اندھوں کی نگری

ستیہ پال آنند: یہاں کون ہے جس کے دل کی بصارت ہمہ دیدنی ہو
یہ اندھوں کی نگری ہے، میرے عزیزو
کہ صحرا کے باسی
یہاں رہنے والے سبھی بے بصر ہیں!
یہ اندھوں کی نگری ہے، میرے عزیزو
کہ صحرا کے باسی
یہاں رہنے والے سبھی بے بصر ہیں!
روز کی دو کہانیوں کا تیسرا منظر

میری آنکھوں میں
فحش بیماری ہے
جس کا بڑے بوڑھے نام نہیں لیتے
میرا لفظ آسیب زده ہے
وہ مجھے ڈراتا رہتا ہے
میری انگلیوں پر
جن حاضر ہوتے ہیں
وہ میری جگہ آپ کو چھوتے ہیں
میری باتیں چڑیلوں کی طرح
میرے حلق میں چیختی رہتی ہیں
میری باتوں کے پاؤں الٹے ہیں
فحش بیماری ہے
جس کا بڑے بوڑھے نام نہیں لیتے
میرا لفظ آسیب زده ہے
وہ مجھے ڈراتا رہتا ہے
میری انگلیوں پر
جن حاضر ہوتے ہیں
وہ میری جگہ آپ کو چھوتے ہیں
میری باتیں چڑیلوں کی طرح
میرے حلق میں چیختی رہتی ہیں
میری باتوں کے پاؤں الٹے ہیں