Categories
تراجم فکشن

دلنواز تم بہت اچھی ہو!

اس طرف اب بھی اندھیرا ہے۔ اس جانب جگر مگر روشنی ہے۔ اندھیرے میں بیٹھ کر اس جگر مگر روشنی کو دیکھنے کا سکھ بھی ایک طرح کا سکھ ہے۔ امکانات سے بھرپور سکھ، تاریک سرنگ کے پار پَھک سے کوئی روشنی جل جائے، جیسا سکھ!

سب سیدھا سچ ہے، سب گہری پرتوں سے بھرا ہے۔ کُھلے گا ایک ایک یا کیا پتہ یک بہ یک۔ تب تک اندر ایک ندی بہتی ہے کس قدیم سمے سے، میٹھے پانی کی ندی، اداس گیتوں کی ندی، کچھ کر دیا کچھ اور، بہت اور کریں گے، والی ندی۔ اور سب بھیگتا رہتا ہے، من، جسم ، روح؛ جیسے برسات ٹپکتی ہے آبنوس کے پتوں پر سے، موٹی موٹی بوندیں۔ لال ریت بجری کی مٹی برسات سے بھیگ کر چپل پر چپک جاتی ہے۔ ہر قدم بھاری ہو جاتا ہے۔ ہر قدم دھیما۔ میں ٹھہر ٹھہر سوچتی ہوں، جیتی ہوں۔ سچ! اب جا کر جیتی ہوں۔ بدن لرز جاتا ہے اس جینے کے سکھ میں، اس ہونے کے سکھ میں، کسی مقصد کے سکھ میں، کتنا چھوٹا سا ہی کیوں نہ ہو۔ اس چھتنار پیڑ سے سٹے، اس کالے پیر پسارے چٹان سے سٹے اپنے اس چھوٹے سے گھر میں، کُٹیا میں، میرے ہونے میں، میرے سندیپن کے باوجود، اس کے بِنا ہونے میں، گاؤں کی ٹھاٹھ باٹھ میں، سینٹر کی ہلچل میں، دیر رات لالٹین اور پیٹرومیکس کی روشنی میں بچوں اور عورتوں کو ‘ک’ سے کنول اور ‘ج’ سے جنگل پڑھانے میں، مانِک پرکیتھ سے رہیبلٹیشن /Rehabilitation]بحالی[ ڈسکس کرنے میں، سروے کے کاغذوں کو چیک کرنے میں، سرکل آفیسر اور بی ڈی او سے کاغذات نکلوانے میں، شہر جانے میں اور پھر، اوہ سکھ، گاؤں واپس لوٹنے میں، ڈُمری کے تھکے دکھتے سر میں تیل ملنے میں، کونے کُھدرے میں اوما کے سجائے سوکھے مرجھائے پھول پتی کے جھرتے گچھوں میں۔۔۔ کیا ملتا ہے مجھے؟ اپنے ہونے جینے کا معنی؟

نیرودا کی کتاب جانے کب سے گود میں رکھی ہے۔ اندھیرے میں کتاب کا لمس ہی سکون دیتا ہے۔ انگلیاں پھیرتے پھیرتے میں اندھیرے کو آنکھوں سے پیتی ہوں۔ چھوٹے سے مُوڑھے پر کھلے دروازے پر بیٹھ کر میں مطمئن ہوں۔ اس اندھیرے سے مطمئن ہوں۔ کہاں سے کہاں آ گئی یہ سوچ کر اب حیران نہیں ہوتی۔ کسی سپنے کو دیکھ کر حیران نہیں ہوتی۔ گھر سے اتنی دور آ کر حیران نہیں ہوتی۔ اب کسی بات سے حیران نہیں ہوتی۔ کوئی جادو تھا پھر حیرانی کیسی۔ کس ٹونے ٹوٹکے سے بندھی مَیں آئی تھی۔ پر اب آ گئی تھی۔ اس گاڑھے اندھیرے وقت میں خوف نہیں تھا۔ صرف کام تھا صرف کام۔ ہر دن کام تھا۔ اور ایک چین تھا، کوئی گیت تھا، پاگل بےچین پھر بھی ٹھہرا ہوا شانت ۔۔۔ ایک عجب غضب سنگیت۔ پر ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔ کوئی بناوٹ تھی اندر جو شکل لے رہی تھی جانے کب سے، سوئی تھی کبھی اب جاگتی تھی۔ سب رنگ سب سُر مل کر کوئی گیت گاتے تھے آخر۔ ہر کسی کے ساتھ ایسے ہی ہوتا ہے۔ پر پہچاننا ہوتا ہے اپنے اندر کی اس اندرونی بناوٹ کو۔ دھیرے دھیرے میرے اندر کی دنیا بن رہی تھی، روشن ہو رہی تھی۔ پر کیسی کھائی تھی باہر اور اندر کے بیچ۔ سو مچ ویرینس /so much variance]تغیر[۔ ہر قدم کے ساتھ بیچ کا فاصلہ پٹ رہا تھا۔ مجھے پتہ نہیں تھا پر ایسا ہو رہا تھا اپنے آپ۔ میرے اندر باہر کی سب دنیا میرے ساتھ ساتھ چل رہی تھی آخر کار۔ جیسے کوئی خوابیدہ سمے کا قدیم راگ ہو، اے مارچنگ سانگ [A marching song]۔ میرا جیون راگ۔

میں نیرودا [Pablo Neruda] کے مصرعے اندھیرے میں یاد کرتی ہوں، مجنون عشق کے مصرعے۔۔۔

I can write the saddest poem of all tonight.
Write, for instance: “The night is full of stars,
and the stars, blue, shiver in the distance.”
The night wind whirls in the sky and sings.
I can write the saddest poem of all tonight.
I loved her, and sometimes she loved me too.
میں لکھتا ہوں آج کی رات نوحہ الم]
میں لکھتا ہوں، تاروں بھری رات ہے اور
دور کہیں تمٹماتے نیلگوں ستارے
رات کی پروائی گاتی پھرتی، فلک کو محوِ رقص ہے
آج کی شب میرا سخن خزیں تر ہے
[میں نے اس سے محبت کی، ہاں اس نے بھی کئی بار
بیچ میں بُھولتی ہوں، پھر آخر کا سرا پکڑتی ہوں،
I no longer love her, true, but how much I loved her.
My voice searched the wind to touch her ear.
Someone else’s. She will be someone else’s.
As she once belonged to my kisses.
Her voice, her light body. Her infinite eyes.
I no longer love her, true, but perhaps I love her.
Love is so short and oblivion so long.
Because on nights like this I held her in my arms,
My soul is lost without her.
Although this may be the last pain she causes me,
And this may be the last poem I write for her
مجھے محبت نہیں اب، مانا، لیکن اسے کس الفت سے چاہا تھا]
میری صدا ڈھونڈتی ہے وہ دوشِ ہوا جو کانوں کو اس کے جا چومے
وہ پرائی ہو جائے گی، کسی اور کی ہو جائے گی
میرے بوسوں کی جو تھی مالک
اس کی آواز، سبک سی کایا، اس کی بےپایاں آنکھیں
مجھے اب عشق نہیں، مانا، لیکن کرتا بھی ہوں شاید
ایسی ہی شبِ عیش ہوا کرتی تھی اور گرد اس کے میری بانہوں کاحصار
میری روح فنا ہے، بعد اس کے
اگرچہ یہ گھاؤ اس کی طرف سے آخری ہو
[اور شاید اس کے لیے مری یہ نظم آخری ہو

میں کون سا مرثیہ گاؤں گی؟ کس کے لیے لکھوں گی سب سے اداس سطریں؟ میرا سب کچھ تو یہیں ہے، یہیں۔ پھر بھی کسی انجانے دکھ سے میرا گلا بھر آتا ہے۔ چھاتی سے گلے تک دکھ جم جاتا ہے، برف کی سل۔ میں دھیمے مسکراتی ہوں۔ بالوں پر کوئی پتنگا پھنس گیا ہے۔ کچھ دیر میں اٹھوں گی۔ کچھ پکاؤں گی، کھاؤں گی۔ پھر تھوڑی پڑھائی۔ آنکھیں دُکھتی ہیں زیادہ دیر لیمپ کی روشنی میں پڑھنے میں۔ گاؤں میں جلد ہی بجلی آئے گی، کم سے کم اس ایک کمرے کے کمیونٹی سینٹر میں۔ پھر آسان ہوگا پڑھنا اور پڑھانا۔ اندھیرے میں من ادھر ادھر بھاگتا ہے۔ دن بھر کی تھکان ہے پر من تھکا ہوا نہیں ہے۔ اچھا لگتا ہے۔ انگلی رکھنا چاہتی ہوں، ٹھیک اُس بات پر جس سے اچھا لگتا ہے۔ یہاں، یہاں، یہاں۔ پھر یہ بھی اور یہ بھی۔ پر ٹھیک ٹھیک پتہ نہیں چلتا۔ بس اتنا ہی طے کر پاتی ہوں، کہ اچھا لگتا ہے۔ اداسی میں بھی اچھا لگتا ہے۔ اوما پاس آ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ کچھ کہتی نہیں، بس چھو سکے اتنی دوری پر چپ چاپ کھڑی ہو جاتی ہے۔ نو سال کی اوما، میری چھوٹی سی سکھی سہیلی۔

“آج یہیں سو جائیں؟” پُھسپُھسا کر پوچھتی ہے۔
“بھاگ، جلدی سے اپنی ماں سے پوچھ آ۔”
میں مصروف ہونے لگتی ہوں۔

چھت پر نوار کی پرانی کھاٹ پر بیٹھی میں چہرہ ہاتھوں میں بھرے بس تاک رہی تھی۔ اندر سب خالی تھا۔ جیسے سارا رس بہہ گیا ہو اور میں صرف ایک خول بچ گئی ہوں۔ چاچی سفید پھولوں والی ساڑھی پنڈلیوں تک دبائے پیڑھے پر چکو مکو بیٹھی تھیں۔ نیچے پرانی بدرنگ چادر پر ڈھیر کی ڈھیر لال مرچیں، اچار والیں۔ کٹھوت ]کاٹھ کا برتن جس میں آٹا گوندتے ہیں[ میں مسالہ پڑا تھا۔ سکھائی ہوئی چٹک لال چمکیلی مرچ میں ان کے ماہر ہاتھ تیزی سے مسالہ بھر رہے تھے۔ مرچوں کی دہکتی شوخی اور مسالوں کی تیکھی بو مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ سب بے جان، چُرمرایا ہوا تھا۔ اس پر یہ تیزی۔ اف! میں نے ہاتھوں سے آنکھوں کو ڈھک لیا تھا۔ چاچی نے ایک بار رک کر مجھے دیکھا تھا، پھر اپنے کام میں لگ گئی تھیں۔ دو منٹ ٹھہر کر ورم زدہ گھٹنوں کو سہارا دیتے اٹھی تھیں۔ سیڑھیوں سے ان کے چپلوں کی پھٹ پھٹ سنائی دے رہی تھی۔

چائے کا پیالہ بِنا کچھ کہے مجھے پکڑایا تھا پھر کام میں لگ گئی تھیں۔ بس اسی لیے تو میں یہاں بھاگی آئی تھی۔ جیسے گھائل بیمار کتا مٹی کے ٹھنڈک میں سکون کھوجے۔

بِدپّا، دبلا پتلا چھوٹا سا بِدپّا جب اپنی چھوٹی کالی آنکھیں مچکا کے کہتا، “دل نواز نوو چالا منچیدانوی”، (دل نواز تم بہت اچھی ہو) میں ہنس پڑتی۔

“بِدپّا آیم بیگننگ ٹو انڈرسٹینڈ تیلگو۔”
] بدپا میں تیلگو سمجھنے لگی ہوں۔/[Bidpa I’m beginning to understand Telugu.
پھر وہ انگریزی پر اتر جاتا،
“ریلی؟ دین یو کین شیئر مائی پوریال ٹو ڈے۔”
Really? Then you can share my poriyal today.] / واقعی؟ تو پھر میرے ساتھ آج پوریال (تمل ناڈو میں دال، سبزی کا سالن) کھاؤ۔[

“ارے ہٹ میرے روغن جوش کے آگے تیرا پوریال۔ گو واش یور فیس۔”
Go wash your face]/ منھ دھو جا کر [

پر وہ ڈھیٹ ہنستا رہتا، کبھی واش ہز فیس [Wash his face]نہیں کیا۔ رونا کو میں کہتی بِدپّا یہ بِدپّا وہ …
“بِدپّا کے آگے بھی تو کچھ بول نا”، رونا بیزار ہوتی۔

پر بِدپّا تو میرا بڈی buddy]/دوست [تھا، چائلڈہڈ بڈی childhood buddy]/بچپن کا دوست[۔ بس۔ اس کو میں بچپن کی مار سے لے کر ماں سے یہاں لڑ کر آ جانے کی بات، سب بےجھجک بتا سکتی تھی۔ اپنے پہلے کرشcrush] /منظورِنظر [اور اپنے ریسینٹ مینسٹرُئل کریمپس [recent menstrual cramps/ حال میں ماہواری کا درد[ کے بارے میں بھی۔ میرے لیے وہ جینڈر نیوٹرل[gender neutral/ صنفی غیرجانب دار[ تھا، میرا چارلس شُلز [Charles M. Schulz] کے لنس [Linus Van Pelt] کا کمبل تھا، میرا فرینڈشپ از وارم ہگ Friendship is a warm hug]/سچا دوست [تھا۔ اس بھری اجنبی دنیا میں میرا اینکر] anchor/لنگر[ تھا۔ ہی ہیڈ اے وارم براؤن منکی فیس اینڈ آئی لوڈ ہم، ٹرولی ٹرولی۔
He had a warm brown monkey face and I loved him, truly truly.]/ اس کا چہرہ بھورے بندر جیسا تھا، اور مجھے اس سے محبت تھی، بہت بہت۔[

چھٹیوں میں، میں تب گھر گئی تھی۔ ماں کا ایسا رویہ جیسے پہلے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ حیرانی ہوتی مجھے۔ کتنی لڑائیاں لڑ کر اس مقام پر آئی اور اب ماں نے جیسے میری جیت کا نوکیلا پن ہی گہنا دیا۔ اور تو اور پڑوسی رشتےدار آتے تو چہک چہک کر بتایا جاتا کہ دیکھا دی نے کیا کمال دکھایا۔ اکیلے اس بڑے شہر میں جا کر کس دلیری اور آرام سے نہ صرف پیر جمایا بلکہ خاصی نوکری بھی جگاڑ لی۔ بابا خوش ہو کر کہتے, “ببنی کی تا بڈ کام کر لیہلی۔ خاندان کے نام اونچا ہو گئیل۔” ]بٹیا بڑے کام کر رہی ہے۔ کاندان کا نام اونچا ہو گیا ہے۔[ میں کسی ہارے سپاہی کی کھسیانی ہنسی ہنس دیتی۔ لوگ باگ کے سامنے باقاعدہ میری نمائش لگتی۔ ہونہار ماں کی ہونہار بیٹی۔ ماں اپنے پڑھنے کا چشمہ آنکھوں سے ماتھے پر کھسکا کر سنجیدگی سے کہتیں، “میں تو ہمیشہ سے جانتی تھی کہ دی کچھ خاص ہے۔ پھر گہرا سانس بھرتیں، آج اس کے پپّا ہوتے تو”۔۔۔ میں بھونچکا کر دیکھتی میری لڑائی کا، میری جیت کا سہرا ماں کس قدر بڑے پن سے، معصومیت سے اپنے سر باندھ لیتیں۔ یہی ماں تھیں جنھوں نے ایڑی چوٹی لگا دی تھی کہ میں باہر جا نہ سکوں۔

اور میں بھی ضدی کی ضدی۔ ٹھان لیا تھا کہ اس کنویں سے نکلنا ہی ہے۔ ادھر ادھر چپکے چپکے فارم بھرتی، لوگوں سے پوچھتی پاچھتی اپنی قلعہ بندی تیار کرتی رہی۔ رات رات کی خفیہ تدبیریں، بھاگنے کے بلوپرنٹس، کنٹینجینسی پلانز [blueprints, contingency plans/منصوبے، پیش قدمی[۔ اور شہر اپنی خفیہ سرگرمیوں میں مگن رہا، مضبوط رہا۔ اس کی طاقت بڑی طاقت تھی۔ اس کے مورچے ناقابل تسخیر۔ ماں کی آنکھیں، شہر کی آنکھیں تھیں، پڑوسیوں کی آنکھیں تھیں، اپنوں، غیروں کی آنکھیں تھیں جو ایک جوان جہان لڑکی کے ہر حرکت کو، معصوم خطرناک، تولتی ہیں، دیکھتی ہیں۔ جاسوسوں کا بڑا نیٹ ورک، ہر حالت میں، ہر سمے پر مستعد۔ میرے بارے میں خبر جنگل کی آگ تھی۔ بن باپ کی بیٹی کا ہر کوئی رکھوالا۔ کوئی دوست نہیں تھا، سب خبری تھے۔ میں ان بیابانی بھیڑ میں جھنڈ سے بچھڑی میمنا تھی۔ بابا تک اپنے پوپلے منھ سے جگالی کرتے کہتے، “ببنی ماں کے بات مان لیوے کے چاہیں۔” ]بٹیا ماں کی بات مان لینی چاہیے۔[

رات کے اندھیرے میں کھڑکی کی ٹھنڈی سلاخوں سے گرم گال سٹائے میں کھوجتی تھی اجاڑ پگڈنڈیاں جہاں میرے پیروں کے نشان گم ہو جائیں۔ گھانس پھونس جنگلی بیل سب ڈھک لیں۔

مرِدُل بورٹھاکر اپنی چپٹی ہنسی ہنس کر کہتا، بہو ناچے گی میرے سنگ؟ اور میں اس کے سنگ جیون کا ناچ ناچنے نکل پڑی تھی۔ کون تھی میں، کوئی اسادورا دنکن[Isadora Duncan]؟ اور وہ کوئی سرگیئی ییسینن [Sergei Yesenin]؟ پر ہواؤں کا پنکھ پکڑ کر، بِنا آگا پیچھا سوچے اڑ چلی تھی۔ ٹرین میں بیٹھے اس کی دکوستا کو لکھی چٹھی،
“Mercedes, lead me with your little strong hands and I will follow you—to the top of a mountain. To the end of the world. Wherever you wish”
]مرسیڈیز، اپنے ننھے مضبوط ہاتھ تھمائے میری راہ نمائی کرو، میں تمھارے نقشِ قدم پر چلوں گی ــــ کہساروں کی چوٹی تک۔ دنیا کے انت تک۔ جہاں بھی تم چاہو۔[
سوچتی رہی۔

میری جان فٹا فٹ۔ لیکن تب کہاں معلوم تھا کہ مرِدُل داکوستا تو ہو نہیں سکتا تھا نہ جنس میں نہ دماغ میں۔ میں ہی کون اسادورا تھی؟ رات کی نیلی سیاہ روشنی میں کسی ایلزابیتھن ہیروئین [Elizabethan heroine] کی طرح لبادہ اوڑھے میرے پیر اس انجان راستے پر بےدھڑک پڑے تھے۔ شہر کی دیوار اندھیرے میں پل بھر کو بھربھرائی تھی۔ میں کوئی ٹائم ٹرویلر [time traveller]تھی، کوئی عیار تھی۔ میرا جسم ہوا، ہوا تھا اور دیواروں کو پار کر گیا تھا۔ شہر نے اپنے ٹیڑھے پن میں، اپنے برسوں کی تاریخ میں، کئی کئی وقفوں پر ایسے اچکّے کھیل کھیلے تھے۔ اور آج میرے جیون کے لمبے راستے پر یہ تیکھا موڑ لینا تھا، سو شہر نے پھر اپنے دروازے کھولے۔ مرِدُل بورٹھاکر بیچارہ تو صرف واسطہ تھا۔ اس کا ناچ میرا ناچ کب ہوتا۔ پر کچھ شروعاتی ٹینگو [Tango] ہم نے کیے مالوینگر کے برساتی کا ایک کمرا۔ پتلے تُھکپا ]تِبتی نوڈل سوپ[ اور بےسواد مومو کے بیچ ہم نے ایک دوسرے کو جانا۔ ہمارے جسم نے ایک دوسرے کو پہچانا۔ ہماری آنکھیں ایک دوسرے پر نہیں پڑیں، پر ہماری انگلیوں کی پھوہڑ بےچینی نے کوئی پہچان کی۔ گھپ اندھیرے میں آدھے ادھورے کپڑوں سمیت کچھ اناڑی مشقوں کی ناکام کوشش۔ شروع ہونے کے پہلے ہی چُک جانا اور بعد میں بےحیائی سے، بےحسی سے، ‘اٹ واز ہارڈلی دا زینتھ آف پیشن، نو؟
It was hardly the zenith of passion, no?] / جذبہ انتہا کو نہیں پہنچا، ہے نا؟[

میں مطلبی نہیں تھی۔ قطعی نہیں تھی۔ پر تُھکپا کھا کھا کر مجھے ابکائی آنے لگی تھی۔ میں ایک کنویں سے آ کر دوسرے کنویں میں پھنس رہی تھی۔ مرِدُل دن بھر آوارہ گردی کرتا، رات پی کر بھونکتا رہتا۔ ہمارے پیسے تیزی سے اڑ رہے تھے۔ جتنی تیزی سے پیسے ختم ہو رہے تھے اتنی ہی تیزی سے ہم ایک دوسرے سے گھن کھا رہے تھے۔ اس کا لجلجا لمس مجھ میں ناگواری بھر دیتا۔ گھناؤنے پن وہ کہتا،

“یو آر نو جولییٹ بنوش، ناٹ ایون اے ناؤمی کیمپبیل۔ گیٹ بیک ٹو یور فکن مڈل کلاس سیٹ اپ۔ گیٹ بیک گیٹ بیک یو بلڈی فرجڈ بچ۔”
[You are no Juliette Binoche, not even a Naomi Campbell. Get back to your fucking middle class set up. Get back, get back you blood frigid bitch. / تو کوئی جولییٹ بنوش نہیں ہے، وہ چھوڑ تو، توناؤمی کیمپبیل بھی نہیں ہے۔ جا اپنے بکواس مڈل کلاسی گٹر میں جا پڑ۔ چل نکل، دفع ہو جا حرامزادی ٹھنڈی کیتا۔[

پیسے چُکنے کے ٹھیک دو دن پہلے وہ غائب ہو گیا۔ دارجلنگ کی شکنتلا تامنگ، شینکی نے بتایا مرِدُل کو اسٹیشن پر کسی نے دیکھا گھر کی ٹرین پکڑتے ہوے۔ شینکی کے کمرے میں شفٹ ہوے مجھے تین ہفتے بیت چکے تھے۔ صبح سے شام میں جانے کس چیز کی تلاش میں شہر بھٹکتی تھی۔ کئی بار خواہش ہوتی مرِدُل کی طرح گھر کی ٹرین پکڑ لینے کی۔ ایک بار تو اسٹیشن بھی پہنچ گئی تھی۔ میرے پورے وجود میں بگولا اٹھتا تھا۔ میں ریگستان تھی۔ ٹھاٹھیں مارتا ریت کا ساگر۔ اس بڑے شہر کی پوشیدہ دیواریں، اس چھوٹے شہر کی دکھائی دیتی دیواروں سے کہیں زیادہ مضبوط تھیں۔ لوگوں کی آنکھیں پہلے میری چھاتی پر پڑتیں پھر چہرے پر اٹھتیں۔ آنکھوں کو چہرے سے کوئی مطلب نہیں تھا۔ وہ ٹکتی تھیں نیچے، گھومتی تھیں جیسے علاقے ماپ رہی ہوں سٹیکنگ پراپرٹی staking property]/نشان زد جائیداد[۔ چمکیلی بڑی گاڑیوں میں ادھیڑ گنجے آدمی چہرہ نکال شائستگی سے انگریزی میں پوچھتے،

“کیئر فار اے رائیڈ“؟] گاڑی میں بیٹھو گی؟/ [Care for a ride?کبھی کبھی کِلر شارک [killer shark] کے سے فوکس focus]/ارتکاز [سے گاڑیاں پیچھا کرتی دھیمی رفتار،

“کم آن بے بی، آ ول گو یو اے گڈ ٹائیم۔”
Come on baby, I will give you a good time.] / بیٹھ جاؤ پیاری، مزا کراؤں گا۔[

میری چپل کا فیتہ ٹوٹ چکا تھا۔ میرے بیگ کا ہینڈل اور میری والٹ کا پیسہ بھی۔ اور سب سے بڑی اور اہم بات تھی کہ میری طاقت ختم ہو گئی تھی۔ میری معجزاتی غیرمعمولی صلاحیت دو کوڑی کی ثابت ہوئی تھی۔ میں باغی، میں سپارٹاکس [Spartacus]کی اولاد، اوہ میرا بیج ہی کمزور تھا، ڈائلیوٹیڈ /diluted] رقیق[۔ شہر کی جگر مگر کرتی سڑکوں اور دکانوں کے بیچ میں گم ہو رہی تھی۔ میرے اندر کی طاقت چُک گئی تھی۔ میں ایک چھوٹے شہر سے آئی ایک بچاری قصباتی بہن جی تھی، بِن نوکری کے بِن سہارے کے۔ شہر مجھے پڑپ جانے کو تیار تھا۔ لڑکے لڑکیوں، آدمی عورت کی بھیڑ میرے آس پاس سے، میرے آرپار گزر جاتی۔ میں انگلیاں بڑھا کر پکڑ میں لینا چاہتی تھی زندگی، پر ایک بیچارگی مجھے کھوکھلا کر رہی تھی؛ جیسے ہوا کھلی انگلیوں کے پار سے بس بہہ جائے۔ دن رات میں ٹھنڈ سے، جانے انجانے خوف سے کانپتی رہتی۔ میرے پیروں کے نیچے ٹھوس زمین ختم ہو رہی تھی۔ بسوں اور آٹوؤں کی چیخ پکار اور دھینگا مشتی میں میں بھیڑ کی بھیڑ بھاڑ کا بیچارہ حصہ بن جاتی۔ میری ٹھسک، میری ٹھاٹ داری سب ہوا ہو گئی تھی۔ میری بانہوں میں نیلی نسیں ابھرنے لگی تھیں اور پیروں کے تلوؤں میں کڑے کارن /corn]گٹّے[۔ میں رانی راج دلاری اب سڑکوں کی ملکہ تھی۔ اس شہر میں میرا کوئی ہمدرد، کوئی ہمدم نہیں تھا۔

جب صبر کا سرا چھوٹنے ہی والا تھا تب ایک ہوا کے جھونکے سا سندیپن ملا تھا۔ جَن جدوجہد آرگنائزیشن ایکٹوسٹ۔

“چلو گی، چورمُنڈا؟”

اس کی آنکھوں میں آگ تھی۔ اس کی دبلا لمبا سانولا جسم کسی کمان کی طرح تنا رہتا۔ سگریٹ پر سگریٹ دھونکتا، کھانستا لمبی بحثیں کیا کرتا۔ منصوبے بنتے دیر رات تک۔ میں یہاں صرف سندیپن کے لیے تھی۔ ویسے بھی میری دنیا میں اور کیا تھا؟ شینکی کا ادھار اور بےجان، بےسمت راستے۔ میرے کامپلیسینس compliances]/عاجزی[ کو گندے کارپیٹ کی طرح جھٹک پھینکا تھا سندیپن نے۔ جھولا اٹھائے ہم نکل پڑے تھے، سیکواپانی، چورمُنڈا۔ بھٹکتے رہے تھے گاؤں گاؤں۔ قبائلیوں سے بات کرتے لگاتار۔ گملا، گوڈا، لالمٹیا، جانے کہاں کہاں۔ گاؤں کے گاؤں اکوایرacquire]/شامل[ ہو رہے تھے۔ سرکاری پروجیکٹ میں۔ بڑا بجلی کا تاپ گھر بنے گا۔ خوشحالی آئے گی۔ بجلی ہی بجلی۔ دن میں بھی لٹو جلے گا۔

سروے چل رہا تھا۔ بی ڈی او، گاؤں کے مکھیا، پٹواری، سرکل آفیسر۔ پیڑ کے نیچے، گاؤں کی چوپال میں، کسی سرکاری اسکول کے ادھ ٹوٹے کمروں میں کھڑکھڑاتی میز اور تین پیروں کی کرسی جوڑے، پرانے نقشے پھیلائے، سر جوڑے، باریک باریک لفظوں میں رجسٹر بھرے جا رہے ہیں، زمین کی ملکیت کی کہانی لکھی جا رہی ہے۔ بھیڑ کی بھیڑ دھوپ میں پیڑھیوں سے صبر کی کہانی جی رہی ہے، منگتو مرمو اور جگت ہیمبرم، پونو ایکا اور بھولا منڈا، پیٹرمنج اور سُزن ترکی۔

“کتنا پیسہ ملے گا بابو؟” سب یہی پوچھتے ہیں۔ “بنجر ڈھوک کا بھی اِتّا ]اتنا[ ہی مل جائے گا۔”

پروجیکٹ کے عہدے دار آتے ہیں کبھی کبھی۔ پہلے لسٹ بن جائے نا پوری۔ نئے الفاظ تیرتے ہیں ہوا میں، پیپس اور ریپس۔
“کیا ہے یہ؟” میں سندیپن سے پوچھتی ہوں۔
“پرسنز ایفکٹیڈ بائی پروجیکٹس اور رہیبلٹیشن آف پروجیکٹ ایفیکٹیڈ پرسنز۔”
[Persons Affected by Projects & Rehabilitation of Project Affected]
سندیپن جوش سے بول رہا ہے:

“سوشل امپیکٹ اسیسمینٹ [Social Impact Assessment]کرنے کے لیے ایک ٹیم آئی ہوئی ہے، ان سے انٹرفیس [Interface] کرنا ہے۔ فائنل نوٹیفیکیشن [final notification]کے پہلے کھاتےداروں کا نام ایک بار اور ویریفائی [verify] کر لیں۔ کیا ٹائم فریم [ time frame] ہے اس کا حساب کتاب؟ اور پھر گریوانس رڈریسل سیل [Grievance redressal cell] کا کیا؟”

انگلیوں پر کام گناتا ہے ایک ایک۔ اس کے بستر کے بغل میں تھاک کی تھاک کتابیں ہیں، آندرے بیتل Andre Beteille اور شری نواس[Srinivasa Ramanujan] درکھائیم [Émile Durkheim] اور ویبر[Max Weber] ، مارگریٹ میڈ[Margaret Mead] اور ملنووسکی [Bronisław Kasper Malinowsk]… این پی آر آر کی فوٹوسٹیٹ کاپی، رنگے ہوے کاغذ آگے کی کارروائی کے بلوپرنٹس۔ اس کی آواز کمرے میں بےچین گھوم رہی ہے۔ کتنا کتنا کرنا باقی ہے، کل پرسوں مہینہ بھر بعد۔ میں تھکی ہوں، دن بھر کی دھوپ دھول میں۔ موٹا لال چاول اور بانس کا اچار کھا کر من آسودہ نہیں ہوا ہے۔ سندیپن کی باتوں کی آگ بجھ رہی ہے۔ اتنی دشواریاں میرے بس کی کہاں۔ میں بھوسے کے ڈھیر پر ڈھلک جاتی ہوں۔ سندیپن مٹھی کی اوٹ بنا کر دھواں پھینک رہا ہے۔

“ہمیں ان بھولے قبیلے والوں کے حق کی لڑائی لڑنی ہے۔ صحیح معاوضہ دلوانا ہے۔ رہیبلٹیشن اور رئیمپلیمینٹ[reimplement] ۔ گاؤں میں بجلی، اسکول، دواخانہ۔ پروجیکٹ کے اعلی عہدیداروں سے میٹنگ ہے، اس ہفتے۔ تم گاؤں کی عورتوں سے مل لو، پوچھ لو۔”

اس کی باتیں چل رہی ہیں۔ ڈھبری کی پیلی روشنی میں میں سندیپن سے کچھ اور چاہتی ہوں۔ اس پھوس کی کٹیا میں آج ہم اکیلے ہیں ورنہ شپرہ اور رشید بھی ہوتے ہیں۔ بم بہادر سنگھ بھی کبھی کبھار ہوتے ہیں۔ شپرہ اور رشید ہمارے ساتھ آئے ہیں۔ بم بابو ہزاری باغ سے۔ ساٹھ پینسٹھ سال کے رٹائرڈ آدمی، کس جوش سے کام کرتے ہیں بےلوث جذبہ۔ اچھا سمے کٹتا ہے، صحیح کام کرتے ہیں۔ سفید مونچھوں سے چھپی ڈھکی بڑبڑاہٹ ہوا میں لٹکی رہتی ہے کچھ لمحے۔ کچھ اور ورکر بھی بائی روٹیشن by rotation]/باری سے[ آتے رہتے ہیں۔

“یہاں کا کام نپٹے گا تو ہم بولنگیر نوپاد اور کلاہانڈی جائیں گے۔”

اندھیرے میں بیڑی کی نوک جل بجھ رہی ہے۔ یہاں آ کر سندیپن بیڑی پر اتر گیا ہے۔ ان روم لو لائیک رومنز ]جیسا دیس ویسا بھیس/[In Rome like Romans۔ لیکن میں تو ایسے نہیں رہ سکتی۔ میرے پیروں میں ایڑیاں پھٹ گئی ہیں۔ کالی سوکھی میل بھری۔ میرے بال جٹوں سے بھرے ہیں۔ کبھی کبھار پکڑ کر جوں بھی نکال لیتی ہوں۔ ارنڈی کے تیل سی مہک آتی ہے مجھ سے۔ اوہ، کیوں دیکھے گا سندیپن مجھے۔ پر اس سے بھی تو بیڑی کی بو آ رہی ہے۔ اس کی داڑھی بھی تو دھول سے بھوری ہے۔ پر پھر بھی وہ جنگل کا چیتا دکھتا ہے، چست، پھرتیلا۔ اس کی جنگلی آنکھوں کی لپک کے پیچھے پیچھے تو میں آئی۔ میں اپنے من کی آگ دونوں ہاتھوں میں بھرے نیند کے اندھیری غار میں اتر جاتی ہوں۔

کٹیا کی دیوار پر کوئی سایہ ڈول رہا ہے۔ کارو مانجھی کے کالے چکنے بدن پر چیتا سوار ہے۔ لال مٹی کی دھول اڑ رہی ہے۔ چیتے کے پنجے کالے پتھر پر کھرچنے نشان بنا رہے ہیں۔ چیتا ہنکار رہا ہے، کیسی کریہہ آواز۔ میں ڈر سے آنکھیں موند لیتی ہوں، بانہوں میں سر دھنسا کہاں گھس جانا چاہتی ہوں۔ کانوں میں جنگل کے ڈھول نقارے بج رہے ہیں اور میرے ڈر کی، گِھن کی کھٹی لہر میرے جسم سے پھوٹ رہی ہے۔ میں ہاتھ بڑھا اس بو کو روکنا چاہتی ہوں۔ میرے بڑھے لاچار ہاتھوں کو مانِک پرکیتھ تھام لیتے ہیں:

“ڈاکٹر کہتا ہے، ملیریا کا ڈلیریم delirium]/خفقان[ ہے۔ پتہ نہیں ٹائفسtyphus میں کیا کیا بک رہی تھی۔”

“مانِک پرکیتھ پروجیکٹ کے عہدیدار ہیں۔ انڈسٹریل انجینئر۔ آر اینڈ آر پالیسی امپلیمینٹ implement]/لاگو[ کرانے آئے ہیں۔”

“اس دن یہی آپ کو جیپ میں لاد کر پروجیکٹ اسپتال لائے”، ڈاکٹر ویست باہر نکلتے بولتا ہے۔ مانِک پرکیتھ ذرا سا لال پڑ جاتے ہیں۔ کچھ دیر اور چپ بیٹھتے ہیں پھر مبہم سا “آتا ہوں۔”، کہہ چلے جاتے ہیں۔ میں کمرے کی ہری سکرٹنگ skirting]/ کمرے کی دیوار کی تختہ بندی[ دیکھتی ہوں، بسترے کی اجلی چادر دیکھتی ہوں، دیوار پر پروجیکٹ لوگو logo]/نشان [کا اگتا سورج دیکھتی ہوں، کھڑکی کے ہلتے ہوے پردے سے باہر کی ٹکڑا بھر دنیا دیکھتی ہوں۔ ہفتے بھر اسپتال میں ہوں۔ شپرہ آتی ہے، بم بابو آتے ہیں۔ رشید بھی آتا ہے۔ سندیپن نہیں آتا۔

مانِک پرکیتھ روز آتے ہیں۔ کبھی کبھی شام کو بروس چیٹون [Bruce Chatwin] پڑھ کر سناتے ہیں۔
In the beginning the earth was infinite and murky plain, in the morning of the first day, the sun felt the urge to be born…
] شروع میں زمین لامتناہی اور صفاچٹ میدان تھی، پہلے دن، سورج کو اگنے کی خواہش ہوئی[

اسی شام تارے اور چاند بھی پیدا ہوتے۔۔۔ تو ایسا ہوا، اس پہلی صبح، کہ ہر پرکھ نے سورج کی گرمی کا دباؤ اپنے پوپٹوں پر محسوس کیا اور محسوس کیا اپنے جسم سے بچوں کو جنم لیتے ہوے۔ سانپ آدمی نے محسوسا سانپوں کو اپنے ناف سے پھسل کر نکلتے ہوے۔۔۔ اپنے گڈھوں کے تلوں پر آدی باسی انسان نے پہلے ایک پاؤں ہٹایا پھر دوسرا۔ پھر انھوں نے اپنے کندھوں کو سکوڑا پھر بانھوں کو۔ انھوں نے اپنے جسم کو مٹی کیچڑ سے باہر نکالا، جھاڑا۔ ان کی آنکھیں چٹ سے کھلیں۔ انھوں نے اپنے بچوں کو کھلی دھوپ میں کھلتے دیکھا۔ ان کی جانگھوں سے کیچڑ آنول نال کی طرح گرا۔ نوزائیدہ کے پہلے رونے کی طرح پھر ہر پُرکھ نے انا منھ کھولا اور کہا، میں ہوں۔ اور یہی پہلا اور بعد کا پہلا کام تھا، نام رکھنے کا۔ سب سے اسرار بھرا اور سب سے مقدس پرکھوں کے آدی گیت کا پہلا دوہا۔ اور اس طرح انھوں نے گایا ندیوں کو، نالوں کو، پہاڑوں کو، ریگستانی ٹیلوں کو۔ انھوں نے شکار کیا، بھوج کھایا، پیار کیا، رقص کیا، موت دی، پائی۔ جہاں جہاں وہ گئے ان راستوں پر انھوں نے گیتوں کی پگڈنڈیاں چھوڑیں۔ پورے سنسار کو انھوں نے گیت کی چادر میں لپیٹ لیا۔ اور جب پوری دنیا گا لی گئی، وہ تھک چلے تھے۔ ان کے ہاتھ پیر میں برسوں کا سکوت سرایت کرنے لگا۔ کچھ وہیں جہاں کھڑے تھے زمین میں سما گئے۔ کچھ غاروں میں بلا گئے۔ کچھ اپنے دائمی گھروں میں پانی کے کنؤوں میں جہاں سے وہ پیدا ہوے تھے، کھیت ہو گئے۔ سب کے سب آخر واپس اندر وہیں چلے گئے جہاں سے وہ آئے تھے۔

میں ان کی بھاری گہری آواز کے جادو میں اتر جاتی ہوں۔ ریشے سا چھیل چھیل کر الٹ پلٹ کر دیکھتی ہوں۔ ہتھیلیوں میں باندھ کر روک رکھنا چاہتی ہوں۔ پھر کب آنکھیں مند جاتی ہیں۔ میں سندیپن کو بھولنا چاہتی ہوں۔ اچھا ہوا بولنگیر گیا۔ میں مانِک پرکیتھ کو ادھ کھلی آنکھوں سے دیکھتی ہوں، میری دکھائی پر لال پڑتے ہوے دیکھتی ہوں۔ پھر اداس ہو جاتی ہوں۔ نہ میں ناچ سکی نہ جی سکی۔ میری سوکھی کلائیوں کی نیلی لکیروں پر کس سفر کی عبارت اور لکھی ہے یہ پڑھنا چاہتی ہوں۔ گھر سے نکلے کتنے مہینے بیت گئے پر نہ ماں کی یاد ستاتی ہے نہ بابا یاد آتے ہیں۔ ایسی ہاری ہوئی حالت میں بھی نہیں۔ جب بلندی پر جاؤں گی تب یاد کروں گی۔ ابھی یہ لگژری luxury]/تعیش[ اپنے کو نہیں دینا۔ میرا گیت ابھی ادھورا ہے۔ اس کے سُر تال سب بھینگے ہیں۔ سب طرف رف ایجیز rough edges]/کھردرے کنارے[۔ کسی رندے سے رگڑ گھس کر پورے جیون کو چکنا کرنا ہے۔ پر کیوں۔ ایسا بھی کیا۔ پوروں پر روکھا سا کچھ رات دن لگتا نہ رہے صرف اسی لیے؟ صرف صرف اسی لیے۔ ایسے بےسہارے اکیلےپن میں گرم آنسو کنپٹی پر بہہ کر روکھے بالوں میں جانے کب اور کتنا جذب ہوتے رہے ہیں، ایسا جان لینے والا بھی جب کوئی نہیں تو ان کا ایسے بہہ جانے کا بھی کیا فائدہ۔ رات کے گم سناٹے میں خود ہی اپنی پتلی بانہوں کو سہلاتی ہوں، کبھی چھاتیوں کو مٹھی میں بھر لینے کی ناکام کوشش کرتی ہوں۔ زندہ ہوں، اس بھر کے لیے۔ ٹھنڈی بےجان، بےروح۔ مرے ہوے ماس کا لوتھڑا بھر۔ کس گرمی، کس حرارت کی تلاش میں بھٹکتی رہی۔ لوہے کے پلنگ کی سلاخیں اتنی سرد ہیں۔ میں اپنے گرم ماتھے کو ٹکا دیتی ہوں۔ کھڑکی سے ٹکڑا بھر اندھیرا اندر آتا ہے، پھر دھیرے سے پورے وجود میں پسر جاتا ہے، سب طرف۔ کوئی کونا اچھوتا نہیں بچتا۔ نہ رات میں نہ صبح کو۔

“مجھے کیا سکھاؤ گی، ‘ہو’ کہ ‘منڈاری’؟ بولتی کون سی بھاشا ہو؟” میری مسکراہٹ کمزور ہے۔ اس کی ہنسی پِھک سے کھلتی ہے۔ بےآواز دہری ہو جاتی ہے کسی انجانے خوشی سے۔ اوہ کیسا بھولا سہج من ہے اس کا۔ میرے کلیجہ میں ٹیس اٹھتی ہے۔ کیسی تو حیرانی سے دیکھتی ہوں، اسے۔ چھ مہینے کے بچہ کو پیٹھ سے باندھے آئی ہے مجھے دیکھنے، پانچ کوس چل کے۔ اس کے گودنے سے بھرے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لے کر سہلاتی ہوں۔ کتنے کڑے کھردرے ہاتھ۔ کیسا سکھ مل رہا ہے۔ آتما تک کچھ بھیگ جاتا ہے۔

“دیدی بہت زیادہ بیمار ہے؟”

باہر کسی وارڈ بوائے سے پوچھ رہی ڈُمری کے آواز کی بےچینی کہیں میرے من کے آس پاس گھومتی ہے، منڈلاتی ہوئی چیل جیسے۔ مجھے کوئی چیر رہا ہے ریشہ ریشہ۔

رات آتی ہے، دن کسی پھسلتی بہتی ندی سا بہہ جاتا ہے۔ سب کے چہرے گڈ مڈ ہوتے ہیں۔ کبھی مرِدُل اپنے ہاتھوں میں چاپسٹکس تھامے مجھے دھمکاتا ہے، یو فرِجڈ بِچ، پر اسے آرام سے پرے ہٹا کر مانِک آنکھیں موندے کسی آباو اجداد کا آدی گیت سنانے لگتے ہیں۔ اس گیت پر جنگل میں ایک ایک کر کے جانور، پیڑ پہاڑ کھڑے ہوتے ہیں اور گاؤں گھر کی عورتیں جھوم جھوم کر ناچتی ہیں اسی سنگیت کے لے میں۔ میں بھی ان میں سے ایک ہوں، ایک ہوں۔ خوشی کے بہتے دھن پر تیرتی میں پھر کیا دیکھ کر ہکابکا رہ جاتی ہوں۔ پسینے سے لت پت کیا کیا بڑبڑاتی ہوں، رات دن۔

سب سپنا ہے، یہ کیا کسی نے نہیں بتایا تمھیں؟ کوئی لڑکی کتنا کتنا بھٹکے گی۔ لوٹو اب لوٹو۔ بڈھی کے سن سے سفید بال اور کالے جُھڑیائے چہرے سے کٹھورتا برستی ہے۔ اس کی آنکھیں سانپ کی آنکھیں ہیں۔ ایک بار بھی پلک نہیں جھپکتی۔ کُبڑ سے دوہرا جسم کسی جادو سے سیدھا کر اپنی انگلی میری طرف بڑھاتی ہے، لوٹو لوٹو۔ پیچھے سندیپن ہنستا جاتا ہے، بےتحاشہ، کارو کو اپنے کندھے سے سٹ کر ہنستا ہے۔ بوڑھی ٹوٹکے کا پتّا اور بوٹی میرے سرہانے رکھتی ہے۔ اس کی پیٹھ پھر دوہری ہو جاتی ہے۔ دروازے پر مڑ کر ایک بار دیکھتی ہے، انگلی بڑھا کر اشارہ کرتی ہے۔ اندھیرا پھر گرنے لگتا ہے۔

صبح میں بےچین ہوں۔
“گھر جائیں گی کیا؟” مانِک پوچھتے ہیں۔ “میں انتظام کروا دوں گا۔”
راشد کہتا ہے، “میں چلوں گا ساتھ۔”
“نہ”، میں سر ہلاتی ہوں۔

دروازے پر بوڑھی کھڑی ہے۔ مٹ میلی ساڑھی کے نیچے اس کے کالے روکھے پیر میں دیکھتی ہوں۔ برسوں پرانے پیڑ کا سخت چھال بھرا تنا، موٹے کھردرے انگوٹھے اور انگلیاں۔ سب سیدھے ہیں الٹے نہیں۔ اس کا چہرہ سخت ہے۔ کچھ بولتی نہیں۔ بس آ کر ہتھیلیوں میں مسی تسی پتوں کی پوٹلی میرے سرہانے رکھ، نکل جاتی ہے۔ میری زبان تالو سے سٹ گئی ہے۔ مانِک چپ کھڑے ہیں۔

میں ہکلاتی ہوں، “یہ کیسے آئی؟”
“کون؟ کس کی بات کر رہی ہیں؟”
“ابھی بھی ڈلیریم ہے شاید۔” وہ دھیرے سے سر ہلاتے ہیں۔

“ڈُمری کو بلوا دیجیے”، میں بڑبڑاتی ہوں۔” لمبی سانولی ڈُمری اپنے بچے کو پیٹھ پر لادے آئے گی صرف مجھے دیکھنے۔ جنگل کا میٹھا سہج لوک لے کر آئے گی، اپنے ساتھ۔ سب فطری، ستھرا، صاف۔ صاف میٹھا پانی۔ کتنی پیاس ہے۔ کیسے بجھے گی۔ میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی ہوں۔ مانِک گھبرا گئے ہیں۔

رات بم بابو رکے ہیں اسپتال میں۔ کمرے میں حبس لگتا ہے۔ ایسا بڑبرا کر کرسی کھینچ باہر کوریڈور corridor]/برآمدہ[ میں چلے جاتے ہیں۔ بم بابو کے چہرے میں مجھے ایک اطمینان دِکھتا ہے۔ سفید اوپر کو اینٹھی ہوئی بمپلاٹ مونچھیں۔ چہرہ ایک دم سنگین ہو جاتا، اگر ناک ایسی گول مٹول نہ ہوتی۔ چھتری ہوئی بھنوؤں کے نیچے آنکھیں بھی ایک دم نیک۔ ہر آدھے گھنٹے میں جھانک لیتے ہیں۔

“کچھ درکار ہو تو کہیے گا۔”

میرے منھ سے آواز نہیں نکلتی۔ میں کہتی ہوں، یہیں آ جائیے، بیٹھیے، بتائیے اپنے بارے میں، لے جائیے مجھے اس اسپتال کے اداس کمرے سے باہر۔ میرے منھ سے آواز نہیں نکلتی۔ آدھی رات بیت گئی ہے۔ کوریڈور میں سائیں سائیں ہوا بہنے لگی ہے۔ کھڑکی کے شیشے سب چٹخے ہوے ہیں۔ بم بابو کرسی اندر کمرے میں کھینچ لائے ہیں۔ ان کا سر ایک طرف ڈھلک گیا ہے۔ آدھا چہرہ نیچے بہہ گیا ہے، ڈھیلے ماس کا پِنڈ۔ ناک سے گھراہٹ نکل رہی ہے۔ ان کی بےخبر گہری بےخبر نیند سے مجھے بےطرح حسد ہوتا ہے۔

مہوے کے پھولوں پر مجھے سندیپن لے رہا ہے۔ اس کے ہونٹ نشہ سے بھاری ہیں۔ میرے ہلکے ہیں۔ اس کی انگلیاں سخت ہیں، میری کومل۔ وہ بھاری ہے۔ میں ہلکی ہوں۔ اس نے اپنا چہرہ میرے چہرے پر ٹکا دیا ہے، کومل۔ اس کی جِلد نمکین ہے، سوندھی مٹی اور کالا پہاڑ، کِل کِل بہتا جھرنا۔

“میں تمھیں بھور کی اوس دینا چاہتا ہوں، رات کا اندھیرا بھی”، اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں سے کہتے ہیں۔
“اور میں تمھیں اپنے بالوں کی مہک دیتی ہوں۔“ میں بال پھیلاتی ہوں۔
“میں تمھیں ہوا دیتا ہوں، اور پانی۔”
“میں اپنی ناف کی گہرائی، اس کے پھول۔” میں مہکتی ہوں۔
“میں تمھیں اپنی سوچ دیتا ہوں۔”
“میں تمھیں اپنی سانس۔” میری سانس گنگناتی ہے۔
“میں تمھیں سوچتا ہوں۔”
“میں تمھیں سوچتی ہوں۔”
میں ہنسنے لگتی ہوں، دھیمے دھیمے۔
اس کی ہنسی میری ہنسی کا ہاتھ تھام لیتی ہے۔
میں کہتی ہوں، مجھے چکرگھنی دلاؤ گے؟

وہ میری بانہہ تھام لیتا ہے۔ میں ہوا میں ناچتی ہوں۔ میرے بال کھل جاتے ہیں۔ میری بانہیں میرے سر کے پیچھے آسمان تھام لیتی ہیں۔ وہ مجھے تھام لیتا ہے۔

“تھم لو اب ذرا۔” وہ میری سانسوں کو تھام کر کہتا ہے۔
“تھم گئی ذرا۔” میں سانسوں کو اسے پکڑا کر کہتی ہوں۔
میری سانس کو ہوا میں پھونک کر کہتا ہے: “اب؟”
“اب۔” میں جواب دیتی ہوں۔ رات کو مٹھی میں بھر بھر کر میں مسل دیتی ہوں۔ اس کے چہرے پر ایک بار مسل دیتی ہوں۔
“آج اچھی دکھتی ہیں۔” بم بابو جمائی لیتے ہیں۔
“سینٹر سے ہو کر آئیں ہم؟” پھر فٹافٹ نکل پڑتے ہیں۔

جانے ایسے کتنے دن بیتے۔ ایک ایک کر کے، ایک کے بعد ایک۔ شہر لوٹنا پھر ایک ٹھیک ٹھاک نوکری تب جب امید نہ تھی۔ پیسے، سکھ آسانی سب لیکن پھر بھی کچھ چُھوٹا چُھوٹا۔ کون سا خبط، کیسی سنک؟ اتارا گیا کپڑا ہو جیسے جسم۔ گیا ہوا موسم ہو جیسے من۔

“اوہ! سندیپن ہاؤ آئی سٹل یرن فار یو۔”
Oh! Sandeepan, how I still yearn for you.] /اوہ ! سندیپن مجھ ابھی بھی کس قدر تمھاری آرزو ہے۔[
بِدپّا کہتا ہے، “ہی واز اے کیڈ۔”
He was a kid.]/ نرا بچہ تھا وہ۔[
“نو، ہی واز گے۔”
No, He was a gay.]/ نہیں، ہم جنس پرست تھا۔[
“سو؟”

“سو وہاٹ؟ آئی سٹل یرن فار ہم۔ So what? I still yearn for him]/سو کیا؟ مجھے اب بھی اس کی خواہش ہوتی ہے۔ [میرے اندر کوئی سوراخ ہے جو بھرتا نہیں کبھی۔”

“اور میرے سوراخ کا کیا؟ میرا کیا؟ تم کیا کبھی سمجھے گا ]سمجھو گی[ نہیں دلنواز؟ نینو انوزبل مین ائپوتانو، نوو ننو چوڑلیوو؟” )میں انوسبل مینinvisible] man/غائب آدمی [ ہو جاؤں گا اور تم دیکھو گی بھی نہیں؟ (
اس کا براؤن منکی فیس بجھ جاتا ہے۔

جانے کیا کیا بولتا ہے یہ چھوکرا، میں چیزیں سمیٹتی ہوں۔ تھوڑا سا جنگل میں سمیٹ لائی تھی اپنے ساتھ، اب وہی کھینچ رہا ہے۔ کیا جانے اس بوڑھی کا ٹوٹکا ہو کوئی۔

“او بِدپّا کانٹ یو سی،Oh Bidappa! Can’t you] /او بِدپّا دیکھو[ مجھے لوٹنا ہی ہو گا۔” بِدپّا ناراض ہے مجھ سے، بہت ناراض۔
“یو آر رننگ آفٹر ہم۔” you are running after him.] / تم اس کے پیچھے بھاگ رہی ہو۔[
“نہیں۔”
“پھر میں کنسیڈ concede]/تسلیم[ کرتی ہوں۔”
“ایون اف آئی واز ہی وڈنٹ ہیو می۔”
Even if I was. He wouldn’t have me.]/ اگر میں اس کے پیچھے بھاگ بھی رہی ہوتی تو تب بھی وہ مجھے قبول نہ کرتا۔[
“لائیک یو وڈنٹ ہیو می۔” Like you wouldn’t have me.]/ جیسے تم مجھے نہیں کرتی۔[
میں ہنسی سے دوہری ہو جاتی ہوں۔

“کیا بِدپّا، کبھی تو مذاق چھوڑو، ورنہ ایک دن میں سچ مچ تمہاری بات سچ مان لوں گی اور تمھارے گلے پڑ جاؤں گی۔” میری ہنسی رکتی نہیں۔ اس کی آنکھیں اداس ہیں۔ پھر وہ بھی ہنسنے لگتا ہے۔

اسٹیشن پر مستعدی سے میرا سامان چڑھاتا ہے اور پلیٹ فارم پر آخر تک ہاتھ ہلاتا ہے۔ پھر گلا پھاڑ کر چلاتا ہے،
“دل نواز تم بہت اچھی ہو، نوو چالا منچیدانوی۔”

(زمین اکوائیر ہو گئی۔ گاؤں والوں کو خوب پیسہ ملا۔ کچھ نشہ میں اڑایا، کچھ دارو پر، کچھ عورت پر۔ کچھ بڑایا کچھ لٹایا۔ خوب کھایا خوب پیا۔ پیسہ پنکھ لگا کر اڑا، مرغی جیسا، بطخ جیسا، تیتر بٹیر جیسا۔ گاؤں جنگل جشن منایا مہینوں دن تک۔ اتنا پیسہ کس نے دیکھا تھا۔ رات دن نشہ ہی نشہ۔ عورت کا، دارو کا، پیسہ کا۔ کھیت بُھولے، جنگل بُھولے، گائے بکری بھینس مرغی سب بُھولے۔ مچھلی کا پوکھر بھولے، پیڑ کے پکھیرو بُھولے۔ ٹوٹکے، ہنر سب بُھولے۔ جیسے پورے گاؤں میں کوئی بُھولنے کی وبا پھیلی۔ ایک ایک کر کے سب بُھولے۔ اور جب سب بھول چکے اور بُھولنا پوری طرح سے پورا ہوا تب جا کر یاد آنا شروع ہوا۔ سب سے پہلے کھیت یاد آیا، پھر جنگل یاد آیا۔ مچھلی، مرغی، بھینس یاد آئے۔ اپنی عورت یاد آئی، اپنا بچہ یاد آیا۔ پر یاد تو آیا، اس سے کیا۔ جب یاد آیا تو لوٹے۔ لوٹے تو دیکھا کہ لوٹنے کی جگہ نہیں۔ گاؤں کی زمین بلا گئی تھی۔ مٹی کے کوڑے گئے ڈھوہ تھے، مشین تھی، کانٹوں کی باڑ تھی۔ “نو ٹریسپاسنگ” No trespassing]/ کوئی مداخلت بے جا نہیں ہو گی[ کا بورڈ تھا۔ ٹریکٹر اور دیوہیکل کرین تھے۔ جگہ جگہ “سرکاری جائیداد” کا نوٹس تھا۔ پیلے جیکٹ اور پیلے سیفٹی ہیلمیٹ میں جانے کہاں کے مزدور تھے۔ عجب سی بھاشا بولنے والے ٹھیکیدار تھے۔ جیپ پر گھومنے والے سرکاری اہلکار تھے۔ خاکی وردی والے رائفل والے سکیورٹی گارڈز تھے، تعینات، مستعد۔

باؤنڈری وال[boundary wall] اور چینلنک فینس[chain-link fence] باڑ کے باہر کھڑے ہکّا بکّا، نشہ اترے مرد تھے، جھنڈ کے جھنڈ۔ باڑے کے اندر ہنکائے گئے جانور۔ بس ایک فرق تھا، یہ باڑے کے باہر تھے۔ ان کے پاس اب کچھ نہیں تھا، نہ پیسہ، نہ کھیت۔ اور ان کو اپنے مطابق ہانکنے کے لیے جلدی ہی کچھ سماج وادی مورچوں کے کارکن جُتنے والے تھے، کچھ دلال۔ ان کی آڑ میں اپنا الو سیدھا کرنے۔ زمین کے بدلے نوکری کا نعرہ بلند کرنے والوں کی بھیڑ۔ کچھ کو کام ملے گا، صاف صفائی کا، مینٹیننینس maintenance]/دیکھ ریکھ[ کا، باغبانی کا، مزدوری کا۔ جنگل کے جنگلی جانوروں کو پالتو بنانے کا۔

ارتقا کے راستے پر اتنی قربانی کا تو حق بنتا ہے صاحب۔ پروجیکٹ کے ٹیمپرری temporary]/عارضی[ ٹاؤن شپ کے کلب میں بیٹھ کر، سگریٹ کے دھوئیں کے چھلّے اڑاتے جام سے جام ٹکراتے، بلڈی میری اور جِن وِد ووڈکا کے نشیلے گھونٹ بھرتے، ٹینس کے ایک گیم کے بعد صاحب لوگ ایسی کتنی گرماگرم بحث سے اپنا ہاضمہ درست اور بھوک تیکھی کریں گے۔ میگزینز اور اخباروں میں دھواں دار، طرار رپورٹنگ ہو گی۔ میدھا پاٹکر اور ارُندھتی راے، سندرلال بہگنا اور بابا آمٹے کو یاد کریں گے۔ انفراسٹرکچر درست کرنے کی بات ہوگی۔ چین جب گئے تب دیکھا، ابھی ہم انفراسٹکچر میں کتنا پیچھے ہیں، سڑک، بجلی پانی۔ امریکہ اور یورپ تو خیر چھوڑ ہی دیں ابھی۔ گلوبل پاور ہونے کے لیے پہلا قدم کیا ہے، جیسی بحث ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں پسینہ چُھڑوائیں گی۔ پر ان قبائیلیوں کو کون یاد کرے گا؟

)کوئی لڑکی جو کسی لڑکے کے پیچھے پاگل ہوتی وہاں پہنچی اور پاگل ہو گئی ان کے لیے؟ کیوں بھئی؟ کیوں بھلا؟ ایسی بےوقوفی کا مطلب کیا۔ اچھی خاصی نوکری چھوڑ کر، مارکن کی موٹی ساڑی پہن کر گاؤں میں رہ کر کیا کر لے گی آخر؟ کوئی ڈُمری کو پڑھا دے گی، کسی بوڑھے کی حق کی لڑائی کے لیے مانِک پرکیتھ کے دفتر پہنچ کر لکھا پڑھی کرے گی، کسی کا معاوضہ جلدی مل جائے اس کی لڑائی لڑے گی۔ اپنے حصہ کا جتنا بن پڑتا ہے اتنا بھر کرے گی اور کیا۔ بم بابو سوچتے ہیں۔ خوب سوچتے ہیں آج کل۔ خوب خوش بھی رہتے ہیں۔ خوب مست ہونے والی خوشی نہیں۔ بس ٹھہرے، ہوے پانی جیسے ساکن خوشی۔ آتما جڑا جائے ایسی خوشی۔ چائے کا پانی چڑھاتے ہیں۔ سورج ڈوبنے کو ہے۔ ڈوبتے سورج کو تاکتے ہوے چائے پینے کی خوشی، دن بھر کے تھکان سے چور ہونے کی خوشی۔ سانجھ ڈھل رہی ہے۔ بس یہ لڑکی آ جائے، دن بھر کی تھکی ہاری ہو گی۔ بم بابواپنایت سے سوچتے ہیں۔ دور پروجیکٹ ٹاؤن شپ میں جگرمگر بتیاں چمچما رہی ہیں۔ باؤنڈری وال کے اس پار ابھی بھی پیلا مٹ میلا اندھیرا ہے۔)

Categories
تراجم نان فکشن

ایک کامل زندگی کی تین جہات

‘اک کامل زندگی کی تین جہات’، اس موضوع کو میں خطبہ میں برتنا چاہتا ہوں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ہالی وڈ والے بتاتے ہیں کہ کسی بھی فلم کا مکمل ہونا، اُس کا سہ جہاتی [3D] ہونا ہے۔ آج جب میں آپ سے مخاطب ہوں، میں چاہتا ہوں کہ ہم میں سے ہر کوئی اپنی زندگی پر نظر کرے کہ آیا یہ کامل ہے؛ اگر ہاں تو اس کی تین جہات ہونی چاہئیں۔

بہت بہت صدیوں بیشتر ایک آدمی تھا جس کا نام جون (John) تھا۔ وہ پیٹموس (Patmos) نامی ایک تاریک و تنہا جزیرے پر قید ہو گیا۔ اور میں بھی قید میں رہا ہوں اور اچھے سے جانتا ہوں کہ یہ تنہائی کا ایک تجربہ ہے۔ اور جب آپ اس حالت میں مبتلا ہوتے ہیں، آپ ہر قسم کی آزادی سے محروم ہو جاتے ہیں، ماسوائے سوچنے کی آزادی سے، عبادت کی آزادی سے، غور و فکر کی آزادی سے، مراقبے کی آزادی سے۔ اور جب جون اس جزیرے پر تنہا قید تھا، اس نے اپنی نگاہیں آسمان تک بلند کیں اور اس نے فلک سے نازل ہوتے ہوئے، ایک نئی زمین کو دیکھا۔ انجیل کے اکیسویں باب ‘الہام’ [Revelation :انجیل کی آخری کتاب جس میں جون کو مستقبل کے بارے میں ملنے والے الہامات درج ہیں] کا آغاز اس مقولے سے ہوتا ہے، ‘اور میں نے ایک نیا فلک دیکھا اور ایک نئی زمین۔ اور میں جون ہوں، جس نے ایک مقدس شہر دیکھا ایک نیا یروشلم، جو خداوند کے عالم بالا سے نازل ہو رہا تھا۔’

اور خداوند کے اِس عظیم شہر کی عظمتوں میں سے سب سے بڑی عظمت یہ بھی تھی کہ جون نے دیکھا کہ یہ کامل ہے۔ یہ کہیں سے بلند اور کہیں سے پست نہیں تھا بلکہ، اپنی تینوں جہات میں کامل تھا۔ اور اِسی باب میں جب ہم سولہویں آیت کو دیکھتے ہیں، جان کہتا ہے: “اس کے طول، عرض اور بلندی مساوی ہیں۔” بہ اَلفاظ دِیگَر خداوند کا یہ شہرِ نو، مثالی انسانیت کا یہ نیا شہر کوئی غیر متناسب وجود نہیں ہے، بلکہ تمام اطراف سے کامل ہے۔ میں متن اور اس باب میں برتی علامتوں میں جون جو کچھ کہہ رہا اس پر غور وفکر کرتا ہوں ۔ وہ بنیادی طور پر کہہ رہا ہے کہ زندگی کو زندگی ہونا چاہیے اور بہترین زندگی وہ ہے جو تمام اطراف سے کامل ہو۔

اور کسی بھی زندگی کے کامل ہونے کی تین جہات ہیں؛ جس کے لیے ہم مناسب طور پر انھیں تین الفاظ میں بیان کر سکتے ہیں: طول، عرض اور بلندی۔ اب ہم یہاں زندگی کے طول کو کسی کی اپنی بھلائی کے لیے باطنی فکر کہیں گے۔ دیگر الفاظ میں یہ ایک داخلی سعی ہے جو کسی کے آگے بڑھنے کے ذاتی مقاصد اور نصب العین کے حصول کی وجہ بنتی ہے۔ زندگی کے عرض کو ہم یہاں دوسروں کی بھلائی کے لیے خارجی فکر کہیں گے۔ اور زندگی کی بلندی خداوند تک رسائی ہے۔ یعنی تمہیں کامل زندگی پانے کے لیے یہ تینوں جہات درکار ہیں۔

آئیے کچھ دیر کے لیے زندگی کے طول پر نظر کرتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ زندگی کی وہ جہت ہے، جس کا تعلق ہماری داخلی طاقتوں کی بلوغت سے ہے۔ ایک طرح سے یہ زندگی کی ایک خودغرضانہ جہت ہے۔ یہ ایک معقول اور صحت مندانہ مفاد جیسا پہلو ہے۔ ایک عظیم یہودی پیشوا، مرحوم جوشوا لِیب مین [Joshua Leibman] نے کچھ سال پیشتر ‘ذہنی سکون‘ [Peace of Mind] کے عنوان سے ایک کتاب لکھی تھی۔ اس میں ایک باب ‘خود سے ڈھنگ سے محبت کرو’ [Love Thyself Properly] کے عنوان سے تھا۔ خلاصتًہ وہ اس باب میں کہتا ہے کہ اس سے پہلے کہ آپ دوسروں سے اچھے سے محبت کر پائیں، آپ کو پہلے اپنے آپ سے ڈھنگ سے محبت کرنی ہو گی۔ آپ جانتے ہیں بہت سے لوگ جو خود سے محبت نہیں کرتے۔ ایسے افراد زندگی میں گہرے اور حسرت ناک جذباتی تصادم سے گزرتے ہیں۔ سو زندگی کا طول یہ ہے کہ آپ لازماً خود سے محبت کریں۔

اور کیا آپ جانتے ہیں کہ خود سے محبت کا اور کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ آپ خود کو قبول کریں۔ بہت سے لوگ کوئی اور بننے کی سعی میں رہتے ہیں۔ خداوند نے ہم سب کو کچھ نہ کچھ خاص وصف عطا کیا ہے۔ اور ہمیں خداوند سے باقاعدگی سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں خود اپنے آپ کو قبول کرنے میں مدد دے۔ یہ ہی سب سے اہم پہلو ہے۔ بہت سے نیگروز اپنے وجود پر شرمندہ ہیں، کالے ہونے پر شرمسار ہیں۔ ایک نیگرو کو اٹھ کھڑا ہونا ہے اور اپنی روح کی گہرائی سے کہنا ہو گا کہ، ‘میرا ایک وجود ہے۔ میرا ایک قیمتی، باوقار اور پُرفخر اثاثہ ہے۔ میری تاریخ جتنی بھی استحصال زدہ اور جتنی بھی دردناک رہی ہے؛ میں کالا ہوں۔ بلکہ کالا اور خوب صورت ہوں۔” ہمیں یہی کہنا ہو گا۔ ہمیں خود کو قبول کرنا ہے۔ اور ہمیں دعا کرنی چاہیے، “اے خداوند ہر روز مجھے خود کو قبول کرنے میں میری مدد فرما؛ اپنی صلاحیتوں کو قبول کرنے میں مدد فرما۔”

مجھے یاد ہے کہ جب میں کالج میں تھا، میرا میجر (خصوصی مطالعے کا مضمون) عمرانیات تھا اور تمام عمرانیات میجر والوں کو ایک مضمون پڑھنا پڑتا تھا، جو شماریات کہلاتا تھا۔ اور شماریات کافی مشکل ہو سکتی ہے۔ آپ کے پاس حساب کتاب والا دماغ ہونا چاہیے، اور جیومیٹری کا درست علم، اور مِین، میڈین، موڈ ڈھونڈنا آنا چاہیے۔ میں کبھی نہیں بھولوں گا۔ میں نے یہ مضمون پڑھا اور آپ جانتے ہیں میرا ایک ہم جماعت تھا جو یہ کام فوری کر سکتا تھا۔ اور وہ اپنا کام ایک گھنٹے میں تمام کر لیتا تھا۔ ہم اکثر لیب یا ورکشاپ میں جاتے، وہ صرف ایک گھنٹہ میں اپنا کام کر کے بیٹھ جاتا۔ اس کی دیکھا دیکھی میں اسی جیسا بننے کی کوشش کر رہا تھا۔ اور میں اپنا کام ایک گھنٹہ میں کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اور جتنا میں اس کو ایک گھنٹہ میں نمٹانے کی کوشش کر رہا تھا، اُتنا ہی اس میں مار کھا رہا تھا۔ اور مجھے ایک تلخ نتیجے پر پہنچنا پڑا اور کہنا پڑا: ‘اب سنو مارٹن لوتھر کنگ، لیف کین (Leif Cane) کے پاس تم سے بہتر دماغ ہے۔’ بعض اوقات آپ کو ماننا پڑتا ہے۔ بعض اوقات آپ کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ اور مجھے خود سے یہ کہنا ہی پڑا۔ دیکھو بھلے ہی وہ ایک گھنٹہ میں کام کرنے کے قابل ہے، لیکن مجھے کرنے کے لیے دو یا تین گھنٹے لگیں گے۔” میں اپنے آپ کو قبول کرنے کے لیے رضامند نہ تھا۔ میں اپنے وسائل اور حدود کو قبول کرنے کو تیار نہ تھا۔

مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کالج میں

لیکن آپ جانتے ہیں کہ زندگی میں ایسا کرنا ہی پڑتا ہے۔ ایک فورڈ [Ford] کار کا کیڈلک [Cadillac] بننا مہمل سی بات ہے۔ لیکن اگر فورڈ یہ قبول کر لے کہ وہ فورڈ ہے، تو وہ بہت کچھ کر سکتی ہے جو کیڈلک کبھی نہیں کر سکتی: وہ پارکنگ کی ایسی جگہوں پر پوری آ سکتی ہے، جہاں کیڈلک کبھی نہیں آ سکتی۔ اور زندگی میں ہم میں سے کچھ فورڈ ہیں اور کچھ کیڈلک۔ “سرسبز چراگاہیں” Green Pastures، [تورات کی کتاب الادعیہ] میں موسیؑ فرماتے ہیں: “خداوند، میں بہت کچھ تو نہیں ہوں، لیکن یہی کچھ ہوں۔” خود کو قبول کرنے کا اصول ہی زندگی کا بنیادی کلیہ ہے۔

اب ہم زندگی کے طول کے بارے مزید بات کرتے ہیں۔ اپنے آپ کو قبول کرنے کے بعد ہمیں یہ دریافت کرنا چاہیے کہ ہمیں کس کام کے لیے تخلیق کیا گیا ہے۔ اور ایک بار جب ہم یہ دریافت کر لیں، تو ہمیں اپنے وجود میں موجود تمام تر طاقت و قوت کے ساتھ وہ کام کرنا چاہیے۔ یہ کھوج لینے کے بعد کہ ہمیں کیا کام کرنا ہے، ہمیں وہ کام اس طریق اور، اس خوبی سے انجام دینا چاہیے کہ کوئی زندہ، کوئی مردہ یا جو ابھی پیدا نہیں ہوا، اِس سے بہتر انجام نہ دے سکے۔ اب اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر کوئی زندگی کے نام نہاد معروف، بڑے کام کرے گا۔ بہت کم لوگ فنون اور سائنس کی ابقری بلندیوں کو پائیں گے؛ بہت کم اجتماعی طور پر مخصوص شعبوں میں نام کمائیں گے۔ ہم میں سے بیشتر کو راضی بہ رضا کھیتوں میں اور گلیوں میں کام کرنا ہو گا۔ لیکن ہمیں تمام کاموں کو پُروقار نظر سے دیکھنا چاہیے۔

جب میں منٹگمری، الاباما میں تھا، تو میں ‘گورڈن شو شوپ [Gordon Shoe Shop] نامی ایک جوتوں کی دکان میں اکثر جایا کرتا تھا۔ وہاں ایک دوست تھا، جو میرے جوتے چمکایا کرتا تھا۔ اور اِس دوست کو جوتے چمکاتے دیکھنا میرے لیے ایک دلچسپ تجربہ تھا۔ آپ کو بتاتا ہوں، وہ کپڑے کی ایک دھجی یوں اٹھاتا، کہ وہ اس میں سے موسیقی تخلیق کر سکتا تھا۔ اور میں اپنے آپ سے کہتا، “اس شخص کے پاس جوتے چمکانے میں ڈاکٹریٹ ڈگری ہے۔”

اس صبح میں آپ سے جو یہ کہہ رہا ہوں، حتیٰ کہ اگر آپ گلی کے ایک خاکروب ہیں، جائیں اور ایسے گلی کو صاف کریں جیسے مائیکل انجیلو نے مصوری کی ہے، ایسے گلی صاف کریں جیسے ہینڈل(Handel)، بیتھوون(Beethoven) نے موسیقی ترتیب دی، ایسے گلی کو صاف کریں جیسے شیکسپئر نے شاعری کی۔ اتنی اچھی گلی صاف کریں کہ زمین و آسمان کا میزبان بھی اک لمحے کے لیے رُکے اور کہے: ‘یہاں ایک عظیم خاکروب رہتا ہے، جس نے اپنا کام بخوبی انجام دیا۔’

میرے دوستو، آج میں آپ سے یہ کہتا ہوں، حتیٰ کہ اگر آپ گلی کے ایک خاکروب ہیں، جائیں اور ایسے گلی کو صاف کریں جیسے مائیکل انجیلو کی مصوری ہو، یوں گلی چمکائیں جیسے ہینڈل [Handel]، بیتھوون [Beethoven] نے موسیقی کی دُھن مرتب کی، ایسے گلی کو لشکائیں، جیسے شیکسپئر کی شاعرانہ تخلیق۔ اتنی اچھی گلی صاف کریں کہ زمین و آسمان کا میزبان بھی اک لمحے کے لیے رُکے اور کہے: “یہاں ایک عظیم خاکروب رہتا ہے، جس نے اپنا کام بخوبی انجام دیا۔”

گرچہ نہیں بن سکتے تم پہاڑی کا صنوبر
تو وادی کی جھاڑی بنو- لیکن بنو
پہاڑی کے پہلو میں ایک بَڑھیا سی ننھی جھاڑی،
جھاڑی بنو، اگر نہیں بن سکتے پیڑ
اگر شاہراہ بننا ممکن نہیں، تو بہت ہے پگ ڈنڈی ہونا بھی
گر نہیں آفتاب، تو ستارہ بنو؛
بےمعنی ہے کہ تم کامیاب ہو یا ناکام
جو ہو سکو، اس کا بہترین بن جاؤ۔

اور جب آپ ایسا کرتے ہیں، تب آپ زندگی کے طول کے مالک بن جاتے ہیں۔

آگے جا کر زندگی میں خود آسودگی کے احساس کا ختم ہونا، اُس شخص کی زندگی کو ختم کر دیتا ہے۔ اور اب اس مرحلہ پر رُکنا نہیں۔ آپ جانتے ہیں، بہت سے لوگ زندگی میں طول سے زیادہ کچھ حاصل نہیں کر پاتے۔ وہ اپنی داخلی طاقت حاصل کر لیتے ہیں؛ اور وہ اپنی ذمہ داری اچھی طرح نمٹا لیتے ہیں۔ لیکن آپ جانتے ہیں، وہ زندگی ایسے گزارنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے، اُن کے سوا دنیا میں کوئی اور وجود ہی نہیں۔ اور وہ آگے بڑھنے کے لیے ہر ایک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنے علاوہ کسی سے محبت نہیں کرتے۔ اور وہ دوسروں سے محبت کی ایک ہی قسم روا رکھتے ہیں: افادی محبت۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، وہ صرف لوگوں سے محض اس لیے محبت کرتے ہیں کہ ان کا استعمال کر سکیں۔

بہت سے لوگ زندگی کی پہلی جہت سے پرے نہیں جاتے۔ وہ دوسرے لوگوں کا استعمال محض سیڑھی کے طور پر کرتے ہیں، جن سے وہ اپنے نصب العین اور مقاصد تک پہنچ سکیں۔ ایسے لوگ زندگی میں کوئی اچھا کام نہیں کرتے۔ وہ کچھ حد تک آگے جا سکتے ہیں، وہ سوچتے ہیں کہ وہ صحیح ہیں۔ لیکن ایک قاعدہ ہے۔ طبیعی دنیا میں اس کو کششِ ثقل کا اصول کہتے ہیں۔ اور یہ واقعی کام کرتا ہے، یہ بات حتمی اور کٹھور ہے؛ جو کچھ اوپر اٹھتا ہے، نیچے کو آتا ہے۔ جو بوؤ گے وہی کاٹو گے۔ خداوند نے اس کائنات کو اسی طرح بنایا ہے۔ جو کوئی زندگی میں دوسروں کی پروا کیے بِنا آگے بڑھتا چلا جاتا ہے، اس اصول کا غلام اور شکار بن جاتا ہے۔

ایک دن یسوع مسیحؑ نے ایک حکایت بیان کی۔ آپ کو وہ حکایت یاد ہو گی۔ان کے پاس ایک آدمی سنجیدہ معاملات پر گفتگو کرنے آیا۔ اور آخر میں اُس نے سوال اٹھایا، ‘میرا ہمسایہ کون ہے؟’ یہ آدمی یسوع مسیح سے بحث کرنا چاہتا تھا۔ یہ سوال آسانی سے ایک مذہبی یا فلسفیانہ بحث کی مانند تحلیل ہو سکتا تھا۔ لیکن آپ کو یاد ہے کہ یسوع مسیح نے یہ سوال ہوا ہونے سے روکا۔ اور اِس کو یروشلم(Jerusalem) اور جیریکو (Jericho)کے درمیان خطرناک موڑ پر رکھ دیا۔ انہوں نے ایک آدمی کی بات کی، جو چوروں کے نرغے میں گھِر گیا تھا۔ دو آدمی وہاں سے گزرے اور آگے بڑھتے چلے گئے۔ پھر آخر کار ایک اور آدمی آیا، جو کہ ایک دوسری نسل کا فرد تھا، رُکا اور اس نے مدد کی۔ اور اس حکایت کے آخر میں کہا کہ وہ (Good Samaritan) نیک سامری ایک عظیم انسان تھا، ایک اچھا انسان تھا کہ وہ اپنے علاوہ بھی کسی کے لیے فکرمند تھا۔

آپ جانتے ہیں کہ، اس بارے واقعہ کے توضیح میں کئی آراء موجود ہیں کہ وہ پادری اور لاوی [Levite: عبرانی قبیلہ لاوی کا فرد جو یہودیوں کی عبادت گاہوں میں بطور معاون کام کرتے ہیں] وہاں سے گزرے اور اس آدمی کی مدد کو کیوں نہ رُکے۔ بہت سی آراء ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ گرجا گھرعبادت کے لیے جا رہے تھے، اور ان کو عبادت کے لیے دیری ہو رہی تھی۔ آپ جانتے ہیں کہ چرچ کے کام میں تاخیر نہیں کی جا سکتی، سو وہ آگے بڑھتے رہے، کیونکہ انھیں کنیسہ پہنچنا تھا۔ اور کچھ کہیں گے کہ وہ پادری تھے اور نتیجتاً ایک کلیسائی قانون کے مطابق جو مقدس عبادت کرانے جا رہا ہو، عبادت سے چوبیس گھنٹے پہلے کسی انسانی جسم کو چھو نہیں سکتا۔ ایک اور امکان موجود ہے۔ یہ ممکن ہے کہ وہ جیریکو روڈ امپرومنٹ ایسوسی ایشن کو منظم کرنے، جیریکو جا رہے ہوں۔ ایک امکان یہ ہے کہ وہ وہاں سے بغیر مدد کیے اس لیے گزر گئے ہوں کہ انھیں لگا ہو کہ اِس مسئلہ کو ایک انفرادی شکار کی بجائے عمومی طور سے نمٹانا چاہیے۔ بہرحال امکان تو موجود ہے۔

لیکن آپ کو بتاؤں، جب میں اِس حکایت کے بارے میں سوچتا ہوں، تو میں اپنے تخیل کے زور پر ایک اور امکان کے بارے میں سوچتا ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ افراد خوفزدہ ہوں اور مخالف سمت سے گزرے ہوں۔ آپ کو معلوم ہے کہ جیریکو روڈ ایک خطرناک سڑک ہے۔ میں وہاں سے گزرا ہوں اور مجھے علم ہے۔ اور میں وہ سفر کبھی نہیں بھولوں گا۔ میں اور بیگم کنگ کچھ عرصہ پہلے مقدس سرزمیں کے سفر پر گئے تھے۔ ہم نے ایک کار کرائے پر لی اور یروشلم سے تقریباً سولہ میل تک سڑک پر کار چلائی۔ میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ یہ الل ٹپ، ترچھی گھومتی، چک پھیری سڑک ہے۔ اور ڈاکے کے لیے سازگار سڑک ہے۔ اور میں نے بیگم سے کہا: “اب میں سمجھ سکتا ہوں کہ اس سڑک کے وقوعہ کو یسوع مسیحؑ نے اپنی حکایت کے لیے کیوں استعمال کیا۔” جب آپ یروشلم سے چلنا شروع کرتے ہیں، سطح سمندر سے بائیس سو فٹ بلند ہوتے ہیں، جب آپ سولہ میل نیچے جاتے ہیں – – مطلب یروشلم سے سولہ میل — آپ سطح سمندر سے ہزار فٹ نیچے ہوتے ہیں۔ یسوع مسیحؑ کے زمانے میں یہ سڑک ‘خونی سڑک’ کے طور پر جانی جاتی تھی۔ سو جب میں پادری اور لاوی کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ وہ خوفزدہ تھے۔

وہ میری طرح خوف زدہ تھے۔ میں ایک دن اپنے والد کے گھر اٹلانٹا (Atlanta) جا رہا تھا۔ وہ میرے گھر سے تین چار میل دور رہتے ہیں، اور آپ وہاں ِسمپسن (Simpson) روڈ کے ذریعے جاتے ہیں۔ اور اُس رات جب میں واپس آرہا تھا— اور برادر، میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ سِمپسن روڈ ایک چک پھیری سڑک ہے۔ اور ایک شخص وہاں کھڑا تھا اور مجھے اشارہ دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ اور مجھے محسوس ہوا کہ اُس کو کسی مدد کی ضرورت ہے؛ جانتا تھا کہ اُس کو مدد کی ضرورت ہے۔ لیکن میں یہ نہیں جانتا تھا، میں آپ کو ایمانداری سے بتاؤں گا، میں آگے بڑھتا رہا، میں واقعی خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں تھا۔

میں آج آپ کو کہتا ہوں کہ پہلا سوال جو پادری نے پوچھا تھا، وہ سوال اٹلانٹا کی جیریکو روڈ جو سِمپسن روڈ کے نام سے جانی جاتی ہے، پر میں نے پوچھا۔ وہ پہلا سوال جو لاوی نے پوچھا تھا کہ ’اگر میں اس شخص کی مدد کرنے رکتا ہوں تو مجھے کیا ہو گا؟‘ لیکن اچھا سامری جب گزرا تو اس نے سوال الٹ دیا، بجائے اس کے کہ ’اگر میں اس آدمی کی مدد کرنے رکتا ہوں تو میرے ساتھ کیا ہو گا؟‘ اس نے پوچھا ‘اس آدمی کے ساتھ کیا ہو گا اگر میں اِس کی مدد کرنے کے لیے نہیں رکتا؟’ اس لیے وہ شخص اچھا اور عظیم تھا۔ وہ عظیم تھا کیونکہ وہ انسانیت کی خاطر خطرہ مول لینے کے لیے تیار تھا، کہ اس آدمی کے ساتھ کیا ہو گا؟

آج خداوند کو ضرورت ہے، ایسے مرد اور عورتوں کی جو یہ سوال پوچھیں کہ انسانیت کا کیا ہو گا اگر میں مدد نہیں کرتا؟ شہری حقوق کی تحریک کا کیا ہو گا اگر میں حصہ نہیں لیتا؟ میرے شہر کا کیا ہو گا اگر میں ووٹ نہیں دیتا؟ بیمار کا کیا ہو گا اگر میں عیادت نہیں کرتا؟ آخر میں خداوند اسی پر لوگوں کی منصفی کرے گا۔

اور، ایک روز ایسا آئے گا جب یہ سوال نہیں کیا جائے گا، “کہ تم نے اپنی زندگی میں کتنے انعام پائے؟” اُس روز نہیں۔ یہ نہیں پوچھا جائے گا، “کہ تم اپنے معاشرتی حلقے میں کتنے مقبول تھے؟” یہ سوال اس روز نہیں کیا جائے گا۔ یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ “تم نے کتنی اسناد حاصل کیں؟” اس سوال کی اُس روز کوئی اہمیت نہیں ہو گی کہ تم “پی ایچ ڈی، ہو یا نہیں؟” یہ اہم نہیں ہو گا کہ “تمھارے پاس بہت سے گھر تھے یا تم بےگھر تھے؟” یہ سوال نہیں ہو گا “تم نے کتنا پیسہ بنایا؟ تمھارے پاس کتنے سٹاک اور بونڈز ہیں؟” یہ سوال نہیں ہو گا کہ تمھاری گاڑی کون سی تھی؟ اُس روز صرف یہی پوچھا جائے گا کہ، “دوسروں کے لیے تم نے کیا کیا؟”

اب جب میں کسی کو یہ کہتے سنتا ہوں کہ، خداوند، میں نے زندگی میں بہت سارے کام سرانجام دیے۔ میں نے اپنی نوکری اچھے طریقے سے انجام دی؛ دنیا نے مجھے میری نوکری کے لیے عزت دی۔ میں نے بہت سے کام کیے۔ خداوند؛ میں مکتب گیا اور محنت سے پڑھا۔ میں نے بہت سا پیسہ بنایا، خداوند میں نے یہ یہ کچھ کیا۔” لیکن ایسا سنائی دیتا ہے کہ خداوند کہہ رہا ہے، “لیکن میں بھوکا تھا، تم نے مجھے کھانا کھلایا کہ نہیں؛ میں بیمار تھا، تم عیادت کے لیے آئے یا نہیں۔ میرا تن ڈھانپا یا نہیں۔ میں قید میں تھا، تم نے میری فکر نہیں کی۔ سو میری نظروں سے دور ہو جاؤ۔ تم نے دوسروں کے لیے کیا کیا؟” یہ زندگی کا عرض ہے۔

کہیں ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی سیکھنا چاہیے کہ کسی کے لیے کچھ کرنے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ اور میں نے اپنے باقی ماندہ ایام گزارنے کے لیے اِسی ڈگر کو اپنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اور اب میری یہی فکر ہے۔ جون، اور برنارڈ، اگر کبھی زندگی میں ایسا لمحہ آتا ہے کہ میں موت کے قریب ہوں، میں چاہتا ہوں کہ آپ ان تک میرا پیام پہنچائیں کہ میری ایک عرض ہے؛ میں تدفین کی لمبی چوڑی رسوم نہیں چاہتا۔ درحقیقت، میں ایک یا دو منٹ سے بڑھ کر اپنی میت پر نوحہ گری نہیں چاہتا۔ مجھے امید ہے کہ میں باقی ماندہ ایام اچھی طرح گزاروں گا— مجھے نہیں پتہ کہ میں کب تک جئیوں گا، اور نہ مجھے اس کی فکر ہے— لیکن میں امید کرتا ہوں کہ میں اتنا اچھا جی سکوں کہ مبلغ کہہ اٹھے، “یہ ایماندار تھا۔” اور بس، یہ کافی ہے۔ اس طرح کی تقریر سننا مجھے پسند ہو گی: “بہت خوب میرے ایماندار خدمت گار۔ تم ایماندار رہے؛ تمھیں دوسروں کی فکر رہی۔” یہ ہی ہے وہ نکتہ جس کے ساتھ میں اپنی باقی ماندہ زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ “جو تم میں عظیم تر ہے، وہ تمھارا خدمت گار ہو گا۔” میں خدمت گار بننا چاہتا ہوں۔ میں اپنے خداوند کی گواہی چاہتا ہوں، کہ میں نے دوسروں کے لیے کچھ کیا۔

اور دوسروں لے لیے کچھ کرنے میں یہ مت بھولیں کہ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ دوسروں کی بدولت ہے۔ یہ نہ بھولیں ہم اس دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہیں۔ اور کیا آپ سوچ سکتے ہیں، اس صبح جب آپ چرچ کے لیے اٹھے ہوں گے تو آدھی سے زیادہ دنیا پر آپ کا انحصار رہا ہو گا۔ آپ صبح اٹھتے ہیں، باتھ روم جاتے ہیں اور وہاں آپ صابن پکڑتے ہیں جو ایک فرانسیسی نے آپ کو دیا ہے۔ آپ اسفنج اٹھاتے ہیں، وہ ایک تُرک نے آپ کو تھمایا ہے۔ آپ تولیہ کا استعمال کرتے ہیں جو کہ بحرالکاہلی جزیرے کے ایک باشندے کی آپ کو دین ہے۔ ناشتہ کرنے کو جو آپ باورچی خانے کی طرف جاتے ہیں، کافی اٹھاتے ہیں، جو آپ کے کپ میں جنوب امریکی نے انڈیلی ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ اس صبح چائے پینے کا فیصلہ کیا ہو، صرف معلومات کے لیے، وہ آپ کے کپ میں ایک چینی نے انڈیلی ہے۔ اور شاید آپ کو تھوڑا کوکا چاہیے ہو جو آپ کے کپ میں مغربی افریقی نے انڈیلا ہے۔ پھر آپ کو تھوڑی ڈبل روٹی چاہیے اور آپ جو ڈبل روٹی اٹھاتے ہیں جو آپ کے پاس ایک انگریز کسان کے ہاتھوں پہنچی ہے، نانبائی کو نہ بھولیں۔ اس سے پہلے کہ آپ اپنا ناشتہ کریں، آپ کا انحصار آدھی دنیا پر ہے۔ خداوند نے یہ نظام اس طرح بنایا ہے؛ خداوند نے یہ دنیا اسی طرح بنائی ہے۔ سو آئیں ایک دوسرے کی فکر کریں، کیونکہ ہمارے وجود کا انحصار ایک دوجے پر ہے۔

لیکن یہاں بھی نہیں ٹھہر جانا۔ آپ جانتے ہیں کہ بہت سے لوگ زندگی کے طول پر قادر ہو جاتے ہیں، اور وہ عرض پر قدرت حاصل کر لیتے ہیں؛ مگر وہ وہاں رکتے نہیں۔ ہمیں انسانیت سے پرے آگے بڑھنا چاہیے اور اوپر اٹھنا چاہیے، اوپر کائنات کے رب کی طرف، جس کا مقصد آج بھی وہی ہے۔

بہت سے لوگوں نے اس تیسری جہت کو نظرانداز کیا۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت لوگ انجانے میں اس پہلو کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ان کی مصروفیتوں کا محور اور چیزیں ہوتی ہیں۔ آپ کو بتاتا چلوں کہ الحاد پرستی دو طرح کی ہوتی ہے۔ الحاد کا نظریہ ہے کہ خداوند کا کوئی وجود نہیں۔ ایک قسم نظریاتی ہے، جہاں آدمی بیٹھ کر اس بابت سوچنا شروع کرتا ہے اور پھر اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ خداوند کا کوئی وجود نہیں۔ دوسری قسم عملی الحاد پرستی کی ہے اور وہ ایسی طرزِ حیات اپنانا ہے، کہ جیسے خداوند کا کوئی وجود نہ ہو۔ اور آپ جانتے ہیں کہ کثیر تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو زبان سے تو خداوند کے وجود کا اقرار کرتے ہیں، لیکن اپنے اعمال سے، یا اپنی طرزِ حیات سے اس وجود کے منکر ہیں۔ آپ کی ملاقات ایسے لوگوں سے ہوئی ہو گی، جنھیں عقیدے کا ہائی بلڈ پریشر اور اعمال کا انیمیا لاحق ہے۔ وہ اپنی زندگی میں خداوند کے وجود سے انکاری ہوتے ہیں اور وہ دوسرے کاموں میں بہت مصروف ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے بینک کے اثاثے بڑھانے میں مگن ہو جاتے ہیں۔ وہ خوبصورت گھر کے حصول میں مست ہو جاتے ہیں جو ہم نے خود پر لازم کر لیا ہے۔ وہ خوبصورت گاڑی حاصل کرنے میں اتنا مصروف ہو جاتے ہیں کہ لاشعوری طور پر خداوند کو بھول جاتے ہیں۔ اور کچھ ایسے بھی ہیں جو شہر میں انسان کی تخلیق کی ہوئی بستیوں کو دیکھنے میں اس قدر محو ہو جاتے ہیں کہ وہ لاشعوری طور پر آسمان کی طرف نگاہیں اٹھانا اور کائنات کی عظیم روشنی کی جانب نظر کرنا اور اس کے بارے میں سوچنا بھول جاتے ہیں — وہ روشنی جو ہر صبح مشرقی افق سے نمودار ہوتی ہے اور نیلگوں آسمان پر ایک تھرکتی دھن اور اپنے بےشمار رنگ بکھیر دیتی ہے — ایسی روشنی جس کو تخلیق کرنا انسان کے بس میں نہیں۔ وہ فلک بوس لوپ آف شکاگو یا ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ آف نیویارک کو دیکھنے میں اس قدر مصروف ہو جاتے ہیں کہ وہ لاشعوری طور پر دیو پیکر پہاڑوں کے بارے میں سوچنا بھول جاتے ہیں، جن کی چوٹیاں آسماں سے باتیں کرتی ہیں، جیسے کہ نیلی جھیل میں نہا رہی ہوں — ایسی چیز جو ایک انسان کبھی نہیں بنا سکتا۔ وہ ریڈار اور اپنے ٹیلی ویژن کے بارے میں سوچنے میں اتنا کھبے ہیں کہ وہ لاشعوری طور پر اس بام ثریا کی بابت سوچنا بھول جاتے ہیں، جو آسمانوں کو اس طرح مزین کیے ہوئے ہیں، جیسے دوام کی لالٹینیں لٹکی ہوں، وہ ستارے اتنے آبدار ہیں جیسے ایک پُرشکوہ گدے میں کھُبی ہوئی سیمیں سوئیاں۔ وہ انسانی ترقی کے بارے میں سوچنے میں اتنا محو ہیں، کہ خداوند کی طاقت کی ضرورت کے بارے میں سوچنا بھول جاتے ہیں کہ تاریخ میں اس کی ضرورت ہمیشہ رہی ہے۔ آخرکار وہ دنوں کے دن گزار دیتے ہیں یہ جانے بغیر کے خداوند ان کے ساتھ نہیں ہے۔

میں آج آپ کو یہ بتاتا ہوں کہ ہمیں خداوند کی ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جدید انسان بہت کچھ جانتا ہو، لیکن اس کا علم خداوند کو مٹا نہیں سکتا۔ اور آج میں آپ کو کہتا ہوں کہ خداوند ہمیشہ رہے گا۔ چند عالمِ دینیات یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خداوند مر چکا ہے۔ اور میں ان سے اس بارے میں پوچھتا رہا ہوں، کیونکہ یہ معلومات مجھے پریشان کرتی ہیں کہ خداوند مر چکا ہے، اور مجھے اس کی آخری رسوم میں شرکت کا موقع نہیں ملا۔ اور یہ عالم مجھے ابھی تک یہ بتانے میں ناکام رہے ہیں کہ اس کی تاریخ وفات کیا ہے، اور ابھی تک مجھے ان سے یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ اس کی آخری رسوم کس نے ادا کیں یا کس نے اس کی موت کا اعلان کیا۔

آپ دیکھتے ہیں جب میں خداوند کے بارے میں سوچتا ہوں، میں اس کا اسم جانتا ہوں۔ عہد نامہ قدیم میں کسی جگہ وہ فرماتا ہے: “موسیٰ میں چاہتا ہوں کہ تم اپنی قوم میں جاؤ اور اُن تک میرا پیغام پہنچا دو کہ ”میں ہوں” میں نے تمھیں بھیجا ہے۔” خداوند نے صرف یہ واضح کرنے کے لیے کہا، وہ جان لیں کہ “میرا اسمِ آخر بھی اول کی طرح ہے، “جو میں ہوں، میں ہوں۔” یہ واضح کر دو کہ میں ہوں۔”

اس کائنات میں واحد خداوند ہی ایسی ہستی ہے جس کو یہ کہنا زیبا دیتا ہے کہ ‘میں ہوں’ اور مزید کوئی حجت نہیں۔ ہم میں سے ہر کوئی جو یہاں موجود ہے اُس کو کہنا پڑتا ہے، “میں اپنے والدین کی وجہ سے ہوں؛ میں مخصوص ماحولیاتی حالات کی وجہ سے ہوں؛ میں مخصوص وراثتی حالات کی وجہ سے ہوں؛ میں خداوند کی وجہ سے ہوں۔ صرف خداوند ایسی واحد ہستی ہے جو کہ کہہ سکتا ہے، “میں ہوں۔” اور بات ختم۔ “جو میں ہوں، میں ہوں۔” اور بس۔ کسی کو ہمیں یہ محسوس نہ کرانے دیں ہمیں خداوند کی ضرورت نہیں۔

اس صبح جب آپ سے مخاطب ہوں، تو میں آپ سے کہوں گا کہ میں تواس نتیجہ پر پہنچا ہوں، کہ ہمیں اس کی تلاش کرنی چاہیے۔ ہم خداوند کے لیے بنائے گئے تھے اور تب تک بےچین رہیں گے جب تک اُس میں امان نہیں پاتے۔ اور آپ سے کہتا ہوں کہ یہ ذاتی یقین ہے، جو ہاتھ پکڑ کرمجھے آگے بڑھاتا گیا ہے۔ میں مستقبل کے بارے میں فکرمند نہیں ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ میں اس نسل پرستی کے معاملے میں بھی پریشان نہیں ہوں۔ میں پچھلے دنوں الاباما میں تھا، اور میں ریاست الاباما کے بارے میں سوچنے لگا جہاں ہم نے بہت محنت کی اور وہاں شاید والیسز[Wallaces] منتخب ہوتا رہے۔ اور ریاست جارجیا میں، جہاں میرا گھر ہے، لیسٹر میڈکس [Lester Maddox] نامی ایک بیمار ذہن گورنر موجود ہے۔ یہ تمام باتیں آپ کو پراگندہ کر سکتی ہیں۔ لیکن مجھے پریشان نہیں کرتیں، کیونکہ وہ خداوند جس کی میں عبادت کرتا ہوں، بادشاہوں حتیٰ کہ گورنروں کے لیے بھی فرماتا ہے؛ ”صبر رکھو، میں جانتا ہوں کہ میں خداوند ہوں۔” خداوند نے ابھی تک اس کائنات سے لیسٹر میڈکس اور لرلین والس [Lurleen Wallace] کو بےدخل نہیں کیا۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ ”زمین خداوند کی ہے اور اسی لیے آباد ہے۔” اور میں آگے بڑھتا جا رہا ہوں، کیونکہ مجھے اُس پر یقین ہے۔ میں نہیں جانتا کہ مستقبل میں کیا رکھا ہے۔ لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ مستقبل کس کے ہاتھ میں ہے۔ اگر وہ ہمیں راستہ دکھا دے اور ہمارا ہاتھ پکڑتا ہے، تو ہم آگے بڑھتے جائیں گے۔

مجھے منٹگمری، الابامہ کا ایک تجربہ یاد ہے، جو میں آپ کو بتانا چاہوں گا۔ جب ہم بس بائیکاٹ کر رہے تھے۔ ہمارے درمیان ایک حیرت انگیز خاتون موجود تھیں، جن کو ہم پیار سے سسٹر پولارڈ [Pollard] پکارا کرتے تھے۔ وہ ایک بہتر سالہ زبردست خاتون تھیں اور اس عمر میں بھی کام کر رہی تھیں۔ بس بائیکاٹ کے دوران وہ کام پر روزانہ پیدل آتی جاتی تھیں۔ صرف وہی تھیں جن کو ایک دن کسی نے روکا اور پوچھا، “آپ بس میں سوار ہونا پسند نہیں کریں گی؟” اور انھوں نے کہا، “نہیں۔” اور پھر ڈرائیور آگے بڑھ گیا، اور وہ رُکا اور توقف کیا، اور تھوڑا پیچھے آیا اور اس نے سسٹر پولارڈ سے پوچھا، “آپ تھکی نہیں؟” انھوں نے کہا، “ہاں، میرے پیر تھک گئے ہیں، مگر میری روح پُرسکون ہے۔”

‘ہاں میرے پیر تھک گئے ہیں مگر میری روح سکون میں ہے۔’

وہ ایک حیرت انگیز خاتون تھیں اور مجھے یاد ہے کہ وہ ایک ہفتہ میرے لیے بہت کٹھن تھا۔ اُس سے ایک روز پہلے سارا دن ساری رات دھمکی آمیز فون کالز آئی تھیں، اور میں نے ڈگمگانا اور اندر سے کمزور پڑنا اور اپنی جرات کھونا شروع کر دیا تھا۔ اور میں کبھی نہیں بھولوں گا، کہ میں پیر کی اس رات کے جلسے میں بہت پست ہمت اور خوف کے ساتھ گیا تھا اور سوچ وچار کر رہا تھا کہ آیا ہم یہ جدوجہد جیت پائیں گے؟ اور میں اُس رات اپنی تقریر کرنے کھڑا ہوا، لیکن وہ تقریر پرزور اور قوت کے ساتھ نہیں کی۔ سسٹر پولارڈ جلسے کے بعد میرے پاس آئیں اور کہا، “بیٹا تمھیں کیا پریشانی ہے؟”

اور میں نے کہا، “کچھ بھی نہیں، سسٹر پولارڈ، میں ٹھیک ہوں۔” انھوں نے کہا، “تم مجھے بیوقوف نہیں بنا سکتے، تمھارے ساتھ کچھ تو گڑبڑ ہے۔” پھر انھوں نے یہ کہا، “گورے تمھارے ساتھ کچھ ایسا کر رہے ہیں جو تمھیں پسند نہیں؟”

میں نے کہا، “سسٹر پولارڈ سب ٹھیک ہو جائے گا۔” پھر انھوں نے کہا، “میرے پاس آؤ اور مجھے دوبارہ کہنے دو، میں چاہتی ہوں کہ تم دھیان سے سنو۔” انھوں نے کہا، “میں پہلے بھی تم کو بتا چکی ہوں کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں۔” انھوں نے کہا، “اور ہم بھی تمھارے ساتھ نہ ہوں تو خداوند تمھارے ساتھ ہے۔”

اور انہوں نے یہ کہتے ہوئے اپنی بات ختم کی، ‘”خداوند تمھاری مدد فرمائے گا۔” میں نے اس روز سے بہت ساری چیزیں دیکھی ہیں، منٹگمری الابامہ میں اس رات سے میں بہت سے تجربات سے گزرا ہوں۔ اُس دوران سسٹر پولارڈ وفات پا گئیں۔ تب سے میں اٹھارہ سے زیادہ بار جیل میں رہا ہوں۔ اُس وقت سے اب تک میں ایک خطرناک حد تک خبطی نیگرو خاتون کے ہاتھوں موت کے منھ میں جا چکا ہوں، تب سے سے میں نے اپنے گھر پر تین بار بمب گرتے دیکھا ہے۔ اس وقت سے مجھے ہر دن موت کے خطرے میں گھرے جینا پڑا ہے، اس وقت سے میں نے بےشمار ناآسودہ اور سٹ پٹائی راتیں گزاری ہیں، لیکن میں سسٹر پولارڈ کے الفاظ ابھی بھی سُن سکتا ہوں: “خداوند تمہاری حفاظت کرے گا۔” سو آج میں کسی بھی مرد و زن کا مقابلہ کر سکتا ہوں اور سربلند ہو کر سکتا ہوں۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ جب آپ حق پر ہوں تو خداوند آپ کی جنگ لڑے گا۔

رات جتنی بھی سیاہ ہو
جنگ جتنی بھی کٹھور ہو،
اپنے حق کے لیے ڈٹے رہو۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اِس صبح بھی میں ایک ایسی آواز کو سن سکتا ہوں جو ہم سب سے کہہ رہی ہے، “اپنے حق کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ انصاف کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ دیکھو، میں تمھارا ساتھ دوں گا دنیا کے انت تک۔” ‘ہاں میں نے بجلی کو چمکتے دیکھا ہے، بادلوں کو گرجتے سنا ہے۔ میں نے بدی کی طاقتوں کو چمکتے محسوس کیا ہے، جو میری روح کو مغلوب کرنا چاہتی ہیں، اور مغلوب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن میں نے یسوع مسیح کی آواز سنی ہے، جو کہہ رہے ہیں کہ لڑتے رہو! انھوں نے مجھے کبھی نہ چھوڑنے کا وعدہ کیا ہے، کبھی اکیلے نہ چھوڑنے کا۔ اور میں اس پر یقین رکھتا ہوں۔ میں آگے بڑھتا ہوں اور زندگی کی وسعت کو پا لیتا ہوں۔

قاتلانہ حملے کے بعد مارٹن لوتھر کنگ جونئر کا خدا پر ایمان اور مضبوط ہو گیا تھا

ہو سکتا ہے کہ آپ خداوند کو فلسفیانہ اصطلاحات میں بیان کرنے کے قابل نہ ہوں۔ لوگوں نے عہد ہا عہد اس پر بحث کرنے کی کوشش کی ہے۔ افلاطون نے کہا، وہ تعمیراتی علم کا ماہر ہے۔ ارسطو نے کہا خداوند حرکت میں آئے بنا کائنات کو الٹنے، پلٹنے پر قادر ہے۔ ہیگل نے اسے مطلق کہا ہے۔ پھر ایک شخص پال ٹیلِک [Paul Tillich] نے خداوند کو یکتا کہا ہے۔ ہمیں ان تمام بھاری بھرکم اصطلاحات کے جاننے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم اسے جانتے ہوں اور کسی اور راہ اسے دریافت کر سکیں۔ اس کی معرفت کسی اور راستے پر چل کر کر سکیں۔ ایک دن آپ کو رکنا چاہیے اور کہنا چاہیے، “میں خداوندواند کو جانتا ہوں، کیونکہ وہ وادی کا سوسن ہے، وہ صبح کا روشن ستارہ ہے، شیرون کا پھول ہے، بابل و نینوا کی وقتوں کی گلہری ہے۔” اور کہیں آپ کو کہنا چاہیے، “وہ میرا سب کچھ ہے، وہ میری ماں ہے وہ باپ ہے، وہ میری بہن ہے، بھائی ہے۔ وہ بے دوستوں کا دوست ہے۔” پوری کائنات کا خداوند ہے اور اگر تم اس پر ایمان رکھتے ہو اور اس کی عبادت کرتے ہو تو تمھاری زندگی میں کچھ اچھا ہو گا۔ تم اس وقت مسکراؤ گے، جب باقی سب تمھارے ارد گرد رو رہے ہوں گے۔ یہی خداوند کی طاقت ہے۔

تو جاؤ! اس صبح، اپنے آپ سے محبت کرو اور اس کا مطلب ہے معقول اور صحت مندانہ خود غرضی۔ آپ کو ایسا کرنے کا حکم ہے۔ یہ زندگی کا طول ہے۔ پھر اس کے بعد اپنے ہمسائیوں سے محبت کرو جیسا کہ تم خود سے کرتے ہو۔ یہ زندگی کا عرض ہے۔ اور میں اب اپنی نشست پر براجمان ہونے سے پہلے یہ بتلا دوں کہ سب سے بڑا اور اولین حکم یہ ہے کہ: “اپنے خداوند سے محبت کرو۔ اپنے خداوند سے پورے دل کے ساتھ، اپنی پوری روح کے ساتھ اور پوری طاقت کے ساتھ۔” میرا خیال ہے کہ ایک ماہرِ نفسیات کے الفاظ میں، اپنی پوری شخصیت کے ساتھ۔ اور جب تم یہ کرتے ہو تو زندگی کی بلندی پا لیتے ہو۔ اور جب تم یہ تینوں حاصل کر لیتے ہو، تو تم چل سکتے ہو، کبھی نہ تھکتے ہوئے۔ اور آپ دیکھ سکتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ صبح کے ستارے مل کر، اور خداوند کے بیٹے مل کر خوشی سے شور مچا رہے ہیں۔
جب آپ زندگی میں اِن تینوں چیزوں سے کام لیتے ہیں، انصاف باراں کی طرح برسے گا اور راست بازی ایک ندی کی طرح۔ جب آپ ان تینوں چیزوں کو باہم حاصل کر لیں گے تو شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ سے پانی پیئں گے۔

جب آپ ان تینوں چیزوں کو باہم حاصل کر لیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ ہر وادی ارفع ہو جائے گی، اور ہر چٹان اورہر پہاڑ جُھک جائے گا۔ ناہموار میدان ہموار ہو جائیں گے۔ ٹیڑھی ترچھی راہیں سیدھی ہو جائیں گی: اور خداوند کی عظمت عیاں ہو جائے گی اور تمام مخلوقات مل کر اس کا نظارہ دیکھیں گی۔

جب آپ ان تینوں عناصر کو تصرف میں لاتے ہیں، تو آپ دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے ساتھ ہو۔ جب آپ ان تینوں کو باہم حاصل کر لیتے ہیں تو آپ یہ پہچان لیتے ہیں کہ خداوند نے اس کرہ ارض پر رہنے والے تمام انسانوں کو ایک ہی خون سے بنایا ہے۔

Categories
تراجم شاعری

گیتانجلی

I
اجل جس روز تمہارے در پہ دستک دے گی،
تو تم کیا پیش کرو گے؟
میں اپنی زندگی کا لبریز جام،
اپنے مہماں کو پیش کروں گا۔
کبھی اسے میں،
تہی دست نہ لوٹنے دوں۔
خزاں کے اجالوں
اور گرما کی راتوں کی شیریں مَے،
اپنے مصروف جیون کی سب کمائی،
اور تمام پونجی،
اس کے آگے دھر دوں گا۔
ایامِ رخصت میں،
جب اجل مرے در پہ دستک دے گی!

II
اے مرے جیون کی آخری تکمیل،
اجل!
اے مری موت! آ،
اور مجھ سے سرگوشی کر!
ہر دن میں تری راہ تکا کیا۔
تری خاطر ہی میں نے،
جیون کے سب دکھ سکھ بھوگے۔
میں وہ سب ہوں،
جو میں نے پایا،
جس کی میں نے طلب کی ہے۔
اخفائے راز کی گہرائی میں،
مری محبت کا چشمہ تری ہی طرف رواں رہا۔
تری اک آخری اچٹتی نگاہ،
اور مرا تمام جیون،
ترا ہی ہو گا،
پھول گندھے جا چکے ہیں،
اور بنڑی کے لیے،
مالائیں سب تیار ہیں۔
اب یہ عروسہ اپنا گھر چھوڑ چلے گی،
اور شبِ تنہائی میں،
رب سے اپنے جا ملے گی۔

III
مرا وقتِ رخصت آن پہنچا،
مجھے الوداع کہو۔
بھائیو!
تم سب کو دعا سلام،
اور میں رخصت لیتا ہوں۔
لوٹاتا ہوں اپنے گھر کی چابیاں،
اور تیاگ دیتا ہوں اس پہ حق بھی۔
آخری تمنا ہے میری؛
کہ تم مجھے یاد رکھو،
اپنے مہرباں بولوں میں۔
ہم ہمسائے رہے،
اک عرصے سے،
لیکن جو کچھ میں دے سکا،
کہیں بڑھ کر پا لیا۔
دن اب ڈھلنے والا ہے!
دیپ جو میری تیرگی دور کرتا تھا،
بُجھ چکا۔
بلاوا آن چکا،
میں تیار ہوں،
سفر کو اپنے۔

Categories
تراجم فکشن

اور راستہ کھل گیا

جب میں کالج جایا کرتا تھا، ماں کی تمنا تھی کہ میں پڑھ لکھ کر ایک بڑا افسر بن جاؤں۔ سماج میں کچھ کام کروں، نام کماؤں اور گھر کی بھی بگڑی حالت سنواروں۔ دوسری طرف میری خواہش تھی کہ میں ایک بدھ بھکشو بن جاؤں، بدھ فلسفے کا گہرا مطالعہ کروں اور سب کو بتاؤں کہ بدھ کا حقیقی گیان کیا ہے، جو آج بھارت کا عام آدمی نہیں جانتا۔ جیسے، بدھ کا گھر بار تیاگنا، ان کا عدم تشدد اور درمیانی راستہ وغیرہ۔ بدھ مت باہر کے ملکوں میں تو آج بھی دن دگنا رات چوگنا پھل پھول رہا ہے۔ لیکن بدھ کی اپنی جائے پیدائش پر وہ آج بھی اپنی کوئی جگہ نہیں بنا پایا۔ پر من کی من میں ہی رہ گئی۔ من اور خواہشات کو مار کر میں نے گریجویشن کی سند حاصل کی۔ پھر بڑی محنت اور لگن سے کئی امتحانات میں بیٹھا، تب کہیں جا کر ایک انتظامی افسر بن سکا۔ گھر کی دال روٹی بھی لگ بھگ ٹھیک سے چلنے لگی۔

کچھ سالوں تنخواہ سے پیسہ بچا کر جمع کیا اور منصوبہ بنایا کہ اپنا آبائی مکان ٹھیک کر لیا جائے۔ کافی پرانے ہونے کی وجہ سے مکان کی حالت بھی خراب ہو چکی تھی۔ سو اسے ڈھاہنا اور مکمل بنوانا ہی اچھا سمجھا۔ بس دفتر سے ایک ماہ کی چھٹیاں لے کر کام میں جٹ جانا چاہا۔ ہمارے اس مکان کا دروازہ مشرق کی طرف تھا۔ اب سوچا، مکان کے ٹھیک پیچھے لگ بھگ آٹھ فٹ کی ایک گلی ہے، کیوں نہ اس طرف راستہ کھول لیا جائے! گلی عوامی ہے۔ مکانوں کی بھیڑ بھاڑ، شہروں میں بڑھتی آلودگی اور مکان میں صاف ہوا کی آواجائی کے لیے گلی کی طرف ہی راستہ کھولنا لازمی اور ضروری تھا۔ سو اگلے دن سے کام شروع کروا دیا۔

مکان بنانے کے وقت آس پاس کے لوگ اکثر پوچھ لیا کرتے تھے، “شریمان، مکان کا دروازہ کدھر کھولو گے؟” تب میں کہتا، “بھیا یہ گلی کب کام آئے گی۔ کچھ دن ہم بھی تو استعمال کر لیں اس کا!” وہ کہتے، “گلی تو سبھی کی ہے۔ دروازہ کھول لو گے تو شاید گلی میں گندگی بھی نہیں رہے گی۔” میں کہتا، “سبھی لوگ اتحاد کریں تو محلے کے سارے مسائل کا حل دھیرے دھیرے ہو جائے گا۔” “کیوں نہیں، کیوں نہیں، محلے کی ترقی ہونا بھی تو ضروری ہے!” وہ کہتے اور چلے جاتے۔ بات آئی گئی ہو جاتی۔ ویسے مکان ڈھانے کے بعد سے ہم نے راستہ گلی میں بنا لیا تھا۔

صبح کے لگ بھگ 8:30 تک راج مستری اور بیل دار کام پر آ جاتے تھے۔ اس دن بھی ویسا ہی ہوا۔ لگ بھگ دو گھنٹے ہی کام پر بیتے ہوں گے کہ ایک راج مستری کو کوئی اپنے گھر میرے پڑوس میں بلوا لے گیا تھا۔ میں اس وقت سامان لینے بازار گیا ہوا تھا۔ واپس آنے پر مستری نے مجھے مذکورہ واقعہ بتایا۔ مستری نے بتایا کہ وہ آدمی کہہ رہا تھا، “گلی کی طرف دروازہ کھول لیا تو، خون خرابہ ہو جائے گا۔” اس نے آگے اس کی بولی میں ‘گالڈ (گلی) مہاری ]ہماری[ سے۔ سیور ہم نے بنوایا نالی ہم نے پکی کرائی، دیکھیں بھلا یو [یہ] چمار کا، کُکر ]کیسے[ مہاری گالڈ میں اپنا دروازہ لگائے گا، راستہ کھولے گا۔’ مستری کی یہ باتیں سن کر ایک بار تو میری نسوں میں خون کی گردش اور تیز ہو گئی۔ جی میں آیا کہ سالے کو اس کا جواب ابھی دے دوں۔ دیکھ لوں اس کی جاتی کا رعب۔ پر تھوڑا دماغ سے کام لیا۔ کہیں یہ راج مستری بھی تو ہمیں لڑوانا چاہتا ہو۔ یہ سب باتیں اپنی طرف سے تو نہیں کہہ رہا! اسے سمجھاتے ہوئے کہا، “کوئی بات نہیں، ہو گا سو دیکھا جائے گا۔ بس تم منصوبے کے مطابق اپنے کام میں لگے رہو اور کوشش کرو کہ یہ کام اپنے مقررہ وقت میں ہی پورا ہو جائے۔ بس میری آپ سبھی سے یہ عرض ہے۔” یہ سننے کے بعد ان سب لوگوں میں بھی جرات جاگ گئی جو کچھ پہلے اس آدمی کی دہشت سے خوفزدہ سے تھے۔ ویسے مستری نے جو حلیہ بتایا اس سے سمجھ گیا تھا کہ یہ بُھوسا کمہار کی حرکت تھی، جو میرا پڑوسی تھا۔ میں بھی پھر اپنے کام میں لگ گیا۔

لیکن ایک فکر رہی کہ ایک پچھڑی جاتی کا آدمی جس کا ہندو سماج اور دھرم میں کوئی خاص مقام، احترام نہیں ہے، جو ہندو ذات پات کے نظام میں خود چوتھے نمبر پر آتا ہے، غلام ہے۔ وہ دلت کی جدوجہد کو سراہنے سے رہا، الٹے دلت کو اس سماجی، سیاسی، مذہبی لڑائی میں کمزور کرنے میں اپنی شان سمجھتا ہے، بلکہ ایک اہم کردار نبھاتا ہے۔ اور خود غلام بنا رہتا ہے۔ دلتوں کے لاکھ جدوجہد کرنے پر بھی تحریک نہیں لیتا۔ یہ کچھ سوال میرے، دماغ میں باربار اٹھتے تھے اور من کو دکھی کر رہے تھے۔

شام کے وقت میرے ایک دوست نے مجھے خبر دی کہ بُھوسا کمہار لُوکھا جاٹ کے گھر گیا تھا اور میرے بارے میں خوب چغلیاں کیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ لُوکھا جاٹ کی چارپائی کے پاس زمین پر بیٹھا تھا۔ ہم دونوں باتیں کر رہے تھے کہ گلی میں شور سا کچھ سنائی پڑا۔ شور کو سن کر میں اور دوست، دونوں باہر آئے تو دیکھا کہ لُوکھا جاٹ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ گلی میں آ دھمکا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ وہ ایک پیر سے لنگڑا تھا۔ اپنی چھڑی سے وہ گلی کو ناپنے لگا۔ ایک، دو، تین، چار۔۔۔۔۔ دوسرے ساتھی سے بولا، “بُھولے، اور گالڈ تے پوری سے۔ آٹھ فٹ کی۔” بُھولے—’ٹھیک سے۔’ پھر گلی کے بیچ میں کھڑا ہو کر بُھولے سے، “بُھولے یو گالڈ میرے باپ نے چھوڑی تھی مہارے لکڑن کھاتر، نہ تے یو زمین مہاری تھی۔ ایب بول یو گالڈ مہاری ہوئی نا۔ پھر یہ کے مانگ مانگے سے مہارے تے۔ بھائی جمین مہاری، گالڈ مہاری، ار بھائی مہاری اس گالڈ میں جو اپنا راہ کھولے گا، میں تے اس کے سر نے پھوڑ دوں۔” میں اس کی یہ باتیں سن کر مشتعل تو بہت ہوا۔ غصہ اتنا آیا کہ اسے ابھی بتا دوں کہ گلی کس کی ہے، کس کی نہیں ہے۔ مگر میرے دوست نے سمجھایا، “یہ غصے کا وقت نہیں ہے، لڑائی کا بھی نہیں، کیونکہ تمھارا ابھی کام پورا نہیں ہوا۔ ابھی وقت کا انتظارکرنا ہی مناسب ہے۔ کیونکہ یہ لوگ تو چاہتے ہیں کہ تم لڑائی میں لگ جاؤ اور مکان کا کام ادھورا رہ جائے۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو ہمیں نقصان ہی نقصان ہو گا اور ہم کمزور کے کمزور بنے رہیں گے۔ اور سنو، سماج کی مدد بھی نہیں لے سکیں گے۔ سماج بھی اسی کی مدد کرتا ہے جو خود اپنی مدد کر سکتا ہے۔ ہمت رکھتا ہو۔ اس وقت ہمیں دھیرج کی ضرورت ہے۔” پھر میں تھوڑا شانت ہو گیا دوست کی صلاح پر دھیان دیا۔ اور دونوں انھیں دیکھتے رہے۔ تبھی بُھوسا کمہار بھی آ گیا تھا۔ لُوکھا کے ساتھیوں کو بُھوسا اپنے گھر کی طرف لے گیا۔ ہمیں ایسا لگا جیسے وہ لوگ میرے خلاف کوئی بڑی سازش رچنے جا رہے ہوں۔ قریب گھنٹے بھر بعد پھر شور سنائی دیا۔ تب ہم دونوں گھر میں بیٹھے تھے۔ لُوکھا جاٹ بڑے ڈرامائی انداز میں بولا، جو ہمیں سنائی دے رہا تھا۔ “کیوں رے موہر تیرا لڑکا تے مہاری بات بھی سننے راجی نا سے پر تو کان نے کھول کے سن۔ یو گالڈ مہاری سے، اپنے آگے پچھے نے دھیان میں رکھ کے کام کروی یے، نہ تے مانس مرن میں کے گاڈی جڑے سے۔” اور سب لوگ وہاں سے چلے گئے۔ میرے من میں ابھی بھی غصہ ہی بھرا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ ان سے کچھ سوال کروں کہ یہ زمین جس کی تم دعوی داری کر رہے ہو یا جس میں رہتے ہو، کیا تمھارے باپ نے بھی کبھی خریدی تھی؟ لیکن وہ اب جا چکے تھے۔ سو میں اور دوست آپس میں باتیں کرنے لگے۔ دوست نے کہا، “خریدی تو ان میں سے کسی کے باپ نے نہیں ہے۔ لیکن کہتے ہیں نہ، جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ پچھڑی جاتی کے لوگ تو ان کی ہاں میں ہاں ملاتے۔” میں نے کہا، “لیکن ان جاتی پچھڑوں کے پاس ہی کون سی زمین ہے۔ کون سی جائیداد ہے۔ کون سے حقوق وغیرہ ہیں۔” دوست نے بات کاٹتے ہوئے کہا، “یہ تو سب ٹھیک ہے لیکن پھر بھی وہ اپنے آپ کو بہتر مانتے ہیں۔ اور یہی حالت دیگر مذاہب، جیسے مسلمان، سکھ اور عیسائی مذہب کے پچھڑوں کی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہندو مسلمان، ہندو سکھ اور ہندو عیسائی کی لڑائی ہو جاتی ہے تو وہ فرقہ وارانہ دنگا تو بن جاتا ہے لیکن زمین، صنعت اور طاقت میں حصہ داری کا سوال آج بھی جوں کا توں ہے۔ اسی طرح ہندو مسلمان، سکھ اور عیسائی کے ساتھ ہوئی لڑائی کو فرقہ وارانہ دنگا مانا جاتا ہے۔ مگر دلتوں کے ساتھ ہونے والی لڑائی کو کبھی فرقہ وارانہ نہیں مانا جاتا۔ پتہ نہیں کیوں؟ جبکہ دلت کے ساتھ ان تمام مذاہب کے لوگ نسل پرستی کا سلوک رکھتے اور کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ میں سبھی غیرقانونی سلوک کرتے ہیں۔ تعصب رکھتے ہیں۔ یہ کیسی فرقہ واریت کی تشریح ہے، میری تو سمجھ میں نہیں آتا۔ بھائی کبھی اس کا جواب ملے تو ضرور بتانا۔” اس پر دونوں ہنس پڑے۔ اور دوست چلا گیا اپنے گھر۔ میں کھانا کھانے بیٹھ گیا۔ تھوڑا بہت کھانا کھایا پِتاجی نے بلا لیا۔ ہاتھ منھ دھو کر میں ان کے پاس گیا۔ من میں غصہ رہ رہ کر آ رہا تھا کہ پِتاجی نے صلاح دی کہ لڑائی ٹھیک نہیں ہے۔ میں نے کہا، “پتا جی اگر میں نے لڑائی پہلے کر لی ہوتی، تو آج یہ نوبت نہیں آتی۔” پِتاجی خاموش تھے۔ میں نے پھر سوال کیا، “پِتاجی اس گاؤں میں ہمارا کوئی حق ہے کہ نہیں۔” پِتاجی نے کہا، “حق کیوں نہیں ہے۔ ہم بھی تو گاؤں کے ہیں۔” میں نے پھر سوال کیا، “جب حق ہے تو ہمارے پاس جوتنے بونے کی زمینیں کیوں نہیں ہیں؟ آزادی کے پچاس سال ہونے جا رہے ہیں اور سبھی لوگ اس پر خاموش ہیں۔ کیوں؟ پِتاجی اس خاموشی کی وجہ سے ہی تو ہم لوگ بےزمین ہو گئے اور یہ مٹھی بھر جاتیاں زمین دار۔” پِتاجی “ہاں بیٹا، ہم یہ سوال کیسے اٹھاتے؟ یہ جاتیاں طاقتور ہیں، لڑاکی ہیں اور ہم کمزور لوگ۔ ان کے لوگ پولیس میں ہیں، سرکار میں ہیں، انتظامیہ میں ہیں۔ ہماری کون سنتا ہے۔” میں نے ]اب کی بار غصے سے، مگر طنز کے انداز میں[ “پِتاجی، یہ لوگ لڑاکے ہیں، طاقتور ہیں، تو پھر ملک کئی بار غلام ہوا اور صدیوں تک غلام بنا رہا، کہاں گئی تھی ان کی طاقت اور لڑاکا پن! اور پِتاجی بھارت کی آزادی سے پہلے تو زمین زمینداروں، نوابوں کے پاس تھی۔ یہ ٹُکڑخورے کوئی زمیندار تھوڑی تھے۔ بلکہ یہ تو کاشتکار بھی نہیں تھے۔ لیکن تھوڑی سی ہمت نہ ہونا۔۔۔۔۔” میں بڑا پس و پیش میں پڑا تھا کہ کسی نے مجھے آواز دی۔ میں نے سر اوپر اٹھا کر دیکھا تو ایک پرانے دوست تھے۔ راجے پِپل۔ وہ میری طرف چلا آ رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا، “کیوں یہاں کیسے۔” (تھوڑا سا وچاروں کو اہم اور بناوٹی سا بنا کر) وہ بولا، “میں تو اکثر آیا کرتا ہوں، لیکن تمھارے درشن نہیں ہوتے شریمان ۔ کیوں کیا بات ہے؟” اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتا، میں نے اپنی ساری داستان اسے سنا دی، کیونکہ میں تو چاہتا تھا کہ کوئی میری بات سنے اور حل کا کوئی راستہ نکلے۔ داستان سن کر وہ بولا، “یار کچھ تو کرنا ہی چاہیے۔ آج تو یہ دروازے کی بات ہے۔ کل تو یہ ہمارے گھروں پر قبضہ کر لیں گے۔” پھر وہ بولا، “میں ٹھہرا سماجی خدمت گار پولیس اور انتظامیہ سے آئے دن جھڑپ ہو جاتی ہے۔ چلو اب کی بار تمھارے لیے کھڑکاتے ہیں ان کے کان۔ بھائی ایک بات بتا دوں۔ پولیس اس کی بات سنتی ہے جس کا پلڑا بھاری ہو۔ چاہے دھن سے چاہے پہنچ سے، چاہے دباؤ سے۔ نہیں تو وہ نہیں سنتی اپنے باپ کی بھی۔ پولیس کمزوروں اور عورتوں کی مدد نہیں کرتی۔ اس لیے ہی تو ان دونوں کو پولیس سے ڈر لگتا ہے۔ اور انصاف بھی نہیں مل پاتا۔ ان کا استحصال کرتی ہے۔ اگر ہم جیسے سماجی خدمت گار نہ ہوں تو یہ استحصال اور بھی زیادہ ہو گا۔ خیر چھوڑ، (بات کو بدلتے ہوئے) تو کل میرے گھر آ جا۔ پھر چلیں گے پولیس اسٹیشن۔” پھر دونوں اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے اور کچھ دیر بعد وہ اپنے گھر چلا گیا۔

اگلے دن ہم دونوں پولیس اسٹیشن گئے۔ سادے کاغذ پر ایک نامزد رپٹ لکھ دی اور ایک کاپی پر وصولی کرنے والے کے دستخط اور تھانے کی مہر لے لی۔ پھر دونوں اپنے اپنے کام سے چلے گئے۔ دوست کے اس تعاون سے من کو راحت ملی اور دہشت کی فکر بھی جاتی رہی۔ میں نے مزدوروں کو ہدایت دے رکھی تھی کہ کام زور شور سے ہونا چاہیے۔ کس کے بھی کچھ کہنے پر کام نہیں بند کرنا ہے۔ اس سے کہنا کہ مالک سے بات کر لیں۔ اور مکان بنانے کا کام زور شور سے چلتا رہا۔ بُھوسا کمہار ایک دن تھوڑی دیر کے لیے میرے مستری کو اپنے یہاں کام کے بارے میں لے گیا۔ کچھ دیر بعد جب وہ لوٹا تو مجھ سے بولا، “آپ کے یہاں کام میں لفڑا ہی لفڑا ہے۔” میں نے پوچھا کیسا اور کیوں لفڑا ہے۔ اس نے کہا، بُھوسا کہہ کر رہا تھا “یا تو اس کا کام چھوڑ دے نہیں تے تیری بھی پٹائی ہوویں گی اور اس نے ]میرے لیے[ تیں ہم سبق سکھا ہی دیویں گے۔” میں نے مستری سے کہا، “اب جب بھی وہ ملے تو اسے سمجھا دینا، بُھوسا تجھ میں تو مجھ سے لڑنے کی ہمت ہے ہی نہیں۔ رہی بات اس کے حمایتی کی، ان سے بھی کہہ دینا اینٹ کا جواب پتھر سے نہ ملے تو میرا نام بدل دینا۔ یہ گیدڑ بھبھکی کسی اور کو دینا۔ یار تو سر پر کفن باندھ کر چلتا ہے۔ کھلے عام۔ لیکن مستری جی تمھیں ڈرنے کی یا فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔” اور سب لوگ کام پر لگ گئے۔

اس دن سوموار تھا۔ صبح کا وقت تھا۔ مستری نے کہا، “آج دروازہ اور کھڑکی لگانی ہے۔ آپ گھر پر ہی رہنا۔” میں نے کہا، “گھر میں ہی رہوں گا۔ لیکن تمھیں کسی طرح کے ڈرنے کی بات نہیں ہے۔ اپنا کام کرو اور احتیاط سے کرو۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔” لگ بھگ دو گھنٹے بعد مستری نے لکڑی کی چوکھٹ گلی کی طرف لگا دی۔ اور راستہ گلی میں کھول دیا۔ کچھ عورتیں آپس میں باتیں کر رہی تھیں۔ “بس اب جھگڑا ہو جائے گا۔ لُوکھا جاٹ اپنے ساتھیوں کو لائے گا اور اس چوکھٹ کو اکھاڑ دیں گے۔” کچھ لوگ کہہ رہے تھے، “کون سی ان سالے جاٹوں کی خریدی ہوئی زمین ہے جو جھگڑا کریں گے۔” کچھ کہہ رہے تھے، “جھگڑے سے کیا ہو گا؟ بیر بندھ جائے گا۔ کیوں نہ انھیں بھی شانتی رہنے دے اور یہ بیر کی بات ختم کریں۔” اور اسی طرح تناؤ میں شام ہو گئی۔ سب لوگ کام ختم کر کے جا چکے تھے۔ سب کچھ معمول سے تھا، بلکہ آج کچھ اور بھی زیادہ شانت۔ لیکن ایک بات خاص تھی کہ بُھوسا اینڈ پارٹی کے لوگ نہ جانے کہاں غائب ہو گئے تھے۔ پِتاجی روز کی طرح چارپائی بچھا کر سامان کے پاس حقہ پی رہے تھے۔ تبھی میرے وہی دوست راجے آ گئے۔ میں بھی چارپائی پر بیٹھ گیا۔ راجے پِپل کرسی پر بیٹھ گئے۔ تب میں نے کہا، “کیوں بھائی، لڑاکے، طاقتور آج بزدل کیسے بن گئے۔” راجے پِپل “یہ لوگ کمزوروں کے لیے طاقتور ہیں۔ دلیر ہیں۔ لیکن طاقتور کے لیے اس کے وفادار کتے ۔ سالے دھوکے باز، اجڈ مویشی۔ یہ کیا لڑیں گے سالے۔ بزدل۔ کیسے کبڑے زمینداروں کے۔ بُھوسا کبڑوں کا کبڑا، حوالی موالی ۔” اور دونوں ہنس پڑے۔ پِتاجی حقے کا کش کھینچ رہے تھے۔۔۔

Categories
نان فکشن

شانتا راما – باب 24: پڑوسی (ترجمہ: فروا شفقت)

“جی۔ یہ لیجیے ساڑھی، جِسے آپ نے خریدنے کے لیے کہا تھا۔” مدراس سے لائی گئی وہ ساڑھی میرے ہاتھ میں دیتے ہوے وِمل نے کہا۔ ایک بار من کر رہا تھا کہ ساڑھی کو جوں کی توں وِمل کو واپس کر دوں اور کہوں کہ تم ہی رکھ لو۔ لیکن جےشری کے نام پر خریدی گئی ساڑھی کو اس طرح رکھ لینا مناسب نہ ہو گا، یہ سوچ کر میں نے ڈرائیور کو ساڑھی جےشری کے گھر پہنچانے کے لیے کہا۔

سٹوڈیو آتے ہی جےشری نے بتایا کہ ساڑھی اسے بہت ہی پسند آئی۔ لمحہ بھر وہ وہیں رُکی سی رہی۔ لیکن میں نے اس کی طرف خاص دھیان نہیں دیا اور سیدھے میوزک ڈیپارٹمنٹ میں چلا گیا۔ میرے پیچھے ماسٹر کرشن راؤ نے ‘پڑوسی’ اور ‘شیجاری’ کے کچھ گیتوں کی دھنیں بنائی تھیں۔ ایک دکھ بھرے سین پر گائے جانے والے گیت کو انھوں نے دکھ بھری دُھن دی تھی۔ میں نے اپنی رائے ظاہر کر دی۔ اس پر انھوں نے اسی دھن کو رونی صورت بنا کر پھر پیش کیا۔ اور پوچھا، “انّا، اب کیسی لگی دُھن؟”

میں نے اپنی جیب سے ایک رومال نکال کر ان کے چہرے پر ڈالا اور ان کا چہرہ ڈھک دیا۔ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ ان کی صورت دیکھے بِنا ان کی دُھن کیا وہی اثر ڈال پاتی ہے، جس کی کہ اس سے امید کی جاتی تھی؟ میں نے انھیں وہی گیت پھر سنانے کے لیے کہا۔ گاتے سمے چہرے پر رکھا رومال لگاتار اُڑ رہا تھا۔ ہم سب لوگوں کو یہ دیکھ کر بڑا مزہ آتا رہا۔ گیت ختم ہوا۔ ماسٹر کرشن راؤ نے چہرے سے وہ رومال پردہ نشین عورت کی ادا سے تھوڑا ہٹا کر نسوانی آواز میں پوچھا، “اب کیسی لگی دُھن؟”

میوزک روم میں جمع سبھی لوگ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گئے۔ اب تو اس دھن کو بدلنے کے علاوہ ماسٹر کرشن راؤ کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا! میرا ہمیشہ کا دستور رہا تھا کہ اپنی فلم کے لیے بنے گیت اور دھنیں سر نیچا کر کے سنوں اور پورے دھیان سے سنوں۔ ایسا کرنے سے سین کے مطابق اثر گیت کی دھن سے برابر ابھرتے ہیں یا نہیں، اس کی صاف تصویر ذہن پر نقش ہو پاتی تھی۔ لیکن اس دن جےشری گا رہی تھی، تب یوں ہی میں نے اوپر دیکھا۔ گاتے سمے وہ بھی اپنی موٹی موٹی کجراری آنکھوں سے مجھے ہی ایک ٹُک دیکھ رہی تھی۔ مجبوراً ہی تیرتے سمے ہوے اس واقعے پر من فوکسڈ ہو گیا۔ وہ سین من کی آنکھوں کے سامنے ایسا ثبت ہو گیا کہ ہٹنے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ لیکن فوراً ہی میں نے اپنے آپ کو سنبھالا، ہوش میں آیا۔ اپنے آگے جاری کام سے لمحہ بھر ہی سہی، اپنا دھیان ہٹ گیا۔ اس لیے اپنے آپ پر ہی مجھے غصہ آیا۔

شوٹنگ شروع ہو گئی۔ پھر مجھ پر وہی دُھن پوری طرح چھا گئی، جو ‘آدمی’ اور ‘دنیا نہ مانے’ فلم بنانے کے سمے تھی۔ آج تک جیون میں میں نے کبھی کوئی نشہ نہیں کیا۔ لیکن لگتا ہے کہ فلم میکنگ کا نشہ میرے خون میں ہی گُھلا ہے۔ ہر نئی فلم کے ساتھ ایک نیا پاگل پن، ایک نیا لطف چھا جاتا ہے۔

فلم ‘پڑوسی’ کا پوسٹر

اس فلم میں اُن بوڑھے ہندو مسلمان دوستوں کے آپسی محبت کی علامت کے روپ میں دونوں کے ہاتھ میں ہاتھ ساتھ ساتھ چل رہے ہیں، اس سین کا استعمال میں نے کئی جگہوں پر نہایت جذباتی ڈھنگ سے کر لیا۔ بعد میں جب وہ وِلن ٹھیکیدار ان دونوں جانی دوستوں میں غلط فہمی پیدا کرتا ہے، تو دونوں کی دوستی ٹوٹنے لگتی ہے۔ لیکن یہ بات لفظوں میں نے ظاہر نہیں کی، صرف منظروں کے اشاروں سے اس طرح دکھائی کہ دونوں کے ہاتھ میں لیے ہاتھ چھوٹ جاتے ہیں، ایک دوسرے سے دور جاتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں کا فاصلہ بڑھتا جاتا ہے اور بعد میں دونوں پردے پر دکھائی نہیں دیتے۔ دکھائی دیتے ہیں صرف ان کے ایک دوسرے سے دور دور جا رہے ہاتھوں کے پنجے۔ کیمرا پیچھے ہٹتے ہٹتے صرف ان دور جاتے پنجوں کو ہی فلماتا رہتا ہے۔

اُن دونوں پڑوسیوں کو ایک ہی شوق تھا، فرصت کے سمے شطرنج جمانا۔ لیکن بعد میں اختلاف ہونے کے کارن دونوں باہمی مخالف سمت کی طرف منھ پھیرے آنگن میں چپ چاپ بیٹھے رہتے ہیں۔ شطرنج کے مہرے اور بِچھا پٹ (بساط) پیڑ کے نیچے بیکار پڑے رہتے ہیں۔ اُن کے بچوں کو بھلا ان بڑوں کے جھگڑے سے کیا لینا دینا! وہ اپنے پِتا جی کی ادا میں شطرنج بچھا کر اپنی اپنی عقل کے مطابق جیسی بنے، چالیں چلنے لگتے ہیں۔ پیڑ کے نیچے منھ پھیرے بیٹھے دونوں بوڑھوں کا دھیان اُن کے کھیل کی طرف جاتا ہے۔ بچے بیچارے غلط چال چلتے رہتے ہیں۔ دونوں بوڑھے اپنے بچوں کے پیچھے آ بیٹھتے ہیں اور ان کا ہاتھ پکڑ کر خود مہرے چلانے لگتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے کچھ پیادوں کو مارتے ہیں۔ آگے چل کر تو دونوں اس کھیل میں اتنے کھو جاتے ہیں کہ بچوں کی بیکار کی جھنجھٹ ختم کرنے کے لیے انھیں اٹھا کر ایک طرف ایسے رکھ دیتے ہیں، جیسے شطرنج کی گوٹیاں ہوں، اور کھیل میں مست ہو جاتے ہیں۔ پونم کی رات کو گاؤں کے دیوتا کا تہوار ہوتا ہے۔ سبھی گاؤں واسی، مرد عورت گاؤں کے باہر مندر کے پاس جمع ہوتے ہیں اور ہاتھوں میں مشعلیں لیے ایک رقص کرتے ہیں۔ اس رقص کی ریہرسل کرانے کے لیے بنگال کے کالی بوس کو میں نے خاص طور سے بلایا تھا۔ کافی دنوں تک ‘پربھات’ کے سبھی کاریگر اس رقص کی ریہرسل کرتے رہے۔ میں دکھانا چاہتا تھا کہ گاؤں کے سبھی بچے بوڑھے ذات پات کا اختلاف بھلا کر تہوار کے لطف میں خوشی اور جوش سے شامل ہو گئے ہیں۔ کالی بوس کی کوریوگرافی میں زنانہ رقص کے لیے ضروری نزاکت تو تھی، لیکن مردانہ رقص کے لیے ناگزیر جوش لاکھ کوششیں کرنے پر بھی نہیں آ رہا تھا۔ زنانہ اور مردانہ رقصوں میں دکھایا جانے والا فرق برابر آ نہیں رہا تھا۔ آخر مجبوراً ہی میں نے خود مشعلیں ہاتھ میں لیں اور مردانہ رقص کے سبھی قسموں کی ریہرسل کرا لی۔

میری رائے تھی کہ رقص کا سین بہت شاندار لگے اور شروع سے آخر تک وہ ایک روپ دکھائی دے، اس لیے اس میں کٹ شاٹ نہ ہو، لیکن اتنے بڑے گروپ رقص کو ایک ہی شاٹ میں فلمانا ناممکن تھا۔ لہٰذا شوٹنگ میں ایک مکمل نئی تکنیک کا استعمال کی تا کہ دیکھنے والوں کو ایسا لگے کہ ایک سین سے دوسرا سین کُھلتے کُھلتے نکل رہا ہے۔ پہلے شاٹ کے آخر میں رقاصوں کی مشعلیں کیمرے کے بالکل قریب آتی ہیں۔ دوسرے شاٹ کا آغاز مشعلوں پر کیمرا لے کر ہی ہوتا ہے اور بعد میں انھیں ایک طرف یا پیچھے ہٹا کر دوسرے کونے سے لیا گیا شاٹ پردے پر دکھائی دیتا ہے۔ اس تکنیک سے لیے گئے شاٹوں کی ایڈیٹنگ میں نے اتنی خوبی سے کی کہ پہلا شاٹ کہاں ختم ہوا اور دوسرا کہاں سے شروع، اچھے اچھے ٹیکنیشنوں کے بھی دھیان میں نہیں آیا۔

پونم کی اجلی چاندنی میں رقص میں پورا رنگ بھر گیا ہے۔ اچانک چاند بادلوں میں چھپ جاتا ہے۔ سبھی ناچنے والوں پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ انسانوں کی شکلیں ایک دم دھندلی ہو جاتی ہیں اور گانے کی لَے کے ساتھ آگے پیچھے ہلنے والی مشعلیں ہی دکھائی دیتی ہیں۔ پھر چاند نکل آتا ہے اور سب کچھ چاندنی میں نہاتا ہوا صاف دکھائی دینے لگتا ہے۔ چاند چھپ جاتا ہے اور پھر نکل آتا ہے؛ اس سین کے کارن دیکھنے والوں کو نین سکھ تو بہت مل جاتا ہے، لیکن اس میں شامل تخیل کا استعمال کہانی کا مقصد اور بھی زندہ کرنے کے لیے بھی میں نے کر لیا۔ مرزا اور پاٹل نوجوانوں کے رقص کا جلوس ایک طرف کھڑے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ مرزا کا لڑکا نعیم، پاٹل کے ہاتھوں میں مشعل دے جاتا ہے اور اسے رقص میں شامل کر لیتا ہے۔ پاٹل کا لڑکا رایبا بھی اسی طرح مرزا جی کو بھی رقص میں کھینچ لاتا ہے۔

ناچتے ناچتے دونوں بُھولے سے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ جاتے ہیں۔ لگتا ہے اب دونوں کی ناراضی تہوار کے جوش میں دور ہو جائے گی۔ ٹھیک اسی لمحے چاند بادلوں میں چھپ جاتا ہے۔ پاٹل کا جوش غائب ہو جاتا ہے۔ بیچارے مرزا جی بھی نا امیدی سے لوٹتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ان کے من میں جو میل چھپا تھا، اسی نے رقص کے جوش کا سارا مزہ کرکرا کر دیا ہے۔

پوٹلی کے لڑکے رایبا کو کسی الزام میں پنچایت کے سامنے کھڑا کیا جاتا ہے۔ یہ ساری سازش اس ٹھیکیدار کی ہی ہوتی ہے۔ اس نے اپنے مصاحبوں کی مدد سے رایبا کو ناحق اس میں پھنسا دیا ہے۔ ٹھیکیدار کا ایک مصاحب پاٹل اور مرزا کے بیچ سے ہوتا ہوا حقے کی سلگتی چلم دانی لے جاتا ہے۔ دیہاتوں میں عام رواج ہوتا ہے کہ کسی دو آدمیوں کے بیچ سے ہوتی ہوئی کوئی آگ نکل جائے، تو ان میں ضرور ہی بکھیڑا کھڑا ہو جاتا ہے۔ لہذا اس طرح سلگتی چلمدانی پاٹل اور مرزا جی کے بیچ سے لے جانے کو دوسرا ہی معنی آسانی سے حاصل ہو جاتا ہے۔ پنچایت سبھا کا کام شروع ہوتا ہے۔ بحث اور جرح چل رہی ہے، اور ٹھیکیدار کا وہی مصاحب بیچ بیچ میں چلمدانی کے کوئلوں کو ہوا دیتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ پاٹل اور مرزا کے بیچ دھوئیں کی دیوار سی کھڑی ہو جاتی ہے۔ مرزا کے اس حقے کا استعمال میں نے کئی طرح سے کر لیا۔ غلط فہمی بڑھتی جاتی ہے۔ آثار تو ایسے دکھائی دینے لگتے ہیں کہ ہو نہ ہو من مار کر مرزا رایبا کے خلاف فیصلہ بس دینے ہی جا رہا ہے۔ لیکن اپنے پیارے دوست کے لڑکے کے خلاف پنچایت کا فیصلہ دینا مرزا کے لیے بہت ہی مشکل کا کام ہے۔ پاٹل کے من میں پہلے سے ہی بیٹھی غلط فہمی اس سے اور بھی گہری ہو جائے گی، مرزا جانتا ہے۔ مرزا بڑی الجھن میں پھنسا ہے، کشمکش میں پڑا ہے۔ آخر وہ خدا کو گواہ رکھ کر فیصلہ دیتا ہے۔

ٹھیک یہی اثر ناظرین کے من پر بھی پڑے، اس لیے میں نے ایک ترکیب سے کام لیا۔ مرزا فیصلہ سنانے سے پہلے اوپر آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کیمرا بھی اوپر کی طرف جاتا ہے۔ پردے پر دکھائی دیتا ہے وسیع آسمان اور نیچے کے ایک کونے میں مرزا کا چہرہ۔ مرزا کے چہرے کے علاوہ پردے کا سارا فریم خالی دکھائی دیتا ہے۔ اس سے یہ بات برابر ابھر آتی ہے کہ مورت پوجا میں عقیدہ نہ رکھنے والے اسلام کے مذہبی خیالات کے مطابق وہ خالی جگہ ہی اللہ کی علامت ہے اور اللہ کو گواہ رکھ کر ہی مرزا اب اپنا فیصلہ دے رہا ہے۔ فیصلہ سنائے جانے کے سمے کیمرا پھر نیچے دیکھنے لگتا ہے اور مرزا کا کلوز اپ فلما لیتا ہے۔ اس سارے سین کے آخر میں پردے پر پورے واقعے کی علامت کے روپ میں صرف مرزا جی کی وہ چلم دانی ہی دکھائی دیتی ہے۔ چلم دانی سے چنگاریاں نکلتی ہیں اور اس کے بعد آگے کے سین میں دکھائی دینے والا پاٹل کا پریشان چہرہ دھیرے دھیرے اسی چلم دانی پر ابھر آتا ہے۔

اس کے بعد دونوں میں زور کا جھگڑا ہو جاتا ہے اور مرزا پڑوس چھوڑ کر جانا طے کر لیتا ہے۔ وہ ایک بیل گاڑی بلواتا ہے۔ گھر کا سارا سامان اس پر رکھواتا ہے۔ بیوی اور بال بچوں کو بھی گاڑی میں بٹھاتا ہے۔ مرغیوں کی جھلیاں بھر دیتا ہے اور بھیڑ بکریوں کو بھی گاڑی سے باندھ کر جانے لگتا ہے۔ پردے پر دکھائی دیتا ہے اس کا دور دور جاتا ہوا گھر، گاڑی میں بیٹھ کر پاٹل کے بچوں سے دور جانے والے مرزا کے بچے! مرزا کی مرغیاں اور بھیڑ بکریاں پاٹل کے گھر کے چھجے پر کھڑی ان کی مرغیوں اور بکریوں کو مسکینی سے دیکھ رہی ہیں، دور چلی جا رہی ہیں۔ آخر میں مرزا کی بیل گاڑی دور چلی جاتی ہے اور ادھر پاٹل کا گھر بھی دور ہو جاتا ہے۔ اس طرح دونوں جانی دوست ایک دوسرے سے بچھڑتے ہیں اور اسی دل کو چھو لینے والا سین پر انٹرویل ہو جاتا ہے۔

اس پوری فلم میں مَیں نے کیمرے کی رفتار کا استعمال ایسے کیا تھا کہ ہر سین کے احساسات کی ذرا سی لہریں بھی برابر ابھر کر سامنے آ جائیں۔ میری کوشش تھی کہ کیمرا سین فلمانے کی ایک مشین بن کر ہی نہ رہ جائے، بلکہ یہ ثابت کر دے کہ وہ انسانی من کی طرح ایک حساس من بھی ہے۔ اسی لیے ‘پڑوسی’ کا سنیریو لکھتے سمے میں مختلف شاٹوں کو صرف تکنیکی تقسیم نہیں کرتا تھا، ہر سین کا سنیریو لکھتے سمے میں اس کے احساسات کے ساتھ پوری طرح سے ایک روپ ہو جاتا تھا۔ خاص طور سے آخر میں باندھ ٹوٹ جانے کے سین کا سنیریو لکھتے سمے تو اس کے ساتھ اتنی وابستگی ہو گئی تھی کہ جذبات کے تسلسل کو روک نہ سکا۔ آنکھوں سے گرتے ٹپ ٹپ آنسو سنیریو کی کاپی کو چھو رہے تھے اور وچاروں کی کڑی ٹوٹنے نہ پائے، اس لیے آنسو پونچھ کر سنیریو لکھتا گیا۔ آخری سین لکھا اور کرسی کی پیٹھ پر ماتھا رکھ کر میں خوب رویا۔ میری سسکیاں سن کر وِمل بھی جاگ گئی۔ گھبرائی، ہڑبڑائی سی بڑی ہی بےچینی سے پوچھنے لگی کہ بات کیا ہے۔ میرے منھ سے لفظ نہیں پھوٹ رہا تھا۔ میں نے صرف سنیریو کی کاپی کی طرف اشارہ کر دیا۔

دوسرے دن میرے زیر کام کرنے والے شاعر آٹھولے نے سنیریو کی وہ کاپی دیکھی اور سہمے سہمے سے پوچھا، “بات کیا ہے انّا؟ لکھتے سمے آپ اتنے جذباتی ہو گئے تھے؟”

“کیوں؟ یہ آپ کیسے کہتے ہیں؟”

انھوں نے سنیریو کی کاپی پر آنسوؤں کے نشان مجھے دکھائے۔ وہ اس سے زیادہ کچھ بھی نہ بول سکے۔

فلم کا آخری سین باندھ ٹوٹنے کا تھا۔ وہ پردے پر دکھائی دینے لگا۔ باندھ پر سرنگیں بچھانے کے کارن وہ ٹوٹ جاتا ہے، تباہ ہو جاتا ہے۔ دکھ سے چُور پاٹل بہکے بہکے سے، کھوئے کھوئے سے بددل ہو کر باندھ پر بیٹھے ہیں۔ چاروں طرف بڑی بڑی چٹانوں کے ٹوٹے ٹکڑے اُڑ رہے ہیں۔ اپنے روایتی متر کی جان بچانے کے لیے اپنی جان کی پروا کیے بنا ہی مرزا باندھ پر دوڑ کر آتے ہیں۔ دونوں جب لوٹنے لگتے ہیں تب ایک بڑا بھاری دھماکہ ہونے سے لوٹنے کا راستہ تباہ ہو جاتا ہے، ٹوٹ جاتا ہے۔ بڑی کھائی پڑ جاتی ہے۔ اب تو موت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہ جاتا۔ دونوں متر ہاتھ میں ہاتھ تھامے وہیں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تبھی ایک اور سرنگ کا دھماکہ ہوتا ہے اور باندھ کا وہ حصہ بھی جس پر یہ دونوں کھڑے ہوتے ہیں، ٹوٹ کر گر جاتا ہے۔ ہاتھ میں ہاتھ تھامے ہی دونوں موت کا استقبال کرتے ہیں۔ دوسرے دن جب باڑھ اتر جاتی ہے، دونوں متر مرے پائے جاتے ہیں۔ لیکن اس آخری لمحے بھی دونوں کے ہاتھ اسی مضبوطی سے گتھے ہوے ہیں جیسے انھوں نے زندہ حالت میں تھامے تھے۔ ان دو ہاتھوں کی مضبوط پکڑ کے اوپر سے پانی کی دھارا بہتی جاتی ہے۔

اس پورے سین میں احساسات اور تکنیک کا خوبصورت میل رکھا گیا تھا۔ مضبوط دوستی، محبت کا یہ سین دیکھ کر ایک مسلمان ناظر نے دل کھول کر کہا، “آج دل کا میل نکل گیا!”

سبھی اخباروں کے کالم ‘پڑوسی’ اور ‘شیجاری’ فلم کی تعریف سے کھِل اٹھے۔ استثنیٰ تھی صرف اترے جی کا ‘نویگ’۔ اس ہفتہ وار میگزین نے اپنا راگ الگ ہی الاپا تھا۔ اترے جی نے اپنے اس ہفتہ وار میں لکھا: ”تنتر تو ہے، پر منتر غائب”۔ ‘پڑوسی’ پر انھوں نے یہ طعنہ زنی کی تھی۔ پہلے بھی بِنا کارن ہی انھوں نے ‘دنیا نہ مانے اور ‘کن کو’ کے بارے میں اسی طرح اول جلول ذکر اپنے ‘پراچا کاؤلا’ (بات کا بتنگڑ) ناٹک میں کیا تھا۔ اس سمے میں نے بھی انھیں کافی تیز تڑاخ جواب دیا تھا، ”تماشائیوں کی طرف سے نذر کی گئی قلم سے ‘دنیا نہ مانے’ کی بےکار کی مخالفت کو دنیا نہیں مانے گی۔” میں نے ہمت کے جذبے سے ان کی طرف کی گئی تنقید کو قبول کیا تھا۔ انھیں بھی چاہیے تھا کہ اسی جذبے سے اس بات پر ہمیشہ کے لیے پردہ ڈال دیتے۔ لیکن ان کے جیسے قلم کے دھنی لیکھک نے ‘پڑوسی’ پر اعتراض، مخالفت کرنے میں ہی اپنی قلم چلائی۔ ‘نویگ’ میں اترے جی نے ‘شیجاری’ پر بالترتیب پانچ کالم لکھے۔ لیکن کوئی بھی اچھی بات، صرف اس لیے کہ کسی عقلمند آدمی نے اسے بُرا کہا ہے، بُری ثابت نہیں ہو جاتی!

‘پڑوسی’ فلم بِہار کے بھاگلپور میں ریلیز ہوئی، تب وہاں ہندوؤں مسلمانوں میں دنگا بھبھک اٹھا تھا۔ لکھنے میں مجھے بےحد فخر ہوتا ہے کہ اس فلم کے کارن وہاں کا دنگا بند ہو گیا۔ دونوں فریقوں کے لوگوں نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ لوگ باگ کہنے لگے، جو بات بڑے بڑے سیاست دانوں کے بھاشنوں سے بھی نہ ہو پائی تھی، اسے ‘پڑوسی’ اور ‘شیجاری’ فلم نے کر دکھایا ہے! میں شکر گزار ہو گیا۔

Categories
نان فکشن

شانتا راما – باب 23: امرت ورشا (ترجمہ: فروا شفقت)

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔
…………………..
“مدھرا وٹیا بڑی سہانی، گھنگھرالے بال لگے سیانی، آنکھیں موٹی ناک سے نکٹی، دیکھ دیکھ کر ہے مسکانی۔۔۔”

دو سال کی گھنگھرالے بالوں والی گول مٹول مدھُرا کو گود میں لے کر بےسری آواز میں میری شاعری چالو تھی۔ موٹر تیزی سے جنگل کا راستہ کاٹتی دوڑتی جا رہی تھی۔ کچھ دیر بعد وِمل نے کندھے سے مجھے ہلاتے ہوئے کہا، “اجی —”

میں نے اس کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں خوف و فکر دکھائی دی۔ اس کے اس طرح ‘اجی’ کہہ کر شاعری کی غنودگی سے مجھے جگانے کا معنی میری سمجھ میں فوراً آ گیا۔ میں اپنی ہنسی روک نہ سکا۔ وِمل سے کہا، “تم کیا سمجھ رہی ہو، میں پاگل واگل ہو گیا ہوں؟ بالکل نہیں۔ میں تو ایک دم مزے میں ہوں، مست ہوں۔ اس سفر میں پورا آرام کرنے والا ہوں، ساری جھنجھٹوں کو بُھلا بسرا کر، سمجھی؟”

وِمل نے صرف سر ہلایا اور وہ بھی میرے ساتھ ہنسنے لگی۔ کار کی کھڑکی سے آس پاس کی ہریالی کو جی بھر کر دیکھتے ہوئے، مدھُرا کے گھنگھریالے بالوں پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے شاعری پھر زوروشور سے شروع ہو گئی۔

ڈاکٹر بھڑکمکر نے میرے روگ کی جو تشخیص کی تھی، اسے سُن کر سبھی لوگ گھبرا گئے تھے۔ وِمل نے جیون میں پہلی بار ضد کی تھی کہ کسی شانت جگہ پر آرام کے لیے جایا جائے۔ اسی لیے ہم سب لوگ یعنی وِمل، پربھات کمار، سروج اور دو سال کی مدھُرا اور میں، گرسپپا کا بھدبھدا (آبشار) دیکھنے کے لیے کار سے جا رہے تھے۔

شام ہو رہی تھی۔ ڈرائیور نے اچانک کار روک دی۔ میں نے کارن جاننا چاہا۔ اس نے سامنے کی طرف اشارہ کیا: ایک لمبا پیلے رنگ کا ناگ رپٹیلی چال سے چلا جا رہا تھا۔ غروب کے سمے کی سورج کی کرنوں سے اس کی چکنی کایا چمک رہی تھی۔ اس نے راستہ پار کر لیا اور ہمارے ڈرائیور نے کار پھر چالو کی۔ دھیرے دھیرے اندھیرا چھانے لگا۔ کچھ ہی سمے بعد گاڑی رکی۔ سامنے ہی ایک ڈاک بنگلہ تھا۔ برآمدے میں رکھی ایک آرام کرسی پر میں بیٹھ گیا۔ گِرسپپا کے بھدبھدا کی گہری گمبھیر آواز سنائی پڑ رہی تھی۔

سویرے اٹھتے ہی دھیرے دھیرے جا کر وہاں سے سامنے ہی واقع بھدبھدا میں نے دیکھا۔ اس پرچنڈ جلودھ (جھرنے) کو دیکھ کر میرے من کی ساری تھکان جاتی رہی۔ میں جذباتی ہو گیا۔ بھدبھدا! اس کے چاروں جانب چھائی ہریالی بھری جنگلی املاک کا حسن ایک بےصبر پیاسے کی طرح میں جی بھر کر پینے لگا۔ من میں شدت کا اشتعال دھیرے دھیرے کم ہوتا جا رہا تھا۔ سُدھ بدھ کھو کر میں وہاں پتہ نہیں کتنی دیر بیٹھا رہا!

دوچار دن میں ہی میرے وہاں آرام کے لیے آنے کی خبر پاس پڑوس میں پھیل گئی۔ کچھ چاہنے والوں نے میرے لیے ایک خاص پروگرام کا انعقاد کیا۔ پونم آ رہی تھی۔ کچھ لوگ پہاڑی پر چڑھ گئے اور وہاں سے انھوں نے بڑی بڑی لکڑیاں سُلگا کر بھدبھدے کے پانی میں چھوڑیں۔ وہ جلتے ہوئے کندے (بلاک) خوفناک رفتار سے بھدبھدے کے ساتھ نیچے کودتے اور پانی میں ڈوبتے ابھرتے آگے چلے جاتے۔ آگ اور پانی کا ایسا حسین اور ناقابل بیان ملن میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ غیرمعمولی حُسن من میں سنجوتے جی نہیں اکتاتا تھا۔

پُونا واپس آیا تو تن من میں نیا جوش اور امنگ آ گئی تھی۔ گِرسپپا کے آس پاس کی گھنی ہری ہری جنگلی املاک کے کارن میری صحت بہت جلدی ٹھیک ہو گئی۔ سٹوڈیو میں قدم رکھا ہی تھا کہ ‘پربھات’ کے مینیجر پتروں کا ڈھیر لے کر میرے آفس میں آ گئے۔ ان کے چہرے پر خوشیاں ناچ رہی تھیں۔ اس ڈھیر کو میری میز پر رکھتے ہوئے انھوں نے کہا، ”یہ لیجیے ’’آدمی‘‘ اور ‘مانوس’ کے لیے حاصل بدھائیوں کی چٹھیاں!”

اب میں ان سبھی پتروں کو جوش سے دیکھنے لگا۔ ہر ڈائریکٹر کی اپنی اپنی رائے تھی۔ کسی نے ‘آدمی’ جیسی فلم بنا کر ‘دیوداس’ میں موجود مایوسی کا کرارا جواب دینے پر دلی بدھائیاں دی تھیں، تو کسی دوسرے لیکھک نے لکھا تھا: “آپ کے کاروباری بھائی بندوں کی بنائی فلم کی اس طرح کھِلّی اڑانا آپ کے لیے زیب نہیں دیتا!”

کسی کو فلم کا اختتام پسند نہیں آیا تھا۔ ایک مہاشے نے تو ہم سے صاف صاف جاننا چاہا تھا کہ آخر میں آپ ہیرو اور ہیروئین کا بیاہ رچا دیتے، تو آپ کا کیا جاتا؟ لہٰذا ہم لوگوں کو دو دن تک بھوجن بھی راس نہیں آیا! اب کوئی اس پتر لیکھک کو جواب دے بھی تو کیا دے؟

ایک جذباتی ناظر نےلکھا تھا:

اب کبھی بمبئی کے فارس روڈ سے جانے کا سین آ بھی جائے تو، آپ کی ‘آدمی’ دیکھی ہونے کے کارن ہم لوگوں کو چِقوں کے پیچھے کھڑی ویشیاؤں کو دیکھ کر پہلے جیسی نفرت نہیں ہو گی بلکہ یہ محسوس ہو گا کہ ہر چِق کے پیچھے ایک گہرا دردِ دل چھپا ہے!”

اس فلم کے بارے میں ابھی حال کا ایک تجربہ تو بہت ہی انوکھا ہے: میں پہلی بار بیلگاؤں گیا تھا۔ وہاں کے لوگوں نے فطری ڈھنگ سے، بڑے پیار سے میرا سمان کرنے کا انتظام کیا۔ بیلگاؤں کے پاس پڑوس کے دس بارہ ضلعوں کے محکمہ جاتی کمشنر رام چندرن اس انتظام کے صدر تھے۔ سبھی مقررین کے بھاشن ہو چکنے کے بعد رام چندرن بولنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ سبھا کا انتظام چونکہ میرے اعزاز میں کیا گیا تھا، میں سوچ ہی رہا تھا کہ اب یہ مہاشے بھی میری تعریف کے پُل باندھیں گے۔ اسی لیے ان کی تقریر کی طرف میرا کوئی خاص دھیان نہیں تھا۔ لیکن رام چندرن نے ‘آدمی’ کے بارے میں ایک بہت ہی دل چھو لینے والی یاد دلائی:

“آج آپ مجھے یہاں زندہ اور چلتا پھرتا دیکھ رہے ہیں، اس کا سارا کریڈٹ اس فلم کو جاتا ہے۔ پینتیس برس پہلے کی بات ہے۔ اس سمے میری عمر اٹھارہ برس کی ہو گی۔ کئی خاندانی مصیبتیں میرے سامنے منھ کھولے کھڑی تھیں۔ انھیں سلجھانے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ روز بہ روز میں مایوسی کے گہرے گڑھے میں دھنستا جا رہا تھا۔ خودکشی کا وچار بھی من میں اٹھنے لگا تھا۔ لگتا تھا کہ خودکشی کر کے ان سبھی الجھنوں سے ہمیشہ کے لیے آزادی پا جاؤں۔ سوچ وچار کر کہیے یا بغیر سوچے سے، خود کشی کا ارادہ آہستہ آہستہ پکا ہونے لگا۔ لگ بھگ انہی دنوں میرے گاؤں میں وی شانتارام کی ‘آدمی’ فلم ریلیز ہوئی۔ شانتارام جی کی فلمیں مجھے ہمیشہ بہت ہی راس آتی تھیں۔ من کی اس ڈولتی حالت میں ہی میں ‘آدمی’ دیکھنے گیا۔ فلم دیکھ کر باہر آیا تو خود کشی کا وچار رفوچکر ہو چکا تھا۔ جیون جینے کا ایک نیا نظریہ مجھے مل گیا تھا۔ مشکلوں اور مصیبتوں سے جوجھتے جوجھتے جینے کا ہی نام جیون ہے۔ جیون جینے کے لیے ہوتا ہے۔ ‘لائف از فار لِونگ’ کا اصول ہی جیسے وی شانتارام کی اس فلم نے میرے کانوں میں پھونک دیا!

“اس کے بعد مصیبتوں کے پہاڑ سامنے آئے، پھر بھی میں ہارا نہیں، ٹوٹا نہیں۔ بلکہ ان کے ‘آدمی’ کے ہیرو کی طرح جیون کی راہ دھیرج سے طے کرتا ہوا آج میں ڈویژنل کمشنر بن گیا ہوں، اور یہ سب آپ کے سامنے قبول کرنے میں فخر محسوس کر رہا ہوں!”

اُن مہاشے کی آپ بیتی سن کر میں واقعی میں جذباتی ہو گیا۔ اس لمحے تو ضرور ہی لگا کہ میری تخلیق کامیاب ہو گئی ہے۔ لیکن عام طور پر دیکھا جائے، تو ‘آدمی’ پربھات کی دیگر فلموں کے مقابلے میں کم ہی چلی۔ بارہ ہفتے بعد ہی اسے بمبئی کے سینٹرل سینما سے ہٹانا پڑا۔ شاید چندرموہن نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ، ”یہ فلم بیس برس آگے کی ہے!”

بیسویں صدی کی چوتھی دہائی ختم ہونے کو تھی۔ دیش میں ہر جگہ بولتی فلموں کی مقبولیت کافی بڑھ چکی تھی۔ وہ اب ایک انڈسٹری کا روپ لینے لگی تھی۔ پربھات کی فلموں کے کاروباری معاملات کی دیکھ بھال کا کام میرے ہی ذمے تھا۔ جیسے جیسے یہ کاروبار بڑھتا گیا، اس پر نگرانی رکھنے کے لیے میں نے ‘پربھات سینٹرل ایکسچینج’ نامی ایک نیا ڈیپارٹمنٹ شروع کیا، ایک ٹیلنٹڈ مینیجر کو مقرر کیا۔ پربھات کی فلمیں سارے دیس میں بہت ہی مقبول تھیں۔ لہٰذا سینما گھروں کے مالکوں میں ان فلموں کو اپنے یہاں ریلیز کرنے کی ایک طرح سے ہُڑک سی لگی رہتی تھی۔ ہمارے ڈسٹری بیوٹرز کی رکھی گئی سبھی شرطوں کو وہ بِنا کسی جھجھک کے قبول کرتے اور پربھات کی فلم اپنے سنیما گھر میں ریلیز کرنے کو مل گئی، اسی میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتے تھے۔

اس سینٹرل ایکسچینج ڈپارٹمنٹ کی طرف سے ہر ماہ میرے پاس پوری تفصیل آتی تھی۔ اس کا باریکی سے مطالعہ کرنے پر میں نے دیکھا کہ ہمارے صوبائی ڈسٹریبیوشن سسٹم میں سدھار کیا جائے تو آمدنی اور بھی بڑھ سکتی ہے۔ اس نظر سے میں نے سوچا کہ سبھی ڈسٹری بیوٹرز کا ایک سمپوزیم بلایا جائے اور انھیں آپس میں کاروبار کے مختلف سسٹمز اور کٹھنائیوں وغیرہ پر کھل کر تبادلہ خیال کرنے کا موقع دیا جائے تو ڈسٹریبیوشن سسٹم میں سدھار بھی ہو گا اور اسے نئی سمت بھی حاصل ہو گی۔ فوراً ہی میں نے ہندوستان کے ہمارے سبھی ڈسٹری بیوٹرز کی ایک کانفرنس پُونا میں مدعو کی اور سبھی کو دعوت نامہ بھجوا دیا۔

اس کانفرنس میں سبھی ڈسٹری بیوٹرز کے سامنے میں نے پربھات کی آئندہ فلموں کے بنانے کا پروگرام اور اس پر آنے والے متوقع خرچ کا خاکہ پیش کیا۔ فلم میکنگ کے لیے یہ ضروری رقم ڈسٹریبیوشن کے ذریعے تکمیل کے لیے اخلاقی امداد ڈسٹری بیوٹر برادران دیں، ایسی مانگ بھی میں نے کی۔ اسے میں نے قانونی امداد نہ کہہ کر اخلاقی امداد کہا۔ اس کا کارن یہ تھا کہ قانونی بندھن آنے پر آدمی گھبرا جاتا ہے اور آسانی سے اسے قبول نہیں کرتا۔ پھر اخلاقی امداد کے کارن اپنی فلم میکنگ کا پروگرام سمے پر پورا کرنا ہمارے لیے بھی ممکن ہو جائے گا۔ نتیجتاً پربھات کی آمدنی تو بڑھے گی ہی، آپ سب لوگوں کو بھی زیادہ کمیشن حاصل ہو گا۔ میری دلیل سبھی نے قبول کی۔ مکمل پروگرام کے جائزہ لینے کے لیے آئندہ سال بھی اسی طرح کی بیٹھک منعقد کرنا متفقہ طور پر طے کیا گیا۔

اس کانفرنس کے فیصلے کے مطابق ہمارے سبھی ڈسٹری بیوٹرز نے آئندہ سال میں اخلاقی امداد کی رقم پوری کر دی۔ لیکن اس کو پورا کے لیے انھوں نے ہر سنیما مالک سے اس کے گاؤں کے چھوٹے بڑے ہونے کے حساب سے، تھوڑی زیادہ ہی امدادی رقم لے کر ہماری فلمیں ریلیز کیں۔ یہ بات دوسری ہے کہ ہماری فلموں کی مقبولیت پوری طرح روشن ہونے کے کارن ریلیز کرنے والوں کو اس میں کوئی نقصان نہیں اٹھانا پڑا، لیکن دیگر پروڈیوسرز نے بھی ہماری دیکھادیکھی اسی طرح سے امدادی رقم مانگنا شروع کی۔ اس میں کچھ کو تو اچھی آمدنی ہوئی، لیکن زیادہ تر فلم ریلیز کرنے والوں کو گھاٹا اٹھانا پڑا۔ کئی ریلیز کرنے والوں نے اس بات کی شکایت مجھے پتر لکھ کر کی۔ وہ بیچارے ایک دم مایوس ہو گئے تھے۔

اگلے برس کی ڈسٹری بیوٹرز کانفرنس میں میں نے ایک تجویز رکھی: “میری رائے ہے کہ آپ لوگ ہماری فلم کے لیے ریلیز کرنے والوں سے جو امدادی رقم لیتے ہیں، اسے نہ لیں۔ آپ کو اس سے زیادہ رقم فیصدی میں ملتی ہے۔ ہماری فلم پر اس طرح امدادی رقم لینے کی شرط آپ لوگوں نے واپس لے لی، تو ریلیز کرنے والے دیگر ڈسٹری بیوٹرز سے بھی ہمت کر یہ کہہ سکیں گے کہ ‘پربھات’ جیسی جانی مانی کمپنی بھی ہم سے امدادی رقم نہیں لیتی، لہٰذا آپ کو بھی اسے نہیں مانگنا چاہیے۔ نتیجتاً انھیں ممکنہ گھاٹا نہیں ہو گا۔”

سبھی لوگ ایک دم چپ بیٹھے تھے میری تجویز کا کیا جواب دیں، کسی کو سمجھ میں شاید نہیں آ رہا تھا۔ وہ لوگ آپس میں کھل کر باتیں کر سکیں، اس لیے ہم سبھی حصہ دار کچھ دیر کے لیے بیٹھک سے باہر آ گئے۔ پھر ہم لوگ بیٹھک میں پہنچے تو بابوراؤ پینڈھارکر نے کہا، “آپ کے اس سجھاؤ پر اچھی طرح سے سوچ وچار کر کے ہم لوگ اپنا فیصلہ آپ کو کل بتائیں گے۔” دوسرے دن صبح دس بجے ہم لوگ پھر اکٹھے ہوئے۔ اتر پردیش، پنجاب اور کشمیر کے ڈسٹری بیوٹر دل سکھ پانچولی نے کہا، “آپ کا فیصلہ اگر ایسا ہے کہ ہم لوگ آپ کی فلموں پر ریلیز کرنے والوں سے گارنٹی نہ لیں، تو آپ بھی ہم سے اخلاقی امداد کے روپ میں پیشگی رقم لینا بند کریں۔ اس ذمہ داری سے آپ ہمیں آزاد کرتے ہیں، تو ہم بھی ریلیز کرنے والوں پر امدادی رقم کی شرط نہیں تھوپیں گے۔”

اب چپ رہنے کی باری میری تھی۔ ڈسٹری بیوٹرز نے مجھے ہی الجھن میں ڈالا تھا۔ سب کا دھیان میری طرف تھا۔ دیکھنا چاہتے تھے وہ کہ میں اپنے لفظ واپس لیتا ہوں یا نہیں۔ ریلیز کرنے والوں کی میرے پاس بھیجی گئی شکایت ایک دم صحیح تھی اور مناسب بھی۔ ان پر امدادی رقم جمع کرنے کا دباؤ ہٹا لیا، تو ڈسٹری بیوٹرز کی دی گئی ترپ چال کے مطابق ہمیں اپنی آئندہ فلموں کے لیے ضروری رقم کھڑی کرنے میں دقت آنے والی تھی۔ لیکن ریلیز کرنے والوں کا یہ جو استحصال ہو رہا تھا، اسے تو کسی بھی حالت میں روکنا ضروری ہو گیا تھا۔ کل اگر سارے سنیماگھر بند ہو جائیں، تو ہم لوگ اپنی فلموں کو کہاں ریلیز کر پائیں گے؟ ریلیز کرنے والا ختم ہو گیا، تو پوری فلم انڈسٹری دم توڑ دے گی۔ اپنی معاشی کٹھنائیوں کے لیے کم از کم امدادی رقم لینے کا یہ رواج مقامی شکل میں مقبول کر دیا، تو فلم انڈسٹری کی سرحدیں روز بہ روز سکڑتی جائیں گی۔ میں نے فیصلہ کر لیا: “میں آپ سب کو اخلاقی امدادی رقم کی ذمہ داری سے آزاد کرتا ہوں۔”

اس پر بنگال، بہار، آسام اور اڑیسہ کے ہمارے ڈسٹری بیوٹر کپور چند نے کہا، “یہ تو ٹھیک ہی ہے، لیکن آگے چل کر آپ کو فلم بنانےکے لیے پیسے کم پڑ جائیں، تو اس کے ذمہ دارہم نہیں ہوں گے۔”

“میں نہیں سوچتا کہ ویسی نوبت آئے گی۔ انسان کے بھلے مانس ہونے پر مجھے بھروسہ ہے۔ ساتھ ہی یہ اعتماد بھی ہے کہ امدادی رقم بھرنے سے راحت ملنے پر ریلیز کرنے والے ہماری فلم کے لیے پہلے جیسی ہی، حقیقت میں اس سے تھوڑی زیادہ ہی آمدنی ہو اس لیے اشتہار وغیرہ پر تھوڑا زیادہ خرچ خود کریں گے۔ آپ لوگ نئی فلموں کے کانٹریکٹ کرتے سمے ریلیز کرنے والوں سے درخواست کریں کہ ‘پربھات’ کی فلموں کو ریلیز کرتے سمے ان کی بے فکری کے نتیجے میں آمدنی کم ہو گئی، تو ہم لوگ امدادی رقم لینے کے رواج کو پھر پہلے جیسا چالو کریں گے۔”

اس کے بعد ایک سال بیت گیا۔ ڈسٹری بیوٹرز کی کانفرنس کے شروع میں ہی سبھی ڈسٹری بیوٹرز نے مجھے دل سے سراہا۔ کہنے لگے: “شانتارام بابو، مان گئے ہم آپ کو۔ بیتے برس آپ نے جو باہمت فیصلہ کیا اس کے لیے پھر آپ کو دلی مبارک باد۔ پچھلے سال ہماری اوسط آمدنی میں لگ بھگ بیس فی صد کی بڑھوتری ہوئی۔” میں نے حیرانی جتاتے ہوئے پوچھا، “لیکن یہ کیسے ممکن ہو سکا؟” ہمارے جنوبی صوبوں کے ڈسٹری بیوٹر جینتی لال ٹھاکُر نے جواب دیا، “کیسے ممکن ہو سکا، یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے؟ امدادی رقم کا رواج بند کرنے کے کارن ریلیز کرنے والے بہت ہی خوش ہو گئے۔ یہ رواج پھر چالو کرنے کی بات آپ کے من میں بھی نہ آئے، اس لیے انھوں نے ہر فلم کو اچھی طرح چلانے کی پوری کوشش کی۔ ہولڈ اوور فگر (یعنی فلم کی کم از کم ہفتہ وار آمدنی کا ہندسہ، جس کے نیچے آمدنی چلی جائے تو فلم ہٹا لی جاتی ہے) سے کم آمدنی ہونے لگی پھر بھی انھوں نے دو دو، تین تین ہفتے فلم کو زیادہ چلایا۔ اسی سب کے نتیجے میں آمدنی میں یہ بیس فیصد کی بڑھوتری ہو سکی ہے۔ واقعی میں آپ نہ صرف ڈائریکشن میں، بلکہ بزنس میں بھی ماہر ہیں۔”

“میں؟ اور کاروبار میں بھی ماہر!” اتنا کہہ کر میں چُپ ہو گیا۔ بندھی مٹھی لاکھ کی!

اس کے بعد میرے من میں وچار آیا کہ کیوں نہ ہماری ‘پربھات’ کی اپنی ایک ڈسٹریبیوشن آرگنائزیشن ہو؟ صوبے صوبے میں اس کی شاخیں ہوں۔ وہ ہماری فلموں کے ساتھ ہی دیگر اچھے پروڈیوسرز کی فلمیں بھی ڈسٹری بیوشن کے لیے قبول کرے۔ اس طرح ایک مکمل بھارتی ڈسٹری بیوشن آرگنائزیشن بنانے کا اہم خیال میرے من میں شکل لینے لگا۔ لیکن اپنے کام کے گورکھ دھندھے سے سمے نکال کر یہ نیا کام بھی دیکھوں، اس کے لیے میرے پاس سمے نہیں تھا۔ میں کسی ماہر ڈسٹری بیوٹر کے بارے میں سوچنے لگا۔ بمبئی کے ہمارے ڈسٹری بیوٹر بابوراؤ پینڈھارکر کا نام سامنے آیا۔ لیکن سوال یہ تھا کہ کیا بابوراؤ ان کی اپنی ‘فیمس پکچرز’ آرگنائزیشن بند کر ‘اکھل بھارتی ڈسٹرییوسن آرگنائزیشن’ کا کاروبار سنبھالنے کو راضی ہو جائیں گے؟ اس میں انھیں کیا فائدہ ہو گا؟ اس پر وچار آیا کہ کیوں نہ انھیں بِنا کوئی رقم لیے ‘پربھات’ کا پانچواں حصہ دار بنا لیا جائے اور ان کی ‘فیمس پکچرز’ کو پربھات کی نیشنل ڈسٹری بیوشن آرگنائزیشن کے روپ میں بدل دیا جائے۔ شاید بابوراؤ اس کے لیے ضرور ہی تیار ہو جائیں گے۔ ‘پربھات’ کی بالکل پہلی فلم سے وہ ہمارے ساتھ جو تھے! لیکن بابوراؤ پینڈھارکر کے بارے میں داملے، فتےلال کی رائے خاص اچھی نہیں تھی۔ ان کی رائے تھی کہ بابوراؤ مہا حکمتی آدمی ہے، اپنا فائدہ ہر حالت میں ممکن کر کے ہی رہے گا! لہٰذا انھوں نے میرے سجھاؤ کی مخالفت کی۔ لیکن ان دونوں کو میں نے یقین دلایا کہ میں خود بابوراؤ پینڈھارکر کی ہرحرکت پر کڑی نظر رکھوں گا۔ ‘پربھات’ کو گڑھے میں ڈالنے والا کوئی کام وہ نہیں کریں گے، اس کی احتیاط برتوں گا۔ تب جا کر کہیں میرے حصے داروں نے میرا سجھاؤ مان لیا۔ بابوراؤ پینڈھارکر کیشوراؤ دھایبر کی جگہ پر پربھات کے پانچویں حصےدار بن کر آ گئے۔

اس کے کچھ دن بعد کمپنی میں ایک الگ ہی بات چل پڑی۔ کہا جانے لگا کہ ‘گوپال کرشن’، ‘تُکارام’ فلم کے مقابلے میں ‘آدمی’ اور ‘مانوس’ آمدنی کے خیال سے کم پُراثر ثابت ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میرے علاوہ کمپنی کے دیگر مالکوں نے ایک وچار رکھنا شروع کر دیا کہ “اس طرح کم آمدنی دینے والی فلمیں ‘پربھات’ جیسی کمپنی آخر بنائے ہی کس لیے؟ فلم میکنگ بھی آخر اپنے آپ میں ایک دھندا ہے۔ لہٰذا دھندے کا تقاضا تو یہی ہونا چاہیے کہ ایسی ہی فلمیں بنائی جائیں جن سے زیادہ آمدنی ہو”۔ اپنی بنائی ‘گوپال کرشن’ اور’تکارام’ کی آمدنی کے ہندسوں کا مقابلہ’ آدمی’ اور ‘دنیا نہ مانے’ کی آمدنی سے کرتے رہنا، داملے، فتے لال جی کا ایک نٹھلا شوق بن گیا۔ ان کے پاس نٹھلےپن کے لیے سمے بھی کافی رہتا تھا! لیکن ان دونوں نے اس بات کو آرام سے بھُلا دیا تھا کہ ‘گوپال کرشن’ اور ‘تکارام’ دونوں فلموں کے بننے میں میرا کردار کتنا رہا تھا!

میں نے جان بوجھ کر ان کے اس وچار کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا اور داملے جی، فتے لال جی کے لیے ایک نئی فلم کی تیاریاں شروع کر دیں۔ سکرین پلے کے لیے ایک سیدھا سادہ، سب لوگوں کو راس آنے والا موضوع چُنا: ‘سنت گیانیشور’! ان یتیم بھائیوں کی کہانی سب کے دلوں کو چُھو جانے والی، گہری بیٹھ جانے والی کہانی تھی۔ میں نے ‘تکارام’ اور ‘گوپال کرشن’ کے سکرین پلے تیار کرنے والے لیکھک شِورام واشیکر کو اس فلم کی کہانی لکھنے کو کہہ دیا۔ میں نے خود بھی گیانیشور کی آپ بیتی پڑھ ڈالی۔ گیانیشوری کا بھی تھوڑا بہت مطالعہ کیا۔ سکرین پلے کے موضوع کو لے کر وشیکرن جی میرے ساتھ چرچا کرنے لگے۔ بیچ بیچ میں داملے جی فتےلال جی بھی اس میں حصہ لیتے اور اپنی رائے ظاہر کرتے تھے۔ سکرین پلے تیار ہو گیا۔ فلم کی شوٹنگ کا انتظام بھی ہو گیا۔ ہم سب لوگ نئے جوش خروش سے کام میں جٹ گئے۔ کہنا نہ ہوگا کہ اس فلم کی ڈائریکشن کی ذمہ داری داملے جی اور فتے لال جی پر تھی۔

‘سنت گیانیشور’ کے لیے سنگیت دینے کا کام کیشوراؤ بھولے کو سونپا تھا۔ ‘پربھات’ میں شروع میں بطور ایکٹر کام کر چکے وسنت دیسائی کو میوزک ڈیپارٹمنٹ میں ان کے زیر کام کرنے کے لیے کہا۔ اسے ہدایات دی تھیں کہ جو بھی کام کرنا پڑے، کرے اور خالی سمے میں مختلف آلات کو بجانا بھی سیکھ لے۔ اسے جب چاہے آلات بجانے کی ریہرسل کرنے کی چُھوٹ دے دی تھی۔ ‘سنت گیانیشور’ میں ایک گاڑی بان کا گانا اس نے گایا اور گاڑی بان کا کام بھی اسی نے کیا۔ اس فلم کے بیک گراونڈ میوزک کا کام جاری تھا، تب وسنت دیسائی خود آگے آ کر بھولے کی مدد کرتا تھا، لیکن اس بھلے آدمی نے تعریف میں کبھی ایک لفظ بھی نہیں کہا، نہ ہی اس کا حوصلہ بڑھایا اور نہ ہی کبھی ایسا کام کیا جس سے وسنت دیسائی کی کوشش ہمارے بھی دھیان میں لائی جاتی۔ نتیجتاً ویسنت دیسائی کئی بار ناامید ہو جاتا تھا۔ یہ بات میری نظر سے بچ نہ سکی۔ میں نے اسے سمجھایا بجھایا، “دیکھو وسنت، تم تو اسی میں اطمینان مانو کہ تمھیں آخر کام کرنے کا موقع تو مل رہا ہے۔ خوب ڈٹ کر کام کرو، محنت کرو، مطالعہ کرو، میرا پورا دھیان تمھاری طرف ہے۔” دیسائی ویسے ہی بہت محنتی تھا۔ اسے میری باتوں سے جوش ملا اور وہ اور بھی زیادہ جوش سے من لگا کر کام کرنے لگا۔

اس بیچ ‘سنت گیانیشور’ کی شوٹنگ کے سمے داملے جی اور فتے لال جی میں ڈائریکشن کے کئی پہلوؤں پر ٹکراؤ ہونے لگے۔ کئی بار فتے لال جی کی ہدایات اعلیٰ فنکارانہ ہوتی تھیں، لیکن داملے جی اور ان کا معاون راجہ نے نے ان کے اچھے اچھے سجھاؤوں کو بھی نامنظور کر دیتے۔ پھر فتے لال جی اپنا خیال مجھے آ کر بتاتے اور پھر میں انھیں جا کر داملے جی کے گلے اتارتا تھا۔

‘تکارام’ اور ‘گوپال کرشن’ کی ڈائریکشن کرنے کے بعد بھی ان دونوں نے فلم میں کس شاٹ کی لمبائی کتنی ہو اور اس کے لیے کتنی فلم خرچ کی جانی چاہیے، اس کا کوئی مطالعہ نہیں کیا تھا۔ ایڈیٹنگ شروع کی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جو سین فلم میں مشکل سے پچاس ہی فیٹ رہنے والا ہے، اس کی شوٹنگ کے لیے ہزار دو ہزار فیٹ فلم ضائع کر دی گئی ہے۔ ایک ایک سین کی اتنی لمبی شوٹنگ حیرانی کی بات تھی۔ اس معاملے میں زیادہ احتیاط برتی جائے، اس احساس سے میں نے ان دونوں کو ایڈیٹنگ روم میں بلوا لیا اور براہ راست شوٹنگ کے نمونے دکھا کر بات کو سمجھاتے ہوئے کہا، “دیکھیے، ان ہزاروں فیٹ فلموں میں مناسب شاٹ کھوج نکالتے نکالتے میری تو ناک میں دم آ گیا! ‘تکارام’، ‘گوپال کرشن’ کی ڈائریکشن کر چکنے کے بعد بھی شوٹنگ کا ایک موٹا اندازہ بھی آپ نہیں لگا پائے، اس کی واقعی مجھے بہت ہی حیرانی ہوتی ہے!”

لیکن میں نے دیکھا کہ ان دونوں کو میری یہ بات پسند نہیں آئی۔ ایڈیٹنگ کرتے سمے فلم کے سکرین پلے میں رہ گئی ایک خرابی میرے دھیان میں آ گئی: گیانیشور جب بچہ تھا، ایک ننھی سی بچی اس سے محبت کرتی ہے۔ گیانیشور برہمچاری! لہٰذا اس بچی کا وہ کردار ایک دم اَدھر میں لٹکتا سا معلوم ہوتا تھا۔ اس اچھی بچی کے ناسمجھ پیار کو کہیں نہ کہیں یقین دلانا نہایت ضروری تھا۔ میں نے ایڈیٹنگ روک دی۔

سوچتے سوچتے ایک بہت ہی کومل اور اعلیٰ خیال من میں آیا۔ میں داملے جی، فتے لال جی کو ڈھونڈنے شوٹنگ ڈیپارٹمنٹ میں گیا۔ وہاں وہ دونوں پنت دھرم ادھکاری ساتھ نہ جانے کیا باتیں کر رہے تھے، مجھے آیا دیکھ کر چپ ہو گئے۔ میں نے انھیں ایڈیٹنگ کرتے سمے پیدا ہوا خدشہ بتایا اور کیا کرنا چاہیئے، بڑی اپنائیت سے میں بتانے لگا۔

ان دونوں نے میری بات سکون سے سن لی۔ اس کے بعد میرے اس نئے خیال پر داملے جی نے گھڑا بھر پانی ڈال دیا۔ انھوں نے کہا، “دیکھیے، سکرین پلے کے نقطۂ نظر سے مجھے نہیں لگتا کہ آپ جس بےکار کے سین کا ذکر کیے جا رہے ہیں، اس کی کوئی ضرورت ہے!”
بات کا بتنگڑ نہ ہو، اس لیے میں نے بھی ان کی ‘ہاں’ میں ‘ہاں’ ملا دی۔

اس دن ایڈیٹنگ وہیں ادھوری چھوڑ کر میں پہلی منزل پر اپنے آفس کے باہر چھجے پر کہنیاں ٹیکے کھڑا آج کے واقعے پر غور کر رہا تھا۔ شام ہو رہی تھی۔ تبھی نیچے سے کسی کے بولنے کی آواز سنائی دی، “آج شانتارام بابو کو کیسی کھری کھری سنا دی!”

میں نے جھک کر دیکھا۔ داملے جی، فتے لال جی گپیں لڑاتے لڑاتے کمپنی کے احاطے میں بنے جلترن تالاب کی طرف چہل قدمی کرنےکے لیے جا رہے تھے۔ دونوں اپنی ہی باتوں میں ڈوبے ہونے کے کارن اوپر کی طرف ان کا قطعی دھیان نہیں تھا۔ داملےجی کہہ رہے تھے، “کیا ہی لاجواب کر دیا میں نے انھیں!” فتے لال جی بولے “ٹھیک ہی تو ہے! ورنہ اپنے ضدی سوبھاؤ کے کارن وہ اس سین کو اپنی خواہش کے مطابق پھر فلمانے پر اُتر ہی آتے!”

“اور بعد میں اسے بھی قینچی لگانی ہی پڑتی۔ تب کیا فلم ضائع نہ ہوتی؟ شانتارام بابو کا سوچنے کا ڈھنگ ہی کچھ ایسا ہے کہ وہ جو کریں گے یا کہیں گے وہ ایک دم درست اور صحیح اور باقی لوگ ہمیشہ غلط! عقل بٹتے سمے وہ اکیلے ہی جیسے بھگوان کے سامنے حاضر تھے!”

باتیں کرتے کرتے وہ دونوں آگے نکل گئے لیکن مجھے ان کی باتیں سن کر ایسا لگا جیسے کسی نے ابلتا ہوا ٹنکچر میرے کانوں میں ڈال دیا ہے۔ میں نے جو سین انھیں سمجھایا تھا اس کی کلپنا کا صحیح صحیح اندازہ دونوں نہیں کر پائے تھے۔ شاید ان کی ویسی اوقات بھی نہیں تھی۔ لیکن ان کے من میں میرے لیے جو زہریلے وچار تھے، انھیں سن کر میرا ماتھا بےحد ٹھنکا۔ سُن سا میں وہیں پتہ نہیں کب تک کھڑا رہا۔

وِمل نے مجھے ہلا کر اس غنودگی سے جگایا۔ چاروں طرف گھنا اندھیرا چھا چکا تھا۔ وِمل میرے پاس کھڑی تھی۔ آفس میں بتی جل رہی تھی۔ وِمل نے کہا، “پتہ ہے، آپ سوچ میں ڈوبے رہنے پر کتنے بھلے لگتے ہیں؟ لیکن دو نوالے بھوجن کرنے کے بعد سوچنے بیٹھیں گے نا، تو اور بھی اچھے دِکھیں گے!” ومل اس طرح مجھے کبھی چھیڑا نہیں کرتی تھی۔ لیکن اس لمحے تو اس کی ٹھٹھولی سن کر میری طبیعت کافی ہلکی ہو گئی۔ من کا غبار اتر گیا۔ ہم دونوں گھر کی طرف چل پڑے۔

دوسرے دن سویرے میں کمپنی میں ایک نیا فیصلہ کر کے ہی آیا۔ میرا سُجھایا گیا وہ سین فلم کی نظر سے فضول نہیں بلکہ نہایت ضروری ہے، یہ بات میں انھیں بتا دینا چاہتا تھا۔ میں ان دونوں کے کمرے میں گیا۔ وہ سین فلما کر فلم میں شامل کرنے کی درخواست کرنے لگا۔ تھوڑی سی ضد بھی کی۔ آخرکار مجبور ہو کر ہی وہ راضی ہو گئے۔ لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ، “آپ جس سین کی بات کر رہے ہیں اسے کیسے فلمایا جائے، ہماری تو سمجھ میں قطعی نہیں آیا ہے۔ لہٰذا اس کی شوٹنگ بھی آپ ہی کریں۔”

ایکٹنگ ڈیپارٹمنٹ میں حال ہی کام پر آئی مُتی گپتے کو میں نے فوراً ہی اس نوجوان لڑکی کا کام کرنے کے لیے تیار ہو آنے کے لیے کہا۔ ہمیشہ کے برعکس اس بار تو اس سین کا سنیریو بھی میں تیار کر کے نہیں لایا تھا۔ بس من میں جو سوچ اور خیالات آئے تھے انھیں کے مطابق میں دھڑلے کے ساتھ لگاتار شاٹس لیتا گیا اور وہ سین ایک ہی دن میں فلما کر پورا کر لیا۔

‘سنت گیانیشور’ تیار ہو گئی۔ بمبئی کے سینٹرل سنیما میں اسے ریلیزکیا گیا۔ فلم میں اچھا خاصا رنگ بھرتا جا رہا تھا۔ میں نے ضد کر کے فلم میں جو سین شامل کیا تھا، وہ پردے پر دکھائی دینے لگا۔ داملے جی، فتے لال جی میں کچھ کھسرپھسر شروع ہو گئی۔ لیکن میرا دھیان ان کی باتوں پر قطعی نہیں تھا۔ ناظرین کے اس سین کے بارے کیا تاثرات ہوتے ہیں، یہ جاننے کے لیے میں بےحد بےچین ہو اٹھا تھا۔

بچے گیانیشور سے دل ہی دل میں محبت کرنے والی وہ بچی اب جوان ہو گئی ہے۔ ندی کے گھاٹ پر ایک مندر کی اوٹ سے ندی میں نہا رہے پھرتیلے نوجوان گیانیشور کو وہ بڑی جذباتی عقیدت سے دیکھ رہی ہے۔۔۔ جوانی کی سرزمین میں ابھی ابھی قدم رکھ چکی وہ خوبصورت لڑکی کچھ زیادہ جھک کر گیانیشور کو نہارنے لگی ہے۔ اس کے من کی بےصبری اس کی نظر سے صاف ظاہر ہو رہی ہے۔ گیانیشور کا غسل ہو گیا ہے۔ وہ بھیگی کفنی سے ہی گھاٹ کی سیڑھیاں چڑھ جاتا ہے، مندر کی طرف چلا جاتا ہے۔ گھاٹ کی سیڑھیوں پر اس کے بھیگے نقشِ پا ابھر آتے ہیں۔ وہ لڑکی مندر کی اوٹ سے باہر آتی ہے۔ جلدی جلدی سامنے آ کر ان بھیگے نقشِ پا پر پھول چڑھاتی ہے اور بھکتی کے جذبے سے انھیں پرنام کرتی ہے۔

ناظرین نے اس پر تالیوں کی گڑگڑاہٹ کی۔ پاس ہی بیٹھے داملے جی، فتے لال جی کی طرف میں نے فاتحانہ انداز سے دیکھا۔ بےکار ہی لگا کہ شاید وہ بھی داد دیں گے۔ لیکن انھوں نے ویسا کچھ بھی نہیں کیا۔ لاتعلق انداز سے وہ فلم دیکھتے رہے!

پہلا شو ختم ہوا۔ کافی ناظرین اور ناقدین نے داملے جی فتے، لال جی کو دلی مبارکباد دی۔ دو ایک نقاد اس بھیڑ میں بھی مجھے کھوج کر ایک طرف لے گئے اور صاف صاف پوچھ ہی بیٹھے، “اس نوجوان لڑکی کا گیانیشور کے لیے بھکتی کے احساس سے بھری محبت اتنے علامتی انداز کے ساتھ فلمانے کرنے کا تخیل آپ کا ہی تو ہے نا؟ اس سین کو اتنی نزاکت کے ساتھ پیش کرنے کی مہارت آپ کے سوائے اور کون دکھا سکتا ہے!” من ہی من میں نے ان ناقدین کی تیز نظر کی داد دی۔ ان کی چالاکی کا لوہا مان لیا۔ لیکن اوپر سے ویسا کچھ بھی نہ جتاتے ہوئے فوراً کہا، “یہ تخیل شِورام واشیکر جی کا ہی ہے اور اس سین کو داملے، فتے لال جی نے فلمایا ہے۔” ان دونوں ناقدین نے سطحی طور پر میری بات مان لی اور ایک اچھی خوبیوں سے بھرپور فلم کے لیے مجھے بھی مبارکباد دے کر وہ چلے گئے۔

یہ مکالمہ چل رہا تھا تب پتہ نہیں کب واشیکر جی میرے پیچھے آ کر کھڑے ہو گئے، مجھے تو پتہ ہی نہ چلا۔ لیکن انھوں نے ہماری باتیں سن لی تھیں۔ جذباتی ہو کر میرا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں کس کر تھام کر وہ خاموش کھڑے رہے۔ ان کی آنکھوں میں جذباتیت چھلکنے لگی تھی۔ میں نے حیرانی سے پوچھا، “واشیکر جی، کیا بات ہے؟” رندھی آواز میں انہوں نے کہا، “فلم میں بھیگے نقش پا پر پھول چڑھانے والی اس لڑکی کا ایک خاموش سین— ویسا ہی اِسے بھی ایک اور خاموش سین جانیے!”

‘سنت گیانیشور’ کی ریلیز کے بعد پُونا واپس آنے پر ایک لیکھک وشرام بیڑیکر مجھ سے ملنے کے لیے تشریف لائے، ولایت جا کر وہ فلمنگ کی تربیت لے کر حال ہی وطن لوٹے تھے۔ ان کا لکھا ایک ناول ‘رنانگن’ میں اس سے پہلے ہی پڑھ چکا تھا اور تبھی سے ان کے ٹیلنٹ کا قائل ہو گیا تھا۔

اُن دنوں مہاتما گاندھی کی قیادت میں پورے بھارت میں آزادی کی جدوجہد کافی شدت کے ساتھ چل رہی تھی۔ انگریزی حکومت نے ‘پھوٹ ڈالو اور راج کرو’ والی کامیاب سیاست کے مطابق ہندوؤں اور مسلمانوں میں مذہبی منافرت ابھار کر بھارت پر اپنی طاقت کا شکنجہ کس لیا تھا۔ سبھی اخباروں میں ہندو مسلمانوں کے دنگوں کی خبریں سرخیوں کے ساتھ چھپتی تھیں۔ ان خبروں کو پڑھ کر میں بہت بےچین ہو اٹھتا تھا۔ سارے ملک میں آتش فشاں کی طرح سلگ رہے اس سوال پر آئندہ فلم بنانے کی ہمت کرنا میں نے طے کیا۔ وشرام بیڑیکر جیسا نئی سوچ کا باصلاحیت، ہنرمند لیکھک میرے خیالات کو لفظ دینے کے لیے تیار تھا۔

اس فلم کے لیے مجھے ایک نئی ہیروئین کی تلاش تھی۔ شانتا آپٹے ‘پربھات’ چھوڑ کر کبھی کی جا چکی تھی۔ ‘آدمی’ میں ہیروئن کا کام کر چکی شانتا ہُبلیکر اب کچھ اَدھیڑ سی ہو چلی تھی۔ ‘پربھات’ چھوڑ کر جانے کی اس کی منشا میرے کان پر آئی تھی۔ چونکہ آئندہ فلم کے لیے اس کا خاص استعمال ہونے والا نہیں تھا، ہم نے اسے کانٹریکٹ سے آزاد کر دیا۔

ایک دن سویرے ہی ممبئی کی نشنل گراموفون کمپنی کے ساؤنڈ ریکارڈنگ ہیڈ بابوراؤ مالپیکر ایک اچھی خوبصورت نوجوان لڑکی کو میرے آفس میں لے آئے اور اسے سیدھے میرے سامنے کھڑا کیا۔ میں نے اسے کیمرے کی نظر سے غور سے دیکھا۔ اس کا ناک نقشہ، ہونٹ، دیکھنے کی ادا، ٹھوڑی، بہت سڈول تو نہیں تھے، لیکن اس کی موٹی موٹی، کجراری، کچھ کچھ کٹاری سی آنکھیں بہت ہی متجسس، چمک دار اور نہایت پر کشش تھیں۔ نین بڑے چنچل تھے۔ میں نے اس سے اس کا نام پوچھا۔ اس نے کچھ جھجک کر بتایا، “ج۔۔۔ جےشری کامُلکر”۔ اس کی آواز مدھر تھی۔ سہج بھاؤ سے میں نے پوچھا کہ گانا وانا جانتی ہو؟ جواب بابوراؤ مالپیکر نے دیا، “اسے کلاسیکی موسیقی کی خاص جانکاری نہیں ہے، لیکن لائٹ میوزک، سینٹیمنٹل اور فلمی گیت اچھی طرح گا لیتی ہے۔ اس نے اس سے پہلے جن فلموں میں کام کیا، ان میں اپنے گیت خود گائے ہیں۔” میں نے ماسٹر کرشن راؤ کو بلا کر اس کا گانا سننے کے لیے کہا۔ سن کر انھوں نے اس کی آواز کے بارے میں اپنی پسند ظاہر کی۔ میں نے مینیجر کو بلوا کر اسے تین سال کے لیے کانٹریکٹ دینے کو کہا۔

دوسرے دن ‘پربھات’ کے منیجر جےشری کے کانٹریکٹ کا کچا چٹھا لےکر میرے پاس آئے۔ میں اسے پڑھ رہا تھا تو بولے، “انا، یہ جےشری کہتے ہیں کہ منحوس ہے۔”
“منحوس؟ کیا مطلب؟”

“اس نے جس کسی فلم کمپنی میں کام کیا ہے، وہ بند ہو گئی۔ اس کا دِوالا پٹ گیا۔ ساؤنڈ سٹوڈیو، کیشوراؤ دھایبر کی کمپنی، سرسوتی سنےٹون، کتنے نام گناؤں؟ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ یہ سبھی فلم کمپنیاں بند ہو چکی ہیں!”

”دیکھیے، منحوس، جیوتش، ان سب باتوں کو میں قطعی نہیں مانتا۔ فلم خراب بناؤ تو کمپنی ضرور بند ہو گی۔ اس میں جےشری کا کیا قصور ہے؟ ‘پربھات’ ایسی منحوس وغیرہ بری باتوں کو پچا کر آگے ہی بڑھتی جائے گی! جائیے، آج ہی اس کانٹریکٹ کو پکا کیجیے اور اس پر جےشری کے دستخط کروا لیجیے!”

کمپنی کے رولز کے مطابق جےشری ہر دن سویرے نو بجے کام پر آ جاتی تھی۔ اپنی مدھر اور اچھی اچھی باتوں کے کارن وہ بہت ہی تھوڑے سمے میں سب کے ساتھ ہِل مل گئی۔ چھوٹے بڑے سب کو اس نے اپنا بنا لیا۔

بیڑیکرجی نے کہانی کا موٹا خاکہ بنا لیا۔ نئی فلم کے لیے میرا سُجھایا گیا موضوع ویسے کسی بھی لیکھک کے لیے ذرا مشکل ہی تھا۔ پھر انگریزوں کے سنسر کی قینچی کا بھی ڈر تھا، فلم میں دو بنیادی کردار، دونوں بوڑھے اور پڑوسی متر۔ ایک ہندو دوسرا مسلمان۔ انگریز حاکموں کے خیالات کی نمائندگی کرنے والا ایک ولن بھی بنایا۔ یہ سرمایہ دار ہوتا ہے، اپنے فائدے کے لیے وہ ندی پر ایک باندھ بنوانے کا پروگرام بناتا ہے۔ باندھ کے کارن کافی غریب کسانوں کی زمین پانی میں ڈوبنے والی ہوتی ہے۔ اس سرمایہ دار کو اس کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ وہ ان سب کی زمینیں خرید لینے کی ٹھان لیتا ہے۔ پہلے تو کوئی زمین بیچنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ پھر انگریزوں کی Distinction policy کا سہارا لے کر وہ سرمایہ دار گاؤں والوں میں پھوٹ ڈالتا ہے، اختلافات پیدا کرتا ہے اور اپنا الو سیدھا کر لیتا ہے۔ اسی چکر میں ان دو بوڑھے متروں میں بھی اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں اور دونوں کے خاندان دھیرے دھیرے تنہا سا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ایک دوسرے سے دور ہونے لگتے ہیں۔

— موٹے طور پر کہانی کا فارمولا یہی رکھنے کا فیصلہ کیا۔ سماجیت اور سیاست کا توازن برابر سنبھالنا تار پر کسرت کرنے کے جیسا تھا، لیکن ویسا کرنا ضروری بھی تھا۔ سنسر کی تیز نظر سے فلم کو پاس جو کرانا تھا!

دو بوڑھوں کے کرداروں پر مبنی یہ کہانی لوگوں کو بےجان اور روکھی معلوم ہوتی، لہٰذا لوگوں کی دلچسپی کے لیے ایک محبت کرنے والا نوجوان جوڑا بھی سکرین پلے میں شامل کیا۔ دو بنیادی بوڑھوں میں سے ایک ہندو بوڑھے کا نوجوان لڑکے اور اس سرمایہ دار کی لڑکی کے کچھ لَو سین کا فلمانا اس فلم میں جان بوجھ کر شامل کیا۔ حقیقت میں یہ لَو سین اس صاف ستھری کہانی میں تھگلی لگانے کے برابر ہی تھے۔ میں نے اپنے آدرشی اور فنکارانہ من کو سمجھایا اور فلم میں ان کرداروں اور منظروں کا وجود مجبوراً قبول کیا۔ اس فیصلے کے پیچھے صرف یہی احساس تھا کہ ہماری آدرشی فلم زیادہ سے زیادہ لوگ دیکھیں۔ لیکن جب جب میں اس فلم کو دیکھتا، ہر بار جی کرتا کہ ان سارے لَو سینز کو کاٹ کر الگ کر دوں۔ نئی فلم کا نام ہندی میں ‘پڑوسی’ اور مراٹھی میں ‘شیجاری’ رکھا۔

میں نہیں چاہتا تھا کہ اس فلم کے کارن ہندو یا مسلمان کسی کے من کو ٹھیس لگے اور ان میں بےکار ہی پرائےپن کا احساس پیدا ہو۔ لہٰذا میں نے کافی سوچ وچار کے بعد ایک فیصلہ کیا ‘پڑوسی’ میں بوڑھے مسلمان متر کا کردار گجانن جاگیردار نامی ہندو اداکار اور ہندو متر کا کردار مظہر خان نامی مسلمان اداکار کرے۔ مراٹھی ورژن میں بوڑھے ہندو متر کی اداکاری کیشوراؤ داتے کرے۔ مکمل ریہرسلز شروع ہو گئیں۔ گجانن جاگیردار اور مظہر خان جیسے ماہر اداکار بھی میری بتائی اداکاری کی باریکیوں کو خوب من لگا کر دیکھتے اور پورا مطامعہ کر ان کو ٹھیک ٹھیک اپنی اداکاری میں اتارتے۔

وہ گرمیوں کے دن تھے۔ کمپنی کی ایک طرف ہم لوگوں نے جنگل کے سین کو فلمانے کے لیے کچھ پیڑ پودے منصوبے سے لگائے تھے۔ اس جھنکاڑ کے پار تیراکی کے لیے ایک تالاب بھی بنایا تھا۔ میں کئی بار گھر کے لوگوں کے ساتھ شام کو وہاں تیرنے جایا کرتا تھا۔ ایک اتوار کو جےشری کو پتہ چل گیا کہ میں تیرنے جانے والا ہوں۔ اس نے بھی تیرنے کے لیے آنے کی اجازت چاہی۔ دوسرے دن ہم سب لوگ تالاب میں کافی ڈوبتے ابھرتے رہے تھے۔ کمار اور سروج بھی تھوڑا تھوڑا تیرنا سیکھ چکے تھے۔ وِمل تو بس صرف چند ہاتھ پاؤں پانی میں آزما لیتی تھی۔ میں نے اس کے پیٹ کے نیچے سہارا دے کر اسے کچھ تیرنا سکھایا۔ مدھو کو پیٹھ پر بٹھا کر تالاب کا ایک چکر میں نے پورا کیا۔ جےشری اچھا تیر رہی تھی۔ کچھ دیر بعد وِمل اور بچوں کو کم گہرے پانی میں ہی ڈوبنے ابھرنے کی ہدایت دے کر میں تیزی کے ساتھ پانی کاٹتا ہوا جلترن کا مزہ لینے لگا۔ تالاب کے دو تین چکر لگا لیے پھر میں پانی کی سطح کے نیچے غوطے لگانے لگا۔ میرا ہاتھ کسی کی پنڈلی سے لگا! پانی کی سطح پر آ کر دیکھا وہ جےشری تھی! میرا دم بھر گیا تھا! میں وہیں پاس کا چھجا پکڑ کر سانس لینے کے لیے رکا۔ اسی سمے میری پیٹھ پر کسی کے ہاتھ کا احساس لگا! میں نے مڑ کر دیکھا، جےشری میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی!

میں نے پھرتی سے پانی کے اندر غوطہ لگایا اور سطح کے نیچے سے ہی تیرتا ہوا اس سے کافی دور نکل گیا۔ اس کے بعد کافی دیر تک میں اتنا تیرا کہ تھکنے تک تیرتا ہی رہا۔ تبھی وِمل کی آواز سنائی دی، “اجی، اب بس بھی کریے۔ کب تک ڈوبتے ابھرتے رہیں گے؟”

تھوڑی دیر بعد ہم سبھی گھر لوٹنے کے لیے نکلے۔ جےشری بھی ہمارے پیچھے پیچھے چلی آ رہی تھی۔ کمپنی کے پھاٹک کے پاس پہنچنے پر اس نے اپنا جلوہ مجھ پر گرا کر پوچھا، “اب میں جاؤں؟”
میں نے کچھ روکھے پن سے کہہ دیا، “جاؤ۔”

ہماری فلم کے مدراس میں ڈسٹری بیوٹر نے مدراس میں ‘پربھات’ نامی سنیماگھر بنوایا۔ اس کا افتتاح میرے ہاتھوں ہونا تھا۔ چار پانچ دن بعد میں اور وِمل اس تقریب کے لیے جانے کے لیے مدراس میل میں بیٹھے۔ اس یاترا کی خبر دینے کے لیے دو تین اخباروں کے انٹرویو لینے والے بھی ہمارے ساتھ تھے۔ حقیقت میں مَیں تھا لوگوں کی تفریح کرنے والا فلم ڈائریکٹر، کوئی سیاست دان تو نہیں تھا۔ پرچار، پبلسٹی، انٹرویوئرز کا اس طرح ساتھ ہونا، یہ باتیں مجھے ایک دم پاکھنڈ سی لگتی تھیں۔

پُونا سے میل چل پڑی۔ رات بیت گئی۔ جنوبی بھارت کی طرف میل تیزرفتار سے دوڑی جا رہی تھی۔ بیچ میں کسی سٹیشن پر گاڑی رکی۔ مدراس میل اس سٹیشن پر رکتی نہیں تھی۔ عوام کے خاص اصرار پر گاڑی وہاں روکی گئی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کی بھیڑ میرے ڈبے میں پھول مالائیں لے کر گھسی۔ انھوں نے ہار مجھے پہنا دیے۔ پھولوں کے گلدستے ہاتھوں میں تھما دیے۔ پل بھر تو میں بھونچکا رہ گیا۔ ماجرا آخر ہے کیا، کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ لگا کہ ہو نہ ہو، ان سب کو شاید کچھ غلط فہمی ہو گئی ہے۔ وہ مجھے کوئی لیڈر سمجھ بیٹھے ہیں۔ لیکن ان کی جنوبی بھاشا میں بھی میں اپنا نام اور اپنی فلموں کا ذکر صاف سن رہا تھا، سمجھ بھی پا رہا تھا۔

میرے ساتھ آئے انٹرویوئرز میں ایک تمل بھاشی تھا۔ میں نے اس سے جاننا چاہا کہ آخر یہ لوگ اس طرح میری اتنی آؤبھگت کس لیے کر رہے ہیں۔ اس نے کہا، “یہ لوگ آپ کے قائل ہیں، کہہ رہے ہیں کہ وی شانتارام صرف رنگین فلم ہی نہیں بناتے، سماجی حالات کے لیے بیدار رہ کر فلم بنانے والا آج یہی واحد ڈائریکٹر ہے، اور اسی لیے وہ ہمارے لیے پوجنے لائق ہے!”

“لیکن ان سب کو یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ میں اسی گاڑی سے جا رہا ہوں؟” میرے اس بچگانے سوال پر وہ انٹرویو لینے والا قہقہے لگا کر کہنے لگا، “لو، یہ تو آپ نے کمال کر دیا! اجی، آپ کے اس سفر کی خبر اخباروں میں جو چھپ چکی ہے، اسی لیے تو آپ کا یہ پُرجوش استقبال ہو رہا ہے۔” اس کے بعد مدراس پہنچنے تک ہر سٹیشن پر اسی طرح کی استقبالیہ تقریب کم وبیش ہوتی رہی۔

آخر گاڑی مدراس پہنچی۔ سٹیشن پر بھاری بھیڑ جمع ہو گئی تھی۔ جیسے ہی میں اپنے ڈبے کے دروازے پر آیا، لوگوں نے جوش سے ہاتھ ہلا کر میری جے جےکار کی۔ سٹیشن تو دکھائی ہی نہیں دے رہا تھا۔ جدھر دیکھو، آدمی ہی آدمی نظر آ رہے تھے۔ جیسے اتھاہ انسانی ساگر ہی وہاں ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ لگ بھگ ایک گھنٹے تک میرے گلے میں پھولوں کے ہار پڑتے رہے۔ انھیں نکال نکال کر میں پیچھے کھڑی وِمل کو دیتا گیا۔ وِمل ان مالاؤں کو ہم دونوں کے بیچ رکھتی گئی۔ بیچ ہی میں میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا، وِمل کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ تبھی اسی کی آواز سنائی دی، “اجی۔۔۔۔” شاید وہ پھول مالاؤں کے ڈھیر سے ڈھک گئی تھی۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر اسے اس ڈھیر کے آگے لانگھ کر آنے میں مدد کی۔ سٹیشن پر اتنے لوگ اکٹھے ہو گئے تھے کہ بھیڑ میں سے راہ نکالنا ٹیڑھی کھیر بن گیا تھا۔ آخر ہمارے ڈبے کے پیچھے کی طرف سے ایک پولیس دستہ آ پہنچا اور اس نے ہمیں دوسری طرف سے باہر جانے میں مدد کی۔ دوسرے راستے سے وہ ہمیں باہر لے گئے۔ باہر سٹیشن کے کورٹ یارڈ میں بھی بھاری بھیڑ جمع تھی۔ ان میں کچھ جوشیلے نوجوان مجھے میرے نام سے پکار پکار کر ہاتھ ہلا رہے تھے۔ میں ان سبھی محبت کرنے والوں کو کبھی ہاتھ جوڑ کر، کبھی ہاتھ ہلا کر سلام کر رہا تھا۔ راستے کی دونوں طرف لوگ صرف مجھے دیکھنے کے لیے کھڑے تھے۔ آخر مدراس میں ہمارے میزبان کے گھر کے پاس ہم لوگ آ پہنچے۔ گھر کے پاس بھی بھاری بھیڑجمع تھی۔ کچھ پیار کرنے تو گھر کی چھت پر چڑھ کر وہیں سے مجھے زور زور سے آواز دے رہے تھے۔ میں نے وِمل کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما اور پریم کی اس پھُنکارتی باڑھ سے راستہ نکالتے ہوئے جیسے تیسے میزبان کے گھر میں داخل ہو گیا۔

مدراس میں ہمارے میزبان تھے ہمارے ڈسٹری بیوٹر جینتی لال ٹھاکر۔ حال ہی میں وہ ایک جان لیوا حادثے سے بال بال بچ گئے تھے۔ ان کے گھر میں، پتہ نہیں کیسے، آگ لگ گئی تھی۔ اس میں وہ کافی جھلس گئے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی وہ بستر سے اٹھے اور مجھے گلے لگا لیا۔ جذباتی ہو کر بولے، “میں بچ گیا، زندہ رہ گیا! لیکن سٹیشن پر نہ آسکا۔ آپ کا گرینڈ استقبال دیکھنا میری قسمت میں نہیں تھا! لیکن سارا حال مجھے یہاں بستر پر پڑے پڑے معلوم ہو گیا!” اتنا کہہ کر وہ ادھیڑ عمر کا آدمی پاگل جیسا رونے لگا۔ میں نے انھیں سمجھایا بُجھایا اور تسلی دی۔ اس آدمی کا میرے لیے اور ہماری ‘پربھات’ کے لیے دلی پیار تھا!

مدراس کے اپنے دورے میں نے ‘پربھات تھئیٹر’ کا افتتاح کیا۔ وہاں کی سماجی اور فلم انڈسٹری سے جڑی انجمنوں کی طرف سے ہمارے احترام میں کئی استقبالیہ تقریریں منعقد کی گئیں۔ ان تقریبوں میں مختلف لوگوں سے میل ملاقاتیں ہوئیں، ان لوگوں میں تمل، تیلگو، ملیالم، کنڑ بھاشا بھاشی سبھی فنکار، پروڈیوسر اور ڈائریکٹر شامل تھے۔ ان میں سے کئیوں نے تو میرے چرن چھو کر مجھے پرنام کیا۔ ایسی حرکتیں میں پسند نہیں کرتا تھا۔ مخالفت کرتا، تو چرن چھونے والا بڑے ہی ادب سے کہتا، “آپ ہمارے گرو ہیں!”

“میں آپ کا گرو؟ وہ کیسے؟” میں پوچھتا۔

تو سامنےوالا جذباتی جواب دیتا، “آپ کی فلموں کو باربار دیکھ کر ہی تو ہم نے فلم کلا کی کئی باریکیاں اکٹھی کی ہیں۔ آپ کا چرن چھونا ہماری خوش قسمتی ہے۔ اس کارن ہمیں اپنے کام میں بڑی طاقت حاصل ہو گی!”

اپنے لیے اتنی عقیدت، اتنا احترام، اتنا پیار آج تک میں نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ ایسے موقع پر بولتا بھی، تو کیا؟ کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ میں جہاں بھی جاتا، وِمل بھی میرے ساتھ ہوتی۔ اس سماج کی عورتیں اس کا استقبال بھی پورے جذبے سے کرتیں۔ اپنے لیے اتنا پیار دیکھ کر وِمل من ہی من میاں مٹھو بن رہی تھی۔ فلم کلا کے شعبے میں وِمل کو کوئی خاص علم تو نہیں تھا، نہ ہی اس سے اس کی امید کرنا مناسب تھا۔ لیکن میرے سکھ میں ہی اپنا سکھ، اور میرے دکھ میں ہی اپنا بھی دکھ مانتی آئی سادی، بھولی وِمل پتی کے اتنے شاندار استقبال اور تعریف سے سیر ہو گئی تھی۔ وہ سیری اس کی آنکھوں میں صاف جھلکتی تھی۔ اس بات پر ہو رہا سکون اس نے میرے پاس کبھی ظاہر نہیں کیا۔ لیکن آج بھی مجھے اس بات کا دلی اطمینان ہے کہ میرے افتحار کی بڑھوتری میں وِمل بھی برابری کی حصےدار تھی۔

مدراس میں ہم لوگ دس دن رہے۔ وہ دس دن پتہ نہیں کب بیت گئے۔ بچوں کے لیے کچھ سِلے سِلائے کپڑے اور وِمل کے لیے جنوبی ڈھنگ کی کچھ ساڑھیاں خریدنے کے ارادے سے ہم کپڑے کی ایک دکان پر گئے۔ وِمل نے کچھ ساڑھیاں پسند کیں۔ میں نے اسے ایک اور ساڑھی خریدنے کے لیے کہا۔ اس نے سہج بھاؤ سے پوچھا، “کس کے لیے؟” میں نے زیادہ کچھ بھی نہ بتاتے ہوئے اتنا ہی کہا، “کمپنی میں وہ جےشری آئی ہے نا، اس کے لیے!”

وِمل جےشری کے لیے ساڑھی پسند کرنے لگی۔ وچار کرتے کرتے میرا ارادہ بدل گیا۔ ساڑھی مت خریدنا، کہنے کے لیے میں وِمل کی طرف مڑا ہی تھا کہ اس نے اپنی پسند کی ایک ساڑھی میرے سامنے رکھی۔ میں نے صرف سر ہلا دیا۔

مدراس سے پُونا واپس آنے کے لیے ہم نکلے۔ سٹیشن پر پھر بےحد بھیڑ امڈ پڑی تھی۔ سب سے وداع لیتے ہوئے میں اور وِمل ڈبے کے دروازے پر کھڑے تھے۔ گاڑی چلی۔ میرا من سحرزدہ ہو گیا تھا۔عوام کا یہ بےپناہ پیار دیکھ کر میری آنکھیں بھر آئیں۔ گاڑی نے رفتار پکڑی۔ ڈبے کے ایک کونے میں مَیں چپ چاپ بیٹھا رہا۔ کسی سے باتیں کرنے کو جی ہی نہیں کر رہا تھا۔ میرے چاہنے والوں نے جو عقیدت ظاہر کی، جو پیار مجھے دیا، یہ سب اسی لیے کہ میں نے سماجی فلمیں بنائی ہیں۔ لہٰذا آگے چل کر بھی ہر حالت میں مجھے سستی مقبولیت کے چکر میں نہ پڑتے ہوئے سماج میں ظاہر مسائل کو آواز دینے والے ایک سے ایک بڑھ کر درجے فلم بناتے رہنا چاہیے، یہی وچار میرے من میں دوبارہ پختہ ہوتا گیا۔ واپسی یاترا میں بھی وہی حال رہا، جو مدراس جاتے سمے رہا تھا۔ ہر سٹیشن پر ہار اور گلدستہ لیے لوگ دلی وداعی دیتے تھے۔ ایک بار تو آدھی رات کسی سٹیشن پر لوگوں نے ریل کی پٹریوں پر کھڑے ہو کر ہماری گاڑی کو زبردستی رکوا لیا۔ ہمارے ڈبے کی کھڑکیوں اور دروازے پر زور سے دستکیں دے دے کر ہمیں جگایا اور ہم سے وداع لی۔

مقبولیت کی اس بےمثال امرت ورشا (رس کی برسات) میں بھیگتے نہاتے ہم دونوں واپس پونا آ گئے۔

Categories
فکشن

دلت کہانی: جیون ساتھی (تحریر: پریم کپاڑیا، ہندی سے ترجمہ: فروا شفقت)

ہندی سے ترجمہ: فروا شفقت
جیون ساتھی
ـــــــ پریم کپاڑیا

“میں اپنے سمے اور سماج سے جڑا ہوں۔ دلت جیون کی تاریخی حالتوں اور آج کے دور میں ان کی تکلیفوں کے ساتھ کھڑے ہونا میری تخلیق کی ذمہ داری ہے۔”

زندگی بڑی عجیب پہیلی ہے۔ کبھی دکھ، کبھی سکھ۔۔۔۔ کبھی کبھی خاموشی۔۔۔ ایک عجیب طرح کی کشمکش۔ اس دن بھی تو ایسی ہی کشمکش تھی۔ مجھے یاد آ رہے ہیں کالج میں گزرے وہ دن جب میں انٹر میں پڑھتا تھا۔ اگست کا مہینہ تھا۔۔۔ بوندا باندی کے بیچ میں اسکول گیا تھا۔

تب گیٹ کے اندر لمبا چوڑا کھلا میدان تھا۔ طلباء طالبات اپنی اپنی کلاس کی جانب بڑھ رہے تھے۔ تبھی میں نے دبی زبان سے سناـ “ابے ! چمرؤ آ رہے ہیں۔ کیسے چشمہ لگائے ہیں جیسے نواب کی اولاد ہوں۔”

یہ لفظ میرے کانوں میں پگھلے ہوئے کانچ کے جیسے ہی گھس گئے۔ میں بےعزتی کی آگ سے جلنے لگا۔ شروع سے میرے اندر برداشت نہیں تھی۔ صرف ہتک کے خلاف، ورنہ مجھے چاہے کوئی چار گالیاں بھی دے جائے تو میں برداشت کر لیتا۔ میں نے آتے جاتے سنا تھا۔ وہ لڑکا آوارہ ہے اور ذات کا پنڈت ہے چار لڑکے اور بھی اس کے گروہ میں رہتے ہیں۔ میں نے ایک طرف گھوم کر دیکھا۔ وہ سب مجھے ہی گھور رہے تھے۔ چند لمحوں تک میں نے کچھ سوچا پھر واپس اپنی کلاس کی طرف بڑھتا چلا گیا۔

کلاس میں آ کر میں نے ایک عرضی لکھی اور پرنسپل کو دے آیا۔ پرنسپل صاحب نے مجھ سے کوئی سوال نہیں کیا۔ کلاس ختم ہوئی تو میرا دوست راوت میرے ساتھ چلتے چلتے بولا، “یار پریم۔ کیا بات ہے؟ آج تُو بہت سنجیدہ ہے۔”

”معاملہ ہی گمبھیر ہے۔”

“کیسے؟”
میں نے صبح کا واقعہ اسے بتا دیا۔ سن کر وہ بھی سنجیدہ ہو گیا۔ چند لمحے سوچنے کے بعد اس نے کہا، “یار اصل میں ہمارے دلت لڑکے ہی ڈرتے ہیں ورنہ یہ تیری طاقت کے آگے ایک بھی ٹک نہیں سکتے ہیں۔ یہ سب ریکھا کی چاہ میں پاگل ہیں۔”

“کیا؟” سن کر میں چونک اٹھا۔ ریکھا میری اچھی دوست تھی۔ میں من ہی من اسے چاہتا بھی تھا۔ ایک بار وہ بس میں چڑھتے سمے گر گئی تھی۔ میں بھی اسی بس میں چڑھنا چاہتا تھا۔ میں نے اس کی مدد کی۔ ہمدردی سے اسے اس کے گھر چھوڑنے گیا۔ تب وہ مجھے اپنا دوست ماننے لگی تھی۔

“مجھے یہ بھی شُبہ ہے کہ کہیں وہ ریکھا سے زیادتی نہ کریں۔”

“چُپ یار۔۔۔۔۔” میں تڑپ کر بولا۔ “جب تک پریم زندہ ہے ایسا کبھی بھی نہیں ہو سکتا ہے۔”

“ایسا ہی ہو۔۔۔۔ مگر تمہیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ سنا ہے راکیش چھٹا ہوا غنڈہ ہے۔ دو لڑکیوں کے ساتھ زیادتی بھی کر چکا ہے۔ اسکول کی انتظامیہ کمیٹی کے صدر کا بیٹا ہے۔”

“تو کیا ہوا؟ اگر اس نے ریکھا کو چھیڑا تو اس کا انجام خوفناک ہو گا۔” راوت چپ ہو گیا۔ ہم دونوں کینٹین کی جانب بڑھتے چلے گئے۔ آج ریکھا نہیں دکھائی دی تھی۔ اس کا سیکشن دوسرا تھا۔ ہمیں ایک کونے کی میز خالی مل گئی اور کئی میزوں پر لڑکے لڑکیاں اپنے اپنے ساتھی کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔

ابھی ہمیں بیٹھے ہوے کچھ ہی لمحے بیتے تھے، تبھی وہاں ریکھا دکھائی دی۔ آج تو وہ بلا کی حسین لگ رہی تھی۔ گلابی رنگ کے سوٹ میں وہ بےحد خوبصورت لگ رہی تھی۔ کئی لڑکیاں اسے گھورنے لگی تھیں اور لڑکے سیٹیاں بھی بجانے لگے تھے۔

” ہیلو۔۔۔۔۔۔۔ کیسے ہو پریم؟” وہ میرے سامنے والی کرسی پر بیٹھتے ہوے بولی۔

“ٹھیک ہوں۔ تم کہاں تھی آج؟

“ٹیچر نے نوٹ لکھوایا تھا۔ اس میں بِزی رہی۔” اس نے مسکراتے ہوے کہا۔ میں اس کے تیکھے ناک نقش۔۔۔۔ ہونٹ دیکھتا چلا گیا۔

کیا آرڈر دیا ہے؟”

“کچھ بھی نہیں۔ کیا لو گی؟”

“جو تم چاہو۔۔۔۔۔۔۔” ہم نے کافی اور ہیم برگر کا آرڈر دے دیا۔ کافی پیتے ہم لوگ پڑھائی کے موضوع پر باتیں کرتے رہے۔ اسی دوران راوت اپنے گھر چلا گیا۔

“آؤ۔ آج تمہیں اپنی ماں سے ملوا دوں۔ بہت دنوں سے کہہ رہی ہے۔ پریم سے ملوا دے۔”

“انھیں پتہ ہے تم میری دوست ہو؟”

“ہاں۔ میری ممی میری ماں ہی نہیں دوست بھی ہے۔ میں نے تمہارے بارے میں بتا رکھا ہے۔”

“یہ نہیں بتایا کہ میں دلت خاندان سے تعلق رکھتا ہوں؟”

“یہ بتانے کی کیا ضرورت ہے؟ میں تمہاری دوست ہوں۔ پھر دلت ہونا کوئی گناہ تو نہیں۔ تم خوبصورت ہو۔۔۔۔۔ پڑھے لکھے ہو۔۔۔۔۔ میں تمہیں پسند بھی۔۔۔۔”

“صرف پسند کرنے سے ہی آدمی کو جیون ساتھی نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کے لیے خاندان۔۔۔۔۔ اور سوسائٹی کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔”

“یہ سب سوچنا فضول ہے۔ آؤ چلیں۔”

میں چپ چاپ ریکھا کے ساتھ چل دیا تھا۔

“دیکھو بیٹے۔ ہمارا کاروبار ہے۔ بھگوان کی دیَا سے کوئی کمی نہیں ہے۔ چاہتی ہوں کہ میری اکلوتی بیٹی ہے وہ جہاں بھی رہے خوش رہے۔ پھر جب اس کی شادی ہو جائے گی تو داماد ہماری جائیداد کا مالک ہو گا۔ ویسے تمہارا کیا خیال ہے؟” ریکھا کی ماں نے مجھ سے سیدھا سوال کر دیا۔

میں سوچ میں پڑ گیا۔ کیا جواب دوں؟ یہی فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا۔

“بولو۔۔۔۔۔۔ تم ریکھا کو پسند نہیں کرتے تو اور بات ہے مگر ریکھا تمیں پسند کرتی ہے اس لیے میں نے تم سے پوچھا۔”

“دراصل میرے ماں باپ نہیں ہیں۔ اس لیے میں کچھ سوچ نہیں پا رہا ہوں۔ اگر شادی کی ہاں بھی کر دوں تو شادی کے لیے روپیہ کہاں سے آئے گا؟ میں اپنی پڑھائی بھی بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر ہی پوری کر پا رہا ہوں۔”

“اس کی فکر تم مت کرو۔”

“آپ کہتی ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔”

میرا جواب سن کر وہ مسکرانے لگیں۔ پھر ریکھا کو آواز دے کر بلایا۔ وہ شرماتی ہوئی کمرے میں آئی اور صوفے پر سمٹ کر بیٹھ گئی۔

“لو۔۔۔۔ یہ انگوٹھی پریم کو پہنا دے۔۔۔ یہ آج ہمارے یہاں سے کھانا کھا کر جائیں گے۔ تیری منگنی پکی۔” کہنے کے ساتھ ہی انہوں نے ایک ڈبیہ ریکھا کو تھما دی۔

ریکھا نے ڈبی کھولی۔ سونے کی قیمتی انگوٹھی چمچما رہی تھی میں نے نہ چاہتے ہوے بھی اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔ اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے انگوٹھی پہنا دی۔ میں نے اٹھ کر ماں جی کے پیر چھوئے۔ انہوں نے آشیرواد دیا۔ ریکھا اٹھ کر اس کمرے سے بھاگ گئی۔

“سگائی ہوتے ہی لڑکیاں کیسے شرمانے لگتی ہیں؟ پہلے قینچی جیسی زبان چلاتی تھی۔ “مَیں سن کر مسکراتا رہا۔ پھر ریکھا کی ماں میرے گھر اور خاندان کے بارے میں باتیں کرتی رہی۔ رات کا کھانا ہم نے ایک ساتھ کھایا۔ کھانا کھا کر جب میں جانے کو تیار ہوا تو ریکھا کی ماں نے مجھے روک لیا۔

“یہاں سو جاؤ۔ کل میں تمہیں اپنی فیکٹری لے چلوں گی۔ کچھ دنوں بعد تمہیں ہی تو کاروبار سنبھالنا ہے۔”
میں نہ نہیں کر سکا۔

اور اسی رات۔۔۔۔۔۔

میں سونے ہی جا رہا تھا تبھی دروازے پر ریکھا کو دیکھ کر حیرت ہوئی۔ یہ دوسری منزل تھی۔ جہاں میں سونے کے لیے لایا گیا تھا۔

“تو تم۔۔۔”

“ہاں۔ کیا میں تمہارے پاس آ بھی نہیں سکتی؟”

“نہیں۔ میں سوچ رہا ہوں، اگر ماں جی یا نوکر آ گیا تو کیا سوچے گا؟”

“کیا سوچے گا۔۔۔۔۔؟ تم میرے منگیتر ہو۔” کہتے ہوے ریکھا میرے ہی بستر پر آ کر بیٹھ گئی۔

“اے۔۔۔۔ کچھ بولو نا۔۔۔۔۔؟” اس نے کپکپاتے لہجے میں کہا۔

“کیا بولوں؟”

“آج تم بہت خوبصورت لگ رہے ہو۔”

” تم بھی تو کم حسین نہیں ہو۔۔۔۔۔ تمہارے یہ ہونٹ۔۔۔۔۔” میں نے اس کے ہوٹھوں کو اپنی انگلی سے چھوتے ہوے کہا۔

میں نے دیکھا۔ وہ شرمائی اور میرے سینے سے لپٹ گئی۔ تبھی باہر تیز بارش ہونے لگی تھی۔ بجلی رہ رہ کر گرجنے لگی۔ کمرے میں دو جوان دل سبھی حدیں توڑ کر ایک ہونے لگے۔ مجھ پر ایک عجیب نشہ سا چھا چکا تھا۔ جب طوفان تھما تو ہم دونوں ہی خاموش پڑے تھے۔ باہر بارش اب بھی بڑی تیزی سے ہو رہی تھی۔

جب ہمارے حواس لوٹے تو میں گھبرا گیا۔ اور اس کی جانب دیکھتا افسوس بھرے لہجے میں بولا، “سوری ریکھا۔ ہمیں یہ بھول نہیں کرنی چاہیئے تھی۔”

” بھول میری تھی۔۔۔۔۔ میں ہی پاگل ہو گئی تھی۔ اچھا میں کل ملوں گی۔” کہہ کر وہ چلی گئی۔

میں چھت کو دیکھتا لیٹ گیا۔ میرے من میں ایک ہی ڈر تھا۔ اگر ریکھا نے اپنی ماں سے کہہ دیا تو؟ سوچ کر میں گھبرا اٹھا مگر پھر من نے تسلی دی۔ میں نے جبراً تو ایسا نہیں کیا ہے۔ ریکھا کی رضامندی سے یہ سب ہوا ہے۔ انہیں سوچوں میں کھویا نہ جانے کب نیند کی گود میں چلا گیا معلوم نہیں۔ صبح ریکھا تڑکے چائے لے کر آئی اور مجھے اٹھا دیا۔

اگلے دن۔۔۔۔۔۔

میں کالج پہنچا تو وہاں عجیب ماحول تھا۔ سارے طلباء پارک میں جمع تھے۔ پتہ چلا کالج نہیں لگے گا۔ ایک طالب علم کی موت ہو گئی ہے۔ میں اور ریکھا واپس چلنے لگے تبھی کالج کے گیٹ پر ایک کار آ کر رکی۔ کار ایک ادھیڑ عمر کا آدمی چلا رہا تھا۔ اسی کے بغل میں ریکھا کی ماں بیٹھی تھی۔ تکلف سے ہمیں کار میں بیٹھنے کو کہا گیا۔ میں ریکھا کے ساتھ ہی پچھلی سیٹ پر جا بیٹھا۔ ہمارے بیٹھتے ہی کار آگے بڑھ گئی۔

کچھ دیر بعد ہم پھر ریکھا کی بیٹھک میں بیٹھے تھے اور وہ ادھیڑ جو ریکھا کا ماما تھا مجھ سے پوچھ رہا تھا، “تم ایک معمولی آدمی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم اچھوت خاندان کے ہو۔۔۔۔۔۔ یہ کیسے سوچ لیا کہ تم اس خاندان کے داماد بننے کے قابل ہو؟”

“کیوں نہ سوچتا؟ آپ مجھ میں کیا کمی دیکھ رہے ہیں؟” میں بھی طیش میں آ گیا۔ ہتک مجھے کبھی برداشت نہیں ہوتی۔

“تم میں سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ تم اچھوت ہو۔۔۔۔۔۔ چمار کا بیٹا ہماری بہن کی بیٹی کا داماد بنے۔۔۔۔۔۔ یہ میں کیسے برداشت کر سکتا ہوں۔”

“دیکھیے محترم۔ آپ میری بے عزتی کر رہے ہیں۔ کسی کو “چمار” کہنا جرم ہے۔ میں نے اپنی مرضی سے یہ رشتہ قبول نہیں کیا ہے۔ آپ کی بہن نے مجھ سے پیشکش رکھی تھی۔۔۔۔۔۔”

“دیکھو رمیش۔۔۔۔۔ ” ریکھا کی ماں بول پڑی، “اس میں اس کا کوئی قصور نہیں ہے۔ پھر ذات پات کو آج کل کون پوچھتا ہے۔ لڑکا مہذب، خوبصورت اور پڑھا لکھا ہو تو حرج کیا ہے؟ کیا اچھوت آدمی نہیں ہوتا۔”

“تم چپ رہو سبِتا۔۔۔۔۔میں کچھ سننا نہیں چاہتا۔ ریکھا کی شادی میری مرضی سے ہو گی۔ ہماری ایک ہی تو کزن ہے۔ اے مسٹر۔ تم یہاں سے شرافت سے چلو جاؤ۔۔۔۔۔۔”

“ٹھیک ہے میں جا رہا ہوں۔ مگر ریکھا سے پوچھ لو۔۔۔۔ ایک میچورڈ لڑکی ہے۔ آپ جبراً اس کی شادی کہیں نہیں کر سکتے۔”

“مجھے دھمکی دے رہے ہو؟”

“نہیں جناب، صرف راے دے رہا ہوں۔ یہ مت بھولیں۔۔۔۔ اور قانون بھی ہے اور قانون کی نظروں میں اٹھارہ سال کی لڑکی اپنی اچھا سے من پسند بر کا چناؤ کر سکتی ہے۔” کہنے کے ساتھ ہی میں کمرے سے باہر نکل گیا۔ جیسے ہی میں گیٹ پر پہنچا، ریکھا پیچھے سے بھاگتی ہوئی آئی۔

“پریم۔ تم فکر مت کرو۔۔۔۔۔ ماما بڑا مکار ہے۔ ہماری پراپرٹی کی وجہ سے اپنی مرضی کے لڑکے سے میری شادی کرانا چاہتا ہے۔ ہم لوگ کورٹ میں شادی کریں گے۔”

”سچ۔۔۔۔۔” میں خوش ہو گیا۔

“ہاں۔ تم کل مجھے ریگل پر ملنا۔ میریج ایپلیکیشن فارم بھروا لے آنا، میں سائن کروں گی۔ ہمیں جیون ساتھی بننے سے کوئی بھی روک نہیں سکتا ہے۔”

میں وِش کر کے آگے بڑھ گیا۔

میں نے اگلے دن ہی فارم کورٹ میں جمع کروا دیا ہمیں ایک ہفتے بعد کی ڈیٹ بھی مل گئی۔ مگر چار دن ہو گئے تھے ریکھا کالج نہیں آئی تھی۔ میں اس سے ملنے کو بے چین ہو گیا۔ راوت سے بھی بات ہوئی۔ مگر ریکھا کا کہیں پتہ نہیں چلا۔ اس کے گھر جانا بےعزتی کروانے جیسا تھا۔ میں سوچتا رہا کیا کروں؟ کیا نہ کروں؟ میں آج اپنے ٹوٹے پھوٹے مکان کے اندر بیٹھا تھا۔ تبھی دروازے پر کسی کے قدموں کی آہٹ سنی۔ میں چارپائی سے اٹھ کر باہر آ گیا۔ اندر آنگن میں ہی ریکھا دکھائی دی۔ اداس چہرہ، ہاتھ میں بھاری سوٹ کیس تھامے۔

“کیا بات ہے ریکھا؟ تم اتنی پریشان کیوں ہو؟”

“پریم۔ یہ گھر بند کرو اور آؤ ہم اس شہر سے دور بھاگ چلتے ہیں۔ میرے ماما میرے دشمن بن گئے ہیں۔ وہ میری شادی کہیں اور کر دینا چاہتے ہیں۔”

“مگر ہمارا مستقبل۔۔۔۔۔ پڑھائی۔۔۔۔ بیکار ہو جائیں گے۔”

“نہیں پریم۔ “وہ رو پڑی۔ “میں تمہارے بِنا جی نہیں سکتی۔ میں گھر سے تمام روپے اور زیور لے کر آئی ہوں۔”

“نہیں ریکھا۔ یہ غلط ہے۔ جب تک ہم کورٹ میں شادی نہیں کر لیتے، قانون کی نظروں میں مجرم رہیں گے۔۔۔۔۔۔”

“کہیں بھی چلو۔۔۔۔۔ یہ شہر چھوڑ دو۔۔۔۔۔ اور چل کر شادی کر لیں گے۔”

میں عجیب الجھن میں پڑ گیا۔ ریکھا میرا پیار تھی۔۔۔۔ چاہت تھی۔۔۔۔۔ اسے چھوڑ بھی تو نہیں سکتا تھا۔ میں نے اپنی ضرورت کا سامان باندھا اور گھر میں تالا لگا کر ریکھا کے ساتھ بھاگ لیا۔ دوسرے دن میں ریکھا کے ساتھ اپنے ماما جی کے گاؤں جا پہنچا۔ میرے ماما کا اکلوتا بیٹا گاؤں میں رہتا تھا۔ تھوڑی کھیتی باڑی تھی اسی سے ان کا گزر بسر ہو رہا تھا۔ چھوٹا سا خاندان تھا میرے کزن کا۔ ہم وہاں رہنے لگے۔ تمام سوال پوچھے تھے میرے ممیرے بھائی نے۔ میں سب جگہ جھوٹ ہی بولتا رہا۔

ایک ہفتے بعد وکیل کی مدد سے ہم نے شادی بھی کر لی۔ ہم خوش تھے۔ مگر وہاں کا ماحول بڑا عجیب تھا۔ دلتوں کو لوگ نفرت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ٹھاکروں اور پنڈتوں کو زمینداری کا رعب بارابنکی شہر میں اور گاؤوں میں آج بھی برقرار ہے۔ کئی جگہ میری پتنی کو چھیڑا گیا برداشت کرتا گیا۔ مگر اس دن تو صبر کی حد ہی پار ہو گئی۔ ہوا یہ کہ ہم بارابنکی شہر سے لوٹ رہے تھے۔ راستے میں ریلوے لائن پڑتی تھی۔ وہاں تین آدمی بیٹھے تھے۔ ایک نے لپک کر میری پتنی کا ہاتھ تھام لیا۔

“خبردار۔ ہاتھ چھوڑ دو۔۔۔۔۔۔” میں کڑک کر سامنے آ گیا۔

“چل بے چمار۔ دلتوں کی بیوی ہماری بھی بیوی ہوتی ہے۔” کہنے کے ساتھ ہی اس نے ریکھا کو ایک جانب کھینچا۔

میرا غصہ کھول اٹھا۔ پھر مار پیٹ شروع ہو گئی۔ چیخ پکار میں راستے میں آتا ایک سپاہی آ گیا۔ پولیس کے آ جانے سے وہ غنڈے بھاگ کھڑے ہوے۔ میں سیدھا پولس اسٹیشن گیا۔ رپورٹ لکھنے والے کمرے میں کوئی اہلکار نہیں تھا۔ پوچھتے پوچھتے پتہ چلا ہیڈ کانسٹیبل صاحب چائے پینے گئے ہیں۔ ایک گھنٹے بعد رپورٹ لکھنے والے صاحب آئے۔

“کیا بات ہے؟”

“سر رپورٹ لکھوانی ہے۔”

“کس بات کی۔۔۔۔۔؟”

میں نے ساری بات بتا دی۔ سب کچھ سننے کے بعد لاپرواہی سے وہ بولا، “جب تم بدمعاشوں کا نام نہیں جانتے پھر رپورٹ لکھا کر کیا ہو گا؟”

“آپ موقع واردات پر چلیے تو۔ وہاں منجھلے پور میں چل کر پوچھیے۔ بدمعاش اسی گاؤں کے ہیں۔ میں نے انہیں دیکھا ہے، پہچانتا بھی ہوں۔”

“ہوں۔ تو تم منجھلے پور کے رہنے والے ہو؟”

“کیا ذات ہے تمہاری؟”

سن کر میں بھونچکا سا رہ گیا۔ “رپورٹ لکھنے میں ذات کا کیا کام؟”

“بولو نا۔۔۔۔ منھ کیا دیکھ رہے ہو؟” اس نے گُھڑکی دکھاتے ہوے کہا۔

“سر! رپورٹ لکھوانے میں ذات کا کیا کام؟”

“ہمیں قانون مت بتلاؤ۔ ذات کا نام بتلانا ہے تو بتلاؤ ورنہ دفع ہو جاؤ یہاں سے۔”

“پریم چند جاٹو۔”

“اوہ اچھوت ہو۔۔۔۔۔ اس پر اتنی اینٹھ۔ جاؤ۔۔۔۔ رپورٹ نہیں لکھی جائے گی۔ تم اچھوتوں کے دماغ خراب ہو گئے ہیں۔ سرکار نے تم لوگوں کو سر پر چڑھا رکھا ہے۔ بھاگو یہاں سے۔۔۔۔۔۔” اس بار وہ چیخ اٹھا تھا۔

میں سناٹے کی سی حالت میں اپنی پتنی کو لے کر واپس آ گیا۔ من میں تمام سوال گونجنے لگے تھے۔۔۔ سرکار انہیں تنخواہ دیتی ہے کہ کوئی بھی جرم ہو تو عوام کی مدد کریں، الٹے یہ غریبوں کو تنگ کرتے ہیں؟ آخر کیوں؟ کیا میں دلت ہوں اس لیے؟ انہیں رشوت دینے کے لیے میرے پاس پیسے نہیں ہیں اس لیے؟ کیا ان میں اتنی اینٹھ بھری ہے؟ اتنا گھمنڈ کس لیے؟ کیا ان کی نوکری کوئی چھین نہیں سکتا صرف اس لیے۔ بیشک۔ ورنہ اتنی ہیکڑی دکھانے کا کیا مطلب؟

مجھے یاد آیا۔ گجرولا کانڈ میں جہاں دو ننھوں کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی۔ وہاں بھی متعلقہ افسر کا صرف تبادلہ ہی ہوا، نوکری نہیں گئی ورنہ کس کی مجال جو لاپروائی برتے۔ یعنی ہماری سرکار ہی ڈھیلی ہے۔ سرکاری کارندوں میں جب تک ڈر نہیں ہوگا لوگ اور ہی قانون کی بےعزتی کرتے رہیں گے۔ میں اپنا من مار کر واپس گاؤں لوٹ آیا۔

وقت بیتتا رہا۔ میری گرہستھی خوشحال تھی۔ میں نے ایک جگہ میگزین اور اخبار بیچنے کے لیے ایک دکان کرائے پر لے لی تھی۔ میری دکان چل نکلی۔ گزارے لائق میں کمانے لگا تھا۔ صبح ناشتا کر کے دکان پر چلا جاتا تھا۔ شام سورج چھپنے پر ہی لوٹتا تھا۔ راستے میں سنسان سا علاقہ پڑتا تھا۔ ریکھا مجھے دوپہر کو کھانا لے کر آتی تھی۔ ایک دن جب وہ کھانا لے کر نہیں آئی تو میں بے چین ہو اٹھا۔ کیا بات ہے؟ ریکھا کھانا لے کر کیوں نہیں آئی؟ من میں تمام وسوسے سر اٹھانے لگیں۔ میں نے فوراً دکان بند کی اور گاؤں کی طرف چل دیا۔

ریلوے لائن پار کرتے ہی ایک جگہ بھیڑ دیکھ کر میں ٹھٹھکا۔ کچھ لوگ کھڑے تھے۔ سہما سا میں بھی پاس جا پہنچا۔ “کسی عورت کی لاش ہے۔ ایسا لگتا ہے کچھ لوگوں نے زیازتی کی ہے۔ ساڑھی پر خون لگا ہوا ہے۔” لوگوں کو کہتے سنا۔ میں گھبرا گیا۔ بھاگ کر جھاڑی کے پاس پہنچا۔ لاش کا چہرہ دیکھ کر میرے منہ سے چیخ نکل گئی۔

“نہیں۔۔۔۔۔ نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔”

اور صدمے اور گھبراہٹ سے میں چکرایا۔ میری آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھاتا چلا گیا۔ پھر میں بیہوش ہوکر گر پڑا۔

مجھے ہوش آیا تو میں تھانے کے اندر تھا۔ میں نے نظر اٹھا کر ادھرادھر دیکھا۔ ایک طرف ریکھا کی لاش پڑی تھی۔ ایک طرف وہی رپورٹ لکھنے والا بیٹھا تھا پاس ہی بندوق رکھی تھی۔ ایک طرف میرا کزن بھی کھڑا تھا۔

“تم ہوش میں آ گئے؟” ہیڈ کانسٹیبل نے پوچھا۔

“جی۔۔۔۔ آپ نے میری پتنی کو مروا دیا نا۔۔۔۔”

“کیا بکتے ہو؟” وہ ابل پڑا۔

“میں ٹھیک بک رہا ہوں مسٹر۔۔۔۔۔ میری پتنی کے قاتل تم ہو۔۔۔۔۔ تم۔ اس دن اگر تم ان مجرموں کو میری رپورٹ پر پکڑ لیتے تو ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ تمہاری ڈھیل سے ان غنڈوں کا حوصلہ بڑھا۔”

“لگتا ہے تم پاگل ہو گئے ہو؟”

سنتے ہی میرے بدن میں آگ لگ گئی۔ مارے غصے کے میرا سارا بدن تھرتھر کانپنے۔ “تم ٹھیک کہتے ہو۔۔۔۔۔ پاگل ہی ہو گیا ہوں۔” کہنے کے ساتھ ہی میں نے جھپٹ کر بندوق اٹھا لی۔ سیفٹی ہٹا کر اس کانسٹیبل پر تان دی۔ “سالے مجھے پاگل کہتا ہے۔ میں تجھے نہیں چھوڑوں گا۔ تیری ہی وجہ سے میرا جیون ساتھی مجھ سے جدا ہوا ہے۔ میرا جیون برباد ہو گیا۔” اس سے پہلے کہ وہ سنبھل پاتا، میں نے گولی چلا دی۔

“دھائیں۔” گولی اس کی کھوپڑی میں دھنس گئی۔ وہ کٹے درخت کی طرح گر گیا۔ میں سمجھ گیا۔ اب میری خیر نہیں ہے۔ گولی کی آواز سن کر تمام لوگ اس کمرے میں آ گئے تھے۔ مگر میرے ہاتھ میں بندوق دیکھ دور ہی رہے۔ وہاں کہرام مچ گیا۔ میں نے سوچا کتے کی موت مرنے سے اچھا ہے خود کشی کر لوں۔ اس کے سوا میرے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔

میں نے بندوق کی نلی کو کنپٹی سے لگایا اور ٹرایگر دبا دیا۔ “دھائے۔”

ایسا لگا میرا وجود بکھر گیا ہے۔ سب کچھ صفر میں کھو گیا ہے۔ اندھیرا۔۔ اندھیرا۔۔۔۔۔ اس اندھیرے میں نہ جیون تھا۔۔۔۔۔ جیون ساتھی۔

Categories
نان فکشن

شانتا راما – باب 22: نئے خیالات کی لہر (ترجمہ: فروا شفقت)

دن نکل آیا، مجھے کافی ہلکا ہلکا محسوس ہونے لگا۔ جلدی تیار ہو کر کمپنی میں گیا اور ایک آزاد ذہن سے ‘آدمی’ کی میکنگ کے کام میں اپنے آپ کو جھونک دیا۔ دن بھر شوٹنگ کرنے کے بعد رات میں یا تڑکے اٹھ کر میں سنیریو لکھنے بیٹھا کرتا تھا۔ دن رات مجھ پر تو بس یہی ایک دُھن سوار رہتی کہ کیسے فلم کا ہر سین پُراثر ہو گا، کیسے ہر سین ناظرین کے ذہن پر انمٹ چھاپ چھوڑ جائے گا۔ ہر سین لینے سے پہلے ہی اُس کے کرداروں اور کیمرے کی چھوٹی سے چھوٹی ہلچل کیسی ہو، اس کا مکمل خاکہ میرے من میں تیار رہتا تھا، ایک دم صاف اور واضح۔

چکلہ بستی میں گھومتے پھرتے سمے آخر میں ہماری ملاقات جس ویشیا سے ہوئی تھی اس نے زور دے کر کہا تھا کہ ہم لوگ اگرچہ جسم بیچتے ہیں، ہر دن صبح بھگوان کی پوجا کیے بنا پانی تک نہیں پیتے۔ اس کی بات سن کر تب ہم لوگ کافی دنگ رہ گئے تھے۔ میں چاہتا تھا کہ مہذب سماج کی نظروں میں گری ہوئی اور بدنام ہو چکی ان عورتوں کی جو مذہبی ذہنیت ہے، ناظرین کے سامنے بِنا کہے آ جائے۔ لہٰذا ایک چُھپا ہوا مزاحیہ سین میں نے سکرین پلے میں جوڑ دیا : ہیروئین والی چال میں ہی دو ویشیائیں سویرے پوجا کرتے کرتے بیچ ہی میں اپنے کوٹھوں کے دروازوں پر آ کر کل رات آئے کسی گاہک کے بارے میں زوروں سے جھگڑا کرتی رہتی ہیں۔ ان میں سے ایک کو اتنا طیش آ جاتا ہے کہ پوجا کا خیال بُھلا کر آرتی کا دِیا ہاتھ میں لیے ہی وہ دروازے پر آ کر پتہ نہیں کیا کیا بڑبڑاتی رہتی ہے اور پھر اندر چلی جاتی ہے۔ اس کے جواب میں جھگڑے میں الجھی دوسری ویشیا بھی پوجا کی گھنٹی ہاتھ میں لیے اپنے دروازے پر آ کر پہلی ویشیا کو کافی بھلا برا کہہ کر پھر اندر چلی جاتی ہے اور پوجا کرنے لگ جاتی ہے۔ یہ سلسلہ کچھ دیر یوں ہی میں نے جاری رکھا۔

ویشیاؤں کے کوٹھوں پر مختلف مذاہب اور جاتیوں کے لوگ جایا کرتے ہیں۔ اس ویشیا کے کوٹھے پر گاہکوں کو ہوٹل سے چائے لا کر دینے والے چھوکرے کے منہ سے یوں ہی مذاق میں ایک بے معانی بکواس گیت گوایا تارے۔۔ نا۔۔ نانو۔۔ نانو۔۔

کیسر اپنے کوٹھے پر آئے مختلف صوبوں کے شوقین گاہکوں کے سامنے ‘اب کس لیے کل کی بات’ گانا گاتی ہے۔ سبھی رسیا گاہک خوش ہو کر اس پر پیسوں کی برسات کرتے ہیں۔ وہ سب لوگ کوٹھے پر سے چلے گئے ہیں، یہ سین دِکھتا ہی نہیں۔ دکھائی دیتی ہے صرف ان کی کیسر پر کی گئی پیسوں کی برسات۔ اس سے تو کتنی ہی باتیں بِنا کہے اشارے سے ہی من پرنقش ہو جاتی ہیں؛ جیسے ابھی کچھ ہی لمحے پہلے وہاں جمی محفل میں آئے کیسر کے چہیتے اس کی اپنی نگاہ میں صرف چند چاندی کے سکے ہیں، زندگی چلانے کے محض ذرائع ہیں، اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ تھکی ماندی کیسر غیر متغیر من اور چہرے سے دھیرے دھیرے ان سِکّوں کو بٹورتی دکھائی گئی ہے، وغیرہ وغیرہ۔

گنپت کیسر کو دھندا چھوڑ دینے کے لیے کہتا ہے اور اسے پہلے کے برعکس کچھ مزید مہذب بستی کی ایک چال میں لے آتا ہے۔ گنپت ایک معمولی آدمی ہے۔ اسے لگتا ہے یہ بھی اس نے کوئی بہت بڑا کام کر لیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس کے من میں یہ ڈر بھی سمایا ہوا ہے کہ اس عورت کے ساتھ کسی پہچان والے نے اپنے کو دیکھ لیا تو بہت درگت بن جائے گی۔ اسے نئے کمرے میں پہنچا کر، گنپت یہ کہتا ہوا چلا جاتا ہے کہ ”شام کو اندھیرا ہونے کے بعد آؤں گا۔” یہاں ‘شام’ کے ساتھ ہی ‘اندھیرا ہونے کے بعد’ یہ لفظ رکھنے کے کارن گنپت کے من میں چھپا وہ ڈر بھی اپنے آپ ظاہر ہو گیا کہ وہ چاہتا ہے، اسے وہاں آتے کوئی دیکھ نہ لے۔ کیسر شام ہونے تک اس کی راہ تکتے تکتے اوب جاتی ہے۔ یوں ہی وہ کمرے میں جلائی موم بتی کی موم کی بوندوں سے’ ٢٥٥’ کا ہندسہ زمین پر بناتی ہے۔ یہ گنپت کے پولیس بیج کا نمبر ہوتا ہے۔ اندھیرا ہونے کے بعد گنپت اس کے کمرے کی طرف جانے کی ہمت بٹورتا ہے۔ لیکن پاس ہی کے کمرے میں گنپت کا کوئی دور کا رشتےدار گاؤں سے آ کر ٹھہرا ہوا ہوتا ہے۔ برآمدے میں اپنا بستر بچھانے کی تیاری کر رہے اس رشتےدار کو دیکھتے ہی گنپت کی ساری ہمت پست ہو جاتی ہے۔ وہ اس بوڑھے رشتےدار سے منھ دیکھا حال احوال پوچھ کر کیسر سے ملے بِنا ہی واپس چلا جاتا ہے۔

کئی بار ذہن کی الجھی ہوئی گتھی اشارتاً سین میں ہی زیادہ پُراثر معلوم ہوتی ہے۔ گنپت کو اس طرح لوٹتا دیکھ کر کیسر مایوس ہو کر اپنے پرانے کمرے میں چلی آتی ہے اور مجبور ہو کر اپنا پہلا دھندا پھر شروع کرتی ہے۔ گنپت اس کے کوٹھے پر آتا ہے۔ اس سمے وہاں دو گاہک بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ کیسر کی اُن کے لیے منگوائی گئی چائے میں بڑی اکڑ کے ساتھ روپے کا سکہ ڈالتے ہیں اور کیسر سے کہتے ہیں، اپنے ہاتھوں چائے پلاؤ۔ کیسر ہنستے ہنستے ایک بانہہ ان کے گلے میں ڈال کر انھیں چائے پلاتی ہے اور پیالی میں ڈالا روپیہ نکال لیتی ہے۔ تبھی اس کی نظر دروازے پر کھڑے گنپت کی طرف جاتی ہے۔ وہ اسے بھی پوچھتی ہے، “چائے لو گے؟” گنپت ‘ہاں’ کرتا ہے۔ کیسر چائے کی پیالی اس کے سامنے لے کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ گنپت پیالی میں ایک سکہ ڈال کر وہ گرم چائے غصے میں کیسر کے منھ پر دے مارتا ہے اور تمتما کر وہاں سے لوٹ جاتا ہے۔ اب کیسر کو بھی غصہ آتا ہے۔ وہ تنتناتی ہوئی اس کے پیچھے پیچھے جاتی ہے اور اس کی اس حرکت کا جواب مانگتی ہے۔ گنپت آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور اپنے ڈنڈے میں جو چمڑے کا پٹا لگا ہوتا ہے اس کا ایک کوڑا کیسر کی جانگھ پر جما دیتا ہے۔ کیسر بھی غصے میں سڑک پر پڑا ایک بورڈ اٹھا لیتی ہے اور گنپت کو مارنے کے لیے اٹھاتی ہے لیکن وہ اسے مار نہیں سکتی۔ اور سڑک کے ایک کھمبے پر ہی اپنا غصہ اتارتی ہے۔ اس بورڈ کو وہیں پھینک کر وہ تنکتی ہوئی چلی جاتی ہے۔

گنپت اس کی طرف دیکھتا رہتا ہے اور اپنی ہی جانگھ پر اسی پٹے کا ایک کوڑا کس کر جما لیتا ہے۔ محسوس کرنا چاہتا ہے خود کہ کیسر کو کتنے زور سے لگا ہو گا وہ کوڑا۔ پھر اس سمت کی طرف دیکھتا رہتا ہے جدھر کیسر گئی ہے، اور جانگھ ملتا جاتا ہے۔

دھیرے دھیرے گنپت آگے بڑھتا ہے۔ راہ میں ایک مکان کی دیوار پر اس نے کیسر سے ملاقات کرنے کے بعد ایک ایک لکیر کھینچی ہے۔ ان لکیروں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دونوں کتنی بار ملے تھے۔ وہاں پہنچنے پر گنپت پھر ایک بار کیسر جدھر چلی گئی تھی، ادھر دیکھتا ہے اور اپنے ہاتھ کے ڈنڈے سے اس دیوار پر ایک اور لکیر بنا دیتا ہے۔ ویسے دیکھا جائے تو اس بار ہوئی ملاقات آپسی جھگڑے والی تھی۔ گنپت کے اس فعل سے اس کے من کی گہرائی میں کیسر کے لیے کتنی محبت ہے یہی بات ابھر کر آتی ہے۔ اس طرح غصہ اور موہ سے پرے نا قابل بیان اعلیٰ جذبات کا ملا جلا احساس واضح ہو جاتا ہے اور علامتی تخیل اپنے کلائمکس تک پہنچ جاتا ہے۔

گنپت اپنے گاؤں میں اپنے کھیت پر جانے کو تیار ہوتا ہے۔ کیسر بھی اس کے پیچھے پیچھے جاتی ہے۔ دونوں ایک جھونپڑی میں رات بھر کے لیے قیام کرتے ہیں۔

فلم ‘آدمی’ کا پوسٹر

وہاں پھیلی خاموش تنہائی کے کارن کیسر سوچتی ہے کہ گنپت اب اسے اپنی بانہوں میں بھر کر پاس سلائے گا۔ وہ جھونپڑی کے اندر سے بے کار ہی کچھ بولنے کی کوشش کرتی ہے۔ جھونپڑی کے اندر اکیلی کو بڑا ڈر لگ رہا ہے، ایسا بہانہ بھی بناتی ہے۔ لیکن کچھ دیر بعد یہ دیکھ کر کہ باہر سے گنپت کا کچھ بھی جواب نہیں آیا، وہ یہ دیکھنے کے لیے کہ آخر گنپت اکیلا باہر کر کیا رہا ہے، جھونپڑی کے دروازے پر آتی ہے۔ دیکھتی ہے، گنپت تو ایک کمبل اوڑھ کر گھوڑے بیچ کر سو گیا ہے۔ اس سیدھے سادے ضدی گنپت کی طرف سراہنا بھری نظر سے دیکھتے دیکھتے کیسر جھونپڑی کی دہلیز پر بیٹھ جاتی ہے۔

ضبط کے سلیقے کا پران ہوتا ہے۔ اس لَو سین کو ٹالنے کے کارن ساری فلم کو ہی ایک غیرمتوقع موڑ مل جاتا ہے۔ گنپت کی بھولی بھالی شخصیت اور بازاری کیسر کو مرد کے بارے میں جیون میں پہلی بار دیکھنے کو ملا یہ ایک دم نرالا پہلو، دونوں نتائج اس لَو سین کے کارن برابر حاصل ہو گئے۔ فلم میں ایک بھی سین مستحکم نہیں رہتا۔ ہر منٹ نوے فٹ یا ہر سیکنڈ چوبیس تصویروں کی رفتار سے ساری پٹی آنکھوں کے سامنے سے گزرتی رہتی ہے۔ اتنے محدود سمے میں کرداروں کے سوبھاؤ کی نزاکت بھری باریکیوں کو پیش کرنے والے سین کی رچنا کرنا ضروری ہوتا ہے۔

کبھی کبھی تضاد پیدا کر کے بھی ایک دم صحیح نتیجہ حاصل کیا جاتا ہے۔ جیسے: گنپت محسوس کرتا ہے کہ وہ کیسر سے پیار کرنے لگا ہے۔ وہ اپنے دوست بابا صاحب سے پوچھتا ہے، “کیا تم اپنی پتنی سے پیار کرتے ہو؟” وہ دوست بھی پرانے دھرے کا آدمی ہوتا ہے۔ کہہ دیتا ہے، “دھت، میں کیا جانوں پیار وار کیا ہوتا ہے؟” اور فوراً ہی وہ اپنی پتنی کو ڈھونڈھنے لگتا ہے۔ اس کی پتنی پچھواڑے میں کپڑے دھو رہی ہے۔ وہ غصے میں وہاں جاتا ہے اور پتنی کے ہاتھوں سے دھونے کے سارے کپڑے چھین کر پھینک دیتا ہے اور اسے لگ بھگ کھینچتا ہوا زبردستی کمرے میں لے جا کر سلاتا ہے۔ کہتا ہے، “کل سے اسے بخار ہے۔ کہا تھا پڑی رہو، تو جا کر کپڑے دھونے بیٹھ گئی۔ ایسی پتنی سے بھی بھلا کہیں پیار کیا جاتا ہے؟” پتنی کو اچھی طرح سے کھٹیا پر لٹا کر پیار سے کمبل اوڑھا دیتا ہے اور پھر کہتا ہے، “میں تو اس سے پیار ویار قطعی نہیں کرتا!” قول و فعل میں باہمی تضاد دکھا کر مزاح پیدا تو ہوتا ہی ہے، ساتھ ہی ڈائریکٹر جس بات پر زور دینا چاہتا ہے ناظرین کے من میں برابر بیٹھ جاتی ہے۔

کچھ سین اُن کی شوٹنگ کے ڈھنگ کے کارن کمال کے دل چھو لینے والے ہو جاتے ہیں:

کیسر کے ساتھ شادی کرنے کا فیصلہ کر گنپت اسے اپنی ماں کے پاس لے آتا ہے۔ ماں بچاری بہت ہی سیدھی سادی، بھولی بھالی ہے۔ دیکھتے ہی اسے کیسر پسند آ جاتی ہے۔ وہ اپنی کلسوامنی بھوانی (دیوی) سے فیصلہ مانگتی ہے۔ بھوانی کی مورت پر دونوں طرف ایک ایک پھول رکھا جاتا ہے۔ دائیں جانب کا پھول گرا تو بھوانی کو بہو پسند اور بائیں جانب کا گرا تو ناپسند۔ پھر گنپت کی ماں اپنا اِکتارا اٹھاتی ہے اور آنکھیں بند کر ‘جگدمب، جگدمب’ نام پکارنا شروع کرتی ہے۔ گنپت اور کیسر آنکھیں پھاڑ کر بےصبری سے دیکھتے ہیں کہ بھوانی کیا فیصلہ دیتی ہے۔ بھوانی کے بائیں جانب کا پھول تھوڑا سا ہلتا ہے۔ گنپت کا دھیرج ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ اپنے من مطابق فیصلہ حاصل کرنے کے لیے دائیں جانب کے پھول کو پھونک مار کر ہوا دیتا ہے۔ زور کی پھونک لگنے کے کارن دائیں جانب کا وہ پھول نیچے گرتا ہے۔ بھوانی نے دایاں پھول گرا کر بہو کو پسند کیا، یہ دیکھ کر گنپت کی ماں کو بہت خوشی ہوتی ہے۔

اس کے بعد گنپت رات کی باری کے لیے کام پر چلا جاتا ہے۔ گنپت کی ماں کیسر کو یہ مان کر کہ وہ جیسے ابھی سے اس کی بہو ہو چکی ہے، گنپت کو کھانے پینے کا کیا کیا اور کن کن باتوں کا شوق ہے بڑی ممتا سے سمجھانے لگتی ہے۔ ماتا جی کو بولتے بولتے نیند آنے لگ جاتی ہے۔ لیکن کیسر سو نہیں پاتی۔ گنپت نے کس طرح زبردستی اور جھوٹے پن سے بھوانی کا دایاں فیصلہ حاصل کیا، اسے کھائے جاتا ہے۔ وہ کروٹ بدلتی ہے تو اس کا ہاتھ اچانک پاس رکھے اِکتارے پر پڑتا ہے۔ اِکتارے کی آواز سے کیسر بےحد چونک جاتی ہے۔ دودھ کے دھوئے، بے داغ ذہن کی اس بڑھیا کو دھوکا دینے کا خیال بھی کیسر کے لیے نا قابل برداشت ہو اٹھتا ہے اور وہ آدھی رات ہی گنپت کے گھر سے اکیلی نکل جاتی ہے۔

بعد میں گنپت باؤلا بنا اسے کھوجتا پھرتا ہے۔ وہ اس کی پرانی چال پہنچ جاتا ہے۔ وہاں ساری چال کی سفیدی کا کام جاری ہے۔ گنپت کیسر کے کمرے میں جاتا ہے۔ وہاں کیسر نے پہلے کبھی اس کی یاد میں اسکا ٢٥٥ نمبر دیوار پر لکھ رکھا تھا، اسے دیکھتا ہے۔ تبھی رنگ ساز کا برش اس ہندسے پر سے پھرتا ہے۔ وہ ٢٥٥ کا ہندسہ مٹ جاتا ہے۔ اس ایک ‘ٹچ’ نے ان کے کارن درد ناک احساسات ظاہر کر دیے۔

گنپت وہاں سے تیزی سے نکل جاتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ جیون میں اس کا پیار ہی جیسے کسی نے مٹا دیا ہے۔ مایوسی اسے خود کشی کے لیے مائل کرتی ہے۔ گنپت کی تیز قدمی، دکھ بھری نظر میں دکھائی دینے والے ارادے، اور پاس ہی تیزی سے بہتی جانے والی ندی کی دھارا کے الگ الگ کونوں سے لیے گئے کلوز اپ تیز رفتار سے پردے پر دکھائی دیتے ہیں۔ نتیجتاً اس سارے سین کی شدت بہت ہی بڑھ جاتی ہے۔ قابل جگہوں پر قابل علامتوں کا استعمال کرنے سے منظر بے حد دل کو چھو جاتا ہے۔ ناظرین بھی یہی مانتے ہیں کہ اب گنپت خود کشی کرے گا۔ وہ اپنے دلوں کو تھام لیتے ہیں۔ تبھی اس کا پولیس والا دوست اسے روکتا ہے اور خود کشی کے وچار سے اسے نکالتا ہے۔ وہاں سے وہ دونوں شراب کے اڈے پر جاتے ہیں۔ اپنا غم ہلکا کرنے کے لیے گنپت ایک بوتل اٹھا لیتا ہے۔

میں جب جرمنی میں تھا، اس سمے کی بات یاد آئی۔ وہاں میں اکیلا تھا اور اسی طرح گہری مایوسی میں ڈوبا تھا۔ تب میں نے بھی اسی طرح شراب کی بوتل منگوائی تھی۔ اس سمے من میں وچاروں کا جو طوفان کھڑا ہوا تھا، وہ جوں کا توں میں نے گنپت کے متر کے مکالمے کے روپ میں دے دیا۔ آخر گنپت شراب کی بوتل زمین پر دے مارتا ہے، توڑ دیتا ہے اور زندگی کا سامنا کرنے کے لیے سچے معنوں میں تیار ہو جاتا ہے۔

اس بیچ کیسر ہمیشہ پیسہ اینٹھنے والے اپنے شرابی ماما کو قتل کر ڈالتی ہے۔ بدقسمتی سے وہ گنپت کے ہاتھوں ہی پکڑی جاتی ہے۔ اس پر قتل کے الزام میں مقدمہ دائر کیا جاتا ہے۔ مقدمے کی کارروائی کا سین، وکیلوں کے دلائل، گواہوں کے بیان، زبان دانی اور مکالموں سے یہ بھرپور تھا۔ اسے ویسا ہی فلمایا جاتا تو بھاشن ہی بھاشن ہو جاتے۔ لہٰذا میں نے اس سین کا شوٹنگ لکیر سے ہٹ کر عدالت کی کانچ کی بند کھڑکیوں کے باہر سے کیا۔ نتیجتاً عدالت کے اندر جاری سبھی کرداروں کی سرگرمیاں تو برابر دکھائی دیں لیکن لفظوں کے جنجال سے فلم بچ گئی۔ بولتی فلم کا دور شروع ہونے کے بعد خاموش فلم سا لگنے والا یہ سین پہلی ہی بار فلمایا گیا تھا۔ چاہتا تو تھا کہ اسے ایسا ہی رہنے دوں۔ لیکن سوچا کہ کہیں ناظرین یہ نہ سوچ لیں کہ سنیما گھر کا ساؤنڈ سسٹم ہی فیل ہو گیا ہے، اور وہ ‘آواز آواز’ کی چیخ و پکار سے واویلا نہ کھڑا کریں، اس سین کو میں نے ماحول کے مطابق آرٹسٹک بیک گراونڈ میوزک سے جوڑ دیا۔

لیکن ابھی فلم کا بنیادی مقصد کامیاب نہیں ہوا تھا۔ محبت کی ناکامی کے کارن مایوس ہو کرغم کو ہلکا کرنے کے لیے شراب کا عادی ہو جانا یا خودکشی کے لیے راضی ہونا آدمی کی بزدلی کی نشانی ہے، یہ بتانے تک تو میرا مقصد کامیاب ہو گیا تھا۔ لیکن اس سے بھی آگے جا کر میں یہ بتانا چاہتا تھا کہ محبت کی ناکامی کے کارن دل ٹوٹ بھی گیا، تو بھی اس محبت کی یاد کو دل کے کسی کونے میں سنجو کر آدمی کو اپنا فرض ادا کرتے رہنا چاہیے اور جیون بِتاتے رہنا چاہیے۔ یہ انمول پیغام میں کسی بھاشن یا لیکچر کے ذریعے نہیں دینا چاہتا تھا، ورنہ سارا گُڑ گوبر ہو جاتا۔ کافی سوچا، لیکن کوئی راہ دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ رات رات جاگتا رہا۔ لیکن من میں آیا ایک بھی خیال آخر ٹھیک سے جچا نہیں۔ ایک بار تو ساری رات کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی گزار دی۔ صبح ہوتے ہوتے تھوڑی سی آنکھ جھپکی اور جاگا تو فلم کے آخری سین کا پورا آئیڈیا لے کر ہی:

پولیس پریڈ جاری ہے۔ کیمرے میں دکھائی دے رہا ہے کہ گنپت سخت اور کٹھور چہرے سے دیگر پولیس سپاہیوں کے ساتھ پریڈ کر رہا ہے۔ چلتے چلتے وہ نیچے دیکھتا ہے۔ کیمرا بھی نیچے دیکھتا ہے۔ کیمرے میں گنپت کے ڈسپلن میں تیزی سے پریڈ کرتے جا رہے قدم دکھائی دیتے ہیں، اس کی چپلیں دکھائی دیتی ہیں۔ کسی گذشتہ سین میں یہ چپلیں ٹوٹی ہوئی ہوتی ہیں اور کیسر خود انہیں ٹھیک کر کے لائی ہے، اس کی یاد میں گنپت کے چہرے پر احساسات ابھر آتے ہیں۔ چپلوں پر سے نظر ہٹا کر وہ پھر سامنے دیکھ کر سینہ تان کر پریڈ کرنے لگتا ہے۔ اس کے بعد گنپت کے آگے پیچھے ہلنے والے ہاتھ ہی اہم مقصد دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اس یونیفارم پر کانسٹیبل کے جو فیتے لگے ہوتے ہیں، وہ بدل کر حوالدار کے اور پھر جمعدار کے ہو جاتے ہیں۔ بِنا ایک بھی شبد کے سارا ارادہ صرف اشارے دیتے سین اور علامتوں کی مدد سے بتانے کی میری کوشش ہوتی کامیاب ہو گئی۔ یہ آخری سین اس فلم کا انتہائی نقطہ ہو گیا۔

اس فلم کی ایڈیٹنگ میں بھی نئے طریقے اپنانا طے کیا۔ لمبائی ناپ کر فوٹو کاٹنے کا پرانا طریقہ تیاگ دیا۔ سین میں موجود احساسات اور ان کے مطابق ضروری رفتار کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر ہی میں فلم بھی کاٹنے لگا۔ شاٹ فلم گھر میں جتنی رفتار سے دکھایا جانے والا ہے، اسی رفتار سے میں اسے اپنے ہاتھوں کے اوپر سرکاتا جاتا اور جہاں ایسا لگتا کہ بس یہ شاٹ اتنا ہی ہونا چاہیئے، وہیں اسے کاٹ کر اگلے شاٹ کو جوڑ دیتا۔ اس طریقے کے کارن ایڈیٹ سین پہلے کے مکینیکل طریقہ کار سے ایڈیٹڈ منظروں کے برعکس نتیجہ خیز اور پُراثر معلوم ہوتے تھے۔

ایڈیٹنگ کا کام پوری رفتار سے چل رہا تھا۔ تبھی بمبئی سے بابوراؤ پینڈھارکر جلدی میں پُونا آئے۔ سینٹرل سینما میں اس سمے جاری فلم کی آمدنی یکایک کم ہو گئی تھی۔ وہاں دوسری فلم لگانا ضروری ہو گیا تھا۔ وہاں کسی دوسری کمپنی کی فلم لگاتے تو ہم لوگوں کو تب تک انتظار کرنا پڑتا، جب تک کہ وہ فلم وہاں سے ہٹا نہیں لی جاتی۔ آئندہ فلم ریلیز کرنے کی اعلانیہ تاریخ ابھی پورے تین ہفتے بعد کی تھی۔ ابھی ‘آدمی’ کی ایڈیٹنگ، بیک گراونڈ سنگیت وغیرہ کئی کام باقی تھے۔

میں نے فیصلہ کیا اور بابوراؤ پینڈھارکر سے کہا، “تھئیٹر کو ہاتھ سے جانے مت دیجیے۔ آپ نے جو تاریخ طے کی ہے، اس دن آپ کو نئی فلم ریلیز کرنے کے لیے ضرور مل جائے گی۔”

بابوراؤ میرے فیصلے سے مطمئن ہو کر فوراً ممبئی لوٹ گئے۔

اس رات میں نے ہمیشہ کی طرح دس بجے کام بند نہیں کیا۔ ایڈیٹنگ مشین پر بیٹھا تھا، اٹھتے اٹھتے سویرا ہو گیا۔ اٹھتے سمے اپنے معاون کو ہدایت بھی دے دی کہ ٹھیک ایک گھنٹے بعد کام پھر شروع کرنا ہے۔ تب تک وہ سب کاموں سے فارغ ہو لیں۔ میں خود تو آدھے گھنٹے بعد ہی پھر کام پر آ گیا۔ اس کے بعد سورج کئی بار اُگتا گیا، ڈوبتا گیا۔ راتیں ہوتی گئیں، بیتتی گئیں۔ مجھے دیگر کسی بات کا ہوش ہی نہ تھا۔ بس دُھن ایسی سوار ہو گئی تھی کہ طے سمے پر فلم کے سارے کام پورے کرنے ہیں، دیگر کوئی بات نہ تو سوجھتی، نہ سہاتی تھی۔ بھوک، پیاس، نیند، سب کہیں کھو گئے۔

کہیں میری یہ غنودگی ٹوٹ نہ جائے، یہ سوچ کر میرے سبھی معاون سمے کا دھیان مجھے کبھی نہیں دلاتے تھے اور بھوکھے پیاسے رہ کر میرے ساتھ برابر کام کیے جا رہے تھے۔ کام کی اس مدہوشی میں، اپنے انڈر کام کرنے والے لوگوں کو دو روٹیاں سمے پر کھانے کو ملیں، اس لیے جیون میں پہلی بار میں نے رِسٹ واچ باندھنا شروع کیا۔ فلم کو تیزی سے آگے پیچھے سِرکاتے سمے کبھی کبھار اس پر میری نظر پڑ گئی اور شام کو چار پانچ بجے کے بجائے ان لوگوں کو دوپہر دو ڈھائی بجے بھوجن کی بریک ملنے لگی۔ ایڈیٹنگ کرتے سمے دماغ میں پوری فلم کے فارمولے ہوتے تھے۔ ہر سین کی رچنا، اس کی رفتار وغیرہ کے بارے میں مسلسل وچار جاری رہتا تھا۔ نتیجتاً نیند تو مجھے کبھی نہیں آتی تھی۔ لیکن میرے بیچارے معاون فلم جوڑنے کے لیے ہی دن رات میرے پاس کھڑے رہتے تھے۔ دو تین بار تو ایسا ہوا کہ وہ کھڑے کھڑے ہی نیند آ جانے کے کارن گر پڑے۔ تب سے میں نے ان کی دو شفٹیں کر دیں، اور ان کے لیے آٹھ آٹھ گھنٹوں کی باری باندھ دی۔ ایک کام کرتا تب دوسرا سو لیتا تھا۔ میں دیگر کام دھرم اور کھانے وغیرہ کے لیے آدھا پونا گھنٹہ نکالتا اور باقی سمے اپنے کام میں کھو جاتا تھا۔

پھر بھی سارا کام سمے پر پورا ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ کیلینڈر پر لال کراس لگا رکھی تاریخ ہر روز دیکھ کر ہی میں سارے کاموں کو نبٹاتا جا رہا تھا۔ ایک ہفتہ گیا۔۔۔ ریلیز کی تاریخ چار دن پر آ گئی۔ اس بیچ جاری کی ہوئی دو باریوں کا سسٹم بھی بند کرنا پڑا۔ ہر ڈیپارٹمنٹ کے لوگ اپنے اپنے کام ذرا بھی نہ سستاتے ہوئے دن رات کرنے میں جٹے ہوئے تھے۔ ہرسین کی آخری ایڈیٹنگ ہو چکی تھا۔ بغل کے کمرے میں نگیٹووں کو کاٹ کاٹ کر گراریوں پر چڑھانے کا کام جاری تھا۔ تیار گراریوں پر بیک گراونڈ میوزک کے نقش کرنے کا کام ماسٹر کرشن راؤ اور وسنت دیسائی من لگا کر کر رہے تھے۔ پل میں ایڈیٹنگ روم میں، تو دوسرے ہی لمحے بیک گراونڈ میوزک کے ساوئنڈ ریکارڈنگ ڈیپارٹمنٹ میں میری بھاگ دوڑ جاری تھی۔ آخری چھ سات دنوں میں سبھی کاریگروں اور کام گاروں نے بڑی لگن اور عقیدت سے کام کیا۔ ان کی دلی تعاون کو میں کبھی بُھلا نہیں سکتا۔

‘آدمی’ کو ریلیز کرنے کی تاریخ آ گئی، تب بھی اس کی پوری کاپی تیار نہیں ہو پائی تھی۔ پھر بھی میں نے بمبئی فون کیا اور بابوراؤ پینڈھارکر سے ٹھاٹھ سے کہہ دیا کہ دوسرے دن صبح دس بجے فلم سنسر کے پاس ضرور پہنچ جائے گی۔

پُونا کے ‘پربھات’ تھئیٹر میں رات کا شو ختم ہونے کے بعد میرے سبھی ساتھی مددگار، کلاکار، کاریگر، ‘آدمی’ کی ٹرائل ریلیز دیکھنے کے لیے پُرجوش انتظار کر رہے تھے۔ میں سویرے پانچ بجے ہماری لیب سے فلم کی پہلی پانچ چھ گراریاں لے کر تھئیٹر پہنچا۔ آگے کی گراریوں پر کیمیکل روم میں عمل جاری تھا۔ جیسے جیسے پوری ہو جائیں، انھیں تھئیٹر پر لے آنے کی ہدایت دیے کر میں چلا آیا تھا۔

ٹرائل ریلیز فوراً شروع کی۔ میرا دھیان لگاتار گھومتی جا رہی گھڑی کی سوئیوں پر تھا۔ سمے ہو چلا، تو میں نے آگے کی گراریوں کی راہ دیکھے بنا ہی دیکھ چُکی پہلی پانچ چھ گراریوں کو ساتھ لے کر بمبئی جانا طے کیا۔ میں کار سے بمبئی کو لے روانہ ہوا۔ آگے کی گراریوں کو لے کر فوراً بمبئی چلے آنے کی اطلاع میں نے بھاسکرراؤ کو دے دی۔

کار میں فلم کے ڈبے رکھ دیے، اور میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ ڈرائیور کو ہدایت دی کہ کار تیز رفتار سے چلائے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چہرے پر آنے لگی۔ لگاتار تین ہفتے سختی سے روکی گئی نیند کب مجھ پر حاوی ہو گئی، پتہ ہی نہ چلا۔

گاڑی رکی اور میں جاگا۔ گاڑی سینٹرل سینما کے گیٹ پر کھڑی تھی۔ بابوراؤ پہلے تو میری طرف دیکھتے ہی رہ گئے۔ میری داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور مسلسل جاگتے رہنے کے کارن چہرہ تھک کر چور ہو گیا تھا۔ میں نے انہیں فلم کے پانچ چھ ڈبے تھما دیے۔ بابوراؤ انہیں لے کر سیدھے سنسر بورڈ گئے۔

کہیں سنسر نے کچھ شاٹس نکال دینے کے لیے کہا تو؟ سینٹرل سینما میں بیٹھے بیٹھے میں گھبرا رہا تھا۔ پہلا شو ساڑھے تین بجے کا تھا۔ تین پچیس ہو گئے۔ تھئیٹر ناظرین سے کھچا کھچ بھر گیا تھا۔ سینٹرل سینما کے مالک عابد علی اور ان کے ساتھی کے۔ مودی، تھئیٹر کے منیجر اور دیگر سبھی ملازم فلم کے ڈبوں کا پرجوش انتظار کر رہے تھے اور اپنے اپنے کمرے کے دروازے پر ہی کھڑے تھے۔

تبھی انٹرویل تک کی فلم کی گراریاں آ پہنچیں۔ میں پروجیکٹر کمرے میں ایک بے یارومددگار آدمی جیسا بیٹھا تھا۔ عابد علی نے درخواست کی کہ میں تھئیٹر میں بیٹھ کر فلم دیکھوں۔ لیکن ناظرین میں بیٹھ کر یہ فلم دیکھنے کی مجھ میں ہمت نہیں تھی۔ ڈر لگ رہا تھا۔

فلم کی پہلی گراری شروع ہو گئی۔ پروجیکٹر کے بغل میں ہی ایک اور جھروکا تھا۔ میں اس میں سے جھانک کر دیکھنے لگا۔ پردے پر پربھات’ کا ٹریڈ مارک دکھائی دیا۔ بھیری کے سُر سنائی دیے، اور ساتھ ہی ناظرین کی تالیوں کی گونج بھی سنائی دی۔ ناظرین بڑی امید سے آئے تھے۔

پردے پر ایک عورت اور ایک مرد کے پاؤں چلتے ہوئے دکھائی دیے۔ ان کے نقشِ پا سے کیچڑ پر ابھرے حروف ‘آدمی’ پردے پر دکھائی دیتے ہی کریڈٹ دکھانے کا یہ نیا خیال لوگوں کو پسند آ گیا، انہوں نے پھر تالیوں کی گڑگڑاہٹ کی۔ اب تو میرا دل اور بھی دھڑکنے لگا۔ پردے پر ڈائریکٹر کا نام دکھائی دیتے ہی ناظرین نے تالیوں سے اتنی زوردار داد دی کہ سن کر میرے ہاتھ پاؤں کی ساری طاقت جاتی رہی۔ میں دھرم سے پاس رکھے مونڈھے پر بیٹھ گیا۔ میرے آنسو بہہ نکلے۔ پروجیکٹر آپریٹر نے مجھے آنکھیں پونچھتے دیکھ لیا اور فوراً ہی کولڈ ڈرنک کا گلاس تھما دیا۔ لیکن مجھے تو کولڈ ڈرنک پینے تک کی بھی ہوش نہیں تھی۔ میرے تھکے ماندے من میں ایک ہی سوال الٹا سیدھا ناچ رہا تھا: ‘کیا ناظرین کی امیدوں کو میں پورا کر سکوں گا؟’ نظر زمین پر گڑی تھی۔ کوئی میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ وہ بابوراؤ پینڈھارکر تھے۔ فلم کے آگے کے سارے حصے وہ سنسر کو دکھا کر لے آئے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی انہوں نے فخر سے سینہ تان کر مجھے سلام کیا اور کہنے لگے، “شانتارام بابو، پتہ نہیں کن الفاظ میں آپ کو مبارکیں دوں؟”

میں نے ایک دم معصوم بچے کی طرح ان سے پوچھا، “سچ؟ سچ مچ اتنی پسند آئی آپ کو ‘آدمی’ ؟”

“جی! جی ہاں! جی ہاں!!” انہوں نے زور دے کر کہا۔

ان کی بات پر یقین نہیں ہو رہا تھا مجھے۔ ہو سکتا ہے وہ محض مجھے سمجھا بجھا رہے ہوں۔ غیر یقینی کا یہ احساس میری آنکھوں میں انہوں نے بھی شاید دیکھ لیا اور سمجھاتے ہوئے بولے، “چلیے، اٹھیے۔ اب آپ یہاں نہ بیٹھیے۔” پروجیکٹر کمرے کے پاس ہی ایک کمرا تھا، اس میں وہ مجھے لے گئے۔ میرے سامنے کھانے پینے کی کچھ چیزیں رکھ کر بولے، “لگتا ہے آپ نے کل سے کچھ بھی کھایا پیا نہیں ہے۔ پہلے آپ اطمینان سے کھا لیجیے۔ تب تک فلم کو ناظرین کیسی کیسی داد دے رہے ہیں، میں دیکھ آتا ہوں۔”

کمرے میں میں اکیلا تھا۔ میں نے ان کھانے پینے کی طرف صرف دیکھ لیا۔

فلم ختم ہونے کے بعد بابوراؤ پینڈھارکر میرے پاس آئے۔ انہوں نے مجھے کس کر گلے لگا لیا اور رندھی آواز میں کہنے لگے، “شانتارام بابو، فلم دیکھ کر باہر آئے سارے ایگزیمینرز ایک آواز سے کہہ رہے ہیں کہ اس موضوع پر ایسی فلم کا بنانا صرف اکیلا شانتارام ہی کر سکتا ہے!”

پھر کیا تھا! اب تک بڑی کوشش کر تھام رکھے آنسو پھر بہہ نکلے۔ میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر بابوراؤ نے کہا، “اب آپ یہاں اس طرح آنسو بہاتے نہ بیٹھیے، چلیے، میرے ساتھ باہر آئیے۔ کافی لوگ آپ سے ملنے کے لیے باہر انتظار کر رہے ہیں۔”

“اجی، لیکن اس شکل و صورت میں؟ کل سے میں نہایا تک نہیں۔۔۔”

باہر جانے کے لیے میں آنا کانی کر رہا تھا۔ تبھی کیشوراؤ داتے کمرے میں آئے۔

میری پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے بولے، “بھئی واہ! کیا کمال کا فن پارہ بنا یا ہے آپ نے!”

میں نے ان کی طرف بھی اسی سوالیہ نظر سے دیکھا۔

“اجی شانتارام، اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں آپ؟ چلیے، باہر چلیے۔”

وہ دونوں مجھے لگ بھگ کھینچتے ہوئے باہر لے گئے۔ مجھے دیکھتے ہی سامنے ہی کھڑے چندر موہن نے دوڑ کر مجھے عملی طور پر کندھوں پر اٹھا لیا اور نہایت خوشی سے وہ پاگل سا ناچنے لگا : “یہ ہیں ہمارے انّا! میرے گرو! انّاصاحب یہ پِکچر بیس سال آگے کی ہے۔”

اس کے بعد کافی ناظرین اور ناقدین بھی ملے۔ تھوڑے بہت فرق سے سبھی نے یہی رائے ظاہر کی۔ سبھی لوگ کافی پُرجوش ہو گئے تھے۔ لیکن مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں بہت بیمار ہو گیا ہوں، کوئی طاقت نہیں رہی ہے۔ میں نے بابوراؤ کو بتایا، “میرے ہاتھ پاؤں میں کپکپی چھوٹ رہی ہے۔ مجھے گھر پہنچائیے۔۔۔ میں سونا چاہتا ہوں۔۔۔”

میں گھر گیا اور ایسے سو گیا کہ دوسرے دن سویرے گیارہ بجے ہی جاگا۔ بابوراؤ میرے جاگنے کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ بعد کے شو کے سمے ہوئی کئی مزیدار باتیں وہ بتانے لگے : پہلے دن کے آخری شو کے لیے بامبے ٹاکیز کے مالک ہمانشو رائے اور دیوکا رانی آئے تھے۔ انٹرویل کے سمے ہمانشو رائے یہ چِلّاتے ہوئے ہی باہر آئے کہ “کہاں ہے وہ چُنی لال کا بچہ؟” بامبے ٹاکیز کے منیجر سر رائے بہادر چنی لال انٹر ویل ہونے سے پہلے کچھ دیر تک ان کے ساتھ بیٹھ کر ‘آدمی’ دیکھ رہے تھے۔ بعد میں نہ جانے کہاں غائب ہو گئے تھے۔ یہ دیکھ کر کہ ہمانشو رائے چنی لال جی کو اتنی بے چینی سے کھوج رہے ہیں، بابوراؤ پینڈھارکر لپک کر آگے بڑھے اور پوچھا، “کیوں، آخر بات کیا ہے؟” اس پر ہمانشو جھنجھلا کر برس پڑے، ” دیٹ رائے بہادر کا بچہ ہیڈ ٹیلیفونڈ می آفٹر سینگ فرسٹ شو سیئنگ ‘آدمی’ از ہمبگ۔ آئی وانٹ ٹو تھریش دیٹ فیلو فار سیئنگ بکواس ٹو سچ اے ماسٹر پیس !”

(That Rai Bahadur ka Bachha had telephoned me after seeing first show saying ‘Admi’ is humbug. I want to thrash that fellow for saying bakwas to such a masterpiece.)

لیکن ڈر کے مارے کہیں دبکے بیٹھے چنی لال جی ہمانشو رائے کو آخر تک کہیں بھی نہیں ملے! اتنا کہہ کر بابوراؤ قہقہہ مار کر ہنسنے لگے۔ میں بھی ان کی ہنسی میں شامل ہو گیا۔ میرا خیال ہے، شاید پچھلے ایک مہینے میں پہلی بار میں من سے کھل کر ہنس پایا تھا۔

بابوراؤ نے کہا، “اب چلیے، اٹھیے پہلے داڑھی بنا لیجیے۔ ذرا آئینے میں دیکھیے تو سہی، کتنی بڑھ چکی ہے داڑھی۔”

میں نے اپنا عکس دیکھنے کے لیے آئینہ دیکھا۔ آئینے سے کوئی اجنبی سنیاسی ترانٹ اور لال سرخ آنکھوں سے مجھے گھور رہا تھا۔ پل بھر تو میں اپنے آپ کو پہچان بھی نہ سکا۔ پھر تیزی سے داڑھی بنانے میں لگ گیا۔ تھوڑی دیر بعد فون ٹھنکا۔ بابوراؤ نے فون اٹھایا۔ ان کی بات میں نے سن لی۔ کہہ رہے تھے، “ذرا رکیے، شانتارام بابو یہاں ہیں۔ آپ انہی سے بات کر لیجیے۔” رسیور میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے بابوراؤ نے بتایا، “پولیس داروغہ رانے۔”

میں نے فورا رسیور پر ہاتھ رکھ کر چونک کر پوچھا، “پولیس داروغہ؟ کیوں؟” کچھ ڈرتے ڈرتے ہی میں نے فون کان سے لگایا اور ذرا سی ناخوشی سے ہی “ہیلو” کیا۔ اس طرف سے زور سے پُرجوش آواز آئی، “کانگریچلیشنس!” مجھے اپنے کانوں پر بھروسہ نہیں ہو رہا تھا۔ میں نے پھر پوچھا، “جی، کیا فرمایا آپ نے؟”

“اجی، ‘آدمی’ کے لیے آپ کو بدھائیاں! سب لوگ ہم پولیس والوں کو بے حیا اور انسانیت نہ رکھنے والے راکھشس مانتے ہیں۔ لیکن آپ نے اپنے اس ‘آدمی’ کے ذریعے دنیا کو دکھا دیا کہ ہم لوگ بھی آدمی ہی ہیں! ہم سبھی پولیس والوں کی طرف سے دلی شکریہ!” کہتے کہتے ان کا گلا رندھ گیا۔ بھاری آواز میں انہوں نے کہا، “گاڈ بلیس یو!” اور انہوں نے فون بند کر دیا۔ ایسے ایسے غیر متوقع لوگوں سے اتنی دلی مبارکباد پا کر میں تو سُن پڑ گیا۔ کافی دیر تک کرسی پر ویسا ہی بیٹھا رہا۔ داڑھی آدھی بنی تھی اور آدھے حصے پر لگا صابن سوکھتا جا رہا تھا۔

بمبئی کے سبھی اخباروں نے ‘آدمی’ کی تعریف میں اپنے کالم بھر دیے تھے۔ بابوراؤ نے ان سبھی اخباروں کو میرے سامنے پھیلا کر رکھا اور بڑی خوشی سے کہنے لگے، “پڑھ کر دیکھیے بھی، اخباروں نے کیا کیا لکھا ہے؟”

کیا کہہ رہے ہیں اخبار والے؟”

اجی، ایسے ٹھنڈے پن سے کیا پوچھ رہے ہیں آپ؟ ‘آدمی’ کی تعریف کے لیے لفظ نہیں مل رہے ہیں انہیں!”

میری آنکھیں بھر آئیں۔

“کسی نے کچھ تو تنقید کی ہوگی نا؟”

“بالکل نہیں۔ سب نے ایک مت سے رائے ظاہر کی ہے، فیصلہ دیا ہے : بہت ہی ایکسیلنٹ!”

میں نے ان سبھی اخباروں کو ایک طرف ہٹاتے ہوئے کہا، “تب تو کیا پڑھنا!”

“اجی، آپ ذرا صحت مند ہو جانے کے بعد پڑھیے۔ اس تنقید کو پڑھنے کے بعد آپ کو پتہ چلے گا، آپ نے ‘آدمی’ میں کیا کیا، کِیا ہے!”

ان کی بات صحیح تھی۔ ‘آدمی’ میں میں نے کیا کیا کِیا ہے میں بُھلا بیٹھا تھا۔ میرا دماغ سُن سا ہو گیا تھا۔ جسم میں کوئی خوشی، جوش نہیں رہا تھا۔ ‘آدمی’ کے بارے میں کسی نے دو لفظ کہے نہیں کہ میرے آنسو بہہ نکلتے تھے۔ اتنا جذباتی ہو گیا تھا میں!

آخر میں پُونا آ گیا۔ پُونا کے ڈاکٹر بھڑکمکر نے میری صحت کی جانچ کی اور تشخیص بتائی: ‘نروس بریک ڈاؤن’!

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 21: آدمی (ترجمہ: فروا شفقت)

بیتی باتوں سے من کھٹا ضرور ہوا تھا۔ پھر بھی سڑک پر گشت لگانے والا پولیس حوالدار اور لال روشنی میں بھیگی وہ ویشیا من میں گہرے بیٹھ چکے تھے۔ وہ دونوں مجھ سے باتیں کرتے تھے۔ کئی بار تو میں اپنے ہی وچاروں میں اس طرح کھو جاتا کہ اور کسی بات کا ہوش حواس تک نہ رہتا۔ بھاسکرراؤ کے ساتھ میری کئی بیٹھکیں ہونے لگیں اور ‘آدمی’ روپ لینے لگی۔

آج تک کی سبھی فلموں کے ہیرو سے ‘آدمی’ کا ہیرو مکمل نرالا بنانا طے کیا۔ عام فلموں کا ہیرو ہمیشہ تمام خوبیوں کا پتلا، دِکھنے میں سُندر، بہت بہادر اور نہ جانے کیا کیا نہیں ہوتا تھا۔ ان سبھی پرانے خیالات کی لیک سے ہٹ کر ‘آدمی’ کا ہیرو عام آدمی جیسا ہو، اس کے اندر وہ سبھی خامیاں اور خوبیاں ہوں جو عام آدمی میں پائی جاتی ہیں، یعنی وہ ایک دم ‘اینٹی ہیرو’ ہو، اِس طرح اُس کی تخلیق کرنا میں چاہتا تھا۔

ہیروئین تھی ایک ویشیا، مجبوری کے کارن اس پیشے میں پڑی۔ جیون میں بہت سی تھپیڑیں کھا چکنے کے کارن پتھرائی سی، کچھ چالو، خود غرض، لیکن پھر بھی اتنی ہی بھولی بھالی اور دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنے والی، کسی خاندانی عورت کی طرح جیون بِتانے کے سپنوں میں کھونے والی اس طرح کے باہمی مخالف رنگوں میں رنگی ہوئی ہیروئین کو میں نے بیان کیا۔

بھاسکرراؤ امیمبل نے میرے اس بیانیہ پر مبنی دونوں اہم شخصیتوں کو تحریر کیا اور پورا سکرین پلے تیار کیا۔ کہانی بہت ہی چست، چھوٹی، پھر بھی چُھو جانے والی بن پڑی۔ ان دنوں اپنے ترقی پسند وچاروں کے لیے مشہور لیکھک اننت کانیکر نے مراٹھی ورژن کے مکالمے لکھے اور ہندی کے لیے وہ کام منشی عزیز نے کیا۔ سنگیت سنوارنے کا کام ماسٹرکرشن راؤ کو سونپ دیا گیا۔

میں چاہتا تھا کہ اس فلم کی ساری تکنیک ہی ایک دم نئی ہو۔ لیکن ٹھیک ٹھیک کیسی ہو، اس کی کوئی واضح سوچ بن نہیں پا رہی تھی۔ فلم کی ریہرسل شروع ہو گئی۔ عام طور پر میرا رواج یہی تھا کہ ریہرسل سے پہلے ہر سین کا تخیل، اسے کیسے کیسے آگے بڑھانا ہے، اس سے کیا اثر متوقع ہے، کیسے اس میں رنگ اور رس بھرنے ہیں، اس کا واضح خاکہ من میں تیار کر لوں۔ لیکن اس بار میں خود بہت ہی تذبذب میں تھا۔ آخر میں یہی سوچ کر کہ ریہرسل کرتے کراتے ہی فلم کے مختلف منظروں کا تانا بانا من میں برابر بن جائے گا، میں نے بڑی محنت سے ریہرسل کرانا شروع کر دی۔ کسی ایک ہی سین کو الگ الگ ڈھنگ سے بنانے کی کوشش کرنے لگا۔ اور مجھے نت نئے خیالات سوجھنے لگے۔ فتے لال بھی سیٹ کی تصویریں بنانے میں لگ گئے۔ جانداری اور حقیقت لانے کے لیے مَیں فتے لال جی کو ساتھ لیے چکلہ بستیوں کی ہر گلی چھاننے لگا۔ پولیس والوں کی ہر بستی میں ہم لوگ ہو آئے۔ اس کے بعد انہوں نے سیٹ لگوانا شروع کیا۔ بمبئی کی بھونڈی، بھدی بستیوں کی چال، پولیس کی بیرکیں یا داروغہ کا تھانہ، سب کو میں اتنا اصلی بنانا چاہتا تھا کہ ناظرین کو ایسا لگے کہ ہم لوگوں نے ان موقعوں پر وہاں جا جا کر ہی شوٹنگ کی ہے۔

جیسے جیسے ریہرسلز ہونے لگیں، سین کی شوٹنگ کے مختلف آئیڈیاز اور استعمال میں لانے لائق علامتوں کی جیسے جھڑی سی لگ گئی۔ ان میں سے کِسے لینا، کِسے چھوڑنا، اس کی کنفیوژن ہونے لگی۔ دل و دماغ پر بس ایک ہی دھن سوار ہو گئی کہ کیسے ‘آدمی’ کو انتہائی حقیقی بنایا جائے۔

شوٹنگ شروع ہوئی اور ہم سب پر فلم میکنگ کا نشہ سا سوار ہو گیا۔ اس میں کتنا لطف آتا تھا، لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ہم لوگ کام میں اتنے مست ہو جاتے تھے کہ دن ڈوب بھی گیا تب بھی لگتا تھا کہ شوٹنگ کبھی رکے ہی نہیں، بس چلتی ہی رہے۔ فلم کا ہیرو گنپت اپنے سینئر ساتھیوں کے ساتھ جوۓ کے کسی اڈے پر چھاپہ مارتا ہے۔ وہاں وہ ایک ویشیا کو جس کا نام کیسر ہوتا ہے، پکڑ لیتا ہے۔

اس کے ساتھ وہ اسی حقارت سے باتیں کرتا ہے جیسی کسی مجرم کے ساتھ کی جاتی ہیں۔ وہ اس کے سبھی سوالات کا لا پرواہی سے جواب دیتی تو ہے، لیکن اس کے جوابوں سے اس کے من میں مہذب سماج کے لیے جو کڑواہٹ کوٹ کوٹ کر بھری ہے، صاف ابھر آتی ہے۔ انجانے میں اُس کا درد اُس کٹھور پولیس سپاہی کے من کو چھو جاتا ہے۔ اس سین میں اس سخت پولیس جوان کے منہ میں کوئی مکالمے ڈالے جاتے تو ایک دم بے تکے سے لگتے۔ کیسر اور گنپت جب سڑک پر چلتے رہتے ہیں، تو ادھر سے کسی دوسرے پولیس سپاہی کی سیٹی سنائی دیتی ہے۔ قدموں کی آہٹ سے لگتا ہے کہ سیٹی بجانے والا وہ دوسرا پولیس والا ان دونوں کے پاس آتا جا رہا ہے۔ گنپت فوراً کیسر کو کسی اوٹ میں دھکیلتا ہے اور اپنا اوور کوٹ اس پر پھینکتا ہے، تاکہ کیسر اُس دوسرے پولیس والے کو دکھائی نہ دے۔ وہ پوری طرح سے کوٹ کے پیچھے چھپ جاتی ہے، بچ جاتی ہے۔ اِس چھوٹے سے عمل کے ذریعے گنپت ناظرین کو یہ محسوس کراتا ہے کہ اس کے من میں کیسر کے لیے ہمدردی جاگتی ہے۔ اس سین کا جو اثر اس واقعہ کے کارن ممکن کیا گیا، وہ ہزار لفظوں سے بھی کبھی نہ ہو پاتا۔

ایک بار فلم کی ہیروئین کیسر کے کوٹھے کے ایک سیٹ پر شوٹنگ جاری تھی۔ سین کافی نزاکت بھرا تھا۔ ہم لوگ اس میں رنگ گئے تھے۔ تبھی شانتا آپٹے کے بھائی بابوراؤ بڑی جلدی جلدی سیٹ پرآئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر منت بھری آواز میں کہنے لگے، “شانتارام بابو، پہلے میرے ساتھ آئیے! دیکھیے بھی ادھر امی کیا کیا کر رہی ہے! (بابوراؤ اپنی بہن کو امی کہا کرتے تھے) وہ کواڑ اندر سے بند کر بیٹھی ہے۔ میں نے اسے آواز دی تو پاس پڑا پیپرویٹ اس نے کھڑکی سے مجھ پر پھینکا۔ آپ پہلے چلیے!”

وہ مجھے لگ بھگ کھینچ کر ہی وہاں سے لے گئے۔

زینہ چڑھ کر میں شانتا آپٹے کے کمرے کی طرف گیا۔ بابوراؤ مجھے کھینچ کر کھڑکی کے پاس لے گئے۔ میں نے اندر جھانک کر دیکھا، تو وہاں ایک عجیب حال تھا؛ شانتا آپٹے ایک کرسی پر لاش جیسی جڑوت بیٹھی تھیں۔ بابوراؤ نے بتایا کہ فتے لال جی نے اسے ڈانٹا اور غصے میں آ کر اسے پیٹنے کے لیے اپنی چھتری بھی اٹھائی۔ ان کی باتیں سننے کے لیے میں وہاں رُک ہی نہ پایا۔ دندناتا ہوا زینہ اتر کر فتے لال جی کے کمرے کی طرف چل پڑا۔

‘دنیا نہ مانے’ فلم کے بعد شانتا آپٹے کافی مشہور ہو چکی تھیں۔ کافی دنوں کے لیے وہ جنوب میں سیر کرنے گئی تھیں۔ ادھر کے جذباتی لوگوں نے اس کا کافی پیارو محبت سے استقبال کیا تھا۔ عوام کے اس پیار، استقبال اور مہمان نوازی کی وجہ اسے اور بابوراؤ کو بے حد خوشی ہوئی تھی، جیسے آسمان ہاتھ آ گیا ہو۔ شانتا آپٹے جنوب کا دورہ کر واپس لوٹی تو اس کی ساری Paid leaves کے دن ختم ہو چکے تھے اور اوپر کچھ زیادہ ہی دن بیت چکے تھے۔ اُن دنوں دستور یہ تھا کہ ہماری کمپنی کے بڑے سے بڑے کلاکار کو یا تکنیکی ماہر کو بھی کام پر آتے ہی برابر attendance sheetپر دستخط کرنے پڑتے۔ paid چھٹی سے زیادہ دن غیر حاضر رہنے پر ان اضافی دنوں کی تنخواہ کاٹ لی جاتی تھی۔ لہذا اصول کے مطابق شانتا کی تنخواہ بھی کاٹی گئی اور باقی رقم اسے دی گئی۔ اس نے پیسے لینے اور attendance sheet پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ سب واقعہ ہوا تب میں تو ‘آدمی’ کی شوٹنگ میں مصروف تھا۔ لہذا اکاؤنٹنٹ نے معاملہ فتے لال جی کو سنایا۔ وہ شانتا کے کمرے میں جا کر اسے سمجھانے لگے تو وہ ایک دم جھنجھلا اٹھی اور سب کو کمرے سے باہر کر اس نے کواڑ اندر سے بند کر دیے۔

شانتا آپٹے کے اس طرح ادھم مچانے پر مجھے غصہ آیا۔ میں پھر تمتماتا ہوا سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آیا اور کھڑکی کے پاس جا کر اسے ڈانٹ کر بولا، “شانتا بائی، اٹھو!” میری آواز سنتے ہی وہ تڑاخ سے کھڑی ہو گئی۔ میں نے پھر حکم دیا، “دروازے کی کنڈی کھولو!” کسی کٹھ پتلی کی طرح اٹھ کر اس نے دروازہ کھولا۔

میں کمرے میں پہنچا۔ وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے پتہ نہیں کہاں کسی خلا میں دیکھ رہی تھیں۔ میں نے پہلے جیسے ہی ڈانٹ بھری آواز میں کہا، “کرسی پر بیٹھو!” وہ میری نظر سے نظر ملانے سے ڈر رہی تھیں۔ میں نے بابوراؤ کی طرف مڑ کر انہیں سے کہا، “نیچے جائیے اور ایک کپ کافی لے آئیے۔” بابوراؤ گئے اور کافی لے کر آ گئے۔ میں نے شانتا بائی سے کہا، “یہ کافی پی لو!” اس نے وہ گرم کافی پانی جیسے ایک ہی سانس میں پی ڈالی۔ تب میں نے کہا، “اب آپ بابوراؤ کے ساتھ گھر جائیے!” وہ کسی مشین کے طرح چل کر کمرے کے باہر جانے لگی۔ بابوراؤ بھی اس کے پیچھے پیچھے ہو لیے۔

شانتا بائی کو سنائی دے اتنی آواز چڑھا کر میں نے بابوراؤ سے کہا، “کل صبح شانتا بائی کو لے کر کمپنی میں آئیے۔ صاحب ماما سے بات کر ساری غلط فہمی دور کر لیں گے۔ ”

دھت۔۔۔ ماں کی! شوٹنگ کتنی رنگ پر آئی تھی اور یہ بےکار کی جھنجھٹ نہ جانے کہاں سے آ کھڑی ہوئی۔ اس کے کارن میں کافی پریشان رہا۔ قدم اپنے آپ اپنے آفس کی طرف مڑے۔ وہاں تھوڑی دیر میں اکیلا ہی بیٹھا رہا۔ شوٹنگ رکی پڑی تھی۔ نہیں، ایسا کرنے سے کام کیسے چل سکتا ہے؟ جو بھی ہو، آج کی شوٹنگ تو پوری کرنی ہی پڑے گی۔ شانتا آپٹے کے اس واقعہ سے من ہٹا کر میں پھر سے آج کی شوٹنگ پر مرکوز کرنے لگا۔ ناخوشگوار وچار آہستہ آہستہ چھنٹتے گئے۔ میں پھر شانت من سے شوٹنگ کرنے کے لیے سٹوڈیو کی طرف مڑا۔

دوسرے دن سویرے پونے نو بجے میں سٹوڈیو میں آ گیا۔ پہرے دار نے مجھے دیکھ کر ہمیشہ کی طرح سلام کیا۔ میں نے بھی عادت کے مطابق اپنا ہاتھ اونچا اٹھا کر سلام قبول کیا۔ چپڑاسی سے آنکھیں چار ہوتے ہی اس نے head attendance کے برآمدے کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے بھی اُدھر دیکھا۔ ایک بینچ پر شانتا آپٹے سوئی پڑی تھی۔ بابوراؤ بھی وہاں کھڑے کھڑے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ میں نے ان کے پاس جا کر حیرانی سے پوچھا، “آخر یہ سب ماجرا کیا ہے؟”

انہوں نے کہا، “کل کمپنی میں جو واقعہ ہوا، اس کے کارن امی اپنے آپ کو بہت ہی بےعزت محسوس کر رہی ہے اور اسی لیے اس نے یہاں بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔” شانتا بائی کے پاس جا کر میں نے اسے آواز دی، سنتے ہی اس نے آنکھوں پر کس کر رکھا ہاتھ کچھ ہٹایا اور مجھے دیکھا اس کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔ پھر فوراً ہی اس نے اپنی آنکھوں کو کس کر ڈھانپ لیا۔

“شانتا بائی، یہ کیا پاگل پن لگا رکھا ہے! میں نہیں سوچتا صاحب ماما جان بوجھ کر تمہیں بےعزت کریں گے۔ لیکن مان لو بھولے میں انہوں نے ویسا کیا بھی، تو میں تمہیں پھر بتاتا ہوں، ہم لوگ آپس میں بیٹھ کر ساری غلط فہمیاں دور کر لیں گے۔”

شانتا بائی اپنا رونا روک کر لیکن منہ پر سے ہاتھ نہ ہٹاتے ہوئے بولی، “اب اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا! آپ تو انہیں کی باتوں کو سچ مانیں گے۔ پھر اب آپ کو میری ضرورت بھی تو نہیں رہی۔ ‘آدمی’ کی ہیروئین کا کردار میں نے کتنی بار آپ سے مانگا، پھر بھی آپ نے وہ مجھے نہیں دیا!”

یہ سچ ہے کہ اس نے وہ کردار لینے کی ضد کی تھی، لیکن میں نے تب بھی اسے سجھا بجھا کر کہا تھا، “یہ کردار تو عمر میں کچھ بڑی، ادھیڑ عمر کی طرف بڑھتی عورت کو ہی پھبے گا۔ تم اس کام کے لائق نہیں ہو۔ پھر اس طرح کا رول کرنا تمہارے لیے مشکل بھی ہو گا۔ اگر اس کردار کو اچھی طرح نہیں نبھایا، تو ‘دنیا نہ مانے’ کے کارن تمہاری جو شہرت پھیلی ہے، دھندلی ہو جائی گی۔”

لیکن عورت ہٹ ایک ایسی چیز ہے کہ اس کے سامنے دنیا کی ساری دلیل بیکار ہو جاتی ہے۔ کم سے کم اس سمے تو اسے شانت کرنے کے لیے میں نے کہا، “میں آپ کو آئندہ فلم میں بہت اچھا کام دوں گا، جس سے تمہارا نام اور پھیلے گا۔” میرا اندازہ تھا، یہ سن کر وہ کچھ خوش ہو جائے گی اور بھوک ہڑتال کا یہ تماشا بند کر دے گی۔ لیکن وہ ہونے سے رہا۔ وہ بولی، “مجھے اب ‘پربھات’ کے فلم میں کام نہیں کرنا ہے۔ آپ مجھے کانٹریکٹ سے آزاد کر دیجیے!”

کانٹریکٹ سے آزاد کرنے کی بات اس کے منہ سے سنتے ہی میں آپے سے باہر ہو گیا۔ میں نے بھی آواز چڑھا کر کہا، “کانٹریکٹ سے آزاد ہونے کے لیے ہی تم نے یہ بھوک ہڑتال کی ہو تو کان کھول کر سن لو، ‘پربھات’ کے ساتھ کیے گئے کانٹریکٹ سے تمہں ہرگز آزاد نہیں کیا جا سکتا۔ ‘پربھات’ نے تمہیں اتنا نام دیا، شہرت دلائی، اسی کی عزت ایسے ناٹک رچ کر تم کم کرنے جا رہی ہو۔ اس طرح کا طرز عمل کرنے والے کسی شخص کے بھی لیے میرے من میں کوئی عزت نہیں ہے— چاہے وہ شخص کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ تمہیں آخری بار وارننگ دیتا ہوں: بھوک ہڑتال کا یہ بےکار کا جھنجھٹ چھوڑ دو، سٹوڈیو میں چلو۔ بیکار کا تماشا کھڑا نہ کرو!”

میں نے اتنا سمجھایا، پھر بھی شانتا بائی نے کہا “میں آپ کے سٹوڈیو میں اب قدم بھی رکھنا نہیں چاہتی۔ جب تک آپ کانٹریکٹ سے آزاد نہیں کرتے، میں یہاں سے ہٹوں گی نہیں!” اب میری قوت برداشت کا باندھ ٹوٹ گیا۔ میں نے اس سے صاف کہہ دیا، “اس کے بعد میں تمہیں سمجھانے کے لیے بھی نہیں آؤں گا۔ اس بھوک ہڑتال کے کارن تمہیں کچھ ہو گیا، تب بھی ادھر جھانکوں گا نہیں۔”

شانتا آپٹے کے اندر جو کلاگن ( فنی خوبیاں) تھے، گائیکی میں جو ہنر تھا اور اپنی اداکاری سدھارنے کے لیے اس نے جو کڑی محنت کی تھی، اس کے کارن اُس کے لیے میرے من میں کاروباری ستائش کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ ایک بار تو اس نے ایسی ہمت دکھائی تھی کہ اس کے کارن میرے من کے کسی کونے میں اپنے لیے تھوڑی سی جگہ بھی بنا لی تھی۔ بمبئی کے فلم انڈیا ماہنامہ میگزین کے ایڈیٹر نے شرارت سے اس کے بارے میں کچھ بدنامی کرنے والا مواد چھاپا تھا۔ تب شانتا بائی بینت کی چھڑی لے کر اس میگزین کے ایڈیٹر بابوراؤ پٹیل کے آفس میں گئی تھیں اور اس کی ایسی پٹائی کی تھی کہ پوچھیے نہیں۔ اس کے بعد وہ فوراً پونا آئیں اور سارا قصہ مجھے بتا دیا۔ اس کے اس کارنامے پر ناراض نہ ہو جاؤں اس لیے وہ زنانہ رویے کے کارن خود ہی رونے لگی تھیں۔ میں نے اس کو تسلی دی تھی۔ میرا خیال ہے کہ کسی نٹ کھٹ ایڈیٹر کو بینتیں جما کر سبق سکھانے والی شاید شانتا آپٹے پہلی سینما ایکٹر تھی۔

آج بھی اس معاملے کے خلاف جسے وہ اپنے ساتھ کی گئی ناانصافی مانتی ہے، بھوک ہڑتال کرنےکی ہمت اس نے دکھائی تھی۔ یہ بھی ایک لحاظ سے میرے من میں ستائش کا ہی موضوع تھا۔ لیکن، جس ‘پربھات’ نے اس کے اندر کے کلاگنوں کو آسمان پر لا کر اسے شہرت کی چوٹی پر پہنچایا تھا، اسی ‘پربھات’ کے نام پر اس طرح بھوک ہڑتال کے ذریعے کیچڑ اچھالنے کی اس کی یہ کوشش مجھے قطعی پسند نہیں تھی۔ میں نے من ہی من فیصلہ کیا کہ پہریدار کے جس کمرے میں وہ مزاحمت کرنے بیٹھی ہے، اس راستے اس کے وہاں بیٹھی رہنے تک آنا جانا بند رکھوں گا۔ وہاں سے میں سیدھے سٹوڈیو گیا۔ بڑھئی کو بلوایا اور اسے ہدایت دی کہ کمپنی کے احاطے کی دوسری طرف جو باڑ لگی ہے اسے ہٹوا کر وہ وہاں سے آنے جانے کا راستہ فوراً تیار کرے۔ تبھی داملے جی، فتے لال جی بھی کمپنی میں آ گئے۔ میں نے انہیں شانتا بائی اور میرے بیچ ہوئی ساری باتیں بتا دیں۔ تبھی کسی نے ہڑبڑاہٹ میں آ کر بتایا کہ “گیٹ پر بابوراؤ ہاتھ میں بندوق لیے شانتا بائی پر پہرہ دے رہے ہیں!”

یہ سوچ کر کہ ان بہن بھائی کے عجیب و غریب طرز عمل پر کوئی دھیان نہ دیا جائے، میں سیٹ پر چلا گیا۔ من کو یکسو کرتے ہوئے کام کرنا شروع کیا۔ دھیرے دھیرے کام نے ہمیشہ کی طرح رفتار پکڑی۔ تبھی پہلے والی خبر دینے والے اسی آدمی کو پھر سیٹ پر آتے میں نے دیکھا۔ اسے پاس بلا کر پوچھا تو اس نے بتایا کہ، “انّا، بابوراؤ کی پلاننگ پر کچھ رپورٹر آئے ہیں اور وہ شانتا بائی سے انٹرویو کر رہے ہیں۔”

میرے غصے کا ٹھکانا نہ رہا۔ میں نے اس آدمی کو بتا دیا، “انہیں جو جی میں آئے، کرنے دو، مجھے تو اپنا کام کرنا ہے!” کیمرا مین کی طرف مڑ کر میں نے پوچھا، “اودھوت، تم تیار ہو نا؟”

“جی ہاں، انّا۔”

“ٹھیک ہے، چلیے سب لوگ تیار۔ شاٹ لینا ہے۔ ٹیک۔”

‘ٹیک’ کہتے ہی پربھات کے پورے خاندان میں ‘خاموش’ رہنے کا اعلان دینے والے بھومپو بج اٹھے۔ اس دن میں ایک کے بعد ایک لگاتار شاٹس لیتا گیا۔ میں بھی ضد پر اتر آیا تھا اس لیے یا میرے غصے سے ڈر کر سبھی لوگ پورا دھیان لگا اپنا اپنا کام کیے جا رہے تھے۔ اس لیے میری شوٹنگ کا کام زیادہ تیزی سے ہونے لگا تھا۔ ہر شاٹ کے شروع کے سمے پربھات احاطہ بھونپوؤں کی آواز سے لگاتار دندنا جاتا تھا۔ وجہ یہی تھی کہ شانتا بائی اچھی طرح سمجھ لے کہ اس کی بھوک ہڑتال کے کارن میں ذرا بھی متاثر نہیں ہوا ہوں۔

شام ہو گئی۔ بڑھئی نےجو نئی راہ بنائی تھی، اسی سے میں سٹوڈیو کے باہر گیا۔ یہ سوچ کر کہ دن بھر بھوکے پیاسے رہنے کے کارن ممکنہ طور بھائی بہن کی عقل ٹھکانے آ گئی ہو گی، وِمل کو میں نے ان دونوں کے لیے بھوجن کا ڈبہ اور دو تھالیاں نوکر کے ہاتھ بھجوا دینے کے لیے کہا۔ ساتھ میں ان کے لیے پیغام بھی بھجوا دیا، “کھانا کھا لو۔ بھوکے مت رہو۔” لیکن وہ ڈبہ جیسا کا تیسا لوٹا دیا گیا۔ دوسرے دن اخباروں میں شانتا بائی کی بھوک ہڑتال کی خبر بڑی موٹی سرخیوں کے ساتھ چھپی۔ وہ زمانہ مہاتما گاندھی کی ستیاگرہ تحریک کا تھا۔ نتیجتاً ایک مقبول اداکارہ کی بھوک ہڑتال کی خبر ‘ٹائمز آف انڈیا’ جیسے وزن دار اخبار میں بھی ‘کرنٹ ٹاپکس’ میں بڑے چاؤ سے چھپ گئی۔ چھپے الزامات کی تردید کرنےکی ضرورت میں نے محسوس نہیں کی۔ لیکن ایک ڈر سا ضرور لگ رہا تھا کہ اس ہٹ دھرمی کے کارن کہیں شانتا بائی کو کچھ ہو نہ جائے!

اپنا ڈر میں نے داملے جی کو بھی سنا دیا۔ تو وہ ایک دم ٹھنڈی آواز میں کہنے لگے، “وہ کبھی مرنے والی نہیں ہے! شانتا بائی جہاں ستیاگرہ کر رہی ہیں، اس کے پیچھے ہی ہماری کنٹین کا ایک دروازہ ہے۔ اس کی دراڑوں میں سے ٹوہ لیتے رہنے کے لیے میں نے ایک آدمی کو تعینات کیا ہے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ اس کے پاس پانی کا جو لوٹا رکھا ہے اس میں پانی نہیں، دودھ ہے اور بابوراؤ تھوڑے تھوڑے سمے بعد اسے وہ دیتے رہتے ہیں۔”

اور ایک دن ایسے میں ہی بیت گیا۔ بیچ میں بابوراؤ جا کر کسی ڈاکٹر کو لے آئے۔ اس ڈاکٹر نے دونوں کو گمبھیر وارننگ دی کہ بھوک ہڑتال اور ایک دن جاری رکھی تو اس کا شانتا بائی کی آواز پر برا اثر ہو جائے گا۔ ممکن ہے ان کے گلے کے vocal cords ہمیشہ کے لیے بے کار ہو جائیں۔

دوسرے دن ہمیشہ کی طرح شوٹنگ شروع کی۔ کام کرتے کرتے بیچ ہی میں شانتا بائی کی بھوک ہڑتال کا خیال من میں آتا اور من بے چین ہو اٹھتا۔ لیکن میں اپنے آپ کو سمجھاتا تھا کہ کچھ بھی ہو، اپنے کام میں کسی بھی طرح کی ڈھیل نہیں آنے دینی ہے۔ یہی سوچ کر میں نے اس دن کی شوٹنگ پوری کر لی۔

ہمیشہ کی طرح رات میں مَیں دوسرے دن کی شوٹنگ کا سنیریو لکھنے بیٹھا تھا۔ ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔ تبھی دروازے پر کسی نے گھنٹی بجائی۔ نوکر نے دروازہ کھولا۔ تھوڑی ہی دیر میں سنیریو لکھنے کی میری کاپی پر سامنے کی طرف سے دو پرچھائیاں پڑیں۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا: ‘دینک گیان پرکاش’ کے ایڈیٹر کاکا صاحب لِمیے اور ان کے ساتھ پ۔کے۔اترے سامنے کھڑے تھے۔ میں نے لپک کر ان کا استقبال کیا اور تشریف رکھنے کے لیے درخواست کی۔ لیکن انہوں نے کھڑے کھڑے ہی کہا، “شانتا آپٹے بھوک ہڑتال توڑ کر گھر جانے کے لیے تیار ہیں، بشرطےکہ آپ خود جا کر اسے ویسا کہیں۔ پھر وہ کمپنی کے دروازے پر دیا گیا دھرنا اٹھا کر چلی جائےگی۔” میں بھی اپنی ضد پر اڑا تھا۔ میں نے ان دونوں سجنوں کو بتایا، “اجی، یہی بات میں نے پہلے ہی دن اس سے زیادہ اچھی طرح سے سمجھائی تھی۔ لیکن شانتا نے میری ایک نہ سنی۔ الٹے، رپورٹرز کو انٹرویوز دے دے کر اس نے میری ‘پربھات’ کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ میں ہرگز نہیں آؤں گا اب اسے منانے کے لیے!”

میری بات سن کر لِمیے جی مجھے سمجھانے لگے، “شانتارام بابو، آپ اپنا غصہ اب تو چھوڑیے، مالک مزدور، یا ڈائریکٹر کلاکار کے طور آپ نہ سوچیے۔ صرف انسانیت کی نظر سے دیکھیے۔ ہماری راۓ میں آپ ایک بار خود جا کر اسے گھر چلی جانے کے لیے صرف کہہ دیں۔ صرف انسانیت کے احساس کے نقطہ نظر سے سوچیے۔”

حالانکہ میں چاہتا تو نہیں تھا، لیکن اپنی خواہش کے خلاف ان دونوں کے ساتھ میں سٹوڈیو گیا۔ شانتا بائی attendance headکے بیٹھنے کی جگہ پر نیچے فرش پر سوئی تھیں۔ اس کے پاس جا کر میں نے بہت ہی بے رخی سے کہا، “شانتا بائی اٹھو، اور اپنے گھر چلی جاؤ۔”

میری آواز سنتے ہی اس نے آنکھیں کھولیں اور روہانسی آواز میں بولی، “میری تنخواہ تو گھر بھجوا دیں گے نا؟” سوچا، کہاں تو یہ اپنےعزت نفس کو ٹھیس لگنے کے کارن ایک اصول کے لیے ستیاگرہ کرنے بیٹھی تھیں، اور کہاں اب صرف تنخواہ کے لیے اپنا ستیاگرہ واپس لینے کو تیار ہو گئی ہیں! اور اس کے لیے میرے من میں رہی سہی ہمدردی بھی جاتی رہی۔

میں نے نہایت روکھے پن سے جواب دیا، “ہاں!”

وہ فوراً جانے کے لیے اٹھ کر کھڑی ہونے لگی۔ لیکن اپنا توازن کھونے کی ادا سے ایک دم مجھ پر گری۔ پل بھر میں نے سوچا، کہیں اس کا بھائی دنیا بھر میں یہ نہ کہتا پھرے کہ میں نے ہی اسے دھکا دیا۔ لہذا میں نے لپک کر اسے سہارا دیا اور یہ سوچ کر کہ ایک بار یہ بلا یہاں سے ٹلے، میں نے اسے ہاتھوں میں اٹھا لیا اور سامنے ہی کھڑی اس کی گاڑی میں لے جا کر دھر دیا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں یہ پھر سے یہیں ٹھیا جما کر بیٹھ نہ جائے۔ لیکن جیسے ہی میں نے اسے اس کی کار میں رکھا، اس نے فوراً اپنی بانہیں میرے گلے میں ڈالیں اور کس کر مجھ سے لپٹ کر رونے لگی۔ میں پس وپیش میں پڑ گیا۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں؟ ڈر یہ بھی تھا کہ پاس ہی کھڑے لِمیے، اترے، گیٹ پر تعینات پہریدار اور دیگر لوگ اس کا کچھ اور ہی مطلب نکالیں گے۔ لہذا میں نے اپنے ہاتھ ہٹا لیے۔ پریشان تو میں اتنا تھا کہ میرے ہاتھ چیچھڑوں کی طرح لٹکنے لگے۔ دبی آواز میں مَیں اس سے منتیں کرنے لگا، ”شانتا بائی، چھوڑو مجھے۔” لیکن وہ ماننے سے رہیں۔ اس کے آنسو میرے گالوں پر جھر رہے تھے۔ وہ اپنے گال میرے گالوں پر اور ہونٹ میرے ہونٹوں کے ساتھ مسلسل بار بار گھمانے لگی۔ اس کے اس پاگل پن کے کارن مجھے بہت ہی شرم محسوس ہونے لگی۔ غنیمت تھی کہ دیگر سب کی طرف میری پیٹھ تھی اور ادھر جاری لَو سین کسی کو دکھائی نہیں پڑ رہا تھا! سارا معاملہ ایک دم ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا۔ کاش! چِلّا پاتا! اُف! کیسی گھٹن پیدا کرنے والی مجبوری تھی! میں نے بہت ہی دبی آواز میں اسے مجھے چھوڑ دینے کے لیے کہا۔ تب جا کر کہیں اس نے اپنا شکنجہ ڈھیلا کیا!

میں چھٹتے ہی پیچھے ہٹا اور کار کا دروازہ دھڑام سےبند کر دیا۔ راحت کی سانس لی ہی تھی کہ اس کے بھائی نے مجھے کار کے پیچھے لے جا کر کس کر بھینچ لیا۔ اپنی بانہوں میں وہ بڑبڑانے لگا، “امی کی جان آپ نے ہی بچائی ہے۔ شانتا کو آپ نے۔۔۔” چھوڑنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ لو، پھر آ گئی آفت! کہیں اس نے بھی اپنی بہن جیسا ہی سلسلہ شروع کر دیا، میں بے طرح گھبرا گیا۔ بابوراؤ کے چنگل سے رہائی پانے کے خیال سے میں نے اُن سے کہا، “اب آپ فوراً اپنے گھر جائیے۔ شانتا بائی کو پہلے کچھ کھانے کو دیجیے، ورنہ ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔”

“جی ہاں، جی ہاں،” کہتے ہوئے بابوراؤ نے اپنی بھینچ سے مجھے رہا کر دیا اور وہ لپک کر کار میں جا بیٹھے۔ کار کا انجن تو کبھی کا سٹارٹ تھا۔ میں نے سڑک کے ٹریفک کنڑول کرنے والے پولیس سپاہی کی ادا سے ڈرائیور کو تیزی سے ہاتھ ہلا کر اشارہ کیا۔ شانتا بائی کو لے کر وہ کار تیزی سے کمپنی کے احاطے سے باہر نکل گئی۔

گھر لوٹا تو داملے جی فتے لال جی میری راہ دیکھ رہے تھے۔ شانتا آپٹے آخر گھر لوٹ گئیں، یہ سننے کے بعد انہوں نے بھی راحت کی سانس لی۔ سچ کہا جائے تو اس جھمیلے کے کارن وہ دونوں کافی سٹپٹا گئے تھے۔ وِمل کو بھی اس کے چلے جانے کی بات سن کر کافی اچھا لگا۔

کچھ سمے پہلے سکرین پلے اور سنیریو کی کھلی پڑی کاپی بڑی بے چینی سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ میں فوراً سنیریو لکھنے بیٹھ گیا اور وہ کام پورا کر کے ہی میں نے چین کی سانس لی۔ صبح صادق ہو چکی تھی۔ کچھ آرام کر لینے کے وچار سے میں بستر پر لیٹ گیا۔ نیند آنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ من میں وچاروں کا طوفان اٹھا تھا۔

شانتا آپٹے نے اس طرح کا سلوک کیوں کیا؟ پیچھے بھی دو ایک بار اُس نے مجھے پیار میں پھنسانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن میں نے تو اپنی طرف سے اُسے کسی بھی طرح سے کوئی بڑھاوا نہیں دیا تھا۔ یہ ٹھیک ہے کہ ایک ڈائریکٹر کے طور پر میں نے اچھی اداکاری یا اچھی گائیکی کے لیے اس کی تعریف کی تھی، اسے شاباشی بھی دی تھی۔ لیکن میں اس پر فریفتہ کبھی نہیں ہوا تھا۔ پھر وہ کیوں اس طرح میرے گلے پڑی؟ موہ (پیار) کے ایسے لمحے میرے جیون میں بار بار کیوں آتے ہیں؟ میں رہا ایک معمولی سیدھا سادہ آدمی! میں عمر بھر برہم چاریہ کا پالن کرنے کا عہد کر بیٹھا کوئی رِشی مُنی تو نہ تھا۔ پھر کیوں بھگوان اس طرح بار بار میرا امتحان لیتے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ مجھے اس کسوٹی پر پرکھنا چاہتے ہیں کہ میں اپنی کلا کے لیے ہمیشہ وقف رہ پاؤں گا یا نہیں؟

Categories
شاعری

مری شاعری پڑھنے والوں کے لیے وضاحت اور دیگر نظمیں (شاعر: نزار قبانی، مترجم: فاطمہ مہرو)

شاعر: نزار قبانی
ترجمہ: فاطمہ مہرو
نظرثانی: فرواشفقت

[divider]مری شاعری پڑھنے والوں کے لیے وضاحت[/divider]

احمق مرے بارے کہتے ہیں:
میں نے عورتوں میں ٹھکانہ ڈھونڈا
اور کبھی باہر نہیں نکلا۔
وہ مری پھانسی کا مطالبہ کرتے ہیں
کیونکہ اپنے محبوب کی ہر نسبت کو
مَیں شاعری بنا لیتا ہوں
میں نے کبھی تجارت نہیں کی
دوسروں کی طرح
حشیش کی۔
کبھی چوری نہیں کی۔
کبھی کسی کا قتل نہیں کیا۔
میں نے تو دن کے اجالے محبت کی۔
کیا مَیں نے گناہ کیا؟

اور مرے بارے احمق کہتے ہیں:
اپنی شاعری سے
مَیں نے الوہی قوانین توڑ ڈالے۔
کس نے کہا
محبت نے
آسمان کو بدنام کیا؟
آسمان تو مرا ہمراز ہے
یہ روتا ہے جب میں روؤں
ہنستا ہے جب میں ہنسوں
اور اس کے ستارے
اپنی تابناکی بڑھا لیتے ہیں۔
اگر
ایک دن مَیں محبت میں مبتلا ہوتا ہوں
تو کیا ہے اگر
اپنے محبوب کے نام پر میَں گیت گنگناتا ہوں
اور شاہِ بلوط کی طرح
ہر دارالحکومت میں، اُس کی پنیری لگاتا ہوں
محبت مری ادائے بندگی رہے گی
سب پیغمبروں کی طرح۔
اور یونہی بچپنا، معصومیت
اور بے گناہی۔
مَیں اپنے محبوب کی ہر چیز کو شاعری میں
ڈھالتا رہوں گا
یہاں تک کہ اُس کی سنہری زلفوں کو پگھلا کر
آسمان کی دھوپ بنا دوں۔
مَیں ہوں ایسا
اور اُمید ہے مَیں بدلوں گا نہیں،
بالکل بچہ
ستاروں سی دیواروں کو اپنی لکیروں سے بَھرتا ہوا
اُسی طرح، جیسے وہ چاہتا ہو
جب تک کہ محبت کی قدر
میرے وطن میں
ہوَا جتنی نہ ہو جاۓ
اور محبت کے متلاشیوں کے لیے مَیں نہ ہو جاؤں
ایک فرہنگ
اور ان کے لبوں پہ جاری نہ ہو جاؤں
کسی حروفِ تہجی
الف ب ج کی طرح ۔

Clarification To My Poetry-Readers

[divider]ماں کے لیے پانچ خطوط (2)[/divider]

میں تنہا ہوں۔
میرے سگرٹ کا کش بے کیف ہو گیا ہے،
حتٰی کہ مجھ سے میری نشست بھی۔
اڑتے پرندوں کے غول کی مانند مرے دکھ غلے کے کھیت تلاش رہے ہیں
میں نے یورپی حسیناؤں سے آشنائی کی
میں نے چھانے چٹیل اور بیلے بھی
ان کی تھکی ماندی تہذیب بھی
میں نے کی ہند و چین کی سیاحی
اور تمام مشرق کی!
اور مجھے کہیں نہیں ملی
ایک عورت جو میرے سنہری بال سنوارتی
ایک عورت جو میرے لیے اپنے بٹوے میں مصری کی ڈلی چھپاتی
ایک عورت جو مجھے کپڑے پہناتی جب میں برہنہ ہوتا
اور مجھے اٹھا لیتی جب مَیں گِر جاتا۔
ماں! مَیں وہ لڑکا ہوں جس نے بحری سفر کیے
اور آج بھی اُسے مصری کی ڈلی کی خواہش ہے
تو کیونکر اور کیسے مَیں، ماں!
ایک باپ بن گیا ہوں اور کبھی بڑا نہیں ہوتا۔

Five Letters To My Mother (2)

[divider]لَو، لالٹین سے زیادہ معنی خیز ہے[/divider]

لَو، لالٹین سے زیادہ معنی خیز ہے
نظم، بیاض سے بڑھ کر
اور بوسہ، ہونٹوں سے ۔
میرے، تمہارے لیے محبت نامے
بیش تر اور ہم دونوں سے بڑھ کر ہیں۔
یہ وہ واحد دستاویزی ثبوت ہیں
جن سے لوگ دریافت کر سکیں گے
تمہارا حُسن
اور مری دیوانگی ۔

Light is More Important Than The Lantern

[divider]رَگوں میں دوڑتی عورت[/divider]

جس کسی نے مرے کافی کپ کو پڑھ رکھا ہے
پہچان لیتا ہے تم مری محبت ہو
جس کسی نے مری ہتھیلی کی لکیروں کو پڑھا
جان لیتا ہے تمہارے نام کے چار حروف،
ہر شے سے انکار ممکن ہے
سواۓ اپنی محبوب عورت کی خوشبو سے،
ہر چیز چھپائی جا سکتی ہے
مگر رَگوں میں دوڑتی عورت کے قدموں کے نشان،
ہر چیز پر بحث کی جا سکتی ہے
سواۓ تمہاری نسوانیت کے۔

مَیں تمہیں کہاں چُھپاؤں، مری جاں؟
کہ ہم دو آگ میں بھڑکتے ہوۓ جنگل ہیں
اور تمام ٹیلی ویژن کیمروں کی توجہ ہماری طرف ہے
مَیں تمہیں کہاں چھپاؤں گا مری جان؟
کہ جب یہ تمام صحافی تمہیں
سَرورق کی زینت بنانا چاہتے ہیں
اور مجھے کوئی یونانی سورما بنا کر
کوئی عوامی قصہِ رسوائی ۔

مَیں تمہیں کہاں لے جاوں گا؟
تم مجھے کہاں لے کر جاؤ گی
جب کہ تمام قہوہ خانوں کو ہمارے چہرے اَزبر ہو چکے ہیں
اور تمام ریستورانوں میں ہمارے نام کے کھاتے موجود ہیں
اور ہر فٹ پاتھ کو ہمارے قدموں کی تال کی پہچان ہے؟
ہم دنیا پر سمندر کی طرف کھلنے والی بالکنی کی طرح عیاں ہو چکے ہیں
بالکل دو سنہری مچھلیوں کی مانند
آشکارہ۔

جو بھی تمہارے لیے لکھی مری نظمیں پڑھتا ہے
مری پریرنا تک پہنچ جاتا ہے
جس کسی نے مری کتابوں کا سفر باندھا
سلامتی سے تمہاری آنکھوں کی بندرگاہ پہ اتر جاتا ہے
جس کسی کو مرے گھر کا پتہ ملتا ہے
تمہارے لبوں کی سمت پا لیتا ہے
جس کسی نے مری درازیں کھول کر دیکھی ہیں
تمہیں تتلی کی طرح وہاں سویا ہوا پایا ہے
جس کسی نے مرے کاغذات پھولے ہیں
تمہاری زندگی کا پس منظر جان لیتا ہے۔

مجھے سکھاؤ
کیسے تمہیں محدود باندھوں التاء المربوطة میں
اور مخرج سے روک لوں
بتاؤ کیسے تمہارے پستان کے گِرد کھینچوں
ایک دائرہ ارغوانی کھریے سے
اور اسے غائب ہونے سے روک لوں
مجھے بتاؤ کیسے تمہیں کسی فقرے کے آخر میں ختمے کی مانند قید رکھا جاۓ،
بتاؤ کیسے مَیں تمہاری آنکھوں کی برسات میں بغیر بھیگے چلتا رہوں،
کیسے بِنا مدہوش ہوۓ، تمہارے ہندوستانی مصالحوں سے بگَھارے جسم کی خوشبو کی باس لیے جاؤں
اور تمہاری چھاتیوں کی مرعوب کُن رعب دار اونچائیوں سے
بنا بکھرے لوٹ آؤں۔

دُور رہو میری چھوٹی چھوٹی عادتوں سے
میری چھوٹی چھوٹی املاک سے
وہ قلم جسے مَیں تحریر کے لیے استعمال کرتا ہوں
وہ صفحات جن پر میں بَدخطی کرتا ہوں
وہ چابیوں کا چَّھلا جسے مَیں اٹھاۓ پھرتا ہوں
وہ کافی جس کے مَیں گھونٹ بھرتا ہوں
وہ ٹائیاں جنہیں مَیں خریدتا ہوں،
میری تحاریر کو ہاتھ بھی مَت لگانا
کیونکہ یہ نامعقول لگے گا کہ مَیں تمہاری انگلیوں سے لکھتا ہوں
اور تمہارے پھیپھڑوں سے سانس لیتا ہوں،
یہ بھی غیر معقول بات ہے کہ میں تمہارے ہونٹوں سے ہنستا ہوں
اور یہ کہ تم میری آنکھوں سے روتی ہو۔
تھوڑی دیر مرے ساتھ بیٹھو
کہ غور کر سکوں
فاتح مغلوں کی سی بے رحمی
اور عورت کی خود غرضی سے کِھنچے محبت کے ایسے نقشے پر، جو آدمی سے کہتی ہے
” ہو جا۔۔اور وہ ہو جاتا ہے”
مجھ سے جمہوری انداز سے بات کرو
کہ مرے ملک میں قبائلی لوگ
سیاسی جبر کے کھیل پہ دسترس پا چکے
سو مَیں نہیں چاہتا کہ تم بھی مرے ساتھ
جذباتی جبر کا کھیل کھیلو۔

یہیں بیٹھ جاؤ کہ ہم دیکھ سکیں
تمہاری آنکھوں کی سرحدیں کہاں تک پھیلی ہیں،
مرے دُکھوں کی حد کہاں تک ہے،
تمہارے علاقے کے دریا کہاں سے شروع ہوتے ہیں،
اور مری زندگی کہاں ختم ہونی ہے؟
بیٹھو کہ ہم متفق ہوسکیں
کہ مرے بدن کے کس حصے پر
تمہاری فتوحات مکمل ہو جائیں گی
اور کس رات
یہ سلسلہ شروع ہوگا؟

زرا دیر مرے ساتھ بیٹھو
کہ ہم محبت کے کسی ایک انداز پر متفق ہو سکیں
جہاں تم مری ہو خدمتگار
اور نہ میں تمہاری جاگیر کی فہرست میں سے
کوئی چھوٹی سی بَستی
جو ___سترہ صدیوں سے ____ ابھی تک تلاش کر رہی ہے
تمہاری چھاتیوں سے نجات،
جو کوئی جواب نہیں دیتیں
کوئی بھی نہیں ۔

A Woman Moving Within Me

[divider]سمندر کی تہہ سے خط[/divider]

اگر تم مرے دوست ہو
تو مری مدد کرو ۔۔۔ تمہیں چھوڑ دینے میں
اور اگر تم مرے محبوب ہو
تو مری مدد کرو ۔۔۔ کہ مجھے تمہارے غم سے شفا ملے
اگر میں جانتا ۔۔۔
سمندر بہت گہرا ہے ۔ ۔ ۔ تو میں کبھی نہ تیرتا
اگر میں جانتا ۔۔۔ مرا انجام کیا ہوگا
میں کبھی آغاز نہ کرتا

مجھے تمہاری چاہ ہے ۔ ۔ ۔ سو مجھے سکھاؤ کیسے نہ چاہوں
مجھے سکھاؤ ۔۔۔
کیسے تمہارے پیار کی جڑوں کو پاتال سے الگ کیا جاۓ
مجھے سکھاؤ ۔۔۔
آنسو آنکھ میں کیسے سُکھاۓ جائیں
اور محبت کیسے خودکشی کر لے

اگر تم کوئی پیغمبر ہو
تو مجھے اس سحر کی نحوست سے پاک کرو
مجھے دہریت سے نکال باہر کرو۔۔۔
تمہاری محبت بھی دہریت کی مانند ہے۔۔۔ سو مجھے اس الحاد سے پاکباز بنا دو

اگر تم میں طاقت ہے
تو مجھے اس سمندر سے بچا لو
کیونکہ میں تیرنا نہیں جانتا
یہ ان نیلگوں لہروں میں۔۔۔ جو تمہاری آنکھوں میں ہیں
جو مجھے کھینچتی ہیں۔۔۔اور گہرائی کی طرف
نیلی۔۔۔
نیلی۔۔۔
کچھ اور نہیں صرف نیل
اور میرے پاس تو تجربہ بھی نہیں
محبت کا۔۔۔اور نہ ہی کوئی کشتی

اگر میں تمہیں اتنا عزیر ہوں
تو تھام لو میرا ہاتھ
کہ میں چاہت سے بھرا ہوا ہوں
سر سے پاؤں تک

میں پانی کے نیچے سانس لے رہا ہوں!
میں ڈوب رہا ہوں۔۔۔
ڈوب رہا ہوں۔۔۔
ڈوب رہا ہوں۔۔۔

Letter from Under the Sea by

Categories
نان فکشن

باب 20 شانتا راما: چکلہ بستی میں (ترجمہ: فروا شفقت)

نئی فلمیں بنانا ہی میرا کام ہے! یہ کام ہی جیون ہے! جیون جینے کے لیے ہے! اسے اصل میں جینا چاہیئے! میری سوچ اس طرح پختہ ہوتی جا رہی تھی۔

اور اُسی سمے یاس پسندی کو اجاگر کرنے والی ایک فلم ‘دیوداس’ لوگوں کو بہت متاثر کر رہی تھی۔ کلکتہ کی نیو تھئیٹرز فلم کمپنی کی بنائی اس فلم کے ڈائرکٹر تھے پرمتھیش بروا۔ ایک فلم کے روپ سے وہ بہت ہی سُندر تھی۔ اس میں سہگل کا گایا ایک گیت ”دکھ کے اب دن بیتت ناہیں” بہت ہی سُندر تھا۔ آج بھی وہ گیت مجھے بہت پسند ہے، لیکن یہ یاس پسند فلم نوجوان نسل کے من میں ایک طرح کی مایوسی پیدا کرتی جا رہی تھی۔ دیوداس شراب کا عادی ہو جاتا ہے، ویشیا کے یہاں جانے لگتا ہے اور آخر میں پیار کی خاطر اپنے آپ کو شراب میں پورا ڈبو دیتا ہے۔ اُسی میں اس کا انت ہو جاتا ہے۔ اس فلم کو دیکھتے سمے جوان لوگ رونے لگتے تھے۔ سچے پریم کے لیے مر جانا چاہیئے، خود کشی بھی کر لینی چاہیئے، یہ کھوکھلا آدرش جوان نسل کے من پر حاوی ہونے لگا تھا۔ لیکن ہمارے سماج کو اس طرح ناامید، غیر فعال نوجوانوں کی ضرورت نہیں تھی۔ اِسے تو چاہیئے تھے ایسے نوجوان لوگ جو دکھ میں بھی راستہ نکالتے ہوے سورماؤں کی طرح جیون کی راہ پر امنگ اور خوشی کے ساتھ چلتے ہی رہیں۔ پیار کی ناکامی کے کارن دکھ سے چُور ہو کر مر جانے کا نام جیون نہیں۔ جیون تو اِسی کو کہتے ہیں جو اپنے پیار کی یاد کو من میں سنجو کر فرض کی ادائیگی موت تک کرتا ہے۔ جوانوں کو اِس نتیجے پر پہنچانے والی مقصدی اور اُمید پرست فلم بنانے کا میں نے فیصلہ کیا۔ ‘دیوداس’ کے کارن نا امیدی کی جو لہر اٹھی تھی، اس کو روکنا سماجی مفاد کے لیے بے حد ضروری تھا۔

اسی سوچ سے میں نے اپنے معاون بھاسکرراؤ امینبل کو سارا خیال بتا دیا اور اس پر ایک کہانی کا موٹا خاکہ بنا کر لانے کو کہا۔ اس خاکے کے مطابق نئی فلم کے بارے میں ہمارے خیالات دھیرے دھیرے واضح ہوتے گئے۔ ‘دیوداس’ کی اصل کتھا مشہور بنگالی لیکھک شری چندر چٹرجی کی تھی۔ وہ بہت ہی مضبوط قلم کے دھنی تھے۔ ان کی یاس پسند فکر کو کرارا جواب دینے والی کہانی تیار کرنے کے چیلنج کو میں نے خود پہل کر قبول کیا۔

ظاہر ہے کہ محض بذلہ سنجی اور محاوروں سے بھرے مکالمے ایسے اثر کی تخلیق نہیں کر سکتے تھے، کہانی تو ایسے آدمیوں کی ہونی چاہیئے جو بالکل ہی سادہ اور عام جیون جیتے ہیں۔ وہ لوگ چھوٹے ہوتے ہیں۔ ان کا سکھ دکھ بھی عام ہوتا ہے۔ اپنے خوف، ہمت، خوبی، خامی وغیرہ کے کارن ہی وہ لوگ آدمی کہلاتے ہیں، آدمی لگتے بھی ہیں۔ ہماری کوشش تھی کہ ان کے جیون پر مبنی کہانی ہو۔ اس طرح جانے انجانے میں ہی نئی فلم کا نام ‘آدمی’ طے ہو گیا۔

سوچا کہ ‘آدمی’ کا ہیرو راستے پر گشت لگاتا ایک معمولی پولیس والا ہو۔ پولیس کو ڈیوٹی کرنے کے لیے کسی بھی محلے میں جانا پڑتا ہے۔ اس کام میں اس کا شہر کے مختلف طبقے کے لوگوں سے رابطہ ہوتا ہے۔ اِسی چکر میں ایک دن جوے کے ایک اڈے پر چھاپہ مارتے سمے اس معمولی پولیس والے یعنی ہمارے ‘آدمی’ کے ہیرو کی ملاقات ایک ویشیا سے ہو جاتی ہے۔ اس کے من میں اس ویشیا کے لیے ہمدردی جاگتی ہے۔ دونوں میں آگے چل کر میل جول بڑھتا جاتا ہے یہ تھا اِس سکرین پلے کا آغاز۔

اِس کے لیے ہم لوگوں نے پولیس والوں کا گھریلو جیون، ان کے مکانوں کی حالت اور پریڈ جا کر دیکھی۔

اب باری تھی ویشیاؤں کے جیون کو غور سے دیکھنے کی! اِس کے بارے میں ہم نے کئی کہانیاں سنی تھیں۔ لیکن صرف سنی سنائی باتوں پر کہانی لکھتے تو وہ حقیقت سے دور رہ جاتی۔ اس لیے ویشیاؤں کے چکلوں میں جا کر اُن کے جیون، رہن سہن، اُن کی کٹھنائیاں اور سوال وغیرہ کا خود معائنہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، یہ جان کر میں اور بھاسکرراؤ بمبئی گئے۔ بابوراؤ پینڈھارکر کے ایک واقف کار دتارام کو ہم نے پکڑا۔ اُس کی مدد سے ہم ہر رات چکلہ بستی میں جانے لگے۔ میں تو کبھی پان تک نہیں کھاتا تھا۔ لیکن یہ جتانے کے لیے کہ میں اِس بستی میں روز کا آنے والا ہوں، میں دو تین پان چبا کر ہونٹ لال کر لیتا، بِنا ٹوپی کے گھومتا، اور شکل ایسی بنا لیتا کہ کچھ نہ پوچھیے۔ بال بکھرے ہوے، کپڑے مٹ میلے اور سلوٹیں پڑے ہوے، منہ میں پان، رنگیلے ہونٹ۔۔۔ ایسے جاتا تھا میں اس بستی میں۔ سب سے آگے ہوتا تھا ہمارا رہبر دتارام، اس کے پیچھے میں، میرے پیچھے پیچھے بابوراؤ پینڈھارکر اور سب سے آخر میں پسینے پسینے ہو رہے بھاسکرراؤ، ایسی ہوتی تھی ہماری پلٹن کی تیاری۔

ہمارا رہبر دتارام دھندا کرنے والا یا ویشیاؤں کا کوئی بھڑوا نہیں تھا۔ یقیناً وہ ایک سماج سیوک تھا۔ اسے سب طرح کی چکلہ بستیوں کی جانکاری تھی۔

شروع میں ہم لوگ نچلے طبقے کی چکلہ بستی میں گئے۔ وہاں کا ماحول دیکھ کر مجھے تو گِھن سی آ گئی۔ ایک کمرے میں رسی باندھ کر اُس پر پرانے کپڑے پردے جیسے ڈالے گئے تھے اور ان کے پیچھے ایک جوڑے کے سونے کا انتظام کیا گیا تھا۔ اس طرح سے چار پانچ ‘بیڈ’ اسی کمرے میں بنائے گئے تھے۔ باہر صحن میں ایک لڑکی بالوں میں کافی تیل ڈالے، چہرے پر پوڈر پوت کر ہونٹوں پر بھڑکیلی لپ سٹک لگائے کسی گاہک کے ساتھ بڑے پیار سے اِٹھلا رہی تھی۔ تبھی اندر سے شراب کے نشہ میں دھت ایک شخص اپنے کپڑوں کو سنوارتا ہوا باہر آیا۔ اس کے پیچھے پیچھے اُسی طرح سے تڑک بھڑک کاسٹیوم پہنے ہوئی ایک لڑکی بھی باہر آئی۔ وہ کھلکھلا کر ہنستی ہوئی اس آدمی کے کپڑوں کو کھینچنے لگی۔ صحن میں کھڑی وہ لڑکی فوراً ہی اپنے گاہک کو ہاتھ پکڑ کر اس مٹ میلے پردے کی اوٹ میں لے گئی۔

من گِھن سے بھر گیا تھا۔ لیکن چہرے پر اس کا ذرا بھی احساس نہ دکھاتے ہوے ہم وہیں بے شرمی سے ہنستے ہوے کھڑے رہے۔ ایک بڑھیا ہمارے پاس آئی۔ اس کا پہناوا بھی چمک دمک والا تھا اور رنگ روغن بھڑکیلا۔ اپنی عمر سے سیدھی بے میل شوخی اور ادا سے عاشقانہ ادا پھینک کر اس نے ہنستے ہوے کہا، “تھوڑا صبر کیجئے۔ ابھی ایک ایک لڑکی خالی ہوئی جاتی ہے۔ پھر وہ آپ لوگوں کو اندر لے جائیں گی۔۔۔ آپ کو بہت ہی جلدی ہو، تو میں جو حاضر ہوں!”

میں نے اُس بڑھیا کا اپنی فلم میں کہیں نہ کہیں کچھ استعمال کرنا طے کیا۔

لوگوں کی اتنی آمد ورفت میں ویشیا جیون اور ان کے کاروبار کے بارے میں کچھ اور جانکاری حاصل کرنا ناممکن ہی تھا۔ وہاں تو بیٹھنے تک کے لیے جگہ نہیں تھی۔

دوسرے دن ہم نے کچھ اونچے طبقے والی چکلہ بستی میں جانا طے کیا۔ کینیڈی برِج پر ایک گووا والی رہتی تھی۔ اس کے یہاں جانا تھا۔ لیکن ہمارے کتھا لیکھک بھاسکرراؤ وہاں آنے کو تیار نہیں ہو رہے تھے۔ اُن کے بڑے بھائی وہیں کہیں آس پاس رہتے تھے۔ کسی نے اُس بائی کے کوٹھے پر جاتے دیکھ لیا تو خیر نہیں، یہ خوف انہیں وہاں جانے سے روک رہا تھا۔ وہ کافی ٹال مٹول کرتے رہے، لیکن میں نے انہیں چھوڑا نہیں۔ آنکھیں بند کر چوری سے دودھ پینے والی بلی کی طرح بھاسکرراؤ بِنا اِدھر اُدھر دیکھے، سر جھکائے سیدھے اس بائی کے کوٹھے میں گھس گئے۔

بائی کے گھر کی سجاوٹ عام مڈل کلاس کے لوگوں کے گھروں جیسی تھی۔ بائی نے ہمارے لیے پان بنوائے اور بڑی نشیلی ادا سے دیکھتے ہوے ہمیں دے دیے۔ اس نے ایک گانا بھی سنایا۔ اس کا گانا ایک دم معمولی تھا۔ اُس کے من کی بات جاننے کے لیے ہم نے اس سے باتیں شروع کیں۔ لیکن اس کی باتوں سے ہم ایک بات جان گئے: ویشیا کے یہاں آنے والے لوگ صرف لطف لینے کے لیے ہی آتے ہیں، لہذا انہیں اپنی بھلی بُری آپ بیتی سنا کر دکھی کرنا کہاں تک مناسب ہے؟ اسی بھاونا سے وہ اپنے من کی ذرا بھی گہرائی پانے نہیں دے رہی تھی۔ اس کے رویے میں اتنی فارملیٹی تھی کہ ہمیں وہ ذہنیت وہاں مل پانا لگ بھگ ناممکن لگنے لگا تھا، جس کی کہ ہمیں تلاش تھی۔ ہم نے اسے سو روپے دے دیے، اور فوراً وہاں سے کھسک آئے۔ کل کی طرح آج کا دن بھی اس طرح بے کار گیا تھا۔

میں ‘آدمی’ کی ہیروئین کی تلاش میں تھا، لیکن قِسم قِسم کے چکلوں کے زینے چڑھنے اترنے کے باوجود وہ مجھے مل نہیں رہی تھی۔ ایک رات دتارام ہمیں ایک ایسی جگہ پر لے گیا جہاں ایک ٹھیک ٹھاک چہرے والی ادھیڑ گوری عورت نے ہمارے سامنے اپنی پسند چننے کے لیے سات آٹھ جوان لڑکیوں کو کھڑا کر دیا۔ سب نے مجھے دیکھا۔ میں بھی کسی پرانے کھلاڑی کی نظر سے انہیں دیکھنے لگا۔ شاید ابھی ابھی اس کاروبار میں آئی لڑکی اپنا درد دل بتلا دے گی، یہ سوچ کر میں نے ان میں سے ایک خوبصورت لڑکی کو پسند کیا۔ اوپری منزل کے ایک کمرے میں وہ مجھے لے گئی۔ اس کمرے میں لکڑی کی ایک پارٹیشن لگی تھی۔ اس چھوٹے سے کمرے میں ایک پلنگ اور ایک کرسی جیسے تیسے جمع کر رکھی تھی۔ نیچے دیوان خانے میں دتارام، بابوراؤ پینڈھارکر اور بھاسکرراؤ میری راہ دیکھ رہے تھے۔

کوئی آدھ گھنٹے کے بعد میں نیچے آیا۔ وہ سب لوگ شرارت سے مسکرا رہے تھے۔ ہم سب لوگ وہاں سے چلنے کو تیار ہوے۔ زینے کی سیڑھیاں اترنے ہی لگے تھے کہ اس ادھیڑ کُٹنی نے میرے گھنگھرالے بال پکڑ کر کھینچے اور اپنی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی، “اجی، یہ بھی اچھا خاصا تجربے کار مال ہے!” میں نے اپنے بالوں کو جھٹکا دے کر چھڑا لیا اور تیزی سے سیڑھیاں اتر آیا۔

دوسرے دن شام ہو جانے کے بعد چکلہ بستی میں گھومنے کے لیے ہم نے ایک وکٹوریہ کرائے پر لیا۔ وکٹوریہ میں بیٹھتے ہی دتارام نے میرے چرن چھو لیے اور کہنے لگا، “آپ واقعی دیوتا ہیں!”

میں نے اسے کندھے پکڑ کر اٹھا لیا۔

بھاسکرراؤ نے پوچھا، “دیوتا؟”

“اور نہیں تو؟ اجی کل آپ اس جوان چھوکری کو لے کر اوپر گئے اور ویسے ہی سوکھے رہ کر نیچے چلے آئے۔ لیکن اِن کے اس طرح سب سے نیارے طرز عمل کے کارن آج مجھے کافی کچھ بھلا بُرا سننا پڑا۔”

بابوراؤ اور بھاسکرراؤ دونوں میرا منھ تاکتے رہ گئے۔

بابوراؤ نے دتارام سے پوچھا، “کیوں، اور کیا ہو گئی بات؟”

“ہونا جانا کیا تھا؟ چکلے کی اس کٹنی نے آج مجھے بلا بھیجا اور پھٹکارتی ہوئی بولی کل تم نے جس آدمی کو لایا تھا، وہ چھوکری کو لے کر اوپر گیا۔ وہ چھوکری اس کے سامنے ننگی ہو گئی لیکن وہ سُسرا اس کے سنگ سویا ہی نہیں۔ بےکار کی پوچھ تاچھ کرتا رہا۔ لگتا ہے شی۔آئی۔ڈی C.I.D)) کا آدمی ہوے گا۔ پھر کبھی ایسے شی۔ آئی۔ڈی والے کو اِہاں لائے تو میری جوتی ہو گی اور تیرا سر، سمجھے؟”

بابوراؤ سے رہا نہیں گیا۔ انہوں نے حیرانی سے پوچھا، “یعنی شانتارام بابو۔ پھر آپ اوپر جا کر آخر کیا کر آئے؟”

“کچھ بھی تو نہیں۔ اوپر گیا۔ جاتے ہی وہ بائی پلنگ پر لیٹ گئی اور ”چلو! آؤ!! بیٹھو!!!” کہہ کر مجھے اپنے پاس سونے کی درخواست کرنے لگی۔ میں نے اُس سے کہا، “اری، ایسی بھی کیا جلدی پڑی ہے؟ آؤ، پہلے کچھ باتیں کر لیں۔” ــ سچ تو یہ تھا کہ میں اس سے پہلے کے اس کے جیون کے بارے میں کچھ باتیں جاننا چاہتا تھا۔ اسے تھوڑا پچکار کر، سہلا سہلا کر سہج بھاؤ سے اس سے ساری باتیں نکلوانی چاہیئے تھیں۔ لیکن ایسے موقع کے لیے میں بھی تو ایک دم اناڑی تھا۔ اس لیے میں نے اسے سیدھے رنگیلے ڈھنگ سے پوچھا، ”تم کس گاؤں سے آئی ہو؟‘‘ اس پر وہ جَھلّا کر بولی، “تم کو کیا کرنا ہے؟ آؤ، بیٹھو!”

“میں تو کرسی سے مانو چپک کر ہی بیٹھا تھا۔ میں نے اس سے کہا، “اری! یہ بیٹھو، بیٹھو، کیا لگا رکھا ہے؟ پہلے کچھ باتیں ہو جائیں۔ اچھا بتاؤ، تم اپنی خوشی سے یہاں آئی ہو کیا؟ یا کوئی تمہیں ورغلا کر، دھوکا دے کر یہاں پھنسا گیا ہے؟”

“اس چھوکری کو میری اِن باتوں پر کافی غصہ آیا۔ پاس ہی والے پارٹشن کی طرف منہ کیے وہ زور زور سے بڑبڑانے لگی۔ وہ کنڑ بھاشا میں بول رہی تھی۔ پارٹشن کے اُس پار سے بول رہی عورت نے اسے چیتاونی دی کہ مجھے کوئی بھی جانکاری نہ دے۔ کنڑ میں تھوڑی سمجھ لیتا تھا، اسی لیے میں یہ بات جان سکا۔”

“اس کے بعد کافی دیر تک اس کا ‘آؤ، بیٹھو’ جاری تھا۔ میں نے لاکھ کوششیں کیں کہ اس کا نجی جیون معلوم کر لوں، لیکن کچھ بھی ہاتھ نہ لگا۔ اس کا ریٹ دو روپے تھا۔ میں نے اس کے ہاتھ پر پانچ پانچ کے پانچ نوٹ رکھ دیے اور چلنے کو تیار ہوا۔ اس نے مجھے روکا اور بولی، “تو ہم پر بیٹھا نہیں اور پیسہ کیوں دیتا ہے؟ ہم کو نئ (نہیں) چییے پھوکٹ (چاہیے مفت) کا پیسہ!”

“ایک ویشیا کے منہ سے ایسے معتبر خیالات سن کر مجھے کافی حیرانی ہوئی۔ میں نے اس کے ہاتھوں میں ان نوٹوں کو زبردستی ٹھونس دیا اور کمرے سے باہر چلا آیا۔” یہ سارا قصہ سن کر سبھی لوگ حیرت میں پڑ گئے۔

اس کے بعد اور پانچ چھ دن ہم لوگ مختلف چکلوں پر گئے، لیکن ہمیں ایسی ویشیا نہیں ملی جو اپنی صحیح کہانی دل کھول کر ہمیں بتاتی۔ ہوا اتنا ہی کہ ہمیں الگ الگ ڈھنگ کا ماحول، طرح طرح کی شخصیت اور ان کے جذبات وغیرہ دیکھنے کو ملے۔ اِدھر اُدھر کی تھوڑی بہت جانکاری بھی ملی، لیکن ہیروئین کی شخصیت کی اچھی کہانی کہیں نہیں مل رہی تھی۔ ہر روز ان غیر مہذب بستیوں میں بے کار ہی جانے سے ہم لوگ اوب چکے تھے۔

رات ہو گئی۔ روز کی منڈلی چالو ہو گئی۔ آج جہاں گئے، وہاں دو ادھیڑ عورتیں ملیں۔ کمرا اچھا خاصا بڑا تھا۔ اسی کمرے میں ایک کونے میں پردہ لگوا کر اوٹ تیار کی گئی تھی۔ ان دونوں عورتوں میں ایک بہت ہی باتونی تھی۔ دتارام کو دیکھتے ہی اس نے کہا، “ارے، اتنے دن کہاں چھپا بیٹھا تھا؟” بعد میں فوراً ہماری جانب مڑ کر بولی، “آئیے، آئیے۔ بیٹھیے۔ چائے لیں گے نا آپ؟” کہتی ہوئی ہمارا جواب جاننے سے پہلے ہی میرے بدن پر جھکتی ہوئی کھڑکی سے نیچے دیکھ کر زور سے آواز لگائی، “اے چائے والا، چار چائے بھیجنا۔”

نیچے سے لوٹتی آواز میں سوال آیا، “سنگل یا ڈبل”

”ڈبل!” اس نے جواب دیا اور ہماری طرف ہنس کر دیکھتے ہوے آنکھ مارتی ہوئی شوخی سے کہنے لگی، “کیا پوچھتا ہے گدھا کہیں کا؟ اِہاں سب ڈبل ہی لگت (لگتا) ہے!”

اپنے اس فحش مذاق پر خوش ہو کر وہ خود ہی کھی کھی کھی کر ہنسنے لگی۔ ہم بھی اس کی ہنسی میں شامل ہو گئے۔ ‘ڈبل’ کہنے کی اس کی ادا مجھے اچھی طرح یاد رہی۔ وہ بائی ان پڑھ تھی۔ اس کی بول چال دیہاتی شہراتی کھچڑی تھی۔ اس کی بولی میں کنڑ، پنجابی، گجراتی وغیرہ کئی بھاشاؤں کی ملاوٹ تھی۔

میں نے سہج بھاؤ سے اس سے کہا، “تمہارے اس کاروبار کے کارن تمہیں شاید ناٹک، سنیما دیکھنے کا سمے نہیں ملتا ہوگا، ہے نا؟”

اس پر وہ دھڑلے سے کہنے لگی، “کیوں، اِہاں ہم لوگ کیا جیل میں بیٹھے ہیں؟ تین کا شو ہم تھئیٹر میں دیکھتے ہیں۔ دیکھتے دیکھتے اپنا گاہک بھی ڈھونڈ لیوت ہیں۔ پھر چلے آوت ہیں وہ لوگ ہمرے پیچھے پیچھے!” لیکن فوراً ہی وہ سٹپٹا گئی اور بولی، “لیکن وہ ہمرا راجہ بنت ہے خالی گھڑی دو گھڑی کو!”

باتیں کرتے کرتے اب وہ کافی کھلتی جا رہی تھی۔ اس سے اور زیادہ کہلوانے کے لیے میں نے کہا، “حال میں کون سا سنیما دیکھا تم نے؟”

“دو چار دن پہلے دیکھا وہ ‘دنیا نہ مانے’ بہوت بڑھیا تھا! کچھ بھی کہیو، وہ شانتارام سالا سنیما بہوت بڑھیا بناوت ہے!”

میرے نام پر اس نے جو گالی جوڑ دی، سن کر ہم سبھی کو بڑی ہنسی آئی۔ پھر ہم لوگوں نے اس کے منہ سے ‘دنیا نہ مانے’ کی کہانی سنی۔ لیکن کہانی سناتے سناتے اس نے اس میں اپنے من سے اتنی تبدیلی کر دی، کہ میں خود تذبذب میں پڑ گیا کہ میری ڈائرکٹ کی ‘دنیا نہ مانے’ یہی تھی یا کوئی اور۔ تبھی وہ چائے والا چھوکرا چائے لے کر آیا۔ اس کی وہ میلی کچیلی پلیٹیں، گھسے پٹے کپ، لال کالی چائے وغیرہ دیکھ کر اس چائے کو پی پانا میرے لیے مشکل سا لگ رہا تھا۔ لیکن بے کار ہی اپنے بارے میں کوئی شک کھڑا نہ ہو، اس وچار سے میں نے وہ چائے جیسے تیسے پی لی۔

چائے پان کے بعد وہ اور بھی کُھل گئی۔ اپنے جسم کے چھپے انگوں کے بارے میں وہ کھلم کھلا اس ڈھنگ سے بولے جا رہی تھی کہ ایسا لگتا تھا، وہ اپنے آپ کو ایک زندہ ناری نہ مان کر مردوں کی ہوس مطمئن کرنے کی ایک مشین سمجھ رہی ہے۔ باتیں کرتے کرتے وہ اچانک سیدھے میری گود میں آ کر بیٹھ گئی اور بولی، “چاہیں تو آپ خود پڑتال کر دیکھ لیجیے!”

میں پس و پیش میں پڑ گیا۔ اتنی کوشش کرنے کے بعد ایک ویشیا ملی جو کھل کر باتیں کر رہی تھی۔ اب میرے دقیانوسی رویے سے کہیں اس کے من میں شُبہ جاگا تو سارا گُڑ گوبر ہو جائےگا! میں اسی حالت میں بیٹھا رہا۔ لیکن اس بار دتارام نے میری مدد کی۔ وہ لپک کر آگے آیا اور اس نے اسے اٹھا کر ایک طرف ہٹایا۔ میں نے راحت کی سانس لی۔ نظر اٹھا کر سامنے دیکھا، تو وہاں بھگوان کی تصویر ٹنگی دیکھی۔ تصویر پر چڑھائے گئے پھول تازہ تھے۔ میں نے جان بوجھ کر کھسیانے کے لیے اس بائی سے پوچھا، “کی ماں کو، یہاں تم ایسا گندہ بولتی ہو اور وہاں بھگوان کی تصویر لٹکا کر اس پر پھول بھی چڑھاتی ہو!”

جیسی کہ مجھے امید تھی، وہ ایک دم جھلّا اٹھی۔ میری بات کو بیچ میں ہی کاٹ کر بولی، “اے صاب! تم ہم کو کیا سمجھتا ہے؟ ہر روز سویرے اٹھ کر بھگوان کی پوجا کیے بِنا ہم منہ میں پانی تک ناہیں ڈالت ہیں، سمجھا؟”

میں دنگ رہ گیا۔

“تم کو کیسے پتہ ہوے گا، ہم موئی یہ دھندا کیوں کرت ہیں؟ ہم کو اچھا لگت ہے اس لیے؟ صاب، ہمری پیڑھا ہم ہی جانت ہیں! کبھی کبھی ایسا بھی ہووے ہے کہ کوئی گاہک آتا ہی نہیں۔ پھر تو گھر کا برتن بھانڈا گروی رکھ کر چولھا جلانا پڑت ہے! اور تب بھی منہ پِچکا کر ہنس کر نئے گاہک کی باٹ جوہنا (انتظار کرنا) پڑت ہے! کچھ پھوکٹ والے موالی شراب پی کر آوے ہیں۔ ان کو بھی ناراض کیسے کر پاوے؟ تو ان کی آگ میں بھی اِی شریر (جسم) جھونکنا پڑے ہے۔ کمرے کا کرایہ لینے کے لیے مکان مالک کا نوکر آوت ہے، تو اس کو بھی خوش کرنا ہی پڑے ہے! زندگی ایک دم نرک بن گئی ہے نرک!”

“کبھی کوئی بڑا آدمی بنا آوت ہے۔ ہمرے ادھار (نجات) کی یا نہ جانے کاہے کاہے کی، لمبی چوڑی ڈینگیں ہانکت ہے اور خود رات ما ہمرے سنگ رنگ رلی اڑا کے منھ اندھیرا ما چور کی نائی (چور کی طرح) منھ چھپائے بھاگ جاوت ہے!”

“صاب، کبھی کبھی لاگے ہے، اِی گندا کام چھوڑ چھاڑ کے چنگی زندگی جیوے، پر دو جون کھانے کو کون دیوے گا؟ اُدھر ہمرے گاؤں میں ماں باپ ہیں، چھوٹے بھائی بہن ہیں، سبھی کو لالے پڑ جاویں گے نا۔۔۔ صاب، اِہاں کوئی نوکری ڈھونڈنے آئی ہتی میں، پر کون دیوے ہے نوکری؟ تو بس سہیلی کے سنگ لگ گئی اسی دھندے ما۔۔۔”

اس کا درد پھوٹ پھوٹ کر سامنے آنے لگا تھا۔

بیچ میں وہ چپ ہو گئی۔ پھر یکایک بولی، “صاب تم لوگ ایہاں مزہ لوٹن کے واسطے آئے اور میں موئی اپنی کرم کہانی سنان لگی۔ چھما (معاف) کرو صاب!”

سچ پوچھو تو مجھے اس کی باتوں سے کوئی تکلیف نہیں ہو رہی تھی۔ میں نے اسے ویسا بتا بھی دیا۔ پھر ساری رات وہ ہمیں اپنے جیون کے ایک سے زیادہ واقعات جی کھول کر سناتی رہی۔ اس کا من اتنا دو ٹوک ہو گیا تھا کہ جیون میں بیتی اور ہر دن دن بیت رہیں گندی گھناؤنی باتیں وہ بے شرمی کے ساتھ کھلے عام کہتی جا رہی تھی۔ اس کی بھاشا بہت ہی بھدی اور فحش تھی۔ جذبات میں تو اتنی مسخ تھی کہ وہ جو کچھ بتا کر دکھا رہی تھی، اس کا دس فی صد بھی میں اپنے فلم میں لا نہیں سکتا تھا۔ اور لاتا بھی، تو یقینی ہی سنسر اسے ہرگز پاس نہیں کرتا۔ اس کے درد اور تکلیف نے میرے دل کو ہلا دیا۔ ‘آدمی’ کی ہیروئین اپنی تمام بے عزتی اور قابل رحم درد دل کے ساتھ زندہ ہو کر میرے سامنے کھڑی تھی۔

بمبئی سے لوٹا تو معلوم ہوا کہ داملے جی اور فتے لال ‘گوپال کرشن’ کے باہری شوٹنگ کے لیے بمبئی کے پاس ہی ڈونبِولی گئے ہیں۔ پندرہ دن ہو گئے شوٹنگ کے لیے گئے ان کے گروپ کے واپس آنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیے۔ کام بھی کوئی خاص زیادہ تو تھا ہی نہیں۔ میں سوچ میں پڑ گیا۔ تبھی بابوراؤ پینڈھارکر کا فون آیا کہ ”آپ خود یہاں آ کر ایک بار شوٹنگ کے کام کو دیکھ جائیں۔” میں ڈونبِولی گیا۔ شوٹنگ کافی دھیمی رفتار سے چل رہی تھی۔ فوراً شوٹنگ کی ساری ذمہ داری میں نے اپنے ہاتھ میں لی اور چار پانچ دن میں وہاں کا سارا کام پورا کر پُونا واپس لوٹ آیا۔ پُونا لوٹتے ہی سٹوڈیو کے کھلے احاطے میں ایک سیٹ کھڑا کیا اور اس پر بھی شوٹنگ شروع کر دی۔

ایک دن دیکھا کہ داملے جی، فتے لال شوٹنگ کا کام بیچ ہی میں روک کر آرام سے بیٹھ گئے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا تو کہنے لگے — “شوٹنگ کرتے سمے ہمیں غش کھا کر گرنے جیسا لگا، یہ چلچلاتی دھوپ ایک دم ناقابل برداشت ہو رہی ہے۔”

میں نے ان سے کہا، “کوئی بات نہیں۔ آپ یہیں آرام کریں، شوٹنگ میں کیے دیتا ہوں۔”میں فوراً باہر آیا اور وہاں کی ساری شوٹنگ پوری کر لی۔

کنس کے سینا پتی (سپاہ سالار) کیشی نے کرشن کو اپنے کیمپ میں قیدی بنا لیا ہے۔ اسے رہا کرانے کے لیے کرشن کے گوپ گوالے ساتھی گایوں اور بیلوں کا گروہ لے کر کیشی کے کیمپ پر دھاوا بول دیتے ہیں۔ کیشی اور اس کے سپاہیوں کی ناک میں دم کر دیتے ہیں۔ یہ سین شوٹنگ کے نقطہ نظر سے بے حد کٹھن تھا۔ اس میں براہ راست گائے بیلوں اور ان کی ‘ڈمیز’ کا استعمال ناممکن تھا۔ سین کو انتہائی پراثر بنانا ضروری تھا۔ اس سین کا پورا آوٹ ڈور شوٹ بھی داملے جی فتے لال جی کے کہنے پر مجھے ہی کرنا پڑا۔

‘گوپال کرشن’ کی ایڈیٹنگ کا کام شروع ہوا۔ لیکن اس کے ڈائرکٹر داملے جی اور فتے لال بھولے سے بھی ایڈیٹنگ روم کے پاس نہیں آئے، نہ ہی انہوں نے کبھی یہ بھی پوچھا کہ ایڈیٹنگ کا کام کہاں تک آیا ہے۔ کبھی کبھی تو ایسا لگتا جیسے انہیں اس ‘گوپال کرشن’ سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے۔

‘گوپال کرشن’ ریلیز ہو گئی۔ اس نے بڑی شہرت حاصل کی۔ اس میوزیکل فلم کے گیت لوگوں کو بہت ہی پسند آئے۔ اس میں کھیل کھیل کے جو سین ڈالے ان کو تو ناظرین نے سر پر اٹھا لیا۔ ‘گوپال کرشن’ کے ریلیز ہونے کے دوسرے دن اس کے سکرین پلے لیکھک شِورام واشیکر، بابوراؤ پینڈھارکر آفس میں مجھ سے ملنے آ گئے۔ دیکھتے ہی انہوں نے کہا، “شانتارام بابو، ‘گوپال کرشن’ کی کہانی کا کریڈٹ لینے میں مجھے بڑی ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔

“اجی وشیکرن جی، آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟”

“سچ ہی تو کہہ رہا ہوں۔ اس کے خاص سین، اس کی بذلہ سنجی کے ساتھ میں نے ویسے کے ویسے اتار لیے جیسے آپ نے بتائے تھے۔ آپ بتاتے گئے، میں لکھتا گیا۔ لہذا اس کا سارا کریڈٹ اصل میں آپ کو جانا چاہیے، آپ کی محنت کو ملنا چاہیے۔ میری یہی پکی سوچ ہے، اور پریس کانفرنس بلا کر میں اس کا اعلان بھی کرنے جا رہا ہوں۔”

“نہیں، نہیں۔ ویسا آپ کچھ بھی نہیں کریں گے۔ آپ کا کرِئیر اس میں مات کھا جائے گا۔ آپ کو جو لگتا ہے اسے آپ ایمانداری سے قبول کرتے ہیں، یہی کافی ہے۔ مجھ سے پوچھیں تو کہوں گا کہ یہ احساس ہی آپ کی مستقبل میں ترقی کا اشارہ ہے۔”

‘گوپال کرشن’ کی ریلیز کے سمے ہم سبھی لوگ بمبئی گئے تھے۔ وہاں بابوراؤ پینڈھارکر نے ہمیں ایک بہت ہی اچھی خبر سنائی کہ بمبئی کا پوتھے سنیما (آج کل اس کا نام سوستک سنیما ہو گیا ہے) بیچا جانے والا ہے۔

‘پوتھے’ سنیما میں گیلری وغیرہ کچھ بھی نہیں تھی، اسی لیے مجھے وہ بہت پسند تھا۔ بمبئی میں ‘پربھات’ کی فلم کی ریلیز کے لیے اس سنیما گھر کو خرید لینے کی رائے سب نے ظاہر کی۔ اس سے پہلے پُونا کا ‘پربھات تھئیٹر’ بھی ہم لوگوں نے لیا تھا اور اس کا کامیاب استعمال ہم کر رہے تھے۔ ہم نے بابوراؤ پینڈھارکر کو ‘پوتھے’ کے مالک سے فوراً ملنے کو کہا اور اس سے باتیں کر کے ضروری دستاویز اور کانٹریکٹ وغیرہ بنوا لینے کے بھی ہدایات دیں۔ داملے جی پُونا گئے۔ میں اور فتے لال جی دو دن بمبئی میں ہی رہے۔ ہم دونوں ‘پوتھے’ سنیما دیکھنے کے لیے گئے۔ فتے لال جی بڑے چاؤ سے مجھے سمجھا رہے تھے کہ ایک فلم کی نظر سے اس تھئیٹر میں کیا کیا تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔ میں بھی تکنیکی نظر سے اس تھئیٹر کا ٹھیک ٹھیک معائنہ کر رہا تھا۔ بابوراؤ ہمارے ساتھ ہی تھے۔ اپنی ہمیشہ کے اتاولے پن سے میں نے ان سے کہا، “آج ہی سودا پکا کر سیل پتر تیار کروا لیجیے۔”

بابوراؤ نے کہا، “میں نے کل ہی انہیں ایک لاکھ چالیس ہزار روپے کی پیشکش کی ہے۔ کل تک راہ دیکھتے ہیں۔ دوسری صورت میں ان کی مانگ کے مطابق ڈیڑھ لاکھ روپے میں سودا طے کیے لیتے ہیں۔” میری بہت دنوں کی چاہ تھی کہ ‘پربھات’ کی بنائی فلم ریلیز کرنے کے لیے ملک بھر میں سنیما گھروں کی ایک سیریز ہو۔ اب اپنا وہ سپنا کچھ کچھ سچ ہوتا دیکھ کر میرا من کافی پرجوش ہو اٹھا۔

پُونا لوٹنے کے بعد دوسرے دن سویرے کمپنی کا اخبار دیکھ رہا تھا کہ داملے جی، فتے لال جی اور سیتارام پنت کلکرنی میرے آفس میں آئے۔ انہیں دیکھتے ہی میں نے کافی جوش سے پوچھا، “سیتارام بابو کو ‘پوتھے’ کے بارے میں وہ خوش خبری دی نہ آپ نے؟”

انہوں نے ‘ہاں’ کہا۔ لیکن سب کے چہرے بہت ہی گمبھیر دکھائی دے رہے تھے۔ داملے جی نے پوچھا، “کیا ‘پیسے’ کا قرارنامہ ہو گیا ہے؟”

“نہیں، لیکن بابوراؤ سے اسے فائنل کرنے کے لیے ہم کہہ آئے ہیں۔ ممکنہ آج ہو جائے گا۔”

داملے جی نے گمبھیر ہو کر کہا، “میری راۓ میں ہمیں وہ تھئیٹر نہیں خریدنا چاہیئے!”

داملے جی کی وہ بات سن کر مجھے دھچکا لگا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا، داملے جی نے ہی آگے کہا، “پیسے کی زمین تھئیٹر کے مالک کے پاس لمبی لیز پر ہے۔”

“جی ہاں، اسی لیے تو وہ تھئیٹر ہمیں اتنی کم قیمت پر مل رہا ہے۔”

اُس جگہ کا ماہانہ کرایہ تین ہزار روپے ہے۔ اتنے بھاری خرچ کا بوجھ ہم اپنے اوپر لیں، یہ ہمیں پسند نہیں!” میرا اپنا ماننا تھا کہ کاروبار اور ‘پربھات’ کی شہرت کی نظر سے تھئیٹر کو خریدنا بہت اہم ہے۔ میں دلیل کرنے لگا، “اجی، پُونا کا ‘پربھات’ سنیما گھر بھی لیز پر ہی تو ہے۔”

“لیکن اس کا کرایہ اتنا زبردست نہیں ہے۔ میری رائے میں ہر ماہ تین ہزار روپے کا بوجھ ہمیں ہرگز نہیں اٹھانا چاہیے!”

“آپ ایک بات دھیان میں رکھیں۔ ‘سینٹرل’ اور ‘کرشن’ سنیما گھروں کے مالک بھی لیز کا بھاری کرایہ دیتے ہیں اور وہاں ہمارے ‘پربھات’ کی فلم ریلیز کر وہ ہر سال پچاس پچاس ہزار روپے کا منافع کما لیتے ہیں۔ پھر ہم ہی اس بات سے کیوں ڈریں؟ یہ بھی تو سوچئے کہ دیگر شہروں میں اس طرح ‘پربھات’ کے اپنے سنیما گھر ہوں تو ہر بار سنیما گھر کرائے پر لینے میں ہمارا جو پیسہ خرچ ہو جاتا ہے، اس میں کتنی بچت ہو گی؟”

میرے ان بیوپاری اور کاروباری دلائل کا بھی داملے جی پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ میں مایوس ہو گیا۔ آخر میں نے آج تک ‘پربھات’ کے زمانے میں بھی کبھی استعمال میں نہ لایا گیا ایک پینترا چلنے کا طے کیا۔ ہمارے حصہ داری کانٹریکٹ میں ایک دفعہ تھی کہ ‘پربھات’ کا سارا کاروبار ہمیشہ اکثریت سے چلایا جائے۔ اب اس دفعہ کا استعمال کرنے کا سمے آ گیا تھا! کل ہی میں اور فتے لال جی ‘پوتھے’ کی عمارت میں کھڑے کھڑے پتہ نہیں کیا کیا خیالی پلاؤ بنا چکے تھے۔ اس لیے میں نے سوچا کہ فتے لال جی ضرور ہی میری سائیڈ لیں گے۔ سیتارام بابو پشتینی بیوپاری ہیں، میری کاروباری بات انہیں بھی پسند آ ہی جائے گی مجھے امید تھی۔ لہذا من ہی من مجھے یقین ہو گیا کہ اکثریت میرے حق میں ہو گی۔ اپنا غصہ دبا کر ہنستے ہنستے میں نےکہا، “اکثریت سے جو طے رہے گا، اسے ہی مان لیتے ہیں۔”

“مجھے کوئی اعتراض نہیں۔” داملے جی نے کہا۔

میں نے سب سے پہلے سیتارام بابو سے پوچھا۔ ان کا جواب میں دھیان سے سن رہا تھا۔

انہوں نے کہا، “میرا خیال ہے، داملے جی کی بات میں کافی وزن ہے!” میں سن کر ٹھنڈا پڑ گیا۔ پھر بھی لگاتار مسکرا کر میں نے فتے لال جی کی طرف دیکھا۔ فتےلال جی نے کہا، “داملے جی کی بات صحیح ہے!” سامنے ہی بیٹھے داملے جی کے چہرے پر جیت کی مسکراہٹ چمکنے لگی۔ انہوں نے مجھ سے کہا، “تو پھر شانتارام بابو، بمبئی فون کر بابوراؤ پینڈھارکر سے کہیں گے نا آپ کہ سنیما گھر کے بارے میں آگے بات چیت نہ چلائیں؟”

میں مجبور تھا۔ بھاری من سے میں نے فون اٹھایا۔

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 19: رپٹیلی راہیں (ترجمہ: فروا شفقت)

حیرت کی بات تھی کہ دادا صاحب فالکے جی نے مجھے بُلا بھیجا تھا۔ اب تک اُن سے ملنے کی خوش بختی مجھے حاصل نہیں ہوئی تھی۔ وہ لڑکا آگے کہنے لگا، “انہوں نے کہا ہے کہ آپ کو جب فرصت ملے آ جائیے۔ اُن کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ بیمار پڑے ہیں، ورنہ وہ خود ہی آپ سے ملنے آنے والے تھے۔”

“نہیں، نہیں، وہ کیوں تکلیف کریں گے یہاں آنے کی؟ مجھے خود جانا چاہیئے اُن سے ملنے۔ تم تھوڑا رُکو، میں ابھی آتا ہوں تمہارے ساتھ ہی۔” آخر فالکے جی جیسے بڑے آدمی کا میرے سے کیا کام ہو سکتا ہے، سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔

میں اُسی لمحے اس کے ساتھ ہو لیا۔ ہم لوگ پُونا کی گنجان آبادی والے علاقے میں پہنچے۔ کئی گلی کوچوں کو پار کرنے پر فالکے جی کا مکان تھا۔ وہ پرانا گھر آ گیا۔

ایک چھوٹا سا کمرا۔ زمین پر بچھا پھٹا پرانا گدا، دادا صاحب فالکے اس پر سوئے تھے۔ ہر چیز سے گھر کی غریبی اور تنگ دستی صاف نظر آتی تھی۔ کمرے کے اندرونی دروازے کے پاس کوئی عورت اور کچھ بچے کھڑے تھے۔ یقیناً وہ فالکے جی کی دھرم پتنی (بیوی) ہوں گی۔

قدموں کی آہٹ پاتے ہی دادا صاحب نے آنکھیں کھولیں۔ مجھے دیکھ کر وہ مسکرائے۔ میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کچھ دیر مجھے صرف دیکھتے ہی رہے۔ من میں جذبات کی گھٹا سی امڈنے لگی تھی۔ اتنا مہان آدمی جس کی کھڑی کی گئی فلم انڈسٹری کے کارن آج ہمارے ملک میں ہزاروں لوگوں کی زندگی چل رہی ہے، آج اِس مخدوش حالت میں پڑا ہے۔ یہ دیکھ کر من اداسی سے اتنا بے چین ہو اٹھا کہ منہ سے ایک لفظ بھی نکل پانا مشکل ہو گیا۔

کچھ لمحوں بعد دادا صاحب دھیرے دھیرے بولنے لگے۔ انہیں دوا دارو اور گھر گرہستی کے لیے کچھ رقم کی ضرورت تھی۔ بہت لاچار ہو کر وہ لگ بھگ گڑگڑا سے رہے تھے کہ صحت حاصل کرنے تک ہر ماہ انہیں باقاعدگی سے کچھ مدد بھیجی جائے تو بڑا احسان ہو۔

ان کی یہ حالت دیکھ کر میں بہت ہی دکھی ہوا۔ میں نے فوراً ان کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھا اور انہیں آگے بولنے سے روکا اور کہا، “دادا صاحب، اس میں احسان کی کیا بات ہے؟ آج ہم سب لوگ آپ ہی کی چھتر چھایا میں کھڑے ہیں۔ ہمارے پیسوں پر آپ کا حق ہے۔ آپ ذرا بھی فکر نہ کریں، میں آپ کو باقاعدگی سے رقم بھیجتا رہوں گا۔”
انہوں نے جوش میں میرا ہاتھ کس کر تھام لیا۔ انہیں تیز بخار تھا۔ کچھ دیر بعد اُن سے اجازت لے کر میں بلانے آئے اُس لڑکے کو ساتھ لے کر واپس آیا۔ اس لڑکے کے ساتھ میں نے دادا صاحب کو کچھ رقم فوراً بھجوا دی۔ اس کے بعد کافی عرصے تک میں ایک طے شدہ رقم دادا صاحب کو ہر ماہ پہنچاتا رہا۔

کچھ دنوں بعد رنجیت سٹوڈیو کے مالک چندو لال شاہ کی صدارت میں بھارتی فلمی دنیا کا سلور جوبلی فیسٹول بمبئی میں منایا گیا۔ اس تقریب کے لیے انہوں نے دادا صاحب فالکے جی کو مدعو کیا تھا۔ لیکن ان سے سٹیج پر آنے کی درخواست انہوں نے نہیں کی۔ اصل میں وہ اس احترام کے حق دار تھے۔ لیکن اس کے باوجود انہیں یہ احترام نہیں دیا گیا تھا۔ لہذا میں نے اس معاملے میں پہل کی اور انہیں اصرار کر اسٹیج پر لے گیا۔ فیسٹول کے آخری دن میں نے سبھی فلم پروڈیوسرز سے درخواست کی۔ اپیل کی کہ “ہم سب لوگ مل کر دادا صاحب فالکے کے لیے ان کے اپنے شہر ناسک میں ایک چھوٹا مکان بنوا دیں۔”

لیکن کہتے ہوے شرم آتی ہے کہ صرف دو تین پروڈیوسرز نے ہی اس کام کے لیے چھوٹی چھوٹی رقمیں دیں۔ ہمارے کاروبار کے لوگوں کی اتنی چھوٹی ذہنیت دیکھ کر من اداس ہو گیا۔ جو کچھ تھوڑا پیسہ اس طرح آیا تھا، اس میں ‘پربھات’ کی طرف سے کافی بڑی رقم جوڑ کر ہم نے وہ راشی ناسک میں دادا صاحب فالکے جی کو بھجوا دی۔

اُس کے بعد فالکے جی کی دھرم پتنی سرسوتی بائی کا ایک پترملا۔ لکھا تھا۔۔۔۔

شریمان (محترم) شانتارام بابو، ڈائریکٹر پربھات فلم کمپنی، پُونا کی خدمت میں پُرخلوص پرنام۔
پتر اِسی لیے لکھ رہی ہوں کہ ہماری مصیبت کے دنوں میں آپ نے ہمارے پورے خاندان کو جو سمے سمے پر مدد پہنچائی ہے، اس کے لیے اپنے بال بچوں کی طرف سے آپ کو شکریہ کہوں۔ آپ نے جو احسان کیا ہے اس کو پورا کر پانا نا ممکن ہے۔ پرماتما کے چرنوں میں میری یہی دعا ہے کہ وہ آپ کو لمبی عمر دے اور ہمیشہ مکمل سُکھ میں رکھے۔
آپ نے فنڈ کولیکشن کا خیال چلا کر ہمارے لیے جو پانچ ہزار روپے اکٹھا کر بھیجے، اس کے کارن ہم ایک بہت بڑی مصیبت سے آزاد ہو گئے۔ اس احسان کو میں اور میرے بچے ہمیشہ یاد کریں گے۔ ہمارے گھر والوں کا رویہ کچھ غصیلا اور کچھ عجیب سا ہے۔ نتیجتاً آپ جیسے بھلے لوگوں کو بھی کبھی کبھی تکلیف پہنچتی ہے، میں اچھی طرح جانتی ہوں۔ آپ کو خود اس طرح کوئی تکلیف پہنچی ہو، تو میرے بال بچوں کی طرف دیکھ کر مہربانی کر کے اسے بُھلا دیں اور ہم پر اِسی طرح کی نظر کرم بنائے رکھیں۔
تاریخ 27: مئی 1939۔
سرسوتی بائی فالکے۔

کچھ دنوں بعد دادا صاحب فالکے کا بھی ایک پتر آیا ۔۔۔

بلسارا بلڈنگ اسپتال کے پاس ناسک،
تاریخ: 25-8-39
شریمان شانتارام بابو پربھات سنیٹون، پُونا۔
سپریم نمسکار (محبت بھرا سلام)، بمبئی جا کر بابوراؤ پینڈھارکر سے مل آیا ہوں۔ سارا حال آپ پر واضح ہو ہی چکا ہے۔ جو بھی مل رہا ہے، اُس سے میں ہر حالت میں مطمئن ہوں۔
گت وجیادشمی (ہندو تہوار) کے مبارک موقع پر آپ نے مجھ پر جو مہربانی کی ویسی خوش قسمتی کے لمحے اور ویسے کامیاب ہاتھ اپنی ساری زندگی میں مَیں نے کبھی محسوس نہیں کیے تھے۔ ورنہ وجیادشمی کا وہ دن شاید ہم لوگوں نے کسی گندی، کیچڑ بھری جگہ میں بیمار حالت میں ہی گزارا ہوتا۔ لیکن اسی دن سے ہم لوگوں کے لیے روز بہ روز زیادہ سے زیادہ سُکھ بھرے دن لوٹ آنے لگے ہیں۔
آج تک اپنی عقل کے کرتب سے میں نے ساٹھ ستر لاکھ روپوں کا کام کیا ہو گا۔ لیکن اسی سمے اندرونی گُھن لگا۔ میرا گھر بار، زمین وغیرہ سب راکھ ہو گئے اور میں پوری طرح سے گہرے گڑھے میں جا گرا۔
ماں کھانا نہیں دیتی اور باپ بھیک مانگنے نہیں دیتا، ایسی حالت ہوگئی تھی میری۔ گُھٹن ہو رہی تھی۔ اوپر سے لاتیں اور مکوں کی مار پڑ رہی ہو لیکن رونے کی بھی مناہی تھی۔ اسی حالت میں فلمی دنیا کو لگاتار دیکھتے رہنے کے بعد شاید پرماتما نے ہی مجھے آپ کو ساری داستان سنانے کی inspiration دی۔ ‘فالکے خاندان’ ہی دنیا سے مٹ گیا ہوتا۔ مجھے پتہ ہے، آپ اس طرح کی زبان سننا پسند نہیں کرتے۔ لیکن میں نے جو کچھ کہا، میرے اندر سے اٹھتے احساسات ہیں۔ انہیں روکنے کا کوئی حل نہیں ہے۔ پرماتما نے اور کچھ سمے تک زندہ رکھا، تو مجھے پوری امید ہے کہ آپ کے چرنوں میں میری پھر قسمت یاوری ضرور ہو گی۔
آپ بُرا نہ مانیں تو ایک درخواست اور کروں؟ میرے ہاتھ آ سکے اس نقطہ نظر سے آپ اگلی وجیادشمی کو مجھے صرف پانچ روپے بھیج دیں؟ میں انہیں اپنے پوجا گھر میں آنے والے سال کی مبارک امانت کے روپ میں رکھ کر پوجنا چاہتا ہوں۔
مہربانی بنی رہے۔
مخلص
(ڈی۔ جی۔ فالکے)

فالکے جی کے اس پتر کا میں نے جواب دیا۔۔۔

شریمان دادا صاحب، پیار بھرا نمسکار، آپ کی چِٹھی ملی۔ اندر سے نکلتے آپ کے احساسات کو میں اپنے لیے آپ جیسے تپسوی کی blessings مانتا ہوں۔
آپ کے دلی احساسات سے میں جذباتی ہو گیا ہوں۔ بہت اطمینان محسوس کر رہا ہوں۔ یہ سچ ہے کہ مجھے اپنے بارے میں ایسا لکھا جانا قطعی بھاتا نہیں لیکن آپ کے احساسات کی گہرائی دیکھ کر شائستگی سے قبول کرتا ہوں کہ ایسے بامعنی لفظوں کی ضرورت آدمی کو زندگی میں ضرور محسوس ہوتی ہے۔ آپ کے لفظوں نے مجھے وہ اطمینان فراہم کیا ہے، جو لاکھوں روپے خرچ کرنے پر بھی نہیں مل پاتا۔
اس سمے میں بہت جلدی میں ہوں۔ نئی فلم بنانے کی دوڑ دھوپ کررہا ہوں۔ ابھی ابھی آج کا کام مکمل کر تھکا ماندہ اوپر آیا اور میز پر رکھا آپ کا پتر کھول کر پڑھا۔ بہت اچھا لگا۔
لیکن آپ کو وجیادشمی کے دن ملے، ایسا انتظام کر آپ کو پانچ روپے بھیجنے اور انہیں پوجا گھر میں رکھ کر پوجنے کی جو بات آپ نے لکھی ہے مجھے کچھ عجیب و غریب لگی۔ آپ کو پانچ روپے بھیجوں یا نہ بھیجوں یہ کشمکش بھی من میں جاگ گئی۔ لیکن آپ کے احساسات کا احترام کرنے کے لیے میں نے طے کیا ہے کہ آپ کو وہ پانچ روپے (اور ساتھ ہی کچھ اور رقم بھی) بھیجوں گا۔ پھر بھی آپ سے درخواست ہے کہ آپ اسے پوجا گھر میں رکھ کر پوجا کا احترام نہ دیں۔ ہاں، آپ نے اپنے پتر میں میرے لیے جو احساسات ظاہر کیے ہیں، میں انہیں حاصل ہوے آشیرواد کے روپ میں اپنے پوجا گھر میں ضرور رکھ رہا ہوں۔
(وی۔ شانتارام)

کچھ عرصے سے میں زیادہ پڑھنے میں لگ گیا تھا۔ آج سینما کی تکنیکی کتابیں، تو کل نفسیات کی اور پرسوں فلسفہ، عمرانیات کی۔ اس طرح میں نے کافی سنجیدہ کتابیں پڑھ ڈالی تھیں۔ ان میں لکھی کئی باتیں شروع شروع میں ٹھیک سے سمجھ میں نہیں آتی تھیں، لیکن میں بار بار پڑھ کر ان کے معانی سمجھنے کی کوشش کرتا رہا۔

لیکن اس طرح گہرے سنجیدہ موضوعات کی کتابیں پڑھتے رہنے کے کارن کہانی کے لیے ضروری لطیف ادب پڑھنے کے لیے سمے نہیں مل رہا تھا۔ اس لیے میں نے ایک آدمی کو صرف اسی کام کے لیے کمپنی میں نوکری پر رکھ لیا۔ دن میں وہ انگریزی اور مراٹھی کہانیاں اور ناول پڑھتا اور ہر رات آٹھ ساڑھے آٹھ بجے ان کا خلاصہ مجھے سناتا تھا۔ کبھی کبھار کوئی کہانی مجھے بہت ہی اچھی لگتی، تو میں وہ کتاب منگوا کر خود پڑھ لیتا تھا۔ پھر ہم لوگ اس پر دل کھول کر بحث کرتے۔ یہ سلسلہ کئی برسوں تک میں نے جاری رکھا تھا۔ نتیجتاً ہمارے گھر میں رات کے ڈیڑھ دو بجے تک بتی گُل نہیں ہوتی تھی۔

ایک دن سویرے کمپنی کا الیکٹریشن یادَھو آیا اور ڈرتے سہمتے کہنے لگا کہ، “سبھی مالکوں کے بنگلوں پر کتنی بجلی خرچ ہوتی ہے، یہ معلوم کرنے کے لیے الیکٹرسٹی کے میٹر فِٹ کرنے ہیں۔”

مَیں جَھّلا اٹھا۔ اس سے پوچھا، “کس نے دیا ہے یہ حکم؟”

“داملے ماما نے۔”

“تبھی تو! تم ایسا کرو، یہ میٹر صرف میرے ہی بنگلے پر فِٹ کرنا باقی سب کے گھروں کی بتیاں رات نو دس بجے تک بند ہو ہی جاتی ہیں، تو دیگر مالکوں کے بنگلوں پر میٹر لگوانے کا خرچ کمپنی بے کار میں کیوں اٹھائے؟”

میرا وہ غصیلا روپ دیکھ کر یادَھو پل بھر بھی میرے سامنے ٹکا نہیں۔ وہ بھاگ کھڑا ہوا۔ بعد میں کسی کے بھی بنگلے پر میٹر نہیں لگا۔

اس طرح ناراضی پیدا کرنے والے چھوٹے موٹے واقعات لگ بھگ روز ہونے لگے تھے۔ پھر بھی ‘پربھات’ کی روشن روایت میں چار چاند لگانے والی نئی مثالی فلم بنانے کے اپنے فیصلہ پر میں ڈٹا رہا۔ اس کے علاوہ یہ بھی من ہی من طے کر لیا کہ داملے جی، فتے لال جی کی بھی اُن کے کاموں میں دلی مدد کروں گا اوران کی فلم کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ساری محنت انتہائی ایمانداری سے اور کبھی کبھار تھوڑی بے عزتی سہتے ہوے بھی کروں گا۔

مکڑی کے جال سی اٹھی اِن باتوں کو من سے نکال کر میں نے ‘گوپال کرشن’ کا سکرین پلے واشیکرن سے تیزی سے پورا لکھوا لیا۔ اب وہ سکرین پلے لکھنے میں کافی ترقی کر چکے تھے۔ پھر بھی لکیر سے ہٹ کر کچھ کرنے کا حوصلہ ابھی ان میں نہیں آیا تھا۔ ہماری اوریجنل خاموش فلم ‘گوپال کرشن’ کے برعکس اس فلم میں مَیں نے ایک سے زیادہ نئے سین رکھے۔ ایک سین تھا: رادھا کا پتی انیہ کرشن پر بہت ناراض ہو جاتا ہے اور اس کی مرلی کی آواز بند کرنے کے لیے اسے پتھر سے توڑ کر چُور چُور کر دیتا ہے۔ لیکن مرلی کے ایک ایک ٹکڑے میں جان آ جاتی ہے۔ سبھی ٹکڑے زندہ ہو کر الگ الگ سُر بجانے لگتے ہیں، ناچنے لگتے ہیں۔ اس طرح کے دیگر سین اس فلم میں رکھے اور آخر اس کی شوٹنگ شروع کر دی۔

داملے فتے لال کے لیے راجہ نے نے کو معاون مقرر کیا گیا تھا۔ لیکن خاص نازک اور پیچیدہ سین کی شوٹنگ کے سمے میں خود سیٹ پر موجود رہتا تھا۔ کبھی کبھی تو شوٹنگ کے دوران میں داملے جی، فتے لال جی کو بھی کچھ ہدایات دے دیتا۔ لیکن ایسا کرتے وقت بڑے پن سے انہیں کچھ سکھانے کا احساس کبھی ظاہر نہ ہو، اِس کی پوری احتیاط ضرور برتتا۔ اپنے آپ کو ان کا معاون مان کر صلاح دیتا۔ “داملے ماما، ذرا دیکھیے تو اس شاٹ کو اس طرح سے لیں تو کیسا رہےگا؟” ‘گوپال کرشن’ کی شوٹنگ باقاعدہ ڈھنگ سے چالو ہو گئی اور پھر سے میرا من نئے موضوع کی کھوج میں لگ گیا۔

لگ بھگ اسی سمے ہمارے خاندان پر ایک بڑی مصیبت آ پڑی:

میرے ایک چھوٹے بھائی رام کرشن کو ٹائفائیڈ ہو گیا۔ اس زمانے میں ٹائفائیڈ ایک لاعلاج روگ مانا جاتا تھا۔ رام کرشن کا علاج ہم پُونا کے سب سے بہترین ڈاکٹر سے کرا رہے تھے۔ لیکن اس کا بخار قابو میں نہیں آرہا تھا۔ وہ بے ہوش ہو گیا۔ آنکھیں پھاڑ کر بڑبڑانے لگا، جیسے سامنے کسی کو دیکھ رہا ہو۔ اس کی آنکھیں جھپکتیں تک نہیں تھیں۔ اُسے ایسی حالت میں دیکھ کر کلیجہ پھٹنے لگا۔ سارا منظر ناقابل برداشت ہو اٹھا۔ ڈاکٹر نے ساری امیدیں چھوڑ دیں۔ ماں ہمیشہ ہم پانچوں بھائیوں کو ‘پانچ پانڈو’ کہا کرتی تھیں۔ ان میں سے ایک اب نہیں رہے گا، یہ خیال بھی ہمارے لیے ناقابل برداشت ہو رہا تھا۔ اپنا دکھ سب سے چھپانے کے لیے مَیں اکیلا پچھواڑے میں آ کر آنکھیں پونچھتے کھڑا رہا۔ وہیں ماں بھی ایک کونے میں منہ چُھپا کر اپنا سینہ پیٹتی ہوئی رو رہی تھیں۔ اپنا رونا کسی کو بھی سنائی نہ دے، اِس لیے اُس نے ساڑھی کا پلو منھ میں ٹھونس رکھا تھا۔ اتنا نوجوان اور طاقتور بیٹا دیکھتے ہی دیکھتے اس دنیا سے سدا کے لیے جا رہا تھا۔۔۔ ماں کے دکھ کی حد نہ تھی۔ ایسے سمے میں اپنی ماں کی ماں بنا۔ اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور سہلا کر سمجھانے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔

رام کرشن کی جان بچانے کی ساری کوششیں بےکار رہیں۔ وہ ہم سب کو چھوڑ کر سدھار گیا۔ انتہائی دکھ سے میں رونے لگا۔ اب ماں میرے پاس آئی۔ مجھے دلاسہ دینے لگیں۔ رام کرشن موت کے وقت صرف بتیس سال کا تھا۔ وہ اپنے پیچھے تین بیٹیاں اور حاملہ بیوی چھوڑ گیا۔

رام کرشن شانت اور نرم فطرت کا آدمی تھا۔ وہ بس اپنے کام میں مست رہتا تھا۔ نا کسی سے لینا، نا کسی کا دینا۔ شروع میں ‘پربھات’ کے کیمیکل روم میں کام کرتا تھا۔ بعد میں پُونا آنے پر وہ اسی ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ ہو گیا تھا۔ کام میں وہ کمال کا ہنرمند تھا۔

اس کی موت کے فوراً بعد اور ایک دُکھی واقعہ ہو گیا۔ رام کرشن کی انتییشٹی (Funeral) سے لوٹتے سمے وِمل کے بھائی رام چندر کو بخار ہو گیا۔ وہ رام کرشن کے ڈیپارٹمنٹ میں ہی معاون تھا۔ تھا تو وہ وِمل کا بھائی، لیکن وِمل جب سسرال آئی تو یہ یتیم بچہ بھی اس کے ساتھ ہی ہمارے خاندان میں آ گیا تھا۔ اب تو ہمارے خاندان کا ہی ایک فرد بن گیا تھا۔ اُس سمے وہ صرف نو دس سال کا تھا۔ کبھی سوچتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں کہ کتنے انسانیت پرست تھے میرے ماں اور باپو! اُن دنوں اُن کی معاشی حالت کیسی تھی! اور پھر بھی یہ سوچ کر کہ اپنی بہو کا بھائی یتیم رہ جائے گا، انہوں نے اُسے پیار سے قبول کر لیا تھا! یہی نہیں، اُسے کولہاپور کے اسکول میں بھی داخل کرا دیا تھا۔ آگے چل کر بڑا ہونے پر اسے میں نے ‘پربھات’ کے کیمیکل روم میں فلم پرنٹنگ کے کام پر رکھ لیا۔ اپنے کام میں وہ بہت ماہر تھا۔ اس کی شادی بھی میں نے اپنی موسیری (خالہ زاد) بہن کی لڑکی لِیلا سے کرا دی۔

رام کرشن کی انتییشٹی ختم کر لوٹتے سمے ہی رام کو جو تیز بخار چڑھا، اس کی تشخیص ڈاکٹروں نے ‘گردن توڑ بخار’ کی۔ اسے تپِ دق کی بیماری ہے۔ اِس دوران اُس کا بھی پتہ چل گیا۔ اسے فوراً ہی مِرج کے ‘مشنری ٹی۔ بی۔ اسپتال’ میں بھرتی کرایا گیا۔ اس کی پتنی لیلا اُس کی دیکھ بھال کے لیے اسپتال میں رہی۔ اس کی حالت بہت ہی گمبھیر ہونے کی خبر ملتے ہی میں اسے دیکھنے کے لیے مِرج گیا۔

رام بے ہوشی میں بھی ویسے ہی ہاتھ چلا رہا تھا جیسے پرنٹنگ مشین میں فلم بھرتے سمے چلاتا تھا۔ کم سے کم اِس رام کو تو بچا ہی لیا جائے، اس کے لیے کافی کوشش کی گئی۔ خوب خرچ کیا، لیکن اُسے بچایا نہ جا سکا۔

اکلوتا بھائی گزر جانے کے کارن وِمل کو بہت ہی دکھ ہوا۔

رام کرشن کی اچانک موت، اس پر وِمل کے بھائی کی وہ لمبی بیماری اور آخر میں موت کے کارن ہمارے پورے خاندان پر ڈیپریشن کے بادل چھا گئے۔ میں بھی اس سے اَچھوتا نہ رہ سکا۔

لیکن اس بار بھی دھیرج کے ساتھ مَیں پھر کھڑا ہو گیا۔ سخت رپٹیلی (پھسلن بھری) راہوں پر چلتے ہی رہنے، لگاتار آگے ہی بڑھتے رہنے کی اکھڑ فطرت کے کارن میں پھر جیون راہ پر رواں دواں ہو گیا۔

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 18: تجرباتی فلموں کے عہد کا آغاز (ترجمہ: فروا شفقت)

ہمارے جیون میں ایسا حادثہ پیش آیا تھا، جسے دنیا شاید نہ مانے، ہم سب لوگ من ہی من بہت ہی مایوس ہو گئے تھے۔ اتنے سالوں کا ساتھی ہم سے دور ہو گیا تھا۔ لیکن ہمیشہ کی طرح اس بار بھی میں ہی اس ڈیپریشن کو جھیل کر پھر کام میں جُٹ گیا، اور پورے زور و شور سے جُٹ گیا۔ یہ کام تھا نئی کہانی بنانا، نیا خیال پیش کرنا، فلم میکنگ میں ایک نیا تجربہ کرنا۔ ن۔ہ۔آپٹے کے ‘دنیا نہ مانے’ ناول پر نئی فلم بنانے کے کام میں لگ جانا ہی ڈیپریشن سے آزاد ہونے کا بہترین حل تھا۔

سکرین پلے شکل لینے لگا: ماتا پِتا کی موت کے کارن یتیم اور بے سہارا ہوئی ہروئین کی شادی دَھن کا لالچی اس کا ماما (ماموں) ایک امیر بوڑھے وکیل سے کر دیتا ہے۔ اس نوجوان لڑکی کے سارے احساسات جل کر خاک ہو جاتے ہیں۔ اپنے ساتھ کی گئی اس ناانصافی کا انتقام وہ بہت ہی شدت سے لیتی ہے۔ اس کے ایسے متشدد طرزِ عمل کے کارن اُس کے لیے اُس کے پتی اور گھر کے دیگر لوگوں کے من میں ایک طرح کی دہشت چھا جاتی ہے۔۔۔

اصل ناول میں دکھایا گیا تھا کہ ہروئین کا شادی سے پہلے ایک دوسرے نوجوان کے ساتھ پریم ہے۔ اس پریم کو جتانے والے کئی سین بھی ناول میں تھے۔ لیکن سکرین پلے بناتے سمے میں نے ان سبھی سین کو رد کر دیا۔ اس کا کارن میری رائے میں یہ تھا کہ فلم میں وہ ہی پریم سین رہتے تو شادی کے بعد اُس کی طرف سے کی گئی جدوجہد اس شادی سے پہلے پیار کے تعلق کے کارن کی گئی معلوم ہوتی۔ اس سے ہیروئین کی مورتی ایک دم معمولی ہو جاتی۔ وہ ناانصافی کا انتقام لینے کے لیے نہیں، محبت کی ناکامی سے پیدا ہوئی ناکامی کے کارن جدوجہد کررہی ہیروئین معلوم ہوتی۔ یہ مجھے پسند نہیں تھا۔ میں چاہتا تھا کہ اپنے ساتھ کی گئی ناقابل معاف ناانصافی کے انتقام کے لیے اس نے خود داری کے ساتھ جو جدوجہد کی اُسی کو فلماؤں۔ بھارتی فلموں میں رومینٹک سین بہت ہی سستے ہو چلے تھے۔ اس لیے میں نے اسی پٹی پٹائی راہ پر چلنے سے انکار کر دیا۔ میں نے طے کیا کہ اپنی سماجی فلم میں ایک بھی رومینٹک سین نہیں رکھوں گا۔ یہ ہی کیوں، لفظ محبت تک کا کہیں استعمال نہیں کروں گا اور پھر بھی فلم عام لوگوں کے دلوں کو برابر چھوتی چلی جائے اس طرح اُس کی تخلیق کروں گا۔ یہ ایک دم نرالا چیلنج میں نے اپنے آپ کو دیا۔

سکرین پلے لکھ کر تیار ہو جانے کے بعد ہمیشہ کی طرح اپنے ساتھیوں کو وہ پڑھ کر سنایا۔ سن کر داملے، فتے لال دونوں سوچ میں پڑ گئے۔ فتے لال جی نے کہا، “شانتارام بابو، اس میں تو ایک بھی لَوسین نہیں ہے، لوگوں کو یہ فلم کس طرح پسند آئے گی ؟”

داملے جی نے بھی اُن کی حمایت کی، “یہ ہماری پہلی ہی سماجی فلم ہے۔ یہ فیل ہو گئی تو ہماری بڑی بے عزتی ہو گی!”

“ویسا کچھ بھی ہونے نہیں جا رہا ہے، لیکن مان لیجئے کہ یہ فلم فیل ہو جاتی ہے تو یہ یقین جانیے کہ لوگ اس تجربے کو ‘اے گریٹ فیلیئر’ ہی کہیں گے۔” میں نے کہا۔

بھارت کی پہلی تجرباتی فلم (avant-garde cinema/ experimental film) کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ میں نے طے کر لیا تھا کہ اس فلم میں سبھی مستعمل طور طریقوں کا استعمال نہیں کروں گا اور کاروباری کامیابی کے لیے کسی طرح سمجھوتا نہیں کروں گا۔ فلم کے لیے یہ ٹریٹمینٹ من میں پکا ہوتے ہی مجھے ہر سین کو پیش کرنے کے نئے اور انقلابی خیالات سوجھنے لگے اور من میں اٹھتی ہر نئی بات کو میں دھڑلے کے ساتھ عمل میں لانے لگا۔

فلم میں کسی سین کو اٹھانے کے لیے بیک گراونڈ میوزک دینے کا پرانا طریقہ کار میں نے چھوڑ دیا۔ اس میں سوچ یہ تھی کہ سین کا احساس بڑھانے کے لیے دیا جانے والا بیک گراونڈ میوزک سہج نہیں، غیر فطری ہوتا ہے۔ اس کے کارن سین کی حقیقت کم ہو جاتی ہے۔ لہذا میں نے فیصلہ کیا کہ بیک گراونڈ میوزک کی جگہ پر جیون میں ہمیشہ سنائی دینے والی آوازوں کا ہی استعمال کر لیا جائے۔ اُسی کے مطابق ہیروئین نِیرا کو گانے کا شوق ہونے کے کارن وہ کلاسیکل میوزک کے گراموفون ریکارڈز بجا کر ان کی لےَ پر گانا گاتی ہے، ایسے دیگر سین میں نے سکرین پلے میں جوڑے۔

اس فلم کے ہر میوزک سین کے لیے میں نے نت نئے خیال کا تجربہ کیا: نِیرا شادی کے بعد سسرال آتی ہے۔ وہاں کاکا صاحب کی چھوٹی بھانجی سے اس کی گاڑھی دوستی ہو جاتی ہے۔ نِیرا کے جیون میں اس ننھی بچی کی دوستی کے کارن کافی رس پیدا ہو جاتا ہے۔ نیرا کے سسرال آنے کے بعد کچھ سمے بیت جاتا ہے، یہ بات مجھے فلم میں دکھانی تھی۔ یہ مَیں موسم پر مبنی ایک گیت کےذریعہ دکھانا چاہتا تھا۔ لیکن اس گیت کے لیے مجھے آرکسٹرا کا استعمال نہیں کرنا تھا۔ وہ ننھی بچی اس کے اسکول میں سِکھایا گیا موسم کا گیت گاتی ہے۔ ہیروئین نیرا کمرے میں رکھا پانی کا لوٹا، گلاس اور لکڑی کا چھوٹا ڈنڈا لےکر ان کو جل ترنگ جیسا بجاتی ہے اور اس گیت کا تال سُروں میں ساتھ دیتی ہے۔ ایسا سین میں نےسوچا۔ سنگیت کا یہ تخیل اس زمانے میں ایک دم انوکھا تھا۔

آگے چل ایک سین میں ایک بھکاری کا گانا ہے۔ اس سین کو میں نے راہ چلتے بھکاری جس طرح اپن ٹین کی ڈبیاں بجا بجا کر گاتے ہیں، اور ایک ساتھی گلے میں کہیں کا ٹوٹا پرانا ہارمونیم باندھے اس کا ساتھ دیتا ہے، اسی طرح کا سین میں نے لیا۔ یہ گیت بہت ہی مقبول ہو گیا۔ اس کے لیے پہلے کیشوراؤ بھولے نے ایک دُھن کھوجی تھی، لیکن ان کی دُھن مجھے پسند نہیں آئی۔ لیکن تبھی امرتسر کے میرے ایک چاہنے والے نے کچھ گیتوں کے فونو گرافس مجھے تحفے میں بھیجے۔ ایک دن میں انہیں سننے بیٹھا۔ ان میں “آئے مدینہ” نامی ایک گیت کی دُھن مجھے بے حد پسند آئی۔

میں نے کیشوراؤ بھولے کو بھی وہ دُھن سنائی۔ انہوں نے بھی اسے پسند کیا۔ اسی دُھن پر منشی عزیز نے گیت تخلیق کر دیا:

“من صاف تیرا ہے یا نہیں پوچھ لے جی سے، پھر جو کچھ کرنا ہے تجھے کر لے خوشی سے، گھبرا نہ کسی سے۔”

اس کے بعد اسی ارادے پر مراٹھی گیت شانتارام آٹھولے نے لکھ دیا۔

فلم کے کریڈٹ ناموں سے ہی یہ ناظرین کے دل و دماغ کو جکڑ سکے ، اس لیے میں نے دکھایا کہ شروع میں کیمرے کے چوکھٹے میں ایک گراموفون آتا ہے۔ اس کے بعد ہیروئین کا ہاتھ اس چوکھٹے میں دکھائی دیتا ہے۔ وہ فونوگراف چالو کرتی ہے۔ اس میں لیریکل سنگیت سنائی دینے لگتا ہے۔ گراموفون پر رکھا فونوگراف جب گھومنے لگتا ہے تو اس کے مرکزی حصے پر چپکا نام بتانے والا لیبل بھی گھومتا گھومتا باہر آتا ہے اور کیمرے کے پاس آ کر ساکت ہو جاتا ہے۔ اس پر ٹیکنیشنز اور ڈائریکٹر کے ناموں کی رہمنائی ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہر سمے اسی طرح لیبل کیمرے کے پاس آ کر رکتا ہے اور آخر میں اس پر فلم کا نام آتا ہے۔

اس کے بعد کے سین میں بڑھاپے کی طرف ڈھلتی عمر کا ادھیڑ ہیرو اپنے لیے پتنی طےکرنے کے لیے ہیروئین کے ماما کے گھر آتا ہے۔ وہاں وہ اب بھی میں جوان ہوں کی ادا سے خضاب لگا کر کالی کی ہوئی اپنی مونچھوں پر تاؤ دے کر یہ جتانے کی کوشش کرتا ہے کہ ابھی اس کی شادی کی عمر ہے۔ تبھی سڑک سے جاتا کوئی پھیری والا آواز دیتا ہے ‘ق۔۔ل۔۔ئی۔۔’ ہیرو چونکتا ہے۔ مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا اس کا ہاتھ فوراً نیچے ہو جاتا ہے، جیسے بجلی کا جھٹکا لگا ہو۔ اس خاص پس منظر میں آواز کے سین سے میں نے یہ بتایا تھا کہ جس طرح قلعی لگانے سے برتن روپہلے ہو جاتے ہیں، اسی طرح ہیرو کی روپہلی مونچھیں خضاب کی قلعی کرنے کے کارن کالی سیاہ دکھائی دے رہی ہیں۔

فلم کے آخر میں ہیرو کو اتنی ادھیڑ عمر میں شادی کرنے کا پچھتاوا ہوتا ہے۔ اپنے سہاگ کی اصل (حقیقت) دبلی اور بوڑھی ہے، یہ جان کر نِیرا سہاگ سِندور لگاتے سمے ہمیشہ ہچکچاتی رہتی ہے۔ آخر اس کا بوڑھا وکیل پتی خود ہی یہ کہتا ہوا کہ، ”تم اب سے سہاگ سِندور مت لگایا کرو”، اس کے ماتھے پر لگا خوش قسمت سِندور مٹا دیتا ہے۔ ہیرو کے من میں اس سمے یہی خیال ہوتا ہے کہ اگر عورت بیوہ ہو جاتی ہے، تو ممکنہ طور پر اپنا دوسرا بیاہ رچا سکتی ہے اور سُکھی ہو سکتی ہے۔ اُن دنوں سفید پوش سماج میں بیاہتا کو طلاق نہیں ملتی تھی۔ ماتھے کے سہاگ سِندور کا اس طرح مٹائے جانے کا ہیروئین کے من پر زبردست صدمہ پہنچتا ہے۔ بھارتی عورت کے بنیادی سنسکاروں کو دھچکا لگتا ہے۔ اس کا کلیجہ تھرّا اٹھتا ہے۔ اسی سمے سڑک پر مری مائی کا کوئی بھگت بھگوتی کوخوش کرنےکے لیے اپنے ہی بدن پر جم کر کوڑے لگاتا ہے۔ کوڑوں کی کڑکتی آواز کا بیک گراونڈ آواز ناری کی ذہنی تکلیف کا اظہار بہت ہی پراثر ڈھنگ سے کرتا ہے۔

اسی طرح مختلف نئے خیالات کو پیش کرتے ہوے اس نئی فلم میں مَیں نے بیک گراونڈ میوزک کی جگہ پر بیک گراونڈ آواز کے ذریعے سے سین کی ڈرامائیت کو سجانے کی کوشش کی ۔ یہی نہیں اس فلم کے ذریعے میں نے یہ بھی دکھا دیا کہ معمولی استعمال کی چیزوں کو بھی فلم کا اٹوٹ انگ بنایا جا سکتا ہے۔ کونکن جا کر نئی شادی کر آیا بوڑھا ہیرو کچہری سےجب گھر لوٹتا ہے، تو راستے میں کئی واقف لوگ اوچھے انداز سے اُسے نئی شادی کے بارے میں پوچھنے لگتے ہیں۔ ان کو ٹالنے کے لیے وہ اپنی چھتری کا استعمال کرتا ہے۔ چھتری کھول لیتا ہے اور دور سے کوئی واقف آتا دکھائی دیا کہ کُھلی چھتری کی اوٹ میں اپنا منھ چھپا لیتا ہے۔ اسی طرح منھ چھپاتے چھپاتے اور واقف کاروں کی پھبتیوں سے بچتے بچاتے وہ اپنے گھر آ جاتا ہے۔ دروازے پر ہی اس کا بوڑھا نوکر کھڑا ہوتا ہے۔ وکیل اپنی ہی خوابیدگی میں کھویا کھویا چھتری تان کر ہی گھر میں گھستا ہے اور نوکر سے بھی منھ چھپا لیتا ہے۔

مالک کے اس الجھے ہوے طرز عمل سے حیران نوکر منہ کھولے دیکھتے ہی رہ جاتا ہے۔ وکیل دیوان خانے میں آتا ہے۔ دیوار پر لگی پرانی گھڑی آدھ گھنٹہ بیتنے کا کچوکا دیتی ہے۔ ہیرو اپنی خوابیدگی سے جاگ جاتا ہے اور چونک کر چھتری ایک طرف کرتا ہوا گھڑی کی طرف دیکھنے لگتا ہے۔

بات یہ تھی کہ میں خود بھی خیالات کی خوابیدگی میں کھو کر کافی بھلکڑ بن جاتا تھا۔ اپنے اسی سوبھاؤ کے کارن ہی ہیرو کو چھتری تان کر گھر میں بھیجنے کا سین شوٹ کرتے سمے مجھے سوجھا تھا۔ کیشوراؤ داتے نے اپنی مسحور کن اداکاری سے اِس میں جان ڈال دی۔ دیوان خانے میں لگی اس گھڑی کے وجود کا استعمال میں نے پوری فلم میں ہر ایک کے روپ میں کئی بار کیا۔ وہ گھڑی ہیرو کی طرح ہی پرانی اور بوڑھی ہوگئی ہے۔ فلم میں ایک سین دکھایا تھا : ہیرو کی چاچی نِیرا کو دھوکا دے کر وکیل (ہیرو) کی کوٹھڑی میں بند کر دیتی ہے۔ وکیل اپنی سہاگ رات منانے کے لیے کمرے میں جانے لگتا ہے۔ وہ دروازے کی کنڈی کو ہاتھ لگاتا ہی ہے کہ نِیرا کمرے کی کنڈی چڑھا کر اندر سے بند کر دیتی ہے۔ وکیل کنڈی کھولنے کے لیے نِیرا کو ڈانٹ کر کہتا ہے۔ نیرا بھی اتنی ہی سختی سے اسے چیلنج دیتی ہے، “آپ چپ چاپ یہاں سے واپس نہ لوٹے، نہیں تویقین جانیے کہ کمرے میں رکھی لالٹین کا سارا تیل انڈیل کر میں سارے گھر کو آگ لگا دوں گی!”

بے بس وکیل باہر کے دیوان خانے میں ایک آرام کرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔ غصے کے مارے ہانپنے لگتا ہے۔ ہر سانس پھولی پھولی سی آتی ہے۔ گھڑی کی ٹک ٹک ٹک اور ہیرو کا ہانپنا دونوں کی لےَ ایک ہو جاتی ہے۔ تبھی ‘گھرس س گھر س س’ بڑی آواز ہوتی ہے۔ گھڑی کا سپرنگ کھل گیا ہوتا ہے۔ پل بھر وکیل کو ایسا لگتا ہے، جیسے اس کے دل کی گھڑی بھی بند ہو گئی ہے۔ وہ اپنے ہاتھ سے دل کو ٹٹولنےلگتا ہے۔ گھڑی کا سپرنگ کھل جانے کی اس آواز سے تھئیٹر کے ناظرین بھی چونک جاتے تھے۔ کئی لوگ تو پردے پر دکھائی دے رہے ہیرو کی طرح اپنا سینہ بھی ٹٹولنے لگتے تھے۔ پوری فلم میں جب جب وہ گھڑی بند ہو جاتی ہے، وکیل اس کا پینڈولم زور سے ہلا کر اسے چالو کرتا رہتا ہے۔

فلم کے آخری سین میں گھڑی کا زیادہ سے زیادہ تجربہ کیا تھا: ہیرو وکیل کو اپنی بھول معلوم ہو چکی ہے۔ اس کے من میں طوفان اٹھا ہے۔ کس طرح نِیرا پھر جیون میں سکھ کے راستے پر چل پائےگی۔ اس کی پریشانی میں پریشان وہ کمرے میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک بےچین من سے گھومتا رہتا ہے۔ آخر تھک کر وہ ایک کرسی پر بیٹھتا ہے۔ سامنے کی دیوار پر گھڑی کی ٹک ٹک ٹک جاری رہتی ہے۔۔۔۔۔ ایسے میں ہی رات ہو جاتی ہے۔ کمرے میں اندھیرا چھا جاتا ہے۔ من ہی من کچھ فیصلہ کر وکیل اٹھتا ہے اور اپنے ہاتھ سے گھڑی کا پینڈولم روک کر گھڑی بند کر دیتا ہے۔ اپنے دل کی دھڑکن اپنے ہی ہاتھوں بند کرنے کا اشارہ دے دیتا ہے۔

اس سارے سین میں ہیرو کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں کہلوایا تھا۔ پھر بھی اس میں موجود جدوجہد، ہیرو کا کیا گیا فیصلہ وغیرہ سب باتیں بِنا کسی لفظ کے ٹھیک سے کہی جاتی ہیں۔ اس پرانی گھڑی کا استعمال بطور ایک علامت کے میں نے پوری فلم میں کر لیا۔ یہاں تک کہ وہ گھڑی فلم کا ایک جاندار کردار بن گئی!

اس گھڑی کی طرح وکیل کے کمرے میں رکھے بڑے آئینہ کا استعمال بھی میں نے ڈرامائیت بڑھانے کے لیے کیا۔ آدمی جب پس و پیش میں پڑ جاتا ہے تب آئینے میں پڑنے والا اُس کا عکس جیسے اُس کا دوسرا من ہے، اور وہ اس کی تکون کو کاٹتا رہتا ہے۔ اس مقبول سین کو اور بھی زیادہ پُراثر بنا کر میں نے پُرجوش احساس کا اخراج فلمایا۔

وکیل اپنی سفید ہوئی مونچھوں کو خضاب لگا کر کالا کر رہا ہے۔ تب اس کا عکس اس سے سوال کرتا ہے، ”تم اپنے سفید ہوے بالوں کو اس طرح کالا تو کر لو گے، لیکن تمہارے بوڑھے ہوے من کو پھر سے جوان کیسے کر پاؤ گے؟” وکیل اور اس کے عکس میں نوک جھونک ہو جاتی ہے۔ وکیل آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ پاس ہی رکھا ایک پیپرویٹ اٹھا کر اپنےعکس پر دے مارتا ہے۔ آئینہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس میں دو تین دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔ اب دو تین عکس وکیل کی کِھلّی اڑاتے ہنستے ہوے نظر آتے ہیں۔ وکیل اور بھی گرم ہو جاتا ہے، کسی اور بھاری چیز کو آئینے پر دے مارتا ہے۔ اب آئینہ ٹکڑوں میں بکھر جاتا ہے۔ وکیل مڑ کر جانے لگتا ہے، لیکن تبھی بہت سارے لوگوں کی طنز بھری ہنسی سنائی دیتی ہے۔ وکیل پھر پلٹ کر دیکھتا ہے کہ آئینے کے زمین پر بکھرے ایک ایک ٹکڑے میں اس کے اپنے ہی عکس اسے چِڑا کر ہنس رہے ہیں۔

اس فلم میں اس طرح جدت لیے فلمائے گئے ہر ایک سین، بیک گراونڈ ساؤنڈ، بے جان چیزوں کا جاندار استعمال وغیرہ اتنی نئی نئی باتیں تجربے میں لائی گئیں کہ ان سب کا بیان کرنے بیٹھوں تو ایک پوری کتاب بن جائےگی۔

ناول کے اوریجنل ٹائٹل ‘نا پٹناری گوشٹ’ کی ہندی تبدیلی کچھ باغی انداز سے کی—’دنیا نہ مانے’۔ مراٹھی ورژن کا نام ایک دم گھریلو، سگھڑ اور علامتی رکھا– ‘کُنکو’۔ ‘دنیا نہ مانے’ کو ہم نےسب سے پہلے کلکتہ میں ریلیز کیا۔ اس سمے میں بمبئی میں بخار سے بیمار پڑا تھا۔ کلکتہ سے تار آیا: ”دنیا نہ مانےکو ناظرین اور ناقدین نے خوب سراہا ہے۔”

تار پڑھ کر میرے تو خوشی کے آنسو بہہ نکلے۔ کتنا بڑا خطرہ اٹھایا تھا! میں نے ایک ایسی فلم بنائی تھی جو سماج کے قدیم چلن کو ایک دم جنجھوڑ دے گی۔ ایسی فلم جس میں عام دلچسپی کے ناچ، گانے یا محبت کے سین کا ایک بھی سین نہیں۔ یہ خطرہ بہت بھاری پڑ سکتا تھا۔ ہم سبھی فلم کی کامیابی کے بارے میں شُبہ میں تھے۔ لیکن میرے اس نڈر تجربے کے کامیاب ہونے کے آثار دکھائی دینے لگے۔

چونکہ سینٹرل سینما میں ہماری ‘تُکارام’ اب بھی بھیڑ مسحور کر رہی تھی، ہم نے ‘دنیا نہ مانے’ کو بمبئی کے ‘کرشن’ سینما میں ریلیز کیا۔ اس کے علاوہ اور ایک تجربہ کر کے دیکھا۔ ‘کرشن’ سینما کے ساتھ ہی بمبئی کے فورٹ علاقے میں ‘ایکسلسئر’ سنیما گھر میں بھی ایک ہفتہ کے لیے اس کی پیشکش کا انتظام کیا۔ ان دنوں فورٹ علاقے کے سبھی سینما گھروں میں صرف انگریزی فلمیں ہی دکھائے جاتی تھیں۔ وہ ایک دو ہفتے ہی چل پاتیں۔ انہیں دیکھنے والے ناظرین زیادہ تر غیر ملکی ہوتے یا مغربی تہذیب میں پلے بھارتی۔ مڈل کلاس کے عام لوگوں کے جیون پر مبنی ہماری یہ فلم وہاں کی ایلیٹ ناظرین کو کہاں تک راس آتی ہے، ہمیں شُبہ تھا۔

دو چار دن بعد ہی پیراماؤنٹ فلم کمپنی کے مالک چھوٹو بھائی دیسائی مجھ سے ملنے کے لیے ہی پُونا آئے۔ کہنے لگے، ”شانتارام، بمبئی کے سبھی فلم والے بولتے ہیں کہ تمہارا نیا فلم پربھات کے نام پر بہت ہوا تو تین چار ہپتا (ہفتہ) چلےگا، اس سے زیادہ نہیں۔ ہم نے بولا بیشٹ (Best) چلےگا۔ اُن فلم والوں کے ساتھ ہم نے ایک بیٹ (Bet) ماری ہے ہزار روپیے (روپے) کی۔ تمہیں کیا لگتا ہے، ہم بیٹ جیت جائے گا یا ہارے گا؟” اس کی مزیدار باتیں سن کر مزہ آیا۔ میں نے انہی کے لہجے میں بے فکر ہو کر کہہ دیا، “تم بیٹ جیتےگا۔ ایک دم پکا۔”

اور چھوٹو بھائی واقعی میں بیٹ جیت گئے۔ ‘دنیا نہ مانے’ ایکسلسئر میں لگاتار چار ہفتے ہاؤس فل چلی۔ وہ بھی وہاں دوسری امریکی فلم ریلیز کرنا پہلے طے ہو چکا تھا، اس لیے وہاں سے اسے ہٹانا پڑا۔ پر کرشن سینما میں بھی یہ فلم پورے ستائیس ہفتے چلی، بھارتی فلمی دنیا کی تاریخ میں ‘دنیا نہ مانے’ پہلی سماجی فلم تھی، جو لگاتار اتنے ہفتے چلی۔

اس کے بعد ‘دنیا نہ مانے’ سارے ہندستان میں ریلیز ہوئی۔ وینس فلم فیسٹول میں بھی اِسے دکھایا گیا اور وہاں کے پنچوں اور ناقدین نے اس کی بہت بہت تعریف کی۔ لیکن ہمارے ملک میں اس فلم کو لے کر کافی بھلا بُرا کہا گیا۔ ملک کے کونے کونے سے ایک سے زیادہ پتر آئے۔ لگ بھگ ہر پتر میں پتر لیکھک نے آپ بیتی لکھی تھی۔ مدراس سے ایک ایرانی نے لکھا تھا:

“میں ایک ادھیڑ عمر کا آدمی ہوں۔ میری مالی حالت اچھی ہے۔ میں نے حال ہی میں شادی کی ہے۔ میری پتنی عمر میں کافی جوان ہے، مجھ سے وہ اچھا سلوک نہیں کرتی۔ آپ کی ‘دنیا نہ مانے’ دیکھ آیا ہوں، اور پتنی کے اِس سلوک کا مطلب میری سمجھ میں آگیا ہے۔ اب میں اس کے درد کو اچھی طرح سمجھ پا رہا ھوں۔ اپنی غلطی میں نے پتنی کے پاس مان لی ہے اور اگر وہ چاہے، تو اسے اس شادی کے بندھن سے آزاد کرنے کے لیے بھی تیار ہوں۔ ویسے میں نے پتنی کو بتا بھی دیا ہے۔ آپ نےاس فلم کے ذریعے سے یہ جو مہان سماجی کام کیا ہے، اس کے لیے آپ کو دلی مبارک باد!”

کانپور سے ایک عورت نے لکھا تھا کہ یہ فلم دیکھنے کے بعد وہ بہت ہی غصہ ہو گئی۔ اپنے پتر کے ذریعے اس نے مجھے کافی آڑے ہاتھوں لیا تھا:

”آخر ہماری تہذیب کے خلاف اس فلم کی شوٹنگ آپ نے کی ہی کیوں؟ بھارتی ناری جنم سے ہی برداشت کرنے والی ہوتی ہے، وہ پتی مخالف بھی ہے۔ اس کے سامنے اس طرح ایک باغی ناری کا آدرش پیش کرنا کبھی مناسب نہیں۔ اس کارن ہزاروں سالوں سے چلی آ رہی ہماری ریت کی تباہی ضروری ہو جائےگی۔ اچھا ہو کہ آپ اس طرح کی فلم بنانا بند کر دیں، ورنہ ہمیں آپ کی فلموں کا بائیکاٹ کرنا ہوگا!”

اس پتر کے کارن میرے من میں سوال پیدا ہوا کہ کیا واقعی میں نے کوئی غلطی کی تھی؟ اس سوال کا جواب وجیواُڑا سے آئے ایک اور پتر میں ملا۔ یہ پتر بھی ایک ناری نے ہی لکھا تھا:

”میرے سسرال میں مجھے بہت سزائیں دی جاتی ہیں۔ میرا پتی ایک الکوحل سے پرہیز کرنے والا نوجوان ہے، لیکن وہ اپنے ماتا پِتا سے بہت ڈر کر رہتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ شادی شدہ ہو کر بھی میں اپنے آپ کو ایک دم بے سہارا محسوس کرتی ہوں۔ جیون سے کوئی لگاؤ نہیں رہ گیا ہے۔ لیکن کل آپ کی ‘دنیا نہ مانے’ فلم دیکھی اور اس کی ہیروئن کی طرح اپنا دامن صاف رکھتے ہوے مجھ سے ہو رہی نا انصافی کا انتقام لینے کا فیصلہ میں نے کیا ہے۔ اس طرح کی فلم بنا کر آپ ہم جیسی کمزور عورتوں کو ذہنی طاقت دیتے رہیں!”

اس زمانے میں اس طرح کا طوفان ‘کُنکو’ اور میرے خلاف بھی زوروں سے اٹھا تھا۔

‘موج’ کے ١٩٣٨ کے دیپاولی (دیوالی) خاص نمبر میں م۔و۔رانگنیکر نے میرے ساتھ ہوا اپنا ایک انٹرویو شائع کیا تھا۔ اس کے کچھ اقتباس یہاں دے رہا ہوں، تا کہ مجھ پر جوتنقید ہو رہی تھی اس کا کچھ اندازہ لگایا جا سکے۔ رانگنیکر نے لکھا تھا:

“۔۔۔شانتارام بابو کے اس غرور سے اُن کی انا کے بارے میں ہمیشہ quote کئے جانے والے چند لفظوں کی یاد تازہ ہو آئی۔” “میں جس پتھر پر سِندور چڑھا دوں، اس کو بھگوان بنا کر ہی چھوڑوں گا۔” شانتارام بابو کو ایسا کہتے quote کیا جاتا تھا! لیکن اپنےاس گھمنڈ کے بارے میں انہوں نے کہا، ”آپ سچ کہتے ہیں رانگنیکر جی، مَیں اس طرح ڈینگ ہانکتا رہتا ہوں، یہ تو مَیں نے پڑھا ہے اور سنا بھی ہے۔”

“شانتارام بابو اِس جملے کو کافی کچھ اکتاہٹ سے کہہ گئے، لیکن فوراً بولے، “جواب میں اس کے ساتھ کہوں گا کہ ہمارے سٹوڈیو میں کام کرتے ہوے جو اس فلمی دنیا میں نام کما گئے، ان میں سے ایک بھی اداکار پتھر نہیں تھا!”

“۔۔۔تو کیا یہ مان لیں کہ وہ پتھر اور سِندور والا جملہ کسی ایرے غیرے نے ہی شانتارام بابو کو بتا کر شائع کر دیا تھا؟ اس کی مناسب وضاحت شانتارام بابو نے اب بھی نہیں کی ہے، ایسا سمجھ کر میں نے پھر وہی سوال دہرایا۔”

“اس پر شانتارام بابو نے کہا، ‘اس طرح کے بے بنیاد لیکھوں کا ذکر ہی ہم کیوں کرنے بیٹھیں؟ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ سپیکر اپنے سننے والوں پر اثر ڈالنے کے لیے من چاہی اناؤنسمنٹ کرجاتا ہے، لیکھکوں کا حال بھی ویسا ہی ہے۔”

“لیکھکوں کی بات اٹھی تو۔۔۔ و۔س۔ کھانڈیکر کے ایک انٹرویو میں ‘پربھات’ کی سستی مقبولیت کی کِھلّی اڑاتے ہوے کی گئی بکواس یاد آئی۔ اس انٹرویو میں کھانڈیکر نے اپنی (ہنس پکچرز کی) فلم ‘جوالا’ کے وقار کی مشعل اونچی کرتے ہوے کہا تھا، ” ‘امرت منتھن’ کا بنیادی موضوع تشدد اور ہیرو راجگرو تھا۔ اس کے باوجود اس میں لمبے رومینٹک سین گھسائے گئے ہیں۔ اسی طرح ‘امر جیوتی’ میں چرواہوں کی شہزادی کا رومانس بے مطلب گھسا دیا گیا ہے۔ لیکن ‘پربھات’ کی اس سستی مقبولیت کے ٹارگٹ سے ہماری ‘ہنس’ کمپنی کا آدرش سیدھا سادہ مختلف ہے۔ ‘ہنس’ دانشورانہ سطح پر کھڑا ہونا چاہتی ہے۔”

“۔۔۔تو اس سستی مقبولیت کے بارے میں شانتارام بابو سے ان کی راۓ جاننا ناگزیر ہی تھا۔ اس پر انہوں نے کہا، ”کھانڈیکر جی اتنے اچھے لیکھک ہیں کہ ان کے اس ذکر کا جواب انہوں نے خود ہی اپنے اس انٹرویو کے دوران “جھاڑ بُہار” (رومینس) کی حمایت میں دے دیا ہے۔”

“شانتارام بابو کا یہ جواب سنتے ہی مجھے’جوالا’ میں ڈالے گئے کچھ مزاحیہ سین کی حمایت میں کھانڈیکر جی کے الفاظ یاد آئے۔ ‘جوالا’میں ایک جھاڑنے بُہارنے کا سین تھا۔ دانشورانہ سطح کے ماحول میں اس سین کی جیسے تیسے حمایت کرنے کی کوشش میں کھانڈیکر جی نے کہا تھا، ” ‘جوالا’ میں اصل میں مزاح کے لیے کوئی گنجائش نہیں تھی۔ لیکن لوگوں کی مانگ کو دیکھتے ہوے وہ سین بعد میں اس میں جوڑا گیا۔”

“میں نے کھانڈیکر کے یہ الفاظ جیسے بھی یاد آ رہے تھے، شانتارام بابو کو سنائے۔ تب انہوں نے کہا، ”اب آپ ہی دیکھیے، کھانڈیکر جی اس میں نا قابل تردید روپ سے قبول کر گئے ہیں کہ ہماری مقبولیت نہایت اونچی قسم کی تھی، لہذا کھانڈیکر جی کی طرف سے گئی ہماری تنقید مسخری کے ڈھنگ کی اور صرف دانشور کسرت سی ہی لگتی ہے۔”

” کھانڈیکر جی کے ساتھ ساتھ مزاح کی بات چلی تو قدرتی طور پر مجھے اترے جی کا لکھا ‘پراچا کوّا’ ناٹک یاد آیا اور میں نے شانتارام بابو سے پوچھا، آپ نے ‘پراچا کوّا’ دیکھا ہے؟”

“شانتارام باپو نے اس کاجواب ‘نہ’ میں دیا اور فوراً مجھ سے ہی سوال کیا کہ آپ آخر ایسا کیوں پوچھ رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا، ”اس ناٹک میں پربھات کی ہیروئین کو ٹارگٹ کرتے ہوے ایک جملہ ہے— سالی کیا چیخ رہی ہے۔ اور ‘کُونکو’ فلم کا ذکر گدھوں کی بارات کہہ کر کیا گیا ہے، اس لیے۔” اس پر شانتارام بابو نے فوراً کہا، ”اچھا اچھا، اب میری سمجھ میں آیا کہ اس ناٹک کمپنی کے مالک مجھ سے یہ ناٹک دیکھنے کی درخواست باربار کیوں کئے جا رہے تھے!”
“۔۔۔شانتارام بابو نے مجھ سے پوچھا، ”کیا یہ سچ ہے کہ ایک تماشا گھر کے افتتاح کے سمے اُن لوگوں نے اترے جی کو ایک قلم گفٹ کی تھی؟ میں نے انہیں بتایا کہ یہ بات بالکل سچ ہے۔ اس پر شانتارام جی ایک دم تالی بجا کر بولے، “تب تو آج کل اترے اسی قلم سے لکھتے ہوں گے!”

یہ تو رہی رانگنیکر جی کی بات۔ ماما وریرکر نے بھی ایک اخبار میں ‘کُنکو’ پر تنقید کی تھی۔ انہوں نے اپنی تنقید میں لکھا تھا کہ نارائن ہری آپٹے کے اصل ناول میں ہیروئین کی جو محبت کا پہلو تھا، فلم میں قطعی نہیں لیا گیا ہے۔ لہذا کہانی کی روح ہی تباہ ہو گئی ہے۔ لگتا ہے کہ شانتارام جی نے اپنی ‘کُنکو’ فلم میں اس ناول کےلیکھک کا گلا پورا کاٹ دیا ہے۔ ایک مشہور لیکھک کی’کُنکو’ کی کہانی پر ایسی بچگانہ تنقید کی جانے کی بات سن کر میری واقعی میں کچھ تفریح تو ضرور ہی ہوئی۔ نارائن راؤ آپٹے اسے پڑھ کر جھنجھلا اٹھے۔ انہوں نے ایک اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں ان دونوں لیکھکوں کو آڑے ہاتھوں لیا اور آخر میں کہا کہ، ”شانتارام بابو نے میرے ناول کے ساتھ پورا انصاف کیا ہے۔ اتنا ہی نہیں، وریرکر کی رائے کے مطابق انہوں نے میرا گلا بالکل ہی کاٹا نہیں ہے، بلکہ میری گردن اچھے طرح اونچی ہو گئی ہے۔”

مطلب یہ تھا کہ ‘کُنکو’ فلم نے سماج کے سبھی طبقوں میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ تنقید اور تبصروں کی جب یہ دُھلینڈی (ہندوتہوار) کھیلی جا رہی تھی، ڈیلکارنے جی کی ایک کتاب میں نے پڑھی۔ اُس کی ایک خوش بیانی نے ایسی تمام تنقیدوں کے لیے میرے نقطہ نظر میں بنیادی تبدیلی کر دی۔ خوش بیانی تھی ”تمہاری الٹی سیدھی تنقید ہو رہی ہے، تب مان لو کہ تم کام کرتےہو۔ اصل میں زندہ ہو۔ مر چکے لوگوں کے بارے میں سبھی اچھا ہی بولا کرتے ہیں۔” اس خوش بیانی کا مجھ پر اتنا اثر پڑا کہ آج تک مجھے یا میری فلموں کو لےکر اگر کوئی تنازعہ کھڑا نہیں ہوا، پھر مجھے بھی کہیں کچھ غلطی ہو جانے جیسا لگتا ہے۔ جان بوجھ کر کی گئی سطحی تنقید کی طرف میں دھیان ہی نہیں دیتا۔ تنقید کا اپنے کام کی ترقی کی نظر سے میرے لیے کوئی استعمال نہیں ہوتا۔ میں نے اپنے اندر ایک کٹھور نقاد کو ہمیشہ جگائے رکھا ہے۔ وہ نقاد مجھے وہ ساری غلطیاں صاف بتلا دیتا ہے، جو میری تنقید اور ناقدین کو بھی دکھائی نہیں دیتیں۔

‘دنیا نہ مانے’ فلم کے بارے میں ایک اور یاد ہے: یہ فلم جنوب میں ریلیز ہوئی، تب مدراس میں ہندی پرچار سبھا کے صدر ستیہ نارائن مجھ سے ملنے پُونا آئے۔ انہوں نے میرا دلی شکریہ ادا کیا۔ اس شکریہ کا کارن میری سمجھ میں نہیں آیا۔ میں نے ان سے پوچھا تو کہنے لگے، “جنوب میں آپ کی اس فلم کے کارن ہندی پرچار سبھا کا کام بہت تیزی سے بڑھ گیا ہے۔ لوگ بڑی تعداد میں ہماری ہندی کلاسز میں شامل ہونے کے لیے اس لیے بھیڑ کیے جا رہے ہیں کہ آپ کی بنائی ہندی فلم کو وہ اچھی طرح سے سمجھ سکیں۔”

اس فلم کے بارے میں اور ایک بہت ہی چُھو لینے والی یاد ہے۔ وہ اتنی سُندر ہے کہ آج بھی اس کی یاد سے تن من باغ باغ ہو اٹھتا ہے۔ کھیل کھیل میں کتاب میں کسی صفحے کے اندر رکھا ہوا پیپل کا پتہ، برسوں بعد اس کتاب کے صحفے الٹتے سمے مل جانے پر اس میں پڑی مہین، نزاکت بھری جالی دار نقاشی دیکھ کر تن من جذباتی ہو جاتا ہے نا، ٹھیک اسی طرح میری حالت اس یاد کےکارن آج بھی ہو جاتی ہے۔

ایک دن سویرے ہی میں اپنےگھر کے دیوان خانے میں بیٹھا کچھ پڑھ رہا تھا۔ تبھی نوکر نےآ کر بتایا کہ باہر کوئی بوڑھے سجن آئے ہیں اور آپ کا نام لے کر انگریزی میں کچھ پوچھ رہے ہیں۔ میں باہر آیا۔ جنوبی ڈھنگ کا صافہ باندھے ایک کافی بزرگ مہاشے دروازے پر کھڑے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی انہوں نے کہا، “میں جنوب میں گُنٹور کا رہنے والا ہوں اور وہاں سے صرف وی۔ شانتارام جی سے ملنے آیا ہوں۔ مہربانی کر کے انہیں باہر بلائیے۔”

“آپ کو ان سے کیا کام ہے، جان سکتا ہوں؟”مَیں نے تجسس سے پوچھا۔

“بات ایسی ہے کہ مَیں نے اُن کی ‘دنیا نہ مانے’ دیکھی اور اس فلم سے میں اتنا متاثر ہو گیا کہ صرف ان سے ملنے کے لیے ہی گُنٹور سے پُونا آگیا ہوں۔”

اب میں تذبذب میں پڑا، کیسے ان مہاشےکو بتاؤں کہ میں ہی شانتارام ہوں۔ لیکن مجھ سے ملنےکی ان کی دلی خواہش کو دیکھتے ہوے مجھے آخر بتانا ہی پڑا۔ “جی، میں ہی ہوں شانتارام۔”

“آپ۔ شانتارام ہیں؟ ‘دنیا نہ مانے’ کے ڈائریکٹر؟ نا ممکن!”

مجھے سن کر ہنسی آ گئی۔ اب میں نے ہی اُن سے الٹا سوال کیا، “کیوں؟ میں شانتارام نہیں ہوں، ایسا آپ کیوں مان رہے ہیں؟”

“اس لیے کہ ‘دنیا نہ مانے’ میں اس بوڑھے وکیل کے احساسات، اس کی خواہش، پچھتاوا وغیرہ سب کچھ اتنی گہری نظر سے فلمایا کیا گیا ہے کہ ضرور ہی اس کا ڈائریکٹر کوئی اچھا تجربہ کار اور بوڑھا ہو گا۔ جائیے، مجھ سے مذاق نہ کیجئے اور اندر جا کر شانتارام جی کو چند منٹوں کے لیے ہی سہی، باہر بھجوا دینے کی مہربانی کیجئے۔ انہیں ابھی اس سمے فرصت نہ ہو، تو میں یہاں بیٹھ کر انتظار کرتا ہوں۔ لیکن ان سے ملے بنا یہاں سے ہرگز جاؤں گا نہیں۔”

کیسے ان مہاشے کو سمجھاؤں کہ میں ہی اصل میں شانتارام ہوں، بالکل ہی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ تبھی باہر سیتارام بابو کلکرنی ہمارے گھر ہو کر کہیں جا رہے تھے۔ مجھے دروازے کے پاس کھڑا دیکھ کر انہوں نے سہج آواز دی۔ “کہیے شانتارام بابو، کیا ہو رہا ہے؟”

سنتے ہی اس بزرگ مہاشے کی آنکھیں حیرت سے کُھلی ہی رہ گئیں۔ انہوں نے کہا، “آپ ہی وی۔ شانتارام ہیں؟ اور اتنے جوان؟ (اس سمے میری عمر ہوگی کوئی چونتیس سال۔ لیکن عمر کے مقابلے میں میں کافی چھوٹا لگتا تھا) اجی، آپ تو عمر میں اتنے بچگانے لگتے ہیں، پھر بھی آپ نے ایک بوڑھے کے من کو پردے پر اتنی آسانی سے کیسے فلمایا؟ سچ بتاتا ہوں، آپ کو سلام کرنے کے لیے میرے پاس کوئی الفاظ نہیں ہے۔ آپ کو دلی مبارک باد!”

ہچکچاہٹ کے مارے میں سمٹ سا گیا۔ کیا جواب دوں، سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ تبھی وہ مہاشے کرسی سے اٹھے، جیب سے ماچس نکالی، ایک تیلی جلائی۔ پاس میں ہی رکھے پوجا کےسامان سے کچھ اگربتیاں جلائیں اور مجھ سے کہنے لگے، “آپ کرسی پر بیٹھیے۔ منتروں کے ساتھ میں آپ کی پوجا کرنا چاہتا ہوں۔”

اس آدمی کے بولنے اور طرزعمل کا آخر کیا مطلب ہے، سمجھ میں نہیں آیا۔ میں نے کہا، “دیکھیے، اس طرح کی پوجا کی رسموں پر میرا کوئی عقیدہ نہیں ہے آپ کو فلم پسند آئی اور یہ بتانے کے لیے آپ اتنی لمبی یاترا کر کے یہاں آئے، اس کے لیے میں آپ کا دل سے شکر گزار ہوں۔”

مہاشے میری بات سے کافی ناامید لگے۔ پھر بھی دلی احساس سے بولے، “آپ چاہیں تو اسے پوجا نہ مانیے، آشیرواد ہی سمجھیں۔ ایک بوڑھے کی دعائیں بھی کیا آپ کو پسند نہیں؟”

آشیرواد! دعائیں! کیسے انکار کرتا؟ ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ انہوں نے ہی آگے کہا، “بیٹھیے نا کرسی پر۔”

ایک کٹھ پتلی کی طرح میں کرسی پربیٹھ گیا۔ انہوں نے اگربتیوں کو دروازے کی چوکھٹ پر کسی چھید میں لگا دیا۔ جیب سے کوئی پڑیا نکالی اور اس کے اندر رکھی بھبھوت (راکھ) میرے ماتھے پر لگا دی۔ میرے ہاتھ میں ایک لیموں دیا اور بولے، “یہ بھبھوت اور پرساد بھگوان تِرُپتی بالاجی کا ہے۔ اس کی کرپا سے آپ ‘دنیا نہ مانے’ جیسی اچھی فلمیں بناتے رہیں اور ان کے بنانے کے لیے تِرُپتی آپ کو لمبی عمر اور اچھی صحت دے!”

اس بوڑھے مہاشے نے اپنے دونوں ہاتھ میرے سر پر آشیرواد کے لیے مضبوطی سے رکھے۔ میرا گلا رِندھ آیا۔ آنکھیں بھر آئیں۔ میں نے انہیں ایک دم جُھک کر پرنام کیا۔

کافی دیر تک میں ان کے سامنے سر جھکائے جھکا رہا۔ جذباتی ہو جانے کے کارن منہ سے لفظ نہیں نکل رہا تھا۔ کچھ دیر بعد آنکھیں پونچھ کر میں نے اوپر دیکھا، وہ مہاشے چلے گئے تھے۔ میں فوراً دروازے تک گیا، لیکن وہ کہیں بھی دکھائی نہیں دیے۔ اسی جذباتی حالت میں میں دروازے پر کھڑا رہا جیسے کسی منتر سے متاثر ہو گیا تھا۔

اس عمر کے مہاشے کے بے اعتنا انداز سے دیے گئے آشیرواد اور گاؤں گاؤں سے ملے سینکڑوں ترغیب بھرے خطوں کے کارن سماج میں بیداری پیدا کرنے والی اسی ڈھنگ کی تجرباتی فلمیں بنانے کے لیے میرا حوصلہ بڑھ گیا۔

ایک بار بمبئی جانے کے لیے پُونا اسٹیشن پر کھڑا تھا کہ میری نظر کسی کو وداع کرنے کے لیے آئے وِنائک پر پڑی۔ اسے دیکھتے ہی پچھلی یادیں من میں ابھر آئیں۔

جرمنی سے لوٹ کر کولھاپور آنے پر ایک دن میں مائی سے ملنے گیا تھا۔ انہوں نے ممتا سے مجھے سہلایا اور خود گرم گرم روٹیاں بنا کر مجھے کھلائی تھیں۔ مائی کی اس ممتا کا کارن پوچھے بِنا مجھ سے نہیں رہا گیا۔ “مائی سچ بتانا، میں جب یہاں نہیں تھا، بابوراؤ اور وِنائک کو اس طرح ‘پربھات’ چھوڑ کر کیا جانا چاہیئے تھا؟ کیا انہوں نے ٹھیک کیا تھا؟”

مائی نے فوراً کہا، “انہوں نےغلطی کی۔ ارے تم ولایت سے لوٹ آتے، تمہارے ساتھ بنا کسی لاگ لپیٹ کے وہ باتیں کر لیتے۔ کیا تم ان کی بھلائی میں روڑا اٹکانے والے تھے؟”

پھر میری طرف دیکھ کر وہ ہی بولیں، “تم ضرور سوچ کر پریشان ہوے ہوگے۔ ہے نا؟”

“سچ مائی، میں بہت پریشان رہا۔ لیکن آج تم سے یہ سب سن کر جی کا غبار جاتا رہا۔” لیکن سچ تو یہ تھا کہ مائی کی ممتا بھری باتوں کے باوجود بابوراؤ اور وِنائک کے لیے میرے من کا غبار ذرا بھی کم نہیں ہوا تھا۔ ان دونوں کی بنائی فلمیں اسی غبار کے کارن میں نے دیکھی تک نہیں تھیں ۔پر کچھ ہی دن پہلے وِنائک کی ڈائریکٹ کی ‘برہمچاری’ میں نے ضرور دیکھی تھی۔ وِنائک نے اس فلم سے طنزیہ و مزاحیہ فلموں کا دروازہ فلمی دنیا میں کھول دیا تھا۔

پھر میری نظر اس کی طرف مڑ گئی۔ وہ بھی کچھ بوکھلایا سا مجھے دیکھ رہا تھا۔ وہ دوڑ کر میرے پاس آیا اور پرنام کرنے کے لیے جھکا۔ میں نے اسے پیار سے گلے لگایا اس کی پیٹھ تھپتھپائی اور کہا، “وِنائک، میں نے تمہاری ‘برہمچاری’ فلم دیکھی ہے۔ تم نے اپنی خود مختار شخصیت بنا لی ہے۔ تم پر مجھے بہت ناز ہو آیا فلم دیکھنے کے بعد!” وِنائک کی آنکھیں ساون بھادوں برس گئیں۔

‘پربھات’ کو ایک کے بعد ایک لگاتار ملتی گئی کامیابیوں کے کارن ہم سبھی معاشی نقطہ نظر سے بہت آسودہ ہو گئے تھے۔ ہم سبھی حصہ داروں نے اپنے اپنے حصہ میں کافی بڑا منافع جوڑ لیا تھا۔ منافع کا بٹوارا بھی کر لیا تھا۔

تبھی داملے جی اور فتے لال جی کے پاس کونکن کے رتناگری میں ایک پاور ہاؤس بنوانے کی تجویز آئی۔ اُس میں ہم لوگ اگر کچھ پونجی لگاتے تو اس پر ہمیں بارہ فیصد سود ملنے والا تھا۔ ہمارے حصہ داری کانٹریکٹ میں ایک دفعہ تھی کہ ہم میں سے کوئی بھی فلم میکنگ اور اس سے وابستہ کاموں کے علاوہ دوسرے کسی کاروبار میں حصہ نہیں لے گا۔ اس کے علاوہ ایک دفعہ یہ بھی تھی کہ ہم میں سے کوئی دوسرا کاروبار نہیں کرے گا۔ یہ دفعہ بندش تھی۔ اس لیے داملے جی کو یہ تجویز حصہ داروں کی بیٹھک میں رکھنا پڑی۔ فلم میکنگ سے حاصل دھن اس طرح کسی دوسرے کاروبار میں لگانا اور وہ بھی صرف اسی خیال سے کہ گھر بیٹھے سود ملتا رہے، مجھے قطعی پسند نہیں تھا۔ میں نے تڑاخ سے کہا، “آپ کا سارا پیسہ مجھے دیجیے، میں اسے ‘پربھات’ میں ہی لگاتا ہوں۔ اس پر میں آپ کو بارہ کیوں سو فی صد سود دیتا ہوں!”

“اجی، کیا کہہ رہے ہیں آپ، شانتارام بابو؟” فتے لال جی نے تلملا کر کہا۔

“ایک دم صحیح فرما رہا ہوں۔ ہم لوگوں نے سینما کاروبار سے جو دھن حاصل کیا ہے، اس کو کسی دوسرے کاروبار میں لگانے کا مطلب ہے ہمارا اپنے کاروبار پر اب یقین نہیں رہا ہے! اس سے تو اچھا ہو کہ ‘پربھات’ کے قیام کے سمے ہم نے ‘پربھات نگر’ بنانے کا جو سپنا دیکھا تھا، اسی کو ہم سچ کریں۔ پانچ چھ ماہ پہلے میں نے کوڈیک کمپنی کو امریکہ میں ایک پتر بھیجا ہے۔ ایک بڑا اور اپ ڈیٹد کیمیکل روم بنانے کا پلان ان سے منگوایا ہے۔ بھارت کے کئی فلم میکر اس کیمیکل روم میں اپنی فلموں کی ڈیولپنگ کروا سکتے ہیں۔ نتیجتاً ہماری پونجی پر پچاس فی صد سود تو ضرور ہی حاصل ہو سکتا ہے۔”

داملے جی نے کہا، “لیبوریٹری وغیرہ بنوا کر دوسروں کے کام کرتے رہنے کی نسبت ہمیں اپنی فلموں کی تعداد بڑھانی چاہیئے۔”

“میں آپ کی بات سے متفق نہیں ہوں۔ صرف فلم کی تعداد بڑھانے کے چکر میں ہم اپنی فلم کی خوبیاں کہیں کم نہ کر بیٹھیں۔”
داملے جی کو میری بات جچی نہیں۔ فتے لال اور سیتارام پنت چپ بیٹھے رہے۔

آخر میں داملے جی نے مجھ سے ایک بہت ہی تیکھا سوال کیا، “دوسرے فلم میکرزکا کام ہمیں نہ ملا تو اتنی بڑے کیمیکل روم میں آپ کیا دھوئیں گے؟”

میں نے جھنجھلا کر کہہ دیا، “آپ کی دھوتیاں دھوئیں گے!” اور میں فوراً وہاں سے چلا آیا۔

اس کے بعد کئی دنوں تک ہم آپس میں بولتے نہیں تھے۔ داملے جی کی بات اس طرح بہت ہی روکھے ڈھنگ سے دو ٹوک کاٹ دی، اس کا رنج مجھے ستا رہا تھا۔ لگتا تھا شاید میں انہیں اپنی بات ٹھیک ڈھنگ سے سمجھانے میں ناکام رہا ہوں۔

ایک دن ناراضی کی اس الجھن کو میں نے ہی پہل کر سلجھا لیا۔ میں کسی کام کے بہانے داملےجی اور فتے لال جی کے کمرے میں پہنچ گیا اور ان سےمعافی مانگی۔ داملے جی بھی سمجھاتے ہوے بولے، “شانتارام بابو، اس طرح ذرا ذرا سی بات پر آپا کھونے سے کام کیسے چلےگا؟ آپ ذرا ہماری نظر سے بھی تو سوچیں۔ ہم اب بوڑھے ہو چکے ہیں۔ بھگوان کی دیَا سے جو کچھ ملا ہے، اسے سنبھالتے سنوارتے زندگی کے باقی دن آرام سے بِتائیں یہی ہماری تمنا ہے۔ اس میں کیا غلط ہے؟”

“لیکن ‘پربھات’ کے قیام کے سمے آپ سب نے مجھے وعدہ کیا تھا کہ ہم میں سے ہر ایک کے پاس ایک ایک لاکھ روپیہ ہو جائے تو اس کے بعد مجھے پربھات نگر وغیرہ جو بھی بنانا ہو اس میں آپ لوگ رکاوٹ نہیں ڈالیں گے، اس کا کیا ہو گیا؟ داملے ماما، مہربانی کر کے یہ دھیان میں رہے کہ ہمیں جو کچھ ملا ہے وہ بھگوان کی دیَا سے نہیں، ہماری اپنی محنت سے اور کاروباری ایمانداری کے کارن ملا ہے۔ اسی بَل پر ہم اور بھی زیادہ کما سکیں گے۔” میں نے خود اعتمادی کے ساتھ کہا۔

“وہ سب تو ٹھیک ہی ہے جی۔ لیکن آپ عمر میں کافی جوان ہیں۔ ambitious ہیں اتنا جوش اب ہم میں کہاں؟”
اس طرح کی باتوں کا بھی بھلا کیا جواب ہو سکتا ہے؟

میں نے کِھلّی اڑاتے ہوے ہنس کر کہا، “تب تو آپ ایک کام کیجئے۔ پھر میرے من کے ambitions اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ لوگ جوان دِکھنے کے لیے سفید بالوں کو خضاب لگا کر کالا بنا لیتے ہیں۔ اسی طرح کا کوئی خضاب آپ میرے لیے لیتے آئیے، جو میرے کالے بالوں کو سفید بنا دےگا اور میں بھی بوڑھا دِکھنے لگوں گا۔”

میرا سر بُھنّانے لگا۔۔۔ آخر کیا کرنے سے داملے اور فتے لال دونوں میرے ساتھ خوشی اور امنگ لے کر ‘پربھات’ کا دائرہ اور بڑا کرنے میں جُٹ جائیں گے؟۔۔۔ ہم چاروں اب بھی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے پیش رو ہوے تو کافی لمبی منزل طے کر سکتے ہیں۔۔۔ ‘تُکارام’ جیسی اور ایک آدھ فلم اِن دونوں کو ڈائریکشن کے لیے سونپ دی جائے تو کیسا رہےگا؟ ۔۔۔ پھر میرا مطلب پورا ہو جائے گا؟ ان کی شہرت اور نیک نامی اور بڑھ ہی سکتی ہے۔ ان کا ambition بھی بڑھےگا۔۔۔

میں نے فوراً داملے جی فتے لال سے فلم کے بارے میں بحث شروع کی۔ وہ دونوں خوش ہو گئے۔ سب کی راۓ سے طے رہا کہ ‘پربھات’ کی پہلی خاموش فلم ‘گوپال کرشن’ کی کہانی پر مبنی ایک بولتی فلم بنائی جائے۔ دو ایک دن میں ہی چند سین میں تبدیلی کر ہم نے کہانی کا فارمولا طے کیا۔ فوراً وشیکرن جی کو بلا بھیجا۔ انہیں نئی فلم کا خیال سمجھا دیا کہ سکرین پلے بناتے سمے من میں یہ استعارہ/ میٹافر یقینی کریں کہ کنس کو برٹش سامراج، کنس کے سپہ سالار کیشی کو نوکر شاہی اور کرشن کو عوام کی علامت کے روپ میں پیش کرنا ہے۔

ایک دن شام کو وشیکرن کے ساتھ ‘گوپال کرشن’ کے سکرین پلے پر بحث کی بیٹھک ختم کر میں گھر لوٹا، تو ایک لڑکا برآمدے میں ہی میرے انتظار میں بیٹھا تھا۔

کچھ بوکھلایا ہوا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے کہا، “دادا صاحب نے آپ کو بُلایا ہے۔۔۔”

میں ٹھیک سے سمجھا نہیں۔ تذبذب میں اُس سے پوچھا، “کون دادا صاحب؟ اور مجھے کس لیے بُلایا ہے انہوں نے؟”
اب کچھ سنبھل کر لڑکے نے کہا، “دادا صاحب فالکے جی نے آپ کو بُلا بھیجا ہے۔”

Categories
نان فکشن

شانتاراما باب 17: شرط جیتی، مگر (ترجمہ: فروا شفقت)

ہمیشہ کی نسبت کچھ جلدی جاگ کر میں تڑکے ہی اخبار پھینکنے والے لڑکے کے انتظار میں بیٹھا تھا۔۔۔

‘تُکارام’ کل ہی ہمارے نئے ‘پربھات’ تھئیٹر، پُونا میں ریلیز ہو چکی تھی۔ اس دن کمپنی میں کچھ غیر ملکی مہمان آنے والے تھے۔ اس لیے ‘تُکارام’ کے پہلے شو میں مَیں تھئیٹر جا نہیں پایا تھا۔ مہمانوں کے چلے جانے تک تو پہلا شو ختم ہو چکا تھا۔ میں اپنے آفس سے نیچے آ گیا۔

سامنے والی بینچ پر داملے جی اور فتے لال مایوس ہو کر بیٹھے تھے۔ میرا کلیجہ کانپ اٹھا۔ جلدی جلدی ان کے پاس پہنچ کر میں نے پوچھا، “کیا حال ہیں ‘تُکارام’ کے؟”

“کچھ مت پوچھیے!” فتے لال جی نے کہا۔

“کیا مطلب؟”

“مطلب یہی کہ ‘تُکارام’ کے لیے لوگوں میں قطعی کوئی جوش نظر نہیں آرہا ہے۔ ہماری پربھات کی نئی فلم کے پہلے شو کے لیے آج تک جو بے شمار بھیڑ اُمڈ آیا کرتی تھی، وہ اس سمے نہ جانےکہاں غائب ہو گئی تھی۔ تھئیٹر آدھے سے زیادہ خالی پڑا تھا۔”

“کیا کہہ رہے ہیں آپ؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔ ایسا ہونا نہیں چاہیئے۔ آج رات کا شو میں خود لوگوں میں بیٹھ کر دیکھتا ہوں۔ آپ بھی چلیے ساتھ میں۔”

رات کے تیسرے شو کے لیے ہم لوگ تھئیٹر پر پہنچے۔ تھئیٹر میں بہت ہی کم لوگ تھے۔ فلم شروع ہو گئی۔ جو اِکّا دُکّا ناظرین بیٹھے تھے، وہ میری توقع کے مطابق جگہ جگہ پر فلم کے سبھی حصوں کی برابر داد دے رہے تھے۔ چونکہ ناظرین کی تعداد ہی بہت کم تھی، ناظرین کی یہ داد بھی کافی کمزور لگتی تھی، لیکن تھی ضرور۔ میرا من اُتھل پُتھل ہونے لگا۔

پچھلے مہینے لوناؤلا میں بابوراؤ پینڈھارکر کے ساتھ ہوئی وہ بات یاد آئی۔

‘تُکارام’ فلم نہ چلی تو ڈائریکٹ کرنا ہمیشہ کے لیے چھوڑ دینے کا عہد میں نے کیا تھا۔ میرا وہ عہد سن کر بابوراؤ پینڈھارکر کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔ میرے ضدی سوبھاؤ سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔ مجھے سمجھانے بُجھانے کی انہوں نے کافی کوشش کی، “اجی شانتارام بابو، ایک آدھ فلم کبھی کبھار نہیں چلتی۔ لیکن اس کے لیے اپنی ساری ڈائریکشن ہی داؤ پر لگانے کا کھیل بے کار ہی کیوں کھیل رہے ہیں آپ؟”

اپنے غصے پر قابو پاتے ہوے میں نے کہا، “بابوراؤ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں کبھی جُوا نہیں کھیلتا! میں ان لوگوں میں سے ہرگز نہیں ہوں، جو ہاتھ کے پانسے زمین پر پھینک کر اپنے لیے مناسب دان کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں۔ صرف شرط لگانے یا مقابلے میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کے جذبہ سے میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں۔ اس فلم کے بارے میں مجھے پورا یقین ہے اور اس کے باوجود اگر یہ نہیں چلتی، تو اس کا سیدھا مطلب تو یہی ہونا چاہیے کہ اس موضوع پر اب مجھے کوئی گیان ویان نہیں رہا ہے۔ تب تو یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ فلم میکنگ اور ڈائریکشن کرنا میرے بس کے باہر کی بات ہے!”

“آپ کی ان باتوں سے میں قطعی متفق نہیں ہوں۔ آپ پہلے اپنا وہ خوفناک عہد واپس لیجیے بھلا!” بابوراؤ نے کافی مِنت بھری التجا کی۔

“نہیں، یہ ایک دم ناممکن ہے۔ میں نے محض عہد برائے عہد نہیں کیا ہے، اس کے پیچھے خیالات کی ایک یقینی سمت ہے۔” میں انہیں وِچاروں میں کھویا تھا کہ ناظرین نے دل سے داد دی۔ سامنے پردے پر تُکارام اور جِجاؤ کا وہ برگد کے پیڑ کی چھایا والا سین آیا تھا۔ جو چند ناظرین اس سمے فلم دیکھ رہے تھے، انہیں وہ سین بہت پسند آیا۔ اس کے بعد تو فلم میں زیادہ سے زیادہ رنگ بھرتا گیا۔ ناظرین اس کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے گئے۔

فلم ختم ہوئی۔ میں لمبے لمبے ڈاگ بھرتا ہوا اپنی کار میں جا بیٹھا۔ داملے جی اور فتے لال بھی ساتھ ہو لیے۔ میں نے انہیں بتایا، “پکچر بہت اچھی چلنے والی ہے۔ لوگ چمتکاروں سے بھرپور سنت فلموں سے اوب گئے ہیں۔ شاید یہی سوچ کر کہ ‘تُکارام’ بھی اسی کیٹیگری کی ایک فلم ہو گی، انہوں نے شروع میں بھیڑ نہیں کی۔ ایک بار انہیں معلوم ہو گیا کہ ‘تُکارام’ کچھ نرالی ہی سنت فلم ہے، آپ دیکھیں گے لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس کی طرف متوجہ ہوں گے۔”

بولتے بولتے میں چپ ہو گیا۔ من میں سوال اٹھا تھا لوگوں کو کس طرح متوجہ کیا جائے؟ فلم کا گراف کم ہونے سے پہلے کچھ نہ کچھ کرنا ہی پڑے گا!

ہم لوگ گھر پہنچے، میں نے ڈرائیور کو ہدایت دی کہ ہماری فلموں کے پرچارک اور ایڈورٹائزنگ کا کام دیکھنے والے داتار جی کو فوراً لے آؤ۔

بیچارے داتار صاحب، اس تذبذب میں کہ اتنی رات بیتے انہیں کیوں بلایا گیا ہے، آنکھیں ملتے ملتے آ پہنچے۔ انہوں نے گھر میں قدم رکھا ہی تھا کہ میں نے ان سے کہا، “داتار، کل سویرے کے ‘گیان پرکاش’ میں پہلے صفحے پر اشتہار چھپ کر آنا چاہیئے اور اس اشتہار پر بولڈ عنوان چاہیئے: ‘تُکارام اور جِجاؤ کا برگد کے نیچے ‘لَوسین’ سمجھے؟”

“کیا؟” داتار حیرت کے کارن لگ بھگ چیخ پڑے۔ ان کی نیند رفو چکر ہو گئی۔ بیچارے مجھے ہی سمجھانے لگے، “لیکن شانتارام بابو، اس طرح کے اشتہار میں ایک بہت بڑا خطرہ بھی ہے۔”

“وہ خطرہ اٹھانے کے لیے میں تیار ہوں! آپ فوراً ہی اشتہار چھپوانے کا انتظام کریں!”

داتار ‘گیان پرکاش’ نامی مقبول روزنامے کے منتظم تھے اور اسی لیے میں یہ کام کرانے کے لیے ان پر دباؤ ڈال رہا تھا۔

میں دروازے پر کھڑا تھا۔ سامنے سے اخبار ڈالنے والا چھوکرا آتا دکھائی دیا۔ میں نے اس کے ہاتھوں سے ‘گیان پرکاش’ کا تازہ شمارہ لگ بھگ چھین ہی لیا۔ پہلے ہی صفحے پر اشتہار تُکارام جِجاؤ کے لَو سین والے عنوان کے ساتھ چھپا تھا۔ یہ سوچ کر کہ پُونا کے مذہب پرست لوگوں میں اس اشتہار کےکارن کیا ہی سنسنی مچ جائےگی، میں من ہی من خوش ہو رہا تھا۔

شام کے چھ بجے میرے آفس میں فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ فون پر فتے لال جی بات کر رہے تھے۔ بڑے جوش سے کہہ رہے تھے، “تُکارام کا دوپہر والا شو کل کی نسبت کافی اچھا رہا۔ ابھی چھ بجے والے شو میں تو اس سے بھی زیادہ لوگ آئے ہیں۔”

میں نے پُرجوش ہو کر پوچھا، “تُکارام دیکھ کر لوٹتے سمے لوگ کیا کیا باتیں کرتے ہیں؟”

“فلم کے بارے میں تو لوگ اچھا بول رہے ہیں۔ آپ کے اس اشتہار نے کافی مدد کر دی ہے!”

“ہیلو، لوگ اس اشتہار کے بارے میں کیا بولتے ہیں؟” میں نے پُرامیدی سے پوچھا۔

“کئی لوگ تو اشتہار میں ‘لَوسین’ لفظ پر اعتراض اٹھا رہے تھے۔ لیکن اب کھیل ختم ہونے پر لوگ اس اشتہار کی سوجھ بوجھ کے لیے داتار کی تعریف کر رہے ہیں!”

تو اس کا مطلب یہ رہا کہ میرا تیر ٹھیک نشانے پر جا لگا تھا!

روز بہ روز’ تُکارام’ دیکھنے کے لیے آنے والوں کی بھیڑ بڑھتی ہی جا رہی تھی۔

پُونا میں ‘تُکارام’ کو ریلیز ہوے ابھی ایک ہفتہ ہی ہوا تھا کہ بمبئی کے ‘سینٹرل’ سینما کے مالک کے۔کے۔ مودی اور عبدل علی مجھ سے ملنے پُونا میں میرے گھر پر آ پہنچے۔ چُھوٹتے ہی انہوں نے مجھ سے پوچھا، “شانتارام، ‘تُکارام’ کے لیے سینٹرل سینما میں کتنے ہفتے رکھ چھوڑوں؟”

“آپ ایسا سوال کیوں کر رہے ہیں؟”

وہ گول مول جواب دینے لگے، “نہیں نہیں، ویسی تو کوئی بات نہیں ہے، لیکن بابوراؤ پینڈھارکر نے ہمیں بتایا کہ پہلے آپ سے پوچھ لینے کے بعد ہی فائنل کیا جائے۔”

“یعنی بابوراؤ پینڈھارکر کو بھی ‘تُکارام’ کی کامیابی پر شُبہ ہے۔ تو ویسا صاف صاف کیوں نہیں کہتے؟ میں آپ سے کہتا ہوں، ‘پربھات’ کی کسی بھی کامیاب فلم کے لیے آپ جتنے ہفتے رکھتے ہیں، اتنے ہی ہفتے اس فلم کے لیے بھی بِنا کسی اگر مگر کے آپ رکھ چھوڑیں۔” یہ بات میں نے تھوڑا ڈپٹ کر سختی سے کہی۔

دونوں انہی قدم واپس لوٹ گئے۔ آخر بات میری ہی سچ نکلی۔ بمبئی، پُونا میں ‘تُکارام’ کو چلے پچیس ہفتے پورے ہو رہے تھے۔ تب ‘تُکارام’ کے سلور جوبلی فیسٹول اشتہار میں بطور ڈائریکٹر کے داملے جی اور فتے لال جی کے فوٹو چھپوانے کا انتظام میں نے کرا دیا۔ میری پکی رائےتھی کہ فلم کے اشتہار میں ڈائریکٹر کا صرف نام اور کلاکاروں کے فوٹو ہونے چاہیئں۔ اسی لیے میری ڈائریکٹ کی گئی کسی بھی فلم کے اشتہار میں اپنی فوٹو بطور ڈائریکٹر کے دینا میں برابر ٹالتا آیا تھا۔ لیکن اس سمے میں نے اپنی رائےکو چُھپایا۔ کارن یہ تھا کہ داملے جی، فتے لال جی کو ‘تُکارام’ بنانے کی inspiration میں نے دی تھی۔ اس میں میرا بنیادی مقصد یہی تھا کہ ان کے ناموں کا بھی اچھا پرچار ہو اور میرے لیے ان کے دل میں کہیں حسد یا جلن ہو، تو دور ہو جائے۔

بمبئی کے سینٹرل سینما میں ‘تُکارام’ فلم نے آج تک کی ریلیز ہوئی سبھی فلموں کے ریکارڈ توڑ دیے۔ سینٹرل سینما میں تو وہ پورے ستاون ہفتے تک چلتی رہی۔

‘تُکارام’ کی اس بے مثال کامیابی کی خوشی داملے جی، فتے لال جی کی نسبت مجھے ہی زیادہ ہوئی۔ ‘تُکارام’ کے پچاسویں ہفتے کے سمے بابوراؤ پینڈھارکر میرے یہاں آئے اور خود کہنے لگے، “آپ نے شرط جیت لی۔ کمال کاحوصلہ اور خود اعتمادی ہے آپ میں۔ بھئی مان گئے۔ آپ کومبارک باد دوں تو کیسے؟ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔”

لگ بھگ اسی سمے ‘امر جیوتی’ فلم وینس میں انٹرنیشنل فلم فیسٹول کے لیے بھیجی گئی تھی، اس طرح کی انٹرنیشل فلم ریلیز میں بھیجی گئی وہ پہلی بھارتی فلم تھی۔ وہاں اسے عزت ملی۔ Appreciation letter بھی ملا۔ بھارت میں بھی’ امر جیوتی’ کو ایک سے زیادہ مشہور اداروں کی طرف سے گولڈ میڈل دیے گئے۔

اس کے بعد کے برس میں ‘تُکارام’ کو بھی وینس فلم فیسٹول کے لیے بھیجا گیا۔ اس کو بھی ‘آنریبل مینشن’ کا رتبہ حاصل ہوا۔ اس کا شمار معزز فلموں میں کیا گیا۔

اس بیچ ہم نے ایک اور فلم بنائی ‘وہاں’۔ ویدک زمانے میں آریاؤں اور غیرآریاؤں کےبیچ جدوجہد پر وہ مبنی تھی۔ آریہ لوگ بھارت میں فاتح ویروں کی طرح آئے اور بھارت کے مقامی غیر آریوں کے ساتھ انہوں نے غلاموں جیسا برتاؤ کیا۔ اُس وجودیت کی جدوجہد پر مکمل کہانی تخلیق کی گئی تھی۔ باصلاحیت فتے لال جی کو نیا موضوع مل گیا۔ انہوں نے اس زمانے کے معقول کاسٹیوم، کپڑے لتے وغیرہ بنوا لیے۔ مین کریکٹر کے لیے ‘پربھات’ میں نووارد اداکارا الہاس کو چُنا گیا۔ الہاس بہت ہی سڈول اور پُرکشش شخصیت تھا۔ڈائریکٹر تھے، کے۔ نارائن کالے۔

اصل میں کے۔ نارائن کالے کا فرق ایک نقاد کا تھا۔ وہ لیکھک اور اداکار بھی تھے۔ لیکن ان کے اندر کا نقاد فلم میں بھی انہیں ہربات میں بال کی کھال نکالنے میں مدد کرتا تھا۔ ایک دن الہاس کے کسی سین کی شوٹنگ چل رہی تھی۔ اوپر کی گیلری میں کھڑے ہو کر میں بھی شوٹنگ دیکھ رہا تھا۔ کے۔ نارائن کالے الہاس سے کہہ رہے تھے، “دیکھو الہاس، اس سین میں تمہیں پچاس فیصد دکھ اور پچاس فیصد غصےکی اداکاری کرنی ہے، سمجھے؟”

الہاس بالکل ہی نیا تھا۔ اس نے سڑی بولی میں کالے جی سے کہہ دیا،” آپ کا یہ پچاس فیصد کا حساب اپنی تو سمجھ میں نہیں آتا۔ آپ آخر مجھ سے چاہتے کیا ہیں؟ انّا صاحب بتاتے ہیں، اسی ڈھنگ سے بتائیے۔”

کالے ویسے تُنک مزاج ہی آدمی تھے۔ وہ ماتھا ٹھوکتے ہوے پاس رکھی ایک کرسی پر دھم سے بیٹھ گئے۔ الہاس بھی بیچارہ چکرا گیا۔ کام رُک گیا۔ میں فوراً نیچے آیا۔ الہاس کو سارا سین ٹھیک سے سمجھا کر بتایا، اسے اچھے موڈ میں لایا۔ کالے جی بھی تھوڑے موڈ میں آ گئے۔ شاٹ پورا ہوا۔ وہ ٹھیک ویسے ہی آیا تھا جیسا کہ کالے جی چاہ رہے تھے۔

شام کو میں نے کالے جی کو اپنے آفس میں بلوایا اور ہنستے ہنستے کہا، “کالے جی، آپ کی وہ پرسینٹیج والی ڈائریکشن مہربانی کر کے بند کیجئے بھئی۔ آدمی کے احساسات کی بھی کیا کبھی پرسینٹیج ہوتی ہے؟ میرے خیال سے تو آپ کلاکاروں کو سین میں موجود احساسات کا معنی سمجھا کر بتا دیں اور باقی سب کچھ کلاکاروں پر چھوڑ دیں، تو اچھا رہے گا۔ کبھی کبھار ضرورت پڑ جائے تو آپ انہیں خود اداکاری کر کے دکھا دیں۔ ایسا کرنے سے آپ اپنے کلاکاروں سے جیسی چاہیں اداکاری کروا سکتے ہیں۔ کبھی کبھی تو انہیں جھوٹی ترغیب دیجیے۔ آپ توجانتے ہیں میں کتنا غصیل آدمی ہوں، لیکن آپ نے مجھے سیٹ پر کبھی کسی پر غصہ کرتے دیکھا ہے؟”

“انّا، یہ سب تار پر چلنے کی کسرت کرنا آپ ہی جانتے ہیں۔”

“اجی، آپ بھی کر لیں گے۔ کوشش کر کے تو دیکھیے نا؟”

“ٹھیک ہے، دیکھتا ہوں کوشش کر کے!” کالے جی نے ہنستے ہنستےکہا۔

وہ فلم تھی تو اچھی، لیکن ناظرین کو وہ خاص پسند نہیں آئی۔ کالے جی نے اس فلم کو جو ٹریٹمینٹ دیا وہ کچھ ذہین تھا۔ پھر بھی اس فلم نے ہمیں پیسہ کافی دیا۔

فلمی دنیا میں ہمیں لگاتار کامیابیاں ملتی گئیں۔ نتیجہ یہ رہا کہ اس دنیا کے کچھ ذلیل دماغ والے لوگ ہماری فلم کے بارے میں کہنے لگے کہ، “پربھات کی فلم تو اس میں استعمال میں لائےجانے والے عالیشان سین کے کارن ہی چلتی ہیں، ویسے باقی ان میں ہوتا ہی کیا ہے!” لہذا اس بار میں نے اس چنوتی کو قبول کرنا طے کیا ۔ من ہی من ٹھان لیا کہ آئندہ فلم کا موضوع ایسا چنوں گا کہ اس میں عالیشان سین، پُرکشش کاسٹیوم وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی!

نئی کہانی کے بارے میں سوچنے لگا، کئی دنوں سے من میں محفوظ لیکن پورا نہ ہو پایا ایک سپنا تھا کہ ایک خالصتاً سماجی فلم بناؤں۔ اسے اب پورا کرنےکا فیصلہ کیا۔ میری شوقیہ خواہش تھی کہ کہانی ایسی ہو جو مڈل کلاس لوگوں کےجیون کو چُھو لے اور اس میں کسی ایسی مشکل کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے جو دیکھنے والے ہر شخص کو اس کی اپنی مشکل معلوم ہو۔ کے۔ نارائن کالے نے سجھاؤ دیا کہ نارائن ہری آپٹے کے ناول ‘نہ پٹناری گوشٹ’ (دنیا نہ مانے) پر آئندہ فلم بنائی جائے۔ سن کر میں ایک دم اُچھل پڑا۔ اس ناول کی کہانی مجھ پر برسوں سے حاوی تھی۔

میں نے اس ناول کے لیکھک کو پُونا بلا لیا۔ ناول کے کاپی رائٹس کے بارے میں لین دین کا سودا پورا کیا۔ سکرین پلے میں ناول کی کن کن باتوں کو میں چھوڑنے والا ہوں، اس کی انہیں معلومات دیں۔ کسی زمانے میں سماج میں کھلبلی مچا دینے والے اپنے اس ناول پر اب فلم بننےجارہی ہے، اس کی خوشی میں ہی وہ اپنے گاؤں لوٹ گئے۔ اس ناول پر ایک تجرباتی فلم بنانا میں نے طے کیا۔ سکرین پلےکو زیادہ سے زیادہ پُراثر کیسے بنایا جائے، اسی وِچار میں مَیں تھا کہ ایک غیرمتوقع خبر کےکارن ہم سبھی ہکے بکے رہ گئے۔ کیشوراؤ دھایبر نے ہم سب کے نام ایک نوٹس بھیجا تھا کہ انہیں ‘پربھات’ کی حصہ داری سے آزاد کیا جائے۔

کیشوراؤ دھایبر ویسے تھے تو بہت ہی محنتی۔ لیکن خود مختار روپ سے فلم بنانا ان کی اوقات کے باہر کی بات تھی۔ وہ تو میری درخواست تھی کہ وہ پربھات کےحصے داربنیں۔ لہذاحصہ داری چھوڑنے کے ان کے نوٹس کو پڑھ کر مجھے بہت ہی دکھ ہوا۔ کمپنی چھوڑ کر باہر جانے میں انہی کا نقصان کتنا ہے، یہ میں نے انہیں کافی واضح روپ سے سمجھایا تھا۔ لیکن وہ مانتے ہی نہیں تھے۔ پھر یہ بات بھی میں نے ان کے دھیان میں لائی کہ پارٹنرشپ لیٹر کے اصولوں کے مطابق کوئی حصہ دار ‘پربھات’ چھوڑ کر جا نہیں سکتا۔ لیکن اپنی ضد پر اڑے تھے۔ آخر مجبور ہو کر انہیں کانٹریکٹ سے آزاد کرنا ہی پڑا۔

لگ بھگ اسی سمے ہمارے ہمدرد نارائن ہری آپٹے کا مجھے ایک پتر ملا۔ پتر اس طرح تھا:

تاریخ: 21-1-1937
مسٹر شانتارام بابو کی خدمت میں، پیار بھرا نمسکار۔ اِدھر سب کچھ ٹھیک ہے۔ اُدھر آپ بھی ٹھیک ہوں گے۔ ایسی خواہش کرتا ہوں۔

کسی اہم وجہ سے یہ خط نہیں لکھ رہا ہوں۔ لیکن لکھے بِنا رہا نہیں جا رہا تھا، اس لیے لکھ رہا ہوں۔ شری کیشوراؤ دھایبر کمپنی چھوڑ کر جانے والے ہیں، اس کا اشارہ مجھے پہلے ہی مل چکا تھا۔ لیکن بھروسہ نہیں ہو رہا تھا۔ کسی جھمیلے کے بارے میں چرچا نہ کرنا میرا دستور رہا ہے، اور نہ ہی ایسے معاملوں میں اپنی ناک گُھساتا ہوں، جس سے کچھ بھی تعلق نہ ہو۔ اِس دستور کو میں نے ہر جگہ نبھایا ہے۔ ‘پربھات’ میں بھی اِسے توڑا نہیں ہے۔

لیکن اخباروں میں جب اس خبر کی چرچا پڑھی، من کو دکھ ہوا۔ دوسری کسی بات میں من لگانا ناممکن ہو گیا۔ سوچا، یہ کیا سے کیا ہو گیا ہے! آپسی میل جول کو برابر بنائے رکھنا ہم ہندو لوگوں کو کیا آتا ہی نہیں؟ ‘پربھات’ کےلگ بھگ سبھی اہم لوگوں سے میرا تعلق رہا ہے۔ آپ سےخاص رہا۔ آپ کےسوبھاؤ کو میں اچھی طرح سے جانتا ہوں اور اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ آپ کو بھی اس بات سے کافی دکھ ضرور ہی ہو رہا ہو گا۔ یہ ٹھیک ہے کہ بہادر اور فرض شناس شخص دل توڑنے والے واقعات پر آنسو نہیں بہاتے۔ لیکن میرا اپنا اندازہ تو یہ ہے کہ چونکہ اس کے کومل احساسات ختم نہیں ہوتے، بلکہ اوروں کی نسبت زیادہ سلجھے ہوتے ہیں، اس لیے ایسی باتوں سے من ہی من دکھی ہوے بنا نہیں رہتا۔ اسی لیے کیشوراؤ کے اس خیال پر کافی افسوس ہو رہا ہے۔

اب مجھے بیتی باتیں یاد آ رہی ہیں۔ سن ١٩٣٢ء میں آپ نے مجھے ‘امرت منتھن’ کے لیے بلایا تھا۔ خط لکھا تو آپ نے تھا۔ لیکن اس کا جواب کیشوراؤ دھایبر کے نام منگوایا تھا ۔یعنی آپ کیشوراؤ کو بڑا پن عطا کرنا چاہ رہے تھے۔ آگے چل کر بھی کئی بار میں نے دیکھا کہ کہانی کی چرچا ہو، مکالمہ لکھنا یا سننا ہو، ہر موقع پر آپ نے کیشوراؤ کے ساتھ بڑے بھائی کا سا برتاؤ کیا اور انہیں برابر عزت دی۔ ہر بات میں آپ ان کی عزت کرتے تھے۔ آپ کی شرافت سے میں پہلے سے ہی واقف تھا، لیکن آپ کی سمجھداری اور زندہ دلی ایسے موقعوں پر میں نے پہلی بار محسوس کی۔ میں کتنا خوش تھا، بیان نہیں کر سکتا۔ تب سے میں بڑے فخر کے ساتھ کہتا آیا ھوں کہ ‘پربھات’ مہاراشٹر کا ایک آدرشی ادارہ ہے۔ شہرت اور شان و شوکت دن دوگنی رات چوگنی بڑھنے والی ہے۔ اس بات کے لیے میں من ہی من آپ پانچوں (حصے داروں) کو دعا بھی دیتا رہا ہوں۔ لیکن اچنبھا اس بات کا ہےکہ سن ١٩٣٥ء میں یہ سارا منظر بدل گیا۔ ‘راجپوت رمنی’ کی کہانی میں نےجیسے تیسے لکھ تو دی، لیکن من کا اطمینان جاتا رہا۔ اُس سمے بھی میں نے آپ کو لکھا ہی تھا۔

تبھی سے مجھے لگ رہا تھا کہ ‘پربھات’ میں ‘کالی’ گُھسا ہے۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہو گا، کبھی سوچا نہ تھا۔ خیر! کرم گتی ٹارے ناہیں ٹرے ( قسمت میں لکھی کو کون ٹال سکتا ہے)۔ بےکار افسوس کرنے سے کیا ہونے والا ہے۔ لیکن من ہی تو ہے، بے چین ہو ہی جاتا ہے۔

اور ایک بات من میں آ گئی ہے، اسے بھی لکھ ہی دیتا ہوں۔ تب میں ‘نہ پٹناری گوشٹ’ (دنیا نہ مانے) کے لیے آیا تھا۔ دوسرے دن فتے لال جی کے گھر دعوت تھی۔ ہم لوگ چرچا پوری کر نیچے آئے تھے۔ کار آنے والی تھی۔ سامنے والی بینچ پر سیتارام بابو، داملے ماما، صاحب ماما بیٹھے تھے۔ میں کار میں بیٹھا اور آپ ان تینوں کے پاس گئے۔ تبھی من میں خیال آیا کہ ارے، کیشوراؤ کہاں ہیں؟ اور تبھی مجھے معلوم ہوا کہ وہ کمپنی چھوڑنے کا سوچ رہے ہیں۔ یہ بات سن کر میں حیران رہ گیا۔ سوچا —’کیا خوب!’ کیشو کا ہیرا جڑاؤ سے کیسے گِر گیا۔ میں کچھ تو ضرور جانتا ہوں۔ اس میں کہیں نہ کہیں ایک ناری ہے! کبھی فرگیوسن کالج میں بحث چھڑی تھی کہ کیا عورت مرد کی راہ میں روڑا ہے؟ کیشو راؤ کے کریکٹر کو دیکھتے ہوے کہنا پڑے گا کہ عورت نہ صرف مرد کی ترقی کی راہ میں روڑا ہے، بلکہ اُسے جَل سمادھی (water grave) دلانے والی ایک خوفناک چٹان ہے! مرد عام طور پر بہت قصور وار یا ہوس ناک نہیں ہوتا، لیکن ایک ناری کے چکر میں آنے پر وہ کتنا نادان بن سکتا ہے، اس کی کیا یہ جیتی جاگتی مثال نہیں؟ کیشوراؤ ایک دم گھناؤنے تو نہیں ہیں، استعفٰی دینے کے لائق بھی کہاں ہیں؟ لیکن کیا چمتکار ہوگیا دیکھیے، بےچارہ کام سے جاتا رہا! دنیاداری کی حالت کیا ہے، اور ایک یہ مہاشے ہیں کہ میٹھے بھوجن کی تھالی کو لات مار کر چلے جانے کی نادانی کر رہے ہیں!

کون کِسے کیا کہہ سکتا ہے! ہر ایک اپنا اپنا سوچنے پر قادر ہے۔ پھر بھی مجھے من ہی من ضرور لگتا ہے کہ کیشوراؤ اپنے ہاتھوں اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی چلا رہے ہیں۔ ہر سمجھدار آدمی یہی کہےگا۔

سارا قصہ یاد آتے ہی بہت تکلیف ہوتی ہے۔

کل کیشوراؤ اپنی کوئی فلم بنانےکی کوشش کریں گے۔ اس میں کوئی شُبہ نہیں۔ بطور ایک لیکھک کے وہ مجھے مدعو کریں گے اور دھندھے کی بات مان کر میں اسے شاید قبول بھی کر لوں گا۔ لیکن من کبھی خوشی محسوس نہیں کرے گا!

جو من میں آیا، صرف اپنے پن کے احساس سے آپ کو لکھ دیا۔ اس سمے آپ شاید کافی دوڑ بھاگ میں ہوں گے۔ اس میں ایک اور پریشانی کھڑی کرنا نہیں چاہ رہا تھا، لیکن لکھے بِنا رہا بھی تو نہیں جا رہا۔

یہاں لگتا ہے ایک خطرے کی اطلاع آپ کو دے ہی دوں۔

مجھے پکا شُبہ ہے کہ پربھات کمپنی کے بارے میں، اس کی فلموں کے بارے میں جو بھی بھونڈا مذاق یا تنقید کی جاتی ہے، زیادہ تر کمپنی کا نمک کھانے والوں میں سے ہی کسی کے دماغ کی اپج ہوتی ہے۔ میں کسی کا نام لینا نہیں چاہتا، لیکن کئی بار تو اپنی آستین میں ہی سانپ ہوتا ہے۔ ہر گروہ میں کالی بکری ضرور ہوتی ہے۔ کانا پُھوسی کرنا، اِدھر کی اُدھر لگا دینا، ہر بار اپنی ہی اہمیت بڑھانے کا جتن کرنا، فائدے کی ہی فکر کرنا، منہ دکھاوے کی میٹھی باتیں کرنا، گھر میں لالے پڑتے ہیں لیکن باہر بڑی پوشیدگی بگھارنا وغیرہ، حرکتوں سے باز نہ آنے والا کوئی نہ کوئی آپ کے آس پاس ضرور رہتا ہے۔ وہی آپ کی مذمت کے رخنے ڈالتا رہتا ہے۔ لہذا خبردار ہوں، احتیاط سے رہیےگا اور ہرآدمی کو اس کی اہلیت کے لائق جگہ پر ہی رکھیےگا۔ یہ میں نے آپ کو ہدایت دینے کے لیے نہیں لکھا ہے، نہ ہی کسی کی چغلی کھانے کے لیے۔ صرف آپسی محبت کےکارن ہی صاف لکھا ہے۔ آپ کی ‘پربھات’ کی ہمیشہ جیت ہو، یہی د لی خواہش کرتا ہوں۔ مہربانی کر کے اس پتر کو اپنے لیٹربکس میں نہ رکھیں۔ ضرورت ہو تو۔۔۔ منع تو نہیں کرتا، لیکن!

مخلص

ن۔ہ۔آپٹے

Categories
نان فکشن

شانتا راما – باب 16: ڈائریکشن داو پر (ترجمہ: فروا شفقت)

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولہاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

 

[divider]باب 16: ڈائریکشن داؤ پر[/divider]

 

“اپنی اس فلم کو ‘مہاتما’ نام دےکر مہاتما گاندھی کے نام کا کاروباری فائدے کے لیے استعمال کیا ہے!” مشہور لکھاری اور بیرسٹر کنہیالال منشی نے جلتا ہوا طعنہ مارتے ہوئے کہا۔

‘مہاتما’ فلم کو سنسر کی قینچی سے صحیح سلامت آزاد کیا جائےاورسنسر بورڈ کی طرف سے ہم لوگوں کے ساتھ جو ناانصافی کی گئی ہے اسے دور کیا جائے، ایسی مانگ کرنے کے لیے میں ان سے ملنے گیا تھا۔ لیکن پہلی سلامی میں ہی انہوں نے مجھے پورا چِت کر دیا۔ میرا خون کھول اٹھا۔ پھر بھی اپنے آپ کو قابو میں رکھتے ہوئے میں نے کہا، “مہان کام کرنے والے سبھی قدیم اورجدید آتماؤں (لیڈروں) کو مہاتما خطاب دیا جا سکتا ہے۔ ویسا ان کا حق بھی ہوتا ہے۔ تین سو برس قبل مہاراشٹر میں چھوت چھات کے خاتمے کا کام کرنے والے سنت ایکناتھ کو ہم نے مہاتما کہا تو کون سا غلط کام کیا؟ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ گاندھی جی کے سوا اور کسی کو مہاتما نہیں کہنا چاہیے؟”

میری یہ ایک دم تیکھی بات شاید منشی جی کو پسند نہیں آئی۔ ‘مہاتما’ فلم پر لگی پابندی ہٹانے کے لیے انھوں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ میں بہت بےچین ہو گیا۔ کبھی لگتا کہ اتنی لگن سے بنائی ہوئی یہ فلم، اس میں کاٹ پیٹ کرنے کے بجاے ویسے ہی ڈبے میں بند کر رکھ دوں۔ لیکن سبھی نقطۂ نظر سے وِچار کرنے پر آخر سوچا کہ بال گندھرو جیسے کلاکار نے صرف قرض سے آزاد ہونے کے لیے فلم میں کام کرنا قبول کیا ہے، تو کیا میرے اس فیصلے سے ان کا مقصد ناکام نہیں ہو جائے گا؟ سنت ایکناتھ یا چھوت چھات جیسے متنازعہ موضوع کا انتخاب ہم نے کیا تھا۔ فلم کے موضوع اور اس کے بنانے کے بارے میں بال گندھرو نے مجھ پر پورا بھروسا کیا تھا۔ ایکناتھ کی اداکاری بھی انھوں نے من لگا کر کی تھی۔ ایسی حالت میں غصے میں ہوش کھو کر میں ‘مہاتما’ کو ریلیز کرنا منسوخ کر دیتا ہوں تو معاشی کٹھنائیوں میں گھِرے اس مہان اداکار کے لیے کیا یہ بھروسا توڑنا نہیں ہو گا؟

من مسوس کر میں نے بابوراؤ پینڈھارکر کو فون کیا اور بتایا،”اس عقل مند اور مذہبی سنسر کے بچے کی مرضی کے مطابق ‘مہاتما’ میں جو بھی کانٹ چھانٹ کرنی ہو، کر لیجیے اور کسی طرح اسے پاس کروا لیجیے۔ لیکن اسے یہ بھی صاف صاف بتا دیجیے کہ ایکناتھ ایک مہار کے گھر بھوجن کرنے جاتے ہیں، اس سین کو جوں کا توں رکھنا ہی پڑے گا۔ وہ ایک تاریخی سچ ہے اور اس کو سنسر بھی نظرانداز نہیں کر سکتا۔ یہ بات اپنی طرف سے پورے زور سے کہیے گا اور پھر بھی وہ نہیں مانتے ہیں تو انھیں دھمکی دیجیے گا کہ شانتارام نے کہا ہے کہ اس سین کو آپ نے ذرا بھی چھوا تو میں خود بمبئی آ کرعام جلسہ کروں گا، اخباروں میں آواز اٹھاؤں گا اوراس معاملے کے خلاف عوامی تحریک چھیڑوں گا۔ آپ لوگ مجھے گرفتارکرا لو گے تو بھی پرواہ نہیں۔”

بمبئی میں ‘مہاتما’ ریلیز تو ہوئی، لیکن اس کا نام ‘دھرماتما’ کر دیا گیا۔ سماج بدلنے والوں اورناظرین نے اسے بہت پراثر اور چھو لینے والی فلم کے روپ میں عزت دی۔ اس کے بعد یہی فلم بمبئی صوبے سے باہر پہلے والے ‘مہاتما’ کے ہی نام سے ریلیز کی گئی اور مزے کی بات تو یہ رہی کہ اس کا ایک بھی سین نہ تو سنسر نے کاٹا، نہ ہی کسی سین کو انھوں نے چھوا۔ ان دنوں بھارت میں مختلف صوبوں کے لیے الگ الگ سنسر بورڈ تھے۔ کتنی شرم کی بات ہے کہ مہاراشٹر میں جنمے ایک مہان سماج سُدھارک سنت کے جیون پربنی فلم پر مہاراشٹر کے ہی سنسر بورڈ کی طرف سے پابندی لگائی گئی اور ہریجن سیوک مہاتما گاندھی کے پیروکار کہلانے والے لوگوں کے کنٹرول میں چل رہی ممبئی سرکار نے اس معاملے میں ہماری کوئی مدد نہیں کی!

کچھ مذہبی لوگوں کی مخالفت کے باوجود یہ فلم مہاراشٹر میں بہت ہی اچھی چلی۔ یہی نہیں، پنجاب، کلکتہ، مدراس وغیرہ صوبوں میں بھی ناظرین نے اس کو کافی سراہا۔ ‘مہاتما’ کا سارا خرچ وصول ہونے میں کوئی خاص دیر نہیں لگی۔ بعد میں سارا منافع ہی منافع رہا۔ معاہدے کے مطابق بال گندھرو کو آدھا منافع دے دیا گیا۔ کامیابی سے وہ قرض سے آزاد ہو گئے اور ہمیں بھی اطمینان ملا کہ ہم نے اپنی ایک اخلاقی ذمےداری کو پورا کر دیا۔

معاہدے کے مطابق بال گندھرو کو اہم کردار دے کر ہم نے ایک اور فلم بنانے کا وِچار کیا۔ ان کی بےانتہا نرم فطرت کے لائق کسی کہانی کی میں کھوج کرنے لگا۔ فتےلال جی کا کہنا تھا کہ بال گندھرو کے لیے کسی اور سنت کے جیون پر ہی اور ایک فلم بنائی جائے۔ سنتوں کے جذبات کو وہ نہایت خوبی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ فتے لال جی کی بات سے میں بھی اتفاق کرتا تھا۔ سنت تُکارام کے جیون پر مبنی فلم بنائی جائے اور اس میں تُکارام کا کردار بال گندھرو کو دیا جائے، ایسا میں سوچنے لگا۔

لیکن تبھی ایک دن بال گندھرو میرے پاس آئے اور کہنے لگے، “انّا، لوگ کہہ رہے ہیں کہ میں رہا زنانہ کردار کرنے والا اداکار، لہذا مردانہ کردار میں دیکھ کر انھیں بہت اَٹ پٹا سا لگا۔ کم سے کم اب اگلی فلم میں مجھےعورت کا کرداردیا جائے، ایسا ان تمام محبت کرنے والوں کی درخواست ہے۔”

بال گندھرو کی یہ بات سن کر میں تو ٹھنڈا پڑ گیا۔ سمجھ نہیں پایا کہ ان کے کان بھرنے والے ان کے نام نہاد بھکتوں کی اس عقل پر ہنسوں یا ترس کھاؤں! فلم کے ذریعے سے کلاکار کی مورتی کئی گنا بڑی ہوکر پردے پر تصویر ہوا کرتی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی کلاکار کتنا ہی بہترین ہو، ایک عورت جیسی جذباتی اداکاری کرنے کی وہ کتنی ہی کوشش کرے، ایک عورت جیسا دکھائی دینا اس کے لیے ناممکن ہی ہے۔ مجھے تو بال گندھرو کا یہ خیال قطعی پسند نہیں تھا۔ میں نے انھیں سمجھانے کی کافی کوشش کی۔ “آپ اپنے مشیروں کے کہنے میں نہ آئیے۔ اسٹیج اور فلم میں بہت فرق ہے۔ فلم میں آپ کا زنانہ پارٹ اچھا نہیں دکھائی دے گا۔ لوگ اسے پسند نہیں کریں گے۔”

میری صاف گوئی بال گندھرو کو راس نہیں آئی۔ بگڑ کر بولے، “بھگون، اپنے مِتروں کی رائے سے میں بھی متفق ہوں۔ آپ اگلی فلم میں مجھے زنانہ کردار دینے کے قابل نہیں ہیں تو اچھا ہو کہ آپ مجھے دوسری فلم کے معاہدے سے آزاد کر دیں۔”

اپنے ساتھیوں سے اس موضوع پر بحث کر، میں نے بال گندھرو کو ہمارے معاہدے سے آزاد کر دیا۔ بعد میں کانوں کان خبر ملی کہ کولہاپور کے رائل ٹاکیز کے مالک نے بال گندھرو کو زنانہ کردار دے کر ایک مقبول ناٹک پر مبنی فلم بنا لی ہے۔ سب سے حیرت اور دھکا اس بات سے لگا کہ ہمارے گرو بابوراؤ پینٹر نے اس فلم کو ڈائریکٹ کیا ہے۔ طریقہ کار میں کیسی irony تھی کہ جس بابوراؤ پینٹر نے سن ١٩١٨ء میں اپنی پہلی فلم ‘سیرندھری’ میں عورتوں کا کام عورتوں سے ہی کرایا تھا، وہی فنکار آج ایک مرد کو زنانہ کردار دینے کا سیدھا سادہ غیرفنکارانہ کام کر بیٹھا تھا! مجھے اس پر کافی رنج ہوا۔

بال گندھرو اور بابوراؤ پینٹر جیسے دو دو کلاکاروں کے اکٹھ سے بنائی گئی وہ فلم لوگوں کو قطعی نہیں بھائی اور بری طرح فیل ہو گئی۔

’امرت منتھن’ اور ‘دھرماتما’ فلم کو ملی بھاری کامیابی کے کارن ‘پربھات’ کے ساتھ ہی میرے نام کا بھی ڈنکا بجنے لگا تھا۔ ناظرین مجھے ترقی پسند ڈائرکٹر کے طور پر پہچاننے لگے تھے۔ اس کے علاوہ کمپنی کے لین دین کا سارا کاروبار میں ہی دیکھا کرتا تھا۔ کمپنی میں کاروبار کی خاطر آنے والے سبھی کلاکار، لیکھک، غیرملکی کمپنیوں کے نمائندے میرے دیگر ساتھیوں کے پاس نہ جا کر سیدھے میرے ہی پاس آتے تھے۔ میں اپنے سبھی ساتھیوں سے اُن وزیٹرز، جینٹلمینوں کا تعارف کرا دینے سے کبھی نہیں چُوکتا تھا۔ اس بات کے لیے میں بہت ہی احتیاط برتتا کہ ساتھیوں کو کسی بھی صورت میں حقارت محسوس نہ ہو۔ لیکن کئی بار وہ خود ہی پیچھے رہنا پسند کرتے تھے۔ میری مقبولیت اپنے ساتھیوں کو شاید کہیں نہ کہیں چبھنے لگی ہے، اس کو میں کبھی کبھار محسوس کرنے لگا تھا۔ میرے پیچھے شاید وہ لوگ اس پر بات بھی کرنے لگے تھے: “جسے بھی دیکھو، سیدھا شانتارام بابو کے پاس ہی جاتا ہے۔ اور بابو بھی ہم سب کو ٹال کر اپنی ہی اہمیت بڑھانے کے جذبے سے پیش آتے ہیں۔ فلم کا موضوع، کرداروں کا انتخاب وغیرہ ساری باتیں وہ خود ہی کرتے ہیں۔ یہی کیوں، شوٹنگ کے سمے کیمرا کہاں رکھنا ہے، شاٹ کیسے لینا ہے، اس کے بارے میں بھی وہ ہدایات دیتے ہیں۔” فتے لال جی نے یہ سب باتیں مجھے سنائی تھیں۔

ایک دن جب ہم سب لوگ فرصت میں اکٹھے ہو گئے تھے، تب یہ غلط فہمی دور کرنے کے لیے میں نے اسی موضوع کو اٹھایا۔ میں نے کہا، “دیکھیے، خود آگے ہو کر میں اپنی مشہوری کبھی نہیں کیا کرتا۔ اخبار میں دیے جانے والے اشتہاروں میں بھی بطور ڈائرکٹر اپنی فوٹو چھاپنے کو میں نے ہی منع کر رکھا ہے۔ تھوڑی بہت انگریزی بول لیتا ہوں، اس لیے ہمارے کاروبار سے جُڑے غیرملکی یا دوسرے صوبوں کے لوگ مجھ سے مل لیتے ہیں۔ کئی بار تو آپ ہی لوگ انہیں میرے پاس بھیجتے رہے ہیں۔ کاروبار کی باتیں یا خط و کتابت آپ میں سے کوئی دیکھتا نہیں، اس لیے مجھے دیکھنا پڑتا ہے۔ اچھا ہو کہ آپ میں سے کوئی اس کام کو اپنے ذمے لے لے۔ پھر فلم بنانے پر اپنا دھیان زیادہ فوکس کرنا میرے لیے ممکن ہو جائے گا۔”

میری ویسے تو بہت ہی سیدھی معلوم ہونے والی لیکن صاف باتیں سن کر سب لوگ چپ بیٹھے رہے، لیکن اس کام کی ذمےداری لینے کے لیے ایک بھی آگے نہیں آیا۔ اس کے بعد میں نے بات چھیڑی شوٹنگ کے سمے فوٹوگرافر کو میری طرف سے جانے والی ہدایات کی۔ میں نے ان سب سے بِنا ہچکچاہٹ کے پوچھا، “کیا آپ میں سےکوئی بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ سیٹ پر کام کرتے، کسی سین کے لیے مجھے ضروری معلوم ہونے والے کون کس طرح کے ہوں، یہ بتاتے سمے میں آپ میں سے کسی کے بھی ساتھ سختی سے پیش آیا ہوں؟ یا آپ کو بےعزت کرنے کے لیے کبھی کچھ بولا ہوں؟” سب کا جواب ‘نہیں’ میں ہی آنا تھا، سو آ گیا۔ تب میں نے انہیں بتایا، “فلم کی شوٹنگ میں سیٹ پر سب سے اہم ڈائرکٹر ہی ہوا کرتا ہے۔ اس کے دماغ میں فلم کے سبھی فارمولے ہوتے ہیں۔ اس لیے اس کی ہدایات کے مطابق شوٹنگ ہو، تبھی فلم اچھی بن پائے گی۔”

اسی بیٹھک میں میں نے آگے چل کر تجویز رکھی کہ اگلی ڈائرکشن ہم میں سے کوئی اور شخص کرے۔ اس کے تحت کام کرنے کے لیے میں نے اپنی مرضی بھی ظاہر کر دی۔ سب کی رائے رہی کہ اگلی فلم کی ڈائرکشن دھایبرجی کریں۔ مجھے یہ فیصلہ بہت اچھا لگا۔

دوسرے دن فتےلال جی نے دھایبرجی کا ایک پیغام سنایا کہ، “میں جب ڈائرکشن کروں، شانتارام بابو سیٹ پر نہ آئیں، ان کی موجودگی میں میں سہما سہما سا محسوس کروں گا۔”

دھایبرجی کے اس پیغام کے کارن مجھے کچھ برا تو لگا، لیکن اپنے آپ کو جیسے تیسے سنبھال کر میں نے کہا، “ٹھیک ہے، میں سیٹ پر نہیں آؤں گا۔ اتنی ہی فرصت مل جائے گی، جب میں کافی کچھ پڑھ لوں گا۔ پھر اگلی فلم کی کہانی اور سکرین پلے بھی تو لکھنا ہے، وہی کر لوں گا۔”

اُن دنوں میں کافی بےچین سا محسوس کرنے لگا تھا۔ سوچتا، آخر دھایبرجی نے مجھے ٹالا کیوں؟ اور دوسرے ساتھیوں نے بھی انہیں کی بات مان لی! کیوں؟ کیا میری صاف گوئی سے ان کے دل کو ٹھیس لگی؟ ہو سکتا ہے کہ میرے سوبھاؤ میں جو ہٹ دھرمی ہے، ایک طرح کا اتاؤلاپن ہے، کچھ تُنک مزاجی ہے، ایک بار کیے گئے فیصلے پر فوراً عمل کرنے کی جو فطرت ہے، پتا نہیں یہ خوبیاں ہیں یا خامیاں۔۔۔ انھیں کے کارن شاید ایسا ہو رہا ہو۔ مجھ سے کچھ ایسی باتیں ہو گئی ہوں، جن کے کارن میرے ساتھیوں کو ٹھیس لگی ہے۔ لیکن میں نے جان بوجھ کر تو ویسا ہرگز نہیں کیا۔ اور مان لو کیا بھی ہو، تو سواے ‘پربھات’ کے لیے اندرونی لگاؤ کے، کوئی کارن ان کے لیے نہیں ہو سکتا۔ کہیں ایسا تو نہیں۔۔۔ من میں خدشہ جاگا۔۔۔ ‘پربھات’ کے قیام کے وقت ہم لوگوں نے جس آپسی حسد اور جلن کو دفنا کر ہی پربھات کی عمارت کھڑی کی تھی، وہی حسد اور جلن اب پھل پھول کا کھاد پانی پاتے ہی اُگ گئی ہے اور وہ پودا سر اٹھانے لگا ہے؟

اس خدشے کو دور کرنے کا ایک ہی حل تھا۔ ان سب لوگوں کو کافی مقبولیت ملنی چاہیئے۔ کیشوراؤ دھایبر ‘راجپوت رمنی’ بنا ہی رہے تھے۔ ان کی طرح داملے، فتےلال جی کو بھی کسی فلم کی ڈائرکشن سونپنی چاہیے۔ انھیں بھی ‘پربھات’ فلم ڈائرکٹرکے روپ میں عزت ملنی چاہیے۔

کچھ ہی دنوں میں ‘راجپوت رمنی’ ریلیز ہو گئی۔ لیکن وہ لوگوں کو راس نہیں آئی۔ دھایبرجی کی اس ناکامی کے کارن داملے اور فتےلال جی خودمختارروپ سے ڈائرکشن کرنے کے لیے تیار نہیں ہو رہے تھے۔ لیکن میں نے ہی زور دے کر کہا، “آپ کس بات سے ڈرتے ہیں؟ آپ کی خواہش ہو تو میں آپ کی مدد کروں گا۔”

میری اس یقین دہانی کے کارن انہیں کافی دھیرج بندھا۔ انھوں نے ڈائرکشن کی ذمےداری قبول کی۔ ہم سب لوگ ایک ایسے موضوع کی تلاش کرنے لگے جو ان دونوں کو پسند آئے اور ان سے سنبھلے بھی۔

کبھی فتےلال جی نے ہی سُجھایا تھا کہ بال گندھرو کی اہم کردار والی دوسری فلم سنت تُکارام کے جیون پر بنائی جائے۔ لہذا میں نے وہی موضوع فلم کے لیے لینے کا سجھاؤ رکھا۔ ان دونوں نے میرا سجھاؤ ایک دم مان لیا۔ داملے جی کے مِتر شری شِورام واشیکر کو ہم نے فوراً ہی کمپنی میں بلا لیا۔ انھیں سنت تُکارام کا سکرین پلے لکھنے کو کہا۔

لگ بھگ اسی سمے میری آئندہ فلم کی کہانی پوری ہونے جا رہی تھی۔ عورت کو خودمختاری ملے، عورت اور مرد کا سماج میں برابری کا مقام ہو، اس وِچار کی زوردار حمایت کرنے والی ایک غیرمعمولی اور مزے کی کہانی اس بار میں نے چُنی تھی۔

وہ ١٩٣٥ء کا زمانہ تھا۔ کئی عورتیں ڈاکٹر، پروفیسر، وکیل جیسے پیشوں میں اہلیت سے شرکت کر رہی تھیں۔ سروجنی نائیڈو، کملا نہرو جیسی عورتیں سیاست میں بھی دھڑلے سے حصہ لے رہی تھیں۔ پھربھی عورت کی لا محدود آزادی (Women’s Lib) کے خیالات ان دنوں سماج کے گلے اترنے والے نہیں تھے۔ ایسی صورت میں عورت کو مرد کی غلامی سے آزاد کرنے کے انتہائی جدید اصول پر مبنی فلم کو کامیاب بنانا بہت ٹیڑھی کھیر تھا۔ اسی لیے میں نے پوری فلم کا پس منظر کسی خاص مقام اور وقت سے جڑے نہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ایسا کرنے میں بھلے ہی کہانی نہایت من گھڑت لگے، لیکن ہو میرعملی مقصد ثابت کرنے والی۔ یہ سوچ کر میں نے سمندری ڈاکوؤں کے دریائی جیون پرہی اس کہانی کی تخلیق کی۔ نتیجتاً منظرووں کی شوٹنگ کرتے وقت میں بھی اپنے کافی نئے خیالات کا استعمال کر سکتا تھا۔ یہ مخصوص پس منظر اصلی معلوم ہو،اس لیے میں نے اس فلم کو صرف ہندی زبان میں ہی بنانا طے کیا۔

موضوع کی جدّت کے کارن فتےلال جی کی تخیلاتی طاقت کے پَر نکل آئے۔ مختلف منظروں کے سکیچیز میں ان کا ٹیلنٹ ایسا روپ لیتا کہ کئی بار میں بھی دنگ رہ جاتا تھا۔ عورت کی خودمختاری کے آدرش سے بھری ہیروئن سودامنی کا جوشیلا کام کرنے کے لیے بہت دنوں بعد پھر دُرگا کھوٹے کو مدعو کیا گیا۔ شانتا آپٹے اور واسنتی کو سودامنی کی اہم داسیوں کے رول دیے گئے۔

اس فلم میں تمام عورت جاتی سے نفرت کرنے والے وزیر کی ایک اثردار شخصیت تھی۔ چندرموہن سے کیے گئے معاہدے کی مدت بھی اب ختم ہونے کو تھی۔ کمپنی سے وداع ہونے سے پہلے ایک اچھا، زبردست کردار دینے کا وعدہ میں نے اسے کر رکھا تھا۔ اسی کے مطابق میں نے عورت سے نفرت کرنے والے لنگڑے وزیر کا کام اسے دیا۔ یہ کام بھی ویسے مشکل ہی تھا۔ بیساکھیاں لے کر میں نے اسے سکھایا کہ اس کام کو کس طرح کرنا چاہیے۔

سین تیار کیے جانے لگے۔ اداکاراؤں کے کپڑے وغیرہ سیے جانے لگے۔ دُرگا کھوٹے، شانتا آپٹے اور واسنتی کے لیے فتے لال جی نے پشاوری شلوار اور اوپر تنگ جیکٹ، ایسا مردانہ ٹھاٹ باٹ کا لیکن کافی مدہوش کرنے والا لباس بنوانے کے لیے کہا تھا۔

ایک دن شانتا آپٹے کی میک اپ میں مدد کرنے والی عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی، “شانتا بائی نے نئے کپڑے پہن لیے ہیں اور دیکھنے کے لیے آپ کو بلایا ہے۔‘‘ میں شانتا بائی کے کمرے میں گیا۔ وہ میری طرف پیٹھ کیے کھڑی تھی۔ میری آہٹ سنائی پڑتے ہی وہ پلٹی اور منہ پُھلا کر بولی، “دیکھیے نا، آپ کےدرزی نے یہ جیکٹ کیسی سی رکھی ہے!” اتنا کہہ کر اس نے اپنے ہاتھوں میں کس کر تھامے جیکٹ کے دونوں کنارے کھلے چھوڑ دیے، واقعی میں جیکٹ کی سلائی میں بہت ہی گڑبڑ ہو گئی تھی۔ سامنے کے دونوں حصوں میں کافی فاصلہ رہ جاتا تھا۔ اس میں سے اس کے دونوں پستان صاف کھلے نظر آتے تھے۔ لیکن شانتا بائی میری طرف مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔ اس کی ڈھٹائی سے میں حیران رہ گیا اور بولا، “آپ کی جو مددگار ہے، اُس کے ہاتھوں اس جیکٹ کو واپس سلائی ڈپارٹمنٹ میں بھجوا دیجیے اور درزی کو کہلوا بھیجیے کہ آپ کا ناپ ٹھیک سے لے اور اس کے مطابق جیکٹ کو پھر سی کر لائے۔” اور زیادہ کچھ کہے بنا ہی میں اس کمرے سے فورا باہر نکل آیا۔

دوسرے دن شانتا آپٹے میرے کمرے میں آئی اور چٹکی لیتے شوخی سے پوچھنے لگی، “آپ کل اتنے گھبرا کیوں گئے تھے؟”

کل ہوے اس واقعے کے کارن میں ابھی غصے میں ہی تھا، اس لیے میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اپنی آپ بیتی کا رونا رونے لگی۔ اس کا بڑا بھائی اس کا سرپرست، رکھوالا، استاد، سب کچھ تھا۔ بالکل ہی معمولی بہانے پر وہ بات بات میں اسے بینتوں سے پیٹتا تھا۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ کہتے کہتے اس نے ایک دم سہج انداز سے اپنی ساڑی اوپر اٹھائی اور اپنی کھلی جانگھ پرپڑے بینت کے کالے نیلے نشان مجھ کو دکھانے لگی۔

اتنی ملائم جگہ پر انگلی کی موٹائی کے مار کے نشان دیکھ کر میں بھی متاثر ہو گیا اور اس سے پوچھا، “آپ یہ سب برداشت کیوں کر لیتی ہیں؟”

مختلف نظر سے مجھے دیکھتے ہوے اس نے کہا، “کسی ممتا بھرے مرد کا سہارا مل گیا، تو میں گھر چھوڑ دوں گی!”

اس پر کیا کہوں، سمجھ میں نہیں آیا۔ یوں ہی کچھ گول مول سا جواب دیا، “اجی، نہیں نہیں! آپ کا بھائی آپ کی بھلائی کی خاطر ہی شاید دوڑدھوپ کرتا ہو گا۔ اس کے من میں کسی طرح کی دُوری نہیں ہو گی، یہ بھی تو ممکن ہے۔۔۔” اور کسی کام کے بہانے میں اسے آفس میں ہی چھوڑ کر باہر کھسک گیا۔

اس واقعے کے بعد میں شانتا آپٹے کے ساتھ ایک فاصلہ رکھ کر ہی پیش آتا۔ کام کے علاوہ الگ کہیں پر بھی اس سے ملاقات نہ ہو، اس کی احتیاط برتتا گیا۔ پھر بھی ‘میک اپ والے نے اچھا میک اپ نہیں کیا’ جیسے کئی بہانے بنا کر وہ مجھے اپنے کمرے میں بلاتی رہی۔

اسی طرح ایک دن اس کے بلا بھیجنے پر اس کے کمرے میں گیا تو یہ مہامایا صرف ایک کچھا پہنے ہی میرے سامنے کھڑی ہو گئی۔ پاس ہی پڑا گاؤن اس کی کایا پر پھینک کر میں نے اسے اچھی خاصی ڈانٹ پلائی، “شانتابائی، آئندہ آپ نے پھر کبھی ایسی حرکت کی تو ‘پربھات’ کے ساتھ آپ نےجو معاہدہ کیا ہے اس کی ذرا بھی پروا نہ کرتے ہوئے میں آپ کو ہماری کسی فلم میں کوئی کام نہیں دوں گا۔”

میری ‘امرجیوتی’ فلم کی رچنا پوری ہو چکی تھی۔ اسی سمے شِورام واشیکر ‘سنت تُکارام’ کا سکرین پلے بھی پورا لکھ کر لے آئے۔ میں نے اس کہانی کو سنا۔ انھوں نے سنت فلموں کی عام دھارا کی طرح اس میں چمتکاروں پر کافی زور دیا تھا۔ بات یہ تھی کہ اس طرح کی چمتکاروں سے بھری سنت فلموں سے عوام اب اوب چکی تھی۔ میں نے واشیکرجی سے کہا کہ اس سکرین پلے کو وہ ایک اور رخ دیں اور تکارام کے جیون پر مبنی نئے سرے سے ایک ایسی کہانی لکھنے کی کوشش کریں جس میں تُکارام ایک آدمی کے روپ میں زیادہ ابھر کر سامنے آ سکیں۔ تکارام کی رحم دل شخصیت، ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری انسانیت وغیرہ خوبیوں کو اہمیت کے ساتھ ظاہر کرنے والی خاندانی محبت اور ممتابھرے منظروں کو لے کر ایک دل چھونے والی کہانی تُکارام کے جیون پر لکھنے کا میرا وچار بہت پہلے سے تھا۔

لہٰذا میں نے تُکارام کا کردار اور ان کے ابھنگوں (قدیم مراٹھی ادب میں گیتوں کی ایک صنف) کی داستان خرید لی۔ دن میں ‘امر جیوتی’ کی شوٹنگ کر لوٹنے کے بعد رات میں دو ایک بجے تک جاگ کر میں نے تُکارام کا جیون اوران کے ادبی ذخیرے کا مطالعہ کیا۔ واشیکرجی کو پھر بلا کر ان کے ساتھ اس پر کافی بحث کی۔ آہستہ آہستہ سیدھی سادی لیکن پراثرکہانی معلوم ہونے لگی۔

اس کے بعد سب سے اہم سوال آ کھڑا ہوا کہ تُکارام اور ان کی پتنی جِجاؤ کے کام کے لیے لائق شخص کہاں سے ڈھونڈے جائیں۔

کبھی ناٹک کہانیوں میں زنانہ کردار کرنے والے وِشنو پنت پاگنیس اب بمبئی میں کسی کیرتن منڈلی کے ساتھ بھجن گایا کرتے تھے۔ کسی سے سُن رکھا تھا کہ وہ بھجن بہت ہی رسیلے ڈھنگ سے گاتے ہیں۔ میں نے وِشنوپنت کو پُونا بلا لیا۔

یہ آدمی بھجن گاتے سمے اتنا مگن ہو جاتا تھا کہ سننے والوں کے احساسات بھی بھکتی رس میں شرابور ہو جاتے تھے۔ مجھے لگا، تُکارام کا کام کرنے کے لیے وِشنو پنت پاگنیس ہی سب سے اہل شخص ہیں۔ داملےجی اور فتےلال کی رائے اس کے الٹ تھی۔ انھوں نے وِشنو پنت کے ناٹکوں میں کیے گئے زنانہ کردار دیکھے تھے اور ان کا خیال تھا کہ تُکارام کا مردانہ کرداران سے کرا لینا بہت مشکل کام ہو گا۔ چونکہ داملےجی اور فتےلال اس فلم کے ڈائریکٹر تھے، ان کی رائے کو مان کر ہم نے چند اور آدمیوں کو بھی پرکھا۔ لیکن ان میں سے ایک بھی میری نظر میں اہل ثابت نہیں ہوا۔ آخر میں وِشنو پنت پاگنیس کو ہی تُکارام کا کام دینے کی درخواست میں نے کی۔

تُکارام کی پتنی ٹھیٹھ دیہاتی تھی، اس لیے ہمارے آرٹسٹ ڈیپارٹمنٹ میں مستقل نوکری کرنے والی اَن پڑھ تانی بائی کو اس کردار کے لیے ہم نے چنا۔ اوپر سے بہت ہی منھ پھٹ اورجھگڑالو، لیکن اندرسے بےحد ممتا بھری رنگیلی دیہاتی عورت کے کردار کے لیے وہ عام شکل و صورت والی دیہاتی عورت مجھے پوری طرح اہل معلوم ہوئی۔

اس فلم کا میوزک ڈائرکٹ کرنے کی ذمےداری کیشوراؤ بھولے کو سونپی گئی۔ اس فلم میں ایک سین کے معقول بولوں والے کسی ابھنگ کی مجھے تلاش تھی: تُکارام ایک کھیت میں رکھوالے کا کام کر رہا ہے۔ فصل کی رکھوالی کرتے سمے وہ ایک ابھنگ گاتا ہے۔ لیکن تُکارام کے بارے لکھی کہانی میں ہمیں اس ارادے کو پیش کرنے والا ایک بھی ابھنگ نہیں ملا۔ لہذا ہار کر میں نے ‘امرت منتھن’ کے سمے ہماری کمپنی میں آئے شاعر شانتارام آٹھولے سے اس سین کے لیے معقول ابھنگ کی تخلیق کرنے کو کہا۔ ان کے لکھے ابھنگ کے بول تھے:

آدھی بیج ایکلے۔
بیج انکرلے روپ واڑھلے
ایکا بیجاپوٹی ترو کوٹی کوٹی۔
پری انتی برہم ایکلے۔۔۔
(معنی: آغاز میں بیج اکیلا ہی ہوتا ہے۔ اس کے پودے پھوٹتے ہیں، پودے بڑھتے ہیں، لمبے لمبے درخت کی شکل لیتے ہیں، لیکن بیج ہوتا تو ایک ہی ہے۔ اسی طرح مخلوقات عالم کو جاری و ساری کر مختلف روپ اختیار کرنے کے بعد بھی وہ پرماتما ایک ہی ہوتا ہے۔)

میں نے ابھنگ پڑھا اور فوراً کہہ دیا، “یہ گیت ایک دم مقبول ہو گا!”

وِشنو پنت پاگنیس نے اس کو آواز دی۔ ان کی طرف سے اس ابھنگ کو دی گئی دھن بڑی رسیلی تھی۔ میں نے سنتے ہی اسے قبول کر لیا۔ کیشوراؤ بھولے سے نہ بنوانے کے کارن وہ بہت زیادہ ناراض تو نہیں ہوئے، لیکن اس میں شبہ نہیں کہ بات انoیں بُری ضرور لگی۔

آگے چل کر ایسے ہی ایک سین پر آخری ابھنگ کی دھنیں کیشوراؤ بھولے اور وِشنوپنت پاگنیس دونوں نے الگ الگ دیں۔ داملے فتےلال طے نہیں کر پا رہے تھے کہ دونوں میں سے کس کی دھن زیادہ اچھی ہے۔ آخر انہوں نے فیصلہ مجھ پر چھوڑا۔ میں نے دونوں دھنیں دھیان سے سن لیں۔ بھولے کی بنائی گئی دھن ویسے تھی تو اچھی، لیکن پاگنیس جی کی بنائی گئی دھن یقیناً ہی زیادہ اچھی تھی، مدھر بھی تھی۔ پھر بھی اپنے میوزک ڈائرکٹرکا وقار بنائے رکھنے کے خیال سے میں نے اپنی رائے کے خلاف فیصلہ دیا، “کیشوراؤ کی دھن اچھی ہے۔”

‘تُکارام’ کی بنیادی تیاری پوری ہو گئی۔ داملےجی اور فتےلال جی ‘تُکارام’ کی مکمل ریہرسل کرانی شروع کی۔ اور اس بیچ کچھ دھیما پڑا اپنی ‘امر جیوتی’ فلم کا کام میں نے تیزی سے شروع کر دیا۔

‘امر جیوتی’ کی ہیروئن سودامنی عورت کی آزادی کے لیے اپنی کوششوں کے عروج پر ہے۔ نہ صرف عورت کو مرد کی غلامی سے آزاد کرنے، بلکہ مرد کو عورت کی غلامی میں باندھنے کا آدرش سامنے رکھ کر وہ اس کی تکمیل کے لیے ایڑی چوٹی کا پسینہ بہاتی رہتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سودامنی اپنے تمام زنانہ احساسات کو مار کر ایک طرح کی مصنوعی دنیا میں گھومتی رہتی ہے۔ یہ سین کچھ تو غیرفطری اور کچھ نفسیاتی تھے۔ ان کی شوٹنگ کرتے سمے میں نے کئی شاٹس ایک دم غیرمعمولی طریقہ کار سے لیے۔ خصوصا کیمرے کے متنوع کونوں اور اس کی رفتار کا استعمال میں نے نفسیاتی ڈھنگ سے کیا۔

فلم کے دوران کسی کردار کا کوئی مکالمہ سہج نہ ہوتا تو کیمرا گھڑی کے ‘پینڈولم’ جیسا ٹیڑھا ہو جاتا۔ نتیجتاً پردے پر وہ شخص اپنے پاگل پن کا عکاس بن کر ناظرین کو ترچھا دکھائی دیتا تھا۔ جیسے جیسے اس کے وِچار سلجھتے جاتے، پردے پر وہ شخص پھر سیدھا اور نارمل نظر آتا۔ آج اس طرح کے شاٹ لینے کے سسٹم کو ‘پینڈولم شاٹ’ یا ‘لنگر سین’ سسٹم کہا جاتا ہے۔ اس سسٹم کا کامیاب استعمال میں نے سن ١٩٣٦ء میں کیا تھا۔ اس زمانے کے جانکار ناظرین نے اس سسٹم میں موجود ارادے کو دل سے سراہا تھا۔

فلم کے آخری سین میں مایوس سودامنی ایک جہاز پر سوار ہو کر ساگر میں کہیں دور جاتی دکھائی دیتی ہے۔ وہ جہاز کی پتوار سے ٹک کر کھڑی ہے۔ آنکھوں میں زمانے بھر کی ناامیدی ہے۔ سامنے ساگر کی لہریں ہلکورے لے رہی ہیں، چٹان پر جا کر ٹوٹ رہی ہیں، بکھر رہی ہیں۔ انھیں دیکھ کر سودامنی کہتی ہے، “لہریں کتنی تیزی سے آ رہی ہیں۔۔۔۔ جا رہی ہیں۔۔۔ آ رہی ہیں۔۔۔ جا رہی ہیں۔۔ کیا یہی میری زندگی ہے؟”

اس کے پاس ہی ایک کونے میں بیٹھا اس کا فلسفی ساتھی شیکھر سودامنی سے کہتا ہے، “نہیں سودامنی، لہر آئی، پتھروں سے ٹکرائی، اترائی اور لوٹ گئی، یہ درست ہے۔ لیکن اس کے برابر آنے اور ٹکرانے سے پتھر ذراذرا گھستا ہوا ختم ہوئے بنا نہیں رہے گا۔”

“لیکن، یہ کام تو نہ جانے کتنے برسوں میں پورا ہو گا! پھر آدمی کو اپنے مقصد کی کامیابی پر کیسے اطمینان ہو گا؟ اس کی بےاطمینانی کیسے دور ہو گی؟”

“اس کی بےاطمینانی کا اطمینان اس کی لگاتار کوشش میں ہے۔ اجالے کو قائم رکھنے کے لیے دیے سے دیا جلایا جاتا ہے۔ اسی طرح تم نے اپنا کام نندنی کو سونپ دیا ہے۔ اسی میں تمہارے جیون کی کامیابی ہے۔۔”

دامنی کے چہرے پر اطمینان کا احساس چمکنے لگتا ہے۔ کیمرا دھیرے دھیرے دور جاتا ہے۔ دامنی کے جسم سے ایک ننھی سی روشنی نکلتی ہے۔ وہ دوسرے دیپک کو جلاتی ہے اوربجھ جاتی ہے۔ اسی طرح ایک روشنی سے دوسری روشن جلانے کی ایک لڑی ہی شروع ہو جاتی ہے، اس سین کے پس منظر میں ایک معمولی دھن میں گیت سنائی دیتا رہتا ہے:

کارج کی جیوتی سدا ہی جرے
اک جن جائے، دوجا آئے، پھر بھی جیوتی جرے
جیوتن کی اس لگاتارمیں
کرتا ہی وِہرے۔۔۔
(کاموں کی جیوتی سدا جلتی ہی ریتی ہے/ کاموں کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔
ایک جاتا ہے دوسرا آجاتا ہے۔ دنیا کے کام دھندھے کبھی نہیں رکتے، کرنے والے بدلتے رہتے ہیں۔)

دیپک کی اس علامت کو دکھا کر ہی ‘امر جیوتی’ فلم شروع ہوتی ہے : پہلے ایک قدیم ڈھنگ کا دیپک کیمرے کی نظر میں آتا ہے، وہ دوسرے دیے کو روشن کرتا ہے۔ اس طرح ایک کے بعد ایک دیگر دیپ روشن ہوتے جاتے ہیں۔ ان کی روشنی سے ہی فلم کا نام ‘امر جیوتی’ پردے پر دکھائی دیتا ہے۔

‘امر جیوتی’ کی ایڈیٹنگ کا کام تیزی سے چل رہا تھا کہ ایک دن داملےجی اور فتےلال جی ایڈیٹنگ روم میں آئے۔ وہ کافی پریشان دکھائی دے رہے تھے۔ انھوں نے کہا، “پاگنیس اور تانی بائی سے ہم کافی دنوں سے ریہرسل کرا رہے ہیں، لیکن ہمیں نہیں لگتا کہ ان دونوں سے اپنے اپنے کردار بن پائیں گے۔ اچھا ہو کہ آپ ایڈیٹنگ کا یہ کام کچھ دن کے لیے ملتوی رکھیں اور ریہرسل ڈپارٹمنٹ میں آ کر ایک بار دیکھ تو لیں۔ آپ چاہیں تو خود ریہرسل لے سکتے ہیں۔ اس کے بعد ہی طے کریں کہ ان دونوں کو یہ اہم کردار دینے ہیں یا نہیں۔”

میں نے ‘امرجیوتی’ کی ایڈیٹنگ کا کام فوراً روک دیا اور پہلے ریہرسل ڈپارٹمنٹ میں گیا۔ وِشنوپنت اور تانی بائی دونوں سے ریہرسل کرانا میں نے شروع کیا۔ داملےجی اور فتےلال جی کی بات صحیح تھی۔ ان دونوں سے کام برابر بن ہی نہیں پا رہا تھا۔ میں نے دونوں کو اداکاری کر کے دکھائی۔ وہ دونوں میرے بتائے مطابق اداکاری کرنے کی کوشش کرنے لگے۔

ایک دن ریہرسل سے پہلے وِشنو پنت پاگنیس میرے کمرے میں آئے اور بڑی منتیں کرتے ہوئے کہنے لگے، “انّا، یہ کام مجھ سے کبھی نہیں ہو گا۔ آپ تکارام کے رول کے لیے کوئی اور آدمی کھوجیں۔”

پاگنیس ہار گئے تھے، لیکن میں نہیں ہارا تھا۔ ان کا حوصلہ بڑھانے اور پھر خوداعتمادی جگانے کے لیے میں نے جھوٹ کہہ دیا، “کل میں نے آپ کا کام دیکھا اور مجھے یقین ہو گیا کہ آپ اس کام کو ضرور ہی اچھی طرح کر لیں گے۔ آپ صرف ایک کام کریں، تُکارام کی چال ڈھال کی، چلنے پھرنے کی، اٹھنے بیٹھنے اور بولنے چالنے کی حرکت میں کر کے دکھاؤں، ہوبہو نقل کرنے کی کوشش کریں۔”

میرے کہنے کے کارن ان میں ضرور ہی کہیں اعتماد جاگا ہو گا۔ دوسرے ہی دن سے وہ من لگا کر کام کرنے لگے۔

پہلے دن تو ان سے کام کچھ ٹھیک سے بن نہیں پا رہا تھا۔ لیکن ان کا جوش بڑھانے کے لیے میں ہر روز کہتا، ’’آج آپ کا کام کل سے زیادہ اچھا بن پڑا ہے۔‘‘ انہیں اس طرح میں برابر ترغیب دیتا گیا۔

ایک ہفتہ بیت گیا۔ پھر ایک بار ناامید ہو کر پاگنیس نے کہا، “نہیں جی انّا، آپ جیسا کام مجھ سے نہیں بن سکتا!”

سچ کہا جائے تو میں بھی کچھ کچھ ناامید ہو چلا تھا۔ لیکن پاگنیس کی بہت ہی مدھر آواز، رسیلی گائیکی سٹائل اور اٹوٹ گائیکی میں جھلکنے والی شیرینی ان کے فریق کو مضبوط کیے ہوئے تھی۔ میں نے پھر کمر کسی اور انہیں حقیقت میں اپنے آپ کو دھیرج دلاتے ہوئے کہا، “آپ تو بیکار ہی نا امید ہوئے جا رہے ہیں۔ آپ کے کام میں ہر روز برابر ترقی دکھائی دے رہی ہے۔ چلیے آج میں آپ کو پھر اداکاری کر کے دکھاتا ہوں۔ باریکی سے دھیان دیجیے۔ اس پر غور کیجیے۔ رات میں ویسا ہی کر کے دیکھیے۔ میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں، کل آپ اس سین کو ایک دم مکمل ڈھنگ سے کرنے والے ہیں!”

دوسرا دن آیا۔ کل کر کے دکھائے گئے سین کی ریہرسل کرنے کا سمے آ گیا۔ پاگنیس اس سین میں ایک دم سو فیصد نہ سہی، لیکن اپنا کام کافی سدھے ڈھنگ سے کر رہے تھے۔ میں نے انہیں دلی شاباشی دی۔

شروع شروع میں تکارام کی پتنی کا کام کرتے سمے بوکھلا جانے والی تانی بائی کو بھی اداکاری سکھانے میں میں نے کافی محنت کی۔ مشق سے انھیں بھی اپنا کام اتنے سدھے ہوئے ڈھنگ سے کرنا آ گیا کہ ان کی جاندار ایکٹنگ سے کئی بار داملےجی اور فتےلال جی بھی دھنگ رہ گئے۔

تُکارام کی شوٹنگ شروع کرنے کے ایک دن پہلے پاگنیس میرے پاس آئے اور پوچھنے لگے، انّا، کل آپ شوٹنگ کے سمے موجود تو رہیں گے نا؟”میں نے کہا، “اجی وِشنوپنت، اب تو آپ کی اداکاری ایک دم سیدھی سی ہونے لگی ہے۔ پھر بھی آپ سے کس طرح کام کرا لینا چاہیے، داملےجی اور فتح لال جی کو اچھی طرح معلوم ہو گیا ہے۔ اب شوٹنگ کے سمے آپ کو قطعی دقت آنے والی نہیں۔‘‘

“وہ تو سب ٹھیک ہی ہے، لیکن کم سے کم میرے کام کے سین کے سمے تو آپ ضرور ہی موجود رہا کیجیے گا۔ میرا کام اتنا ہی اچھا بن پڑے گا۔” یہ سوچ کر کہ داملےجی اور فتےلال جی کو میرا موجود رہنا ممکنہ طور پر پسند نہیں آئے گا، میں نے اس ذمےداری کو ٹالنا چاہا، لیکن پاگنیس جی کی درخواست کے سامنے میری ایک نہ چلی۔

ایک بار تو پاگنیس نے مجھے اچھی خاصی مصیبت میں ڈال دیا۔ ایک اہم سین کی شوٹنگ جاری تھی۔ کام کرتے سمے پاگنیس اچھی طرح کھو گئے تھے۔ میں نے ان سے کہا، “واہ، وِشنوپنت، بہت ہی کمال کر دیا آپ نے!”

اس پر وہ سہج انداز سے کہہ گئے، “انّا، آخر اس ناچیز کی ہستی ہی کیا ہے، آپ کے بنا؟ آپ نے سکھایا ویسا ہی میں نے کر دکھایا۔ آپ میرے گرو ہیں!” یہ کہہ کر پاگنیس نے میری حالت اور بھی مشکل بنا دی۔ بھگوان جانے اسے سن کر داملےجی اور فتےلال جی نے کیا کیا نہیں سوچا ہو گا! میں سیٹ پر پھر لمحہ بھر بھی نہیں ٹھہرا۔

‘امر جیوتی’ فلم بمبئی میں ریلیز ہوئی۔ شروع میں دیپ کی روشنی سے بننے والی فلم کے کریڈٹ نام والے کارڈ دیکھ کر ناظرین اتنے جذباتی ہو جاتے تھے کہ ‘ڈائرکشن وی شانتا رام’ کا رڈ دکھائی دیتے ہی تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے سینما ہال گونج اٹھتا۔

اس فلم میں ماسٹر کرشن راؤ کا دیا گیا سنگیت بہت ہی مقبول ہو گیا۔ خاص کر شانتا آپٹے کے گائے گئے ‘سنو سنو اے ون کے پرانی’ (سنو اے بن کے باسی) گیت کے اسی ہزار فونوگراف ہاتھوں ہاتھ بک گئے۔ اس گیت نے گراموفون ریکارڈ کی بِکری کا ریکارڈ قائم کیا۔

چندرموہن کو کچھ برس قبل دیے گئے قول کے مطابق، اس فلم میں اس کی لنگڑے وِلن کے کردار کے کارن وہ پھر مقبولیت کی چوٹی پر پہنچ گیا۔ فلم ناقدین نے دُرگا کھوٹے کی بہت ہی سلجھی ہوئی ایکٹنگ کی بھی تعریف کی۔ ‘امرجیوتی’ دیکھنےکے بعد ناظرین اتنے جذباتی ہوجاتےتھےکہ میں تھیٹرمیں ہوتا تو مجھے ڈھونڈ لیتے اور مجھے دلی مبارکباد دیتے۔ ساتھ ہی سبھی پوچھتے، “آپ کی اگلی فلم کون سی ہے؟”

ان سبھی انتہائی پُرجوش شائقین کو میں ایک ہی جواب دیتا، “اجی، ابھی ابھی تو اس فلم کی ذمےداری کا بوجھا ڈھو کر آپ کے سامنے رکھا ہے۔ اب ذرا کھلی ہوا میں سانس تو لینے دیجیے۔ اس کے بعد اگلی فلم کے بارے میں اپنی خواہشات کا بوجھ آپ خوشی سے میرے سر پر ڈالیے گا!”

‘امر جیوتی’ کا ڈنکا سارے دیس میں بجنے لگا۔ ادھر پُونا میں تُکارام’ فلم کے ایک نہایت مدھر اور ممتابھرے فیملی سین کی شوٹنگ چالو تھی:

سورج ماتھے پر آ چکا ہے۔ تُکارام کی پتنی ان کے لیے دوپہر کا کھانا سر پر لیے پہاڑی چڑھ کر اس برگد کے پیڑ کے نیچے آ بیٹھتی ہے جہاں تُکارام بھگوان کا دھیان لگا کر بیٹھا ہوتا ہے۔ تُکارام کچھ حیرت کے انداز سے پوچھتا ہے:

“تمہیں کیسے پتا چلا کہ میں یہاں بیٹھا ہوں؟”

بھولی بھالی جِجاؤ شرما کر جواب دیتی ہے، “مردوں کو بھلا یہ باتیں کاہے کو سمجھ میں آویں؟ اس کے لیے تو انھیں بھی ہم جیسی عورت ہی بننا پڑے ہے!”

اس کے بعد وہ بڑے پیار سے تُکارام کو جوار کی روٹی کا سوکھا کھانا پروس کر کھانے کی درخواست کرتی ہے۔ اس کا پیار دیکھ کر تُکارام گدگدا جاتا ہے اور کہتا ہے، “اسے کہتے ہیں نا سچا پیار! یہی ہے سچی بھکتی! اس بھکتی کے زور پر جیسے تم نے مجھے کھوج کر پا لیا، اسی طرح میں بھی اپنے پانڈورنگ (وِشنو کا ایک اوتار) کو کھوج کر پا سکوں گا!”

جِجاؤ پانڈورنگ کا نام سن کر جھنجھلا اٹھتی ہے اور ایک روٹی پروستی ہے۔ تُکارام روٹی کا پہلا ٹکڑا توڑتا ہے اور جِجاؤ کو بھی اپنے ساتھ کھانے کی کافی درخواست کرتا ہے۔ وہ شرما کر ‘نا نا’ کہتی رہتی ہے۔ تُکارام روٹی کا نوالہ جِجاؤ کے منھ کے پاس لے جاتا ہے۔ جِجاؤ لجّا کے مارے گڑی جاتی ہے اور بہت ہی حیا کے انداز سے اس غیرآباد بَن میں آس پاس یہ دیکھ لیتی ہے کہ کہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا، اور بعد میں فوراً ہی تُکارام کے ہاتھ کا وہ نوالہ اپنے منھ میں ڈال لیتی ہے۔

تُکارام کے ہاتھ سے نوالہ کھاتے کھاتے وہ کسی انوکھے جذبے کی دنیا میں کھو جاتی ہے۔ اسی کیفیت میں اپنے سے ہی بڑبڑاتی ہے، “بہت میٹھا، بہت میٹھا لاگے ہے!”

اس کا وہ پیار دیکھ تکارام اپنے آپ کو خوش قسمت مانتا ہوا کہتا ہے، “واقعی یہ میرا اچھا نصیب ہے کہ تم نے مجھے ایسی پتنی دی، ہے پانڈورنگا!”

“پانڈیا نے دی؟ اجی وہ خوب دے گا! میرے باپو نے دی ہے تم کو۔ پانڈیا لاکھ کہے گا مجھے اپنی بیٹی۔ نام نہ لیجا اس موے کلموہے کا میرے سامنے۔۔ ” جِجاؤ ایک دم غصہ ہو کر بولنے لگتی ہے۔

تُکارام پوچھتا ہے، “جِجاؤ، کیا سچ مچ تم میرے وِٹّھل کی بھکتی نہیں کرتی ہو؟”

“دھت، وِٹھل ہوئے گا تمرا دیوتا۔ ہوئے گا تمرے واسطے بہت بڑا، پر میرا دیوتا تو تمرے وِٹھل سے بھی بڑا ہے گا۔”

“اچھا؟ نام کیا ہے تمھارے دیوتا کا؟”

“میرے دیوتا کا نام؟ (شرما کر غصے کی اداکاری کرتے ہوئے) اب روٹی کھاؤ بھی چپ چاپ۔ (تُکارام کو پیار سے دیکھتی ہے) میرا دیوتا اِہاں بیٹھو ہے گا میرے سامنے، روٹی کھا رہو ہے۔ تمرا دیوتا کھاتا ہے روٹی تمرے سنگ؟” تُکارام لاجواب ہو کر جِجاؤ کو دیکھتا رہتا ہے۔

’تکارام’ فلم کے بارے میں فتےلال جی کے گھرایک بار بحث چل رہی تھی اور میں اس سین میں پورا رنگ گیا تھا۔ اوپر لکھے لفظ بولتا جا رہا تھا اور واشیکر بیٹھے اسے لکھتے جا رہے تھے۔

شوٹنگ کے سمے اس جذباتی سین کا شاٹ داملے فتےلال سے ویسا نہیں بن پا رہا تھا جیسا کہ بننا چاہیے تھا۔ اس سین کے لیے ضروری مدھرتا اور سہج، سچے، اور نرمل پیار کی اداکاری وِشنو پنت اور گوری (تانی بائی کا فلمی نام) سے امید کے مطابق نہیں ہو پا رہی تھی۔ کافی کوشش کرنے کے باوجود یہ حال تھا۔ آخر داملے فتے لال کی خواہش کے مطابق میں نے اس شاٹ کی شوٹنگ کی۔ فلم کا یہی بنیادی نقطہ ثابت ہو گیا۔

‘تُکارام’ فلم کے ڈائرکٹر تھے تو داملے فتےلال، لیکن مجھ پر تو یہی دھن سوار ہو گئی تھی کہ یہ فلم میری اپنی ہے۔ اس لیے اس کے چھوٹے سے چھوٹے سین پر بھی میں باریکی سے دھیان دیتا تھا۔ اسی وچار سے ایک سے ایک نئے نئے خیالات سوجھتے تھے۔ ان سبھی خیالات کو میں کھلے طور پر داملےجی اور فتے لال کے سامنے پیش کرتا تھا۔ یہ سب میں گہرے تعلق کے جذبے سے ہی کر رہا تھا۔
اس فلم کا ایک سین:

چھترپتی شواجی مہاراج وِٹّھل مندر میں تُکارام کے گائے جا رہے ابھنگوں کو سننے میں مگن ہو گئے ہیں۔ تبھی شِواجی کو پکڑنے کے لیے مسلمان سپاہی مندر پر دھاوا بول دیتے ہیں۔ لیکن مندرمیں بیٹھا ہر شخص انھیں شِواجی معلوم ہوتا ہے۔ اس احساس کے کارن سپاہی تذبذب میں پڑ جاتے ہیں اور ‘توبہ توبہ’ کہتے ہوئے گھبرا کر لوٹ جاتے ہیں۔ نام سنکیرتن کے رنگ میں رنگے شِواجی کا تحفظ اپنے وِٹھو رائے نے ہی کیا ہے، ایسا مان کر تُکارام کی خوشی کا ٹھکانا نہیں رہتا۔ اسی لطف میں وہ گانے ناچنے لگتا ہے:
“وانو کتی رے سدیا، وٹھورایا، دن وتسلا۔۔۔” (بھجن)

تُکارام کی یہ میٹھی خوشی موجود سارے لوگوں پر چھا جاتی ہے۔ دیوالئے (مندر) اسی خوشی میں شرابور ہو جاتا ہے، باغ باغ ہو اٹھتا ہے۔ اسی آنند کی انتہا ہوتی ہے۔ سچدانند، یونی پرماتما، وہ پرماتما (پرماتما کے نام ) وہ سانولا سلونا وِٹھورایا بھی اس لطف میں مجسم ظاہر ہو کر تُکارام کی گائیکی کی لَے اور تال پر ڈولنے لگتا ہے، ناچنے لگتا ہے۔ اس سرخوشی کے منظر کا یہ شاٹ اس سین کا کلائمکس تھا۔ لیکن سب لوگوں کے ساتھ وِٹھوبا بھی خوشی سے چُور ہوکر ناچے، یہ خیال داملے فتےلال کو پسند نہیں تھا۔ لیکن میں نے اس سین کو اسی ڈھنگ سے فلمانے کی ضد کر لی۔ میں نے ایسا بھی کہہ دیا کہ ناظرین کو پسند نہ آیا تو اس شاٹ کو ہم لوگ بعد میں فلم سے نکال دیں گے۔ میں اپنی ضد پر اڑا رہا اور اپنے بیٹے پربھات کمار کو، جو وِٹھوبا کی مورتی کے جیسا ہی بونا، سانولا اور بڑی بڑی آنکھوں والا تھا، وِٹھوبا کا لباس پہنا کر اس سین کو فلما ہی لیا کہ وِٹھوبا کی پتھر مورتی زندہ ہو اٹھی ہے اور تُکارام کے گانے کے ساتھ ناچنے لگی ہے۔

تکارام کی شوٹنگ مکمل ہونے آئی تھی۔ اب ایک دم آخری سین کی شوٹنگ کی تیاریاں ہو رہی تھیں جس میں تُکارام بینکٹھ (آسمان) چلے جاتے ہیں۔ اس سمے کسی ضروری کام سے میں ممبئی گیا تھا۔ اچانک پُونا سے فون آیا۔ فون پرملی خبر سے میرا کلیجہ دھک سے رہ گیا۔ سٹوڈیو میں بنایا گیا جہاز، اسے اوپر کی طرف کھینچنے والے رسے ٹوٹ جانے کے کارن وِشنو پنت پاگنیس اور دوسرے کلاکاروں اور ٹیکنیشنوں کے ساتھ نیچے گر پڑا تھا۔ بمبئی کا کام ادھورا چھوڑ کر میں پہلی گاڑی سے پُونا لوٹ گیا۔ وِشنو پنت کو کوئی خاص چوٹ ووٹ نہیں آئی ہے، یہ بات مجھے اسٹیشن پر ہی معلوم ہو گئی۔ میں نے راحت کی سانس لی۔ جلدی جلدی میں سیدھا سٹوڈیو جا پہنچا۔

وِشنوپنت سٹوڈیو کے ایک کمرے میں آرام کر رہے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی اٹھے اور میرے گلے لگ کر جذباتی ہو کر بولے، “انّا، میں بال بال بچ گیا! آپ یہاں ہوتے تو جہاز ہرگز نہ گرتا! میں داملےجی اور فتے لال جی سے کہہ ہی رہا تھا کہ انّا کے بمبئی سے لوٹ آنے کے بعد ہم لوگ اس سین کو لیں لیکن انھوں نے میری بات مانی نہیں!”

وِشنو پنت بہت ہی گھبرائے ہوئے تھے۔ میں نے انھیں حوصلہ دیا، “دیکھیے، وِشنو پنت، آخر یہ تو ایک حادثہ ہے۔ کسی کے یہاں رہنے یا نہ رہنے سے وہ ہوا، ایسی بات نہیں ہے۔ آپ بالکل گھبرائیے نہیں۔ ڈبل رسا باندھنے کا انتظام کرتے ہیں۔ تب تو بنے گی نا بات؟”

کچھ دنوں بعد، سب کچھ منظم کر لیا گیا اور پھر اسی سین کو پوری احتیاط سے فلما لیا گیا۔ ‘تکارام’ کی ایڈیٹنگ پوری ہوئی۔ پرنٹ تیار ہو گئے۔ شہر کے ‘پربھات’ تھئیٹر میں ہم لوگوں نے رات کے بارہ بجے ‘تُکارام’ دیکھا۔ پہلے ٹرائل کے بعد میں نے کچھ منظروں کو تھوڑا آگے پیچھے کیا۔ کچھ منظروں کو کاٹا چھانٹا۔ اس سمے ہی بابوراؤ پینڈھارکر ‘تکارام’ دیکھنے کے لیے ہی پُونا آئے تھے۔ وہ فیملی کے ساتھ کچھ دن کے لیے لوناولا گئے۔ مجھے بھی انہوں نے کچھ دن آرام کے لیے لوناؤلا آنے کا دعوت نامہ دیا تھا۔

‘تُکارام’ کا سارا کام ختم ہونے کے بعد بابوراؤ پینڈھارکر کی اس دعوت کو قبول کر میں لوناؤلا گیا۔

یہ توقدرتی ہی تھا کہ حال ہی میں پوری کی گئی ‘تُکارام’ فلم کے بارے میں وہاں بات چیت چھڑ جاتی۔ ٹرائل ریلیز کے بعد ‘تُکارام’ کے بارے میں کیشوراؤ دھایبر نے بابوراؤ پینڈھارکر کے پاس جو وِچار ظاہر کیے تھے، بابوراؤ نے مجھے بتا دیے:

“جھانجھ منجیرا کوٹتے رہنے والے سنتوں کی فلموں کے دن کبھی کے لد چکے ہیں۔ ایسی حالت میں داملے جی، فتےلال جی کو شانتارام باپو نے ناحق سنت فلم بنانے کے جھمیلے میں ڈال دیا! لیکن یہ شانتارام جی نے جان بوجھ کر کیا ہے۔ اس وجہ سے کہ داملےجی فتےلال جی کو انہیں نیچے گرانا تھا! اس لیے کہ وہ دنیا کو دکھانا چاہتے تھے کہ داملے فتےلال جی کو کچھ بھی آتا واتا نہیں! وہ اپنی خدائی قائم کرنا چاہتے ہیں، اس لیے! ہمیشہ وہ ہی بادشاہ بنے رہیں، اس لیے! آپ دیکھتے جائیے، یہ فلم ایک دم بری طرح فیل ہونے جا رہی ہے!”

ویسے تو مجھے کچھ کچھ بھنک مل چکی تھی کہ ‘راجپوت رمنی’ کی ناکامی کے بعد میرے بارے میں یہ افواہ جان بوجھ کر پھیلائی جا رہی ہے۔ لیکن میرے پیچھے اس طرح کے الزام لگائے جانے سے میں جل بھن گیا۔ اپنے بارے میں اس طرح کے اوچھے وچار سن کر میرا تو خون کھولنے لگا۔ میں نے آپے سے باہر ہو کر کہا:

“بابوراؤ، تب تو آپ ضرور دیکھیں گے اورسبھی دیکھیں گے، فلم چلے گی، لوگ اسے پسند کریں گے، اس میں مجھے شبہ نہیں۔ مجھے پورا یقین بھی ہے! اور اگر یہ فلم نہ چلی توآپ یقین جانیے، میں ڈائرکشن کرنا ہمیشہ کے لیے چھوڑ دوں گا!”

اس پر بابوراؤ پینڈھارکر بھونچکے سے میرا منھ تاکتے ہی رہ گئے۔