Categories
نقطۂ نظر

Paris Attacks: In Defense of Secularist Principles

Months after the Charlie Hebdo incident, ISIS is using fear to polarise communities in the West, to mirror its own twisted vision of ideological purity, where like medieval times, your faith is your uniform on the battlefield.

In the Hollywood film ‘The Dark Knight, the character of the Joker poignantly tells Batman that human society will always be prey to its base, survivalist instincts, where the notion of humanity is nothing more than a punch line. In that legendary interrogation scene he says, “their morals and code, it’s a bad joke, dropped at the first sign of trouble. They are only as good as the world allows them to be. When the chips are down, these civilized people will eat each other.”

These words now come rushing back when I think of Paris, and the ensuing fear and confusion that has gripped citizens across Europe. Similar to the Joker’s antics, the dastardly attack by ISIS is a challenge to the world’s faith in the motto of ‘Liberty, Equality and Fraternity’. As we now know that homegrown extremists carried out these acts of terror, the rise of right-wing political groups across Europe who denounce the ethos of multiculturalism seems to be the endgame of the terror group. Months after the Charlie Hebdo incident, ISIS is using fear to polarise communities in the West, to mirror its own twisted vision of ideological purity, where like medieval times, your faith is your uniform on the battlefield.

As we now know that homegrown extremists carried out these acts of terror, the rise of right-wing political groups across Europe who denounce the ethos of multiculturalism seems to be the endgame of the terror group.

The Paris attacks have also cast a political lens over the refugee crisis, where thousands of people fleeing ISIS in Iraq and Syria are desperately trying to find shelter in Europe. The leaders of France’s Front National, Britain’s UK Independence Party, Poland’s Law and Justice and Hungary’s Fidesz party have all declared that the refugees pose a significant security risk to Europe, while also claiming that ‘Islamisation’ has placed European values under threat. This is clearly what ISIS wants – to replicate the racial profiling and string of ‘revenge attacks’ on Muslim groups in the United States post 9/11.

Europe rests on a knife’s edge, and now is the time for its governments to aggressively defend the secularism enshrined in their constitutions to counter the increasingly toxic narrative of the right wing. The French government’s decision to re-open schools and universities across Paris, and a national appeal for unity and political cooperation is an open defiance of ISIS, as it sends the right message to people across the world. At the same time, European governments can no longer afford to tiptoe around the menace of homegrown terror. They cannot avoid tackling the problem head on for the sake of political correctness. The fallout of this attitude has been that the extreme right is dominating the debate, and their narratives are emboldened by ISIS and other terror groups. De-legitimising the right wing’s control over the terror debate and defending secularist principles is a tough job, but Europe is the champion of multiculturalism and its liberal leaders must demonstrate that they are up to the challenge.

Europe rests on a knife’s edge, and now is the time for its governments to aggressively defend the secularism enshrined in their constitutions to counter the increasingly toxic narrative of the right wing.

This is the time where everyone from a Prime Minister to a local community leader needs to embolden a traumatized citizenry to hold fast to the ideals that make them free and fearless. In these times, I remember the famous words of CBS news legend and civil rights crusader Edward Murrow appealing to the human condition when in turmoil, something I feel should resonate across the world – “We will not walk in fear one of another. We will not be driven by fear into an age of unreason if we dig deep in our history and our doctrine, and remember we are not descended from fearful men. Not from men who feared to write, to associate, to speak and to defend.”

Categories
اداریہ

ایک لبرل اور جمہوری پاکستان – اداریہ

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے ہندو برادری کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر ان پر ظلم ہوتا ہے اور ظالم مسلمان ہے تو وہ ہندو برادری کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ دیوالی وہ دوسرا موقع ہے جب وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان کو مساوات، برداشت اور رواداری پر مبنی ایک لبرل اور جمہوری پاکستان بنانے کا اعادہ کیا ہے۔ دیوالی کے موقع پر کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے تمام شہریوں کو مساوی حقوق کا حامل قرار دیا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق کراچی میں دیوالی کی ایک تقریب میں انہوں نے خود کو تمام پاکستانیوں کا وزیراعظم کہا ہے، انہون نے کہا کہ وزیر اعظم کی حیثیت سے میرا فرض ہے کہ ہر ایک کی مدد کروں۔ ہندو برادری سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ قوم میں اتحاد اور اتفاق پیدا کرنا میرا مشن ہے، تمام مذاہب کے لوگ ہم آہنگی کو فروغ دیں، ظالم کے خلاف آپ کے ساتھ کھڑاہوں گا۔ اس سے قبل 4 نومبر کو اسلام آباد میں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے پاکستان کا مستقبل ایک لبرل اور جمہوری مملکت سے وابستہ قرار دیا تھا۔ پاکستان کے قدامت پسند طبقات کی نمائندہ جماعت مسلم لیگ نواز کے سربراہ اور پاضی میں پاکستان میں شریعت آرڈیننس کے نفاذ کی کوشش کرنے والے نواز شریف کی جانب سے پاکستان کو ایک لبرل اور جمہوری ملک بنانے کا عزم ایک ایسی خوش آئند تبدیلی ہے جو جمہوری نظام کے تسلسل کا نتیجہ ہے۔ میاں نواز شریف کا یہ اعلان پاکستانی قوم کے لیے ایک ایسے آغاز کی نوید ہو سکتا ہے جو اس مملکت کو ہر مسلک، عقیدے اور قومیت سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے رہنے کے قابل جگہ بنا سکتا ہے۔ اگر وزیراعظم اپنے اس بیان میں سنجیدہ ہیں تو یقیناً مستقبل اک پاکستان قرارداد مقاصد کا پاکستان نہیں بلکہ جناح کی 11 اگست کی تقریر کے موافق پاکستان ہو گا جہاں شہریوں کو اپنی مذہبی یا علاقائی وابستگی کی بناء پر امتیازی سلوک، جبر، تشدد اور استحصال سے محفوظ بنایا جاسکے گا۔ یہ اعلان خوش آئند ہے اور پاکستان کے لیے درست سمت کی جانب سفر کا اشارہ ہے۔

اگر وزیراعظم اپنے اس بیان میں سنجیدہ ہیں تو یقیناً مستقبل اک پاکستان قرارداد مقاصد کا پاکستان نہیں بلکہ جناح کی 11 اگست کی تقریر کے موافق پاکستان ہو گا جہاں شہریوں کو اپنی مذہبی یا علاقائی وابستگی کی بناء پر امتیازی سلوک، جبر، تشدد اور استحصال سے محفوظ بنایا جاسکے گا۔
لیکن محترم وزیراعظم!
کیا اپ ان بلوچوں کے وزیراعظم بھی ثابت ہوں گے جو ریاستی اداروں کے جبر کا شکار ہیں؟ جن کے وسائل کو ایک قابض استعماری قوت کی طرح صرف کیا جارہا ہے اور جہاں کے لوگ اپنی ہی سرزمین پر جبری گمشدگان کی فہرستوں میں اندراج سے خوفزدہ ہیں، مسخ شدہ لاشوں کی شناخت میں مصروف ہیں اور عقوبت خانوں کے اندھے شکموں کی بھوک مٹانے کے لیے کسی بھی وقت اٹھائے جا سکتے ہیں؟

محترم وزیراعظم!
کیا آپ ان احمدیوں کے وزیراعظم بھی ثابت ہوں گے جو اپنے تشخص، بقاء اور حقوق کی خاموش جنگ لڑ رہے ہیں؟ کیا مستقبل کے لبرل اور جمہوری پاکستان میں احمدیوں کو عمومی انتخابی فہرستوں میں شامل کیا جائے گا جن میں گزشتہ انتخابات کے دوران انہیں خارج کر دیا گیا تھا؟ کیا آپ ریاست سے مسلم یا غیر مسلم قرار دینے کا “خدائی” اختیار واپس لے کر خدا کو سونپ سکیں گے اور یہ ضمانت دے سکیں گے کہ ایک احمدی بھی اتنا ہی پاکستانی ہے جتنا ایک غیر احمدی؟

محترم وزیراعظم!
کیا آپ مستقبل میں ان غیر مسلم اقلیتوں کے لیے تحفظ، سلامتی، تعلیم، روزگار اور صحت کی ضمانت دے سکیں گے جو درس گاہوں، گزرگاہوں اور سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں اچھوت قرار دیئے جا چکے ہیں۔ کیا آپ غیر مسلم اقلیتوں کے لیے اپنے نمائندوں کے براہ راست انتخاب کا حق دلانے کے لیے آواز اٹھا سکیں گے؟ کیا آپ توہین رسالت اور توہین مذہب کے قوانین کا شکار ہونے والے افراد کے لیے بھی جمہوری اور لبرل پاکستان میں کوئی جگہ فراہم کر سکیں گے جہاں انہیں کسی مجمعے کے ہاتھوں قتل کیے جانے یا جلا دیئے جانے کا خوف نہیں ہو گا؟

کیا آپ بتا سکیں گے کہ آزادی اظہار رائے پر عائد قدغنوں کے ہوتے ہوئے ایک لبرل اور جمہوری پاکستان کا اعلان کیا معنی رکھتا ہے؟
محترم وزیراعظم!
آپ کو ان خواتین اور خواجہ سراوں کا وزیراعظم بھی بننا پڑے گا جو ایک قدامت پسند معاشرے کی پدرسری اقدار کے باعث امتیازی سلوک اور جنسی جرائم کا شکار ہیں۔ آپ کو ان مزارعوں، ہاریوں اور مزدوروں کے لیے معاشی انصاف کا وعدہ بھی کرنا ہوگا جو معاشی ناانصافی کا شکار ہیں۔ جن کی فصلیں اپنی لاگت پوری کیے بغیر گل سڑ جاتی ہیں۔ آپ کو ان صحافیوں، فنکاروں، مورخین، ادیبوں اور بلاگروں کے تحفظ کا بھی بندوسبست کرنا ہوگا جو اپنے ضمیر کی بجائے ریاستی اداروں اور سماجی جبر کے سامنے جوابدہ بنا دیئے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کے ان کارکنوں، قوم پرست سیاستدانوں اور دانشوروں کی زندگیاں اندھی گولیوں اور جبری گمشدگیوں سے بچانے کے لیے کیا تجاویز آپ کے پاس ہیں؟

محترم وزیراعظم!
کیا آپ بتا سکیں گے کہ آزادی اظہار رائے پر عائد قدغنوں کے ہوتے ہوئے ایک لبرل اور جمہوری پاکستان کا اعلان کیا معنی رکھتا ہے؟ اقلیتوں اور عورتوں کے لیے امتیازی قوانین کی موجودگی میں مساوی حقوق کیسے یقینی بنائے جا سکیں گے؟ بنیاد پرست، نفرت آمیز اور قدامت پسند نصاب کے ہوتے ہوئے ایک آزاد خیال پاکستان کا خواب کس قدر ناممکن ہے؟ معاشی ناانصافی پر مبنی اقتصادی نظام کی اصلاح کے بغیر تمام طبقات کے لیے یکساں ترقی کے مواقع فراہم کرنا کیسے ممکن ہے؟ عسکری اداروں کی بالادستی اور سول معاملات میں مداخلت کا تدارک کیسے ممکن بنایا جائے گا؟

محترم وزیراعظم!
تمام پاکستان کے لیے مساوی مواقع کا حامل لبرل اور جمہوری پاکستان تبھی ممکن ہے جب امتیازی قوانین کا خاتمہ کیا جائے، تمام شہریوں کو تعلیم، صحت اور روزگار کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں، بنیادی شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کو ریاستی تحفظ فراہم کیا جائے اور آئین کی بالادستی یقینی بنائی جائے۔ ایک لبرل اور جمہوری پاکستان کے لیے پہلا قدم اٹھائے جانے کے ہم سب منتظر ہیں اور اب آپ کے اس سعد ارادے کو حقیقت میں بدلتے دیکھنے کے خواہاں بھی۔