Categories
تراجم شاعری

گھاس کا خواب اور دیگر نظمیں

الیاس علوی ایک نمایاں افغان شاعر اور بصری فنکار (visual artist) ہیں جو افغانستان کے صوبے دایکندی میں ایک ہزارہ خاندان میں 1982 میں پیدا ہوئے۔ جنگی حالات کے پیشِ نظر وہ ایران اور پھر آسٹریلیا ہجرت کر گئے، جہاں وہ فی الحال مقیم ہیں۔ وہ اپنی شاعری اور آرٹ میں جلاوطنی، شناخت، اور ظلم جیسے شدید انسانی تجربات کو موضوع بناتے ہیں، اور فارسی ادبی حلقوں میں انہیں جدیدیت پسند تحریک کی ایک اہم آواز سمجھا جاتا ہے۔ ان کے شائع شدہ شعری مجموعوں میں “من گرگ خیالبافی ھستم”، “بعضی زخم ھا”، اور “حدود” شامل ہیں، اور انہیں کئی بین الاقوامی ادبی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ معروف شاعر احسان اصغر نے ان کی چند نظموں کا فارسی سے اردو میں ترجمہ کیا ہے.

شاعر اور بصری فن کار الیاس علوی – بشکریہ نیشنل ایسوسی ایشن فار ویژیول آرٹسٹس

گفتگو
میں نے اپنی بہن سے کہا
شہر کے چوراہوں
اہم شخصیتوں کے محلوں
اور کابل کے مصروف بازاروں سے دور رہو

وہ بولی
مگر یہاں تو موت یوں موجود ہے
جیسے ہوا میں گرد وغبار
ساری کھڑکیاں دریچے بند بھی کر دو
تو یہ تمہارے کمرے میں پہنچ جائے گی ۔۔۔

۔۔۔۔

نظم

چاچا ! جب تم کنویں سے پانی نکالتے ہو
یا چائے کو جوش دیتے ہو
کیا اس سے خون کا ذائقہ نہیں آتا ؟

۔۔۔۔۔

میں یقین نہیں کروں گا

میری محبوب
جب موت تمہارے تعاقب میں آئے
کاش تپ دق کی صورت میں ہو
یا سخت سردی کی شکل میں
نہ کہ خود کش حملے کے نتیجے میں

تمہارے پاس مہلت ہو
کہ تم جائزہ لے سکو اپنی یادوں کا
اپنے جسم کے الگ الگ حصوں کا
اور طے کر سکو اپنے جانے کا طریقہ
یوں نہیں کہ تم گھر سے تو اپنے پیروں پہ نکلو
اور پھر ہم صرف تمہارے جوتے دیکھ پائیں
تمہارے ہاتھ تلاش کر سکیں نہ مسکراہٹ
اور نہ ہی تمہاری نگاہیں

میں اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہوں
تمہاری موت اور آخری سانس
میری ہی انگلیاں تمہاری پلکیں موندیں
لیکن ۔۔۔نہیں
میں ابد تک یقین نہیں کر سکوں گا
نہیں کر سکوں گا یقین ۔۔۔

۔۔۔۔۔

گھاس کا خواب

میری ماں کی فریاد
صنوبروں سے گزری
دریا سے گزری
پہاڑ تک پہنچ گئی
اور گھاس کی نیند خراب کر دی
اور میں پہلی بار رویا
بہت زور شور سے رویا
عورتوں نے نیک مستقبل کے لیے اسپند (1) سلگایا
بلائیں دور
بلائیں دور

ٹھیک اسی لمحے تپ دق
محلے کی سب سے حسین لڑکی کو ساتھ لے گیا
ایک آدمی کو ہم آغوشی کے جرم میں سنگسار کر دیا گیا
اور سڑک پہ بھوک ایک کتے کو بھنبھوڑ رہی تھی
جب وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں گے
کیا کوئی پہلی مرتبہ روئے گا ؟

۔۔۔۔۔

وہ دل گرفتہ تھا

شازیہ
عبدالصمد
شعیب
نوراللہ
عائشہ
زمری
حمید اللہ
زبیدہ
جلال الدین
نصیب
عقیلہ
نور محمد
جان آغا
شفیقہ
ایمل
شہرزاد
سب سو رہے تھے
کہ ایک اداس امریکی سپاہی
بستی میں وارد ہوا
وہ دل گرفتہ تھا
اس نے سگریٹ سلگائی
وہ دل گرفتہ تھا
اس نے اپنی بندوق کی طرف دیکھا
بندوق جو دل گرفتہ تھی
اس کے بعد اس نے سترہ بار لبلبی دبائی
اور پھر آسودہ ہو کر
اپنے ٹھکانے کی طرف لوٹ گیا ۔۔

1. اسپند: ایک جھاڑی نما پودا ہے (جسے اردو میں عام طور پر حرمل کہا جاتا ہے). اس کے سیاہ بیجوں کو عام طور پر نظر بد اتارنے کے لیے دھونی دینے اور روایتی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔

Categories
تراجم فکشن

علامات اور نشانیاں

ولادیمیر نابوکوف
انگریزی سے ترجمہ: ندیم اقبال

ولادیمیر نابوکوف کی یہ کہانی آج کے شمارہ 126 میں شامل ہے، خریدنے کے لیے اس نمبر پر وٹس ایپ کیجیے: 03003451649

ولادیمیر نابوکوف کی یہ کہانی آج کے شمارہ 126 میں شامل ہے، خریدنے کے لیے اس نمبر پر وٹس ایپ کیجیے: 03003451649

گزشتہ چار برسوں میں اب چوتھی مرتبہ انھیں وہی مسئلہ درپیش تھا کہ ایک ایسے نوجوان کے لیے سالگرہ کا کون سا تحفہ لے کر جایا جائے جو ناقابلِ علاج حد تک مخبوط الحواس یا پاگل ہو چکا تھا۔ اسے کسی قسم کی کوئی خواہشات نہ تھیں۔ انسانی ہاتھ سے بنائی ہوئی اشیا اس کے لیے یا تو بدی کے چھتے جیسی تھیں اور ایسی ہلاکت خیز سرگرمی سے لرزاں اور فعال تھیں جسے صرف وہی محسوس کر سکتا تھا، یا پھر مجموعی انسانی زندگی کی ایسی کثیف آسائشیں تھیں جن کا اس کی مجرّد زندگی میں کوئی مصرف نہ تھا۔ ایسی بےشمار اشیا کو مسترد کرنے کے بعد، جو اُسے ناراض یا دہشت زدہ کر سکتی تھیں (مثلاً کل پُرزوں یا چابی سے چلنے والی کوئی بھی شے ممنوع تھی)، اس کے والدین نے لذیذ اور تازہ پھلوں کے مربے کا انتخاب کیا۔ دس مختلف پھلوں کے یہ مربے، دس چھوٹے چھوٹے خوبصورت مرتبانوں میں بند، ایک نفیس سی ٹوکری میں رکھے ہوے تھے۔

اس کی پیدائش کے وقت تک ان کی شادی کو ایک طویل عرصہ گزر چکا تھا اور اب وہ کافی بوڑھے ہو چکے تھے۔ خاتون کے رُوکھے مٹیالے بال لاپروائی سے ایک جوڑے میں باندھے گئے تھے۔ وہ سیاہ رنگ کے سستے ترین لباس پہنا کرتی تھی۔ اپنی ہم عمر عورتوں کے برعکس (مثلاً مسز سول، ان کے سامنے والی پڑوسن، کا چہرہ میک اپ سے ہر وقت گلابی اور ارغوانی رہا کرتا تھا اور جس کے ہیٹ پر مصنوعی پھولوں کا ایک گچھا سجا رہتا تھا) اس کا سفید برفیلا چہرہ، موسمِ بہار کی عیب جُو روشنی میں بالکل سپاٹ اور پھیکا دکھائی دیتا تھا۔ اس کا شوہر، جو اپنے پرانے ملک میں ایک کامیاب کاروباری شخص تھا، اب یہاں نیویارک میں مکمل طور پر اپنے بھائی اضحاک کے سہارے زندگی گزار رہا تھا جو چالیس برس کے عرصے میں اب ایک حقیقی امریکن بن چکا تھا۔ اضحاک سے ان کی ملاقات شاذ و نادر ہی ہوا کرتی تھی اور انھوں نے اس کا نام شہزادہ رکھ چھوڑا تھا۔

اس جمعے کو، جو اُن کے بیٹے کی سالگرہ کا دن تھا، ہر چیز غلط ہوتی چلی گئی۔ سب وے ٹرین میں دو سٹیشنوں کے درمیان خرابی پیدا ہو گئی اور اگلے پندرہ منٹ تک انھیں سواے اپنے تابعدار دل کی دھڑکنوں اور اخبارات کے صفحات پلٹنے کی آوازوں کے، کوئی اَور آواز سنائی نہ دی۔ ٹرین سے اتر کر انھیں جس بس میں سوار ہونا تھا، اس کے آنے میں تاخیر ہو گئی اور انھیں کافی وقت تک ایک گلی کے کونے پر اس بس کا انتظار کرنا پڑا اور بالآخر جب وہ بس آئی تو ہائی سکول کے باتونی بچوں سے ٹھساٹھس بھری ہوئی تھی۔ جب انھوں نے اس بھورے مٹیالے راستے پر چلنا شروع کیا جو ذہنی صحت کے ہسپتال کی طرف جاتا تھا تو بارش شروع ہو گئی۔ وہاں پہنچ کر انھیں مزید انتظار کرنا پڑا اور ان کے بیٹے کے بجاے (جو عموماً تیز تیز چلتا ہوا کمرے میں داخل ہوتا تھا، بڑھی ہوئی شیو، پریشاں حال، مہاسوں اور پھنسیوں بھرے چہرے پر خفگی اور آزردگی کا تاثر لیے) ایک نرس داخل ہوئی جسے وہ دونوں جانتے تھے مگر کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے تھے، اور چمکتے چہرے کے ساتھ انھیں بتایا کہ ان کے بیٹے نے ایک مرتبہ پھر اپنی جان لینے کی کوشش کی ہے۔ ویسے وہ ٹھیک تھا، اس نے مزید بتایا، مگر والدین سے ملاقات شاید اس کے ذہنی اختلال میں اضافہ کر کے مزید مضطرب کر دے گی۔ وہ جگہ ویسے بھی شکستہ حال اور ذلت آمیز حد تک عملے کی کمی کا شکار تھی اور وہاں چیزوں کو کبھی غلط جگہ رکھ کر بھول جانا اور کبھی بری طرح گڈمڈ کر دینا عام سی بات تھی، لہٰذا انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنا تحفہ وہاں دفتر میں نہیں چھوڑیں گے بلکہ اگلی مرتبہ اس سے ملاقات کے لیے آتے ہوے اپنے ساتھ لیتے آئیں گے۔

عمارت سے باہر نکل کر عورت نے پہلے انتظار کیا کہ اس کا شوہر اپنی چھتری کھول لے، اور پھر اس کا بازو تھام لیا۔ وہ بار بار کھنکھار کر اپنا گلا صاف کر رہا تھا۔ وہ ایسا اُس وقت کیا کرتا تھا جب وہ پریشان ہوتا تھا۔ وہ دونوں سڑک کی دوسری جانب بنے ہوے بس اسٹاپ کی چھت کے نیچے آکھڑے ہوے اور اس کے شوہر نے اپنی چھتری بند کر لی۔

چند قدم دور ہوا میں لہراتے اور پانی ٹپکتے ہوے ایک درخت کے نیچے، ایک ننھا سا، بے پروبال پرندہ، پانی کے ایک چھوٹے سے گڑھے میں بےبسی سے پھنسا ہوا پھڑپھڑاتے ہوے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ بس سے سب سٹیشن تک کے لمبے سفر کے دوران اس کے اور اس کے شوہر کے درمیان ایک لفظ کا بھی تبادلہ نہیں ہوا۔ ہر مرتبہ جب بھی اس کی نظر اس کے سِن رسیدہ ہاتھوں پر پڑتی جو چھتری کے دستے کو گرفت میں لیے اینٹھے ہوے تھے، اور ان کی پھولی ہوئی رگیں اور جلد پر پڑے بھورے دھبے نظر آتے تو اسے اپنے آنسو روکنا مشکل ہو جاتا تھا۔ جب اس نے اپنے ذہن کو کسی اَور خیال میں لگانے کے لیے اِدھر اُدھر دیکھا تو اسے یہ دیکھ کر ایسا صدمہ ہوا جس میں رحم، ترس، دردمندی اور حیرت کی آمیزش تھی کہ ایک مسافر لڑکی جس کے بال گہرےکتھئی تھے اور پیروں کے سرخ ناخن انتہائی غلیظ تھے، ایک عمررسیدہ عورت کے کاندھے پر سر رکھے رو رہی تھی۔ اس بوڑھی عورت کی شکل کس سے مشابہ تھی؟ اس کی شکل ربیکا بوری سوونا سے ملتی تھی جس کی بیٹی نے برسوں پہلے، مِنسک میں، سولوویشک خاندان کے ایک فرد سے شادی کرلی تھی۔

پچھلی مرتبہ جب اس لڑکے نے یہ کوشش کی تھی تو، ڈاکٹر کے بقول، اس نے جو طریقہ اختیار کیا تھا وہ قوتِ اختراع کا ایک شاہکار تھا۔ وہ تو کامیاب بھی ہو گیا ہوتا اگر ایک حاسد مریض نے یہ نہ سوچا ہوتا کہ وہ اُڑنا سیکھ رہا ہے، اور بروقت اسے پکڑ کر روک نہ لیا ہوتا۔ دراصل وہ اپنی دنیا میں ایک شگاف پیدا کر کے فرار ہونا چاہتا تھا۔ اس کے فریبِ خیال اور فکری مغالطوں کا پورا ایک نظام تھا جو ایک ماہانہ سائنسی جریدے میں شائع ہونے والے تفصیلی مضمون کا موضوع بھی رہا تھا اور جو ذہنی صحت کے اس ہسپتال کے ڈاکٹر نے اُن دونوں کو پڑھنے کے لیے بھی دیا تھا، لیکن وہ اور اس کا شوہر، بہت عرصہ پہلے ہی، گہرے سوچ بچار کے بعد، اپنی حد تک، اسے سمجھ چکے تھے۔ اس مضمون کا عنوان ’ایک سے زائد حوالہ جات والا مالیخولیا‘(Referential mania) تھا۔ اس انتہائی غیرمعمولی مرض میں مریض یہ تصور کر لیتا ہے کہ اس کے گرد رونما ہونے والی ہر بات مخفی طور پر اس کے وجود اور شخصیت سے متعلق ہے۔ وہ حقیقی لوگوں کو تو اس سازش سے خارج کر دیتا ہے کیونکہ وہ خود کو دیگر لوگوں سے بےپناہ ذہین سمجھتا ہے؛ وہ جہاں جہاں جاتا ہے مظاہرِ قدرت سایہ بن کر اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ گھورتے ہوے آسمان پر چھائے بادل، سست رو نشانیوں کے ذریعے، ایک دوسرے کو اس کے متعلق ناقابلِ یقین حد تک تفصیلی معلومات بھیجتے ہیں۔ شام ڈھلے، درخت، سادہ ترین حروفِ تہجی میں، پُراسرار اشاروں یا حرکات کے ذریعے اس کے عمیق ترین خیالات پر گفتگو کرتے ہیں۔ بلور، داغ دھبے اور سورج کی کرنیں ایسے نقش بناتی ہیں جو انتہائی ہولناک ہوتے ہیں، اور ان نقوش میں ایسے پیغامات مخفی ہوتے ہیں جنھیں اسے لازماً ایک خفیہ عبارت میں پڑھنا اور سمجھنا ہوتا ہے۔ ہر شے ایک رمز ہے اور ہر شے کا موضوع اس کی ذات ہے۔

اس کے اردگرد ہر جگہ جاسوس پھیلے ہوے ہیں جن میں سے کچھ تو صرف غیرمتعلق نگران ہیں، مثلاً شیشے کی اشیا کی سطحیں اور ساکن تالاب، جبکہ دوسرے، جیسے دکانوں میں لٹکے کوٹ، متعصب اور بدظن، نظر رکھنے والے ہیں جو دلی طور پر اسے جان سے مارنا چاہتے ہیں۔ کئی اَور، مثلاً بہتا پانی، طوفانِ باد و باراں وغیرہ، پاگل پن کی حد تک ہسٹیریا کا شکار ہیں اور اس کے متعلق ایک انتہائی مسخ شدہ رائے رکھتے ہیں اور مضحکہ خیز حد تک اس کی سرگرمیوں کی تشریح اور توضیح کرتے رہتے ہیں۔ اسے ہمیشہ چوکنا رہنا ہو گا اور اپنی زندگی کے ہر لمحے اور ہر دور میں اشیا کی لہردار حرکتوں میں مخفی خفیہ پیغامات کو پڑھنا ہو گا۔ وہ ہوا جو وہ سانس کے ذریعے اپنے بدن میں لیتا ہے وہ تک نشان زد ہوتی ہے اور درجہ بندی کرکے محفوظ کر دی جاتی ہے۔ اگر تو یہ تمام تر اشتیاق اور تعلق اس کے گِردوپیش تک ہی محدود رہتے تو کوئی بات نہ تھی مگر غم تو یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے! ہر بڑھتے فاصلے کے ساتھ ساتھ، وحشیانہ بدنامی اور رسوائی کے تیز رو دھارے اپنے حجم، مقدار اور طرّاری میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اس کے خون کے خلیوں کے تاریک سائے، جو اپنے ناپ سے لاکھوں گنا بڑے کر دیے جاتے ہیں، بڑے بڑے میدانوں میں اُڑتے پھرتے ہیں اور ان سے بہت پرے سنگِ خارا کی سی سختی، مضبوطی اور اونچائی والے پہاڑ اور کراہتے ہوے صنوبر کے اونچے درخت، باہم مل کر اس کے وجود کی مطلق سچائی کو بیان کرتے ہیں۔

……….

جب وہ سب وے کی گڑگڑاہٹ اور بدبودار فضا سے باہر آئے تو دن کی آخری تلچھٹ سڑک کی روشنیوں سے گڈمڈ ہو رہی تھی۔ وہ رات کے کھانے کے لیے مچھلی خریدنا چاہتی تھی لہٰذا اس نے مربے کے مرتبانوں والی ٹوکری شوہر کے حوالے کی اور اسے گھر جانے کے لیے کہا۔ جب وہ اپنے کرائے پر لیے گھر پہنچا اور تیسری منزل کی سیڑھیاں چڑھ کر اپنے دروازے کے سامنے پہنچا تو اسے یاد آیا کہ چابیاں تو وہ دن میں کسی وقت بیوی کو دے چکا تھا۔ وہ خاموشی سے سیڑھیوں پر بیٹھ گیا اور خاموشی ہی سے اُس وقت اٹھ کھڑا ہوا جب دس منٹ کے بعد اس کی بیوی بہ دقّت سیڑھیاں چڑھتی اوپر پہنچی۔ وہ پژمردگی سے مسکرا رہی تھی اور اپنی بےوقوفی پر خود کو ملامت کرتے ہوے تاسّف سے سر ہلا رہی تھی۔ وہ دونوں اپنے دو کمروں کے فلیٹ میں داخل ہوے۔ وہ فوراً آئینے کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ دونوں انگوٹھوں کی مدد سے، اپنے منھ کو زور لگا کر کھولتے اور ایک مضحکہ خیز شکل بناتے ہوے اس نے اپنی مایوسانہ حد تک تکلیف دہ مصنوعی بتیسی باہر نکالی۔ جب تک عورت نے میز پر کھانا لگایا، وہ اپنا روسی زبان کا اخبار پڑھتا رہا۔ یونہی اخبار پڑھتے ہوے وہ پتلا دلیہ بھی کھاتا رہا جس کے لیے دانتوں کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ وہ اس کی مزاج آشنا تھی اس لیے خاموش رہی۔

جب وہ سونے کے لیے چلا گیا تب بھی وہ ڈرائنگ روم میں بیٹھی رہی اور میلی کچیلی تاش کی گڈیاں اور پرانے فوٹوؤں کے البم دیکھتی رہی۔ عمارت کے احاطے کے اُس پار جہاں بارش کی بوندیں دھات پر گر کر ٹن ٹن کی آواز پیدا کر رہی تھیں، کھڑکیاں خوب روشن تھیں اور ایک کھڑکی سے ایک شخص سیاہ پتلون پہنے، دونوں ہاتھ سر کے نیچے باندھے، کہنیاں اٹھائے، کمر کے بل ایک بےترتیب بستر پر لیٹا، دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے پردہ برابر کر دیا اور تصویروں کا معائنہ شروع کیا۔ اس کا بیٹا، نوزائیدہ، دیگر بچوں کے مقابلے میں زیادہ حیران دکھائی دے رہا تھا۔ اچانک ایک تصویر البم سے باہر گر پڑی جو اس جرمن خادمہ اور اس کے پھولے پھولے گالوں والے منگیتر کی تھی جو لیپزگ میں ان کے گھر ملازم تھی۔ وہ البم کے صفحات پلٹتی چلی گئی: مِنسک، انقلاب، لیپزِگ، برلن، دوبارہ لیپزگ، ایک ڈھلوان چھت والے مکان کا اگلا حصہ، بری طرح دھندلائی ہوئی تصویر۔

روسی نژاد امریکی ادیب ولادیمیر نابوکوف زبان، یادداشت، اور احساسات کی باریکیوں کو غیر معمولی مہارت سے فکشن میں برتنے کے لیے مشہور ہیں۔

اس تصویر میں لڑکا، جب اس کی عمر چار برس تھی، شرمیلے انداز میں، پیشانی پر شکنیں، ایک جوشیلی گلہری سے نظریں چُراتے ہوے، جیسا کہ وہ کسی بھی اجنبی سے ملتے ہوے کیا کرتا تھا۔ یہ تصویر آنٹی روزا کی، ہر بات میں مین میخ نکالنے والی، استخوانی چہرے اور غصیلی آنکھوں والی عمررسیدہ عورت جو بُری خبروں، دیوالیہ پن، ٹرین کے حادثات اور سرطان کی رسولی کے خوف و اضطراب سے تھرتھراتی ایک دنیا میں اس وقت تک زندہ رہی جب تک کہ جرمنوں نے اسے ان تمام لوگوں سمیت، جن کی اسے ہمیشہ فکر رہا کرتی تھی، موت کے گھاٹ نہ اتار دیا۔ لڑکا، عمر چھ سال، یہ اُس وقت کی تصویر ہے جب وہ انسانی ہاتھ پاؤں رکھنے والے پرندوں کی حیرت انگیز تصویریں بنایا کرتا تھا اور کسی عمررسیدہ شخص کی طرح نیند نہ آنے کی بیماری کا شکار تھا۔ یہ اس کا کزن ہے جو اَب شطرنج کا ایک مشہور کھلاڑی ہے۔ ایک اَور تصویر، لڑکے کی عمر آٹھ برس، یہ وہ وقت تھا جب اسے سمجھنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ وہ دیوار پر چسپاں نقشیں کاغذوں اور ایک کتاب میں ایک خاص تصویر سے خوفزدہ ہو جاتا تھا جس میں صرف ایک دیہی منظر میں ایک چھوٹی پہاڑی، چند چٹانیں اور ایک ٹُنڈمُنڈ درخت پر لٹکا بیل گاڑی کا ایک پہیہ دکھایا گیا تھا۔ ایک اَور تصویر، جب وہ دس برس کا تھا، جس برس انھوں نے یورپ چھوڑا تھا۔ عورت کو اس سفر کی خِجالت، خواری، ندامت، ترس، تاسف اور ذلت بھری دشواریاں بھی یاد تھیں اور وہ گھٹیا، پست، کندذہن اور کمینے بچے بھی یاد تھے جن کے ساتھ لڑکے کو امریکہ میں آمد کے بعد ایک خصوصی سکول میں رکھا گیا تھا، اور پھر اس کی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب نمونیا کے بعد ہونے والی ایک طویل صحت یابی کے دوران، اس کے وہ غیرمنطقی اور حد سے بڑھے ہوے خوف اور اوہام — جنھیں اس کے والدین نے سختی سے یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ یہ ایک خداداد قابلیت کے حامل، انتہائی ذہین بچے کا ایک غیرمعمولی، حیرت انگیز اور نرالا، عمومی کردار سے مختلف ایک تلوّن ہے — شدت اختیار کرتے چلے گئے اور ایسی ٹھوس پیچیدہ گتھیوں میں الجھتے اور باہمی مربوط التباسات اور فریبِ نظر میں ڈھلتے چلے گئے جو اپنی اس صورت میں عام اذہان کی سمجھ سے ماورا تھے۔

عورت یہ سب کچھ، اور اس سے بھی سوا جو کچھ ہوا، قبول کرتی چلی گئی کیونکہ بہرحال زندہ رہنے کا مطلب ایک کے بعد ایک خوشی، مسرت اور شادمانی سے محروم ہوتے چلے جانا اور نقصان کو برداشت کیے جانا بھی ہے؛ بلکہ اس کے معاملے میں تو کوئی خوشی ہی نہیں تھی ، فقط ممکنہ طور پر کسی بہتری کے امکانات کی امید ہی رہی تھی۔ اس نے بار بار پلٹ کر آنے والی درد کی ان لہروں کو یاد کیا جو اس نے اور اس کے شوہر نے کسی نہ کسی طور پر برداشت کی تھیں۔ اس نے ان غیرمرئی عفریتوں کے بارے میں سوچا جو اُن کے بیٹے کو ناقابلِ تصور انداز سے ذہنی اور جسمانی ایذا پہنچا رہے تھے، دنیا میں موجود ناقابلِ پیمائش محبت اور نرم دلی کو یاد کیا، اس رحم دلی کی تقدیر کو یاد کیا جسے یا تو کچل دیا جاتا ہے، ضائع کر دیا جاتا ہے یا پھر دیوانگی اور پاگل پن کا روپ دے دیا جاتا ہے، ان نظرانداز کردہ بچوں کو یاد کیا جو غلیظ کونے کھدروں میں چھپے اپنے آپ سے باتیں کرتے اور منمناتے رہتے ہیں، ان خوبصورت، خودرو جڑی بوٹیوں کو یاد کیا جو کسان کی نگاہ سے چھپ نہیں سکتی ہیں۔

…………

آدھی رات گزر چکی تھی جب اسے خواب گاہ سے اپنے شوہر کے کراہنے کی آواز سنائی دی اور پھر فوراً ہی وہ ڈگمگاتا ہوا نشست گاہ میں داخل ہوا۔ اس نے اپنے شب خوابی کے گاؤن کے اوپر وہ پرانا اوورکوٹ پہن رکھا تھا جس کا کالر استراخانی اُون سے بنا ہوا تھا اور جو اسے اپنے نیلے رنگ کے عمدہ جامۂ غسل سے بھی زیادہ بڑا تھا۔

’’مجھے نیند نہیں آرہی ہے،‘‘ وہ چلّایا۔
’’تمھیں نیند کیوں نہیں آ رہی؟‘‘ عورت نے پوچھا۔ ’’تم تو اس قدر تھکے ہوے تھے۔‘‘
’’مجھے نیند اس لیے نہیں آ رہی کہ میں مرنے والا ہوں،‘‘ اس نے کہا اور کاؤچ پر لیٹ گیا۔
’’کیا تمھارے معدے میں درد ہے؟ کیا میں ڈاکٹر سولوو کو فون کروں؟‘‘
’’کوئی ڈاکٹر نہیں چاہیے،‘‘ وہ کراہا۔ ’’لعنت ہو ان ڈاکٹروں پر!‘‘
’’ہمیں فوراً اسے وہاں سے نکال لینا چاہیے، ورنہ ہم ذمےدار ہوں گے۔۔۔۔ ہم ذمےدار ہوں گے!‘‘ اس نے ہمت کی، اٹھ کر بیٹھ گیا اور دونوں پاؤں فرش پر رکھے، بند مٹھیوں سے اپنی پیشانی پر ضرب لگانے لگا۔
’’ٹھیک ہے،‘‘ وہ آہستگی سے بولی۔ ’’ہم کل صبح اسے گھر لے آئیں گے۔‘‘
’’مجھے چائے مل جائے تو کیا ہی بات ہے،‘‘ اس کے شوہر نے کہا اور غسل خانے چلا گیا۔ عورت نے دشواری سے جھکتے ہوے تاش کے کچھ پتّے اور فرش پر گری ہوئی دو تین تصویریں اٹھائیں… حکم کا غلام، حکم کا اِکّا، خادمہ ایلسا اور اس کا بدکار معشوق۔

وہ غسل خانے سے واپس آیا تو ہشاش بشاش تھا۔ وہ بلند آواز میں کہنے لگا، ’’میں نے اس مسئلے کا حل سوچ لیا ہے۔ ہم اسے خواب گاہ والا بستر دے دیں گے اور دونوں باری باری رات کا کچھ حصہ اس کے پاس گزاریں گے اور بقیہ وقت اس کاؤچ پر گزار لیں گے۔ ہم کوشش کریں گے کہ ڈاکٹر ہفتے میں کم از کم دو مرتبہ اس کا معائنہ کرے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ شہزادہ کیا کہتا ہے؛ ویسے بھی اس کے پاس کہنے کے لیے کچھ زیادہ نہیں ہو گا، کیونکہ یہ سب ہمیں ویسے بھی سستا پڑے گا۔‘‘
فون کی گھنٹی بجی۔ یہ فون کی گھنٹی بجنے کا ایک غیرمعمولی وقت تھا۔ وہ کمرے کے وسط میں کھڑا اس چپل میں پیر ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا جو پاؤں سے نکل گئی تھی اور دانت نہ ہونے کے باعث، بچکانہ انداز میں منھ کھولے، بیوی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ چونکہ اس سے زیادہ انگریزی جانتی تھی لہٰذا فون کا جواب بھی ہمیشہ وہی دیا کرتی تھی۔

’’کیا میں چارلی سے بات کر سکتی ہوں؟‘‘ ایک لڑکی کی بیزار کن آواز سنائی دی۔
’’تم نے کس نمبر پر فون کیا ہے؟… تم نے غلط نمبر پر فون کیا ہے۔‘‘
اس نے آہستگی سے فون کریڈل پر واپس رکھ دیا اور ایک ہاتھ اپنے دل پر رکھ لیا۔

’’اس فون نے تو میری جان ہی نکال لی تھی!‘‘ وہ ذرا سا مسکرایا اور پھر اپنی جوشیلی خودکلامی دوبارہ شروع کر دی۔ دن نکلتے ہی وہ دونوں اسے گھر لے آئیں گے۔ اس کی ذاتی حفاظت کی خاطر، وہ گھر کے تمام چاقو چھریاں ایک دراز میں تالا لگا کر رکھیں گے۔ اپنی بدترین کیفیت میں بھی دوسروں کو اس سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔
فون کی گھنٹی دوسری مرتبہ بجی۔

وہی بےکیف آواز چارلی کا پوچھ رہی تھی۔

’’تم غلط نمبر پر فون کر رہی ہو۔ میں بتاتی ہوں تم کیا کر رہی ہو۔ تم شاید زیرو کے بجاے ’او‘ کا حرف ڈائل کر رہی ہو۔‘‘ اس نے فون دوبارہ کریڈل پر رکھ دیا۔

وہ نصف شب کو اپنی غیرمتوقع اور دعوت جیسی چائے پینے لگے۔ وہ زور زور سے آواز نکالتے ہوے چائے کی چسکیاں لے رہا تھا۔ اس کا چہرہ سرخ تھا۔ وہ رہ رہ کر اپنا گلاس ہوا میں بلند کرتا اور اسے ایک دائرے میں گردش دیتا تاکہ شکر خوب اچھی طرح حل ہو جائے۔ اس کے گنجے سر کے ایک جانب ایک پھولی ہوئی رگ بہت نمایاں نظر آ رہی تھی اور ٹھوڑی پر سفید کھونٹیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ سالگرہ کا تحفہ میز پر رکھا ہوا تھا۔ جب عورت نے دوسری مرتبہ اس کے گلاس میں چائے انڈیلی تو مرد نے عینک لگائی اور مسرت اور انبساط سے ایک بار پھر اُن چمکیلے، زرد، سبز اور سرخ رنگ کے مرتبانوں کا جائزہ لیا۔ اس کے بےڈول اور مرطوب ہونٹ ان مرتبانوں پر لکھی خوشنما عبارت پڑھنے لگے۔ خوبانی، انگور، آلو بخارا، سنگترہ… ابھی وہ جنگلی سیب تک ہی پہنچا تھا کہ فون ایک بار پھر بج اٹھا۔

Categories
شاعری

دنیا شاعروں کے سپرد کر دو (نظم گو: محمد رضا عبد الملکیان، ترجمہ: مدثر عباس)

دنیا شاعروں کے سپرد کر دو
مطمئن رہو
شاعر لفظوں کو بیدار کرتے ہیں
اور صفحوں پر پھول اور گندم کاڑھتے ہیں

دنیا شاعروں کے سپرد کر دو
بیابان اور بہار دونوں خوشحال ہو جائیں گے
اور دونوں ہمیشہ جوان رہیں گے

دنیا شاعروں کے سپرد کر دو
اطمینان رکھو کہ سپاہی ترانے
گاتے ہوئے عاشق بن جائیں گے
اور بندوق پر سر رکھ کر ہمیشہ
کے لئے سو جائیں گے
اور کبھی بیدار نہیں ہوں گے

دنیا شاعروں کے سپرد کر دو
یہ دیواروں کو گرا دیں گے
اور سرحدوں کو قوس قزح کی
طرح خوش نما کر دیں گے
درخت چلتے ہوئے سڑکوں پر آ جائیں گے
اور بسوں کی قطار میں
شگوفوں کی طرح بیٹھ جائیں گے
پرندے ان پر سوار ہو جائیں گے
اور اپنے ساتھی شہریوں کو
سورج کی روشنی سے
متعارف کروائیں گے

کیا تم یہی نہیں چاہتے تھے؟
پس کیوں بے وجہ خاموش کھڑے ہو؟
اس تامل اور ہچکچاہٹ کو ختم کرو
اور دنیا شاعروں کے حوالے کرو
اگر یہ سرگرداں مصرعے صندوق
سے باہر نہ آئے تو بوڑھے ہو جائیں گے
اور کبھی بھی پرندہ نہیں بن پائیں گے

اور پرندوں کے بغیر دنیا ایک جہنم ہے
جو ہر وقت آگ برساتی رہتی ہے

محمد رضا عبد الملکیان
ترجمہ : مدثر عباس

Categories
فکشن

اندھا کتا (تحریر: آر کے نارائن، ترجمہ: رومانیہ نور)

یہ ترجمہ محترم یاسر حبیب کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ یاسر حبیب “پاکستان کی مادری زبانوں کا عالمی ادب – اردو قالب میں” کے عنوان سے ایک فیس بک گروپ کے ایڈمن ہیں۔ یہ گروپ اردو قارئین کو پاکستان کی دیگر زبانوں میں لکھے گئے ادب سے روشناس کرانے کا اہم ذریعہ ہے۔

یہ کوئی بہت متاثر کن یا اعلیٰ نسل کا کتا نہیں تھا۔ یہ ان کتوں میں سے تھا جو ہر جگہ ادھر ادھر عام نظر آتے ہیں۔ اس کا رنگ سفید اور مٹیالا تھا، دم کٹی ہوئی تھی جو خدا جانے کس نے کب کاٹی تھی۔گلی میں ہی جنم ہوا تھا۔ بازار کی بچی کھچی اور پھینکی ہوئی اشیا کھا کر پیٹ بھرتا تھا۔اس کی گول گول چتکبری آنکھیں تھیں۔انداز بھی کوئی نرالا نہیں تھا اور وہ بلا وجہ ہی بھونکتا رہتا۔

دو سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی اس کے جسم پر سینکڑوں زخموں کے نشان تھے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی تھی کہ دیگر کتوں سے اس کی سینکڑوں لڑائیاں ہوئی ہوں گی۔ گرم دوپہروں میں اسے آرام کی ضرورت پیش آتی تو بازار کے مشرقی دروازے کی طرف بدرو کے نیچے آڑا ترچھا پڑا رہتا تھا۔ شام کو اس کے معمول کے چکر شروع ہو جاتے وہ ارد گرد کی گلیوں اور سڑکوں پر آوارہ گردی کرتا۔ اس دوران وہ گلی کی چھوٹی موٹی لڑائیوں میں بھی شریک رہتا۔ سڑک کنارے سے کھانے کی چیزیں اٹھا کر رات پڑے بازار کے مشرقی دروازے پر لوٹ آتا۔

عرصہ تین سال تک ایسے ہی چلتا رہا۔ اس کی زندگی میں تبدیلی تب آئی جب ایک اندھا بھکاری بازار میں آ کر وہاں بیٹھنے لگا۔ ایک بڑھیا اسے صبح سویرے وہاں چھوڑ جاتی۔ دن میں وہ کچھ کھانے کو لے کر آتی۔ شام کو اپنے سکے گنتی اور رات کو گھر لے جاتی۔

کتا بھی اندھے بھکاری کے قریب سو رہا تھا۔ وہ کھانے کی خوشبو سے کسمسایا۔ وہ اپنے ٹھکانے سے نکلا اور بھکاری کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اپنی دم کو ہلایا اور اور اس کے پیالے پر اس امید سے نظریں جما دیں کہ اسے بھی کچھ بچا کھچا کھانے کو ملے گا۔ بوڑھے نے ہوا میں ہاتھ لہرائے اور پوچھا ” کون ہے یہاں؟” اس پر کتا اس کے قریب آ گیا اور ہاتھ چاٹنے لگا۔ بوڑھے نے سر سے لےکر دم تک اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا۔

” تم کتنے پیارے ہو! آؤ میرے ساتھ_” اس نے مٹھی بھر کھانا کتے کو دیا جو اس نے شکر گزاری سے کھایا۔ یہ ایک مبارک گھڑی تھا جب ان کی دوستی کا آ غاز ہوا۔ ان کی روزانہ وہاں ملاقات ہوتی۔

کتے نے اپنی آوارہ گردی کم کر دی تھی۔ وہ اندھے بھکاری کے قریب بیٹھا اسے صبح سے شام تک خیرات وصول کرتے ہوئے دیکھتا رہتا۔ کتا بھی لوگوں کو بھکاری کو بھیک دینے کے لئے مجبور کرتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کتے کو سمجھ آ گئی کہ راہ گیروں کا اندھے بھکاری کے سامنے سکے گرانا لازمی تھا۔ اگر لوگ سکے نہ دیتے تو کتا ان کا پیچھا کرتا ، ان کے کپڑے دانتوں میں دبا لیتا ، انھیں واپس بھکاری کے پاس کھینچ لاتا اور انھیں مجبور کرتا کہ بھکاری کے کشکول میں سکے ڈالیں۔

ایک شرارتی بچہ بھکاری کو تنگ کیا کرتا تھا۔ اس کے ذہن میں شیطانی شرارتیں سمائی رہتی تھیں۔ وہ بھکاری کو برے برے ناموں سے پکارتا اور اس کے سکے چرا کر بھاگ جاتا۔ بھکاری بے بسی سے اس پر چلّاتا اور اپنی لاٹھی بچے پر گھماتا۔ یہ لڑکا جمعرات کو سبزیاں اور کھیرے سر پر لاد کر لایا کرتا تھا کیونکہ اس دن جمعرات بازار لگتا تھا۔ ہر جمعرات کو یہ لڑکا اندھے بھکاری کی زندگی میں اک نئی مصیبت لے کر آتا تھا۔ ایک عطر فروش بھی اپنے چھکڑے پر سامان لاد کر آیا کرتا تھا۔ ایک آدمی زمین پر بوریا بچھا کر اس پر اپنی سستی کتابوں کی نمائش لگاتا۔ ایک اور آدمی ایک بڑے فریم پر رنگ برنگے ربن لٹکا کر لاتا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو اسی محراب کے نیچے اپنی اشیاء فروخت کے لئے لایا کرتے تھے۔

ایک جمعرات اس لڑکے کو آتا دیکھ کر ایک پھیری والا بولا
” بوڑھے میاں ! تمھاری مصیبت سر پر آن کھڑی ہوئی _”

” اوہ خدایا! آج جمعرات ہے؟” اس نے تڑپ کر کہا۔ اس نے اِدھر اُدھر ہوا میں اپنے ہاتھ چلائے اور پکارا ” کتے! کتے! ادھر آؤ، تم کہاں ہو؟” اس نے ایک مخصوص آواز نکالی اور کتا وہاں آن کھڑا ہوا۔ کتے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ بڑ بڑایا ” اس ننھے شیطان کو ادھر مت آنے دینا۔” اسی لمحے لڑکا چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجائے وہاں پہنچ گیا۔

”بوڑھے میاں! تم ابھی تک اندھے ہونے کا ڈرامہ کر رہے ہو۔ اگر تم واقعی اندھے ہوتے تو تمھیں یہ سب معلوم نہ ہوتا_” وہ رک گیا۔ اس کا ہاتھ کشکول کی طرف بڑھ رہا تھا۔ کتے نے اس پر چھلانگ لگائی اور اس کے ہاتھوں پر اپنے پنجے گاڑ دئیے۔ لڑکے نے اپنا ہاتھ چھڑایا اور زندگی بچانے کے لئے بھاگ کھڑا ہوا۔ کتا اس کے پیچھے بھاگا اور اسے بازار سے بھگا کر دم لیا۔ ” اس معمولی نسل کے کتے کی اس بوڑھے سے محبت تو دیکھو!” عطر فروش نے حیرت کا اظہار کیا۔

ایک شام معمول کے وقت پر بڑھیا نہ آئی۔ اندھا آدمی پریشانی سے دروازے پر اس کا انتظار کرتا رہا کیونکہ شام رات میں ڈھل رہی تھی۔ جب وہ تھک ہار کر بیٹھ گیا تو ایک پڑوسی آیا اور بتایا کہ بڑھیا کا انتظار نہ کرو وہ اب دوبارہ نہیں آئے گی۔ آج دوپہر کو وہ چل بسی۔

بھری دنیا میں اندھے آدمی کی واحد پناہ گاہ اس کا گھر بھی چھن گیا اور وہ اس تنہا فرد سے بھی محروم ہو گیا جو اس کا خیال رکھتا تھا۔ ربن فروش نے تجویز پیش کی ” یہ لو سفید ربن۔۔۔۔۔” اس نے سفید ربن فروخت کرنے کے لئے پکڑا ہوا تھا ” میں تمہیں یہ مفت دوں گا۔ اسے کتے کے گلے میں باندھ دو۔ اگر اسے تم سے واقعی انسیت ہے تو وہ تمہاری رہنمائی کرے گا۔ ”

اب کتے کی زندگی میں اک نیا موڑ آ گیا تھا۔ اس نے بڑھیا کی جگہ لے لی تھی۔ اس کی آزادی مکمل طور پر کھو گئی تھی۔ اس کی زندگی سفید ربن کے اسی دائرے تک محدود ہو گئی تھی جتنی کہ ربن فروش نے اس کی لمبائی رکھی تھی۔ اسے اپنی تمام سابقہ زندگی اور پرانی سر گرمیوں کو بھولنا پڑا۔ وہ اس رسی کی درازی کی آخری حد تک ہی رہتا تھا۔ اگر وہ فطرت سے مجبور ہو کر اپنے دوست یا دشمن کتوں کو دیکھتا اور رسی تڑاتے ہوئے ان پر جھپٹتا تو اسے اپنے مالک سے گھونسا پڑتا۔ ” بدمعاش! مجھے گرانا چاہتے ہو؟ __ ہوش کرو_” کچھ ہی دنوں میں کتا اپنی فطرت اور خواہشات پر قابو پانا سیکھ گیا۔ اس نے دوسرے کتوں پر توجہ دینی چھوڑ دی۔ اگرچہ وہ اب بھی اس کی طرف بڑھتے اور غراتے تھے۔ اس کا اپنے ساتھی مخلوق کے ساتھ رابطے اور حرکت کا دائرۂِ کار کھو گیا۔

اس نقصان کی قیمت پر اس کے مالک کو بہت فائدہ ہوا۔ وہ اب اس طرح نقل و حرکت کرتا تھا جیسے اس نے زندگی میں پہلے کبھی نہیں کی تھی۔ سارا دن وہ کتے کی رہنمائی میں پیدل چلتا رہتا۔ ایک ہاتھ میں لاٹھی تھامے اور ایک ہاتھ میں کتے کی رسی پکڑے وہ کتے کی رہنمائی میں گھر سے پیدل نکلتا_ جو کہ بازار سے چند گز کے فاصلے پر ایک سرائے کے برآمدے کے کونے میں تھا۔ وہ بڑھیا کی موت کے بعد یہا ں منتقل ہو گیا تھا۔ وہ صبح سویرے ہی کام کا آغاز کر دیتا۔ اسے معلوم ہو گیا تھا کہ ایک ہی جگہ رکے رہنے کی بجائے چل پھر کر بھیک مانگنے سے اس کی کمائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ وہ گلیوں میں گھومتا پھرتا اور جہاں کہیں لوگوں کی آواز سنتا بھیک کے لئے ہاتھ بڑھا دیتا۔ دکانیں، سکول، ہسپتال، ہوٹل _ غرض اس نے کوئی جگہ نہ چھوڑی۔ جب اسے رکنا ہوتا تو کتے کی رسی کو کھینچتا اورجب اسے چلانا ہوتا تو بیل ہانکنے والے کی طرح چِلّاتا۔ کتا اسے گڑھے میں گرنے اور پتھروں سے ٹکرانے سے بچاتا۔ قدم بہ قدم بحفاظت اسے سیڑھیوں پر لے جاتا۔ یہ منظر دیکھ کر لوگ بھکاری کو سکے دیتے اور اس کی مدد کرتے۔ بچے اس کے ارد گرد اکٹھے ہو جاتے اور اسے اشیائے خورد پیش کرتے۔ کتا یقیناً ایک چست مخلوق ہے جو گاہے بہ گاہے اپنے تھکن زدہ معمولات کے بعد مناسب وقفوں سے آرام کرتا ہے۔ مگر یہ کتا _جو اب ٹائیگر کے نام سے جانا جاتا تھا _ کا تمام چین آرام ختم ہو گیا تھا۔ اسے تب ہی آرام کا موقع ملتا جب بوڑھا کہیں بیٹھتا۔ رات کو بوڑھا کتے کی رسی اپنی انگلی سے لپیٹ کر سوتا۔

” میں تمھیں کوئی موقع فراہم نہیں کر سکتا” وہ کہتا۔ روز بروز زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی دھن میں اس کا مالک آرام کو موقع گنوانا سمجھتا تھا اور کتے کو مسلسل اپنے قدموں پر چلنا پڑتا تھا۔ بسا اوقات اس کی ٹانگیں چلنے سے انکاری ہو جاتیں مگر وہ معمولی سی بھی سست رفتاری کا مظاہرہ کرتا تو اس کا مالک غصے میں اپنی لاٹھی سے اسے مارتا۔ کتا اس ظلم پر تلملاتا اور احتجاج کرتا ” کراہو مت بدمعاش! کیا میں تمھیں خوراک نہیں دیتا؟ تم بے کار وقت گزارنا چاہتے ہو؟ کیا تم ایسا کرو گے؟” اندھے بوڑھے نے گالی دی۔اندھے ظالم کے ساتھ بندھا ہوا کتا سست قدموں سے سارا دن گلیوں میں ادھر ادھر ، اوپر نیچے پھرتا رہتا۔ جب بازار میں خرید و فروخت بند ہو جاتی تو رات گئے دیر تک تھکے ماندے کتے کی درد بھری کراہیں سنی جا سکتی تھیں۔ اس کی ظاہری شکل کھو گئی تھی۔ جوں جوں وقت گزرا اس کی ہڈیاں اس کی جلد میں کھبتی گئیں۔اس کی پسلیاں جلد سے جھانکتی صاف نظر آتی تھیں۔

ربن فروش، ناول فروش اور عطر فروش اس کا مشاہدہ کرتے رہتے تھے۔ ایک شام جب کاروبار میں مندا تھا تینوں نے بیٹھ کر مشاورت کی۔ ” اس کتے کو غلامی کرتے دیکھ کر میرا دل پسیجتا ہے۔ کیا ہم کچھ نہیں کر سکتے؟” ربن فروش نے تبصرہ کیا۔ ” اب تو اس بد معاش نے ساہو کاری بھی شروع کر دی ہے۔ _ میں نے سبزی فروش سے یہ بات سنی ہے __ وہ اپنی ضروریات سے کہیں زیادہ کما رہا ہے۔ وہ پیسے کی خاطر شیطان بن چکا ہے ___” اسی لمحے عطر فروش کی نظر قینچی پر پڑی جو ربن کے فریم پر جھول رہی تھی۔ ” یہ ذرا مجھے پکڑاؤ” وہ بولا اور قینچی ہاتھ میں تھامے آگے بڑھا۔

اندھا بھکاری مشرقی دروازے کے سامنے سے گزر رہا تھا۔ کتا رہنمائی کے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔ راستے میں ہڈی کا ٹکڑا پڑا تھا اور کتا اسے کو حاصل کرنے کی تگ و دو میں تھا۔

رسی اندھے بھکاری کے ہاتھ میں تن گئی جس سے اس کے ہاتھ کو تکلیف پہنچی۔ اس نے رسی کھینچی اور کتے کو ٹھوکر ماری۔ کتا چلّایا اور کراہا مگر آسانی سے ہڈی تک نہ پہنچ سکا۔ اس نے ہڈی کی طرف ایک اور قدم بڑھایا۔ اندھا آدمی اس پر لعنتوں کے انبار لگا رہا تھا۔ عطر فروش نے قدم آگے بڑھایا، قینچی چلائی اور ربن کاٹ دیا۔ کتے نے چھلانگ ماری اور لپک کر ہڈی اٹھا لی۔ اندھا آدمی اپنی جگہ پر ساکت کھڑا رہ گیا۔ ربن کا بقیہ حصہ اس کے ہاتھوں میں جھول رہا تھا۔ ” ٹائیگر! ٹائیگر! تم کہاں ہو؟” وہ پکارا۔ عطر فروش چپکے سے کھسک آیا اور بڑ بڑایا، ” بے رحم شیطان! تم اسے کبھی دوبارہ نہیں پاسکتے۔ اس نے اپنی آزادی حاصل کر لی ہے۔ ” کتا تیز رفتاری سے بھاگ گیا۔ اس نے خوشی خوشی سارے نالوں میں ناک گھسیڑی۔ بھاگ کر دوسرے کتوں میں شامل ہو گیا اور بازار کے فوارے کے ارد گرد بھونکتے ہوئے آزادی سے چکر لگائے۔ اس کی آنکھیں خوشی سے جگمگا رہی تھیں۔ وہ اپنی پسندیدہ جگہوں قصاب کی دکان، چائے کے کھوکھے اور بیکری پر گیا۔

ربن فروش اور اس کے دوست بازار کے داخلی دروازے پر کھڑے ہو کر اندھے بھکاری کو راستہ ٹتولتے دیکھ کر لطف اندوز ہونے لگے۔ وہ اپنی جگہ پر ساکت کھڑا لاٹھی گھما رہا تھا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ ہوا میں معلق ہے۔ وہ گریہ کر رہا تھا ” ہائے ! میرا کتا کہاں ہے؟ میرا کتا کہاں ہے؟ کوئی ایسا نہیں جو مجھے میرا ٹائیگر لوٹا دے؟” اگر وہ پھر سے مجھے مل جائے تو میں اس کا خون کر دوں گا۔ ” اس نے ٹتولتے ہوئے سڑک پار کرنے کی کوشش کی۔ جگہ جگہ درجنوں گاڑیوں کے نیچے آنے سے بچا، کئی بار لڑھکا اور آخر کار ہانپنے لگا۔ ” اگر وہ کچلا جاتا تو اسی کا مستحق تھا۔ بے رحم انسان_” وہ اسے دیکھتے ہوئے بولے۔ تاہم بوڑھا کسی نہ کسی طرح کسی کی مدد سے سرائے کے بر آمدے کے کونے میں اپنے ٹھکانے پر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اور اپنے بوریے کے بستر پر ڈھیر ہو گیا۔ سفر کے تناؤ کی وجہ سے وہ نیم بے ہوش تھا۔

پھر وہ نظر نہ آیا۔ دس_ پندرہ_ حتیٰ کہ بیس روز گزر گئے۔ نہ ہی کتے کی کوئی بھنک ملی۔ وہ آپس میں تبصرے کیا کرتے۔ ”کتا یقیناً آزادی کی خوشی اور سرمستی میں دنیا گھوم رہا ہو گا۔ بھکاری بہر حال اب تک گزر گیا ہو گا۔ ” بمشکل ہی یہ جملہ ادا ہوا ہو گا کہ انھوں نے بھکاری کی لاٹھی کی مخصوص ٹپ ٹپ کی آواز سنی۔ انھوں نے فٹ پاتھ پر بھکاری کو کتے کی رہنمائی میں دوبارہ آتے ہوئے دیکھا۔ ” دیکھو ! دیکھو ! ” وہ چِلّائے، ” اس نے دوبارہ اس پر قابو پا لیا اور رسی باندھ دی_” ربن فروش خود کو باز نہ رکھ سکا اور پوچھا ” تم ان تمام دنوں میں کہاں رہے؟”

”جانتے ہو کیا ہوا!” اندھا آدمی کراہا ” یہ کتا بھاگ گیا تھا۔ میں تو اس کونے میں پڑا پڑا ایک دو دن تک مر ہی جاتاکھانے کو کچھ تھا نہ کوئی آنے کی کمائی تھی وہاں پر قید چل بستا اگر کل بھی ایسا ہوتا مگر یہ کتا لوٹ آیا_”

”کب؟ کب؟ ”

”کل رات، آدھی رات کا وقت ہو گا جب میں اپنے بستر پر سویا ہوا تھا وہ آ گیا اور میرا چہرہ چاٹنے لگا۔ میرا جی چاہتا تھا کہ اسے مار ڈالوں۔ میں نے اسے زور کا دھکا دیا۔ جو وہ زندگی بھر نہیں بھولے گا۔ ” بوڑھے آدمی نے بتایا۔ ”میں نے اسے معاف کر دیا۔ بہر حال وہ ایک کتا ہی تو تھا۔ وہ اتنے دن آزادی سے گھوما پھرا جب تک سڑک کنارے بچا کھچا کھانے کو ملتا رہا۔ مگر بھوک اسے میرے پاس واپس کھینچ لائی۔ مگر اب وہ مجھے چھوڑ کر نہیں جائے گا۔ دیکھو! اب مجھے یہ مل گئی ہے__” اس نے رسی لہرائی۔ اس مرتبہ یہ لوہے کی زنجیر تھی۔

ایک مرتبہ پھر کتے کی آنکھوں میں بے دلی اور نا امیدی کی تصویر در آئی تھی۔ ” اپنی راہ لو احمق! ” اندھا بھکاری ایک بیل ہانکنے والے کی طرح ہنکارا۔ اس نے رسی کو جھٹکا دیا اور اپنی لاٹھی سے اسے ٹھوکر ماری اور کتے نے سستی سے اپنے قدم آگے بڑھا دئیے۔ وہ ٹپ ٹپ کی آواز کو دور جاتے ہوئے سنتے رہے۔

” اب تو موت ہی کتے کی جان چھڑا سکتی ہے۔” ربن فروش نے آہ بھری اور اس پر افسردہ نگاہ ڈالی۔ ” ہم ایسی مخلوق کا کیا کر سکتے ہیں جو اتنی خوش دلی سے اپنی بد بختی کی طرف لوٹ آئے۔”

Categories
فکشن

چوکیدار کی بیوی (تحریر: رخسانہ احمد، ترجمہ: رومانیہ نور)

یہ ترجمہ محترم یاسر حبیب کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ یاسر حبیب “پاکستان کی مادری زبانوں کا عالمی ادب – اردو قالب میں” کے عنوان سے ایک فیس بک گروپ کے ایڈمن ہیں۔ یہ گروپ اردو قارئین کو پاکستان کی دیگر زبانوں میں لکھے گئے ادب سے روشناس کرانے کا اہم ذریعہ ہے۔

رومانیہ نور کا تعلق ملتان سے ہے۔ ایک سرکاری تعلیمی ادارے میں انگریزی پڑھاتی ہیں۔ انھوں نے اب تک غیرملکی زبانوں کے ادب سے 18 افسانوں، 10 نظموں، 2 خطوط، اور مختلف کتابوں کے 9 اقتباسات کے اردو تراجم کیے ہیں۔ ان کے کچھ تراجم سہ ماہی “ادبیات”، روزنامہ “اوصاف” اور دیگر جرائد و اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں۔ ایک کتاب “عورت کتھا” میں ان کے تراجم کا انتخاب بھی شائع ہوچکا ہے۔ سوشل میڈیا اور ویب سائٹس پر بھی تراجم شائع ہوئے ہیں۔ ترجمہ نگاری کا یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔

…………

کَل دو افراد لُو لگنے کے باعث دم توڑ گئے تھے۔اس قدر شدید درجہ حرارت موسم گرما کے لیے بھی ایک ریکارڈ تھا۔ انیتاسورج کی بے حسی یاد کر کے جھلا گئی تھی کہ کل چڑیا گھر کے پرند خانے میں پرندے گرمی کی شدت سے کیسے ساکت اور خاموش تھے۔ شاندار بلیاں کیسے بے دم ہوئی پڑی تھیں۔ اس کا کوئی حل نکالا جانا چاہیئے۔ مگر 110فارن ہائیٹ تک بلند درجۂ حرارت سے بچاو کا سوچنا بھی حماقت معلوم ہوتاہے۔ گرمی اس قدر شدید تھی کہ اچھے خاصے سوریہ ونشی بھی تائب ہوجائیں۔ بھلے وقتوں میں بھی لاہور کا چڑیا گھر جانوروں کے لئے مناسب مقام نہ تھا۔ لیکن اس بار کی گرمی سے ان کی جانوں کو سنگین خطرہ لاحق تھا۔ اس کا فوری سدِّ باب ضروری تھا۔

انیتا نے ڈوری کھینچ کر دبیز پردے گرا دئیے۔ سورج کی تابناکی کا سامنا کرنے سے پہلے وہ چند لمحے پر سکون تاریکی سے لطف اندوز ہونا چاہتی تھی۔

اس کے چھوٹے چھوٹے شہد رنگ بال جھاڑ جھنکار کی طرح منتشر تھے جنھیں اس نے انگلیاں پھیر کر پیچھے ہٹایا۔ وہ بہت اکتائی ہوئی لگ رہی تھی۔خود کو پژمردہ اور لباس کو شکن آلود محسوس کرتے ہوئے اس نے دونوں ہاتھوں سے سکرٹ کی اطراف کو رگڑ تے ہوئے شکنیں مٹانے کی بے سود کوشش کی۔ جانے کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ پانچ بجنے کو تھے لیکن سورج کی بے اعتنائی اپنی جگہ برقرار تھی وہ بد ستور کینہ پروری سے بے دم اور تپتی ہوئی گرم خشک زمیں پر آگ برسا رہا تھا۔

“صاحب آ گیا؟”

جب جادوئی انداز میں پردے کے پیچھے سے کامو سکنجبین کی ٹرے کے ہمراہ نمودار ہوا تو اس نے اپنے انگریزی زدہ اردو لہجے میں پوچھا۔ وقت کی پابندی کے معاملے میں کامو بے عیب تھا۔

“ نہیں میم صاحب!”

اس کا انداز معذرت خواہانہ تھا۔ ٹرے انیتا کے سامنے کرتے ہوئے اس نے احترام سے آنکھیں جھکا لیں۔

“شکریہ! ڈرائیور سے کہو کہ بس پانچ منٹ” اس نے اپنی بات کو تمثیلی طور پر بیان کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کا سہارا لیا۔
“ابھی تک واپسی نہیں ہوئی۔ اب رات کے کھانے تک اس سے نہیں مل پاؤں گی۔” انیتا نے خود کلامی کی۔
اسے ساڑھے پانچ بجے تک گالف کھیلنے جانا ہے، سو وہ کلب میں ہی کپڑے بدلنے والا ہے۔
“وہ ٹیلی فون بھی تو کر سکتا تھا۔ نو سال ہو گئے ہیں سہتے ہوئے اور ابھی تک یہی کرب مسلسل ہے”۔

اس نے اپنے ذہن سے اس دکھ کو جھٹکنے کی کوشش کی کیونکہ اسے اپنی چیزیں سمیٹنا تھیں۔ ایک چھوٹی نیلی چھتری، تنکوں سے بنا خاکستری پرس، دھوپ کا چشمہ، اور معالجِ حیوانات کی رہنما کتاب جو کہ برٹش کونسل لائبریری سے مستقل بنیادوں پر مستعار لی گئی تھی۔

باہرجونہی تیز دھوپ کے تھپیڑے اس کے چہرے سے ٹکرائے وہ ٹھنڈی پناہ گاہ کے لئے تیزی سے نیلی ٹیوٹا کی جانب بڑھی۔ چڑیا گھر سرکاری افسروں کی رہائشی کالونی جی۔ او۔ آر جہاں ان کا گھر تھا سے زیادہ دور نہیں تھا۔ انگریزوں کے چھوڑ جانے کے 37سال بعد بھی لاہور میں یہ بہت معزز علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ حکومتی عہدیداران کی رہائش گاہوں کے ساتھ بڑی چار دیواری کے پیچھے وسیع و عریض پائیں باغ تھے جن کی چمک دمک ماند پڑ گئی تھی۔ لیکن اپنے آقاؤں کی طرح ان کی بے نیازی برقرار تھی۔

چڑیا گھر کے بند ہونے کا وقت پانچ بجے تھا مگر گھنٹی کی عدم موجودگی میں عملے کے افراد کو ہی لوگوں کو گیٹ بند ہونے سے پہلے روانہ ہو نے کی تلقین کرنا پڑ رہی تھی۔ وہ انہیں یقین دلا رہے تھےکہ بصورتِ دیگر اگر گیٹ بند ہو جاتا تو ان کے اندر ہی قید ہو جانے کا خدشہ تھا۔

اڑیل بچے گرمی کی شدت سے قطرہ قطرہ پگھل کر انگلیوں پر بہتی آئس کریم کو عجلت میں چاٹتے ہوئے بے دلی سے قدم اٹھا رہے تھے۔ جوانوں نے اِدھر اُدھر سائے کی تلاش میں ہلچل مچائی ہوئی تھی۔ وہ مضطرب تھے کہ گیٹ کے باہر کوئی بھی سواری انہیں مل جائے۔ چوکیدار نے اپنے ڈھنڈورچی کے کردار میں تعطل لاتے ہوئے انیتا کے لئے دروازہ کھولا۔ وہ ڈپو کی جانب روانہ ہو گئے جو دوسرے سرے پر سپرنٹنڈنٹ کی رہائش گاہ کی طرف کچھ ہٹ کر بنا ہوا تھا۔ حسین کتابیں، رجسٹر، ٹوکری، اور برتن برآمدے میں لئے، موڑھے پر بیٹھا پوری طرح چوکس ان کی آمد کے لئے تیار تھا۔ اس کے پھٹے ہوئے گرد آلود پاؤں چپلوں میں چپکے ہوئے تھے۔ وہ استقبال کے لئے پھرتی سے کھڑا ہو گیا۔ رسمی سلام دعا کا تبادلہ ہوا۔ اس کی ٹھنڈے مشروب کی پیشکش ہمیشہ کی طرح مسترد کر دی گئی اور وہ کام کی طرف متوجہ ہو گئے۔

انیتا نےایک ہلتی ہوئی کرسی پر بیٹھ کرکھاتوں کے تمام اندراجات کو دیکھاجبکہ حسین گھبرائے ہوئے انداز میں گودام میں چیزیں تلاش کرتا رہا۔ وہ بندروں کے لئے پھل اور پرندوں کے لئے غلے کی مقدار اور وزن کی پیمائش کرتا رہا۔ میڈم مچھلی اور گوشت کے اوزان خود کرنے کو ترجیح دیتی تھی۔ چناچہ جب تک وہ گودام میں بھیجی جانے والی خوراک کے تمام اندراجات کی پڑتال نہ کر لیتی تب تک حسین انہیں نہیں تول سکتا تھا۔ تمام خوراک تیار کرنے میں چالیس منٹ لگتے تھے۔ تب تک دو لڑکے بھی جو باغیچے کی صفائی میں مالی کے معاون تھے میم صاحب کی زیرِ نگرانی جانوروں کو خوراک کھلانے کے لئے حسین کی مدد کو آ جاتےتھے۔

حسین کو کبھی کبھی انیتا کے بارے میں حیرت ہوتی تھی۔ وہ کون تھی؟ کہاں سے آئی تھی؟ اسے جانوروں سے یہ کس قسم کی محبت تھی جو تپتی سہ پہروں میں جب اس کے طبقے کی دیگر عورتیں نیم تاریک اور ٹھنڈے کمروں میں اونگھ رہی ہوتیں اسے یہاں کھینچ لاتی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی ملازمت ایک لحاظ سے انیتا کی مرہونِ منت تھی۔ سب جانتے تھے کہ سابق سپرنٹنڈنٹ اسی کی مداخلت پر بر طرف کیا گیا تھا۔ چوکیدار نے کئی مرتبہ اسے یہ کہانی سنائی تھی کہ کیسے دو سال پہلے وہ چڑیا گھر کی سیر کو آئی اور دیکھا کہ جانور کمزوری اور کم خوراکی کا شکار ہیں۔ سو اس نے شکایت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اعلیٰ حکام تک رسائی حاصل کی، انہیں خطوط لکھے اور بالآخرانہیں سپرنٹنڈنٹ کی معزولی پر آمادہ کر لیا۔

جس دن حسین نے چارج لیا تو وہ گورنر کی طرف سے جاری کردہ مراسلے کے ساتھ وہاں موجود تھی جس میں کہا گیا تھا کہ جانوروں کو خوراک دینے سے پہلےوہ اس کے معائنے کی مجاز ہے اور وہ بذاتِ خود اس امر کو یقینی بنائے گی کہ جانوروں کو دی جانے والی خوراک موزوں اور متناسب ہے۔ اُس دن سے لے کر آج تک اسے کبھی پہنچنے میں تاخیر نہیں ہوئی تھی۔

اس کا انتظار کرنا حسین کا معمول بن گیا تھا۔ وہ خوفزدہ رہتا تھا کہ اگر وہ پھر سے ناراض ہو گئی تو نہ جانے اس کا کیا بنے گا۔ چوکیدار ماجھا انیتا کو ایک مداخلت کار سمجھتا تھا۔” بے چارے نواز صاحب کو آٹھ بچوں کے خاندان کے ساتھ کس طرح ذلیل کر کے نکال دیا تھا۔ اسے ابھی تک کوئی اور ملازمت نہیں ملی۔ در حقیقت وہ ایک اچھا شخص تھا” اس کی بات کا خاتمہ ہمیشہ ایک سرد آہ پر ہوتا تھا۔

گفتگو کے اس مرحلے پر حسین کی کہانی میں دل چسپی کھو جاتی اور وہ کسی ضروری کام کا بہانہ بنا کر وہاں سے چلا آتا۔

انیتا اس دن گرمی سے نڈھال ہو گئی تھی۔ پسینے سے لباس اس کے بدن پر چپکا جا رہا تھا۔ وہ دم لینے کو ایک بنچ پر بیٹھ گئی جو چنبیلی اور گلِ خطمی کی جھاڑیوں کے جھنڈ سے ڈھکا ہوا تھا۔ اس دن کی تپش کے باعث انیتا کے لیے ممکن نہیں رہا تھا کہ وہ ہمیشہ کی طرح خوراک تقسیم کرتے ہوئے حسین کے پیچھے پیچھے چکر لگائے۔

پھولوں کی تیز خوشبو اورجانوروں کے پنجروں سے اٹھتی بو کے مابین کشمکش جاری تھی۔ گرمیوں کے مہینوں میں پانی کی کمی بہت گھمبیر مسئلہ تھا اور پنجرے ہر تین میں سے دو بار بد بو دیتے تھے۔ اسے ہیرا کی فکر تھی۔ وہ کل سے بھی زیادہ بے جان دکھائی دیتا تھا۔ اس نے اس گوشت میں کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی جو حسین نے پنجرے میں پھینکا تھا۔ انیتا نے پریشان ہو کر یہ سوچتے ہوئے اپنا کتابچہ کھولا کہ آیا انہیں معالجِ حیوانات سے رابطہ کرنا چاہیئے یا پھر نگرانی سخت کر دینی چاہیئے۔ وہ ہیرا کی بہت دلدادہ تھی۔ ہیرا عملے کے دوسرے ارکان میں بھی بہت مقبول تھا۔ انہوں نے اسے ہیرا کی عرفیت دی تھی کیونکہ رات کے وقت اس کی آنکھیں ہیروں کی طرح چمکتی تھیں۔ وہ ایسا ہی زندگی سے بھر پور اور شرارتی چیتا تھا جیسا کہ سندر بن میں عام دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن اس موسمِ گرما کی شدت نے اسے بری طرح نڈھال کر دیا تھا۔ انیتا نے پرس اٹھایا اور بے دھیانی میں آہستہ آہستہ واپس اس کے پنجرے کی طرف چلنا شروع کر دیا۔ نرم کیچڑ میں اس کے قدموں کی چاپ دب گئی تھی۔ اُس عورت پر نظر پڑتے ہی وہ خود بخود اوٹ میں ہو گئی۔ اس عورت نے نہ تو انیتا کو آتے ہوئے دیکھا تھا اور نہ اس کے قدموں کی چاپ سنی تھی۔ وہ سفید جنگلے کے اس پار ممنوعہ علاقے میں یکسوئی سے پنجرے کے گرد منڈلا رہی تھی۔ صرف اراکینِ عملہ کو اس اندرونی حصار میں جانے کی اجازت تھی۔ حتیٰ کہ انیتا بھی ان حدود کا احترام کرتی تھی۔ وہ ہکا بکا اسے دیکھتی رہی۔

عورت کی ایک آنکھ ہیرا پر جمی ہوئی تھی، وہ ضرورت سے زیادہ پریشان دکھائی نہیں دیتی تھی۔ انیتا کی لگی جب اس نے دیکھا کہ عورت نے آگے جھک کر سلاخوں میں ہاتھ ڈال کر گوشت کے دو پارچے اٹھا لئے اور انہیں تیزی سے پلاسٹک کے نرم تھیلے میں کھسکا لیا۔ وہ ایک دبلی پتلی، نازک اندام اور خوش قامت عورت تھی۔ اس کا مشن پایۂ تکمیل کو پہنچ چکا تھا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور اس سرعت کے ساتھ دوڑ کر پیچھے ہٹ گئی جوصرف ہیرا سے ہی منسوب کی جا سکتی ہے۔

ملگجے اندھیرے میں انیتا نے فوری طور پر بیٹھنے کی ضرورت محسوس کی کیونکہ شدتِ غم سے اس کے قدم ڈگمگانے لگے تھے اور وجود جھولنے لگا تھا۔صدمے نے اسے کمزور کر دیا تھا۔ اسے اپنے آپ کو یکجا کرنے میں کچھ وقت لگا۔ وہ حیران تھی کہ اس کی عدم موجودگی میں یہاں کیا کچھ ہوتا ہے۔ اس عورت کی جسارت انیتا کے لئے چیلنج تھی۔یقیناً انیتا کو اس پر چلّانا چاہئے تھا۔ اس نے فرض کیا کہ یہی سب کچھ برسوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے اور اب اس چوری چکاری کا سدِ باب ضروری ہے۔ ہیرا آہستگی سے اٹھا اور سبک خرامی سے اپنی خوراک کی طرف بڑھا۔ کھانے میں مشغول ہونے سے پہلے وہ نفاست و نزاکت سے گوشت کو سونگھنے لگا۔

اسے واپس جانے کے لئے اپنی توانائیاں مجتمع کرنے میں معمول سے زیادہ وقت لگا۔ ملازمین اسے روانہ کرنے کے لئے گیٹ پر منتظرکھڑے تھے۔ اس کا کچھ تاخیر سے جانا بالکل بھی غیر معمولی نہ تھا۔ سیر کے اوقات کے بعد چڑیا گھر میں خاموشی اور سکون ہوتا تھا۔ وہ پہروں بیٹھی یہاں بند جانوروں کواپنے آپ میں مگن ہوتے دیکھتی رہتی یہاں تک کہ شام کی تاریکی چھا جاتی۔

یہاں تاریکی ہمیشہ بہت جلد اور دفعتاً چھا جاتی تھی جب سورج مغربی دیوار کی طرف پرند گھر کی بلند و بالا گارے کی دیواروں کے پیچھے چھپ جاتا تو وہ مرے مرے قدموں سے خود کو دھکیلتی ہوئی واپسی کی راہ لیتی۔آج وہ گیٹ کے پاس سے گزری تو بالکل خالی الذہن تھی اس نے اپنا نحیف ہاتھ اٹھا کر صرف اشارے سے سلام کا جواب دیا۔

اس رات وہ سلیم سے بات کرنے کے لئے مضطرب تھی۔ وہ کھانا کھانے میں محو دکھائی دیتا تھا مگر پھر بھی انیتا نے بات چھیڑ دی۔ سلیم کی ہنسی بہت سرد مہر اور کھردری تھی۔

“ تم نے پو لیس کو نہیں بلایا؟”

“نہیں” انیتا اس کے استہزاء سے بے چین ہو گئی۔” اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے؟”

“تمہارا خدائی فوجدار بننا: اور یہ اخلاقی بحران ۔۔۔۔جو تمہیں درپیش ہے۔”

سلیم کی ہنسی ناخوشگواری کے آخری دہانے پر تھی اور ان کے درمیان فاصلہ بڑھا رہی تھی۔

“اخلاقی بحران؟” وہ حیران ہوئی۔

“میرے خیال میں تو اس صورتحال کو یہی کہا جاتا ہے”۔

وہ پوری توجہ سے انگلیوں کی مدد سے مچھلی کے سانٹے نکالنے میں مگن تھا۔ انیتا کی نظریں دور خلا میں جمی ہوئی تھیں۔ کچھ توقف کے بعد سلیم نے پوچھا:

کیا میں نے تمہیں کبھی مسز ہاؤ کا قصہ سنایا ہے؟”

“میرا نہیں خیال۔ کون ہے وہ؟” انیتا کو اس کے انداز سے الجھن محسوس ہو رہی تھی۔

“ہے نہیں۔۔۔۔۔تھی۔ ہاں مسز ہاؤ تہران میں قونصل جنرل کی بیوی تھی۔اس وقت چالیس کی دہائی میں پاپا وہاں تعینات تھے۔ وہ گھوڑوں سے بہت الفت رکھتی تھی۔ بلا شبہ ان سے شدید محبت کرتی تھی۔ وہ ہر سہ پہرگھر سے نکلتی اور بیمار اور بدسلوکی کے شکار گھوڑوں کی تلاش میں شہر کا چکر لگاتی تاکہ انہیں گھر لے آئے۔

وہ اپنا گھڑ سواری کا لباس زیب تن کرتی، ہاتھ میں چابک ہوتا اور بذاتِ خود خطا کار مالکان کو سزا دینے پہنچ جاتی انہیں چابک سے مارتی اور گھوڑے کو اپنے ساتھ لے آتی۔ وہ دہشت کی علامت بن چکی تھی۔ مالکان کے ساتھ گھوڑوں سے بھی بد تر سلوک کیا جاتا،انہیں جیل میں ڈال دیا جاتا اور وہ ایک کام کرنے والے جانور سے بھی کسی ادائیگی کے بنا ہاتھ دھو بیٹھتے۔”

“پھر؟”

“پھر کچھ نہیں- کشیدگی بڑھتی گئی۔۔۔یاد رکھو کہ یہ وہ ایام تھے جب پانچ آدمی چینی کی قیمت پر احتجاج کرنے کے لئے بھی اکٹھے ہو جاتے تو انہیں دھمکانے کے لئےبرطانوی جنگی بیڑے مشتعل ہو کرساحلوں پر آ لگتے تھے۔”

” میں نہیں جانتی کہ تم کیا جتانا چاہ رہے ہو سلیم! مگر جوکچھ میں یہاں کرنا چاہ رہی ہوں وہ کچھ الگ معاملہ ہے۔”

“ہاں ، امید ہے ایسا ہی ہو گا۔۔۔ تم اپنے گھڑ سواری کے لباس میں نہیں تھی اور تم نے پولیس نہیں بلائی۔ میری عمر اس وقت صرف گیارہ سال تھی اور مظلوموں کے ساتھ ناانصافی کے بارے میں میرے احساسات آج کی نسبت کہیں زیادہ خالص تھے۔ اس کے باوجود میں وہ واحد شخص تھا جسے کبھی اس بات کا تعین نہیں کر پایا کہ اصل میں گھوڑے مظلوم ہیں یا ان کے مالک۔”

انیتا نے اپنے اور سلیم کے درمیان اس بے رحم فاصلے پر ایک مایوس کن اور بے آواز غصے کی کیفیت کو محسوس کیا۔ یہ جارحیت، عداوت، جانبداری یا پھر حد سے بڑھی ہوئی سادگی تھی۔

” کیا ہو گیا تھا انہیں۔۔ “انیتا کو ذرا سی بات کا تماشہ بنانے سے نفرت تھی۔ لیکن جیسے ہی وہ نیپکن رکھ کر کھانے کی میز سے جانے کے لئے اٹھی تو غصے کی وجہ سے اس کی کرسی چرچرا اٹھی۔ اس نے برآمد ے کی جانب قدم بڑھا دیئے۔ باہر خاموش اور گھٹن زدہ تاریکی میں وہ خالی نظروں سےاڑتے ہوئے جگنوؤں کو تکتی رہی ۔

کیمبرج کے دنوں میں ان کے درمیان جو شدید قسم کا جذباتی لگاؤ تھا وہ اب ختم ہو چکا تھا۔ انیتا کی حد تک تو یہ معاملہ اپنے وجود سے جڑے حقائق کے لیے ہمہ وقت مبہم مدافعانہ پن میں ڈھل گیا تھا۔ اس نے تلخی سے سوچا کہ تمام سفید فام اقوام کے اجتماعی جرم کو اپنے زہریلے پن میں لپیٹ کر اس کی روح پر لیپ دینا سلیم کی عادت بن گیا ہے۔ تنازعات اور غصہ تلخی بن کر ان کے مابین معلق تھے۔

سلیم اچھی طرح سے جانتا تھا کہ وہ چڑیا گھر کے جانوروں کے متعلق کتنی حساس ہے۔ اس نے اداسی سے سوچا۔

وہ انیتا کے لئے اس کے خاندان کی طرح خصوصی اہمیت کے حامل تھے۔ بالکل اپنے بچوں کی طرح تھے اور یہ ایسا ہی تھا جیسا کہ کسی کو اس کی اولاد سے محروم کر دیا جائے۔