Categories
شاعری

اندھوں کی نگری

اندھوں کی نگری
یہاں کون ہے جس کو پھولوں کے کھلنے کا منظر دکھاؤں
کہ کلیاں چٹخنے کا
خوشبو کا، رنگوں کا
شبنم کی بوندوں سے منہ دھوتی
بچوں کے رخسار سی پنکھڑی کا
دھنک رنگ خوابوں کے گل پوش
تختوں سےاُڑتی ہوئی تتلیوں کا
صبا کے معطر تنفس سے سرشار
بھیگے ہوئے بازووں سی لچکتی
بغلگیر ہوتی ہوئی ٹہنیوں کا
یہاں رہنے والوں کے دل میں کوئی بھی تصور نہیں ہے!

یہاں کون ہے جو کسی “میگھ دوُتم” 1 ؎سے
بارش میں بھیگے ہوئے بِرہا گیتوں میں
بچھڑے ہووں کے سندیسوں کو سمجھے
یاں رہنے والے تو بچھڑے ہووں کے
سندیسوں کی بھاشا سے نا آشنا ہیں

یہاں کون ہے سُن سکے جو
قفس میں مقید پرندوں کی زخمی صدائیں
جسے علم ہو شاہرائوں پہ اُڑتے ہوئے زرد پتے
کبھی سبز شاخوں کی زینت تھے
بچوں کی مانند مسرور تھے ۔۔۔تالیاں پیٹتے تھے!
جسے یہ پتہ ہو کہ قلاش جیبوں کی مجبوریاں
کن گرسنہ قمیضوں سے جیبوں کی مانند لٹکی ہوئی ہیں
جو یہ جانتا ہو
کہ مجبور ہاتھوں کی خالی لکیروں میں
کن بلڈنگوں کا مقدر لکھا ہے
کہ تیشے کے ضربوں سے پتھر تو ٹوٹیں گے
سڑکیں بنیں گی
مگر دودھ کی نہر بہنے کا کوئی بھی امکاں نہیں ہے!

یہاں کون ہے جس کے دل کی بصارت ہمہ دیدنی ہو
یہ اندھوں کی نگری ہے، میرے عزیزو
کہ صحرا کے باسی
یہاں رہنے والے سبھی بے بصر ہیں!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

؎1 ۔ کالیداس کا سنسکرت ناٹک “میگھ دوت”۔ بمعنی پیامبر بادل

یہ نظم سعودی عرب میں قیام کے دوران وہاں بر صغیر کے کامگاروں کی حالت زار پر 1992 میں لکھی گئی

Image: India times

Categories
شاعری

روز کی دو کہانیوں کا تیسرا منظر

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

روز کی دو کہانیوں کا تیسرا منظر

[/vc_column_text][vc_column_text]

[soundcloud url=”https://api.soundcloud.com/tracks/228962277″ params=”auto_play=false&hide_related=false&show_comments=true&show_user=true&show_reposts=false&visual=true” width=”100%” height=”450″ iframe=”true” /]
کل میں نے اپنی جگہ
رات کو گردا پلا دیا
خیال تھا یہ جھوم اٹھے گی
مگر وہ میری گود میں بیٹھی
بلک بلک کر روتی رہی
میں دلاسے کے نام پر
اس کا جسم ٹٹولتا رہا
وہ میری روح نوچتی رہی
میں اس کی مونثیت کھروچتا رہا
وہ میرا مذکر توڑتی رہی
اور کہانی ختم ہوگئی
ہم دونوں سوالیہ نشان بن کر
ایک دوسرے کے اوپر لیٹ گئے

 

درد کش وہ پیلی گولیاں
جو دن میں بیس تیس میں کھا جاتا ہوں
وہ صبح نے میری دراز سے نکال کر
نگل لی آدھا گلاس شام کے ساتھ
پھر وقت سن ہوگیا ہے
نہ آپ ہو سکے
نہ میں ہو سکا
وقت کمرے کی کرسی میں گر گیا
میری بے چینی جس کا بہانہ بنا کر میں
بیس تیس گولیاں کھا جاتا ہوں
وہ بے چینی وقت کو جھنجھوڑتی رہی
وقت اسے دیکھ کر رہ گیا
مجھے البتہ سکون آگیا

 

میری آنکھوں میں
فحش بیماری ہے
جس کا بڑے بوڑھے نام نہیں لیتے
میرا لفظ آسیب زده ہے
وہ مجھے ڈراتا رہتا ہے
میری انگلیوں پر
جن حاضر ہوتے ہیں
وہ میری جگہ آپ کو چھوتے ہیں
میری باتیں چڑیلوں کی طرح
میرے حلق میں چیختی رہتی ہیں
میری باتوں کے پاؤں الٹے ہیں
یہ مافوق الفطرت قصبہ ہے
میرا جسم اور اس میں اترتی ہوئی روحوں کا قبیلہ
مجھے دیکھ کر لوگ درود پڑھ کر بھاگتے ہیں
فرشتوں کی ریڑھ کی ہڈیوں میں
میں کانپ جاتا ہوں
میرے ذہن میں ایک غسل خانہ ہے
جہاں میری طرح
کوئی نہیں نہاتا ہے
میں غلاظت سے گونج رہا ہوں
میں جس چیز کو ہاتھ لگاتا ہوں
وہ بجھ جاتی ہے
میری سوچ قاتل ہے
میں جادو مارنے پر مامور ہوں
میں ایک گردے کے سگرٹ سے
منافقت کا کش لگاتا ہوں
آپ کے منہ پر دھواں چھوڑتا ہوں
آپ دھواں چوس کر
واپس مجھ پر تھوک دیتے ہیں
ایسے بات ہو جاتی ہے
بیس تیس گولیاں روزانہ
مجھے اس قابل بنا دیتی ہیں
کے میں آپ کو سہہ سکوں
آپ مجھے بوجھ سکیں
مگر اب رات اور دن کو
جو لت لگ گئی ہے
اب اس کا کیا کریں؟

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]