Categories
نقطۂ نظر

لبرل اور جمہوری پاکستان کا خواب چکناچور

چار نومبر 2015ء کو اسلام آباد میں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کے دوران وزیراعظم پاکستان نوازشریف نے کہا کہ ’’عوام کا مستقبل جمہوری اورلبرل پاکستان میں ہے، پاکستان نے انتہاپسندی اور دہشت گردی پر قابوپانے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، قوم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم اپنے معاشرے کے کسی طبقے میں بھی انتہاپسندی اور دہشت گردی کے کینسر کو پھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے‘‘۔ اس کے چند روز بعد وزیراعظم کراچی میں دیوالی کے موقع پر ہندو برادری کے اجتماع میں شریک ہوئے یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی اعلیٰ حکومتی عہدیدار اقلیتی برادری کے کسی مذہبی تہوار میں شریک ہوا۔ اجتماع سے مخاطب ہوکر وزیراعظم نے کہا،’’میں مسلمانوں کے علاوہ ہندووں، سکھوں، عیسائیوں اور پارسیوں کا بھی وزیر اعظم ہوں۔ میں آپ کا ہوں، اور آپ میرے ہیں۔ مجھے ہولی پر بلائیں اور جب میں آؤں تو مجھ پررنگ ضرور پھینکیں‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’قوم میں اتحاد اور اتفاق پیدا کرنا میرامشن ہے، تمام مذاہب کے لوگ ہم آہنگی کو فروع دیں، ظالم کے خلاف آپ کے ساتھ کھڑا رہوں گا، اگر ظالم مسلمان بھی ہو تو میں مظلوم کا ساتھ دوں گا‘‘۔

 

پاکستان تب تک ایک لبرل، سیکولر اور حقیقی معنوں میں جمہوری ریاست تب تک نہیں بن سکتا جب تک موجودہ آئین کے دیباچے سے قراردادِمقاصد کو حذف کر کے اس کی جگہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947ء کو قانون ساز اسمبلی میں کی جانے والی تاریخی تقریر کو شامل نہیں کیاجائے گا۔
وزیر اعظم کی ان بیانات کے بعد ملک کے لبرل، روشن خیال طبقات میں خوشی کی لہردوڑ گئی کہ چلو’’دیر آید درست آید‘‘بالآخر دائیں بازو کی قدامت پسند مذہبی سوچ کی حامل مسلم لیگ (ن) کے سربراہ کو ارضی حقائق کا ادراک ہوگیا ہے، اور شاید اب پاکستان ماضی کی تاریکیوں سے نکل کر روشن خیالی اوراعتدال پسندی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ البتہ بعض روشن خیال دانشوراس خدشے کا بھی اظہار کر رہے تھے کہ کہیں وزیراعظم ملکی سیاسی فضاء کی صورت حال کو بھانپ کر سن 2018ء کے پارلیمانی انتخابات میں لبرل طبقات کی حمایت حاصل کرنے کی غرص سے یہ شوشہ تونہیں چھوڑ دیا ہے۔ لیکن عمومی طورپر وزیراعظم پاکستان کے بیانات سے یہ تاثر ابھرا تھا کہ شاید نواز شریف کی قیادت میں موجودہ حکومت حقیقی انداز سے ملک میں انقلابی تبدیلی لانے کے خواہاں ہے اور ملک کو حقیقی لبرل معاشرے میں تبدیل کرنے کا آغاز آئینی نظام کو سیکولر بنیادوں پر استوار کر کے شروع کیا جائے گا۔

 

پاکستان تب تک ایک لبرل، سیکولر اور حقیقی معنوں میں جمہوری ریاست تب تک نہیں بن سکتا جب تک موجودہ آئین کے دیباچے سے قراردادِمقاصد کو حذف کر کے اس کی جگہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947ء کو قانون ساز اسمبلی میں کی جانے والی تاریخی تقریر کو شامل نہیں کیاجائے گا۔ جناح نے اپنی اس تقریر میں امورِ مملکت سے مذہب کو علیحدہ رکھنے کا عندیہ دیا تھا۔ لیکن لبرل طبقات کی خوابوں کا شیش محل اس وقت ’’حقائق کی بے رحم سنگ باری ‘‘ میں چکناچور ہو گیا جب پنجاب کے شہر جہلم میں مشتعل بلوائیوں نے احمدی برادری کی ایک فیکٹری کو آگ لگا دی۔ رپورٹوں کے مطابق فیکٹری کے ڈرائیور نے ایک ملازم پر الزام عائد کیا، کہ انہوں نے قرآن کریم کو نذرِ آتش کردیا ہے۔ اس الزام کے بعد ہزاروں بپھرے ہوئے افراد جمع ہوکر فیکٹری کی جانب بڑھے اور مرکزی دروازہ توڑ تے ہوئے اندر داخل ہوئے اور فیکٹری کو نذرِ آتش کر دیا۔ فیکٹری کے اندر موجود 15 ملازمین اور مالک بمشکل جان بچا کر وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوئے۔ خوش قسمتی سے دہشت گردی کے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہ ہوا۔ سانحے کے اگلے روز ایک مرتبہ پھر مشتعل ہجوم نے فیکٹری کے قریب واقع جماعت احمدیہ کی عبادت گاہ پر دھاوا بول دیا، وہاں موجود سامان کو باہر لاکر جلا ڈالا اور عبادت گاہ کو غسل دے کر وہاں نماز اداکی۔ اس ساری صورتحال میں پولیس کا کردار خاموش تماشی کا رہا۔

 


پنجاب پولیس کا بھیانک چہرہ:

پولیس کی ذمہ داری معاشرے میں قانون کا نفاذ اور شہریوں کی جان ومال اور عزت آبرو کی حفاظت ہے لیکن پنجاب پولیس کا تاریخی کردار زیادہ حوصلہ افزاء نہیں رہاہے۔کیونکہ پولیس کی موجودگی کے دوران شدت پسندوں کی جانب سے بے گناہ شہریوں کو سرِعام موت کی گھاٹ اتارنے کے واقعات اکثر رونما ہوتے آئے ہیں۔ چند برس پہلے رمضان کے مقدس مہینے میں سیالکوٹ کے ایک با اثر گروہ نے دو بھائیوں کو پولیس کی موجودگی میں موٹرسائیکل سے اتار کر چوری کے الزام میں لاٹھیوں سے مار مار کر ہلاک کردیا۔ ان کی لاشوں کو ٹرک کے پیچھے باندھ کر پورا شہر گھمانے کے بعد چوک میں لٹکا دیا گیا لیکن پولیس کو ان دہشت گردوں کا ہاتھ روکنے کی زحمت نہ ہوئی۔ ایک برس قبل لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں غیرت کے نام پر باپ اور بھائیوں نے خاتون کو اینٹیں مار مار کر ہلاک کر دیا تھا مگر پولیس سمیت عوام کا ہجوم تماشہ دیکھتا رہا۔ جوزف کالونی کو جلانے، احمدیوں کے قتلِ عام اور کورٹ رادھا کشن میں مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے جیسے واقعات کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ردعمل سست رہا یا غیرموثر رہا۔ پچھلے سال ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان آمد کے موقع پر لاہور ہی میں تحریکِ منہاج القرآن کے کارکنوں کے خلاف جلیانوالہ باغ جیسا قتلِ عام بھی پنجاب پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ جہلم کے سانحے میں پولیس اپنی ماضی کی روایات کو دہراتے ہوئے دہشت گردوں کے سامنے بے بس رہی۔ ڈی پی او جہلم نے اس واقعے کے بعد اپنے انٹرویومیں کہا ’’جب مشتعل ہجوم فیکٹری کی جانب بڑھ رہا تھا تو پولیس نے فیکٹری میں موجود ملازمین کو بھاگنے میں مدد دی ورنہ کوئی بھی ناخوش گوار واقعہ رونما ہوسکتاتھا‘‘۔اس بیان سے واضح ہوگیا ہے کہ پولیس قانون نافذکرنے کے اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکا م ہوچکی ہے کیونکہ جب صورتحال بہت زیادہ خراب ہوگئی تو شہر میں امن وامان کو برقرار رکھنے کے لیے فوج کو طلب کرنا پڑا۔

 

جوزف کالونی کو جلانے، احمدیوں کے قتلِ عام اور کورٹ رادھا کشن میں مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے جیسے واقعات کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ردعمل سست رہا یا غیرموثر رہا۔
جہلم سانحے کا پیغام:
جہلم میں احمدیوں کے خلاف دہشت گردی کے اس واقعے سے وزیر اعظم نواز شریف کے لبرل جمہوری پاکستان کے دعوے زمین بوس ہوگئے ہیں، اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیاجاسکتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان، آپریشن ضربِ غضب اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بلندوبانگ دعوے اصل میں وہ طفل تسلیاں ہیں جن کے ذریعے حکمران عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ فوج کے سربراہ جرنیل راحیل شریف نے چند روز قبل کورکمانڈر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا،’’دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دیرپا نتائج کے لیے ضروری ہے کہ حکومت بہتر طرزِ حکمرانی کی جانب توجہ دے‘‘۔ سپہ سالار کے اس بیان اور حالیہ جہلم واقعے کوسامنے رکھ کر دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دراصل موجودہ حکومت بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات اٹھانے کی سکت نہیں رکھتی۔ واقعہ جہلم سے اس بات کا بھی عندیہ ملتا ہے کہ مشتعل دہشت گردجب چاہیں حکومتی عملداری کو پاؤں تلے روندکر قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ حکومت ایسے مواقع پر خاموش تماشائی سے بڑھ کر اور کچھ کرنے کے اہلیت نہیں رکھتی۔
Categories
نقطۂ نظر

شدت پسندی سےلبرل ازم تک

چار نومبر 2015ء کو اسلام آباد میں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کے دوران وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ “عوام کا مستقبل جمہوری اور لبرل پاکستان میں ہے، پاکستان نے انتہا پسندی اور دہشت گردی پر قابو پانے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، قوم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم اپنے معاشرے کے کسی طبقے میں بھی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے کینسر کو پھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے”۔ کانفرنس کے چند روز بعد ہی کراچی میں دیوالی کے موقعے پر جو کچھ نوازشریف نے کہا وہ ناقابل یقین تھا۔ بقول نواز شریف “میں مسلمانوں کے علاوہ ہندووں، سکھوں، عیسائیوں اور پارسیوں کا بھی وزیراعظم ہوں۔ میں آپ کا ہوں، آپ میرے ہیں۔ مجھے ہولی پر بلائیں اورجب میں آوں تو مجھ پر رنگ ضرور پھینکیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ قوم میں اتحاد اور اتفاق پیدا کرنا میرا مشن ہے، تمام مذاہب کے لوگ ہم آہنگی کو فروغ دیں، ظالم کے خلاف آپ کے ساتھ کھڑاہوں گا”۔

 

وزیر اعظم کےان دو خطابات کوسمجھنے کے لیے پہلے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ لبرل کسے کہتے ہیں اور لبرل ازم کیا ہے۔ ایک بات ذھن میں رکھیے گا کہ پاکستان میں لبرل ازم کے حامیوں میں نہ تو صرف مذہب سے بیزار لوگ شامل ہیں اور نہ ہی مادر پدر آزادی کے حامی، کیونکہ یہ سب ایک ایسے معاشرئے میں رہتے ہیں جو مذہب کا بہت احترام کرتا ہے، اور سماجی اقدار کی اہمیت سے بھی آگاہ ہیں۔ ذیشان ہاشم اپنے مضمون “لبرل ازم کیا ہے؟” میں لکھتے ہیں کہ “لبرل ازم سیاسی، سماجی اور معاشی تصورات کا ایسا مجموعہ ہے جس کی بنیاد شخصی آزادی، انصاف اورمساوات پرقائم ہے، اس کا دائرہ کارمحض سیاست سماج اور معیشت تک ہی محدود ہے۔ لبرل ازم میں جمہوریت، شہری حقوق، آزادی اظہار رائےاورحق اجتماع کا ہونا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ لبرل ازم میں مذہبی آزادی ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے، ہر فرد کو آزادی حاصل ہے کہ وہ جس مذہب یا نظریہ کو اپنی عقل و بصیرت سے بہتر جانے، اس پر عمل کرے ۔ مذہبی آزادی کے بغیر لبرل ازم کی بنیادیں قائم نہیں رہ سکتیں، دوسرے ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ جو چاہے خریدے یا بیچے۔ جائیداد رکھنے کا ہر فرد کو حق حاصل ہے۔ ریاست انتظامی اخراجات کے لیے لوگوں سے ٹیکس وصول کر سکتی ہے مگر وہ اس کے خرچ میں جوابدہ ہے ۔ ٹیکس کا مصرف محض شہریوں کی فلاح و بہبود اور ملکی دفاع ہونا چاہیئے” ۔ ان تمام باتوں سے اتفاق رکھنے والے فرد کو لبرل کہا جاتا ہے۔

 

ہر ملک کا لبرل ازم اپنی تشریحات میں مختلف ہے مگر شخصی آزادی، انصاف، اور مساوات کی بنیادیں ہر جگہ مشترک ہیں۔ اس میں ہر عہد کے اعتبار سے ارتقا ہے۔
ذیشان ہاشم اپنے اسی مضمون میں مزید لکھتے ہیں کہ”لبرل ازم زمان و مکان کے بارے میں بہت حساس ہے۔ ہر ملک کا لبرل ازم اپنی تشریحات میں مختلف ہے مگر شخصی آزادی، انصاف، اور مساوات کی بنیادیں ہر جگہ مشترک ہیں۔ اس میں ہر عہد کے اعتبار سے ارتقا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ میں لبرل قوتیں ویلفیئر اسٹیٹ کی حامی ہیں تو یورپ میں لبرل قوتوں کا موقف یہ ہے کہ حکومت محض ادارہ جاتی انتظام قائم کرے، ہر شخص اپنی محنت اور ذہانت سے اپنے لیے ویلفیئر کا خود ہی بندوبست کرسکتا ہے۔ پاکستان میں بھی لبرل ازم یہاں کی تاریخ ثقافت اور شہریوں کی امنگوں کے مطابق ہی عملی و فکری بنیادوں پر قائم ہو سکتا ہے جن کی بنیاد ہر صورت میں شخصی آزادی، انصاف، اور مساوات پر قائم ہوگی”۔

 

وزیر اعظم کے بیانات شدت پسندوں کے لیے ہضم کرنا بہت مشکل تھا، لہٰذاوزیر اعظم کے چار نومبر کے بیان کے فوراً بعد جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے اسلامی جمعیت طلبہ کے ایک پروگرام میں کہا ہےکہ “قیام پاکستان کےوقت لاکھوں عوام نے لبرل نہیں اسلامی پاکستان کے لیے قربانیاں دی تھیں جو پاکستان کے اسلامی کردار کو ختم کرنا چاہتے ہیں وہ خود ختم ہو جائیں گے، وزیراعظم کو ملک کے آئین سے متصادم باتوں سے پرہیز کرنا چاہئیے، قائد اعظم اور علامہ اقبال دو قومی نظریے پر یقین رکھتے تھے، اگر وہ آج زندہ ہوتے تو یقیناً جمعیت میں ہوتے، اس کے ساتھ ہی اُنہوں نے کہا کہ جسے لبرل ازم کی چاہت ہے وہ امریکہ چلا جائے۔ اس سے پہلے سراج الحق لوگوں کو ممبئی جانے کا مشورہ بھی دے چکے ہیں جبکہ 2013ء کے انتخابات کے موقعہ پر سابق امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کراچی کے ایک جلسہ میں لبرلز کوملک سے چلے جانے کا کہہ چکے ہیں۔ دیوالی کے موقع پر وزیراعظم کی تقریر کے بعد جماعت اسلامی کے ڈاکٹرحسین احمد پراچہ نے ایک مضمون “نفاذ شریعت سے لبرل ازم تک” لکھا ہے جس میں امریکہ اور یورپ میں ہونے تمام برائیوں کا ذمہ دار “لبرل ازم” کو قرار دیا ہے۔ ان کا مضمون کسی بھی نقطہ نظر کو سمجھے بغیر اس پر تنقید کرنے کا سماجی رویہ ہے۔ ان کا مضمون اسی فرسودہ اور غیر عملی مذہبی سیاسی فکر کی تکرار ہے جو پاکستان کے پسماندگی کی ایک اہم وجہ ہے۔

 

جماعت اسلامی کے سابق امیرِ قاضی حسین احمد اور سیدمنور حسن اسامہ بن لادن جیسے عالمی دہشت گرد کی ‘شہادت’ کا ماتم کرتے ہیں۔ سید منور حسن حکیم اللہ محسود کی موت کےعظیم سانحہ پر نوحہ کناں رہتے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام اور لال مسجد کے شدت پسند مولانا عبدالعزیز لوگوں کے گلے کٹتے تو دیکھ سکتے ہیں لیکن اُن کو حقوق ملتے نہیں دیکھ سکتے۔ پاکستانیوں کی یہ بدقسمتی بھی ہے کہ وہ لوگ جو کل تک پاکستان کے مخالف تھے آج اپنے آپ کو پاکستان کا مالک سمجھ کر اپنے حقوق کی بات کرنے والے لبرل پاکستانیوں کو پاکستان سے چلے جانے کو کہہ رہے ہیں۔ یہ حضرات آج یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ اگر آج قائد اعظم اور علامہ اقبال زندہ ہوتے تو وہ جماعت اسلامی کی ‘دہشت گرد’ طلبہ تنظیم اسلامی جمیت طلبہ کے رکن ہوتے۔ دہشت گرد تنظیم “جند اللہ” کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ اس کے موجد اسلامی جمعیت طلبہ کے اراکین ہی ہیں، جماعت اسلامی کےامیرسراج الحق کو اپنی نظریاتی بنیادوں پر غور کرنے کے بعد قائد اعظم اور علامہ اقبال سے متعلق بات کرنی چاہیئے۔

 

2013ء کے انتخابات دراصل طالبان دہشت گردوں کی نگرانی میں ہوئے، جس میں طالبان مخالف کسی بھی لبرل جماعت کو آزادی سے انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیا گیا۔
پاکستان میں دہشت گردوں اور فسادیوں کو لانے کا سہراتو پاکستان کے آمر جنرل ضیاالحق کوجاتا ہے جس نے امریکہ کے ڈالروُں اور اپنی حکومت کو طویل کرنے کےلیےروس کے ساتھ افغانستان میں کرائے کی جنگ لڑی اور اس جنگ میں اُسے مذہبی بنیاد پرستوں کی حمایت حاصل تھی۔ آج جب پاکستان کی افواج اور عوام اس جنگ میں اپنی سرزمین کو بچانے کے لیے حرکت میں آئے تو یہ پاکستان کی افواج اور پاکستانی عوام کے خلاف دہشت گردوں کی حمایت پر ڈٹے رہے۔ افغانستان میں شدت پسند طالبانی حکومت بنوانے کا سہرا ہمارے عسکری اداروں کے سر ہے۔ یہ سانپ اِن کے ہی پالے ہوئے ہیں اور سانپ چونکہ کسی کے نہیں ہوتے اس لیے جب بینظیربھٹو کو ہوش آیا اور اُن کی شدت سے مخالفت کی تو 2007ء میں ان سانپوں نے بینظیر بھٹو کو ہی ڈس لیا۔ 2013ء کے انتخابات دراصل طالبان دہشت گردوں کی نگرانی میں ہوئے، جس میں طالبان مخالف کسی بھی لبرل جماعت کو آزادی سے انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیا گیا۔ طالبان مخالف پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پر انتخابی سرگرمیوں کے دوران دہشت گرد حملے کیے گئے جبکہ طالبان حامی پاکستان مسلم لیگ(ن)، پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے دونوں گروپوں نے بغیر کسی پریشانی اور خوف کے اپنی انتخابی مہم چلائی اور طالبان دہشت گردوں سے اپنے تعلقات کو چھپانے کی قطعی کوشش نہیں کی۔

 

کسی زمانے میں پاکستان میں نظریاتی سیاست کا رواج تھا، لیکن اب پاکستان میں نظریاتی اور اصولوں کی سیاست ختم ہوچکی ہے۔ اب صرف شدت پسندی، مفاد پرستی اور منافقت کی سیاست ہوتی ہے۔ ان حالات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے لبرل ازم کا نعرہ لگانا ایک انقلاب سے کم نہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) پاکستان کے قدامت پسند طبقات کی نمائندہ جماعت رہی ہے۔ نواز شریف کے حالیہ بیانات کے بعد ڈاکٹر پراچہ سمیت کافی لوگوں کو نواز شریف کا 25 اگست 1993ء کا وہ بیان یاد آیا ہو گا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ “اگر پاکستان کے عوام مسلم لیگ (ن) کو اپنے اعتماد سے نوازتے ہیں تو میں عہد کرتا ہوں کہ میں نفاذِ شریعت کے ذریعے پاکستان کی نظریاتی اساس کو مضبوط بناوں گا اور مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط سے مضبوط تر بناوں گا۔ مجھے ایک ایسا مینڈیٹ درکار ہے کہ میں اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ جاوں اور اپنے اس منشور کے مطابق تاریخی مشن پورا کر سکوں”۔ 1993ء میں نواز شریف کے پیرومرشد جنرل ضیاالحق کو اُن سے جدا ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزر ا تھا لہٰذا اُن کے جذبات نفاذ شریعت کے حق میں تھے۔ تب سیاسی مفاد کے تحت شریعت کا نعرہ لگایا اور اب شاید شدت پسندی کو کمزور پا کر 2018ء کے انتخابات جیتنے کے لیے لبرل ازم کا نعرہ بلندکیا ہے۔

 

لالٹین ڈاٹ کام کے اداریے کے مطابق “اگر وزیراعظم اپنے اس بیان میں سنجیدہ ہیں تو یقیناً مستقبل کا پاکستان قرارداد مقاصد کا پاکستان نہیں بلکہ محمد علی جناح کی 11 اگست 1947ء کی تقریر کے موافق پاکستان ہوگا جہاں شہریوں کو اپنی مذہبی یا علاقائی وابستگی کی بناء پر امتیازی سلوک، جبر، تشدد اور استحصال سے محفوظ بنایا جاسکے گا”۔ دنیا کی تاریخ میں بڑے بڑے انقلاب آ چکے ہیں شاید نواز شریف بھی ایک ایسا ہی انقلاب لے آئیں اور پاکستان کو شدت پسندی سے لبرل ازم کی طرف گامزن کردیں اور تاریخ میں اپنا نام امر کرجائیں۔ ایک بات طے ہے کہ نواز شریف کے لیے شدت پسندی سے لبرل ازم تک کا یہ سفر آسان نہ ہوگا۔ اگرنواز شریف نے محض 2018ء کے انتخابات جیتنے کےلیے لبرل ازم کا نعرہ بلند کیا ہے جیسے نوے کی دہائی میں انہوں نے نفاذِ شریعت کا نعرہ لگایا تھا تو یہ عوام کے ساتھ زیادتی ہو گی جو اپنے رہنماوں کے جھوٹے وعدے سننے کی عادی ہو چکی ہے۔