خوابوں سے بھرا کوڑے دان’ سے ایک انتخاب (مدثر عباس’)

اپنے ایکسرے نکلواتے وقت
محبت کی نظم پڑھتے رہو
شگاف جو زیر تعمیر ہے (عرفان خان کے لیے) — مدثر عباس

بہار نے ہماری طرف پھول پھینکے قبرستان نے ہماری طرف ایک قبر پھینکی مجھے نہیں معلوم کہ پھول اور قبر ہمارے اس شخص کے ہاتھ کیسے لگ گئے جس شخص کو ہم ابھی تختی پر زندگی لکھنا سکھا رہے تھے جلد باز دن نے ہمیں اتنی بھی سہولت نہیں دی کہ ہم ایک موت کی […]
ناخن جو اب ہتھیلی پر اگ آئے — (سبین محمود کے لیے) — مدثر عباس

بمارے دل کی تیز دھڑکن کا طبعی معائنہ نہ کریں بلکہ ہمیں یہ بتائیں کہ کیوں آپ نے ہمارے لوگوں کو چاند کا فریم درست کرنے کے جرم میں ہمارے گھر کی فیملی فوٹو سے پھاڑ کر اپنی بھدی تصویر کے ساتھ جوڑ لیا ہے؟ ہمارا تازہ غیر رجسٹرڈ گیت کیوں آپ کی چلتی ہوئی […]
