Categories
نقطۂ نظر

اپنے ہندوستانی ہمسائے کے نام شرمندگی کے ساتھ لکھا ایک خط

ہندوستانی ہمسائے کے نام مزید خطوط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

دیکھو۔۔۔۔۔

 

میں نہیں جانتا کہ کیا کہوں اور بات کیسے شروع کروں۔ جانتا ہوں اس وقت تم خفا ہو گے، غصے میں بھی ہوگے اور شاید اب ہم اس برس بھی کرکٹ نہ کھیل سکیں۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا لکھوں۔ ٹی وی دیکھنے کی بھی ہمت نہیں پڑ رہی، صبح جیسے ہی پٹھان کوٹ پر حملے کی خبر سنی یقین جانو پہلی دعا یہی نکلی “یا اللہ یہ پاکستانی نہ ہوں”۔ دل ایک دم بے چین ہو گیا کہ ابھی سشما سوراج جی اور پھرمودی صاحب ہو کر گئے تھے اور ابھی پھر۔۔۔۔۔ ابھی تو ممبئی والا معاملہ ہی کسی کروٹ نہیں بیٹھا تھا۔ یہ بھی نہیں دیکھ پایا کہ کتنے ہلاک ہوئے کتنے زخمی ہوئے، کس تنظیم سے تھے شام تک پتہ چلا کہ شاید ہماری طرف سے ہی تھے۔ یوں لگا جیسے کوئی اپنا یا شاید میں خود مر گیا ہوں یا میری روح کا کم از کم کوئی ایک حصہ ایک بار پھر مر گیا ہے جو میرے اور تمہارے مشترکہ اجداد کا وارث تھا۔ تب سے بس منہ لپیٹے پڑا ہوں۔ تاریخ کا ایک بوجھ ہے جس کے تلے میں دبا ہوا ہوں۔

 

یوں لگا جیسے کوئی اپنا یا شاید میں خود مر گیا ہوں یا میری روح کا کم از کم کوئی ایک حصہ ایک بار پھر مر گیا ہے جو میرے اور تمہارے مشترکہ اجداد کا وارث تھا۔
ہم سب کو احساس ہے کہ ہم نے تمہارے ساتھ اچھا نہیں کیا، تمہارے لیے دل میں بغض رکھے، تمہیں زک پہنچائی، تمہیں نڈھال کرنے کو کرائے کے قاتل تک تیار کیے۔ غلطیاں تمہاری طرف سے بھی ہوئیں، ہم دونوں نے ایک دوسرے کے گلے کاٹے ہیں اور ایک دوسے کو تباہ کرنے کے جتن کیے ہیں، اپنے اپنے خداوں سے ایک دوسرے کی بربادی مانگی ہے، ایک دوسرے کے خلاف شب خون مارے ہیں، مورچے کھودے ہیں، فوجیں کھڑی کی ہیں۔ میزائلوں کے انبار لگائے ہیں، جوہری ہتھیار بنا کر دھمکایا ہے اور سب سے بڑھ کر ایک دوسرے سے نفرت کی ہے۔ لیکن میں اپنی غلطیاں ماننے میں اوران پر شرمندہ ہونے میں پہل کرنا چاہتا ہوں، اللہ مجھے توفیق دے کہ کبھی نہ کبھی ان پر معافی مانگنے میں بھی پہل کر سکوں۔ کیوں کہ کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی کو پہل کرنی پڑے گی۔ یہ بحث فضول ہے کہ تمہارا زیادہ نقصان ہوا یا ہمار، کون جیتا کون ہارا، کس نے پہل کی۔۔۔ نقصان انسانوں کا ہوا، ہار انسانیت کی ہوئی اور پہل بھی انسانیت کو ہی کرنا پڑے گی۔

 

مودی جی آئے، بے حد اچھا لگا، واجپائی صاحب کی آمد کی یاد تازہ ہوئی، لگا کہ امن کا ایک اور اعلامیہ متوقع ہے ، کہیں نہ کہیں اعلان لاہور یا چناب فارمولے کی گرد جھاڑی جا رہی ہو گی اور پرانی فائلوں پر نئے کور چڑھائے جا رہے ہوں گے، مگر۔۔۔۔۔ تب کارگل ہو گیا، پھر ممبئی ہو گیا اور اب پٹھان کوٹ۔ سمجھ نہیں آتا کہ کس غلطی کا اعتراف پہلے کروں اور کس کی صفائی دوں۔ کشمیر پر حملہ آور جتھوں کی بات کروں، ان بے نام سپاہیوں کی جو 65 کی جنگ سے پہلے بھیجے گئے لیکن جن کے نام کسی سرکاری فائل میں درج نہیں کیے گئے۔ چلو رن آف کچھ پر کوئی حیلہ ڈھونڈ نکالوں گا مگر کارگل۔۔۔۔ کارگل پر کیا کہوں؟ ان سب پر کن الفاظ میں تم سے ندامت کا اظہار کروں جنہیں یہاں سے تم سے نفرت کا نصاب پڑھا کر تمہارے خلاف بارود اگلنے کو بھیجا تھا؟ جن کے لیے چندے مانگے، کیمپ بنائے اور جنہیں روکنے کو تمہیں خاردار تاریں لگانا پڑیں؟

 

مودی جی آئے، بے حد اچھا لگا، واجپائی صاحب کی آمد کی یاد تازہ ہوئی، لگا کہ امن کا ایک اور اعلامیہ متوقع ہے ، کہیں نہ کہیں اعلان لاہور یا چناب فارمولے کی گرد جھاڑی جا رہی ہو گی اور پرانی فائلوں پر نئے کور چڑھائے جا رہے ہوں گے، مگر۔۔۔۔۔ تب کارگل ہو گیا، پھر ممبئی ہو گیا اور اب پٹھان کوٹ۔
ہو سکتا ہے کہ میں کہوں کہ چھوڑو یار جو ہوا سو ہوا تم نے بھی تو مشرقی پاکستان اور پھر کراچی اور پھر بلوچستان اور۔۔۔۔۔۔لیکن یقین جانو یہ بات کہتے ہوئے کئی بار مجھے خود سے نفرت ہوئی ہے کہ میں کتنی کم زور دلیلوں کی بنیاد پر تم سے نفرت کرتا رہا ہوں اور اس نفرت کی بناء پر جنون اور پاگل پن میں کتنے لوگوں کے خون سے ہاتھ رنگتا رہا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ جو غلطیاں تم سے ہوئیں تم ان کے بارے میں کیا سوچتے ہو۔ ہو سکتا ہے تم نے بھی کوئی جواز گھڑ رکھا ہو اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کا، لیکن یاد رکھو غلطی کا جواز غلطی کو صحیح ثابت نہیں کر سکتا۔ مجھے پتہ ہے کہ اپنے کیے پر تمہیں بھی کوئی فخر نہیں ہو گا، آخر کوئی کیسے کسی سے نفرت کرنے، دشمنی بڑھانے اور پیٹھ میں چھرا گھونپنے پر فخر کر سکتا ہے؟ ہو سکتا ہے اپنی غلطیوں کے جواب میں یہ کہوں کہ تم نے دس لاکھ سے زائد کشمیری مار دیئے کیا ہم چپ کر کے بیٹھ جاتے؟ پھر سوچتا ہوں کہ کل کلاں کو جب بلوچ ور افغان مجھ سے پوچھیں گے کہ ہمیں مارنے والا اور جنگ میں دھکیلنے والا کون تھا تو کیا کہوں گا؟

 

ہو سکتا ہے کہ میں اس بیساکھی کا سہارا لوں کہ یار ماضی کی بات ہے، ہم نے تو مشرف دور میں پابندی لگا دی ان سب جماعتوں پر نہ ممبئی ہم نے کرایا اور نہ پٹھانکوٹ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن میرا ضمیر مجھے ملامت کرے گا کہ ٹھیک ہے میں، میرے ریاستی ادارے، میری حکومت اس سب میں اب ملوث نہیں لیکن کیا میں نے اس سب کو ہونے سے روکنے کے لیے خاطر خواہ کوشش کی؟ وہ جو ہمارے اثاثے تھے کیا انہیں تلف کرنے کے لیے کوئی پیش بندی کی؟ تم سے جھوٹ بول لوں گا، عالمی اداروں کو فریب دے لوں گا لیکن میرا ضمیر تو کبھی معاف نہیں کر سکتا کہ میں نے ان حافظ سعیدوں، لکھویوں، زید حامدوں، جیشوں،لشکروں کو اپنے سامنے دندناتے، تقریریں کرتے، بھرتیاں کرتے، چندے مانگتے اور کھالیں اکٹھے کرتے دیکھا ہے لیکن کچھ نہیں کیا۔ یقین جانو ہم نے سبق سیکھ لیا ہے اور اب کسی جگہ دہشت گردی برآمد کرنے میں ہمارا کوئی ہاتھ نہیں لیکن کیا کروں کہ ہر بار اس دعوے کے جواب میں ہر دہشت گرد کا کھرا ہماری زمین تک آتا ہے۔ میں شرمندہ ہوں کہ ہم بہت کچھ نہیں کر پائے، اپنے لیے، ایک دوسرے کے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے۔

 

وہ وقت آ گیا ہے کہ اب ہم دونوں یہ سمجھ لیں کہ ایک دوسرے کی غلطیوں کے جواب میں مزید غلطیاں، نفرت کے جواب میں مزید نفرت، حملے کے جواب میں حملہ، سیاچن کے جواب میں کارگل، 65 کے جواب میں 71، کشمیر کے بدلے بلوچستان۔۔۔۔۔ یہ سب کہیں نہیں رکے گا اور اس سب کو کہیں نہ کہیں روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان چند شرپسندوں، ان مٹھی بھر شدت پسندوں، ان جنگجووں، ان بندوق برداروں، آتنک وادیوں اور فوجیوں کی بجائے دونوں طرف بسنے والے انسانوں کو دیکھیں۔

 

ہو سکتا ہے کہ میں کہوں کہ چھوڑو یار جو ہوا سو ہوا تم نے بھی تو مشرقی پاکستان اور پھر کراچی اور پھر بلوچستان اور۔۔۔۔۔۔لیکن یقین جانو یہ بات کہتے ہوئے کئی بار مجھے خود سے نفرت ہوئی ہے کہ میں کتنی کم زور دلیلوں کی بنیاد پر تم سے نفرت کرتا رہا ہوں اور اس نفرت کی بناء پر جنون اور پاگل پن میں کتنے لوگوں کے خون سے ہاتھ رنگتا رہا ہوں۔
مجھے ڈر ہے کہ اب پتہ نہیں کیا ہو گا۔ مذاکرات ہوں گے یا نہیں ہوں گے؟ کون کس پر انگلی اٹھائے گا اور کون کس کو ذمہ دار قرار دے گا۔ مجھے ڈر ہے کہ اب پھر سے ہم اپنے اپنے میزائلوں سمیت سرحدوں پر مورچے نہ باندھ لیں، مجھے خوف ہے کہ ایک بار پھر دونوں جانب کے انتہا پسند مرنے مارنے کے لیے اکسانا نہ شروع کر دیں، مجھے واقعی اس بات کی تشویش ہے کہ کہیں پھر سے ہم وہیں نہ پہنچ جائیں جہاں سے ہم چلے تھے۔ مجھے اب جنگ سے بھی زیادہ اس بے یقینی سے ڈر لگتا ہے، مجھے اب ان سب آستینیں چڑھائے، چنگھاڑتے اور جنگ کے لیے ذہن سازی کرتے اینکروں، کالم نگاروں اور تجزیہ نگاروں سے گھن آنے لگی ہے جو ہر بار ایسے موقعوں کے لیے اپنی زبانیں زہر میں بجھائے رکھتے ہیں۔

 

آو ۔۔۔۔۔۔وہ جو ہمیں امن قائم کرنے کی بجائے جنگ کی راہ دکھانا چاہتے ہیں، ویزے میں نرمی کی بجائے سرحدوں کے آر پار بارودی سرنگیں بچھانا چاہتے ہیں، فلموں کی نمائش کی بجائے فنکاروں پر سیاہی انڈیلنا چاہتے ہیں، مذاکرات کی بجائے جھڑپیں چاہتے ہیں۔۔۔۔ انہیں نظرانداز کریں۔ آو یہ تسلیم کریں کہ ہمارا دشمن مشترکہ ہے وہ جو تمہیں مارنا چاہتا ہے اسی کی بندوق میری جانب بھی ہے، وہ جو تمہا مجرم ہے اس کی فرد جرم میں میرا قتل بھی درج ہے۔۔۔۔۔۔۔آو گاندھی جی کی بات سنیں جو کہتے تھے کہ آنکھ کے بدلے آنکھ کا قانون پوری دنیا کو اندھا کر دے گا، آو جناح کی بات سنیں جو کہتے تھے کہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین ایسے تعلقات ہونے چاہیئں جیسے امریکہ اور کینیڈا کے مابین ہیں، آو واجپائی کی بات سنیں جو کہتے تھے کہ جنگ نہ ہونے دیں گے، آو نواز شریف کی بات سنیں جو دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہتا ہے۔ ہمیں ملالہ اور کیلاش ستیارتھی سے سیکھنا ہے کہ ہمارا مستقبل بچوں سے وابستہ ہے، لیکن بدقسمتی سے ہم انہیں ایک دوسرے سے نفرت کا سبق دے رہے ہیں۔ کیا ایسے میں امن ممکن ہے؟؟؟ اس کا جواب دیتے ہوئے میں خود بھی پریشان ہوں۔

 

فقط
تمہارا پاکستانی ہمسایہ
Categories
نقطۂ نظر

کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے

پیرس میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام بین الاقوامی کانفرنس میں 195 ممالک شریک ہیں۔ تقریباً 145 ممالک کے سربراہان، اہم حکومتی عہدیدار اور سیاسی شخصیات اس وقت پیرس میں ماحولیاتی تبدیلی کی روک تھام کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش میں ہیں۔ کانفرنس میں پاک بھارت تعلقات کے لیے سازگار ماحول بنانے کی ایک کوشش اس وقت سامنے آئی جب بھارتی وزیراعظم نے وقفے کے دوران وزیراعظم پاکستان نوازشریف سے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو نوازشریف نے بھی گرم جوشی سے اس کا جواب دیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان دو منٹ تک مختصر گفت وشنید بھی سرگوشیوں میں ہوئی۔ یہ غیر رسمی، بے تکلفانہ کے ماحول میں مختصر ملاقات پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے لیے سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے۔ اوفا میں شریف، مودی ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ کے مطابق مذاکرات بھارت نے کشمیری قائدین سے ملاقات کا بہانہ بنا کر ملتوی کردیئے تھے۔ مودی کی پاکستان کے بارے میں سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے تعلقات کافی کشیدہ ہوگئے تھے۔ اس ملاقات کو سفارتی حلقوں نے بہت مثبت قرار دیا ہے مگر یہ سوال اہم ہے کہ کیا اس ملاقات سے سردمہری کی یہ برف پگھل جائے گی؟

 

انیس سو پچاسی میں پاکستان کے ساتھ بھارت کے تعلقات بہت خراب ہوگئے تو صدر ضیاء الحق نے مالدیپ سے واپس آتے ہوئے بھارت کا دورہ کیا جو صورتحال کو اعتدال پر لانے میں دوررس نتائج کا حامل ثابت ہوا۔
پاک بھارت تعلقات ہمیشہ سے غیر یقینی کا شکار رہے ہیں۔ ان تعلقات کی تشکیل اور اتار چڑھاؤ میں کئی مثبت اور منفی عوامل کا عمل دخل رہا ہے۔ پاک بھارت تعلقات کی تاریخ دراصل باہمی اعتماد اور ہم آہنگی کے فقدان کی داستان ہے۔ آزادی کے بعد سے اب تک پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر، سیاچن اور سرکریک پر تنازعات اور دریاؤں کے پانی کی تقسیم جیسے اہم مسائل پیدا ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ دہشت گردی اور دونوں ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت جیسے الزامات بھی دونوں فریق ایک دوسرے پر لگاتے ہیں۔

 

بھارت ممبئی حملے، سکھ تخریب کاروں کی مبینہ امداد جیسے الزامات مختلف فورمز پر دہراتا ہے، جبکہ پاکستان بلوچستان میں مداخلت،کراچی میں بدامنی اورپاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت جیسے الزامات بھارت پر لگاتا ہے۔ پاک بھارت معاملات کو بہتر بنانے کے لیے بہت سی کاوشیں کی گئی ہیں۔ 1960-1961 میں برطانیہ اور امریکہ نے عالمی بنک کے تعاون سے دریاؤں کی تقسیم کا معاہدہ کروایا، معاہدے کے تحت چھ دریاؤں میں سے تین دریا راوی، ستلج، بیاس بھارت کے حوالے کر دیئے گئے۔ ستمبر 1965 میں تاشقند کے مقام پر پاکستانی صدر ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات ہوئے۔ اس وقت کے پاکستانی وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کی مخالفت کے باوجود 4 جنوری 1966 کو تاشقند میں معاہدہ ہوا۔ مگر چار سال بعد ہی تعلقات دوبارہ کشیدہ ہوگئے اور 1971 میں جنگ کی وجہ سے پاکستان دولخت ہوگیا۔ 1985 میں پاکستان کے ساتھ بھارت کے تعلقات بہت خراب ہوگئے تو صدر ضیاءالحق نے مالدیپ سے واپس آتے ہوئے بھارت کا دورہ کیا جو صورتحال کو اعتدال پر لانے میں دوررس نتائج کا حامل ثابت ہوا۔ نوازشریف کے سابقہ دورحکومت میں سابق بھارتی وزیراعظم واجپائی کے ساتھ مذاکرات اور تصفیہ طلب مسائل پر تفصیلی بات چیت ہوئی تھی لیکن اعلان لاہور کے باوجود کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوسکی۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں بیک ڈور ڈپلومیسی کے تحت چار نکاتی فارمولا بھی سامنے آیا۔

 

اس وقت دونوں ممالک اپنے بجٹ کی خطیر رقم دفاع پر خرچ کر رہے ہیں حالانکہ دونوں ملکوں کو دہشت گردی، انتہاپسندی، غربت، جہالت، بیروزگاری، معاشی پسماندگی، بڑھتی ہوئی آبادی اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے گوناگوں مسائل کا سامنا ہے۔
خارجہ پالیسی کے بعض ماہرین کے مطابق مشرف کا چار نکاتی فارمولا ہی پاک بھارت مسائل کا مستقل حل ہے۔ شرم الشیخ میں بھی پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات میں مذاکرات بحال کرنے کا وعدہ کیا گیا مگر عملی طور پر تمام مسائل جوں کے توں رہے۔ روس کے شہر اوفا میں برکس کانفرنس کے موقع پر نواز شریف اور نریندر مودی کے درمیان ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ میں اس بات کا عہد کیا گیاتھا کہ تمام تصفیہ طلب مسائل حل باہمی بات چیت سے حل کیے جائیں گے۔ بعد میں بوجوہ معاملات آگے نہیں بڑھ سکے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کے عوام آپس میں خوشگوار اور برابری کی بنا پر دوستی چاہتے ہیں۔ اس وقت دونوں ممالک اپنے بجٹ کی خطیر رقم دفاع پر خرچ کر رہے ہیں حالانکہ دونوں ملکوں کو دہشت گردی، انتہاپسندی، غربت، جہالت، بیروزگاری، معاشی پسماندگی، بڑھتی ہوئی آبادی اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے گوناگوں مسائل کا سامنا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل باہمی بات چیت کے ذریعہ حل کریں۔ عالمی برادی خطے میں پائیدار قیام امن کے لیے دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار اداکرے۔ مشرف دور کے سابق وزیرخارجہ خورشید رضا قصوری نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ بیک ڈور چینل کے ذریعہ ہم ایک معاہدہ کے قریب پہنچ گئے تھے جو بوجوہ مکمل نہیں ہوسکا۔ دونوں ممالک کو الزام تراشی کی روش ترک کے کھلے دل کے ساتھ ایک دوسرے کا موقف سننا چاہیئے اور آؤٹ آف دی باکس کسی حل پر غور کرنا چاہئیے۔

 

اس مرتبہ پاکستان نے مذاکرات اور دوستی کی طرف ہاتھ بڑھانے میں پہل کی ہے اب مودی صاحب کو بھی چاہیئے کہ جس طرح انہوں نے پیرس میں پہل کی ہے وہ اس ملاقات کو نتیجہ خیز بنانے اور دوررس نتائج کے لیے پاکستان کو باضابطہ مذاکرات کی دعوت دیں۔
اس مرتبہ پاکستان نے مذاکرات اور دوستی کی طرف ہاتھ بڑھانے میں پہل کی ہے اب مودی کو بھی چاہیئے کہ جس طرح انہوں نے پیرس میں پہل کی ہے وہ اس ملاقات کو نتیجہ خیز بنانے اور دوررس نتائج کے لیے پاکستان کو باضابطہ مذاکرات کی دعوت دیں۔ اچھی پہل کرنے کے لیے بھارتی حکومت اپنی کرکٹ ٹیم کو پاکستان کے ساتھ کھیلنے کی اجازت دے اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کرے، تاکہ باہمی اعتماد کی فضا قائم ہوسکے۔ خارجہ امور کے بعض ماہرین اس ملاقات کو 8 اور 9 دسمبر کو ہونے والی ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس سے بھی نتھی کر رہے ہیں۔ اگر بھارت کی وزیرخارجہ سشما سوراج اس کانفرنس میں شریک ہوکر پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کرکے باضابطہ بات چیت کا آغاز کریں تو اس سے برف پگھل جائے گی۔ وزیراعظم پاکستان نوازشریف نے اس ملاقات کے بعد صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملاقات بہت خوشگوار ماحول میں ہوئی دونوں طرف سے اچھے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے مگر اچھے جذبات کو عملی جامہ پہنانا بہت ضروری ہے۔ وزیراعظم پاکستان پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ اگر بھارت پیشگی شرائط نہ رکھے تو ہم مذاکرات کے لیے تیارہیں۔ اس وقت پاکستانی حکومت اور عسکری قیادت بھارت کے ساتھ اچھے ہمسائے کی طرح رہنے کے حق میں ہیں اور مسائل بات چیت سے حل کرنے کو تیار ہیں۔ خطے میں پائیدار امن کے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک اسلحے کی دوڑ سے باہر نکلیں، جنگی جنون کو چھوڑ کر پیسہ اپنی عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں۔ دونوں ممالک میں تعلیم، صحت، بنیادی ضروریات زندگی، انفراسٹرکچر، جدید تحقیق، ٹیکنالوجی، زرعی سہولیات، تجارت اور ٹرانسپورٹ سمیت بہت سے بنیادی مسائل پر بجٹ خرچ کرنے سے کروڑوں عوام کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی۔ بڑھتی ہوئی آبادی، دہشت گردی، ماحولیاتی آلودگی اور موسمی تبدیلیاں جیسے اہم مسائل سے نمٹنے کے لیے بھی دونوں ممالک کو الزام تراشی کی بجائے ایک دوسرے سے حل کے لیے تعاون کر ناچاہیئے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون پہلے ہی دونوں ممالک میں تصفیہ طلب مسائل کے مذاکرات کے ذریعے حل کے لیے تعاون کی پیشکش کرچکے ہیں جو عالمی برادری کی جانب سے اس امر کا اظہار ہے کہ دونوں ایٹمی ممالک کے درمیان مسائل حل نہ ہوئے تو یہ عالمی امن کے لیے مستقل خطرہ ہوں گے۔ دونوں ملکوں کے میڈیا کو بھی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کا مظاہرہ کر تے ہوئے ایک دوسرے کو نیچادکھانے کی بجائے مثبت پہلووں پر روشنی ڈالتے ہوئے قیام امن کی کاوشوں میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔