Categories
نقطۂ نظر

‘Out of the Box’ Diplomacy

The philosopher Ralph Waldo Emerson once said that “A foolish consistency is the hobgoblin of little minds, adored by little statesmen and philosophers and divines.” In the realm of international affairs, these words reflect the very nature of intelligent diplomacy – an exercise that requires constant recalibration to face a dynamic world, where even a single tweet can spark an international incident. Charges of ‘flip flops’ and ‘inconsistencies’ may be good soundbites for political attacks, yet they form part of any competent nation’s diplomatic strategy.

Prime Minister Modi’s stop-over in Pakistan to meet Nawaz Sharif did nothing less than stump the Opposition in India, which scrambled to formulate a line of attack against the NDA government instead of supporting the effort.

Prime Minister Modi’s stop-over in Pakistan to meet Nawaz Sharif did nothing less than stump the Opposition in India, which scrambled to formulate a line of attack against the NDA government instead of supporting the effort. For months, the Congress party had criticised the Centre for not talking to Pakistan. After the NSA talks in Bangkok and Indian External Affairs Minister Sushma Swaraj’s attendance at the Heart of Asia summit in Islamabad, the same party is now calling the NDA government’s new found engagement “unstructured”, adding that the ground realities in the region have not changed.

It is clear that this is churlish criticism levelled purely for political leverage. Major political parties in Pakistan welcomed PM Modi’s visit to Lahore. Even the international media was full of praise, but the majority of Opposition parties in India remained united against the PM’s move, citing issues such as the progress of the 26/11 trial, Hafiz Saeed, cross-border terror and the Kashmir dispute to counter the praise. Even Indian news channels, which lauded the Prime Minister, were accused by the Congress of being BJP mouthpieces.

PM Modi’s Lahore visit indicates his attempt to re-evaluate India’s engagement with Pakistan. It is a two-pronged approach, with Indian officials dealing with the military wing via the NSA level talks in
Bangkok and Modi engaging the civilian leadership. The Prime Minister is conscious of the fact that the Indian government cannot appear stubborn when it comes to India-Pakistan ties. There is diplomatic capital in engagement, especially atmospherics, when the Indian government also enforces red lines. The Indian government has previously cancelled talks over Pakistan’s engagement with the Hurriyat as third party stakeholders in the bilateral process. Enhancing atmospherics in such a scenario is essential to facilitate favourable international opinion.

Narendra Modi’s visit to Lahore was unconventional, but so are India’s ties with Pakistan, which continuously face the fleeting promise of resolution.

In the book ‘New Regionalism and the European Union’, political scientists Stelios Stavridis and Panagiota Manoli reflect on the establishment of the European coalition of nations, stressing the
importance of atmospherics to establish and strengthen regional ties, especially to achieve new paradigms. They say, “It is not always the immediate impact that matters, but rather the
wider question of socialization that needs to be acknowledged, which refers to a learning process and the diffusion of norms and behaviours. The potential bridge-making role of parliamentary
diplomacy, coupled with its overall socialization effect, should not be underestimated.”

India-Pakistan ties have always faced a political push and pull, but all challenging diplomatic ties need to be regularly boosted with acts of goodwill and rapprochement. It is an important pre-cursor to achieve any breakthroughs, no matter how unlikely they may seem. Narendra Modi’s visit to Lahore was unconventional, but so are India’s ties with Pakistan, which continuously face the fleeting promise of resolution.

The main charge against Modi is that he didn’t follow conventional procedure; that he thought ‘out of the box’. However, no one with their sights set on a big objective should hesitate to think out of the box or fear criticism for breaking with convention. While achieving tangible results is a different challenge altogether, Modi’s recent move has been one of a statesman, not a politician.

Categories
نقطۂ نظر

اپنے ہندوستانی ہمسائے کے نام شرمندگی کے ساتھ لکھا ایک خط

ہندوستانی ہمسائے کے نام مزید خطوط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

دیکھو۔۔۔۔۔

 

میں نہیں جانتا کہ کیا کہوں اور بات کیسے شروع کروں۔ جانتا ہوں اس وقت تم خفا ہو گے، غصے میں بھی ہوگے اور شاید اب ہم اس برس بھی کرکٹ نہ کھیل سکیں۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا لکھوں۔ ٹی وی دیکھنے کی بھی ہمت نہیں پڑ رہی، صبح جیسے ہی پٹھان کوٹ پر حملے کی خبر سنی یقین جانو پہلی دعا یہی نکلی “یا اللہ یہ پاکستانی نہ ہوں”۔ دل ایک دم بے چین ہو گیا کہ ابھی سشما سوراج جی اور پھرمودی صاحب ہو کر گئے تھے اور ابھی پھر۔۔۔۔۔ ابھی تو ممبئی والا معاملہ ہی کسی کروٹ نہیں بیٹھا تھا۔ یہ بھی نہیں دیکھ پایا کہ کتنے ہلاک ہوئے کتنے زخمی ہوئے، کس تنظیم سے تھے شام تک پتہ چلا کہ شاید ہماری طرف سے ہی تھے۔ یوں لگا جیسے کوئی اپنا یا شاید میں خود مر گیا ہوں یا میری روح کا کم از کم کوئی ایک حصہ ایک بار پھر مر گیا ہے جو میرے اور تمہارے مشترکہ اجداد کا وارث تھا۔ تب سے بس منہ لپیٹے پڑا ہوں۔ تاریخ کا ایک بوجھ ہے جس کے تلے میں دبا ہوا ہوں۔

 

یوں لگا جیسے کوئی اپنا یا شاید میں خود مر گیا ہوں یا میری روح کا کم از کم کوئی ایک حصہ ایک بار پھر مر گیا ہے جو میرے اور تمہارے مشترکہ اجداد کا وارث تھا۔
ہم سب کو احساس ہے کہ ہم نے تمہارے ساتھ اچھا نہیں کیا، تمہارے لیے دل میں بغض رکھے، تمہیں زک پہنچائی، تمہیں نڈھال کرنے کو کرائے کے قاتل تک تیار کیے۔ غلطیاں تمہاری طرف سے بھی ہوئیں، ہم دونوں نے ایک دوسرے کے گلے کاٹے ہیں اور ایک دوسے کو تباہ کرنے کے جتن کیے ہیں، اپنے اپنے خداوں سے ایک دوسرے کی بربادی مانگی ہے، ایک دوسرے کے خلاف شب خون مارے ہیں، مورچے کھودے ہیں، فوجیں کھڑی کی ہیں۔ میزائلوں کے انبار لگائے ہیں، جوہری ہتھیار بنا کر دھمکایا ہے اور سب سے بڑھ کر ایک دوسرے سے نفرت کی ہے۔ لیکن میں اپنی غلطیاں ماننے میں اوران پر شرمندہ ہونے میں پہل کرنا چاہتا ہوں، اللہ مجھے توفیق دے کہ کبھی نہ کبھی ان پر معافی مانگنے میں بھی پہل کر سکوں۔ کیوں کہ کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی کو پہل کرنی پڑے گی۔ یہ بحث فضول ہے کہ تمہارا زیادہ نقصان ہوا یا ہمار، کون جیتا کون ہارا، کس نے پہل کی۔۔۔ نقصان انسانوں کا ہوا، ہار انسانیت کی ہوئی اور پہل بھی انسانیت کو ہی کرنا پڑے گی۔

 

مودی جی آئے، بے حد اچھا لگا، واجپائی صاحب کی آمد کی یاد تازہ ہوئی، لگا کہ امن کا ایک اور اعلامیہ متوقع ہے ، کہیں نہ کہیں اعلان لاہور یا چناب فارمولے کی گرد جھاڑی جا رہی ہو گی اور پرانی فائلوں پر نئے کور چڑھائے جا رہے ہوں گے، مگر۔۔۔۔۔ تب کارگل ہو گیا، پھر ممبئی ہو گیا اور اب پٹھان کوٹ۔ سمجھ نہیں آتا کہ کس غلطی کا اعتراف پہلے کروں اور کس کی صفائی دوں۔ کشمیر پر حملہ آور جتھوں کی بات کروں، ان بے نام سپاہیوں کی جو 65 کی جنگ سے پہلے بھیجے گئے لیکن جن کے نام کسی سرکاری فائل میں درج نہیں کیے گئے۔ چلو رن آف کچھ پر کوئی حیلہ ڈھونڈ نکالوں گا مگر کارگل۔۔۔۔ کارگل پر کیا کہوں؟ ان سب پر کن الفاظ میں تم سے ندامت کا اظہار کروں جنہیں یہاں سے تم سے نفرت کا نصاب پڑھا کر تمہارے خلاف بارود اگلنے کو بھیجا تھا؟ جن کے لیے چندے مانگے، کیمپ بنائے اور جنہیں روکنے کو تمہیں خاردار تاریں لگانا پڑیں؟

 

مودی جی آئے، بے حد اچھا لگا، واجپائی صاحب کی آمد کی یاد تازہ ہوئی، لگا کہ امن کا ایک اور اعلامیہ متوقع ہے ، کہیں نہ کہیں اعلان لاہور یا چناب فارمولے کی گرد جھاڑی جا رہی ہو گی اور پرانی فائلوں پر نئے کور چڑھائے جا رہے ہوں گے، مگر۔۔۔۔۔ تب کارگل ہو گیا، پھر ممبئی ہو گیا اور اب پٹھان کوٹ۔
ہو سکتا ہے کہ میں کہوں کہ چھوڑو یار جو ہوا سو ہوا تم نے بھی تو مشرقی پاکستان اور پھر کراچی اور پھر بلوچستان اور۔۔۔۔۔۔لیکن یقین جانو یہ بات کہتے ہوئے کئی بار مجھے خود سے نفرت ہوئی ہے کہ میں کتنی کم زور دلیلوں کی بنیاد پر تم سے نفرت کرتا رہا ہوں اور اس نفرت کی بناء پر جنون اور پاگل پن میں کتنے لوگوں کے خون سے ہاتھ رنگتا رہا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ جو غلطیاں تم سے ہوئیں تم ان کے بارے میں کیا سوچتے ہو۔ ہو سکتا ہے تم نے بھی کوئی جواز گھڑ رکھا ہو اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کا، لیکن یاد رکھو غلطی کا جواز غلطی کو صحیح ثابت نہیں کر سکتا۔ مجھے پتہ ہے کہ اپنے کیے پر تمہیں بھی کوئی فخر نہیں ہو گا، آخر کوئی کیسے کسی سے نفرت کرنے، دشمنی بڑھانے اور پیٹھ میں چھرا گھونپنے پر فخر کر سکتا ہے؟ ہو سکتا ہے اپنی غلطیوں کے جواب میں یہ کہوں کہ تم نے دس لاکھ سے زائد کشمیری مار دیئے کیا ہم چپ کر کے بیٹھ جاتے؟ پھر سوچتا ہوں کہ کل کلاں کو جب بلوچ ور افغان مجھ سے پوچھیں گے کہ ہمیں مارنے والا اور جنگ میں دھکیلنے والا کون تھا تو کیا کہوں گا؟

 

ہو سکتا ہے کہ میں اس بیساکھی کا سہارا لوں کہ یار ماضی کی بات ہے، ہم نے تو مشرف دور میں پابندی لگا دی ان سب جماعتوں پر نہ ممبئی ہم نے کرایا اور نہ پٹھانکوٹ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن میرا ضمیر مجھے ملامت کرے گا کہ ٹھیک ہے میں، میرے ریاستی ادارے، میری حکومت اس سب میں اب ملوث نہیں لیکن کیا میں نے اس سب کو ہونے سے روکنے کے لیے خاطر خواہ کوشش کی؟ وہ جو ہمارے اثاثے تھے کیا انہیں تلف کرنے کے لیے کوئی پیش بندی کی؟ تم سے جھوٹ بول لوں گا، عالمی اداروں کو فریب دے لوں گا لیکن میرا ضمیر تو کبھی معاف نہیں کر سکتا کہ میں نے ان حافظ سعیدوں، لکھویوں، زید حامدوں، جیشوں،لشکروں کو اپنے سامنے دندناتے، تقریریں کرتے، بھرتیاں کرتے، چندے مانگتے اور کھالیں اکٹھے کرتے دیکھا ہے لیکن کچھ نہیں کیا۔ یقین جانو ہم نے سبق سیکھ لیا ہے اور اب کسی جگہ دہشت گردی برآمد کرنے میں ہمارا کوئی ہاتھ نہیں لیکن کیا کروں کہ ہر بار اس دعوے کے جواب میں ہر دہشت گرد کا کھرا ہماری زمین تک آتا ہے۔ میں شرمندہ ہوں کہ ہم بہت کچھ نہیں کر پائے، اپنے لیے، ایک دوسرے کے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے۔

 

وہ وقت آ گیا ہے کہ اب ہم دونوں یہ سمجھ لیں کہ ایک دوسرے کی غلطیوں کے جواب میں مزید غلطیاں، نفرت کے جواب میں مزید نفرت، حملے کے جواب میں حملہ، سیاچن کے جواب میں کارگل، 65 کے جواب میں 71، کشمیر کے بدلے بلوچستان۔۔۔۔۔ یہ سب کہیں نہیں رکے گا اور اس سب کو کہیں نہ کہیں روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان چند شرپسندوں، ان مٹھی بھر شدت پسندوں، ان جنگجووں، ان بندوق برداروں، آتنک وادیوں اور فوجیوں کی بجائے دونوں طرف بسنے والے انسانوں کو دیکھیں۔

 

ہو سکتا ہے کہ میں کہوں کہ چھوڑو یار جو ہوا سو ہوا تم نے بھی تو مشرقی پاکستان اور پھر کراچی اور پھر بلوچستان اور۔۔۔۔۔۔لیکن یقین جانو یہ بات کہتے ہوئے کئی بار مجھے خود سے نفرت ہوئی ہے کہ میں کتنی کم زور دلیلوں کی بنیاد پر تم سے نفرت کرتا رہا ہوں اور اس نفرت کی بناء پر جنون اور پاگل پن میں کتنے لوگوں کے خون سے ہاتھ رنگتا رہا ہوں۔
مجھے ڈر ہے کہ اب پتہ نہیں کیا ہو گا۔ مذاکرات ہوں گے یا نہیں ہوں گے؟ کون کس پر انگلی اٹھائے گا اور کون کس کو ذمہ دار قرار دے گا۔ مجھے ڈر ہے کہ اب پھر سے ہم اپنے اپنے میزائلوں سمیت سرحدوں پر مورچے نہ باندھ لیں، مجھے خوف ہے کہ ایک بار پھر دونوں جانب کے انتہا پسند مرنے مارنے کے لیے اکسانا نہ شروع کر دیں، مجھے واقعی اس بات کی تشویش ہے کہ کہیں پھر سے ہم وہیں نہ پہنچ جائیں جہاں سے ہم چلے تھے۔ مجھے اب جنگ سے بھی زیادہ اس بے یقینی سے ڈر لگتا ہے، مجھے اب ان سب آستینیں چڑھائے، چنگھاڑتے اور جنگ کے لیے ذہن سازی کرتے اینکروں، کالم نگاروں اور تجزیہ نگاروں سے گھن آنے لگی ہے جو ہر بار ایسے موقعوں کے لیے اپنی زبانیں زہر میں بجھائے رکھتے ہیں۔

 

آو ۔۔۔۔۔۔وہ جو ہمیں امن قائم کرنے کی بجائے جنگ کی راہ دکھانا چاہتے ہیں، ویزے میں نرمی کی بجائے سرحدوں کے آر پار بارودی سرنگیں بچھانا چاہتے ہیں، فلموں کی نمائش کی بجائے فنکاروں پر سیاہی انڈیلنا چاہتے ہیں، مذاکرات کی بجائے جھڑپیں چاہتے ہیں۔۔۔۔ انہیں نظرانداز کریں۔ آو یہ تسلیم کریں کہ ہمارا دشمن مشترکہ ہے وہ جو تمہیں مارنا چاہتا ہے اسی کی بندوق میری جانب بھی ہے، وہ جو تمہا مجرم ہے اس کی فرد جرم میں میرا قتل بھی درج ہے۔۔۔۔۔۔۔آو گاندھی جی کی بات سنیں جو کہتے تھے کہ آنکھ کے بدلے آنکھ کا قانون پوری دنیا کو اندھا کر دے گا، آو جناح کی بات سنیں جو کہتے تھے کہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین ایسے تعلقات ہونے چاہیئں جیسے امریکہ اور کینیڈا کے مابین ہیں، آو واجپائی کی بات سنیں جو کہتے تھے کہ جنگ نہ ہونے دیں گے، آو نواز شریف کی بات سنیں جو دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہتا ہے۔ ہمیں ملالہ اور کیلاش ستیارتھی سے سیکھنا ہے کہ ہمارا مستقبل بچوں سے وابستہ ہے، لیکن بدقسمتی سے ہم انہیں ایک دوسرے سے نفرت کا سبق دے رہے ہیں۔ کیا ایسے میں امن ممکن ہے؟؟؟ اس کا جواب دیتے ہوئے میں خود بھی پریشان ہوں۔

 

فقط
تمہارا پاکستانی ہمسایہ