آخری سیلفی (زوہیب یاسر)

بچھڑنے سے پہلے کی آخری سیلفی میں سارا درد اور کرب چہرے سے چھلکتا ہے، وصل اور ہجر کی درمیانی کیفیت کو شاید نزع کہتے ہیں، تم نے اقرار کرنے میں اعترافِ جرم جیسی دیر کر دی، گویا پیلے بلب کے سامنے بیٹھا، ناکردہ گناہوں کا مجرم، آنکھوں کو تھکا دینے والی روشنی کی تاب […]
میں پرانی ہو چکی ہوں (عظمیٰ طور)

کسی پرانی کتاب میں بسی باس کی مانند میں پرانی ہو چکی ہوں کسی پوسیدہ تحریر کی مانند کہ جس تحریر کے مٹے مٹے حروف اپنے معنی کھو چکے ہیں میں پرانی ہو چکی ہوں اس ہینگر میں ٹنگی سفید قمیض کی مانند کہ جس کے کالر پر وقت کی گرد جم چکی ہے میں […]
دل پہ بوجھ ڈالتی نظم (ثاقب ندیم)

میں تمہارے خوابوں کو بھٹکنے سے نہیں روکتا کیونکہ اِن کی سکونت کے لئے جو آنکھیں بنی ہیں وہ صرف میرے پاس ہیں میں اپنے خوابوں کی ریز گاری تمہاری جیبوں میں نہیں ڈالتا کہ تمہیں اِن کے بوجھ سے گھبراہٹ ہوتی ہے میں تمہارے درد کی صراحی سے روزانہ چِلوُ بھر درد پی جاتا […]
خدا کا حصہ! اور دیگر نظمیں (ایچ-بی-بلوچ)

خدا کا حصہ! وسیع تر کائناتوں کے قیام کے بعد ہم اپنے خول میں بے مصرف ہو گئے پکار اٹھی۔۔۔۔ کوئی ہے جو ہمیں اپنے چھوٹے چھوٹے گھروں سے نکالے!! دعا قبول ہوئی ہم ایک نئی سرزمین پر اترے جو بہت حسین تھی پھر ہمیں ایک خدا اور شیطان کی ضرورت محسوس ہوئی! ہمارے قدموں […]
تُو نے بھی تو دیکھا ہو گا (سرمد صہبائی)

تُو نے بھی تو دیکھا ہو گا تیری چھتوں پر بھی تو پھیکی زرد دوپہریں اُتری ہوں گی تیرے اندر بھی تو خواہشیں اپنے تیز نوکیلے ناخن کھبوتی ہوں گی تو نے بھی تو رُوئیں رُوئیں میں موت کو چلتے دیکھا ہو گا آہستہ آہستہ جیتے خون کو مرتے دیکھا ہو گا گُھٹی ہوئی گلیوں […]
ایک منتظر نظم (ثاقب ندیم)

بھوگ رہا ہوں سرد رُتوں کی سائیں سائیں روح کے پیڑ سے گِرنے والی زرد اداسی آوازوں کا رستہ دیکھتے کانوں سے بس مُٹھی بھر ہمدردی بھوگ رہا ہوں بِستر کی شِکنوں کو دیکھنا، دیکھتے جانا کمپیوٹر سکرین پہ تجھ کو ڈھونڈتی آنکھوں کی ویرانی کھِڑکی کے کونے پہ بیٹھی ایک عدد حیرانی شکلیں بدل […]
پیشہ ور (ساحر شفیق)

جدائی کا کیلنڈر چھپ چکا ہے جسے ہم دونوں نے مل کے ڈیزائن کیا تھا ہم اُس دن پہلی بار ملے تھے جب پاگل خانے کی چھت پہ پتھر مار کر وقت کو شہید کر دیا گیا تھا ہم اُس وقت بھی معصوم نہیں تھے کیونکہ ہم چومنے کے معنی جانتے تھے ہم نے اپنی […]
اِک نظم (عظمیٰ طور)

اِک نظم ابھی ابھی الماری کے اک کونے سے ملی ہے دبک کر بیٹھی پچھلے برس کی کھوئی یہ نظم کب سے میں ڈھونڈ رہی تھی اس نظم میں مَیں بھی تھی تم بھی تھے ہم دونوں کی باتیں تھیں دروازے پہ ٹھہری اک دستک تھی گہرے نیلے رنگ کے پردے تھے اِک اکلوتی پینٹنگ […]
سمندر پہ کی گئی محبت (ساحر شفیق)

میں نے پہلی بار اُسے ریت میں دھنسے ہوئے تباہ شُدہ جہاز کے عرشے پر دیکھا تھا جب وہ ہنستے ہوئے تصویر بنوا رہی تھی اس کی آنکھیں بادلوں میں گھرے ہوئے سورج جیسی تھیں یقینا بچپن میں اُسے نیند میں چلنے کی عادت رہی ہوگی سمندر___ جو رشتے میں ہم دونوں کا کچھ نہیں […]
میری تنہائی اُداسی میں ہچکیاں بھرتی ہے (فرح دیبا اکرم)

میری تنہائی اُداسی میں ہچکیاں بھرتی ہے جب اس کا دم گھٹنے لگے تو کھڑکی پہ پردہ ڈال کر مدھم روشنی کو اندھیرے کی چاندنی سے ڈراتی ہے ایک آخری کام رہ گیا ہے تیری امانت، تیرے سپرد کرنی ہے اپنے جنوں کے بےمعنی اضطراب کو تمھارے دروازے کے ڈور میٹ پہ رکھ کر زمانے […]
ضامن عباس کے عشرے

[blockquote style=“3”] عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر [/blockquote] مزید […]
hypocrisy (وجیہہ وارثی)

تمہارے بوسیدہ بوسوں سے باس آنے لگی تمہارے آنے کی آس نصف صدی پہلے دم توڑ چکی یادیں رفتہ رفتہ دیوار سے چونے کی طرح چٹخ چٹخ کے گرنے لگی ہیں تاریخ لاکھوں صفحے پلٹ چکی وقت مداری کی طرح تماشے دکھا چکا نصف صدی کا عرصہ انسان کے زندہ رہنے کے لیے بہت تھوڑا […]
اے میری، سردیوں کی دھوپ سی، شیریں محبت!

کومل راجہ: اے مجھ پر
سخت جاڑے کے دنوں میں مسرتیں لے کر
اترنے والی جامنی محبت!
محبت کا سن یاس

سلمان حیدر: لفظ صحیفوں میں ڈھونڈے جا سکتے ہیں
لیکن صحیفوں میں لکھے لفظ کثرت استعمال سے بے معنی ہو چکے ہیں
رشتے کا ایک برس

تالیف حیدر: موسم بیت جاتے ہیں، وقت ہوا ہو جاتا ہے اور انسان وقت کے ساتھ ساتھ اجنبی ہوتے چلے جاتے ہیں، حقیقتوں کے تبدیل ہونے اور حالات کے بدلنے کا یہ سلسلہ زندگی کی سخت زمینوں پر کبھی نہیں رکتا۔