زبان

نزارقبانی: میں نے کچھ نہیں کہا
اس عورت سے
جس سے میں محبت کرتا ہوں
بے حس سیلفی، بھوکا چور اور دیگر عشرے

ضیا افروز: محبت نام و نسب قوم قبیلے سے الگ
اپنی بنیاد مساوات پہ اٹھاتی ہے
مجھے تم سے محبت ہے

ثروت زہرا: مجھے تماری سماعتوں سے محبت ہے
جو ہزار گدلے خیالات کے دریاؤں کو
سمندروں کی طرح خود میں جگہ دے کے تازہ دم کردیتی ہے
اظہار محبت پر پابندیاں ناقابل قبول ہیں۔ اداریہ

افسوسناک امر یہ ہے کہ اظہار محبت پر پابندیوں کا سب سے زیادہ اثر ان طبقات پر ہوتا ہے جو سماجی، سیاسی اور معاشی طور پر محروم اور پس ماندہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان، خواتین اور ہم جنس پرست افراد ان پابندیوں کی زد میں سب سے زیادہ آتے ہیں۔
وزارت محبت قائم کیجیے

حمیرا اشرف: کیا کبھی کسی نے سوچا ہے کہ اتنی برباد داستانوں کو سن کر محبت سے رُک جائیں۔ نہ دل لگائیں نہ روگ لگائیں، نہ خود کو تڑپائیں، نہ راتوں کو رلائیں۔ کیوں انجام جانتے بوجھتے بھی دو دل اس آگ میں کود پڑتے ہیں۔
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے

تصنیف حیدر: ویلنٹائن ڈے محبت کے بارے میں سوچ سمجھ کر رائے قائم کرنے کی گھڑی ہے ،جو ہمیں ہماری تمام تر مصروفیت کے باوجود یہ سوچنے کا موقع دیتی ہے کہ محبت کا یہ خاص دن منانے کے لائق کیسے بنا جائے۔ورنہ تو ہماری سوسائٹی میں محبت کرنے والوں کی نہ کوئی کمی ہے، نہ کبھی ہوگی۔
محبت کی گیارہ کہانیاں (دوسری کہانی)

تصنیف حیدر: وہ شام ایک خواب کی مانند تھی، میرے دوسرے خوابوں کی طرح۔میں اپنی ذات کی الجھنوں کو اتنی آسانی سے نہیں بتا سکتی۔بدن تو خیر جو الٹ پھیر کررہا تھا وہ ایک دوسری بات ہے، مگر ساتھ ہی ساتھ ذہن میں بھی تبدیلیاں رونما ہورہی تھیں۔
من و تو

ثروت زہرا: تمھارے گھیروں میں آجانے کے بعد
مجھے ایسا کیوں لگتا ہے
جیسے پوری کائنات
مجھ میں سما رہی ہو
میرے پاس کیا کچھ نہیں

ابرار احمد: تمھاری اس دنیا میں میرے پاس کیا کچھ نہیں ہے
وقت
اور تم پر اختیار کے سوا
ہاں میری محبوبہ

سرمد صہبائی: لفظ سے لفظ بنانے والے
کوئی بھی غم ہو
لفظ کی گولی رنگ بدلتے لمحوں کی گنگا میں گھول کے پی جاتے ہیں
پتھر پر لکیر

کومل راجہ: تم مجھ پر حرفِ آخر کی طرح نازل ہوئے ہو
آخری دلیل

افضال احمد سید: اس کھڑکی کو سبزے کی طرف کھولتے ہوئے
تمہیں محاصرے میں آئے ایک دل کی یاد نہیں آئی
محبت اپنا زائچہ نکلوانا چاہتی ہے

اور دیکھو
مجھے کب تک تمھارے ساتھ رہنا ہے
تم کب تک مجھے گھسیٹو گی
پل بھر کے لیے کوئی ہمیں پیار کر لے، جھوٹا ہی سہی

محبت کا ڈائمینشنل سٹریس

میرے لیے
وہ قفس تعمیر کر گیا ہے
جس میں
ایک اڑان کے علاوہ صرف ابدی پیاس ہے