Categories
نان فکشن

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں – پانچویں قسط

[blockquote style=”3″]

جماعت اسلامی کی سیاسی تاریخ اور ارتقاء پر ڈاکٹر عبدلمجید عابد کا یہ مضمون اس سے قبل معروف سہ ماہی ادبی جریدے ‘آج’ میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ لالٹین پر اسے بعض اضافوں کے ساتھ قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

اس سلسلے کی بقیہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

29 اپریل 1955ء کو مولانا مودودی کال کوٹھری سے رہا ہوئے۔ دستور سازی میں اسلام کو بنیادی حصہ بنانے کے لیے جماعت اور مولانا نے کئی برس سے کام شروع کر رکھا تھا اور قرارداد مقاصد بھی انہی منصوبوں کی ایک کڑی تھی۔ بعدازاں جماعت نے مختلف مذہبی رہنماؤں کو اکٹھا کر کے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالا۔ اسی سلسلے میں جماعت نے جولائی 1953ء میں اسلامی دستور کا دن بھی منایا۔ اس سے پہلے مولانا اس موضوع پر پنجاب لاء کالج اور ریڈیو پاکستان پر تقاریر کر چکے تھے اور انہوں نے اپنے طور پر ایک اسلامی دستور کے خدوخال بھی تیار کیے تھے۔ جماعت کو یقین تھا کہ دستور سازی میں اس کی تجاویز کو بنیادی اہمیت دی جائے گی، حالانکہ جماعت کا ایک بھی رکن دستور ساز اسمبلی کا حصہ نہیں تھا۔ البتہ جماعت سے ہمدردی رکھنے والے افراد جیسے چوہدری محمد علی، اشتیاق حسین قریشی، عمر حیات ملک اور کچھ حد تک خواجہ نظام الدین کسی نہ کسی طور ایوان اقتدار کی غلام گردشوں کے مستقل مکین رہے۔ سنہ 1955ء میں چوہدری محمد علی وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے۔ اس سال قانون ساز اسمبلی کے لیے منعقد ہونے والے انتخابات میں جماعت نے حصہ نہیں لیا، لیکن قانون سازی کے عمل میں جماعت نے اپنا مقدور بھر حصہ ضرور ڈالا۔ مئی 1955 ء میں جماعت کی ایماء پر چونتیس(34) اسمبلی ممبران نے حلف نامے پر دستخط کیے کہ نئے دستور میں اسلامی شقیں برقرار رکھی جائیں گی۔

 

جماعت کو یقین تھا کہ دستور سازی میں اس کی تجاویز کو بنیادی اہمیت دی جائے گی، حالانکہ جماعت کا ایک بھی رکن دستور ساز اسمبلی کا حصہ نہیں تھا۔
29فروری 1956ء کو اسمبلی نے پاکستان کا پہلا دستور منظور کیا، جسے مارچ میں نافذ کیا گیا۔ اس دستور میں ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا گیا اور تمام قوانین کو مذہب کی کسوٹی پر پرکھے جانے کا عندیہ دیا گیا۔ اس دستور میں مولانا کی زیادہ تر خواہشات کو عملی شکل نہ ملی لیکن وقت کے تقاضے کے مطابق جماعت کی جانب سے دستور کے ’اسلامی‘ ہونے کی نوید سنائی گئی۔ کچھ ہی ماہ بعد چوہدری محمد علی کو اقتدار چھوڑنا پڑا اور ان کی جگہ حسین شہید سہروردی وزیر اعظم بنے۔ سنہ 1957ء میں جماعت کے ماچھی گوٹھ اجتماع میں چھپن اکابرین بشمول امین احسن اصلاحی اور ڈاکٹر اسرار احمد، سیاسی اور مذہبی سرگرمیوں کے موضوع پر اختلاف کے بوجوہ جماعت سے علیحدہ ہو گئے۔ اپریل 1958 ء میں کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں جماعت نے چھیانوے(96 )میں سے انیس (19) نشستیں جیت لیں۔ اس جیت نے جماعت کے حوصلے کچھ بلند کیے لیکن اکتوبر میں فوج نے تختہ الٹ دیا اور جماعت کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی۔

 

اسکندر مرزا نے مارشل لاء نافذ کرنے کی ایک وجہ جماعت اسلامی جیسی تنظیموں کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ بھی بتائی، بعد ازاں جنرل ایوب کی حکومت نے بھی اسلام کو جدیدیت کی جانب مائل کرنے کا اعادہ کیا۔ سنہ 62ء کے دستور میں 1956ء کے دستور کی اسلامی شقیں برقرار رکھی گئیں البتہ ملک کے نام سے ’اسلامی‘ کا دم چھلہ اتار کر صرف ’جمہوریہ پاکستان‘ مقرر کیا گیا۔ حسب توقع جماعت نے اس پر خوب واویلا کیا اور ایک سال بعد نام کو تبدیل کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کر دیا گیا۔ جماعت کی حرکتوں سے تنگ آ کر 1962ء میں وفاقی کابینہ نے جماعت کے متعلق ایک رپورٹ مرتب کرنے کا حکم دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ جماعت اسلامی دراصل ایک فتنہ ہے اور اس میں ’اخوان المسلمون‘ بننے کے جراثیم موجود ہیں۔ اس فتنے سے نبٹنے کے لیے جو تراکیب پیش کی گئیں، وہ ہو بہو وہی تھیں جو صدر ناصر نے مصر میں اخوان کے خلاف استعمال کی تھیں۔ اس ملک کی یہ بدقسمتی ہے کہ اس رپورٹ پر کبھی عمل درآمد نہ ہو سکا۔

 

اسکندر مرزا نے مارشل لاء نافذ کرنے کی ایک وجہ جماعت اسلامی جیسی تنظیموں کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ بھی بتائی، بعد ازاں جنرل ایوب کی حکومت نے بھی اسلام کو جدیدیت کی جانب مائل کرنے کا اعادہ کیا۔
کابینہ میں موجود جماعت سے ہمدردی رکھنے والے وزراء(حکیم محمد سعید، اے کے بروہی، افضل چیمہ) نے صدر ایوب کو قائل کیا کہ وہ مودودی صاحب سے مصالحت کر کے دیکھیں۔ سنہ 1962ء میں صدر ایوب نے لاہور میں مولانا سے ملاقات کی اور ان کو مشورہ دیا کہ سیاست کی بجائے مذہبی میدان میں اپنا کام جاری رکھیں اور ان کو بہاولپور اسلامی یونیورسٹی کی سربراہی کی دعوت بھی دی گئی۔ مولانا نے ان شرائط کو ماننے سے انکار کر دیا اور اپنی بغاوت جاری رکھی۔ سنہ 62ء میں امریکی نومسلمہ مریم جمیلہ مودودی صاحب کی دعوت پر پاکستان منتقل ہو گئیں۔ نیو یارک کے سیکولر یہودی خاندان میں پیدا ہونے والی مارگریٹ مارکس کو ذہنی مرض ’اختلاج ‘یا Schizophrenia کی تشخیص کی جا چکی تھی۔ دوران علاج انہوں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور مختلف موضوعات پر مودودی صاحب اور سید قطب سے خط وکتابت بھی کی۔ پاکستان آمد کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ مولانا کے گھر میں گزارا لیکن گھریلو کشیدگی کے باعث ان کوپہلے پتوکی کے ایک خاندان اور بعد ازاں لاہور میں ذہنی امراض کے ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔مریم جمیلہ نے انگریزی زبان میں بہت سی کتابیں لکھیں اور ’مغربی تہذیب‘ کے مقابلے میں اسلام کی برتری ثابت کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق ایک مثالی اسلامی معاشرے میں روز مرہ کے استعمال کی زبان عربی ہو گی جب کہ مرد روایتی عرب لباس زیب تن کریں گے اور خواتین مکمل پردہ کریں گی۔ مخلوط تعلیم پر پابندی ہو گی اور شادی صرف والدین کی مرضی ہی سے کی جا سکے گی۔ گھروں میں میز یا کرسیاں یا بیڈ نہیں ہوں گے اور عوام کو کھانے کے لئے کانٹوں اور چھریوں کے استعمال کی اجازت نہیں ہو گی۔ مشینوں اور فیکٹریوں پر بھی ممانعت ہو گی اور دکانیں صرف روایتی دستکار یا کریانے والے کھول سکیں گے۔ اس خیالی مملکت میں ذہنی امراض کے ہسپتال اور بوڑھے لوگوں کے لئے کئیر ہوم نہیں ہو گے۔ ہر کوئی پانچ وقت نماز ادا کرے گا اور رمضان میں پورے روزے رکھے جائیں گے۔

 

سنہ 1964 ء میں ایوب حکومت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور جماعت پر پابندی عائد کر کے اس کے سربراہان کو قید کر دیا گیا۔ اس اثناء میں صدارتی انتخابات کا شوشا اٹھا تو جماعت نے ایوب خان کے مقابلے میں فاطمہ جناح کی حمایت کا اعلان کیا۔ سنہ 1964ء میں مولانا نے محترمہ فاطمہ جناح کے حق میں مندرجہ ذیل بیان جاری کئے:

 

’عوام کو اس معاملے میں غافل نہیں رہنا چاہئے، اگر ان کی کوتاہی سے ان کے نمائندوں نے غلط فیصلہ کیا (اور مس فاطمہ جناح کو صدر منتخب نہ کیا) تو پھر خدا بھی رحم نہیں کرے گا‘۔
’ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ مس فاطمہ جناح کو صدر منتخب کر کے موجودہ حکمرانوں کو آئینی طریقے سے اقتدار سے علیحدہ کریں۔ ‘
’موجودہ حالات وکوائف میں اپوزیشن کی طرف سے مس فاطمہ جناح کی جگہ کسی متقی پرہیزگار مرد کو صدارتی امیدوار بنایا جاتا تو یہ گناہ ہوتا‘۔
یاد رہے کہ یہ وہی مولانا ہیں جنہوں نے سنہ 1940 ء میں آزادی ء نسواں کے علم برداروں کے خلاف ’پردہ‘ کے نام سے کتاب لکھی۔ اس شاہکار کتاب کے چند اقتباس پیش خدمت ہیں۔

 

’موجودہ حالات وکوائف میں اپوزیشن کی طرف سے مس فاطمہ جناح کی جگہ کسی متقی پرہیزگار مرد کو صدارتی امیدوار بنایا جاتا تو یہ گناہ ہوتا‘۔
صفحہ 97 پررقم طراز ہیں: ’عدل کا تقاضا کیا ہے؟ کیا عدل یہ ہے کہ عورت سے ان فطری ذمہ داریوں کی بجا آوری کا بھی مطالبہ کیا جائے جن میں مرد اس کا شریک نہیں ہے اور پھر ان تمدنی ذمہ داریوں کا بوجھ اس پر مرد کے برابر ڈال دیا جائے جن کو سنبھالنے کے لیے مرد فطرت کی تمام ذمہ داریوں سے آزاد رکھا گیا ہے؟ اس سے کہا جائے کہ تو وہ ساری مصیبتیں بھی برداشت کر جو فطرت نے تیرے اوپر ڈالی ہیں اور پھر ہمارے ساتھ آ کر روزی کمانے کی مشقتیں بھی اٹھا، سیاست اور عدالت اور صنعت وحرفت اور تجارت وزراعت اور قیام امن اور مدافعت وطن کی خدمتوں میں بھی برابر کا حصہ لے؟ یہ عدل نہیں، یہ ظلم ہے، مساوات نہیں، صریح نامساوات ہے۔ عدل کا تقاضا یہ ہے کہ عورت کے ذمے تمدن کے ہلکے اور سبک کام سپرد کیے جائیں اور اس کے سپر د یہ خدمت کی جائے کہ وہ خاندان کی پرورش اور اسکی حفاظت کرے۔عورت پر بیرون خانہ کی ذمہ داریاں ڈالنا ظلم ہے۔‘

 

صفحہ 98پر لکھا: ’بچہ جننے اور پالنے کی خدمت کا عورت کے سپرد ہونا ایک فیصلہ کن حقیقت ہے۔ ایک صالح تمدن وہی ہو سکتا ہے جو اس فیصلہ کو جوں کا توں قبول کرے۔ پھر عورت کو اس کے صحیح مقام پر رکھ کر اسے معاشرت میں عزت کا مرتبہ دے۔ اس کے جائز تمدنی و معاشی حقوق تسلیم کرے، اس پر صرف گھر کی ذمہ داریوں کا بار ڈالے اور بیرون خانہ کی ذمہ داریاں اور خاندان کی قوامیت مرد کے سپرد کر دے۔ جو تمدن اس تقسیم کو مٹانے کی کوشش کرے گا، اس تمدن کی بربادی یقینی ہے۔ ‘

 

صفحہ 164پر یہ زریں الفاظ موجودہیں: ’جو شخص اسلامی قانون کے مقاصد کو سمجھتا ہے اور اس کے ساتھ کچھ عقل عام بھی رکھتا ہے، اس کے لیے یہ سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں کہ عورتوں کو کھلے چہروں کے ساتھ باہر پھرنے کی عام اجازت دینا ان مقاصد کے بالکل خلاف ہے‘۔

 

اپنے سیاسی مفاد کی خاطر نظریات کی کھلم کھلا تبدیلی پر سہیل وڑائچ صاحب کو موقعہ ملتا تو چلِا اٹھتے: ’مولانا، کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟‘

 

مودودی صاحب کو قائل کیا گیا کہ وہ بھارت کے خلاف جہاد کا اعلان ریڈیو پاکستان کے ذریعے کریں۔ اپنا سیاسی ستارہ عروج پاتے دیکھ کر جماعت نے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر تبصرے کرنے شروع کر دیے
ستمبر سنہ 1965ء میں فوج کے ’آپریشن جبرالٹر‘ نامی شعبدے کے باعث پاک بھارت جنگ شروع ہوئی تو ایوب خان نے اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان کو اسلام آباد طلب کیا اور مل کر اس یلغار کا مقابلہ کرنے کا پیغام دیا۔ اس موقعے پر مودودی صاحب کو قائل کیا گیا کہ وہ بھارت کے خلاف جہاد کا اعلان ریڈیو پاکستان کے ذریعے کریں۔ اپنا سیاسی ستارہ عروج پاتے دیکھ کر جماعت نے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر تبصرے کرنے شروع کر دیے اور پاکستان کو دیگر اسلامی ممالک سے بہتر تعلقات قائم کرنے کی تبلیغ کی گئی۔

 

حسین حقانی کی تازہ ترین کتاب کے مطابق 1965 ء کی جنگ کے بعد امریکی امداد کی واضح کمی کے باعث ملک معاشی بحران کا شکار ہوا اور مشرقی پاکستان میں احساس محرومی حدوں سے بڑھنے لگا۔ مغربی پاکستان میں ترقی کا جو شوشا چھوڑا گیا تھا، اس کا فائدہ گنے چنے خاندانوں نے اٹھایا جبکہ مزدور طبقے اور عام آدمی کی زندگی میں مشکلات کا اضافہ ہی ہوا۔اس کے علاوہ مشرقی پاکستان کے باسیوں کو مسلسل تفریق کا سامنا کرنا پڑتا تھا، تقسیم کے وقت فوج میں ایک فیصد بنگالی تھے اور 1965 ء تک فوج کا صرف سات فیصد حصہ بنگالیوں پر مشتمل تھا، اسی طرح افسر شاہی میں ایک لاکھ افسروں میں سے صرف ستائیس ہزار کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا، سنہ1970 ء میں مغربی پاکستان کی فی کس آمدن مشرقی پاکستان کے مقابلے میں ساٹھ فیصد زیادہ تھی۔ حالانکہ متحدہ پاکستان کی آبادی کا زیادہ حصہ مشرقی پاکستان میں مقیم تھا اور آمدن بھی زیادہ وہیں سے ہوتی تھی۔

 

۔ بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے عروج نے جماعت اور اس کی قیادت کو بوکھلا دیا اور ان کی تمام کاوشیں عوامی مقبولیت کے سیلاب کے آگے بند باندھنے میں صرف ہوئیں۔
معاہدہ تاشقند کے بعد ذوالفقار بھٹو او ر عوامی لیگ نے عوامی جذبات کو حکومت کے خلاف ابھارا البتہ جماعت ڈان قے ہوتے کی طرح اپنے خیالی گھوڑے پر سوار پن چکیوں سے جنگ کرتی رہی۔ جون 1966 ء میں مولانا کی کتاب ’خلافت وملوکیت ‘ منظر عام پر آئی، اس کے علاوہ جماعت نے اپنی زیادہ توجہ ڈاکٹر فضل الرحمن کا نان نفقہ بند کروانے پر رہی۔ بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے عروج نے جماعت اور اس کی قیادت کو بوکھلا دیا اور ان کی تمام کاوشیں عوامی مقبولیت کے سیلاب کے آگے بند باندھنے میں صرف ہوئیں۔ بائیں بازو کی جماعتوں اور مزدور تحریک کو کچلنے میں اسلامی جمیعت طلبہ نے ریاست کی ’بی ٹیم‘ کا کردار ادا کیا۔ مارچ 1969ء میں ایوب اور سیاسی جماعتوں کے مابین گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نے پاکستان میں انتشار کی ذمہ داری اسلامی قوانین کی عدم موجودگی پر ڈالی اور اسلام کو ملک کی وحدت کی ضمانت قرار دیا۔ 25مارچ1969ء کو صدر ایوب نے استعفیٰ دے دیا۔ مودودی صاحب نے اسے گول میز کانفرنس کی کامیابی کہا(شاید وہ روزانہ کے اخبارات دیکھنے کے قائل نہیں تھے) اور بیان دیا کہ اب اسلامی نظام قائم ہونے کی راستے کی سب سے بڑی دیوار ہٹ گئی۔ ساتھ ہی انہوں نے عوامی لیگ اور پیپلز پارٹی کو مشورہ دیا کہ مظاہرے ختم کر دیے جائیں۔

 

اس دور میں جماعت کی سیاست پر ڈاکٹر اسرار احمد نے لکھا:”سنہ 1962 ء سے 1970 ء کے دوران جماعت اسلامی نے ایک جانب جمہوریت کے عشق میں انتہا پسندی کا ثبوت دیا کہ نہ صرف خالص سیکولر بلکہ ملحد عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ میں بھی کوئی باک محسوس نہ کی، اور مبالغہ آرائی اس حد تک پہنچ گئی کہ صدر ایوب خان بمقابلہ محترمہ فاطمہ جناح کے باب میں یہ الفاظ تک کہہ دیے: ایک جانب ایک مرد ہے جس میں اس کے سوا کوئی خوبی نہیں کہ وہ مرد ہے، اور دوسری جانب ایک عورت ہے جس میں اس کے سوا کوئی عیب نہیں کہ وہ عورت ہے۔دوسری طرف عوامی توجہ کا مرکز بننے کے لیے دینی اعتبار سے اس درجہ پستی اختیار کر لی گئی کہ ’غلاف کعبہ کی رام لیلا‘ منعقد کرنے میں بھی کوئی حجاب محسوس نہ کیا”

 

(جاری ہے)

 

کتابیات
تعبیر کی غلطی، مولانا وحیدالدین خان
تحریک آزادیء ہند اور مسلمان(حصہ اول و دوم)
مولانا مودودی اور میں، اسرار احمد
’قائد اعظم، نظریہ پاکستان اور اسلامی نظام: ابوالاعلی مودودی کی نظر میں‘، مولانا محمد اشفاق
روداد جماعت اسلامی
تحریک جماعت اسلامی: ایک تحقیقی مطالعہ، اسرار احمد
پاکستان کی سیاسی تاریخ: ترقی اور جمہوریت کو روکنے کے لئے اسلامی نظام کے نعرے، زاہد چوہدری
جماعت اسلامی کی انتخابی جدوجہد
منیر رپورٹ، ترجمہ بشکریہ ماہنامہ ’نیا زمانہ’
مودودی حقائق، محمد صادق قادری
پردہ، ابوالاعلی مودودی
محاصرے کا روزنامچہ، وجاہت مسعود
طلبہ تحریکیں، جلد اول، سلیم منصور خالد
میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا، صدیق سالک
مشاہدات، میاں طفیل محمد
پاکستان میں طلباء تحریک، پروفیسر عزیزالدین
جماعت اسلامی پر ایک نظر، شیخ محمد اقبال

Sayyid Abul A’ala Maududi & his thought,Masud ul Hasan
The Vanguard of Islamic Revolution, Vali Nasr
Mawdudi and Making of Islamic Revivalism, Vali Nasr
Magnificient Delusions, Husain Haqqani
Islam and the secular State. Abdulllah An’naim
The 1974ouster of the heretics: What really happened?
NADEEM F. PARACHA

Image: Khuda Bux Abro for Dawn.com

Categories
نان فکشن

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں – چوتھی قسط

[blockquote style=”3″]

جماعت اسلامی کی سیاسی تاریخ اور ارتقاء پر ڈاکٹر عبدلمجید عابد کا یہ مضمون اس سے قبل معروف سہ ماہی ادبی جریدے ‘آج’ میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ لالٹین پر اسے بعض اضافوں کے ساتھ قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

اس سلسلے کی بقیہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

پنجاب کے ایک سیاست دان نے 1951ء کے انتخابات کے دوران تقریر کرتے ہوئے کہا، ‘مسلم لیگ کے مخالفوں میں سب سے بلند آہنگ جماعت اسلامی ہے۔ اس جماعت کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے اس لئے اس کا آئین جماعت اسلامی کو بنانا چاہئے۔ میں پوچھتا ہوں کہ جس وقت حصول پاکستان کی جدوجہد جاری تھی تو مولانا مودودی کیا کر رہے تھے۔ وہ پاکستان کی مخالفت اسلام کے نام پر کر رہے تھے۔ آج اس اسلام کو وہ پاکستان میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ہر سمجھدار آدمی اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ یا تو یہ ’اسلام‘ مودودی صاحب کے اپنے دماغ کی اختراع ہے، یا پھر مولانا مودودی محض ابن الوقت ہیں’۔

 

احرار نے معاشی مسائل کے ساتھ مذہب کے اونٹ کو بھی سیاست کے خیمے میں داخل کیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ مسلمانوں نے اپنا ملک بنانے کے لیے قربانیاں دیں لیکن اس شجر کا پھل احمدی حاصل کر رہے ہیں
سنہ 1952ء میں قحط اور مہنگائی کے مسئلوں پر خاکسار تحریک نے حکومت مخالف مظاہرے شروع کیے۔ اس موقعے پر جماعت نے موچی گیٹ کے مقام پر آٹے کی قیمت میں اضافے کے خلاف جلوس نکالا لیکن وہ جلوس ہنگامے کی صورت اختیار کر گیا۔ خاکسار تحریک کے سربراہ علامہ مشرقی کی گرفتاری کے بعد اس تحریک کا علم مجلس احرار نے سنبھالا۔ احرار نے معاشی مسائل کے ساتھ مذہب کے اونٹ کو بھی سیاست کے خیمے میں داخل کیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ مسلمانوں نے اپنا ملک بنانے کے لیے قربانیاں دیں لیکن اس شجر کا پھل احمدی حاصل کر رہے ہیں۔

 

ان حالات میں جماعت کی شوریٰ نے احرار اور دیگر مذہبی جماعتوں پر مشتمل متحدہ مجلس عمل میں شرکت کا فیصلہ کیا لیکن احرار کے طریق کار سے سطحی اختلاف ظاہر کیا۔ اگست سن 1952 ء کے ترجمان القرآن میں احمدیوں کو اسلام کے دائرے سے خارج کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ جنوری سن 1953 ء میں کل پاکستان علماء کنونشن نے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین سے اس مسئلے پر قابو پانے میں ناکامی کے باعث استعفی طلب کیا۔ 5مارچ 1953 ء کو مولانا نے اپنی کتاب ’قادیانی مسئلہ‘ شائع کی جس میں احمدیوں کی تکفیر کے حق میں دلائل جمع کیے گئے تھے۔ احمدی مخالف ہنگاموں نے پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ اس ہنگامے کو ہوا دینے میں صوبائی مسلم لیگ کے سربراہ ممتاز دولتانہ نے مرکزی کردار ادا کیا۔ مارچ 1953ء میں پنجاب میں جزوی مارشل لاء نافذ کر دیا گیا۔

 

مسئلہ قادیانیت میں جماعت کے کردار پر ڈاکٹر اسرار نے لکھا:

 

“ایک تو یہ مسئلہ کوئی آج کی پیداوار نہیں تھا بلکہ گزشتہ صدی کے اواخر ہی سے اس کے بارے میں مسلمانوں میں بے چینی کے آثار پیدا ہونے شروع ہو گئے تھے۔ لیکن اپنی تاسیس کے دن سے سنہ 52 ء تک جماعت اسلامی نے بحیثیت جماعت یا اس کے اکابرین نے بحیثیت افراد اس پر کوئی عملی اقدام تو کجا زبان سے ایک حرف تک نہ نکالا، بلکہ ایک اصولی اسلامی جماعت کی حیثیت سے اپنے دور اول میں اس نے ایسی باتیں کہیں کہ جن سے قادیانیوں کی تکفیر کی براہ راست نہ سہی بالواسطہ ضرور ہمت شکنی ہوتی ہے۔

 

جماعت اسلامی کے اکابرین نے نجی محفلوں میں قادیانیوں اور ان کے خلاف احرار کی تحریک کے بارے میں کیے گئے سوالات کے مندرجہ ذیل جواب دیئے:

 

اس تمام بحث کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ شیعہ، سنی، دیوبندی، اہل حدیث اور بریلوی لوگوں میں سے تو کوئی بھی مسلم نہیں اور اگر مملکت کی حکومت ایسی جماعت کے ہاتھ میں ہو جو دوسری جماعت کو کافر سمجھتی ہے
1۔ ختم نبوت لازمی طور پر جزو ایمان ہے اور اس کا منکر کافر، لیکن تکفیر کا کام کسی فرد یا کسی گروہ کے کرنے کا نہیں بلکہ اسلامی ریاست کا کام ہے۔
2۔ ’قادیانیت‘ مسلمان قوم میں دین حق سے لگاؤ میں انحطاط آ جانے کی وجہ سے پیدا ہونے والی اور بہت سی گمراہیوں میں سے ایک گمراہی ہے۔ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ دین کی اصل تعلیمات واضح نہیں ہیں۔ اور اس کا علاج منفی طور پر اس کی مخالفت اور بیخ کنی سے نہ ہو گا بلکہ اس طرح ہو گا کہ دین کی اصل تعلیمات کو واضح اور عام کیا جائے۔
3۔ قادنیوں کی مخالفت جس طرز سے ہو رہی ہے، وہ ان کو کوئی نقصان پہنچانے کے بجائے ان کی تقویت کا موجب ہو رہی ہے۔ اگر ان کا ابطال کرنا ہی ہے تو چاہیے کہ سنجیدہ علمی طریقے سے ان پر تنقید کی جائے اور عوام کو ان کے غلط عقائد سے خبردار کیا جائے۔

 

لیکن جب سنہ 52 ء میں زعمائے مجلس احرار نے اسے واقعی ایک مسئلہ بنا لیا اور عوام کے جذبات کو مشتعل کیا تو اصول پرستی کا تقاضا یہ تھا کہ یہی باتیں علی الاعلان کہی جاتیں اور لوگوں کو بتایا جاتا کہ تم خوامخواہ مشتعل کیے جا رہے ہو، نہ یہ مسئلہ اتنی اہمیت رکھتا ہے اور نہ اس کے حل کی وہ صورت ہے جو اختیار کی جا رہی ہے۔جماعت اسلامی نے البتہ اپنی اصول پسندی اور اصول پرستی کو ذبح کر کے ’حق گوئی‘ سے کتراتے ہوئے جو طرزعمل اختیار کیا، وہ بے اصولے پن اور عوام خوفی کی عملی تصویر ہے۔ مجلس عمل کے ساتھ تعاون شروع کر دیا گیا اور ان لوگوں کی قیادت قبول کر لی گئی جن کے پاس بیٹھتے ہوئے بھی بقول بزرگان جماعت، جماعت کے زعماء کو گھن آتی تھی۔”

 

مئی سنہ 1953 ء میں خصوصی عدالت نے مولانا عبدالستار نیازی اور مولانا مودودی کو سزائے موت سنا دی۔
قادیانی مسئلے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی عدالتی کمیشن مقرر کیا گیا، جس کی مرتب کردہ رپورٹ ‘رپورٹ تحقیقاتی عدالت برائے تحقیقات فسادات پنجاب 1953’ یا عرف عام میں ‘>منیر رپورٹ’ کے نام سے مشہور ہے۔ مذہب اور سیاست کے بے جوڑ رشتے کے خلاف اس رپورٹ سے زیادہ مضبوط دلیل ہماری تاریخ میں موجود نہیں۔ رپورٹ کے صفحہ نمبر 334 پر علماء کے مابین بنیادی اصطلاحات پر اختلاف کی جو تصویر نظر آتی ہے، ملاحضہ کریں:

 

[scribd id=142423710 key=key-2479yqcxfhvtp93hru8v mode=scroll]

“ہم نے اکثر ممتاز علماء سے یہ سوال کیا ہے کہ وہ ‘مسلم’ کی تعریف کریں۔ اس میں نکتہ یہ ہے کہ اگر مختلف فرقوں کے علماء احمدیوں کو کافر سمجھتے ہیں تو ان کے ذہن میں نہ صرف اس فیصلے کی وجوہ بالکل روشن ہوں گی بلکہ وہ ‘مسلم’ کی تعریف بھی قطعی طور پر کر سکیں گے، کیونکہ اگر کوئی شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ فلاں شخص یا فلاں جماعت دائرہ اسلام سے خارج ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ دعویٰ کرنے والے کے ذہن میں اس امر کا واضح تصور موجود ہو کہ ‘مسلم’ کس کو کہتے ہیں۔”

 

عام آدمی پاکستان کو ایک اسلامی مملکت سمجھتا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اس عقیدے کو اس مسلسل چیخ وپکار سے تقویت پہنچی ہے جو اسلام اور اسلامی مملکت کے متعلق قیام پاکستان کے وقت سے اب تک مختلف حلقوں کی طرف سے مچائی جا رہی ہے۔
تحقیقات کے اس حصے کا نتیجہ بالکل اطمینان بخش نہیں نکلا اور اگر ایسے سادہ معاملے کے متعلق بھی ہمارے علماء کے دماغوں میں اس قدر ژولیدگی موجود ہے تو آسانی سے تصور کیا جا سکتا ہے کہ زیادہ پیچیدہ معاملات کے متعلق ان کے اختلافات کا کیا حال ہو گا‘۔ اس کے بعد مولانا ابوالحسنات قادری،مولانا احمد علی، مولانا مودودی، غازی سراج الدین منیر، مفتی ادریس، حافظ کفایت حسین، مولانا عبدالحامد بدایونی، مولانا محمد علی کاندھلوی اور مولانا امین احسن اصلاحی نے ’مسلم‘ کی تعریف اپنے علم کے مطابق بتائی۔ اس پر جسٹس منیر نے تبصرہ لکھا: ‘ان متعدد تعاریف کو جو علماء نے پیش کی ہیں، پیش نظر رکھ کر کیا ہماری طرف سے کسی تبصرے کی ضرورت ہے؟ بجز اس کے کہ دین کے کوئی دو عالم بھی اس بنیادی امر پر متفق نہیں ہیں، اگر ہم اپنی طرف سے مسلم کی کوئی تعریف کر دیں جیسے ہر عالم دین نے کی ہے اور وہ تعریف ان تعریفوں سے مختلف ہو جو دوسروں نے پیش کی ہے، تو ہم کو متفقہ طور پر دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا۔ شیعوں کے نزدیک تمام سنی کافر ہیں اور اہل قرآن متفقہ طور پر کا فر ہیں، یہی حال آزاد مفکرین کا ہے۔ اس تمام بحث کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ شیعہ، سنی، دیوبندی، اہل حدیث اور بریلوی لوگوں میں سے تو کوئی بھی مسلم نہیں اور اگر مملکت کی حکومت ایسی جماعت کے ہاتھ میں ہو جو دوسری جماعت کو کافر سمجھتی ہے تو جہاں کوئی شخص اگر عقیدے کو بدل کر دوسرا اختیار کرے، اس کو اسلامی مملکت میں لازمی موت کی سزا دی جائے گی’۔

 

منیر رپورٹ کے کچھ الفاظ اس قابل ہیں کہ انہیں قومی نصاب میں داخل کیا جائے:

 

“عام آدمی پاکستان کو ایک اسلامی مملکت سمجھتا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اس عقیدے کو اس مسلسل چیخ وپکار سے تقویت پہنچی ہے جو اسلام اور اسلامی مملکت کے متعلق قیام پاکستان کے وقت سے اب تک مختلف حلقوں کی طرف سے مچائی جا رہی ہے۔ آج مسلمان یاد ماضی کا لبادہ اوڑھے صدیوں کا بھاری بوجھ اپنی پشت پر لادے مایوس ومبہوت ایک دوراہے پر کھڑا ہے اور فیصلہ نہیں کر سکتا کہ دونوں میں سے کس موڑ کا رخ کرے۔ دین کی وہ تازگی اور سادگی جس نے ایک زمانے میں اس کے ذہن کو عزم مصمم اور اس کے عضلات کو لچک عطا کی تھی، آج اس کو حاصل نہیں ہے۔ اس کے پاس نہ فتوحات حاصل کرنے کے وسائل ہیں نہ اہلیت ہے اور نہ ہی ایسے ممالک موجود ہیں جن کو فتح کیا جا سکے۔ مسلمان بالکل نہیں سمجھتا کہ جو قوتیں آج اس کے خلاف صف آراء ہیں، وہ ان قوتوں سے بالکل مختلف ہیں جس سے اس کو ابتدائے اسلام میں جنگ کرنی پڑی تھی اور اس کے اپنے آباؤ اجداد ہی کی راہنمائی سے ذہن انسانی نے ایسے کارنامے انجام دیے ہیں جن کو سمجھنے سے وہ قاصر ہے۔ لہذٰا وہ اپنے آپ کو عجیب بے بسی کی حالت میں پاتا ہے اور انتظار کر رہا ہے کہ کوئی آئے اور اسے اس بے یقینی اور ژولیدگی کی دلدل سے باہر نکالنے میں مدد کرے، لیکن وہ برابر یونہی انتظار کرتا رہے گا اور اس انتظار کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ صرف ایک ہی چیز ہے جو آج اسلام کو ایک عالمگیر تصور کی حیثیت سے محفوظ رکھ سکتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ اسلام کی نئی تاویل و تشکیل دلیرانہ کی جائے جو زندہ حقائق کو مردہ تصورات سے الگ کر دے’۔
منیر رپورٹ اور جج حضرات کے طریقہء استفسار سے اختلاف کیا جا سکتا ہے (اور مودودی صاحب نے اس رپورٹ کے مطابق یہی نقطہ نظر استعمال کیا) کیونکہ مذہبی پیشواؤں اور مغربی قانون کے ماہر ججوں کے مابین علم کی وسیع خلیج موجود تھی اور مذہبی قانون کی مروجہ قانون سے فرق کے باعث دونوں فریقین اپنے اپنے نقطہ ہائے نظر پر ڈٹے رہے۔ نتیجہ علماء کو پھانسی اور قید کی سزاؤں میں نکلا۔

 

(جاری ہے)

 

کتابیات
تعبیر کی غلطی، مولانا وحیدالدین خان
تحریک آزادیء ہند اور مسلمان(حصہ اول و دوم)
مولانا مودودی اور میں، اسرار احمد
’قائد اعظم، نظریہ پاکستان اور اسلامی نظام: ابوالاعلی مودودی کی نظر میں‘، مولانا محمد اشفاق
روداد جماعت اسلامی
تحریک جماعت اسلامی: ایک تحقیقی مطالعہ، اسرار احمد
پاکستان کی سیاسی تاریخ: ترقی اور جمہوریت کو روکنے کے لئے اسلامی نظام کے نعرے، زاہد چوہدری
جماعت اسلامی کی انتخابی جدوجہد
منیر رپورٹ، ترجمہ بشکریہ ماہنامہ ’نیا زمانہ’
مودودی حقائق، محمد صادق قادری
پردہ، ابوالاعلی مودودی
محاصرے کا روزنامچہ، وجاہت مسعود
طلبہ تحریکیں، جلد اول، سلیم منصور خالد
میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا، صدیق سالک
مشاہدات، میاں طفیل محمد
پاکستان میں طلباء تحریک، پروفیسر عزیزالدین
جماعت اسلامی پر ایک نظر، شیخ محمد اقبال

Sayyid Abul A’ala Maududi & his thought,Masud ul Hasan
The Vanguard of Islamic Revolution, Vali Nasr
Mawdudi and Making of Islamic Revivalism, Vali Nasr
Magnificient Delusions, Husain Haqqani
Islam and the secular State. Abdulllah An’naim
The 1974ouster of the heretics: What really happened?
NADEEM F. PARACHA

Image: Khuda Bux Abro for Dawn.com

Categories
نان فکشن

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں-تیسری قسط

[blockquote style=”3″]

جماعت اسلامی کی سیاسی تاریخ اور ارتقاء پر ڈاکٹر عبدلمجید عابد کا یہ مضمون اس سے قبل معروف سہ ماہی ادبی جریدے ‘آج’ میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ لالٹین پر اسے بعض اضافوں کے ساتھ قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

اس سلسلے کی بقیہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

تقسیم ہند کے بعد پاکستان کے ادبی میدان میں ایک سہ جہتی مکالمہ اور مقابلہ جاری تھا۔ ایک جانب ادب برائے زندگی کے پیروکار کھڑے تھے تو دوسری جانب ادب برائے ادب کا علم بلند تھا۔ ایک تیسر ی صنف ادب برائے پاکستان کے نام سے بھی موجود تھی اور محمد حسن عسکری، ایم ڈی تاثیر وغیرہ اس تحریک کے روح دواں تھے۔ ادب برائے زندگی کے داعی ترقی پسند، انجمن ترقی پسند مصنفین کے پرچم تلے جمع تھے جب کہ ادب برائے ادب کی پکار حلقہء ارباب ذوق سے نمودار ہوتی تھی۔ پاکستانی ادب اور معاشرے کی جہت کے متعلق اس بحث میں جماعت نے بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا۔

 

تحریک پاکستان کے اجزائے ترکیبی میں مومن اور کھلے کھلے ملحد سب شامل تھے بلکہ دین میں جو جو جتنا ہلکا تھا، وہ اتنا ہی اوپر آیا۔
جولائی 1948ء کے ’ترجمان القرآن‘ میں مودودی صاحب نے لکھا: ’اسی حل کو مسلمانوں نے قبول کیا (یعنی پاکستان کو) اور اپنی ساری قومی طاقت، اپنے تمام ذرائع اور اپنے جملہ معاملات اس قیادت کے حوالے کر دیئے جو ان کے قومی مسئلہ کو اس طرح حل کرنا چاہتی تھی۔ دس برس کے بعد آج اس کا پورا کارنامہ ہمارے سامنے ہے اور ہم دیکھ چکے ہیں کہ اس نے کس طرح، کس صورت میں ہمارے مسئلے کو حل کیا۔ جو کچھ ہو چکا، وہ تو انمٹ ہے اور اب اسے بدلا نہیں جا سکتا، اس پر بحث بیکار ہے کہ یہ کیا جاتا تو کیا ہوتا۔ البتہ اس حیثیت سے اس پر بحث کرنا ضروری ہے کہ جو مسائل ہمیں اب درپیش ہیں، کیا ان کے حل کے لیے بھی وہی قیادت موزوں ہے جو اس سے پہلے ہمارے قومی مسئلے کو اسی طرح حل کر چکی ہے؟ کیا اس کا اب تک کا کارنامہ یہی سفارش کرتا ہے کہ اب جو بڑے بڑے اور نازک مسائل ہمارے سر آن پڑے ہیں جن کا بیشتر حصہ خود اسی قیادت کی کارفرمائیوں کا نتیجہ ہے، انہیں حل کرنے کے لیے ہم اس پر اعتماد کریں؟ تحریک پاکستان کے اجزائے ترکیبی میں مومن اور کھلے کھلے ملحد سب شامل تھے بلکہ دین میں جو جو جتنا ہلکا تھا، وہ اتنا ہی اوپر آیا۔ اس میں اخلاق کی سرے سے کوئی پوچھ نہیں تھی۔ عام کارکنوں سے لے کر بڑے بڑے ذمہ داروں تک میں انتہائی ناقابل اعتماد سیرت کے لوگ موجود تھے۔ بلکہ تحریک کا قدم جتنا آگے بڑھا اس قسم کے عناصر کا تناسب بڑھتا ہی چلا گیا۔ اسلام کو اتباع کے لیے نہیں بلکہ عوام میں مذہبی جوش پیدا کرنے کے لیے فریق جنگ بنایا گیا تھا۔ کبھی ایک دن کے لیے بھی اس کو یہ حیثیت نہیں دی گئی کہ وہ حکم دے اور یہ اسے مانیں اور کوئی قدم اٹھاتے وقت یہ اس سے استصواب کریں‘۔
نوائے وقت نے تبصرہ کیا: ’حضرت مولانا نے 10 سال کے عرصے میں پہلی مرتبہ دل کھول کر بات کہی اور صاف لفظوں میں مسلمانوں سے کہا کہ محمد علی جناح کی جگہ مجھے قائداعظم مانو۔ اب صرف اتنا کرم فرمائیں کہ مسلمانوں کو یہ بتا دیں کہ آپ کا ٹھوس سیاسی پروگرام کیا ہے؟ اپنا پروگرام نہ بتانا اور محض نعروں ہی سے مسلمانوں کا دل بہلانا یا قائد اعظم کو ’احمق‘، ’غلط کار‘ اور ’دین میں ہلکا‘ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہنا ہرگز آپ کے شایان شان نہیں‘۔

 

جناح صاحب کی وفات پر مولانا نے فرمایا: ’بے وقت موت ایک ملحدانہ اصطلاح ہے۔ مسلمان کے نزدیک ہر موت اپنے ٹھیک وقت پر آتی ہے اور خدا اس کا وقت کسی مشورے سے نہیں بلکہ اپنی حکمت اور مصلحت کے اعتبار سے مقرر کرتا ہے۔‘ اگست 1948ء میں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں پاک فوج میں بھرتی ہونے سے منع فرمایا کیونکہ ان کے مطابق وہ ایک ’غیر اسلامی فوج‘ تھی (ساٹھ سال بعد ان کی جماعت کے سربراہ نے طالبان کے ہاتھوں مارے جانے والے فوجیوں کو ’شہید ‘ کہنے سے انکار کیا۔ جواب میں فوج کے نمائندے نے منور حسن پر چڑھائی تو کی لیکن اسی سانس میں مودودی صاحب کی تعریف بھی کر ڈالی۔ تاریخ سے ناآشنائی کا یہی نتیجہ نکلتا ہے)۔ اکتوبر 1948ء میں حکومت پاکستان نے غداری کے الزام میں جماعت پر پابندی عائد کر دی اور اس کے زیر تحت تمام اخبارات اور رسائل کے اجازت نامے منسوخ کر دیے۔ اس کے علاوہ جماعت کے سربراہان کو جیل بھیج دیا گیا، افسر شاہی میں جماعت سے ہمدردی رکھنے والے افسران کو برطرف کر دیا گیا اور وزیر اعظم لیاقت علی خان نے سرکاری ملازمین کو جماعت کا لٹریچر پڑھنے سے منع کر دیا۔ اس دور میں پبلک سیفٹی آرڈیننس اور دیگر سامراجی قوانین کا اطلاق مخالف نقطہ نگاہ رکھنے والی جماعتوں پر کیا جاتا تھا۔ ایک موقعہ پر تو جماعت اسلامی اور کمیونسٹ پارٹی نے مل کر ان قوانین کے خلاف ملک بھر احتجاج منعقد کیا۔

 

جیل کی سلاخوں کے عقب سے مولانا نے اپنے ساتھیوں عبدالجبار غازی (قائم مقام امیر جماعت) اور عبدالغفار حسن کے ذریعے قانون ساز ااسمبلی کے رکن شبیر احمد عثمانی تک اپنا پیغام پہنچایا۔ بعدازاں شبیر عثمانی نے قرارداد مقاصد کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا اور اس قرارداد کے الفاظ میں جماعت اسلامی اور اس کے مطالبات کی گونج واضح ہے۔
اس صورت حال کے باوجود مولانا نے قرارداد کی منظوری کے بعد یہ بیان دیا:

 

شبیر عثمانی نے قرارداد مقاصد کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا اور اس قرارداد کے الفاظ میں جماعت اسلامی اور اس کے مطالبات کی گونج واضح ہے۔
“ان حضرات کے قرارداد مقاصد پاس کرنے کی حیثیت بالکل ایسی ہے جیسی کوئی میم صاحبہ کسی مسلمان نواب یا رئیس زادے سے نکاح کرانا چاہے اور وہ اپنے اوراپنی اولاد کے لیے وراثت کے حقوق اور مسلمان سوسائٹی میں برابری کے حقوق حاصل کرنے کے لیے کلمہء اسلام پڑھ لے۔ لیکن نہ اس کلمے سے پہلے اس کی زندگی میں کوئی تغیر آئے اور نہ اس کے بعد کوئی تبدیلی رونما ہو۔ جیسی میم صاحبہ وہ پہلے تھیں، ویسی ہی میم صاحبہ وہ بعد میں رہیں۔”

 

مودودی صاحب کے اس بیان پر یہ محاورہ راس آتا ہے کہ بکری نے دودھ دیا، وہ بھی مینگنیوں بھرا۔

 

مارچ 1949ء میں دستور ساز اسمبلی میں قرارداد مقاصد زیر بحث تھی تو جماعت اسلامی کے ایک وفد نے کراچی جا کر حزب اختلاف کے قائد سریش چندر چٹو پاڈھیا کو مودودی کی ایک کتاب دی جس میں لکھا تھا کہ ‘اسلام میں جمہوریت کی گنجائش نہیں ہے’۔ اس پر چٹو پاڈھیا نے اگلے روز ایوان میں مودودی کے اس ‘اسلامی نظریے’ کے خلاف بہت واویلا کیا تو سردار عبدالرب نشتر نے اس موقعہ پر مداخلت کر کے کہا، ‘یہ شخص آج کل جیل کی ہوا کھا رہا ہے’ اور لیاقت علی خان نے کہا، ‘لاہور کے جن علماء نے یہ اسلامی لٹریچر مہیا کیا ہے، وہ شرپسند ہیں اور پاکستان کو تباہ کرنے کے لیے یہاں آئے تھے۔ خدا کے لیے ان کے شرانگیز پروپیگنڈا پر کان نہ دھریں۔ میں ایسے عناصر کو، جو پاکستان میں انتشار پھیلاتے ہیں، متنبہ کرتا ہوں کہ ہم ان کی سرگرمیوں کو مزید برداشت نہیں کریں گے’۔

 

ستمبر 1949ء میں جماعت کے قائم مقام امیر عبدالجبار غازی نے بیان جاری کیا، ’قرارداد مقاصد کی منظوری کے بعد جماعت اسلامی کو آئینی اصطلاح میں ایک سیاسی جماعت قرار دینا لغویت ہے۔ اس اصطلاح کی بنیاد اس غلط تصور پر ہے کہ مذہب اور سیاست الگ الگ ہیں۔ یہ تصور سراسر غیر اسلامی ہے۔ جماعت اسلامی کو، جس کا نصب العین اسلام کو اس کی مکمل صورت میں نافذ کرنا ہے، محض ایک سیاسی جماعت قرار دینا اور سرکاری ملازمین کے لیے اس کی رکنیت کی مخالفت کرنا بے ہودگی ہے‘۔ غازی صاحب نے اس امر پر روشنی ڈالنے سے گریز کیا کہ کچھ سال قبل ان کی جماعت کے امیر نے کارکنان کو سرکاری ملازمت سے منع کیا تھا تو اب اس مسئلے پر شور وغوغا منافقت کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟

 

ہندوستان سے پاکستان کا رخ کرنے والے ’اردو مافیا‘ کے لئے مذہب اور اردو پاکستان کی بقائے دوام کے لئے ضروری تھے اور اس طبقے کی قدامت پرستی ملکی انتظامیہ میں سرایت کر چکی تھی۔
مئی 1950ء میں عدالتی احکامات کے ذریعے جیل سے رہائی حاصل کرنے کے بعد مولانا نے ایک نیا پینترہ بدلا۔ زبان کے مسئلے پر بنگالیوں نے حکومت پاکستان کے موقف سے اختلاف کیا تو جناب نے حکومت کی حمایت کی اور جون 1950ء کے ترجمان القرآن میں اسلام اور اردو کو اسلامی مملکت کی وحدت کے لیے ضروری قرار دیا۔ ہندوستان سے پاکستان کا رخ کرنے والے ’اردو مافیا‘ کے لئے مذہب اور اردو پاکستان کی بقائے دوام کے لئے ضروری تھے اور اس طبقے کی قدامت پرستی ملکی انتظامیہ میں سرایت کر چکی تھی۔ سنہ 1951ء کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں صرف سات فیصد افراد کی مادری زبان اردو تھی۔ مولانا حالی کا کہنا تھا کہ اردو اس کی مستند ہے جو دہلی کے آس پاس کا رہنے والا ہو اور مسلمان ہو۔ پاکستان میں مذہب اور زبان کے اس امتزاج کو پروان چڑھایا گیا اور ‘ہندووانہ’ بنگالی زبان کے مقابلے میں اردو کا ہوّا (bogeyman) کھڑا کیا۔ اجمل کمال لکھتے ہیں کہ ‘اردو ہندوستان میں مسلمان اقلیت اور پاکستان میں حکمران اکثریت کی سیاست سے ناقابل تلافی طور پر وابستہ ہو چکی ہے‘۔ مولوی عبدالحق کے الفاظ تھے: ’پاکستان کونہ جناح نے بنایا نہ اقبال نے بلکہ اردو نے پاکستان کو بنایا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں میں اختلاف کی اصلی وجہ اردو زبان تھی۔ سارا دو قومی نظریہ اور سارے ایسے اختلاف صرف اردو کی وجہ سے تھے، اس لیے پاکستان پر اردو کا بڑا احسان ہے’۔

 

جمہوریت کو کفریہ نظام قرار دینے والی جماعت نے مارچ سن 1951ء میں پنجاب کے صوبائی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ مودودی صاحب نے اس موضوع پر فرمایا، ’دستور ساز اسمبلی میں قرارداد مقاصد کے پاس ہو جانے کے بعد ریاست پاکستان ایک اسلامی ریاست بن چکی ہے اور اب ہمارے لئے دوسرا اہم مرحلہ یہ ہے کہ حکومت پاکستان کو بھی ایک اسلامی حکومت میں تبدیل کیا جائے۔ اس تبدیلی کی سعی کا ایک ضروری جزو یہ ہے کہ جہاں جہاں انتخاب کا موقع پیدا ہو، وہاں ہم ایسے صالح لوگوں کو منتخب کرانے کی کوشش کریں جو اپنی ذہنیت اور سیرت کے اعتبار سے سچے مسلمان ہوں، جن پر یہ بھروسہ کیا جا سکے کہ اقتدار کی امانت پا کر وہ خدا اور اس کے دین اور ملت پاکستان کے ساتھ خیانت نہیں کریں گے اور جن سے یہ امید کی جا سکے کہ وہ حکومت کے نظام کو خلافت راشدہ کے طریق پر ڈال سکیں گے‘۔

 

انتخابات میں جماعت اسلامی نے ایک انوکھا تجربہ کیا۔ جماعت نے امیدواری اور پارٹی ٹکٹ سسٹم کو امہات الخبائث قرار دے کر ترک کر دیا۔
انتخابات میں جماعت اسلامی نے ایک انوکھا تجربہ کیا۔ جماعت نے امیدواری اور پارٹی ٹکٹ سسٹم کو امہات الخبائث قرار دے کر ترک کر دیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ ‘جماعت نہ اپنے پارٹی ٹکٹ پر آدمی کھڑے کرے گی، نہ اپنے ارکان کو آزاد امیدوار کی حیثیت سے کھڑا ہونے کی اجازت دے گی، نہ کسی ایسے شخص کی تائید کرے گی جو خود امیدوار ہو اور اپنے لیے آپ ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔’

 

طریق انتخاب یہ تھا کہ جماعت ان علاقوں کو جدوجہد کے لیے منتخب کرے گی جہاں پہلے ہی اس کا اثر ونفوذ موجود ہے، ان حلقوں کے ووٹروں سے رابطہ قائم کیا جائے گا اور ان کے سامنے جماعت اپنے مقاصد واضح کرے گی، پھر جو ووٹر جماعت کے مقاصد سے اتفاق کریں گے ان پر مشتمل انتخابی پنچایتیں بنائی جائیں گی۔ وہ ووٹر جو جماعت کا مرتب کردہ ایک عہد نامہ پورا کر لیں، ان کو ابتدائی اور ثانوی پنچایتوں کی شکل میں منظم کیا جائے گا اور پھر یہ پنچایتیں اپنے حلقے میں ایک ’صالح نمائندہ‘ منتخب کریں گی، جس کی شرائط بھی جماعت نے مقرر کیں۔

 

اس طریقے سے جو شخص بھی چھانٹا جائے گا اسے حلقہ انتخاب کے عوام کی طرف سے کھڑا کیا جائے گا۔ وہ شخص خواہ جماعت اسلامی کا رکن ہو یا نہ ہو، یہ جماعت اسی کی تائید کرے گی۔ وہ انتخاب کی مہم میں ایک پیسہ بھی اپنی جیب سے خرچ نہ کرے گا، سارا خرچ حلقہ کے لوگ کریں گے، وہ اپنی تعریف کے گن نہ گاتا پھرے گا اور نہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے اپنے ایجنٹ چھوڑے گا۔ اس کو یہ حق تو ضرور ہو گا کہ کسی دوسرے حلقے میں، کسی دوسرے مرد صالح کی تائید کے لیے جا کر انتخابی جدوجہد کرے، مگر خود اپنے حلقے میں اپنے لیے وہ کوئی جدوجہد کرنے کا حقدار نہ ہو گا۔

 

اس کاٹ چھانٹ کے بعد جماعت نے پنجاب کے سینتیس (37) حلقوں میں 1390 پنچایتیں تشکیل دیں اور باون (52) امیدواروں کی حمایت کی۔ ان انتخابات میں مولانا مودودی کم وبیش تیس نشستوں پر کامیابی کا ‘یقین’ رکھتے تھے جب کہ جماعت کے اکابرین کے اندازے اس سے بھی بڑھے ہوئے تھے۔ جماعت کی تمام تر کوششوں کے باوجود صرف ایک ’صالح امیدوار‘ انتخابات میں کامیاب ہو سکا اور پینتالیس لاکھ ووٹوں میں سے جماعت کے امیدوار صرف ڈھائی لاکھ ووٹ حاصل کر سکے۔ اس سال صوبہ سرحد (موجودہ خیبرپختونخوا) کے صوبائی انتخابات میں جماعت نے پانچ صالحین کو منتخب کیا جن میں سے تین کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے اور جماعت نے ان انتخابات سے دستبرداری کا فیصلہ کیا۔

 

(جاری ہے)

 

کتابیات
تعبیر کی غلطی، مولانا وحیدالدین خان
تحریک آزادیء ہند اور مسلمان(حصہ اول و دوم)
مولانا مودودی اور میں، اسرار احمد
’قائد اعظم، نظریہ پاکستان اور اسلامی نظام: ابوالاعلی مودودی کی نظر میں‘، مولانا محمد اشفاق
روداد جماعت اسلامی
تحریک جماعت اسلامی : ایک تحقیقی مطالعہ، اسرار احمد
پاکستان کی سیاسی تاریخ: ترقی اور جمہوریت کو روکنے کے لئے اسلامی نظام کے نعرے، زاہد چوہدری
جماعت اسلامی کی انتخابی جدوجہد
منیر رپورٹ، ترجمہ بشکریہ ماہنامہ ’نیا زمانہ’
مودودی حقائق، محمد صادق قادری
پردہ، ابوالاعلی مودودی
محاصرے کا روزنامچہ، وجاہت مسعود
طلبہ تحریکیں، جلد اول، سلیم منصور خالد
میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا، صدیق سالک
مشاہدات، میاں طفیل محمد
پاکستان میں طلباء تحریک، پروفیسر عزیزالدین
جماعت اسلامی پر ایک نظر، شیخ محمد اقبال

Sayyid Abul A’ala Maududi & his thought,Masud ul Hasan
The Vanguard of Islamic Revolution, Vali Nasr
Mawdudi and Making of Islamic Revivalism, Vali Nasr
Magnificient Delusions, Husain Haqqani
Islam and the secular State. Abdulllah An’naim
The 1974ouster of the heretics: What really happened?
NADEEM F. PARACHA

Image: Khuda Bux Abro for Dawn.com

Categories
نان فکشن

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں-دوسری قسط

[blockquote style=”3″]

جماعت اسلامی کی سیاسی تاریخ اور ارتقاء پر ڈاکٹر عبدلمجید عابد کا یہ مضمون اس سے قبل معروف سہ ماہی ادبی جریدے ‘آج’ میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ لالٹین پر اسے بعض اضافوں کے ساتھ قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

اس سلسلے کی بقیہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

تقسیم ہند کے موقعے پر پٹھان کوٹ سے فوجی ٹرکوں پر کتابیں لاد کر لاہور لانے والے مودودی صاحب اور ان کی قائم کردہ جماعت نے کبھی جمہوریت یا جمہور ی نظام کو کماحقہ تسلیم نہیں کیا اور ابن الوقتی کی سیاست کی۔ ترجمان القرآن کو کئی ماہ اشاعت کی اجازت نہ مل سکی تو سہ روزہ ‘کوثر’ نے جماعت کی ترجمانی کا کام سرانجام دیا۔ ‘کوثر’ کے مدیر مولانا نصر اللہ خان عزیز جماعت کے نفس ناطقہ کی حیثیت رکھتے تھے اور طعن وتشنیع کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ اس اخبار کی ادارت سے قبل وہ بجنور سے نکلنے والے کانگرسی اخبار ‘مدینہ’ کے مدیر تھے۔ جنوری اور جون 1947ء میں شائع ہونے والے ‘کوثر’ اخبار نے ‘مسلم لیگ کے پاکستان’ کو ‘فاقستان’ اور ‘لنگڑا پاکستان’ قرار دیا۔ بقول مرشد، ’قیام پاکستان کے بعد نظریاتی سیاست کا پرچم دو گروہوں کے ہاتھ آیا۔ ایک تو تھی جماعت اسلامی۔ جماعت اسلامی جدید دور کے معاشی اور معاشرتی تقاضوں سے جنم لینے والے سیاسی بندوبست سے منکر تھی۔ حکومت الٰہیہ کی داعی تھی۔ نظریاتی سیاست کا دوسرا پرچم کمیونسٹوں کے ہاتھ آیا۔ وہ بھی معیشت اور معاشرت کے موجودہ بندوبست سے نالاں تھے اور سیاسی نظام بدلنا چاہتے تھے۔’ مسلم لیگ کو کئی برس تضحیک کا نشانہ بنانے کے بعد اسی لیگ کی کوششوں کے باعث قائم ملک میں ڈیرہ جمانے کے بعد جماعت مودودیہ نے اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کی سعی شروع کی۔ 16 نومبر 1947ء کے روز مودودی صاحب نے ‘کوثر’ اخبار میں لکھا:

 

تقسیم ہند کے موقعے پر پٹھان کوٹ سے فوجی ٹرکوں پر کتابیں لاد کر لاہور لانے والے مودودی صاحب اور ان کی قائم کردہ جماعت نے کبھی جمہوریت یا جمہور ی نظام کو کماحقہ تسلیم نہیں کیا اور ابن الوقتی کی سیاست کی۔
‘ہم سے یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ تم لوگ جب تحریک کے ہم نوا نہیں تھے جس کے نتیجے میں پاکستان بنا ہے تو اب آخر ہمیں کیا حق پہنچتا ہے کہ اس پاکستان کی سرزمین میں پناہ لو۔ ہاں فی الوقع ہماری حیثیت پاکستان میں پناہ گزینوں کی سی ہے اور اگرچہ ہم اس تحریک کو آج بھی صحیح نہیں سمجھتے جس کی بنیاد پر پاکستان بنا ہے اور پاکستان کا اجتماعی نظام جن اصولوں پر قائم ہو رہا ہے ان اصولوں کو اسلامی نقطہ نظر سے ہم کسی قدروقیمت کا مستحق نہیں سمجھتے لیکن جو چیز ہمیں یہاں کھینچ لائی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں کے باشندے اعمال وکردار کے لحاظ سے چاہے کوئی بھی رویہ رکھتے ہیں لیکن بہر حال وہ اس خدا کا نام لیتے ہیں جس کی عبادت و طاعت ہماری نگاہ میں واجب ہے۔ وہ اپنے آپ کو اس کتاب کا حامل مانتے ہیں جس کے ایک ایک شوشے کی پابندی مسلمان کے لیے فرض عین ہے اور وہ اس اسلامی نظام کے قیام کو خواہش ظاہر کرتے ہیں جس کے سوا کسی دوسرے نظام کو قائم کرنا یا قبول کرنا رو ا نہیں ہے پاکستان بنانے کے لئے چاہے انداز غلط اختیار کیا گیا ہو لیکن مسلمانوں سے ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ اب پاکستان کو حاصل کر لینے کے بعد صحیح اسلامی اصولوں پر اسے فی الواقع پاکستان بنانے میں پس وپیش نہ کریں گے’۔

 

غیر منقسم ہندوستان میں ترجمان القرآن کا آخری پرچہ جون 47ء کا تھا جس میں مولانا نے فرمایا: ’میں آپ لوگوں سے اکثر کہتا رہا ہوں کہ اسلامی انقلاب پیدا کرنے کا جتنا امکان مسلم اکثریتی علاقوں میں ہے، قریب قریب اتنا ہی امکان غیر مسلم علاقوں میں ہے۔ میری اس بات کو بہت سے لوگ ایک غرق تخیل آدمی کا خواب سمجھتے ہیں ۔ اور بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ شائد یہ تصوف کا کوئی نقطہ ہے جو ہماری سمجھ سے بالاتر ہے‘۔

 

اگست سنہ 1975ء میں مودودی صاحب نے نوائے وقت میں ایک مضمون لکھا جس کے مطابق: ’ہم مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کی حمایت کرتے تھے لیکن مسلم لیگ کے راستے کی رکاوٹ نہ بنے۔ اگر لیگ اپنے مقصد میں ناکام ہو جاتی تو ہم میدان میں اتر آتے‘(خوش فہمی کی انتہا کہہ لیجیے یا تجاہل عارفانہ)۔ سنہ 1948ء کے اوائل میں مولانا نے لاہور کے لا ء کالج میں ’اسلامی دستور‘ کے خدوخال پر اپنی ماہرانہ رائے کا اظہار کیا، جس کے جواب میں مسلم لیگ کے راہنما راجہ غضنفر علی اور معروف شاعر فیض احمد فیض نے اس ‘ناقابل عمل’ تجویز پر مولانا کے خوب لتے لیے۔ مولانا کو لاء کالج اور ریڈیو پاکستان پر ‘اسلامی دستور’ کے متعلق اظہار خیال کا موقعہ حکومت پنجاب کے ’محکمہ تعمیر اسلامی‘ نے دیا تھا۔ بقول زاہد چوہدری:

 

’قائداعظم کے سیکولر نظریے کے خلاف کراچی سے بھی بڑا محاذ پنجاب کے رجعت پسند جاگیرداروں اور درمیانے طبقے کے قدامت پسند عناصر نے بنایا تھا۔
’قائداعظم کے سیکولر نظریے کے خلاف کراچی سے بھی بڑا محاذ پنجاب کے رجعت پسند جاگیرداروں اور درمیانے طبقے کے قدامت پسند عناصر نے بنایا تھا۔ اس صوبے کا وزیر اعلیٰ ایک نیم تعلیم یافتہ اور کم عقل جاگیر دار نواب افتخار ممدوٹ تھا جو یہ سمجھتا تھا کہ اس کے طبقے کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضرور ی ہے کہ اسلام کو صبح و شام سیاسی حربے کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اس نے اپنے دوستوں کے مشورے کے مطابق پہلے تو ستمبر میں ایک شخص غلام محمد اسد سے ریڈیو پاکستان لاہور سے ’اسلام اور مسلمان‘ کے عنوان سے تقریروں کا ایک سلسلہ شروع کروایا اور پھر اکتوبر میں اس کی سربراہی میں سرکاری بندوبست میں ایک نئے محکمے بنام ’تعمیر اسلامی‘ کا اضافہ کیا گیا۔ یہ شخص (محمد اسد) آسٹریا کا ایک یہودی تھا اور اس کا اصلی نام لیوپولڈ ویس تھا۔ اس نے روس میں 1917ء کے پرولتاری انقلاب کے بعد اسلام قبول کر کے بطور اخبار نویس مشرق وسطیٰ میں سارے عالمِ عرب کا دورہ کیا تھا۔ اسے انگریزوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران ہٹلر کا جاسوس ہونے کے شبے میں احمد آباد میں نظربند کیا تھا۔ جنگ کے خاتمہ پر اس کی رہائی ہوئی تو اس نے لاہور میں ڈیرے ڈال لیے اور قیامِ پاکستان کے بعد وہ یہاں اسلام کا عظیم ترین علم بردار بن بیٹھا۔ اس کی زندگی کا واحد نصب العین یہ تھا کہ مشرق وسطیٰ اور برصغیر کے شمال مغربی علاقے میں سویت یونین کے اثر و رسوخ کا سدباب کیا جائے۔ اس نے اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں اپنے محکمہ تعمیر اسلامی کا چارج سنبھالنے کے بعد ریڈیو پاکستان لاہور سے تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہماری یہ مملکت پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اور ہم مسلمان اسلام سے وابستگی کی وجہ سے ایک قوم ہیں’۔

 

جنوری 1948ء میں صوبائی وزیر میاں افتخار الدین نے تقسیم اراضی کی تجویزپیش کی اور الاٹمنٹ میں بے ضابطگی کے مسئلے پر استعفیٰ پیش کیا۔ عوام میں اس نظریے کی مقبولیت کا سدباب کرنے کے لئے مودودی صاحب کو ریڈیو پر ’اسلام کا معاشی نظام‘ کے موضوع پر تقاریر کے لیے بلایا۔ مولانا نے اسلامی معیشت اور مساوات کے متعلق ان زریں خیالات کا اظہار کیا: ’اسلام جس مساوات کا قائل ہے، وہ رزق میں مساوات نہیں بلکہ حصولِ رزق کی جدوجہد کے مواقع میں مساوات ہے۔ فطرت سے قریب تر نظام وہی ہو سکتا ہے جس میں ہر شخص معیشت کے میدان میں اپنی دوڑ کی ابتدا اس مقام اور اسی حالت سے کرے جس پر خدا نے اسے پیدا کیا ہے۔ فطرت سے قریب تر نظام وہی ہو سکتا ہے جس میں ہر شخص معیشت کے میدان ابتداء اسی مقام سے کرے جس پر وہ پیدا ہوا، جو موٹر لیے ہوئے آیا ہے وہ موٹر ہی پر چلے، جو صرف دو پاؤں لایا ہے وہ پیدل ہی چلے اور جو لنگڑا پیدا ہوا ہے وہ لنگڑا کر ہی چلے۔ سوسائٹی کا قانون نہ تو ایسا ہونا چاہئے کہ وہ موٹر والے کا مستقل اجارہ موٹر پر ہی قائم کر دے اور لنگڑے کے لیے موٹر کا حصول ناممکن بنا دے اور نہ ہی ایسا ہونا چاہئے کہ سب کی دوڑ زبردستی ایک ہی مقام اور ایک ہی حالت سے شروع ہو‘۔

 

مولانا نے اپنے قاصد کراچی بھیجے تاکہ قانون ساز اسمبلی کے ارکان کو اس بات پر قائل کیا جائے کہ وہ مقننہ میں پاکستان کے ‘نظریاتی ریاست’ ہونے کی قرارداد پیش کر سکیں
13جنوری 1948ء کو راولپنڈی میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نے فرمایا:

 

’اب مسلمانوں کا نصب العین پورا ہو گیا ہے تو پاکستان کے علم بردار کو چاہئے کہ اس مسلم ملک میں اسلامی قوانین کے مطابق آئین مرتب کر کے اپنے وعدے پورے کریں‘۔

 

مارچ 1948ء میں مولانا نے اپنے قاصد کراچی بھیجے تاکہ قانون ساز اسمبلی کے ارکان کو اس بات پر قائل کیا جائے کہ وہ مقننہ میں پاکستان کے ‘نظریاتی ریاست’ ہونے کی قرارداد پیش کر سکیں (اس موقعہ پر یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی)۔

 

6 اپریل 1948ء کو ڈان اخبار سے انٹرویو کے دوران مولانا نے دستور ساز اسمبلی سے مندرجہ ذیل مطالبات کیے:
1۔ عوام الناس کی حاکمیت کی بجائے اللہ تعالی کی حاکمیت کو تسلیم کیا جائے۔
2۔ یہ تسلیم کیا جائے کہ پاکستان کا دستور شریعت کی بنیاد پر بنایا جائے گا۔
3۔ غیر اسلامی قوانین میں ترمیم کی جائے گی اور شریعت کے منافی کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا۔
4۔ حکومت پاکستان شریعت کی حدود میں رہ کر اپنے اختیارات کا استعمال کرے گی۔ (بعدازاں یہ مطالبات قرارداد مقاصد اورپاکستان کے دستور کا حصہ بنے)

 

اس انٹرویو سے قبل مولانا نے ایک اجتماع کو بتایا: “ہماری قوم نے اپنے لیڈروں کے انتخاب میں غلطی کی تھی اور اب یہ غلطی نمایاں ہو کر سامنے آ گئی ہے۔ ہم چھے سال سے چیخ رہے تھے کہ محض نعروں کو نہ دیکھو بلکہ سیرت اور اخلاق کو بھی دیکھو۔ اس وقت لوگوں نے پرواہ نہ کی لیکن اب زمام کار ان لیڈروں کو سونپنے کے بعد ہر شخص پچھتا رہا ہے کہ واہگہ سے دہلی تک کا بڑا علاقہ اسلام کے نام سے خالی ہو چکا ہے۔ “

 

ہماری قوم نے اپنے لیڈروں کے انتخاب میں غلطی کی تھی اور اب یہ غلطی نمایاں ہو کر سامنے آ گئی ہے۔
اسی سال مودودی صاحب نے سرکاری ملازمت کے لیے وفاداری کا حلف اٹھانے کو ناجائز قرار دیا (کیونکہ نظام حکومت ’از روئے قانون قائم ہے‘ جو کہ اسلامی نظام نہیں)۔ کشمیر میں جاری گوریلا جنگ کے خلاف مولانا نے موقف اختیار کیا کہ جہاد کی اجازت صرف اسلامی حکومت ہی جاری کر سکتی ہے (سنہ 1941ء میں ان کا موقف تھا کہ حکومت غیر شرعی ہو تو فرد واحد جہاد کے لیے ہتھیار اٹھا سکتا ہے)۔ کشمیر میں جنگ کے خلاف ان کے ‘فتوے’ کو (بھارتی حکومت کے ایماء پر) سرینگر اور کابل ریڈیو سے نشر کیا گیا۔

 

جون 1948ء میں ماہنامہ ’ترجمان القرآن‘ کا پہلا شمارہ پاکستان سے شائع ہوا اور اس میں مسلم لیگ کے راہنماؤں کے بارے میں مندرجہ ذیل خیالات کا اظہار کیا گیا:

 

“یہ عین وہی لوگ ہیں جو اپنی پوری سیاسی تحریک میں اپنی غلط سے غلط سرگرمیوں میں اسلام کو ساتھ ساتھ گھسیٹتے پھرتے ہیں۔ انہوں نے قرآن کی آیات اور احادیث کو اپنی قوم پرستانہ کشمکش کے ہر مرحلے میں استعمال کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے معنی لا الہ الا اللہ بیان کیے ہیں، لیکن افسوس کہ ان کی محبت اسلام کے، ان کی خدا ترسی کے، ان کی حب رسالت کے، ان کی قرآن دوستی کے، اور ان کی لاالہ نوائی کے جو عملی مناظر پاکستان کے دس ماہ کی تاریخ کے عجائب خانے میں آراستہ ملتے ہیں، ان کو دیکھ کر ہر حساس مسلمان کی گردن شرم سے جھک جاتی ہے۔ اگر حالات معمولی نہ ہوں بلکہ ایک قوم کی تعمیر کا آغاز ہو رہا ہو اور یہ آغاز بھی نہایت سازگار دور کے درمیان ہو رہا ہو، ایسے حالات میں کسی غیر صالح قیادت کو ایک منٹ کے لیے بھی گوارا کرنا خلاف مصلحت ہے۔ ایک غلط قیادت کی بقا کے لیے کسی طرح کی کوشش کرنا ملک وقوم کے ساتھ سب سے بڑی غداری اور غلط قیادت سے نجات دلانے کی فکر کرنا اس کی سب سے بڑی خیرخواہی ہے۔”

 

“جو لوگ کل تک پاکستان کے مخالف تھے اور لیگ کی تنظیم سے الگ رہے بلکہ انہوں نے انتخابات میں لیگ کے امیدواروں کی مخالفت کی، وہ آج نظام شرعی کے حامی بنے ہوئے ہیں اور پاکستان کو ناکام بنانے کے لیے مذہب کی آڑ لے رہے ہیں۔”
جواب میں نوائے وقت نے تبصرہ کیا: “جو لوگ کل تک پاکستان کے مخالف تھے اور لیگ کی تنظیم سے الگ رہے بلکہ انہوں نے انتخابات میں لیگ کے امیدواروں کی مخالفت کی، وہ آج نظام شرعی کے حامی بنے ہوئے ہیں اور پاکستان کو ناکام بنانے کے لیے مذہب کی آڑ لے رہے ہیں۔” غلام جیلانی برق نے لکھا: “سلطنت کے بنے ایک سال نہیں ہوا لیکن علماء کی ایک خاص جماعت تخریب میں مصروف ہو گئی ہے۔ اگر یہ فتنہ کار علماء اپنی حرکات سے باز نہ آئے تو ہم قوم کو یہ بتانے پر مجبور ہو جائیں گے کہ ہمارے نام نہاد علماء نے کتنی ہزار مرتبہ کتنے کتنے محشر اٹھائے۔ شریعت شریعت کرنے والے ایک صاحب ایسے بھی ہیں جو ہمیشہ پاکستان کے خلاف کام کرتے رہے۔ جنہوں نے پچھلے سال جہاد کشمیر کو فساد قرار دیا۔ آج جب پاکستان ایک حقیقت ثابتہ بن چکا ہے تو وہ خدائی شریعت کا لبادہ اوڑھ کر پاکستان کو کمزور کرتے پھرتے ہیں۔”

 

(جاری ہے)

 

کتابیات
تعبیر کی غلطی، مولانا وحیدالدین خان
تحریک آزادیء ہند اور مسلمان(حصہ اول و دوم)
مولانا مودودی اور میں، اسرار احمد
’قائد اعظم، نظریہ پاکستان اور اسلامی نظام: ابوالاعلی مودودی کی نظر میں‘، مولانا محمد اشفاق
روداد جماعت اسلامی
تحریک جماعت اسلامی : ایک تحقیقی مطالعہ، اسرار احمد
پاکستان کی سیاسی تاریخ: ترقی اور جمہوریت کو روکنے کے لئے اسلامی نظام کے نعرے، زاہد چوہدری
جماعت اسلامی کی انتخابی جدوجہد
منیر رپورٹ، ترجمہ بشکریہ ماہنامہ ’نیا زمانہ’
مودودی حقائق، محمد صادق قادری
پردہ، ابوالاعلی مودودی
محاصرے کا روزنامچہ، وجاہت مسعود
طلبہ تحریکیں، جلد اول، سلیم منصور خالد
میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا، صدیق سالک
مشاہدات، میاں طفیل محمد
پاکستان میں طلباء تحریک، پروفیسر عزیزالدین
جماعت اسلامی پر ایک نظر، شیخ محمد اقبال

Sayyid Abul A’ala Maududi & his thought,Masud ul Hasan
The Vanguard of Islamic Revolution, Vali Nasr
Mawdudi and Making of Islamic Revivalism, Vali Nasr
Magnificient Delusions, Husain Haqqani
Islam and the secular State. Abdulllah An’naim
The 1974ouster of the heretics: What really happened?
NADEEM F. PARACHA

Image: Khuda Bux Abro for Dawn.com

Categories
نان فکشن

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں-پہلی قسط

[blockquote style=”3″]

جماعت اسلامی کی سیاسی تاریخ اور ارتقاء پر ڈاکٹر عبدلمجید عابد کا یہ مضمون اس سے قبل معروف سہ ماہی ادبی جریدے ‘آج’ میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ لالٹین پر اسے بعض اضافوں کے ساتھ قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

اس سلسلے کی بقیہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

1857ء کے بعد ہندوستان میں مغل حکومت کا باضابطہ خاتمہ ہوا تو سماجی تبدیلی کا ایک عمل شروع ہوا۔ اس دور میں مسلمان اشرافیہ کے مفادات پر ضرب لگی جس کا نتیجہ دو مختلف تحاریک کی شکل میں واضح ہوا۔ قدامت پرستی کی تحریک دیوبند جبکہ جدیدیت کا علم علی گڑھ سے نمودار ہوا۔ ان دونوں تحاریک کے روح دواں شمالی ہندوستان کے باسی اور مسلمان اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ چھاپہ خانے اور اجتماعی تعلیم کی بدولت شعور کا حصول صرف اشرافیہ کے لئے مخصوص نہ رہا۔ علی گڑھ کے ذریعے سرسید نے مسلم اشرافیہ کو حکومتی بندوبست کا حصہ بننے کا نیا راستہ عطا کیا تو تحریک خلافت کے ذریعے دیوبند کے فارغ التحصیل علماء بھی سیاسی میدان میں اترے۔ ابوالکلام آزاد نے اپنے اخبارات کا آغاز مسلم امہ سے ہمدردی پر مبنی مضامین چھاپ کر کیا اور تحریک خلافت کی فکری بنیاد رکھی۔ تحریک خلافت کے خاکستر سے جمیعت علمائے ہند، مجلس احرار اور بعد ازاں جماعت اسلامی نمودار ہوئیں۔ تقسیم ہند سے قبل اور اس کے بعد جماعت اسلامی کے سیاسی ارتقاء کی کہانی پیش خدمت ہے۔ تقسیم کے بعد پاکستان اور خاص طور پر پنجاب میں سیاسیRelevanceکا جھگڑا شروع ہوا جس میں مسلم لیگ کے سیاست دان، کمیونسٹ پارٹی، جماعت احمدیہ، پاکستان کی مخالفت کرنے والی جماعتیں جیسے مجلس احرار، جمیعت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی نمایاں کردار تھے۔

 

نوزائیدہ ریاست کی فکری تشکیل اور سیاست میں مذہب کی ملاوٹ کے موضوعات پر جاری بحث میں جماعت کے اکابرین نے ایک مخصوص موقف اختیار کیا اور ابتدائی کشمکش کے بعد وہ موقف ایک موقعے پر سرکاری موقف بن گیا۔
سنہ 1937ء کے انتخابات میں شکست کے بعد مسلم لیگ کے زعماء نے مذہبی نعرے استعمال کرنے کی پالیسی اپنائی اور ’علماء ومشائخ‘ کی حمایت حاصل کرنے کا آغاز ہوا (اس دور میں مسلم لیگ کی جانب سے شائع ہونے والے ایک اشتہار کی عبارت میں یہ الفاظ شامل تھے: ’مسلم لیگ نیک باطن اور خدا پرست مولویوں کی بہت زیادہ عزت کرتی ہے)۔ اس سلسلے میں سنہ 1945ء کے انتخابات میں پنجاب، یوپی اور صوبہ سرحد میں اسلام کے نام پر ووٹ طلب کئے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔

 

نوزائیدہ ریاست کی فکری تشکیل اور سیاست میں مذہب کی ملاوٹ کے موضوعات پر جاری بحث میں جماعت کے اکابرین نے ایک مخصوص موقف اختیار کیا اور ابتدائی کشمکش کے بعد وہ موقف ایک موقعے پر سرکاری موقف بن گیا۔ جماعت اسلامی کی یہ تاریخ پاکستانی معاشرے کے چند بنیادی رجحانات اور وقت کے ساتھ انکے ارتقاء کی نشاندہی کرتی ہے۔ بحیثیت سیاسی جماعت، جماعت اسلامی کا ’سنہری دور‘ سنہ 70ء کے انتخابات سے قبل تھا۔ اس کے بعد جماعت اسلامی کی تاریخ محض زوال اور Hubris کی داستان ہے۔ جہاد کے موضوع پر جماعت کی موشگافیاں ابتدائی دور میں فوج کے نقطہ نظر سے مختلف تھیں لیکن کچھ دہائیاں گزرنے کے بعد دونوں فریقین کا موقف ایک ہو گیا۔ موجود سیاسی بندوبست میں جماعت اسلامی کا پیغام دیگر دیوبندی جماعتیں یا طالبان ہتھیا چکے ہیں اور جماعت کو اپنی اہمیت جتانے کے لئے انتخابی اتحاد یا اشتعال انگیز اخباری بیانات کا راستہ اپنانا پڑتا ہے۔ کراچی میں مہاجر جماعت کے قیام کے بعد جماعت کی سیاسی اہمیت میں نمایاں کمی واضح ہوئی اور اب لوئر دیر کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں جماعت ووٹ حاصل کرنے سے قاصر ہے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ستمبر سنہ 1903ء میں اورنگ آباد، دکن کے ایک صوفی گھرانے میں ابوالاعلیٰ مودودی کی پیدائش ہوئی۔ ان کے والد سید احمد حسن مودودی نے کچھ وقت علی گڑھ کالج میں بسر کیا اور بعدازاں الہٰ آباد سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ سن 1900ء میں انہوں نے مولوی محی الدین کے ہاتھ پر بیعت کی اور خاندان سمیت دہلی منتقل ہو گئے۔ ابوالاعلیٰ کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی جہاں انہوں نے فارسی، اردو، منطق، فقہ اور حدیث کی تعلیم حاصل کی۔ گیارہ برس کی عمر میں انہیں مدرسہ فوقانیہ اورنگ آباد میں داخل کروا یا گیا۔ عربی زبان پر عبور کے باعث انہوں نے گیارہ سال کی عمر میں مصری عالم قاسم امین کی کتاب کا اردو ترجمہ کیا۔ بعدازاں انہوں نے کچھ وقت حیدرآباد دکن کے دارالعلوم میں بسر کیا۔ مدرسے سے فارغ التحصیل ہونے پر ابولاعلیٰ نے کوچہء صحافت کا رخ کیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے بڑے بھائی سمیت دہلی میں رہائش اختیار کی اور مختلف رسائل کے لئے مضامین لکھے۔ ان دنوں رولٹ ایکٹ اور تحریک خلافت کے زیر اثر مودودی صاحب نے پنڈت مدن موہن اور گاندھی جی کے حالات زندگی تحریر کئے۔ سنہ 1919ء میں انہوں نے ’تاج‘ نامی کانگرسی رسالے کی ادارت سنبھالی۔ اس کے بعد انہوں نے دو سال جمیعت علمائے ہند کے اخبار ’مسلم‘ کی ادارت کا کام انجام دیا۔ سنہ 1925ء میں انہوں نے جمیعت کے نئے اخبار ’الجمیعت‘ کی ادارت شروع کی اور اس دوران درس نظامی میں داخلہ لیا۔

 

انیس سو چوبیس میں تحریک خلافت کی ناکامی نے مودودی صاحب کو قائل کر دیا کہ قوم پرستی اور جمہوریت ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے موزوں نہیں
سنہ 1924ء میں تحریک خلافت کی ناکامی نے مودودی صاحب کو قائل کر دیا کہ قوم پرستی اور جمہوریت ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے موزوں نہیں (علامہ اقبال بھی آخرکار اسی نتیجے پر پہنچے اور الہٰ آباد کے مشہور خطاب میں بھی انہوں نے یہی موقف اختیار کیا)۔ انہوں نے سنہ 1925ء میں ’اسلام کا چشمہء قدرت‘ نامی سلسلہ مضامین شروع کیا جس میں انہوں نے ماضی کے واقعات کی روشنی میں حال کے مسائل کے حل تجویز کیے۔ سنہ 1932ء میں انہوں نے ’ترجمان القرآن‘ نامی رسالے کا آغاز کیا۔ سنہ 1939ء میں انہوں نے ’متحدہ قومیت اور اسلام‘ اور ’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش‘ کے عنوان سے کتابچے تحریر کیے۔ (سنہ 1963ء میں خورشید احمد نے ان کو یکجا کر کے دو جلدوں میں ’تحریک آزادیء ہند اور مسلمان‘ کے نام سے چھاپا۔ اس ’یکجائی‘ کے دوران ان کتابوں میں ردوبدل کی گئی اور فی زمانہ ’متنازعہ‘ باتیں حذف کر دی گئیں)۔

 

سنہ 1937ء میں علامہ اقبال نے پٹھان کوٹ میں ایک دارالعلوم قائم کرنے کا فیصلہ کیا جہاں جدید تعلیم کے ذریعے مسلمانوں کے نشاط ثانیہ کے لیے کام کیا جا سکے۔ اس ادارے کے سربراہ کی تلاش کا کام اقبال نے اپنے رفیق چوہدری نیاز علی کے ذمے لگایا۔ نیاز علی نے پہلے اشرف علی تھانوی سے رابطہ کیا مگر انکار کا سامنا کرنا پڑا، لہذٰا انہوں نے مودودی صاحب کا نام تجویز کیا۔ اس سلسلے میں مودودی اور اقبال کی بالمشافہ ملاقات ہوئی اور بالآخر مودودی صاحب کو دارالاسلام کے وقف کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ سنہ 1939 ء میں نیاز علی سے شدید اختلافات کے بعد مودودی صاحب نے وقف سے استعفیٰ دے دیا(نیاز علی مسلم لیگ کے حامی تھے اور وہ مودودی صاحب کو سیاست میں دخل اندازی سے باز رکھنے میں ناکام ہونے پر دلبرداشتہ ہو گئے تھے)۔ اگست 1941ء میں جماعتِ اسلامی کی بنیاد رکھی۔ سنہ 41 19ء سے سنہ 1953 ء تک جماعت اور امیر جماعت کے سیاسی نظریات سمجھنے کے لیے ان کی تصنیفات پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔

 

’تحریک آزادیء ہند‘ کا مقدمہ خورشید احمد (سنہ1953ء میں جمیعت طلبہ اسلام کے ناظم اعلیٰ، بعدازاں پاکستان کی سینیٹ کے رکن) نے لکھا اور سیاست کے متعلق فرقہ مودودیہ کا موقف انہوں نے یوں بیان کیا ہے: ’مسلمان اور غلامی، یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں۔ مسلمان کے لیے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ غلامی کی فضا میں اپنے دین کے تقاضوں کو پورا کر سکے۔ اسلام غلبے اور حکمرانی کے لیے آیا ہے، دوسروں کی چاکری اور باطل نظاموں کے تحت جزوی اصلاحات کے لیے نہیں آیا۔ ‘ یہ بیان ظاہر کرتا ہے (اجمل کما ل سے معذرت کے ساتھ) کہ لکھنے والے کو سیاسیات، معاشیات، عمرانیات اور علم تاریخ جیسی مخلوقات کے وجود تک کا علم نہیں اور اس کے نزدیک عقلی سرگرمی محض عقل کے پیچھے لٹھ لے کر پھرتے رہنے کا نام ہے۔

 

مولانا مودودی نے اسلام کو مذہب کی بجائے ’عالمگیر تحریک‘ ثابت کرنے کی کوشش کی اور اس سلسلے میں نت نئی توجیحات پیش کیں۔
‘مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ اول’ میں صاحب کتاب نے کانگرس اور ہندوستانی قوم پرستوں پر چاند ماری کی۔ابتدائی مضامین میں ہندوستانی مسلمانوں کی مختصر تاریخ بیان کرنے کے بعد آبادی کے ایک بڑے حصے کو اسلامی اعتبار سے جاہل قرار دیا۔ صفحہ نمبر 44 پر لکھا: ’ہمیں اس امر کی کوشش کرنی چاہئے کہ جمہور مسلمانوں کی قیادت کا منصب نہ انگریز کے غلاموں کو حاصل ہو سکے نہ ہندو کے غلاموں کو بلکہ ایسی جماعت کے قبضے میں آ جائے جو ہندوستان کی کامل آزادی کے لئے دوسری ہمسایہ قوموں کے ساتھ اشتراک عمل کرنے پر دل آمادہ ہو، مگر اسلامی مفاد کو کسی حال میں قربان کرنے پر آمادہ نہ ہو‘۔ اس کتاب کی دوسری جلد (جو بعدازاں ’تحریک آزادی اور مسلمان‘ حصہ دوم کے نام سے چھاپی گئی) میں واضح کر دیا کہ وہ جمہوریت اور کمیونزم کے مقابلے میں ’اسلامی نظام‘ (جو آج کل اسلام ازم یا سیاسی اسلام کہلاتا ہے) کو افضل سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اس نظام کے متعلق لکھا: ’میں صرف غیر مسلموں کو ہی نہیں بلکہ خود مسلمانوں کو بھی اسلام کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اس دعوت سے میرا مقصد اس نام نہاد مسلم سوسائٹی کو باقی رکھنا ہے اور بڑھانا نہیں ہے جو خود اسلام کی راہ سے بہت دور ہٹ گئی ہے۔‘ تیسرے حصے میں مسلم لیگ اور اس کی قیادت پر بالواسطہ تنقید کی گئی۔

 

موصوف نے اسلام کو مذہب کی بجائے ’عالمگیر تحریک‘ ثابت کرنے کی کوشش کی اور اس سلسلے میں نت نئی توجیحات پیش کیں۔ دسمبر سنہ 1939ء میں لکھا: ’اسلام کی رو سے مسلمانوں کی جمیعت صرف وہ ہو سکتی ہے جو غیر الہٰی حکومت کو مٹا کر الہٰی حکومت قائم کرنے اور قانون خداوندی کو حکمراں کرنے کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔ جو جماعت ایسا نہیں کرتی ،وہ نہ تو اسلامی جماعت ہے نہ اسے مسلمانوں کی جماعت کہنا درست ہے‘ (یہاں اسلام سے مراد ’مودودی صاحب کی فہم کے مطا بق اسلام‘ ہے ۔ جولائی سنہ 1940ء میں انہوں نے ’اصلی مسلمانوں کے لیے ایک ہی راہ عمل‘ نامی مضمون تحریر کر کے اختلاف کا راستہ ہی بند کر دیا)۔ اسلام کے ’مکمل ضابطہ حیات‘ ہونے کا دعویٰ پہلی بار مودودی صاحب نے نہیں کیا لیکن اس دعوے کی بنیاد پر ایک نظریاتی عمارت کی تعمیر میں انکا اہم حصہ ہے۔ اسلامی فکرو عمل کے استاد ڈاکٹر خالد ظہیر کے مطابق یہ دعویٰ پہلی دفعہ بیسویں صدی میں کمیونزم اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا گیا اور اس کی کوئی تاریخی مثال موجود نہیں۔ اسی طرح اسلام کو مذہب کی بجائے ’دین‘ قرار دینے کا کام بھی انہوں نے اپنے مضمون ’مذہب کا اسلامی تصور‘ میں انجام دیا۔

 

مودودی صاحب نے مذہب کی جو تعبیر کی، اس پر ہم کم علمی کے باعث تنقید کرنے کے اہل نہیں (اور بقول اکبر الہ آبادی: فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں) لیکن اس ضمن میں مولانا وحیدالدین کی تصنیف ’تعبیر کی غلطی‘ اور شیخ محمد اقبال کی کتاب ’جماعت اسلامی پر ایک نظر‘ اہم کاوشات ہے۔ وحیدالدین جماعت کے ابتدائی کارکنان میں شامل تھے اور انکی تنقید کا تسلی بخش جواب مودودی صاحب یا ان کے قریبی ساتھی نہ دے سکے۔تاریخ اور سیاست پر مولانا کی مشق آزمائی البتہ ہماری ناقص رائے میں ناقابل معافی ہے اور اس ضمن میں چند اقتباسات پیش خدمت ہیں۔

 

لفظ سیکولر کا ترجمہ ’لادین‘ مشہور کرنے میں بھی مولانا مودودی کا کردار رہا حالانکہ انگریزی زبان کے اس لفظ کا ترجمہ ’غیر مذہبی حکومت‘ مستند ہے یا عربی اصطلاح ’علمانیہ‘ استعمال کی جا سکتی ہے۔
لفظ سیکولر کا ترجمہ ’لادین‘ مشہور کرنے میں بھی مولانا مودودی کا کردار رہا حالانکہ انگریزی زبان کے اس لفظ کا ترجمہ ’غیر مذہبی حکومت‘ مستند ہے یا عربی اصطلاح ’علمانیہ‘ استعمال کی جا سکتی ہے۔ جمہوریت کے بارے میں انکی رائے مندرجہ ذیل ہے:

 

‘یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ ہم اس نظام کے اندر داخل ہو کر اس کو اسلام کی طرف پھیر لیں گے۔ اس کے اندر داخل ہونا بغیر اس کے ممکن نہیں کہ پہلے اس کے بنیادی نظریے (سلطانیء جمہور) کو تسلیم کیا جائے اور اس کے بنیادی نظریے کو تسلیم کرنا اسلام کے بنیادی نظریے سے انکار کا ہم معنی ہے۔ لہذٰا مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ باہر سے اس کے خلاف لڑیں اور اپنی تمام تر کوشش پہلے یہ اصول منوانے میں صرف کریں کہ قانون سازی کتاب الہیٰ کی سند پر مبنی ہونی چاہئے۔‘ انہوں نے دین ودنیا کی علیحدگی کے تصور کو ’جاہلی تصور‘ قرار دیا۔ ( یوں تو سید سلیمان ندوی بھی جمہوریت کے متعلق لگ بھگ یہی رائے رکھتے تھے۔ خطبات اقبال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ’جمہوری اداروں کو اسلامی تاریخ میں تلاش کرنا اسلام کی تاریخ سے ناواقفیت کا ثبوت ہے۔ قرآن کریم میں ملوکیت کی مذمت اور جمہوریت کی مدحت کہاں ہے۔ ملوکیت قرآن سے ثابت ہے، اسے قابل نفرت قرار دینے کی شرعی توجیح نہیں کی جا سکتی۔ آزادی اور مساوات کو اسلام میں ڈھونڈنا اسلام سے ناواقفیت ہے۔ اسلام اور آزادی دو متضاد نظریات ہیں۔‘)سنہ 1941 ء میں جماعت اسلامی میں داخلے کی شرائط میں یہ شرط بھی شامل تھی:

 

‘اگر آپ کسی مجلس قانون ساز کے رکن ہیں تو اس سے مستعفی ہو جائیں کیونکہ جو مجلس قرآن اور سنت رسول کو اساس اور منبع قانون تسلیم نہ کرے، اسلام کی رو سے اس کو انسانی زندگی کے لیے قوانین بنانے کا کوئی حق نہیں پہنچتا اور اس کی رکنیت قبول کرنا کسی مسلمان کا کام نہیں۔’

 

مولانا نے اپنی جماعت کے ارکان کو انتخابات میں مسلم لیگ کو ووٹ ڈالنے سے منع کیا۔ حالانکہ ان انتخابات میں مسلم لیگ نے ’اسلام خطرے میں ہے‘ کا نعرہ بلند کیا تھا اور پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں اسے مذہبی شخصیات کی آشیر واد حاصل تھی۔
ہر احیاء پرست کی مانند جناب کو بھی اپنے نقطہ نظر اور لائحہ عمل کے متعلق صد فیصد درستگی کا گمان تھا اور انکے مطابق جو راستہ انہوں نے چنا، وہ حقیقی اور سچا راستہ تھا(اس رویے کو مولانا وحیدالدین نے ’مولانا مودودی کی مریضانہ ذہنیت‘ قرار دیا)۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے متعلق لکھا: ’مسلم لیگ کے بنیادی تصورات، اس کا نظام ترکیبی، اس کا مزاج، اس کا طریق کار اور اس کے مقاصد سب کچھ وہی ہیں جو قومی اور قوم پرستانہ تحریکوں کے ہوا کرتے ہیں۔ یہ اور بات کہ یہ مسلمانوں کی قومی تحریک ہے اس لیے خوامخواہ اسے بھی اسلامی تحریک سمجھ لیا گیا ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اسلامی تحریک اپنی نوعیت کے اعتبار سے بالکل ایک دوسری چیز ہوا کرتی ہے جس کا کوئی شائبہ بھی مسلم لیگ کی قومی تحریک میں نہیں پایا جاتا، اور یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ اسلام اپنے مخصوص طریقہ کار سے جس منزل تک پہنچنا چاہتا ہے، اس تک آپ ایک قوم پرستانہ تحریک کے ڈھنگ اختیار کر کے پہنچ جائیں۔‘ اسی مضمون میں ایک اور مقام پر لکھا: ’مسلم لیگ کی ساری قوت محرکہ اس وقت مسلمان قوم کے ایسے طبقے کے ہاتھ میں ہے جو زندگی کے جملہ مسائل میں دینی کی بجائے دنیوی نقطہ نظر سے سوچنے اور کام کرنے والا ہے، اسلام کی بجائے مغربی اصول حیات کا معتقد اور مقلد ہے، دینی تعلق کی بجائے قومیت کے تعلق کی بنا پر مسلمانوں کی حمایت و وکالت کر رہا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں کہ یہ گروہ خود علانیہ اسلام کے اصول و احکام کی خلاف ورزی کرنے میں بیباک ہے، بلکہ اس کی راہنمائی و سربراہ کاری کی وجہ سے مسلمانوں میں بالعموم اسلام کے احکام کی خلاف ورزی اور اس خلاف ورزی میں بے باکی بڑھتی جا رہی ہے، ان کی دینی حس مردہ ہو رہی ہے اور ان پر دنیا پرستانہ ذہنیت چھا رہی ہے’۔

 

اکتوبر سنہ 1945ء میں مولانا نے اپنی جماعت کے ارکان کو انتخابات میں مسلم لیگ کو ووٹ ڈالنے سے منع کیا۔ حالانکہ ان انتخابات میں مسلم لیگ نے ’اسلام خطرے میں ہے‘ کا نعرہ بلند کیا تھا اور پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں اسے مذہبی شخصیات کی آشیر واد حاصل تھی۔

 

ترجمان القرآن میں ایک طویل مضمون بنام ’موجودہ انتخابات اور جماعت اسلامی‘ میں مودودی صاحب نے لکھا:’جنت الحمقاء میں رہنے والے لوگ اپنے خوابوں میں خواہ کتنے ہی سبز باغ دیکھ رہے ہوں، لیکن آزاد پاکستان (اگر فی الواقع وہ بنا بھی تو) لازماً جمہوری لادینی اسٹیٹ کے نظریے پر بنے گا جس میں غیر مسلم اسی طرح برابر شریک ہوں گے جس طرح مسلمان، اور پاکستان میں ان کی تعداد اتنی کم اور ان کی نمائندگی اتنی کمزور نہ ہو گی کہ شریعت اسلامی کو حکومت کا قانون اور قرآن کو اس جمہوری نظام کا دستور بنایا جائے‘۔

 

(جاری ہے)

 

کتابیات
تعبیر کی غلطی، مولانا وحیدالدین خان
تحریک آزادیء ہند اور مسلمان(حصہ اول و دوم)
مولانا مودودی اور میں، اسرار احمد
’قائد اعظم، نظریہ پاکستان اور اسلامی نظام: ابوالاعلی مودودی کی نظر میں‘، مولانا محمد اشفاق
روداد جماعت اسلامی
تحریک جماعت اسلامی : ایک تحقیقی مطالعہ، اسرار احمد
پاکستان کی سیاسی تاریخ: ترقی اور جمہوریت کو روکنے کے لئے اسلامی نظام کے نعرے، زاہد چوہدری
جماعت اسلامی کی انتخابی جدوجہد
منیر رپورٹ، ترجمہ بشکریہ ماہنامہ ’نیا زمانہ’
مودودی حقائق، محمد صادق قادری
پردہ، ابوالاعلی مودودی
محاصرے کا روزنامچہ، وجاہت مسعود
طلبہ تحریکیں، جلد اول، سلیم منصور خالد
میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا، صدیق سالک
مشاہدات، میاں طفیل محمد
پاکستان میں طلباء تحریک، پروفیسر عزیزالدین
جماعت اسلامی پر ایک نظر، شیخ محمد اقبال

Sayyid Abul A’ala Maududi & his thought,Masud ul Hasan
The Vanguard of Islamic Revolution, Vali Nasr
Mawdudi and Making of Islamic Revivalism, Vali Nasr
Magnificient Delusions, Husain Haqqani
Islam and the secular State. Abdulllah An’naim
The 1974ouster of the heretics: What really happened?
NADEEM F. PARACHA

Image: Khuda Bux Abro for Dawn.com

Categories
نقطۂ نظر

کیا جماعت اسلامی واقعی سب سے زیادہ جمہوری جماعت ہے؟

پلڈاٹ کا شمار ان غیر سرکاری اداروں میں ہوتاہے، جو وقتاًفوقتاً پاکستان میں جمہوریت کی حالتِ زار، انتخابات اور سیاسی صورتحال سے متعلق رپورٹیں شائع کرتا رہتا ہے۔ حال ہی میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں اندرونی جمہوریت کے حوالے سے پلڈاٹ نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کا پاکستانی ذرائع ابلاغ میں بڑا چرچا ہے۔ پلڈاٹ کی اس رپورٹ میں جماعت اسلامی کو پارٹی کی اندرونی جمہوریت کے حوالے سے پہلا نمبر ملا ہے۔ اس کے بعد بلوچستان کی نیشنل پارٹی کا نمبر آتاہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف تیسرے، پاکستان پیپلز پارٹی پانچویں، متحدہ قومی مومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام(ف) چھٹے اور حکمران مسلم لیگ (ن) جمہوریت کے حوالے سے ساتویں نمبر پر براجمان ہے۔ یوں جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ جمہوری اور مسلم لیگ (ن) کوسب سے زیادہ غیر جمہوری پارٹیوں کا درجہ ملاہے۔ اس رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد میڈیا، تجزیہ نگاروں اور عوام میں مسلسل یہ بحث جاری ہے کہ چونکہ سیاسی جماعتوں کی قیادت خود آمرانہ روش پر گامزن ہے تووہ ملک کو کس طرح جمہوری راہ پرڈال سکتی ہے؟ پلڈاٹ کے سربراہ نے اپنے تازہ ترین ٹی وی انٹرویو میں اس سروے کی تیاری کے حوالے سے بتایا کہ کسی سیاسی جماعت کے اندرونی جمہوریت کو جانچنے کے لئے مندرجہ ذیل اصولوں کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا۔

 

1۔ یہ کہ کون سے سیاسی جماعت کا دستور زیادہ سے زیادہ جمہوری اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے ۔
2۔ کون سے جماعت میں اندرونی انتخابات یعنی انٹراپارٹی الیکشن منعقد ہوتے ہیں ۔
3۔ کیا سیاسی جماعتوں میں کمیٹیاں موجود ہیں اور کیاوہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہی ہیں؟
4۔ سیاسی جماعت میں اقلیتوں اور خواتین کو کس تناسب سے نمائندگی ملتی ہے اور ان کا کردار کیا ہے؟

 

جمہوریت ماپنے کے جو اصول پلڈاٹ نے وضع کیے ہیں، جماعت اسلامی ان میں سے اکثر یت کی پیروی نہیں کرتی
میری رائے میں اس رپورٹ کی تیاری میں استعمال کیے گئے معیارات اور رپورٹ کے نتائج میں کافی سقم اور تضادات موجود ہیں۔ اگرچہ پاکستان کے سیاسی ماحول میں جمہوری روایات کا فقدان ہے اور سیاسی جماعتوں میں اس کی واضح جھلک نظر آتی ہے لیکن پلڈاٹ نے سیاسی جماعتوں میں اندرونی جمہوریت کو ناپنے کے لئے جو طریقہ کار وضع کیا اور اس کی بناء پر جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ جمہوری قراردیا ہے، وہ اپنی جگہ بحث طلب ہے۔ کیونکہ جمہوریت ماپنے کے جو اصول پلڈاٹ نے وضع کیے ہیں، جماعت اسلامی ان میں سے اکثر یت کی پیروی نہیں کرتی۔ پھر کس طرح اس جماعت کو اول درجہ ملاہے؟ قابلِ توجہ امریہ ہے،کہ کیا جماعت اسلامی ایک جمہوری طرز کی جماعت بھی ہے یا پھر چند ہزار افراد پر مشتمل ایک پریشر گروپ؟ اس مظہر کو سمجھنے کے لئے جماعت اسلامی کے دستور کے مطالعہ کی ضرورت ہے، کیونکہ کسی بھی سیاسی جماعت کا دستور وہ بنیادی دستاویز ہوتا ہے جو اس مخصوص جماعت کے سیاسی قبلہ کا تعین کرتا ہے۔

 

دستورِ جماعت اسلامی اشاعت دسمبر 2011ء شائع شدہ، شعبہ تنظیم جماعت اسلامی پاکستان منصورہ ،لاہور(پاکستان)۔

 

حصہ اول :
نام،نصب العین اور شرائط وفرائض رکنیت ۔

 

نصب العین :
دفعہ ۴: جماعت اسلامی پاکستان کا نصب العین اور اس تمام سعی وجہد کا مقصود عملاً اقامتِ دین(حکومت الٰہیہ یا اسلامی نظامِ زندگی کا قیام) اور حقیقتاً رضائے الہٰی اورفلاحِ اُخروی کا حصول ہو گا”۔

 

جمہوریت کا مطلب ایساطرزِ حکومت ہے جس میں عوام کی براہ راست شرکت ہو۔ جمہوری طرزِ حکومت کا تعلق رضائے الٰہی یا فلاحِ اُخروی سے نہیں بلکہ دنیاوی زندگی میں انسان کی فلاح وبہبود سے ہے جبکہ حصولِ رضائے الٰہی اور فلاحِ اُخروی کا انحصار عبادت وریاضت پر منحصر ہے۔ دستورِ جماعت اسلامی کے مطابق اس کا نصب العین عوامی فلاحی ریاست کا قیام نہیں البتہ مخصوص برانڈ کی مذہبی ریاست کا قیام ہے۔

 

شرائطِ رکنیت:

 

دستورِ جماعت اسلامی کے مطابق اس کا نصب العین عوامی فلاحی ریاست کا قیام نہیں البتہ مخصوص برانڈ کی مذہبی ریاست کا قیام ہے۔
دفعہ ۶: ہر عاقل وبالغ شخص (خواہ وہ عورت ہو یا مرد اورخواہ وہ کسی ذات برادری یا نسل سے تعلق رکھتاہو) اس جماعت کا رکن بن سکتاہے بشرطیکہ وہ:

 

1: جماعت کے عقیدے کو اس کی تشریح کے ساتھ سمجھ لینے کے بعد شہادت دے کہ یہی اس کا عقیدہ ہے۔
2: اس دستورکا مطالعہ کرنے کے بعد عہد کرے کہ وہ اس کے مطابق جماعت کے نظم کی پابندی کرے گا۔
3: فرائضِ شرعی کا پابند ہو اور کبائر سے اجتناب کرتاہو”۔

 

جماعت اسلامی کا عقیدہ تو رضائے الٰہی اورفلاحِ اُخروی کے حصول کی جدوجہد ہے، رضائے الٰہی اورفلاحِ اُخروی کا تصور اسلام کے تمام مکاتب فکر میں جُدا ہے نیز غیر مسلموں کے عقائد مسلمانوں سے یکسر مختلف اوراکثر صورتوں میں متضاد ہیں۔ ایسی حالت میں بالعموم اگر اسلام کے حوالے سے مختلف نقطہ نظر کے حامل فرقے کاکوئی فرد اوربالخصوص غیر مسلم جماعت اسلامی کی رکنیت حاصل کرنا چاہے تو کیا انہیں بھی اپنے عقائد کو خیر باد کہتے ہوئے جماعت اسلامی کے عقائد کو اختیارکرنا ہو گا؟ کوئی غیر مسلم جماعت اسلامی کا رکن بننا چاہے تو دستور میں ایسے لوگوں کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ اگر جماعت اپنے دروازے غیر مسلموں کے لئے بند رکھتی ہے تو پلڈاٹ کے حالیہ رپورٹ اسے سب سے زیادہ جمہوری جماعت قرار دینا قابل اعتراض ہے۔

 

فرائضِ رکنیت:

 

دفعہ ۸: داخلہ جماعت کے بعدجو تغیرات ہر رکن کو بتدریج اپنی زندگی میں کرنے ہوں گے وہ یہ ہیں:

 

1: دین کا کم ازکم اتناعلم حاصل کرلیناچاہئے کہ اسلام اور جاہلیت (غیر اسلام) کا فرق معلوم ہو اور حدود اللہ سے واقفیت ہوجائے”۔

 

کیا اس شرط کا اطلاق غیر مسلموں پر کیا جا سکتا ہے؟ اس شق کے مطابق اسلام (اور بہت سے مسلمانوں کے عقائد بھی) سے باہر کے سارے علوم وعقائد جاہلیت کے زمرے میں آتے ہیں۔ یعنی جماعت کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ ہندو، عیسائیت، بدھ مت، سکھ مت اور زرتشتی سب جاہلیت کے پیروکارہیں۔ پھر وہ “جہلا” کس طرح جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔ جبکہ پلڈاٹ کی رپورٹ میں ایک شرط اقلیتوں کی شمولیت بھی ہے۔

 

2: فساق وفجار اور اللہ سے غافل لوگوں سے موالات اور مودت کے تعلقات منقطع کرنا اور صالحین سے ربط قائم کرنا۔

 

اگر صالحین نہ ملے تو کیا جماعت کے کسی رکن کو ایسے معاشروں کو “دارلحرب” قرار دے کر ہجرت کرنی چاہئے یا پھر ایسے کافرانہ سماج کے خلاف جہاد کرکے اسے راہِ راست پر لانے کی ضرورت ہو گی
صالحین سے مرادشائد وہ لو گ ہیں جو “مودودیت” اور جماعت اسلامی کے افکار کو اپنے ایمان کا لازمی جز سمجھتے ہوں اور جنہیں جماعت صالحین کی سند عنایت کرے۔ اگر صالحین نہ ملے تو کیا جماعت کے کسی رکن کو ایسے معاشروں کو “دارلحرب” قرار دے کر ہجرت کرنی چاہئے یا پھر ایسے کافرانہ سماج کے خلاف جہاد کرکے اسے راہِ راست پر لانے کی ضرورت ہو گی جیسا کہ سابق امیر جماعت اسلامی جناب منور حسن صاحب جہاد اور قتال کی راہ اپنانے کا مشورہ دے چکے ہیں؟

 

حصہ دوم:
نظامِ جماعت کی نوعیت اور اس کے چلانے والوں کے اوصاف ۔

 

جماعت میں فرقِ مراتب کا معیار

 

دفعہ ۱۲: اس جماعت میں آدمی کے درجہ ومرتبہ کا تعین اس کے حسب ونسب، علمی اسناد اور مادی حالات کے لحاظ سے نہ ہوگا بلکہ اس تعلق کے لحاظ سے ہوگا جو وہ اللہ، اس کے رسول اور اس کے دین کے ساتھ رکھتا ہو اورجماعت کو اس کے اس تعلق کا ثبوت اس کی ان نفسی، جسمانی اور مادی قربانیوں سے ملے گا جو وہ اللہ کے دین کی راہ میں دیں گے”۔

 

یعنی کوئی شخص کتناہی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور لائق کیوں نہ ہو اگر وہ جماعت اسلامی کے تجویز کردہ اسلام کی پیروی کرنے سے معذور ہے تو ان کی قابلیت اور استعداد کسی کام کے نہیں ہوں گے۔ البتہ اس کی جگہ صوم وصلوٰہ کے پابند اَن پڑھ افراد کو آگے لایاجائے گا۔

 

جماعت اسلامی پر جمہوری جماعت کا لیبل اس کے امیر کے باقاعدہ انتخاب سے لگایا جاتا ہے جس میں جماعت کے ارکان براہ راست شرکت کرتے ہیں، یقیناً پاکستانی تناظر میں یہ ایک خوش آئند امر ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ بیس کروڑانسانوں کی آبادی میں صرف تیس ہزار افرادامیر جماعت کا انتخاب کرنے کے اہل ہیں۔ جماعت اسلامی اپنے دامن میں اگر “جمہور” کو جگہ دینے کے لئے ہی تیار نہیں پھر اسے جمہوریت میں اول نمبر پر آنے کا اعزاز کیوں دیا جا رہا ہے؟ ان حقائق کے پیش نظر پلڈاٹ جیسے معتبر ادارے کی جانب سے متعدد مرتبہ جماعت اسلامی کو پاکستان کے سیاسی جماعتوں میں سب سے زیادہ جمہوری قرار دینا میری فہم سے بالاتر ہے ۔
Categories
نقطۂ نظر

شدت پسندی سےلبرل ازم تک

چار نومبر 2015ء کو اسلام آباد میں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کے دوران وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ “عوام کا مستقبل جمہوری اور لبرل پاکستان میں ہے، پاکستان نے انتہا پسندی اور دہشت گردی پر قابو پانے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، قوم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم اپنے معاشرے کے کسی طبقے میں بھی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے کینسر کو پھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے”۔ کانفرنس کے چند روز بعد ہی کراچی میں دیوالی کے موقعے پر جو کچھ نوازشریف نے کہا وہ ناقابل یقین تھا۔ بقول نواز شریف “میں مسلمانوں کے علاوہ ہندووں، سکھوں، عیسائیوں اور پارسیوں کا بھی وزیراعظم ہوں۔ میں آپ کا ہوں، آپ میرے ہیں۔ مجھے ہولی پر بلائیں اورجب میں آوں تو مجھ پر رنگ ضرور پھینکیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ قوم میں اتحاد اور اتفاق پیدا کرنا میرا مشن ہے، تمام مذاہب کے لوگ ہم آہنگی کو فروغ دیں، ظالم کے خلاف آپ کے ساتھ کھڑاہوں گا”۔

 

وزیر اعظم کےان دو خطابات کوسمجھنے کے لیے پہلے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ لبرل کسے کہتے ہیں اور لبرل ازم کیا ہے۔ ایک بات ذھن میں رکھیے گا کہ پاکستان میں لبرل ازم کے حامیوں میں نہ تو صرف مذہب سے بیزار لوگ شامل ہیں اور نہ ہی مادر پدر آزادی کے حامی، کیونکہ یہ سب ایک ایسے معاشرئے میں رہتے ہیں جو مذہب کا بہت احترام کرتا ہے، اور سماجی اقدار کی اہمیت سے بھی آگاہ ہیں۔ ذیشان ہاشم اپنے مضمون “لبرل ازم کیا ہے؟” میں لکھتے ہیں کہ “لبرل ازم سیاسی، سماجی اور معاشی تصورات کا ایسا مجموعہ ہے جس کی بنیاد شخصی آزادی، انصاف اورمساوات پرقائم ہے، اس کا دائرہ کارمحض سیاست سماج اور معیشت تک ہی محدود ہے۔ لبرل ازم میں جمہوریت، شہری حقوق، آزادی اظہار رائےاورحق اجتماع کا ہونا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ لبرل ازم میں مذہبی آزادی ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے، ہر فرد کو آزادی حاصل ہے کہ وہ جس مذہب یا نظریہ کو اپنی عقل و بصیرت سے بہتر جانے، اس پر عمل کرے ۔ مذہبی آزادی کے بغیر لبرل ازم کی بنیادیں قائم نہیں رہ سکتیں، دوسرے ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ جو چاہے خریدے یا بیچے۔ جائیداد رکھنے کا ہر فرد کو حق حاصل ہے۔ ریاست انتظامی اخراجات کے لیے لوگوں سے ٹیکس وصول کر سکتی ہے مگر وہ اس کے خرچ میں جوابدہ ہے ۔ ٹیکس کا مصرف محض شہریوں کی فلاح و بہبود اور ملکی دفاع ہونا چاہیئے” ۔ ان تمام باتوں سے اتفاق رکھنے والے فرد کو لبرل کہا جاتا ہے۔

 

ہر ملک کا لبرل ازم اپنی تشریحات میں مختلف ہے مگر شخصی آزادی، انصاف، اور مساوات کی بنیادیں ہر جگہ مشترک ہیں۔ اس میں ہر عہد کے اعتبار سے ارتقا ہے۔
ذیشان ہاشم اپنے اسی مضمون میں مزید لکھتے ہیں کہ”لبرل ازم زمان و مکان کے بارے میں بہت حساس ہے۔ ہر ملک کا لبرل ازم اپنی تشریحات میں مختلف ہے مگر شخصی آزادی، انصاف، اور مساوات کی بنیادیں ہر جگہ مشترک ہیں۔ اس میں ہر عہد کے اعتبار سے ارتقا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ میں لبرل قوتیں ویلفیئر اسٹیٹ کی حامی ہیں تو یورپ میں لبرل قوتوں کا موقف یہ ہے کہ حکومت محض ادارہ جاتی انتظام قائم کرے، ہر شخص اپنی محنت اور ذہانت سے اپنے لیے ویلفیئر کا خود ہی بندوبست کرسکتا ہے۔ پاکستان میں بھی لبرل ازم یہاں کی تاریخ ثقافت اور شہریوں کی امنگوں کے مطابق ہی عملی و فکری بنیادوں پر قائم ہو سکتا ہے جن کی بنیاد ہر صورت میں شخصی آزادی، انصاف، اور مساوات پر قائم ہوگی”۔

 

وزیر اعظم کے بیانات شدت پسندوں کے لیے ہضم کرنا بہت مشکل تھا، لہٰذاوزیر اعظم کے چار نومبر کے بیان کے فوراً بعد جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے اسلامی جمعیت طلبہ کے ایک پروگرام میں کہا ہےکہ “قیام پاکستان کےوقت لاکھوں عوام نے لبرل نہیں اسلامی پاکستان کے لیے قربانیاں دی تھیں جو پاکستان کے اسلامی کردار کو ختم کرنا چاہتے ہیں وہ خود ختم ہو جائیں گے، وزیراعظم کو ملک کے آئین سے متصادم باتوں سے پرہیز کرنا چاہئیے، قائد اعظم اور علامہ اقبال دو قومی نظریے پر یقین رکھتے تھے، اگر وہ آج زندہ ہوتے تو یقیناً جمعیت میں ہوتے، اس کے ساتھ ہی اُنہوں نے کہا کہ جسے لبرل ازم کی چاہت ہے وہ امریکہ چلا جائے۔ اس سے پہلے سراج الحق لوگوں کو ممبئی جانے کا مشورہ بھی دے چکے ہیں جبکہ 2013ء کے انتخابات کے موقعہ پر سابق امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کراچی کے ایک جلسہ میں لبرلز کوملک سے چلے جانے کا کہہ چکے ہیں۔ دیوالی کے موقع پر وزیراعظم کی تقریر کے بعد جماعت اسلامی کے ڈاکٹرحسین احمد پراچہ نے ایک مضمون “نفاذ شریعت سے لبرل ازم تک” لکھا ہے جس میں امریکہ اور یورپ میں ہونے تمام برائیوں کا ذمہ دار “لبرل ازم” کو قرار دیا ہے۔ ان کا مضمون کسی بھی نقطہ نظر کو سمجھے بغیر اس پر تنقید کرنے کا سماجی رویہ ہے۔ ان کا مضمون اسی فرسودہ اور غیر عملی مذہبی سیاسی فکر کی تکرار ہے جو پاکستان کے پسماندگی کی ایک اہم وجہ ہے۔

 

جماعت اسلامی کے سابق امیرِ قاضی حسین احمد اور سیدمنور حسن اسامہ بن لادن جیسے عالمی دہشت گرد کی ‘شہادت’ کا ماتم کرتے ہیں۔ سید منور حسن حکیم اللہ محسود کی موت کےعظیم سانحہ پر نوحہ کناں رہتے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام اور لال مسجد کے شدت پسند مولانا عبدالعزیز لوگوں کے گلے کٹتے تو دیکھ سکتے ہیں لیکن اُن کو حقوق ملتے نہیں دیکھ سکتے۔ پاکستانیوں کی یہ بدقسمتی بھی ہے کہ وہ لوگ جو کل تک پاکستان کے مخالف تھے آج اپنے آپ کو پاکستان کا مالک سمجھ کر اپنے حقوق کی بات کرنے والے لبرل پاکستانیوں کو پاکستان سے چلے جانے کو کہہ رہے ہیں۔ یہ حضرات آج یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ اگر آج قائد اعظم اور علامہ اقبال زندہ ہوتے تو وہ جماعت اسلامی کی ‘دہشت گرد’ طلبہ تنظیم اسلامی جمیت طلبہ کے رکن ہوتے۔ دہشت گرد تنظیم “جند اللہ” کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ اس کے موجد اسلامی جمعیت طلبہ کے اراکین ہی ہیں، جماعت اسلامی کےامیرسراج الحق کو اپنی نظریاتی بنیادوں پر غور کرنے کے بعد قائد اعظم اور علامہ اقبال سے متعلق بات کرنی چاہیئے۔

 

2013ء کے انتخابات دراصل طالبان دہشت گردوں کی نگرانی میں ہوئے، جس میں طالبان مخالف کسی بھی لبرل جماعت کو آزادی سے انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیا گیا۔
پاکستان میں دہشت گردوں اور فسادیوں کو لانے کا سہراتو پاکستان کے آمر جنرل ضیاالحق کوجاتا ہے جس نے امریکہ کے ڈالروُں اور اپنی حکومت کو طویل کرنے کےلیےروس کے ساتھ افغانستان میں کرائے کی جنگ لڑی اور اس جنگ میں اُسے مذہبی بنیاد پرستوں کی حمایت حاصل تھی۔ آج جب پاکستان کی افواج اور عوام اس جنگ میں اپنی سرزمین کو بچانے کے لیے حرکت میں آئے تو یہ پاکستان کی افواج اور پاکستانی عوام کے خلاف دہشت گردوں کی حمایت پر ڈٹے رہے۔ افغانستان میں شدت پسند طالبانی حکومت بنوانے کا سہرا ہمارے عسکری اداروں کے سر ہے۔ یہ سانپ اِن کے ہی پالے ہوئے ہیں اور سانپ چونکہ کسی کے نہیں ہوتے اس لیے جب بینظیربھٹو کو ہوش آیا اور اُن کی شدت سے مخالفت کی تو 2007ء میں ان سانپوں نے بینظیر بھٹو کو ہی ڈس لیا۔ 2013ء کے انتخابات دراصل طالبان دہشت گردوں کی نگرانی میں ہوئے، جس میں طالبان مخالف کسی بھی لبرل جماعت کو آزادی سے انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیا گیا۔ طالبان مخالف پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پر انتخابی سرگرمیوں کے دوران دہشت گرد حملے کیے گئے جبکہ طالبان حامی پاکستان مسلم لیگ(ن)، پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے دونوں گروپوں نے بغیر کسی پریشانی اور خوف کے اپنی انتخابی مہم چلائی اور طالبان دہشت گردوں سے اپنے تعلقات کو چھپانے کی قطعی کوشش نہیں کی۔

 

کسی زمانے میں پاکستان میں نظریاتی سیاست کا رواج تھا، لیکن اب پاکستان میں نظریاتی اور اصولوں کی سیاست ختم ہوچکی ہے۔ اب صرف شدت پسندی، مفاد پرستی اور منافقت کی سیاست ہوتی ہے۔ ان حالات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے لبرل ازم کا نعرہ لگانا ایک انقلاب سے کم نہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) پاکستان کے قدامت پسند طبقات کی نمائندہ جماعت رہی ہے۔ نواز شریف کے حالیہ بیانات کے بعد ڈاکٹر پراچہ سمیت کافی لوگوں کو نواز شریف کا 25 اگست 1993ء کا وہ بیان یاد آیا ہو گا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ “اگر پاکستان کے عوام مسلم لیگ (ن) کو اپنے اعتماد سے نوازتے ہیں تو میں عہد کرتا ہوں کہ میں نفاذِ شریعت کے ذریعے پاکستان کی نظریاتی اساس کو مضبوط بناوں گا اور مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط سے مضبوط تر بناوں گا۔ مجھے ایک ایسا مینڈیٹ درکار ہے کہ میں اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ جاوں اور اپنے اس منشور کے مطابق تاریخی مشن پورا کر سکوں”۔ 1993ء میں نواز شریف کے پیرومرشد جنرل ضیاالحق کو اُن سے جدا ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزر ا تھا لہٰذا اُن کے جذبات نفاذ شریعت کے حق میں تھے۔ تب سیاسی مفاد کے تحت شریعت کا نعرہ لگایا اور اب شاید شدت پسندی کو کمزور پا کر 2018ء کے انتخابات جیتنے کے لیے لبرل ازم کا نعرہ بلندکیا ہے۔

 

لالٹین ڈاٹ کام کے اداریے کے مطابق “اگر وزیراعظم اپنے اس بیان میں سنجیدہ ہیں تو یقیناً مستقبل کا پاکستان قرارداد مقاصد کا پاکستان نہیں بلکہ محمد علی جناح کی 11 اگست 1947ء کی تقریر کے موافق پاکستان ہوگا جہاں شہریوں کو اپنی مذہبی یا علاقائی وابستگی کی بناء پر امتیازی سلوک، جبر، تشدد اور استحصال سے محفوظ بنایا جاسکے گا”۔ دنیا کی تاریخ میں بڑے بڑے انقلاب آ چکے ہیں شاید نواز شریف بھی ایک ایسا ہی انقلاب لے آئیں اور پاکستان کو شدت پسندی سے لبرل ازم کی طرف گامزن کردیں اور تاریخ میں اپنا نام امر کرجائیں۔ ایک بات طے ہے کہ نواز شریف کے لیے شدت پسندی سے لبرل ازم تک کا یہ سفر آسان نہ ہوگا۔ اگرنواز شریف نے محض 2018ء کے انتخابات جیتنے کےلیے لبرل ازم کا نعرہ بلند کیا ہے جیسے نوے کی دہائی میں انہوں نے نفاذِ شریعت کا نعرہ لگایا تھا تو یہ عوام کے ساتھ زیادتی ہو گی جو اپنے رہنماوں کے جھوٹے وعدے سننے کی عادی ہو چکی ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

انقلاب کے موسم میں

ملک آج کل پھر سیاسی ہلچل سے دوچار ہے، کہیں انقلاب کی آمد آمد ہے تو کہیں جمہوریت کو درپیش خطرات کا واویلا مچایا جا رہا ہے۔آزادی کے چھیاسٹھ سال بعد حکومت کو ایک نہیں بلکہ “دو دو مارچوں ” کا سامنا ہے اور حکومت کی برخاستگی کی نوید سنائی جارہی ہے۔ویسے تو حکومت کے خاتمے کی تاریخیں آنا پاکستان میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں، اور جب حکومت بھی میاں محمد نواز شریف کی ہوجو پہلے ہی دو بار اپنی منتخب شدہ جمہوری حکومت کا خاتمہ دیکھ چکے ہیں۔ یہ بات نہ تو پاکستان کے لئے نئی ہے اور نہ خود حکومت کے لے ۔
میاں صاحب کی تیسری حکومت جانے کی باتیں زبان زد عام ہیں اور حکومت اس شخص کی طرح بوکھلاہٹ کی شکار ہے جس کا گھر تیسری بار ٹوٹنے کو ہے اور وہ اپنے اس ٹوٹتے گھر کو بچانے کے لے پاپڑ بیل رہا ہے۔ آصف علی زرداری جن کو میاں شہباز شریف لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹنا اور بھاٹی چوک میں الٹا لٹکانے کے آرزو مند تھے وہ بھی ایک ایسی حکومت کو بچانے کے لئے میدان عمل میں اتر چکے ہیں جس کی “رخصتی “کی تاریخ “مبینہ” طور پر طے کی جاچکی ہے۔ ان کی خدمات شاید اس لئے حاصل کی گئی ہیں کہ وہ ایسی حکومت چلانے کے ماہر ہیں جو نہ تو خود چلنا چاہتی ہواور نہ بیان بازسیاستدان اس کو چلتے دیکھنا چاہتے ہوں۔ لہذا آصف زرداری فون پر فون گھما کر بڑے بھائی کی حکومت کو دوام بخش رہے ہیں ۔ اور “پہلے آپ کی باری پھر ہماری باری “والے وعدے کو پوری طرح نبھا رہے ہیں حالانکہ زرداری صاحب کے وعدے “قرآن یا حدیث ہرگز نہیں ہوتے”۔
عمران خان شاید دھاندلی پر خاموش ہی بیٹھے رہتے اور بات محض جلسوں سے آگے نہ بڑھ پاتی ، اگر نواز شریف اپنی حکومت گرانے کی بجائے اسے چلانے پر ذرا سا بھی دھیان دیتے ، مہنگائی کم کرنے کے لئے اقدامات کرتے اور لوڈشیڈنگ ختم نہیں تو کم ہی کرتے دکھائی دیتے۔
ان کے علاوہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق بھی “درمیانی راستہ “نکالنے کے لئے کوشاں ہیں گو کہ وہ خودبھی ملک میں انقلاب برپا کرناچاہتے ہیں اور ایک انقلابی ایجنڈے کا اعلان کرنے ہی والے تھے کہ “ناگزیر وجوہات” کی بناء پر ایجنڈے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ کہا گیا کہ جماعت کے رہنماؤں سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا لیکن ان کی اس پریس کانفرنس کے دوران پشت پر لگے فلیکس پر لکھا گیا “عوامی ایجنڈا “چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ ملک میں آتے دو انقلابوں سے نمٹنے کے لیئے “خصوصی درخواست” کے بعد ہی یہ ایجنڈا ملتوی کیا گیا، اور ایسا یقیناًبہترین “ملکی مفاد “کو مدنظر رکھ کر ہی کیا گیا جس کی جماعت اسلامی ہمیشہ سے” امین” رہی ہے۔ تب سے مختلف رہنماء سراج الحق صاحب سے بھی مسلسل رابطے میں ہیں حالانکہ اسی حکومت کے وزیر عابد شیر علی چند ماہ پہلے ہی سراج الحق کو دماغی مریض قرار دے چکے ہیں۔ اور سراج الحق بھی حکومت کے بھرپور ناقد رہے ہیں ، لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ حکومت چلنی چاہیے ، چاہے اس کے اقدامات سے عوا م کا” کچومر” ہی کیوں نہ نکل جائے۔ حکومتی پریشانی صرف آصف زرداری اور سراج الحق کی حالیہ دنوں میں سرگرمیوں سے ہی عیاں نہیں ہے بلکہ اضطراب کا یہ عالم ہے کہ پاکستان بھر میں جشن آ زادی کے لیئے الٹے پاکستانی پرچم لہرا دیئے گئے۔
عمران خان یا طاہر القادری حکومت گرانے میں سنجیدہ ہوں یا نہ ہوں نواز لیگ کی حکومت کی گھر جانے سے متعلق سنجیدگی پر کسی کو چنداں شک نہیں ہونا چاہیے کیوں کہمنتخب ہونے کے بعد سے اب تک نواز شریف حکومت نے کوئی ایسا موقع ہاتھ جانے ہی نہیں دیا۔ مسلم لیگ ن نے حکومت میں آنے سے پہلے عوام کو”سبز باغ “دکھائے اور حکومت میں آتے ہی “سبز جھنڈی” دکھا دی، اورکچھ آسرادینے کی بجائے مزید قربانی مانگ لی۔ پہلے ہی مہینے میں لوڈشیڈنگ پر فیصل آباد میں احتجاج کرنے والوں کے گھروں میں گھس گھس کر ایسا پیٹا گیا کہ اسی روز عوام کو اندازہ ہو گیا کہ” ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور” ہیں۔ حکومت کے غیر جمہوری رویہ اور پولیس کے ذریعہ سیاسی مسائل کے حل کا عمل صرف مظاہرین پر تشدد تک ہی محدود نہیں بلکہ اب یہ نوبت ماڈل ٹاؤن میں عوام پر پولیس کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں تک آ پہنچی۔
عمران خان شاید دھاندلی پر خاموش ہی بیٹھے رہتے اور بات محض جلسوں سے آگے نہ بڑھ پاتی ، اگر نواز شریف اپنی حکومت گرانے کی بجائے اسے چلانے پر ذرا سا بھی دھیان دیتے ، مہنگائی کم کرنے کے لئے اقدامات کرتے اور لوڈشیڈنگ ختم نہیں تو کم ہی کرتے دکھائی دیتے۔ کشکول بھلے توڑتے نہ ہی سہی مگر ملکی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ لے کر اپنی ناکام معاشی پالیسیوں کا برملا اعلان تو نہ کرتے ۔طالبان سے بے نتیجہ طویل مذاکرات ، فوج سے بلاوجہ کی چپقلش اور آپریشن متاثرین کی امداد میں ناکامی کے ذریعے قوت فیصلہ کے فقدان کا اعتراف کرنے سے اجتناب برتتے۔ ملکی مسائل سے نمٹنے کے لئے اخبارات میں محض اشتہار بازی سے بڑھ کر ہی کچھ کرتے۔ حکومت نے اپنی بھرپور کوششوں سے عمران خان کو مجبور کیا کہ وہ ہر جلسے میں اگلے جلسے کی تاریخ کا اعلان کرنے کی بجائے حکومت کے خاتمے کی تاریخ کا اعلان کریں۔
طاہر القادری اور عمران خان بھی شاید حکومت گرانے کے اعلانات پر نظر ثانی کرتے اور کسی درمیانی راستے پر آسانی سے مان جاتے اگر حکومت کی جانب سے ان کے احتجاج سے نمٹنے کے لیئے دو ہفتوں پر محیط جشن آزادی کی تقریبات ، عین لانگ مارچ کے دن اسی مقام پر فوجی پریڈ کے انعقاد اور دارلحکومت میں آئین کی دفعہ دوسوپینتالیس کے ذریعے فوج کو تعینات کرنے سے گریز کیا جاتا۔ گویا اقتدار کی کرسی پر تیسری بار براجمان میاں محمد نوازشریف حکومت چلانا نہیں سیکھ سکے مگر اپنی حکوت گرانا خوب سیکھ چکے ہیں اور ان کی کوششیں محض ایک سال بعد ہی رنگ لاتی دکھائی دے رہی ہیں ،اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اور علامہ طاہر القادری کی حکومت کے خاتمہ کی کوششوں کو پس پردہ خاکی وردی والوں کی تائید حاصل ہوتی ہے یا نہیں اور جمہوری قوتیں جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کو ناکام بنانے میں کس حد تک کامیاب ہو پاتی ہیں۔