Categories
اداریہ

ایک لبرل اور جمہوری پاکستان – اداریہ

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے ہندو برادری کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر ان پر ظلم ہوتا ہے اور ظالم مسلمان ہے تو وہ ہندو برادری کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ دیوالی وہ دوسرا موقع ہے جب وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان کو مساوات، برداشت اور رواداری پر مبنی ایک لبرل اور جمہوری پاکستان بنانے کا اعادہ کیا ہے۔ دیوالی کے موقع پر کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے تمام شہریوں کو مساوی حقوق کا حامل قرار دیا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق کراچی میں دیوالی کی ایک تقریب میں انہوں نے خود کو تمام پاکستانیوں کا وزیراعظم کہا ہے، انہون نے کہا کہ وزیر اعظم کی حیثیت سے میرا فرض ہے کہ ہر ایک کی مدد کروں۔ ہندو برادری سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ قوم میں اتحاد اور اتفاق پیدا کرنا میرا مشن ہے، تمام مذاہب کے لوگ ہم آہنگی کو فروغ دیں، ظالم کے خلاف آپ کے ساتھ کھڑاہوں گا۔ اس سے قبل 4 نومبر کو اسلام آباد میں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے پاکستان کا مستقبل ایک لبرل اور جمہوری مملکت سے وابستہ قرار دیا تھا۔ پاکستان کے قدامت پسند طبقات کی نمائندہ جماعت مسلم لیگ نواز کے سربراہ اور پاضی میں پاکستان میں شریعت آرڈیننس کے نفاذ کی کوشش کرنے والے نواز شریف کی جانب سے پاکستان کو ایک لبرل اور جمہوری ملک بنانے کا عزم ایک ایسی خوش آئند تبدیلی ہے جو جمہوری نظام کے تسلسل کا نتیجہ ہے۔ میاں نواز شریف کا یہ اعلان پاکستانی قوم کے لیے ایک ایسے آغاز کی نوید ہو سکتا ہے جو اس مملکت کو ہر مسلک، عقیدے اور قومیت سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے رہنے کے قابل جگہ بنا سکتا ہے۔ اگر وزیراعظم اپنے اس بیان میں سنجیدہ ہیں تو یقیناً مستقبل اک پاکستان قرارداد مقاصد کا پاکستان نہیں بلکہ جناح کی 11 اگست کی تقریر کے موافق پاکستان ہو گا جہاں شہریوں کو اپنی مذہبی یا علاقائی وابستگی کی بناء پر امتیازی سلوک، جبر، تشدد اور استحصال سے محفوظ بنایا جاسکے گا۔ یہ اعلان خوش آئند ہے اور پاکستان کے لیے درست سمت کی جانب سفر کا اشارہ ہے۔

اگر وزیراعظم اپنے اس بیان میں سنجیدہ ہیں تو یقیناً مستقبل اک پاکستان قرارداد مقاصد کا پاکستان نہیں بلکہ جناح کی 11 اگست کی تقریر کے موافق پاکستان ہو گا جہاں شہریوں کو اپنی مذہبی یا علاقائی وابستگی کی بناء پر امتیازی سلوک، جبر، تشدد اور استحصال سے محفوظ بنایا جاسکے گا۔
لیکن محترم وزیراعظم!
کیا اپ ان بلوچوں کے وزیراعظم بھی ثابت ہوں گے جو ریاستی اداروں کے جبر کا شکار ہیں؟ جن کے وسائل کو ایک قابض استعماری قوت کی طرح صرف کیا جارہا ہے اور جہاں کے لوگ اپنی ہی سرزمین پر جبری گمشدگان کی فہرستوں میں اندراج سے خوفزدہ ہیں، مسخ شدہ لاشوں کی شناخت میں مصروف ہیں اور عقوبت خانوں کے اندھے شکموں کی بھوک مٹانے کے لیے کسی بھی وقت اٹھائے جا سکتے ہیں؟

محترم وزیراعظم!
کیا آپ ان احمدیوں کے وزیراعظم بھی ثابت ہوں گے جو اپنے تشخص، بقاء اور حقوق کی خاموش جنگ لڑ رہے ہیں؟ کیا مستقبل کے لبرل اور جمہوری پاکستان میں احمدیوں کو عمومی انتخابی فہرستوں میں شامل کیا جائے گا جن میں گزشتہ انتخابات کے دوران انہیں خارج کر دیا گیا تھا؟ کیا آپ ریاست سے مسلم یا غیر مسلم قرار دینے کا “خدائی” اختیار واپس لے کر خدا کو سونپ سکیں گے اور یہ ضمانت دے سکیں گے کہ ایک احمدی بھی اتنا ہی پاکستانی ہے جتنا ایک غیر احمدی؟

محترم وزیراعظم!
کیا آپ مستقبل میں ان غیر مسلم اقلیتوں کے لیے تحفظ، سلامتی، تعلیم، روزگار اور صحت کی ضمانت دے سکیں گے جو درس گاہوں، گزرگاہوں اور سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں اچھوت قرار دیئے جا چکے ہیں۔ کیا آپ غیر مسلم اقلیتوں کے لیے اپنے نمائندوں کے براہ راست انتخاب کا حق دلانے کے لیے آواز اٹھا سکیں گے؟ کیا آپ توہین رسالت اور توہین مذہب کے قوانین کا شکار ہونے والے افراد کے لیے بھی جمہوری اور لبرل پاکستان میں کوئی جگہ فراہم کر سکیں گے جہاں انہیں کسی مجمعے کے ہاتھوں قتل کیے جانے یا جلا دیئے جانے کا خوف نہیں ہو گا؟

کیا آپ بتا سکیں گے کہ آزادی اظہار رائے پر عائد قدغنوں کے ہوتے ہوئے ایک لبرل اور جمہوری پاکستان کا اعلان کیا معنی رکھتا ہے؟
محترم وزیراعظم!
آپ کو ان خواتین اور خواجہ سراوں کا وزیراعظم بھی بننا پڑے گا جو ایک قدامت پسند معاشرے کی پدرسری اقدار کے باعث امتیازی سلوک اور جنسی جرائم کا شکار ہیں۔ آپ کو ان مزارعوں، ہاریوں اور مزدوروں کے لیے معاشی انصاف کا وعدہ بھی کرنا ہوگا جو معاشی ناانصافی کا شکار ہیں۔ جن کی فصلیں اپنی لاگت پوری کیے بغیر گل سڑ جاتی ہیں۔ آپ کو ان صحافیوں، فنکاروں، مورخین، ادیبوں اور بلاگروں کے تحفظ کا بھی بندوسبست کرنا ہوگا جو اپنے ضمیر کی بجائے ریاستی اداروں اور سماجی جبر کے سامنے جوابدہ بنا دیئے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کے ان کارکنوں، قوم پرست سیاستدانوں اور دانشوروں کی زندگیاں اندھی گولیوں اور جبری گمشدگیوں سے بچانے کے لیے کیا تجاویز آپ کے پاس ہیں؟

محترم وزیراعظم!
کیا آپ بتا سکیں گے کہ آزادی اظہار رائے پر عائد قدغنوں کے ہوتے ہوئے ایک لبرل اور جمہوری پاکستان کا اعلان کیا معنی رکھتا ہے؟ اقلیتوں اور عورتوں کے لیے امتیازی قوانین کی موجودگی میں مساوی حقوق کیسے یقینی بنائے جا سکیں گے؟ بنیاد پرست، نفرت آمیز اور قدامت پسند نصاب کے ہوتے ہوئے ایک آزاد خیال پاکستان کا خواب کس قدر ناممکن ہے؟ معاشی ناانصافی پر مبنی اقتصادی نظام کی اصلاح کے بغیر تمام طبقات کے لیے یکساں ترقی کے مواقع فراہم کرنا کیسے ممکن ہے؟ عسکری اداروں کی بالادستی اور سول معاملات میں مداخلت کا تدارک کیسے ممکن بنایا جائے گا؟

محترم وزیراعظم!
تمام پاکستان کے لیے مساوی مواقع کا حامل لبرل اور جمہوری پاکستان تبھی ممکن ہے جب امتیازی قوانین کا خاتمہ کیا جائے، تمام شہریوں کو تعلیم، صحت اور روزگار کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں، بنیادی شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کو ریاستی تحفظ فراہم کیا جائے اور آئین کی بالادستی یقینی بنائی جائے۔ ایک لبرل اور جمہوری پاکستان کے لیے پہلا قدم اٹھائے جانے کے ہم سب منتظر ہیں اور اب آپ کے اس سعد ارادے کو حقیقت میں بدلتے دیکھنے کے خواہاں بھی۔
Categories
اداریہ

Save Shafqat, Save Pakistan’s Judicial System – Editorial

It is a shame that our collective sense of justice hardly goes beyond a frantic demand for vengeance. Since government announced lifting of moratorium on death penalty last December, 39 convicts have been executed in different jails in Pakistan. Initially it was announced that only hard-core terrorists will be hanged, but, as was foreseen by many concerned citizens, the capital punishment is now being executed in all sorts of crimes. Only day before yesterday when 12 people were hanged, the news anchors jubilantly kept repeating ‘the good news’ the whole day. Our opinion leaders leave no stone unturned in making us feel as if the only step holding us back in bringing ultimate peace and prosperity in the country is mass public hangings.

The most significant fact about Shafqat’s conviction is that he was sentenced to death when he was only 14.

The latest victim of this frenzy is going to be Shafqat Hussain who will be hanged tomorrow. Convicted of kidnapping and murder, he has already spent 11 miserable years in jail. The most significant fact about Shafqat’s conviction is that he was sentenced to death when he was only 14. Like so many others, he was also brutally tortured to get a confession. He was tried and sentenced by an anti-terrorism court. Such a court itself is an aberration of justice where the universal principle of justice, i.e. ‘innocent until proven guilty’ is reversed. The details of his trial and subsequent conviction is a study in itself of the unjust system of justice in Pakistan.

Anyone who ever had an encounter with Pakistan’s judicial system knows how this system is rotten to its very core. While government finds it convenient as an immediate redress by offering more hangings as an answer to public demand for security, this is anything but just.

The public consensus achieved in the post-Peshawar incident scenario was the high time for our state to take account of why the judicial system was failing in punishing terrorists. This situation could have served as a drive for a long awaited reforms in our colonial judicial system. But the ruling elite preferred to placate public emotions with a two-pronged solution of military courts and resuming executions. As long as the systematic failures of the judicial system and our vengeance based approach to justice remains, all hopes for justice and peace are doomed.

While government finds it convenient as an immediate redress by offering more hangings as an answer to public demand for security, this is anything but just.

It is also a case in point that in this country a 14-year-old who is tortured to confess is treated as terrorist while Mumtaz Qadri, the fanatic assassin of late Governor Salman Taseer, is treated as an ordinary criminal. This shows that Lady Justice in Pakistan is nothing but subservient to the constraints and partialities of our judiciary.

Whether Shafqat Hussain actually did commit those crimes or not, his execution will be unjust and a mark of shame on our society. No one should be killed for an alleged crime committed as a juvenile. Will our authorities wake up to this simple truth?