Categories
شاعری

پر اس جہان سے بھی ہے بڑا ملالِ حسین

قبائے خاک مجھے دشت نے ودیعت کی
پھر اس کے ساتھ جنوں کی مجھے نصیحت کی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بجھا چراغ تو روشن ہوا جمالِ حسین
خیام چرخ بنا اور سجا ہلالِ حسین

سپاہ پست نے تھاما فنا کا کند سلاح
بقا نیام سے نکلی ہوا جدالِ حسین

بساطِ عشق کو شہ مات سے شروع کیا
اور ایک چال سے فاتح بنا جلالِ حسین

جہاں پناہ جہاں ہے ترا وسیع و عریض
پر اس جہان سے بھی ہے بڑا ملالِ حسین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لباسِ حج کو اتارا جنون پوش کیا
ابد کا جام اٹھایا بقا کو نوش کیا

فراتِ عشق کی جانب رخِ مراد ہوا
لہو کو نعل لگائی طلب کو دوش کیا

نیامِ دشت سے نکلی اجل کی تیغِ سراب
یقیں کو ڈھال بنایا رضا کو پوش کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فراتِ اشک کا ساحل لبانِ خشک ہوئے
اجل کے دست لہو کی مہک سے مشک ہوئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنانِ صبر سے شر کے جگر کو چاک کیا
جبینِ دشت سے زعمِ فنا کو پاک کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لباسِ دشت پہ تازہ لہو کا داغ لگا
گلِ حسین سے صحرا بھی ایک باغ لگا

سناں کی نوک پہ جب شاہ نے طلوع کیا
فلک کے طاق پہ رکھا قمر چراغ لگا

فنا کی تیغ سے اس نے کوئی کلام کیا
جسے سمجھنے کو ہستی کا سب دماغ لگا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گلو صغیر کا گل کی طرح نمود ہوا
بقا کی گود میں گویا چمن کشود ہوا

سپاہِ بد کے سواروں نے دشت پست کیا
پسر رباب کا نکلا تو دشت عود ہوا

کمانِ کرب سے نکلا ستم کا تیر عدم
لبانِ خشک ہلے اور سپر درود ہوا

پدر کی شاخ پہ اصغر مثال برگ ہلے
ستم کی بادِ فنا کا عجب ورود ہوا

اجل نے کان دھرے نغمہء رباب سنا
الم کے تارِ شکستہ سے کیا سرود ہوا

فلک کی سمت اچھالی پسر کی تشنہ فغاں
سحابِ زخم بنا اور لہو فرود ہوا

لہو سے ریشِ مبارک کو یوں خضاب کیا
فنا کا نغمہ رکا سازِ غم جمود ہوا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نگاہِ شہ نے غرورِ اجل کو خاک کیا
پھر اپنے خون سے دشتِ فنا کو پاک کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کسی کا زخم کی بخیہ گری میں نام ہوا
کسی کے زخم کا بخیہ گری سے کام ہوا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زمیں کے خشک لبوں کو لہو سے تر رکھا
سخی نے موت کے کاسے میں اپنا سر رکھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قضا کے ساتھ عطش کی بس اک نشست ہوئی
لبانِ خشک سے صحرا کو کیا شکست ہوئی

لہو کے ساز پہ جوں ہی کسی نے ہاتھ رکھا
ہوائے مرگ مثالِ کنیز مست ہوئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قبائے جسم مجھے دشت نے ودیعت کی
اور اس کے ساتھ جنوں کی مجھے نصیحت کی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسی نے میری نگاہوں میں ایک راز رکھا
اسی نے میرے لبوں کو سخن سے باز رکھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بیاضِ عشق کو دیکھا اسے درست کیا
سناں کی نوک سے سارا کلام چست کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہیں خدا ہے کہیں انبیا کہیں پہ ملک
خیامِ شاہ میں ٹھہری ہے کائنات تمام

اسی کے اذن سے آنکھوں کو خوئے گریہ ملی
اسی کے غم سے عبارت ہیں شش جہات تمام

اسی کے خوں سے زمیں کو نئی حیات ملی
اسی کے زخم سے عالم کی ممکنات تمام

Categories
عکس و صدا

Artwork of John Holcroft

John Holcroft editorial illustrator has been around since 1996 and has worked in a variety of mediums and styles over the years. In 2001 he started working digitally but it wasn’t until 2010 he created his current ‘screen print’ style. John’s past clients worldwide including: BBC, Reader’s Digest, Financial Times, Walker books, The Guardian, The Economist, Haymarket, conde nast, TES, Radio Times, Cathay Pacific, Experian, Informa Plc, New York Times, Honda, Wall Street Journal and many more.

Categories
شاعری

دنیا شاعروں کے سپرد کر دو (نظم گو: محمد رضا عبد الملکیان، ترجمہ: مدثر عباس)

دنیا شاعروں کے سپرد کر دو
مطمئن رہو
شاعر لفظوں کو بیدار کرتے ہیں
اور صفحوں پر پھول اور گندم کاڑھتے ہیں

دنیا شاعروں کے سپرد کر دو
بیابان اور بہار دونوں خوشحال ہو جائیں گے
اور دونوں ہمیشہ جوان رہیں گے

دنیا شاعروں کے سپرد کر دو
اطمینان رکھو کہ سپاہی ترانے
گاتے ہوئے عاشق بن جائیں گے
اور بندوق پر سر رکھ کر ہمیشہ
کے لئے سو جائیں گے
اور کبھی بیدار نہیں ہوں گے

دنیا شاعروں کے سپرد کر دو
یہ دیواروں کو گرا دیں گے
اور سرحدوں کو قوس قزح کی
طرح خوش نما کر دیں گے
درخت چلتے ہوئے سڑکوں پر آ جائیں گے
اور بسوں کی قطار میں
شگوفوں کی طرح بیٹھ جائیں گے
پرندے ان پر سوار ہو جائیں گے
اور اپنے ساتھی شہریوں کو
سورج کی روشنی سے
متعارف کروائیں گے

کیا تم یہی نہیں چاہتے تھے؟
پس کیوں بے وجہ خاموش کھڑے ہو؟
اس تامل اور ہچکچاہٹ کو ختم کرو
اور دنیا شاعروں کے حوالے کرو
اگر یہ سرگرداں مصرعے صندوق
سے باہر نہ آئے تو بوڑھے ہو جائیں گے
اور کبھی بھی پرندہ نہیں بن پائیں گے

اور پرندوں کے بغیر دنیا ایک جہنم ہے
جو ہر وقت آگ برساتی رہتی ہے

محمد رضا عبد الملکیان
ترجمہ : مدثر عباس

Categories
شاعری

خوابوں سے بھرا کوڑے دان’ سے ایک انتخاب (مدثر عباس’)

مدثر عباس کی  نثری نظموں کا پہلا مجموعہ ‘خوابوں سے بھرا کوڑے دان’ کے عنوان سے شائع ہو رہا ہے۔ یہ کتاب نیو لائن   پبلشرز شائع کر رہا ہے اور جلد بازار میں دستیاب ہو گی۔ اس کتاب میں شامل نظموں کا ایک انتخاب لالٹین قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ کتاب خریدنے کے لیے نیو لائن پبلشرز یا کتابوں کی معروف دکان ریڈنگز سے رابطہ کیجیے۔

[divider]خالی آسامی اور نئے بھرتی ہونے والے ہچکولے[/divider]

کون ہیں وہ لوگ جو روزانہ
قہقہے قریبی جنرل سٹور سے
خرید کر لاتے ہیں اور شام کو
اپنے دروازے پر اپنے چہرے لٹکا کر سو جاتے ہیں

کون ہیں وہ لوگ جو فٹ پاتھ پر بکھرے قدموں
کے نشانات کو سمیٹ کر قریبی ہسپتال کے مردہ خانے
میں جمع کروا دیتے ہیں

کون ہیں وہ لوگ جو میرے سامنے آئینہ بن کر
کھڑے ہوتے ہیں اور جب میں زور سے ہنسنے لگتا ہوں
تو وہ ٹوٹ کر میری ہنسی کی طرف بڑھتے ہیں
اور اسے چھلنی کر دیتے ہیں

کون ہیں وہ لوگ جن کا نام صرف اس وقت
پکارا جاتا ہے جب بندوق کی نالی میں لگے زنگ
کو کسی یتیم کے آنسوؤں کے ساتھ صاف کرنا
ضروری ہو وہ یتیم جس کے باپ کے نام کو
اس سے چھین کر کسی ملی نغمہ لکھنے والے شاعر
کو بیچ دیا گیا

کون ہیں وہ لوگ جو بستی کے ہر فرد کے سانسوں
کی غلط گنتی کرتے ہیں اور رجسٹر پر نوٹ کئے
بنا اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں

کون ہیں وہ لوگ جنہوں نے خدا کا اغواء برائے تاوان
کر لیا ہے اور اب ان کا موبائل نمبر پچھلے چودہ سو سال
سے بند جا رہا ہے

کون ہیں وہ لوگ جو ہر گھر کو پانچ مرلے آسمان
فروخت کرتے ہیں اور زمین پر چلتے ہوئے ان خوابوں
کو توڑ جاتے ہیں جو خواب ہر اشارے کی سرخ بتے
کے بالکل اوپر لگے ہوتے ہیں

ایک دن ہم ان لوگوں کو پہچان لیں گے
ہم ان کو اتنا موقع نہیں دیں گے کہ وہ
اپنا ڈی این اے کسی بینک میں جمع کروا دیں
اور ناقابل قبول چیک بن کر ہوا
میں اڑ جائیں

[divider]ردی کی ٹوکری جو مجھے بونس میں ملی[/divider]

دفتر سے گھر پہنچتا ہوں
تو اپنا چہرہ اتار کر اس
کی گرد صاف کرتا ہوں
مجھے آئینے میں بہت سے
لوگ نظر آتے ہیں

ان چہروں میں کوئی ایسا
چہرہ نہیں جسے میں پہچان سکوں
یا جسے میں اپنے چہرے سے بدل سکوں

سڑکوں پر لوگوں کا ہجوم ہے
میں ان چہروں کو تلاش کرتا ہوں
جو ہر روز مجھے آئینے میں دکھائی دیتے
ہیں لیکن مجھے کوئی چہرہ نہیں ملتا

میرے پاس ایک ہی چہرہ ہے
جو ہر سال میری تنخواہ سے کٹوتی کے بعد
بدل دیا جاتا ہے

میں ہر سال اپنا شناختی کارڈ بنواتا ہوں
اور اپنی ایک ایک تصویر تمام جاننے والوں
کو بھیج دیتا ہوں

زندگی کوئی دفتر نہیں
سرکاری یا نیم سرکاری
جو ہر سال میرے دھڑ پر
ایک نیا چہرہ ٹانگ دے

زندگی میرے ہر چہرے
پر پڑنے والی گرد کی
بلیک اینڈ وائٹ فوٹو کاپی ہے
جسے اگر میں اپنی پروموشن کے
لئے دفتر میں جمع کرواؤں
تو دفتر والے میرے تمام چہروں
کو ردی والے کے حوالے کر دیں
چاہیے میرے گھر میں پڑے آئینے
میں نظر آنے والے نامعلوم چہرے
مجھے تلاش کرتے ہوئے میرے دفتر تک
ہی نہ کیوں پہنچ جائیں

[divider]سلاخوں کے پیچھے ٹھہرا ہوا دن[/divider]

آپ کی بندوق کی کون سی گولی سے
میرے خون کی مہک آ رہی ہے؟

آپ کے گرفتاری کے وارنٹ کی
ہر خالی جگہ میرے ہی نام سے کیوں
فل کی گئی ہے؟ کیا میرے نام کے علاؤہ
باقی حروف تہجی کو
قید میں ڈال دیا گیا ہے؟

ہر ملاقات میں ایک کہانی ہوتی ہے
کیوں ہماری ملاقات کی کہانی کو
چھین کر ایف آئی آر میں بے ترتیب
لکھ دیا گیا ؟

زندگی روشنی کی رفتار سے
ہماری طرف بڑھنا چاہتی ہے
مگر کیوں آپ شہر کی تمام روشنیوں
کو گل کر کے ہمارے گھر کا پتہ
تبدیل کر دیتے ہیں؟

سورج کوئی ایسا ستارہ
نہیں جسے آپ اپنی وردی کے
کندھوں پر سجا لیتے ہیں
اور کیوں ہمارے گھر اندھیروں
کے بل کی ایک ایک کاپی پھینک جاتے ہیں ؟

بہار کا موسم آپ کی بندوق
کا بیرل نہیں جس میں ہر وقت
بارود کی بو بھر دی جائے

آپ اپنے نام کا اعلان
لاؤڈ سپیکر پر کیوں نہیں کرتے
کہ ہم بروقت ایسے شہر کو نکل
جائیں جہاں رات اپنے وقت
پر ہوتی ہے اور چاند کے اغواء
پر پابندی ہے

[divider]زرخیز ہدایات[/divider]

بیدار ہوتے وقت خواب کوڑا دان
میں مت پھینکو اور اپنی انگڑائی
کی تصویر کھینچ لو

زمین پر چلتے ہوئے اپنا عکس
روندتے چلو اور نئے گملے خرید کر
ان میں ایک تلوار بو دو

موسمی فصل کی کاشتکاری کے
ساتھ خود کو زمین میں گاڑھ دو
اور ایک تاریک سورج کے ساتھ
لپٹ کر سو جاؤ

اپنے ایکسرے نکلواتے وقت
محبت کی نظم پڑھتے رہو

پاگل خانے میں موجود پاگلوں کو
ڈرائنگ سکھاؤ تاکہ وہ اپنا خواب
ڈرا کر سکیں

مزدوروں کے ہاتھوں کے چھالے گنو
اور ریاضی کا پرچہ ادھورا
چھوڑ کر آ جاؤ

کسی سے محبت کرو
اور پھول بیچنے کی دکان کھول لو

بینک میں نیا اکاؤنٹ کھلواو
اور اپنا دل لاکر میں رکھوا کر
کسی کو خط لکھو

گھروں کے نقشے تیار کرو
اور محبوبہ کے گھر کی طرف
ایک زگ زیگ خفیہ راستہ بنا لو

ہفتے کے دنوں کو ڈائری پر
نوٹ کرو
اور اپنے بیگ میں پیک ایک سفر کسی
خانہ بدوش کو ہدیہ کر دو

اگر تھک گئے ہو تو آخری سانس
لو چھت کو غور سے دیکھو
اور میرا نام لکھ کر مر جاؤ

[divider]شہر کا نقشہ جو محبت نامہ نہیں بن سکا[/divider]

لمس ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے
اور فضائی آلودگی بڑھانے کا جواز
فراہم ہو جاتا ہے

محفوظ کئے گئے بوسے
بے دھیانی میں جیب سے
گر جاتے ہیں اور زمین پر اگی
زہریلی بوٹیوں کے ساتھ لگ
کر دم توڑ دیتے ہیں

محبت نامے گھر کے اضافی سامان
کے ساتھ ڈسٹ بن میں پھینک
دیے جاتے ہیں اور شہر میں لکھنا
جاننے والے تمام لوگ مر جاتے ہیں

عاشق دفتر کے درازوں میں
رکھ دیے جاتے ہیں اور کلرک
ان کا نام اشارتاً اپنے ٹرانسفر لیٹرز
میں ذکر کر دیتے ہیں

محبوبائیں گل دان کے ساتھ
ڈیکوریشن پیس بن جاتی ہیں
اور گھروں کو ارزاں قیمت پر
زندگی ڈیلرز کو بیچ دیا جاتا ہے

محبت شہر کے شور و غل
میں آلودہ ہو جاتی ہے
اور اسے ٹشو پیپر سے صاف
کر کے الماری میں رکھ
دیا جاتا ہے

گیت دھماکے کی آواز
کے استقبال میں مصروف
ہو جاتا ہے اور گویوں کو
ملکہ عالیہ کے کانوں میں
سونے کی بالیاں کے ساتھ
جڑ دیا جاتا ہے

پھول مرجھانے کے لئے
گلدانوں کی طرف ہجرت
کر جاتے ہیں اور بہار اپنا
سامان پیک کر کے شام کو
بے روزگار ہی اپنے گھر
واپس آ جاتی ہے

پینٹرز شہر کو افقی
پینٹ کرنے کے بعد
قوس قزح پر چڑھ جاتے ہیں
اور وہاں سے کود کر اپنی جان
دے دیتے ہیں

میں موت کے ساتھ مذاکرات
کر رہا ہوں اور ہماری ڈیل ہوتے
ہی میں اس شہر کو آگ لگا
کر راکھ کر دوں گا جس
شہر کی مرکزی جامع مسجد
یا خبرنامے سے
میرے مرنے اور تمہارے
گم ہونے کا اعلان نہ ہو

Categories
شاعری

شگاف جو زیر تعمیر ہے (عرفان خان کے لیے) – مدثر عباس

بہار نے ہماری طرف پھول پھینکے
قبرستان نے ہماری طرف ایک قبر پھینکی
مجھے نہیں معلوم کہ پھول اور قبر
ہمارے اس شخص کے ہاتھ کیسے
لگ گئے جس شخص کو ہم ابھی
تختی پر زندگی لکھنا سکھا رہے تھے

جلد باز دن نے ہمیں اتنی بھی سہولت
نہیں دی کہ ہم ایک موت کی واضح تصویر بنا پاتے
کوئی نہیں جان پائے گا کہ کیوں ہمارے گھر
میں ایک فریم بغیر کسی تصویر کے ہمیشہ
کے لئے رکھ دیا گیا ہے

رات بڑبڑا رہی ہے اور ہم اپنے سینے پر ہاتھ رکھے ہوئے
بڑھ رہے ہیں ایک ایسی آواز کی طرف جو آواز
شام کے شور میں ہمیں پوری طرح سنائی نہیں دیتی
آج چاند کو اتنی تابناکی کے ساتھ رات کی بڑبڑاہٹ
کا ساتھ نہیں دینا چاہیے تھا

آنسوؤں کی ایک قطار آج پرندوں کے ساتھ
سرحد عبور کر جائے گی اور کوئی سپاہی
آنسوؤں کا پاسپورٹ چیک نہیں کرے گا

ہم دیکھ رہے ہیں کہ خون کی ایک دھار
بیساکھیاں تھام کر ہماری جانب بڑھ رہی ہے
اور کہہ رہی کہ تم لوگ اتنے زور سے
اپنے دل کو پتھر پر کیوں نہیں پٹختے کہ
تمہارے دل کے ٹکڑے بھی اس بہار
میں کھلنے والے پھولوں میں شمار ہو جائیں
اب خون کی دھار کو کون بتائے کہ کیوں ہم
اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر ایک آواز
کی طرف بڑھے چلے جا رہے تھے

Categories
شاعری

ناخن جو اب ہتھیلی پر اگ آئے – (سبین محمود کے لیے) – مدثر عباس

بمارے دل کی تیز دھڑکن کا طبعی معائنہ
نہ کریں بلکہ ہمیں یہ بتائیں کہ کیوں
آپ نے ہمارے لوگوں کو چاند کا فریم
درست کرنے کے جرم میں ہمارے گھر کی
فیملی فوٹو سے پھاڑ کر اپنی بھدی
تصویر کے ساتھ جوڑ لیا ہے؟

ہمارا تازہ غیر رجسٹرڈ گیت کیوں
آپ کی چلتی ہوئی بندوقوں کا ردھم توڑ دیتا ہے
اور آپ اپنے کانوں میں انگلیاں دبا کر
اپنی بیرکوں کی طرف دوڑ جاتے ہیں

آپ جتنی بھی کانوں میں انگلیاں دبا لیں مگر
میں چیخ کر بتاتا رہوں گا کہ مجھے طبعی موت
مرنے کا سرٹیفیکیٹ کیوں نہیں دیا گیا حالانکہ
میرے تمام کاغذات پر کرنل علیم کی مہر تصدیق ثبت تھی
میں بہت زور سے چیخوں گا
چاہے میری چیخ سے خدا کے کانوں کے پردے پھٹ جائیں
خدا کی بینائی تو آپ پہلے ہی چھین کر
خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کے لئے خصوصی عینکیں
بنا رہے ہیں جنہیں پہننے کے بعد آپ فوراً
تلاش کر لیتے ہیں کہ صبین محمود کہاں ہے ؟

ماما قدیر تو چلنے کے لیے ہر روز اپنے پیروں
کو اسلام آباد کا راستہ یاد کرا رہا ہے
مگر ماما قدیر کسی بھی مسخ شدہ لاش
کو چلنا نہیں سکھا سکتا
چاہے اس لاش کے پیروں پر
اسلام آباد سے لے کر بلوچستان تک
کے سفر کا تمام نقشہ موجود ہو
جس پر گوگل میپ اعتماد
کرتے ہوئے کبھی نہ جھجھکے