے سوا کچھ بھی نہیں؟ یہ کہاں کی دانشمندی ہے کہ ہم ڈیڑھ ارب انسانوں کو ایک ایسی تباہی میں جھونکنے کو ہمہ وقت تیار رہیں جس کا ماتم کرنے والے بھی باقی نہیں رہیں گے؟

 

کیا ہمارے سکولوں میں یوم دفاع اور جنگوں میں جیت کے مقدموں کی بجائے امن کی اہمیت اور افادیت کے مضامین شامل نہیں کیے جا سکتے؟ کیا ہم ا پنے وسائل جو ایک دوسرے کو موت کو گھاٹ اتارنے کے لیے بارود کے انبار کھڑے کرنے کو صرف کر رہے ہیں وہ ہماری زندگیوں کو بہتر بنانے پر خرچ نہیں کر سکتے؟ کیا یہ ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کو دشمن قرار دینے کے لیے اپنے ٹی وی چینلوں کی زبانیں دراز کر لیں، ایک دوسرے سے نفرت کرنے کے لیے ایک دوسرے سے انجان رہنے کو ترجیح دینے لگیں؟ مگر میرے لیے یہ آسن نہیں۔ آخر میں ایک ایسے شخص کو کیسے دشمن تسلیم کر لوں جو مجھ سے سینکڑوں میل دور رہتا ہے اور جس سے مجھے کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچا، جس نے مجھے کبھی دیکھا ہی نہیں اور جسے میں جانتا تک نہیں اور تم کس طرح ایک ایسے شخص سے نفرت کر سکتے ہو جس سے تم واقف نہیں؟ ہم صرف اس لیے ایک دوسرے کے بچوں اور ماوں کو قتل کرنے اور ان پر بارود برسانے کو تیار ہیں کیوں کہ ہم ایک دوسرے کو جانتے نہیں اور ہمیں ایک دوسرے سے نفرت کرنے کے سوام کوئی اختیار ہمارے ملکوں نے نہیں دیا، ہمیں یہی کہا گیا ہے کہ جنگ ہی واحد حل ہے۔ مگر ہمیں نفرت کے علاوہ بھی کچھ منتخب کرنے کا حق ملنا چاہیئے، ہمیں جنگ کے سوا بھی کوئی حل تلاش کرنا چاہیئے۔۔۔۔
Categories
نقطۂ نظر

دو قومی نظریہ اور تقسیم ہند: تقسیم در تقسیم کی نفسیات

دونوں ملکوں کی نفرت نے دو نسلوں کو نگل لیا ہے۔ اس نفرت نے خطے کی بھوک مٹانے کی بجائے، کھیت اور کھلیان جلانے کے لیے جان جوکھوں میں ڈالی ہوئی ہے۔
سیاست میں تاثر (perception) کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ حقیقت کیا ہے، اس سے غرض نہیں ہوتی۔ غرض اس سے ہوتی ہے کہ پیش کیا گیا، تاثر کیا بنا۔ دو قومی نظریے پر ہم اسی تناظر میں بات کر رہے ہیں کہ جس تاثر کے ساتھ وہ عوام میں تقسیمِ ہند کے وقت پھیلا، یا پھیلایا گیا اور اب تک جیسا پڑھایا اور سکھایا جا رہا ہے۔ تحقیق سے اگر ثابت بھی ہو جائے کہ قائد اعظم یا مسلم لیگ کا نظریہ اس تاثر سے مختلف ہے جو ہمارے سامنے ہے تو بھی ہمارے لیے نتائج کے اعتبار سے اسی تاثر کی اہمیت ہے نا کہ اس نظریے کی جو قائد اعظم یا مسلم لیگ کے اذہان میں رہ گیا اور اس کی ترسیل نہ ہو سکی۔ جس تاثر نے یہ نتائج پیدا کئے ہمارے لیے وہی حقیقت ہے اور اسی پر بات کرنا ضروری ہے۔

 

سوال یہ ہے کہ اس پر با ت کرنا کیوں ضروری ہے؟ کیا یہ بے وقت کی راگنی ہے۔ تو جواب یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔ تقسیم ِ ہند کے اثرات اور نتائج کا سلسلہ 1947 سے لے کر آج تک لگاتار جاری ہے۔ دونوں ملکوں کی نفرت نے دو نسلوں کو نگل لیا ہے۔ اس نفرت نے خطے کی بھوک مٹانے کی بجائے، کھیت اور کھلیان جلانے کے لیے جان جوکھوں میں ڈالی ہوئی ہے۔ وہ جوانیاں جو اپنی ذاتی اور ملکی ترقی کے کام آ سکتی تھیں، وہ جنگوں میں ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کے کام آ رہی ہیں۔ دونوں ملکوں کے عوام کی قربانیوں کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آ رہا۔ تقسیم کے وقت جو ٹرینیں لاشوں سے بھری ہوئی آتی تھیں آج بھی ان سے لاشیں اٹھا ئی جا رہی ہیں: پہلے وہ تلواروں اور بھالوں کی زد میں ہوتی تھیں، آج وہ بم دھماکو ں کا ہدف ہیں ۔تقسیم کا اشتعال آج بھی سرحدوں پر بلا اشتعال فائرنگ کروا دیتا ہے۔ گیتا جیسی لڑکیوں کو 17 سال در در کے دھکے کھا کر اپنے ملک جانا نصیب ہوتا ہے، اور کتنے ایسے ہیں جن کو جانا نصیب ہی نہیں ہوتا، کتنے ہیں جو اپنوں سے ملنے کی آس لیے تہہ خاک چلے گئے۔ ابھی چند دن پہلے ہی ہندوستان سے ایک بہن 50 سال بعد اپنے بھائی سے ملنے پاکستان آئی تو بھائی اس خوشی سے ہی چل بسا۔ تقسیم کے دکھ ختم نہیں ہوئے۔ دونوں ملکوں کی نفرت نے تعلیم کو بھی تخریب کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ سیلاب روکنے کے اقدامات سے زیادہ ان کے لیے ایٹم بم بنانا ضروری ہو گیا تاکہ دونوں ملک ایک دوسرے کو مکمل طور پر نیست و نابود کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکیں! ہمارا مستقبل سخت خطرے میں ہے۔ اور اسی وجہ سے ہمارے لیے بہت ضروری ہے کہ نفرت کی بنیادوں کو سمجھیں اور اس کے خاتمے کاراستہ تلاش کریں۔ بنیاد کی غلطیوں کو درست کیے بغیر ایسا ممکن نہیں۔ اور یہی ہماری کوشش ہے۔

 

ہندوستان اور پاکستان میں نفرت کی بنیاد تقسیمِ ہند ہے۔ اور تقسیمِ ہند کی بنیاد دو قومی نظریہ۔ دو قومی نظریہ جس تاثر کے ساتھ عوام میں پھیلایا گیا ہم اس پر بات کر رہے ہیں۔

 

دو قومی نظریہ پیدا کرنے اور اس کو پروان چڑھانے کے لیے ہندو مسلم امتیازات کو خوب ہوا دی گئی۔ دونوں طرف کے چند انتہا پسندوں کی حرکتوں اور بیانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا جیسے کہ اب بھی سیاسی جماعتیں کرتی ہیں۔
دو قومی نظریہ پیدا کرنے اور اس کو پروان چڑھانے کے لیے ہندو مسلم امتیازات کو خوب ہوا دی گئی۔ دونوں طرف کے چند انتہا پسندوں کی حرکتوں اور بیانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا جیسے کہ اب بھی سیاسی جماعتیں کرتی ہیں۔ جب یہ فصل خوب پک گئی، تو اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ مسلمانوں کو الگ ملک میں رہنا چاہیے، لیکن صرف جنوب مغربی ہندکے مسلمانوں کو۔ اس خیال کو ہندوستان میں رہنے والی مسلم اقلیت میں پذیرائی حاصل ہوگئی، اور اس کے ساتھ مسلم لیگ کو بھی، جسے اس واضح مقصد کے تعین سے پہلے مسلمانوں میں پذیرائی نہیں مل پا رہی تھی۔
یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جن علاقوں میں مسلم اکثریت تھی، جو اب پاکستان میں شامل ہیں، وہاں کے مسلم عوام کو وہ مسائل درپیش ہی نہ تھے، جو ہندوستان کی مسلم اقلیت کو درپیش تھے اور جن کی بنا پر یہ مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔ یہاں برعکس معاملہ ہوسکتا تھا کہ ہندو اقلیت کو مسلم اکثریت سے خطرات لاحق ہو سکتے تھے، مگر ایسا بھی کچھ نہ تھا۔ یہ علاقے اس لحاظ سے پرسکون تھے، اور اسی وجہ سے سیاسی طور پر کم بیدار بھی۔ اور اسی وجہ سے مسلم لیگ کو آخر وقت تک ان علاقوں سے ووٹ حاصل کرنے میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ساری تگ و دو کرنے کے بعد بھی 1945-46 کے انتخابات مین مسلم لیگ کو بنگال اور سندھ سے تو مکمل حمایت ملی، البتہ پنجاب میں اسے کل مسلم سیٹوں کا 87.2 فیصد ملا، جب کہ کل مسلم ووٹ کا 67.3 فیصد مل سکا۔ جب کہ خیبر پختون خواہ نے مسلم لیگ کے خلاف ووٹ دیا اگرچہ مذہب کے نام پر سب سے زیادہ اسی صوبے سے ووٹ مانگے گئے تھے، بلوچستان تو ان انتخابات میں شامل ہی نہ تھا۔

 

مسلم لیگ کی کامیابی یہ تھی کہ وہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر الگ ملک کی مکمل مصنوعی بھوک پیدا کرنے میں ناکام ہونے کے باوجود بھی اسے اپنا مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی، البتہ، اس میں کانگریس کی ناعاقبت اندیشی کا بڑا دخل تھا۔

 

دوسری طرف، جس مسلم اقلیت کو ہندو کے سیاسی، سماجی اور مذہبی غلبے سے ڈرا کر ووٹ لیے گئے تھے، یعنی ہندوستان کے ہندو اکثریت والے علاقوں کے مسلمان سے، ان کے لیے الگ ملک کا قیام ان کے مسائل کا حل تھا ہی نہیں، اس لیے کہ عملاً یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ سب کے سب ہجرت کر کے پاکستان میں چلے آتے۔1920 کی تحریکِ ہجرت میں وہ یہ ناکام تجربہ پہلے کر بھی چکے تھے۔ لیکن اس کے باوجود مسلم لیگ کو الگ مسلم ریاست کے نام پر سب سے زیادہ ووٹ اور سیٹیں ان سے ہی ملیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ لوگ ووٹ نہ دیتے تو پاکستان نہیں بن سکتا تھا۔

 

دوسری طرف، جس مسلم اقلیت کو ہندو کے سیاسی، سماجی اور مذہبی غلبے سے ڈرا کر ووٹ لیے گئے تھے، یعنی ہندوستان کے ہندو اکثریت والے علاقوں کے مسلمان سے، ان کے لیے الگ ملک کا قیام ان کے مسائل کا حل تھا ہی نہیں
دو قومی نظریہ ایک ایسا لالی پاپ تھا، جسے ہر طبقے کو اس کے پسندیدہ ذائقے اور رنگ میں پیش کیا گیا تھا۔ ہندوستان کی مسلم اقلیت کو یہ بتایا گیا کہ الگ ملک ہوگا تو مسلمانوں کا مذہبی، اور ثقافتی تشخص محفوظ رہے گا ورنہ ہندوستان کی ہندو اکثریت میں ضم ہو کر کھو جائے گا۔ لیکن یہ پتا، مسلم اکثریتی علاقوں کے مسلمانوں کے ہاں نہیں چل سکتا تھا۔ چنانچہ، ان کو یہ بتایا گیا کہ ہندوستان کی آزادی کے بعد، جمہوریت کے نظام کی وجہ سے سیاست اور حکومت میں مسلمان اقلیت میں رہ جائیں گے، یہاں کے لوگ بھی ہندو اکثریت کے دست نگر بن جائیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کا الگ ملک ہو تاکہ وہ اس میں آزادی سے حکومت کر سکیں گے۔

 

تیسری طرف، مذہبی طبقے کو ساتھ ملانے کے لیے انہیں بتایا گیا کہ یہ درحقیقت اسلامی ریاست کا قیام عمل لایا جا رہا ہے، جس سے خلافت کی کمی پوری کی جا سکے گی، اسلام نافذ ہوگا اور قرونِ اولی کی یاد تازہ ہو جائے گی۔ علامہ اقبال جیسی بلند قامت شخصیت اور ان کے عظمتِ رفتہ کی بحالی کی فکر اور شاعری نے مسلم لیگ کے مدعا کو مذہب کو مقدس جامہ پہنا دیا۔ مذہب کو شامل کرتے ہی، پاکستان اب ایک نظریہ سے بلند ہو کر عقیدہ بن گیا، ‘پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ’ کا نعرہ اس فکر کا ترجمان بن کر مقبول ہوگیا، اب جس کی مخالفت، کفر اور گمراہی قرار پائی۔ مسلم لیگ میں شامل ہونے والی مذہبی شخصیات کو فوراً ہی اس نظریے کے حق میں دلائل کے ساتھ ساتھ، مطلوبہ خواب اور غیبی بشارتیں بھی آنے لگیں۔ وہ مسلم لیگ کی قیادت، کے مغربی لباس کو تو تبدیل نہ کروا سکے، لیکن عالمِ رویا میں انہوں نے ان کو سبز چغے پہنا دئیے۔ البتہ، مخالف دھڑوں کی دینی شخصیات کے مختلف یا مخالف خواب، الہام، کشف اور فتوؤں کو انہوں نے نظر انداز کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی ،حسبِ توقع وہ، قرآن سے بھی دو قومی نظریہ برآمد کر لائے۔

 

چوتھی طرف، لبرل، سیکولر اور غیر مسلم اقلیتوں کو یہ بتایا گیا کہ پاکستان میں ملائیت (Theocracy)نہیں ہوگی۔ تمام شہری بلا امتیازِ مذہب برابر ہوں گے۔ ‘وقت سے ساتھ ہندو، ہندو نہیں رہیں گے ، اور مسلمان ، مسلمان نہیں رہیں گے، مذہبی طور پر نہیں بلکہ سیاسی طور پر’۔ چنانچہ یہ لبرل اور سیکولر طبقات بھی اس تحریک میں دامے درمے سخنے شامل ہو گئے۔

 

آج جو یہ سب طبقات دو قومی نظریے یا نظریہ پاکستان کی اتنی مختلف توجیہات پیش کرتے ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ہر ایک کو جو ورژن بتایا گیا، وہ اسی کا راگ الاپ رہا ہے۔

 

بدقسمتی دیکھیے کہ جس وقت دنیا شعوری بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، فیڈریشن اور کنفیڈریشن کی طرف جا رہی تھی، ہندوستان کے رہنما انہیں تقسیم کا سبق پڑھا رہے تھے۔
بدقسمتی دیکھیے کہ جس وقت دنیا شعوری بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، فیڈریشن اور کنفیڈریشن کی طرف جا رہی تھی، ہندوستان کے رہنما انہیں تقسیم کا سبق پڑھا رہے تھے۔ امریکہ کی 50 ریاستوں نے 1775 میں ساتھ مل کر رہنے کا معاہدہ کیا اور پهر وہ دنیا کا ایک طاقتور ترین ملک بن گئے۔ یورپ کے 28 ممالک نے مسلک اور نسل کی بنیادوں پر ہونے والی صدیوں کی طویل باہمی جنگوں سے سبق سیکھ کر یورپی یونین کی بنا ڈالی۔ اسی طرح دنیا کے دیگر سیاسی بالغ ممالک بھی باہمی تعاون سے رواداری سے رہنا سیکھ گئے، لیکن ہندوستان کے باشندے مذہب اور ثقافت کے نام پر ایک زمین، ایک تاریخ، ایک بڑی مشترکہ زبان (اردو اور ہندی)، ایک ادب، ایک جیسے فنون لطیفہ کے وارث ہو کر بھی ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے۔ ہندوستان اور پاکستان کی مشترکہ یکساں اور متخالف اقدار کا میزانیہ بنایا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہماری مشترکہ یکساں اقدار اتنی زیادہ ہیں کہ مختلف یا متضاد اقدار بے ضرر بلکہ اختلاف حسن کا باعث ہیں۔ مگر سیاست دانوں کے سیاسی مفادات اور تعصبات، فرقہ باز مولویوں کی طرح ہمیں اتفاق سے زیادہ اختلاف کے پہلو نمایاں کر کے دکھاتے ہے۔

 

پھر یہ تقسیم کی نفسیات کہ اگر دو لوگ ایک دوسرے سے مختلف فکر اور تہذیب کے حامل ہیں تو انہیں الگ بھی ہو جانا چاہیے، ہمیں مزید تقسیم کرتی چلی گئی۔ تقسیمِ ہند کی کامیابی نے تقسیم کی اس نفسیات کو تقویت دی۔ چنانچہ، ملک کے اندر ہم آپس میں یہ دیکھنے لگے ہم میں سے کون ہم سے مختلف ہے، اور پهر اسے خود سے الگ کرنے کے لیے اسے خود سے الگ سمجھنا شروع کر دیا۔ اس کے نتیجے میں پہلے مشرقی پاکستان کے لوگ ہم سے علیحدہ ہو گئے، محض اس بنا پر کہ چونکہ وہ ہم سے مختلف رنگ، زبان اور تہذیب رکھتے تھے، اس لیے ان کا علیحدہ ہونا بھی ضروری تھا۔ در حقیقت، وہ علیحدہ نہیں ہوئے تھے، ہم نے انہیں علیحدہ کیا تھا۔ یہ سلسلہ پھر چل نکلا، چنانچہ، ہم نے اپنے ملک کی سب سے بڑی اقلیت، مسیحی برادری کو خود سے الگ سمجھ لیا، ان کی بستیاں الگ بسائیں، معاشرتی طور پر ان کے ساتھ امتیازی سلوک اپنایا، بات بات پر ان پر توہینِ مذہب کے الزام لگا کر ان کو ایک خوف زدہ اقلیت میں تبدیل کر دیا۔ ہم مسلسل ان کو الگ کئے جا رہے ہیں۔ اب دیکھیے وہ بھی کب ہم سے الگ ملک کا مطالبہ کر دیں، اور جب وہ یہ مطالبہ کریں گے، تو ہم ان پر الزام لگا دیں گے کہ وہ پاکستان کے وفادار نہیں، اس ملک کو تقسیم کر کے وہ غیرو ں کا ایجنڈا پورا کر رہے ہیں۔ اور اگر وہ علیحدہ ہونے میں کامیاب ہو گئے تو ہم ان سے ہمیشہ کے لیے دشمنی پال لیں گے۔ یہ ہے وہ کہانی جو بار بار دہرائی جا رہی ہے۔ اس سے ایک قدم اور آگے بڑھ کر ہم نے زبانوں کے مختلف ہونے کی بنیاد پر الگ صوبے بنانے کا مطالبہ کر دیا۔ کراچی جیسے شہر میں مختلف قومیتوں والوں کے الگ الگ علاقے بن گئے۔ حتی کہ ملک میں اہلِ تشیع کو بھی الگ محلّے بنا کر رہنا پڑا۔

 

جن فسادات سے بچنے کے لیے ہم نے الگ ملک بنا تها ان فسادات نے ہمارا پیچھا پھر بھی نہ چھوڑا۔ ہمیں ہندو نہ ملے تو ہم نے اپنے ملک کے لوگوں کو کاٹنا شروع کر دیا۔
جن فسادات سے بچنے کے لیے ہم نے الگ ملک بنایا تھا ان فسادات نے ہمارا پیچھا پھر بھی نہ چھوڑا۔ ہمیں ہندو نہ ملے تو ہم نے اپنے ملک کے لوگوں کو کاٹنا شروع کر دیا۔ حقیقت میں مسئلہ ادیان کا نہیں، انسان کا تھا۔ یہ انسان تھا جو لڑنا چاہتا تھا۔ وہ مذہب کو بنیاد بنا کر لڑا، جب یہ بنیاد نہ ملی تو مسلک کو بنیاد بنا کر لڑا، مزید ورائٹی کے لیے زبان اور جلد کے رنگ کے اختلاف کو بنیاد بنا کر لڑا۔ ہم کب تک اور کہاں تک علیحدہ ہو تے چلے جائیں گے۔ ہم جتنے بھی اپنے جیسوں کے ساتھ علیحدہ ہوں گے، وہ بھی بہرحال انسان ہی ہوں گے۔ ہم انسان سے تو علیحدہ نہیں ہو سکتے۔ ہم اپنی اپنی اکائیوں میں بھی لڑنے کے لیے کوئی نہ کوئی اختلاف ڈھونڈ لیں گے۔ تو اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ علیحدہ ہونا اس کا حل نہیں، وہ حل نکال کر ہم بھگت چکے۔ اس کا حل انسان کو انسان بنانے میں ہے۔ اس کی تعلیمی اور شعوری تربیت کرنے میں ہے کہ وہ انسانوں کے ساتھ انسانوں کی طرح رہنا سیکھ لے۔ یہی ایک حل ہے۔ تقسیم اس کا حل نہیں۔ تقسیم در تقسیم کی پهر کوئی حد نہیں۔

 

یہی بھارتی اور پاکستانی، ہیں جو باہر ممالک میں جب جاتے ہیں تو محض معاش کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ نہایت امن و سکون، بلکہ بھائی چارہ کے ساتھ رہتے ہیں۔ پیٹ کے راستے آنے والی عقل بڑی پختہ ہوتی ہے۔ لیکن یہ سب بھارت اور پاکستان کے عوام میں ہونے نہیں دیا جاتا۔ اگر باہر ممالک میں ایک ساتھ رہنے اور کھانے پینے سے ان کا مذہب اور دھرم، خراب اور بھرشٹ نہیں ہوتا تو اپنے ملک میں کیوں ہو جاتا ہے؟ وہاں ان کی ثقافت کو ایک دوسرے سے خطرہ لاحق نہیں ہوتا تو یہاں کیسے لاحق ہو جاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ خطرات عوام کو نہیں ، سیاست دانوں کو لاحق ہوتے ہیں۔ جن کو مشترکہ حکومت میں اپنے ذاتی اقتدار کی آزادی نظر نہیں آتی اس لیے وہ تقسیم کو پسند کرتے ہیں تاکہ ایک الگ ٹکڑے میں بلا شرکتِ غیرے اقتدار کے مزے لوٹ سکیں۔ اس کے لیے نفرت کا پیدا کرنا اور نفرت کو قائم رکھنا ان کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔ ان کا حال فرقہ باز مولویوں سے بالکل مختلف نہیں ہے۔

 

دو ملک بن گئے مگر اجنبیت کا سفر جاری رہا، پھر اسی نفسیات نے بنگلہ دیش بنوا دیا، لیکن اجنبیت کا سفر پھر بھی نہ رکا، اب ملک میں اپنے مسلک مشرب، سیاسی اور ثقافتی اختلافات رکھنے والوں کو برداشت نہیں کیا جا رہا۔
ہمارے بزرگ بتاتے ہیں کہ پاکستان کے انہی علاقوں میں ہندو مسلم بڑے سکون سے رہاکرتے تھے، بڑا میل جول ہوتا تھا۔ ایک دوسرے کے ساتھ ان کے مذاہب پر مزاح بھی کرتے تھے لیکن ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں معاشرتی طور پر شامل بھی ہوا کرتے تھے۔ پھر سیاست آئی اور اس نے اچانک بتایا کہ تمہارے ساتھ رہنے والا مذہب اور ثقافت کے لحاظ سے تم سے مختلف ہے، اس لیے یہ تمہارا دوست نہیں ہے، اسے خود سے اجنبی بناؤ۔ پھر یہی ہوا اور اجنبیت بڑھتی چلی گی۔ دو ملک بن گئے مگر اجنبیت کا سفر جاری رہا، پھر اسی نفسیات نے بنگلہ دیش بنوا دیا، لیکن اجنبیت کا سفر پھر بھی نہ رکا، اب ملک میں اپنے مسلک مشرب، سیاسی اور ثقافتی اختلافات رکھنے والوں کو برداشت نہیں کیا جا رہا۔ اب ملک کے بعض حصے الگ ملک تو نہ بن سکے مگر نو گو ایریاز بن گئے، علیحدگی کی نفسیات ہمیں اپنے جیسے انسانوں سے دور کرتی چلی جا رہی ہے۔

 

دونوں ملکوں کی عوام کو چاہیے کہ نفرت کے اس کھیل کو سمجھیں اور اپنے خرچے پر اپنی تباہی مت خریدیں۔ تقسیمِ ہند، تاریخ کا جبر تھا جو گیا۔ اب ہمارے مستقبل کا تحفظ اور فلاح، بالغ نظر ممالک کی طرح کنفیڈریشن بنا کر رہنے میں ہے۔ جہاں سرحدیں بس نام کی ہوں۔ ویزہ کی پابندی نہ ہو۔ جب ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا ہوگا تو معلوم ہوگا کہ دونوں طرف عام انسان بستے ہیں، جو اسی طرح سکون سے رہنا چاہتے ہیں، جیسے ہم رہنا چاہتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوگا کہ وہاں اور یہاں کا عام آدمی اس ‘عام آدمی’ سے بالکل مختلف ہے جو میڈیا کے کیمرے کی کانی آنکھ سے نظر آتا ہے۔
Categories
شاعری

فرض کرو

youth-yell
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

فرض کرو

[/vc_column_text][vc_column_text]

تو فرض کرو
ہم دونوں کے ملکوں میں اتنا پریم جگے
ہم دونوں کے دیسوں میں ایسا عشق بسے
اس جانب کی برساتوں میں، اس جانب کی دھوپیں کھیلیں
اس جانب کے دھانی سورج، اُس جانب کے تن پر پھیلیں
تو کیسا ہو

 

تو کیسا ہو
جو آنکھوں میں نفرت کا کوئی بال نہ ہو
کیسا ہو امن کی نگری میں جب کوئی بدن کنگال نہ ہو
پھر پھول کھلیں، پھر دن گائیں
پھر راتوں کی تنہائی نہ ہو
جو بات ہے اتہاسوں میں دفن
وہ ہم نے کبھی دہرائی نہ ہو

 

تو فرض کرو پھر کیسا ہو
جب خواب کی ساری گلیوں سے مسلک کے تماشے دور رہیں
ہم عشق نشے میں چور رہیں

 

تو فرض کرو پھر کیسا ہو
جب ہنستے کھیلتے ہم اپنے مستقبل کو روشن کرلیں
جب چاہے اٹھیں اور جائیں ادھر
ان آنکھوں کا درشن کرلیں
اب توڑ دیں ہر محمل آو
اب چاک ہر اک چلمن کرلیں
تم آئنہ کرلو خود کو
ہم بھی خود کو درپن کرلیں

Image: Aghaz-e-Dosti
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
نقطۂ نظر

کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے

پیرس میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام بین الاقوامی کانفرنس میں 195 ممالک شریک ہیں۔ تقریباً 145 ممالک کے سربراہان، اہم حکومتی عہدیدار اور سیاسی شخصیات اس وقت پیرس میں ماحولیاتی تبدیلی کی روک تھام کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش میں ہیں۔ کانفرنس میں پاک بھارت تعلقات کے لیے سازگار ماحول بنانے کی ایک کوشش اس وقت سامنے آئی جب بھارتی وزیراعظم نے وقفے کے دوران وزیراعظم پاکستان نوازشریف سے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو نوازشریف نے بھی گرم جوشی سے اس کا جواب دیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان دو منٹ تک مختصر گفت وشنید بھی سرگوشیوں میں ہوئی۔ یہ غیر رسمی، بے تکلفانہ کے ماحول میں مختصر ملاقات پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے لیے سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے۔ اوفا میں شریف، مودی ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ کے مطابق مذاکرات بھارت نے کشمیری قائدین سے ملاقات کا بہانہ بنا کر ملتوی کردیئے تھے۔ مودی کی پاکستان کے بارے میں سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے تعلقات کافی کشیدہ ہوگئے تھے۔ اس ملاقات کو سفارتی حلقوں نے بہت مثبت قرار دیا ہے مگر یہ سوال اہم ہے کہ کیا اس ملاقات سے سردمہری کی یہ برف پگھل جائے گی؟

 

انیس سو پچاسی میں پاکستان کے ساتھ بھارت کے تعلقات بہت خراب ہوگئے تو صدر ضیاء الحق نے مالدیپ سے واپس آتے ہوئے بھارت کا دورہ کیا جو صورتحال کو اعتدال پر لانے میں دوررس نتائج کا حامل ثابت ہوا۔
پاک بھارت تعلقات ہمیشہ سے غیر یقینی کا شکار رہے ہیں۔ ان تعلقات کی تشکیل اور اتار چڑھاؤ میں کئی مثبت اور منفی عوامل کا عمل دخل رہا ہے۔ پاک بھارت تعلقات کی تاریخ دراصل باہمی اعتماد اور ہم آہنگی کے فقدان کی داستان ہے۔ آزادی کے بعد سے اب تک پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر، سیاچن اور سرکریک پر تنازعات اور دریاؤں کے پانی کی تقسیم جیسے اہم مسائل پیدا ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ دہشت گردی اور دونوں ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت جیسے الزامات بھی دونوں فریق ایک دوسرے پر لگاتے ہیں۔

 

بھارت ممبئی حملے، سکھ تخریب کاروں کی مبینہ امداد جیسے الزامات مختلف فورمز پر دہراتا ہے، جبکہ پاکستان بلوچستان میں مداخلت،کراچی میں بدامنی اورپاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت جیسے الزامات بھارت پر لگاتا ہے۔ پاک بھارت معاملات کو بہتر بنانے کے لیے بہت سی کاوشیں کی گئی ہیں۔ 1960-1961 میں برطانیہ اور امریکہ نے عالمی بنک کے تعاون سے دریاؤں کی تقسیم کا معاہدہ کروایا، معاہدے کے تحت چھ دریاؤں میں سے تین دریا راوی، ستلج، بیاس بھارت کے حوالے کر دیئے گئے۔ ستمبر 1965 میں تاشقند کے مقام پر پاکستانی صدر ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات ہوئے۔ اس وقت کے پاکستانی وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کی مخالفت کے باوجود 4 جنوری 1966 کو تاشقند میں معاہدہ ہوا۔ مگر چار سال بعد ہی تعلقات دوبارہ کشیدہ ہوگئے اور 1971 میں جنگ کی وجہ سے پاکستان دولخت ہوگیا۔ 1985 میں پاکستان کے ساتھ بھارت کے تعلقات بہت خراب ہوگئے تو صدر ضیاءالحق نے مالدیپ سے واپس آتے ہوئے بھارت کا دورہ کیا جو صورتحال کو اعتدال پر لانے میں دوررس نتائج کا حامل ثابت ہوا۔ نوازشریف کے سابقہ دورحکومت میں سابق بھارتی وزیراعظم واجپائی کے ساتھ مذاکرات اور تصفیہ طلب مسائل پر تفصیلی بات چیت ہوئی تھی لیکن اعلان لاہور کے باوجود کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوسکی۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں بیک ڈور ڈپلومیسی کے تحت چار نکاتی فارمولا بھی سامنے آیا۔

 

اس وقت دونوں ممالک اپنے بجٹ کی خطیر رقم دفاع پر خرچ کر رہے ہیں حالانکہ دونوں ملکوں کو دہشت گردی، انتہاپسندی، غربت، جہالت، بیروزگاری، معاشی پسماندگی، بڑھتی ہوئی آبادی اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے گوناگوں مسائل کا سامنا ہے۔
خارجہ پالیسی کے بعض ماہرین کے مطابق مشرف کا چار نکاتی فارمولا ہی پاک بھارت مسائل کا مستقل حل ہے۔ شرم الشیخ میں بھی پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات میں مذاکرات بحال کرنے کا وعدہ کیا گیا مگر عملی طور پر تمام مسائل جوں کے توں رہے۔ روس کے شہر اوفا میں برکس کانفرنس کے موقع پر نواز شریف اور نریندر مودی کے درمیان ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ میں اس بات کا عہد کیا گیاتھا کہ تمام تصفیہ طلب مسائل حل باہمی بات چیت سے حل کیے جائیں گے۔ بعد میں بوجوہ معاملات آگے نہیں بڑھ سکے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کے عوام آپس میں خوشگوار اور برابری کی بنا پر دوستی چاہتے ہیں۔ اس وقت دونوں ممالک اپنے بجٹ کی خطیر رقم دفاع پر خرچ کر رہے ہیں حالانکہ دونوں ملکوں کو دہشت گردی، انتہاپسندی، غربت، جہالت، بیروزگاری، معاشی پسماندگی، بڑھتی ہوئی آبادی اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے گوناگوں مسائل کا سامنا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل باہمی بات چیت کے ذریعہ حل کریں۔ عالمی برادی خطے میں پائیدار قیام امن کے لیے دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار اداکرے۔ مشرف دور کے سابق وزیرخارجہ خورشید رضا قصوری نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ بیک ڈور چینل کے ذریعہ ہم ایک معاہدہ کے قریب پہنچ گئے تھے جو بوجوہ مکمل نہیں ہوسکا۔ دونوں ممالک کو الزام تراشی کی روش ترک کے کھلے دل کے ساتھ ایک دوسرے کا موقف سننا چاہیئے اور آؤٹ آف دی باکس کسی حل پر غور کرنا چاہئیے۔

 

اس مرتبہ پاکستان نے مذاکرات اور دوستی کی طرف ہاتھ بڑھانے میں پہل کی ہے اب مودی صاحب کو بھی چاہیئے کہ جس طرح انہوں نے پیرس میں پہل کی ہے وہ اس ملاقات کو نتیجہ خیز بنانے اور دوررس نتائج کے لیے پاکستان کو باضابطہ مذاکرات کی دعوت دیں۔
اس مرتبہ پاکستان نے مذاکرات اور دوستی کی طرف ہاتھ بڑھانے میں پہل کی ہے اب مودی کو بھی چاہیئے کہ جس طرح انہوں نے پیرس میں پہل کی ہے وہ اس ملاقات کو نتیجہ خیز بنانے اور دوررس نتائج کے لیے پاکستان کو باضابطہ مذاکرات کی دعوت دیں۔ اچھی پہل کرنے کے لیے بھارتی حکومت اپنی کرکٹ ٹیم کو پاکستان کے ساتھ کھیلنے کی اجازت دے اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کرے، تاکہ باہمی اعتماد کی فضا قائم ہوسکے۔ خارجہ امور کے بعض ماہرین اس ملاقات کو 8 اور 9 دسمبر کو ہونے والی ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس سے بھی نتھی کر رہے ہیں۔ اگر بھارت کی وزیرخارجہ سشما سوراج اس کانفرنس میں شریک ہوکر پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کرکے باضابطہ بات چیت کا آغاز کریں تو اس سے برف پگھل جائے گی۔ وزیراعظم پاکستان نوازشریف نے اس ملاقات کے بعد صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملاقات بہت خوشگوار ماحول میں ہوئی دونوں طرف سے اچھے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے مگر اچھے جذبات کو عملی جامہ پہنانا بہت ضروری ہے۔ وزیراعظم پاکستان پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ اگر بھارت پیشگی شرائط نہ رکھے تو ہم مذاکرات کے لیے تیارہیں۔ اس وقت پاکستانی حکومت اور عسکری قیادت بھارت کے ساتھ اچھے ہمسائے کی طرح رہنے کے حق میں ہیں اور مسائل بات چیت سے حل کرنے کو تیار ہیں۔ خطے میں پائیدار امن کے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک اسلحے کی دوڑ سے باہر نکلیں، جنگی جنون کو چھوڑ کر پیسہ اپنی عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں۔ دونوں ممالک میں تعلیم، صحت، بنیادی ضروریات زندگی، انفراسٹرکچر، جدید تحقیق، ٹیکنالوجی، زرعی سہولیات، تجارت اور ٹرانسپورٹ سمیت بہت سے بنیادی مسائل پر بجٹ خرچ کرنے سے کروڑوں عوام کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی۔ بڑھتی ہوئی آبادی، دہشت گردی، ماحولیاتی آلودگی اور موسمی تبدیلیاں جیسے اہم مسائل سے نمٹنے کے لیے بھی دونوں ممالک کو الزام تراشی کی بجائے ایک دوسرے سے حل کے لیے تعاون کر ناچاہیئے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون پہلے ہی دونوں ممالک میں تصفیہ طلب مسائل کے مذاکرات کے ذریعے حل کے لیے تعاون کی پیشکش کرچکے ہیں جو عالمی برادری کی جانب سے اس امر کا اظہار ہے کہ دونوں ایٹمی ممالک کے درمیان مسائل حل نہ ہوئے تو یہ عالمی امن کے لیے مستقل خطرہ ہوں گے۔ دونوں ملکوں کے میڈیا کو بھی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کا مظاہرہ کر تے ہوئے ایک دوسرے کو نیچادکھانے کی بجائے مثبت پہلووں پر روشنی ڈالتے ہوئے قیام امن کی کاوشوں میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔